Mishkaat Shareef
146. ممنوع چیزوں یعنی ترک ملاقات انقطاع تعلق اور عیب جوئی کا بیان
مشكاة المصابيح
4897
Mishkaat Shareefاللہ کے ساتھ محبت کے معنی یہ ہیں کہ معبود کے ساتھ عبودیت کا جو تعلق قائم کیا جائے اور پروردگار کی ذات سے جو محبت کی جائے اس میں ریا و نموش اور خواہشات نفسانی کی آمیزش نہ ہو بلکہ وہ محبت تعلق اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہو۔ اللہ کے لئے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کسی بندے کے ساتھ تعلق محبت کا جو رشتہ قائم کیا جائے وہ محض اللہ ہی کی خاطر ہو اللہ کی راہ میں کسی دنیاوی غرض و لالچ کی وجہ سے نہ ہو یعنی اگر کسی بندے سے دلی محبت و دوستی کی جائے تو صرف اس لئے کہ اس بندہ کے ساتھ محبت و دوستی رکھنے سے اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
4898
Mishkaat Shareefعن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الأرواح جنود مجندة فما تعارف منها ائتلف وما تناكر منها اختلف . رواه البخاري ورواه مسلم عن أبي هريرة
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روحیں جسموں میں داخل کئے جانے سے پہلے لشکر کی طرح ایک جگہ مجتمع تھیں اور پھر ان کو الگ الگ کر کے ایک ایک جسم میں داخل کیا گیا چناچہ جسموں میں داخل ہونے سے پہلے جو روحیں ایک دوسرے کے صفات سے مناسبت و مشابہت رکھنے کی وجہ سے آپس میں مانوس و متعارف تھیں وہ جسموں میں پہنچنے کے بعد اس دنیا میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ محبت و الفت رکھتی ہیں اور جو روحیں ایک دوسرے سے انجان و نامانوس تھیں وہ اس دنیا میں بھی اختلاف رکھتی ہیں۔ (بخاری)
تشریح
جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ دنیا میں اب تک جتنے اجسام پیدا ہوچکے ہیں یا قیامت تک جتنے پیدا ہوں گے ان سب کی روحین اپنے جسمانی وجود سے بھی بہت پہلے پیدا کی جا چکی تھیں جو عالم ارواح میں جمع ہیں اور دنیا میں جب کسی روح کا جسم پیدا ہوتا ہے تو وہ روح اس جسم میں بھیج دی جاتی ہے چناچہ ابتداء خلقت میں اور روز ازل اللہ نے اپنی ربوبیت کا عہد اقرار کرنے کے لئے جب پوری کائنات انسانی کی روحوں کو چیونٹیوں کی صورت میں جمع کیا تو اس وقت وہاں جو روحیں آپس میں ایک دوسرے سے مانوس و متعارف ہوئیں اور جن روحون کے درمیان صفات کی مناسبت اور موانست پیدا ہوئی یا جو روحیں آپس میں نامانوس ہوچکی اور جن روحوں کے درمیان اختلاف و تفرقہ رہا وہ دنیا میں بھی اپنے اجسام میں آنے کے بعد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و موانست ایک دوسرے کی صفات سے مناسبت و مشابہت رکھتے ہیں لہذا جیسے نیک لوگ اور اچھے ہوتے ہیں وہ نیک اور اچھے لوگوں سے محبت تعلق رکھتے ہیں اور جو لوگ فاسق اور بدکار ہوتے ہیں وہ فاسقوں اور بدکاروں کے محبت تعلق رکھتے ہیں یا جو لوگ ایس دنیا میں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف وعناد رکھتے ہیں جیسے نیک لوگ برے لوگوں سے اجتناب کرتے ہیں اور برے لوگ نیک لوگوں سے اختلاف کرتے ہیں تو وہ در اصل اپنی روحوں کے ازلی اتحاد و موانست یا اختلاف کا مظہر ہیں روز ازل جن روحوں میں محبت و موانست تھی ان کے درمیان دنیا میں بھی محبت و موانست ہے اور جن روحوں میں وہاں اختلاف تھا وہ یہاں بھی اختلاف وعناد رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ روحوں کے درمیان جو روز ازل جو تعارف وتعلق پیدا ہوگیا تھا اس کا ظہور دنیا میں الہام الٰہی کے سبب ہوتا ہے بایں طور کہ جب روحیں اس دنیا میں اپنے جسموں میں آتی ہیں تو اللہ ان کی وہاں روز ازل کی محبت کے سبب یہاں دنیا میں بھی ان لوگوں کے دل میں محبت ڈال دیتا ہے۔
تشریح
جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ دنیا میں اب تک جتنے اجسام پیدا ہوچکے ہیں یا قیامت تک جتنے پیدا ہوں گے ان سب کی روحین اپنے جسمانی وجود سے بھی بہت پہلے پیدا کی جا چکی تھیں جو عالم ارواح میں جمع ہیں اور دنیا میں جب کسی روح کا جسم پیدا ہوتا ہے تو وہ روح اس جسم میں بھیج دی جاتی ہے چناچہ ابتداء خلقت میں اور روز ازل اللہ نے اپنی ربوبیت کا عہد اقرار کرنے کے لئے جب پوری کائنات انسانی کی روحوں کو چیونٹیوں کی صورت میں جمع کیا تو اس وقت وہاں جو روحیں آپس میں ایک دوسرے سے مانوس و متعارف ہوئیں اور جن روحون کے درمیان صفات کی مناسبت اور موانست پیدا ہوئی یا جو روحیں آپس میں نامانوس ہوچکی اور جن روحوں کے درمیان اختلاف و تفرقہ رہا وہ دنیا میں بھی اپنے اجسام میں آنے کے بعد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت و موانست ایک دوسرے کی صفات سے مناسبت و مشابہت رکھتے ہیں لہذا جیسے نیک لوگ اور اچھے ہوتے ہیں وہ نیک اور اچھے لوگوں سے محبت تعلق رکھتے ہیں اور جو لوگ فاسق اور بدکار ہوتے ہیں وہ فاسقوں اور بدکاروں کے محبت تعلق رکھتے ہیں یا جو لوگ ایس دنیا میں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف وعناد رکھتے ہیں جیسے نیک لوگ برے لوگوں سے اجتناب کرتے ہیں اور برے لوگ نیک لوگوں سے اختلاف کرتے ہیں تو وہ در اصل اپنی روحوں کے ازلی اتحاد و موانست یا اختلاف کا مظہر ہیں روز ازل جن روحوں میں محبت و موانست تھی ان کے درمیان دنیا میں بھی محبت و موانست ہے اور جن روحوں میں وہاں اختلاف تھا وہ یہاں بھی اختلاف وعناد رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ روحوں کے درمیان جو روز ازل جو تعارف وتعلق پیدا ہوگیا تھا اس کا ظہور دنیا میں الہام الٰہی کے سبب ہوتا ہے بایں طور کہ جب روحیں اس دنیا میں اپنے جسموں میں آتی ہیں تو اللہ ان کی وہاں روز ازل کی محبت کے سبب یہاں دنیا میں بھی ان لوگوں کے دل میں محبت ڈال دیتا ہے۔
4899
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله إذا أحب عبدا دعا جبريل فقال إني أحب فلانا فأحبه قال فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول إن الله يحب فلانا فأحبوه فيحبه أهل السماء ثم يوضع له القبول في الأرض . وإذا ابغض عبدا دعا جبريل فيقول إني أبغض فلانا فأبغضه . فيبغضه جبريل ثم ينادي في أهل السماء إن الله يبغض فلانا فأبغضوه . قال فيبغضونه . ثم يوضع له البغضاء في الأرض . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت رکھتا ہے یعنی جب وہ اپنے بندوں میں کسی بندے کے تئیں اپنی خوشنودی کو ظاہر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو آنحضرت ﷺ نے فرمایا جبرائیل یہ سن کر اس بندے سے محبت رکھتے ہیں اور پھر وہ اللہ کے حکم سے آسمان میں یہ اعلان کرواتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے تم سب بھی اس بندے سے محبت رکھو چناچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور پھر اس بندے کے لئے زمین میں مقبولیت ہوجاتی ہے یعنی زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے اور تمام جن و انس اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل بھی اس سے نفرت کرنے لگتا ہے چناچہ آسمان والے بھی اس شخص سے نفرت کرنے لگتے ہیں یہاں تک اس شخص کے لئے زمین میں بھی عداوت و نفرت رکھ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے تمام جن و انس اس شخص سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کو دوست محبوب رکھنے کا مطلب دراصل اس بندے پر حق تعالیٰ کی طرف سے خیر و بھلائی اور ہدایت و فلاح کی بارش ہونا اور اس پر رحمت الٰہی کا نازل ہونا ہے اسی طرح اللہ کا کسی شخص سے نفرت کرنا گویا اس شخص کو عذاب میں مبتلا کرنے کی ارادہ الٰہی کو ظاہر کرنا، اس سے حق ہدایت کی توفیق کسی بندے کے حق میں ان کی محبت کو دو صورتوں پر محمول کیا جاسکتا ہے، ایک تو یہ کہ وہ اس بندے کے حق میں استغفار کرتے ہیں اس کی مدح و تعریف کرتے ہیں اور اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے ہیں دوسرے یہ کہ محبت کے وہی ظاہری معنی مراد ہیں جو عام طور پر مفہوم ہوتے ہیں یعنی ان کے دل میں اس بندے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس سے ملاقات کا اشتیاق رکھتے ہیں۔ ملا علی قاری کہتے ہیں کہ دوسری صورت یعنی محبت کو اس کے اپنے ظاہر معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ جب کسی لفظ کو اس کے پہلے حقیقی معنی پر محمول کرنا صحیح ہو تو مجازی معنی مراد لینا غیر موزوں ہے علاوہ ازیں محبت کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کرنے کی صورت میں پہلے معنی یعنی اس بندے کے حق میں جبرائیل اور فرشتوں کا دعا استغفار اور مدح تعریف کرنا ضمنی طور پر خود بخود متحقق ہوجاتے ہیں۔
تشریح
اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کو دوست محبوب رکھنے کا مطلب دراصل اس بندے پر حق تعالیٰ کی طرف سے خیر و بھلائی اور ہدایت و فلاح کی بارش ہونا اور اس پر رحمت الٰہی کا نازل ہونا ہے اسی طرح اللہ کا کسی شخص سے نفرت کرنا گویا اس شخص کو عذاب میں مبتلا کرنے کی ارادہ الٰہی کو ظاہر کرنا، اس سے حق ہدایت کی توفیق کسی بندے کے حق میں ان کی محبت کو دو صورتوں پر محمول کیا جاسکتا ہے، ایک تو یہ کہ وہ اس بندے کے حق میں استغفار کرتے ہیں اس کی مدح و تعریف کرتے ہیں اور اس کے لئے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتے ہیں دوسرے یہ کہ محبت کے وہی ظاہری معنی مراد ہیں جو عام طور پر مفہوم ہوتے ہیں یعنی ان کے دل میں اس بندے کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اس سے ملاقات کا اشتیاق رکھتے ہیں۔ ملا علی قاری کہتے ہیں کہ دوسری صورت یعنی محبت کو اس کے اپنے ظاہر معنی پر محمول کرنا زیادہ صحیح ہے کیونکہ جب کسی لفظ کو اس کے پہلے حقیقی معنی پر محمول کرنا صحیح ہو تو مجازی معنی مراد لینا غیر موزوں ہے علاوہ ازیں محبت کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کرنے کی صورت میں پہلے معنی یعنی اس بندے کے حق میں جبرائیل اور فرشتوں کا دعا استغفار اور مدح تعریف کرنا ضمنی طور پر خود بخود متحقق ہوجاتے ہیں۔
4900
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله يقول يوم القيامة أين المتحابون بجلالي ؟ اليوم أظلهم في ظلي يوم لا ظل إلا ظلي . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کے سامنے اپنے بعض بندوں کی عظمت و بزرگی کو ظاہر کرنے کے لئے فرمائے گا کہاں ہیں وہ لوگ جو میری بڑائی کے اظہار اور میری تعظیم کی خاطر آپس میں محبت وتعلق رکھتے تھے یا کہاں ہیں وہ لوگ جو میری رضا و خوشنودی کی خاطر اور حصول ثواب کی غرض سے آپس میں محبت وتعلق رکھتے تھے آج میں ان لوگوں کو اپنے سایہ میں پناہ دوں گا اور آج کے دن میرے سایہ کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہے۔ (مسلم)
تشریح
اللہ کے سایہ سے مراد یا تو عرش کا سایہ ہے جیسا کہ بعض احادیث میں اس کا صراحتہ ذکر ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ اللہ کی طرف سایہ کی وضاحت اس سایہ کی عظمت و تکریم کو ظاہر کرنے کے ہے یا سایہ سے مراد حفاظت الٰہی اور رحمت الٰہی ہے جیسا کہ السلطان ظل اللہ فی الارض۔ بادشاہ دنیا میں اللہ کا سایہ ہے، فرمایا گیا ہے کہ اور یا یہ کہ سایہ کے ذریعہ قیامت کے دن ان راحتوں اور نعمتوں کا تعبیر کیا گیا ہے جو ان لوگوں پر حق تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوں گی چناچہ عربی میں لفظ ظل یعنی سایہ، راحت، نعمت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ خوشی و راحت کے ساتھ گزرنے والی زندگی کو عیش ظلیل کہا جاتا ہے۔
تشریح
اللہ کے سایہ سے مراد یا تو عرش کا سایہ ہے جیسا کہ بعض احادیث میں اس کا صراحتہ ذکر ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ اللہ کی طرف سایہ کی وضاحت اس سایہ کی عظمت و تکریم کو ظاہر کرنے کے ہے یا سایہ سے مراد حفاظت الٰہی اور رحمت الٰہی ہے جیسا کہ السلطان ظل اللہ فی الارض۔ بادشاہ دنیا میں اللہ کا سایہ ہے، فرمایا گیا ہے کہ اور یا یہ کہ سایہ کے ذریعہ قیامت کے دن ان راحتوں اور نعمتوں کا تعبیر کیا گیا ہے جو ان لوگوں پر حق تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوں گی چناچہ عربی میں لفظ ظل یعنی سایہ، راحت، نعمت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ خوشی و راحت کے ساتھ گزرنے والی زندگی کو عیش ظلیل کہا جاتا ہے۔
4901
Mishkaat Shareefوعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أن رجلا زار أخا له في قرية أخرى فأرصد الله له على مدرجته ملكا قال أين تريد ؟ قال أريد أخا لي في هذه القرية . قال هل لك عليه من نعمة تربها ؟ قال لا غير أني أحببته في الله . قال فإني رسول الله إليك بأن الله قد أحبك كما أحببته فيه . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) آنحضرت ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کے لئے روانہ ہوا جو کہ دوسری آبادی میں رہتا تھا اللہ نے اس کے راستہ پر اس کے انتظار میں ایک فرشتہ کو بیٹھا دیا جب وہ شخص اس جگہ پہنچا تو فرشتہ نے اس کو روک کر پوچھا کہ کہاں جانے کا ارادہ ہے اس شخص نے کہا میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی ملاقات کو جا رہا ہوں جو اس آبادی میں رہتا ہے فرشتہ نے پوچھا کہ کیا اس پر تمہارا کوئی حق نعمت ہے ؟ جس کو حاصل کرنے کے لئے تم اس کے پاس جا رہے ہو، (یعنی جس شخص کے پاس تم جا رہے ہو کیا وہ کوئی ایسا شخص ہے جس کو تم نے کوئی نعمت دی تھی اور اب اس کا بدلہ حاصل کرنے کے لئے اس کے پاس جا رہے ہو) اس شخص نے کہا نہیں میں محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس سے محبت وتعلق رکھتا ہوں فرشتہ نے کہا تو پھر سنو مجھے اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں یہ بشارت دوں کہ اللہ تم سے محبت کرتا ہے جیسا کہ تم محض اللہ کی خاطر اس شخص سے محبت تعلق رکھتے ہو۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اللہ کی خاطر محبت کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کہ یہ چیز حب فی اللہ محبت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے نیز اس سے صالحین کی ملاقات کے لئے ان کے پاس جانے کی فضیلت بھی واضح ہوتی ہے علاوہ ازیں یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی اپنے نیک و محبوب بندوں کے پاس فرشتوں کو بھیجتا ہے جو ان سے ہم کلام ہوتے ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیز پچھلی امتوں کے ساتھ مخصوص تھی کیونکہ اب نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور انسانوں کے پاس فرشتوں کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔
تشریح
اس حدیث میں اللہ کی خاطر محبت کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کہ یہ چیز حب فی اللہ محبت الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے نیز اس سے صالحین کی ملاقات کے لئے ان کے پاس جانے کی فضیلت بھی واضح ہوتی ہے علاوہ ازیں یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی اپنے نیک و محبوب بندوں کے پاس فرشتوں کو بھیجتا ہے جو ان سے ہم کلام ہوتے ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ چیز پچھلی امتوں کے ساتھ مخصوص تھی کیونکہ اب نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور انسانوں کے پاس فرشتوں کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔
4902
Mishkaat Shareefوعن ابن مسعود قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كيف تقول في رجل أحب قوما ولم يلحق بهم ؟ فقال المرء مع من أحب . متفق عليه
اور حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو کسی جماعت یعنی علماء و صلحاء اور بزرگان دین سے محبت و عقیدت رکھتا ہو لیکن ان کی محبت اس کو نہ ہوئی ہو یا وہ ان کے علم و عمل تک نہ پہنچا ہو ؟ حضور نے فرمایا وہ شخص اسی کے ساتھ ہے جس کو وہ محبوب رکھتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضور کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی عالم یا بزرگ کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتا ہے وہ آخرت میں اسی عالم و بزرگ کے ساتھ ہوگا اور اگرچہ کامل محبت کہ جس کا اعتبار کیا جاسکتا ہے وہی ہے جو اتباع موافقت اور علمی و عملی یگانگت تک پہنچا دے لیکن محض مخلصانہ عقیدت و محبت بھی معیت یکجائی کا ذریعہ بن جاتی ہے اس میں گویا ان لوگوں کے لئے بشارت ہے جو علماء و صلحاء اور بزرگان دین سے عقیدت و محبت اور دوستی رکھتے ہیں کہ وہ لوگ انشاء اللہ قیامت کے دن انہی علماء و صلحاء اور بزرگان دین کے ساتھ اٹھیں گے اور آخرت میں ان کی رفاقت و معیت کی دولت پائیں گے، ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ حدیث کا ظاہری مفہوم عمومیت پر دلالت کرتا ہے یعنی اس ارشاد گرامی میں عمومی طور پر یہ نکتہ بیان کیا جاتا ہے کہ جو شخص کسی سے محبت رکھتا ہے اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص کہ جس کے ساتھ محبت ہے خواہ نیک ہو یا بدکار فاسق، ملا علی قاری کی اس بات کی تائید اس حدیث المرء علی دین خلیلہ، سے ہوتی ہے جو آگے آئے گی اس صورت میں کہا جائے گا کہ جو لوگ علماء و صلحاء اور بزرگان دین کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتے ہیں ان کے لئے اس حدیث میں خاتمہ بخیر اور اخروی فلاح وسعادت کی بشارت ہے اور جو لوگ بدکار فاسق اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتے ہیں ان کے لئے اس حدیث میں سخت وعید و تنبیہ ہے۔
تشریح
حضور کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی عالم یا بزرگ کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتا ہے وہ آخرت میں اسی عالم و بزرگ کے ساتھ ہوگا اور اگرچہ کامل محبت کہ جس کا اعتبار کیا جاسکتا ہے وہی ہے جو اتباع موافقت اور علمی و عملی یگانگت تک پہنچا دے لیکن محض مخلصانہ عقیدت و محبت بھی معیت یکجائی کا ذریعہ بن جاتی ہے اس میں گویا ان لوگوں کے لئے بشارت ہے جو علماء و صلحاء اور بزرگان دین سے عقیدت و محبت اور دوستی رکھتے ہیں کہ وہ لوگ انشاء اللہ قیامت کے دن انہی علماء و صلحاء اور بزرگان دین کے ساتھ اٹھیں گے اور آخرت میں ان کی رفاقت و معیت کی دولت پائیں گے، ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ حدیث کا ظاہری مفہوم عمومیت پر دلالت کرتا ہے یعنی اس ارشاد گرامی میں عمومی طور پر یہ نکتہ بیان کیا جاتا ہے کہ جو شخص کسی سے محبت رکھتا ہے اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص کہ جس کے ساتھ محبت ہے خواہ نیک ہو یا بدکار فاسق، ملا علی قاری کی اس بات کی تائید اس حدیث المرء علی دین خلیلہ، سے ہوتی ہے جو آگے آئے گی اس صورت میں کہا جائے گا کہ جو لوگ علماء و صلحاء اور بزرگان دین کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتے ہیں ان کے لئے اس حدیث میں خاتمہ بخیر اور اخروی فلاح وسعادت کی بشارت ہے اور جو لوگ بدکار فاسق اور اللہ کے دشمنوں کے ساتھ عقیدت و محبت رکھتے ہیں ان کے لئے اس حدیث میں سخت وعید و تنبیہ ہے۔
4903
Mishkaat Shareefوعن أنس أن رجلا قال يا رسول الله متى الساعة ؟ قال ويلك وما أعددت لها ؟ قال ما أعددت لها إلا أني أحب الله ورسوله . قال أنت مع من أحببت . قال أنس فما رأيت المسلمين فرحوا بشيء بعد الإسلام فرحهم بها . متفق عليه
اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے یہ سوال کیا یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم پر افسوس ہے ؟ کیا تم نے قیامت کے لئے کوئی تیاری کر رکھی ہے ؟ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا آنحضرت ﷺ کو اس کا یہ سوال اچھا نہیں لگا اور آپ کو گمان ہوا کہ اس شخص نے اچھا اعتقاد رکھتے ہوئے از راہ خودی یہ سوال نہیں کیا ہے بلکہ قیامت کے آنے کو ایک دور دراز کی بات سمجھتے ہوئے لاپرواہی کے طور پر یہ سوال کیا ہے چناچہ آپ نے اس کو جواب بھی اسی انداز میں دیا کہ یہ کیا پوچھتے ہو کہ قیامت کب آئے گی، تم اپنا عقیدہ و عمل درست رکھو اور اچھے کام کرو، جب قیامت کے دن کو آنا ہوگا آجائے گا، لیکن جب اس شخص نے یہ عرض کیا کہ میں نے کوئی تیاری نہیں کی البتہ میرے پاس ایک دولت ضرور ہے وہ یہ کہ میں اللہ اور اللہ کے رسول سے محبت رکھتا ہوں تو آنحضرت ﷺ نے جانا کہ اس شخص کا مذکورہ سوال ایک مخلص کامل مومن کے اعتقاد کا مظہر ہے اور از راہ خوف ہے کسی لاپرواہی کا غمازہ نہیں ہے چناچہ آپ نے فرمایا تم دنیا و آخرت میں اسی کے ساتھ ہو، جس سے محبت رکھتے ہو حضرت انس (رض) کہتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام کے بعد کسی چیز سے اتنا زیادہ خوش نہیں دیکھا جتنا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے خوش ہوئے۔ بخاری ومسلم۔
تشریح
اس شخص نے تیاری کے زمرہ میں صرف اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ محبت کو ذکر کیا ہے اور اس کے علاوہ دوسری بدنی و قلبی اور مالی عبادتوں کا اس نے کوئی ذکر نہیں کیا جن سے اس کی زندگی یقینا خالی نہیں تھی، اس کی وجہ ایک تو اظہار عجز و انکساری اور اپنے مرتبہ عبودیت کا اخفاء تھا جو ایک مخلص مومن کی شان ہے دوسری وجہ یہ تھی کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ محبت ہی اصل چیز ہے اور تمام عبادتیں اسی محبت کی شاخیں اور اس کا لازمی اثر ہوتی ہیں، جس شخص کا قلب اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت سے سرشار ہوجاتا ہے، عبادت وطاعت خود بخود اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے علاوہ ازیں صرف محبت کو ذکر کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ محبت بذات خود سب سے اعلی مرتبہ ہے کیونکہ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتا ہے جیسا کہ خود اللہ نے فرمایا ہے، یحبھم ویحبونہ اور ایک جگہ یوں فرمایا آیت (ان کنتم تحبون) ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ ظاہر ہے کہ جس بندے کو محبت الٰہی کی دولت حاصل ہوجائے اس کی دنیاوی و اخروی فلاح نجات میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ تم اسی کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو، کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی ذات سے اس درجہ کا تعلق رکھتا ہے کہ اس کی محبت دوسری تمام چیزوں یہاں تک کہ اپنے مال اپنے اہل و عیال اور اپنی جان تک کی محبت پر غالب ہوجاتی ہے تو وہ اپنے محبوب کے ساتھ منسلک و ملحق و ہوجاتا ہے اور اس کا شمار محبوب کے اپنے لوگوں میں ہونے لگتا ہے اور محبت صادقہ یا عشق حقیقی کی علامت یہ ہے کہ وہی کام کرے جس کا محبوب حکم کرتے ہیں یا جو محبوب کی رضا و خوشنودی کا باعث ہو اور ہر اس کام سے اجتناب کرے جو محبوب کے حکم ومرضی کے خلاف ہو اور اس کے غیر کی مرضی و مراد کو پورا کرنے والا ہو، لہذا تم اگر اللہ کی محبت کا دعوی کرتے ہو تو اپنے عقیدہ و قول اور فعل عمل سے اس دعوے کو ثابت کرتے رہو، بایں طور کہ فرائض و واجبات کی بجا آوری کرو حق تعالیٰ جن امور سے راضی و خوش ہوجاتا ہے ان کو ہمیشہ اختیار کرو اور اس نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کے قریب بھی مت جاؤ، اسی بات کو مشہور صوفی خاتون حضرت رابعہ بصری نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے۔ ترجمہ۔ تم اللہ کی نافرمانی اختیار کئے ہوئے درآنحالیکہ تم اس کی محبت کا دم بھرتے ہو اپنی جان کی قسم یہ چیز قیاس میں بھی آسکتی اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو یقنا تم اس کی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا درحقیقت اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔ ا نحضرت ﷺ کا ارشاد سن کر مسلمانوں کا بہت زیادہ خوش ہونا اس بنا پر تھا کہ پہلے ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ جنت میں آنحضرت ﷺ کی معیت محج آنحضرت ﷺ کے ساتھ محبت اور آپ کی متابعت کی وجہ سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس سعادت کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہن اور کثرت کے ساتھ ریاضت و مجاہدہ اختیار کرنا ضروری ہے چناچہ جب آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا بات ارشاد فرمائی تو صحابہ کو بہت زیادہ خوشی ہوئی اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو علامہ عماد الدین ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ حقیقت میں آپ مجھ کو اپنی جان اپنے اہل خانہ اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز محبوب ہیں میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کے تصور میں کھویا رہتا ہوں جب آپ کی یاد بہت ستاتی ہے تو روئے انور کی زیارت کے بغیر چین نہیں ملتا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا ہوں اور آپ کی زیارت کر کے تسکین حاصل کرتا ہوں جب مجھے اپنی موت کا خیال آجاتا ہے اور اس دنیا سے آپ کے رخصت ہوجانے کا تصور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ آپ جنت میں جائیں گے جنت کے سب سے اعلی درجہ میں انبیاء کے ساتھ ہوں گے اور اگر اللہ نے مجھے بھی جنت میں داخل کردیا تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں آپ کی زیارت سے محروم رہوں گا، آنحضرت ﷺ نے ان صحابی کی یہ بات سنی لیکن کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی، ا یت (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰ ى ِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّ نَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَا ءِ وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰ ى ِكَ رَفِيْقًا) 4 ۔ النساء 69) ۔ جس نے ضروری احکام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہ جنت میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام نازل کیا ہے یعنی انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین۔ رہی یہ بات کہ یہاں معیت سے کیا مراد ہے تو جاننا چاہیے کہ معیت سے مراد یہ نہیں کہ محبت کرنے والا اور محبوب دونوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی جو کیفیت ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اعلی درجہ والے ان لوگوں کے پاس آئیں گے جو نیچے کے درجات میں ہوں گے اور پھر سب جنت کے باغات میں یکجا ہوں گے وہاں ایک دوسرے کی زیارت و ملاقات ہوگی اور درجہ عالیہ والے ان چیزوں کی ذکر کریں گے جو ان کو اللہ کی طرف سے بطور انعام حاصل ہوئی ہوں گی اور حق تعالیٰ انعامات و اکرامات پر اس کی حمد وثناء کریں گے پھر درجات سافلہ والے ان کی خاطر و تواضع کریں گے اور دوڑ دوڑ کر وہ چیزیں لائیں گے اور ان کو دیں گے جن کی وہ خواہش و طلب کریں، غرضیکہ اسی طرح وہ سب جنت کے باغات میں اس طرح کی تقریب سے لطف اندوز و مسرور ہوا کریں گے۔ واضح رہے کہ متابعت اور ضروری احکام کے مدارج مختلف ہوتے ہیں لہذا جس درجہ کے احکام ضروریہ میں اطاعت ہوگی اسی درجہ کی محبت بھی شمار ہوگی اور جس درجہ کی محبت یا جس درجہ کا حسن معاملہ ہوگا اسی درجہ کی یہ معیت و ملاقات بھی نصیب ہوگی۔
تشریح
اس شخص نے تیاری کے زمرہ میں صرف اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ محبت کو ذکر کیا ہے اور اس کے علاوہ دوسری بدنی و قلبی اور مالی عبادتوں کا اس نے کوئی ذکر نہیں کیا جن سے اس کی زندگی یقینا خالی نہیں تھی، اس کی وجہ ایک تو اظہار عجز و انکساری اور اپنے مرتبہ عبودیت کا اخفاء تھا جو ایک مخلص مومن کی شان ہے دوسری وجہ یہ تھی کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ محبت ہی اصل چیز ہے اور تمام عبادتیں اسی محبت کی شاخیں اور اس کا لازمی اثر ہوتی ہیں، جس شخص کا قلب اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت سے سرشار ہوجاتا ہے، عبادت وطاعت خود بخود اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے علاوہ ازیں صرف محبت کو ذکر کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ محبت بذات خود سب سے اعلی مرتبہ ہے کیونکہ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتا ہے جیسا کہ خود اللہ نے فرمایا ہے، یحبھم ویحبونہ اور ایک جگہ یوں فرمایا آیت (ان کنتم تحبون) ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ ظاہر ہے کہ جس بندے کو محبت الٰہی کی دولت حاصل ہوجائے اس کی دنیاوی و اخروی فلاح نجات میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ تم اسی کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو، کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کسی ذات سے اس درجہ کا تعلق رکھتا ہے کہ اس کی محبت دوسری تمام چیزوں یہاں تک کہ اپنے مال اپنے اہل و عیال اور اپنی جان تک کی محبت پر غالب ہوجاتی ہے تو وہ اپنے محبوب کے ساتھ منسلک و ملحق و ہوجاتا ہے اور اس کا شمار محبوب کے اپنے لوگوں میں ہونے لگتا ہے اور محبت صادقہ یا عشق حقیقی کی علامت یہ ہے کہ وہی کام کرے جس کا محبوب حکم کرتے ہیں یا جو محبوب کی رضا و خوشنودی کا باعث ہو اور ہر اس کام سے اجتناب کرے جو محبوب کے حکم ومرضی کے خلاف ہو اور اس کے غیر کی مرضی و مراد کو پورا کرنے والا ہو، لہذا تم اگر اللہ کی محبت کا دعوی کرتے ہو تو اپنے عقیدہ و قول اور فعل عمل سے اس دعوے کو ثابت کرتے رہو، بایں طور کہ فرائض و واجبات کی بجا آوری کرو حق تعالیٰ جن امور سے راضی و خوش ہوجاتا ہے ان کو ہمیشہ اختیار کرو اور اس نے جن چیزوں سے منع کیا ہے ان کے قریب بھی مت جاؤ، اسی بات کو مشہور صوفی خاتون حضرت رابعہ بصری نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے۔ ترجمہ۔ تم اللہ کی نافرمانی اختیار کئے ہوئے درآنحالیکہ تم اس کی محبت کا دم بھرتے ہو اپنی جان کی قسم یہ چیز قیاس میں بھی آسکتی اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو یقنا تم اس کی اطاعت کرتے کیونکہ محبت کرنے والا درحقیقت اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔ ا نحضرت ﷺ کا ارشاد سن کر مسلمانوں کا بہت زیادہ خوش ہونا اس بنا پر تھا کہ پہلے ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ جنت میں آنحضرت ﷺ کی معیت محج آنحضرت ﷺ کے ساتھ محبت اور آپ کی متابعت کی وجہ سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس سعادت کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عبادت میں مشغول رہن اور کثرت کے ساتھ ریاضت و مجاہدہ اختیار کرنا ضروری ہے چناچہ جب آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا بات ارشاد فرمائی تو صحابہ کو بہت زیادہ خوشی ہوئی اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جس کو علامہ عماد الدین ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ حقیقت میں آپ مجھ کو اپنی جان اپنے اہل خانہ اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز محبوب ہیں میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں تو آپ کے تصور میں کھویا رہتا ہوں جب آپ کی یاد بہت ستاتی ہے تو روئے انور کی زیارت کے بغیر چین نہیں ملتا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتا ہوں اور آپ کی زیارت کر کے تسکین حاصل کرتا ہوں جب مجھے اپنی موت کا خیال آجاتا ہے اور اس دنیا سے آپ کے رخصت ہوجانے کا تصور کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ آپ جنت میں جائیں گے جنت کے سب سے اعلی درجہ میں انبیاء کے ساتھ ہوں گے اور اگر اللہ نے مجھے بھی جنت میں داخل کردیا تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں آپ کی زیارت سے محروم رہوں گا، آنحضرت ﷺ نے ان صحابی کی یہ بات سنی لیکن کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی، ا یت (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰ ى ِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّ نَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَا ءِ وَالصّٰلِحِيْنَ وَحَسُنَ اُولٰ ى ِكَ رَفِيْقًا) 4 ۔ النساء 69) ۔ جس نے ضروری احکام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی وہ جنت میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے اپنا انعام نازل کیا ہے یعنی انبیاء، صدیق، شہداء اور صالحین۔ رہی یہ بات کہ یہاں معیت سے کیا مراد ہے تو جاننا چاہیے کہ معیت سے مراد یہ نہیں کہ محبت کرنے والا اور محبوب دونوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کی جو کیفیت ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اعلی درجہ والے ان لوگوں کے پاس آئیں گے جو نیچے کے درجات میں ہوں گے اور پھر سب جنت کے باغات میں یکجا ہوں گے وہاں ایک دوسرے کی زیارت و ملاقات ہوگی اور درجہ عالیہ والے ان چیزوں کی ذکر کریں گے جو ان کو اللہ کی طرف سے بطور انعام حاصل ہوئی ہوں گی اور حق تعالیٰ انعامات و اکرامات پر اس کی حمد وثناء کریں گے پھر درجات سافلہ والے ان کی خاطر و تواضع کریں گے اور دوڑ دوڑ کر وہ چیزیں لائیں گے اور ان کو دیں گے جن کی وہ خواہش و طلب کریں، غرضیکہ اسی طرح وہ سب جنت کے باغات میں اس طرح کی تقریب سے لطف اندوز و مسرور ہوا کریں گے۔ واضح رہے کہ متابعت اور ضروری احکام کے مدارج مختلف ہوتے ہیں لہذا جس درجہ کے احکام ضروریہ میں اطاعت ہوگی اسی درجہ کی محبت بھی شمار ہوگی اور جس درجہ کی محبت یا جس درجہ کا حسن معاملہ ہوگا اسی درجہ کی یہ معیت و ملاقات بھی نصیب ہوگی۔
4904
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل الجليس الصالح والسوء كحامل المسك ونافخ الكير فحامل المسك إما أن يحذيك وإما أن تبتاع منه وإما أن تجد منه ريحا طيبة ونافخ الكير إما أن يحرق ثيابك وإما أن تجد منه ريحا خبيثة
اور حضرت ابوموسی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک اور بد ہم نشین کی مثال مشک رکھنے والے اور دھونکنی دھونکنے والے کی سی ہے مشک رکھنے والا یا تو تمہیں مشک مفت دیدے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا اگر کسی بھی صورت میں اس کا مشک تمہارے ہاتھ نہیں لگتا تو کم از کم خوشبو تو ضرور تمہیں حاصل ہوجائے گی، اسی طرح نیک اور صالح ہم نشین سے کوئی فیض یا کوئی خاص نعمت نہ بھی ملے تو یہی کیا کم ہے کہ کچھ ساعتوں کے لئے اس کی صحبت میں سکون و اطمینان کے ساتھ بیٹھنا نصیب ہوجائے اور دھونکنی دھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا تمہیں اس سے دماغ پوش یعنی دھواں ملے گا، اسی طرح بدکار ہم نشین اول تو دین و دنیا دونوں کا نقصان پہنچاتا ہے وقت کو ضائع کرتا ہے اور حصول سعادت کی صلاحییت و استعداد کو بےکار کردیتا ہے اور اگر یہ نہ بھی ہو تو اس کی صحبت میں کم از کم اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ زندگی کے وہ قیمتی لمحات، دل و دماغ کی کبیدگی اور لاحاصل صحبت کی ناخوشگوار میں صرف ہوتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اچھے لوگوں کی محبت و ہم نشینی اور برے لوگوں کی محبت و ہم نشینی کے درمیان جو فرق ہے اس کی مذکورہ بالا نشین مثال کے ذریعہ واضح کردیا گیا ہے اور جیسا کہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد اس بات کی تاکید و تنبیہ ہے کہ اچھے لوگوں سے محبت وتعلق پیدا کرو ان کی صحبت و ہم نشینی کو اختیار کرو اور برے لوگوں کی محبت و موافقت اور ان کی صحبت و ہم نشینی سے اجتناب کرو نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اچھے لوگوں یعنی علماء و صلحاء کی صحبت و ہم نشینی دے دنیا و آخرت میں فائدہ حاصل کرنے کا سبب ہے اور برے لوگوں یعنی بدکار و فاسق کی صحبت و ہم نشینی دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے کا ذریعہ ہے۔
تشریح
اچھے لوگوں کی محبت و ہم نشینی اور برے لوگوں کی محبت و ہم نشینی کے درمیان جو فرق ہے اس کی مذکورہ بالا نشین مثال کے ذریعہ واضح کردیا گیا ہے اور جیسا کہ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد اس بات کی تاکید و تنبیہ ہے کہ اچھے لوگوں سے محبت وتعلق پیدا کرو ان کی صحبت و ہم نشینی کو اختیار کرو اور برے لوگوں کی محبت و موافقت اور ان کی صحبت و ہم نشینی سے اجتناب کرو نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اچھے لوگوں یعنی علماء و صلحاء کی صحبت و ہم نشینی دے دنیا و آخرت میں فائدہ حاصل کرنے کا سبب ہے اور برے لوگوں یعنی بدکار و فاسق کی صحبت و ہم نشینی دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے کا ذریعہ ہے۔
4905
Mishkaat Shareefوعن معاذ بن جبل قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال الله تعالى وجبت محبتي للمتحابين في والمتجالسين في والمتزاورين في والمتباذلين في . رواه مالك . وفي رواية الترمذي قال يقول الله تعالى المتحابون في جلالي لهم منابر من نور يغبطهم النبيون والشهداء
حضرت معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ میرا محبت کرنا ایک طے شدہ امر ہے جو محض میری رضا مندی و خوشنودی کی خاطر آپس میں میل جول محبت رکھتے ہیں محض میری خوشنودی کی خاطر اور میری حمد وثناء کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں محض میری رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور محض میری رضا و خوشنودی کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے ہیں مالک ترمذی کی روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ میری عظمت و جلال کے سبب آپس میں میل جول محبت رکھتے ہیں ان کے لئے اخرت میں نور کے منبر ہوں گے جن انبیاء و شہداء بھی رشک کریں گے۔
تشریح
جن پر انبیاء و شہداء رشک کریں گے اس جملہ پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کسی طرح درست ہوسکتی ہے کہ انبیاء علی الاطلاق تمام لوگوں سے افضل و برتر ہیں اور شہداء راہ میں اپنی جان و مال قربان کردینے کے سبب عظیم فضیلت رکھتے ہیں لہذا ان دونوں کا ایسے لوگوں کے اجر انعام پر رشک کرنا کس طرح موزوں ہوسکتا ہے جس کا مذکورہ عمل یعنی اللہ کے لئے آپس میں میل جول محبت رکھنا نہایت آسان اور سہل ہے علاوہ ازین اس بات سے انبیاء اور شہداء کے مقابلہ پر مذکورہ لوگوں کا زیادہ افضل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ رشک اسی کو ہوتا ہے جو مفضول ہو اور جس پر رشک کیا جاتا ہے وہ فاضل ہوتا ہے اس کا جواب علماء نے اجر و انعام پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا ہے نہ کہ رشک کا حقیقی مفہوم مراد ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حدیث کا مذکورہ بالا جملہ در اصل فرض و تقدیر پر مبنی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہا لوگوں کو جو رتبہ و مقام حاصل ہوگا اس کی اہمیت فضیلت کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے اگر بفرض محال انبیاء و شہداء کو کسی رتبہ و مقام پر رشک ہوتا ہے تو ان لوگوں کے رتبہ و مقام پر ہوتا ہے اور تیسرا جواب یہ دیا ہے کہ اس طرح کے مواقع پر عام طور پر دیا جاتا ہے یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مفضول میں کوئی ایسی خاص صفت و فضیلت ہوتی ہے جو فاضل میں نہیں ہوتی اور باجودیکہ فاضل اپنے اندر جو فضائل اور خوبیاں رکھتا ہے ان کے مقابلہ میں مفضول کی اس صفت و فضیلت کی اہمیت نہیں ہوتی لیکن فاضل کی تمنا و خواہش ہوتی ہے کہ اس کو وہ صفت و خوبی حاصل ہوجائے جو مفضول میں ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جائے کہ زید کے پاس ایک ہزار بہت سے خوبصورت غلام ہیں اور ان میں خوبصورتی کے علاوہ دوسری اور خوبیاں بھی اور اس کے مقابلہ میں بکر کے پاس ایک غلام بچہ ہو جو بہت نیک اور ہو نہار ہو ظاہر ہے کہ زید اپنے غلاموں کی تعداد و اہمیت کے اعتبار سے بکر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ برتری فضیلت رکھتا ہے اور اس کو اس بات کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بکر کے غلام بچہ پر رشک کرے لیکن اس کے باوجود اس کی خواہش یہ ہوگی کی کہ بکر کے پاس جو غلام بچہ ہے اسی طرح کا ایک غلام بچہ مجھے بھی حاصل ہوجائے، اسی طرح انبیاء و شہداء بھی مذکورہ لوگوں کی فضیلت دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ کاش دوسری فضیلتوں کی طرح یہ فضیلت بھی ان کو حاصل ہوجائے۔
تشریح
جن پر انبیاء و شہداء رشک کریں گے اس جملہ پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کسی طرح درست ہوسکتی ہے کہ انبیاء علی الاطلاق تمام لوگوں سے افضل و برتر ہیں اور شہداء راہ میں اپنی جان و مال قربان کردینے کے سبب عظیم فضیلت رکھتے ہیں لہذا ان دونوں کا ایسے لوگوں کے اجر انعام پر رشک کرنا کس طرح موزوں ہوسکتا ہے جس کا مذکورہ عمل یعنی اللہ کے لئے آپس میں میل جول محبت رکھنا نہایت آسان اور سہل ہے علاوہ ازین اس بات سے انبیاء اور شہداء کے مقابلہ پر مذکورہ لوگوں کا زیادہ افضل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ رشک اسی کو ہوتا ہے جو مفضول ہو اور جس پر رشک کیا جاتا ہے وہ فاضل ہوتا ہے اس کا جواب علماء نے اجر و انعام پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا ہے نہ کہ رشک کا حقیقی مفہوم مراد ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حدیث کا مذکورہ بالا جملہ در اصل فرض و تقدیر پر مبنی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہا لوگوں کو جو رتبہ و مقام حاصل ہوگا اس کی اہمیت فضیلت کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے اگر بفرض محال انبیاء و شہداء کو کسی رتبہ و مقام پر رشک ہوتا ہے تو ان لوگوں کے رتبہ و مقام پر ہوتا ہے اور تیسرا جواب یہ دیا ہے کہ اس طرح کے مواقع پر عام طور پر دیا جاتا ہے یہ ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مفضول میں کوئی ایسی خاص صفت و فضیلت ہوتی ہے جو فاضل میں نہیں ہوتی اور باجودیکہ فاضل اپنے اندر جو فضائل اور خوبیاں رکھتا ہے ان کے مقابلہ میں مفضول کی اس صفت و فضیلت کی اہمیت نہیں ہوتی لیکن فاضل کی تمنا و خواہش ہوتی ہے کہ اس کو وہ صفت و خوبی حاصل ہوجائے جو مفضول میں ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جائے کہ زید کے پاس ایک ہزار بہت سے خوبصورت غلام ہیں اور ان میں خوبصورتی کے علاوہ دوسری اور خوبیاں بھی اور اس کے مقابلہ میں بکر کے پاس ایک غلام بچہ ہو جو بہت نیک اور ہو نہار ہو ظاہر ہے کہ زید اپنے غلاموں کی تعداد و اہمیت کے اعتبار سے بکر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ برتری فضیلت رکھتا ہے اور اس کو اس بات کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بکر کے غلام بچہ پر رشک کرے لیکن اس کے باوجود اس کی خواہش یہ ہوگی کی کہ بکر کے پاس جو غلام بچہ ہے اسی طرح کا ایک غلام بچہ مجھے بھی حاصل ہوجائے، اسی طرح انبیاء و شہداء بھی مذکورہ لوگوں کی فضیلت دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ کاش دوسری فضیلتوں کی طرح یہ فضیلت بھی ان کو حاصل ہوجائے۔
4906
Mishkaat Shareefوعن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من عباد الله لأناسا ما هم بأنبياء ولا شهداء يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة بمكانهم من الله . قالوا يا رسول الله تخبرنا من هم ؟ قال هم قوم تحابوا بروح الله على غير أرحام بينهم ولا أموال يتعاطونها فوالله إن وجوههم لنور وإنهم لعلى نور لا يخافون إذا خاف الناس ولا يحزنون إذا حزن الناس وقرأ الآية ( ألا إن أولياء الله لا خوف عليهم ولا هم يحزنون ) رواه أبو داود ورواه في شرح السنة عن أبي مالك بلفظ المصابيح مع زوائد وكذا في شعب الإيمان
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں سے کتنے ہی لوگ یعنی اولیاء اللہ ایسے ہیں جو اگرچہ آنحضرت ﷺ اور شہید نہیں ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ کے نزدیک ان کے مراتب و درجات دیکھ کر انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بتائیے کہ وہ کون لوگ ہوں گے آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ہیں جو اللہ کی روح یعنی قرآن کریم کے سبب آپس میں میل جول محبت رکھتے ہیں حالانکہ ان کے درمیان کوئی ناطہ رشتہ نہیں ہے جس کا تقاضا انہیں ایک دوسرے سے محبت کرنے پر مجبور کرے اور نہ مال دولت کی لین دین کا معاملہ ہوتا ہے (حاصل یہ ہے کہ ان کی باہمی محبت اور آپس کے اتحاد و میل جول کی بنیاد کسی دنیاوی غرض و وسیلہ پر نہیں ہوتی بلکہ محض اللہ کی رضا و خوشنودی اور تعلیمات قرآنی کی اتباع پر ہوتی ہے قسم ہے اللہ کی قیامت کے دن ان کے چہرے نورانی ہوں گے، یا وہ مجسم نور ہوں گے اور وہ نور کے منبروں پر یا نفس نور پر متمکن و مستولی ہوں گے وہ لوگ اس وقت بھی خوف زدہ نہیں ہوں گے جب دوسرے لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے اور وہ اس وقت بھی غمگین نہیں ہوں گے جب کہ دوسرے لوگ غمگین و رنجیدہ ہوں گے پھر آنحضرت ﷺ نے ایسے لوگوں کو اللہ کا دوست کرنے اور ان سے خوف و حزن کی نفی کرنے کے لئے بطور دلیل یہ آیت فرمائی، آیت (اَلَا اِنَّ اَوْلِيَا ءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ ) 10 ۔ یونس 62) ۔ آگاہ رہو کہ اللہ تعالیٰ دوستوں پر نہ تو خوف طاری کرے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور بغوی نے شرح السنہ میں اس روایت کو بالفاظ مصابیح ابومالک سے روایت کیا ہے لیکن اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ بھی ہے اور اس طرح ب اضافہ الفاظ اس روایت کو بہیقی نے بھی شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
تشریح
انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے کے بارے میں پچھلی حدیث کی تشریح کو سامنے رکھ لینا چاہیے اور ایک خاص بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ انبیاء سے وہ نبی اور پیغمبر مراد ہیں جو زندگی میں کسی عذر یا کسی اور سبب سے باہمی ملاقات کا موقع نہ پا سکے ہوں گے ورنہ جہاں تک نفس محبت وہم نشینی کا تعلق ہے ایسا کوئی نبی اور پیغمبر نہیں گزرا جو اللہ کی خاطر اپنی امت کے لوگوں سے محبت وتعلق نہ رکھتا ہو اور ہم نشینی سے محروم رہے ہوں گے۔ روح را کے پیش کے ساتھ اصل میں تو اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ جسم زندہ رہتا ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس جوہر کو کہتے ہیں جس کے سبب زندگی کو بقا حاصل ہوتی ہے اور یہاں روح سے مراد قرآن کریم ہے چناچہ قرآن کریم میں روح کے معنی قرآن کے بھی آئے ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے، آیت (وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا) اور اس اعتبار سے بھی قرآن کو روح کہنا نہایت موزوں ہے کہ جس طرح جسم و بدن کی زندگی کا مدار روح پر ہے اسی طرح قلب انسان کی حیات کا مدار قرآن پر ہے۔ قرآن کو باہمی میل جول محبت کا سبب قرار دینا یا تو اس اعتبار سے ہے کہ قرآن کریم کو نظام زندگی کا اساس قانون ماننے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے باہمی محبت و موانست کی دولت حاصل ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم کی تعلیمات، محبت موانست کی دولت حاصل ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم کی تعلیمات، محبت و موانست کا ذریعہ اور مومنین کو باہمی میل ملاپ اور اتحاد و یکجہتی اختیار کرنے کی ہدایت دینے والی ہے۔ بعض حضرات نے روح اللہ کی مراد قرآن کے بجائے خود محبت کو قرار دیا ہے ان کے نزدیک محبت پر روح کا اطلاق اس سبب سے موزوں سے ہے کہ محبت بھی قلب انسان کی حیات و نشاط اور تازگی کا سبب ہے اسی لئے محبوب کو جان من کہا جاتا ہے۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں یہ را کے زبر کے ساتھ یعنی روح اللہ منقول ہے جس کے معنی رحمت اور رزق کے ہیں بہرحال مال و ماحاصل کے اعتبار سے معنی میں کوئی فرق نہیں مطلب سب کا ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنا۔ بالفاظ مصابیح یہ روایت جس طرح نقل کی وہ یوں ہے۔ حضرت ابومالک اشعری کہتے ہیں کہ ایک دن میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اس وقت آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگرچہ انبیاء اور شہداء نہیں ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ و مقام دیکھ کر ان کی رفعت شان دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے یہ سن کر ایک اعرابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے ہیں جن کا تعلق مختلف شہروں اور مختلف قبائل سے ہوتا ہے ان کے درمیان کوئی رشتہ ناتا بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے تعلق محبت قائم رکھنے پر مجبور ہوں اور نہ وہ ایک دوسرے سے اپنا مال اور روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہیں جس سے ان کے درمیان تعلقات قائم ہوں مگر وہ محض اللہ کی روح یعنی قرآن کریم کے سبب آپس میں میل جول محبت رکھتے ہیں قیامت کے دن ان کے چہرے نور کے ہوں گے اور وہ عرش الٰہی کے نیچے ان کے لئے نور کے منبر رکھے جائیں گے (جن پر وہ متمکن ہوں گے) ۔
تشریح
انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے کے بارے میں پچھلی حدیث کی تشریح کو سامنے رکھ لینا چاہیے اور ایک خاص بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ انبیاء سے وہ نبی اور پیغمبر مراد ہیں جو زندگی میں کسی عذر یا کسی اور سبب سے باہمی ملاقات کا موقع نہ پا سکے ہوں گے ورنہ جہاں تک نفس محبت وہم نشینی کا تعلق ہے ایسا کوئی نبی اور پیغمبر نہیں گزرا جو اللہ کی خاطر اپنی امت کے لوگوں سے محبت وتعلق نہ رکھتا ہو اور ہم نشینی سے محروم رہے ہوں گے۔ روح را کے پیش کے ساتھ اصل میں تو اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ جسم زندہ رہتا ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس جوہر کو کہتے ہیں جس کے سبب زندگی کو بقا حاصل ہوتی ہے اور یہاں روح سے مراد قرآن کریم ہے چناچہ قرآن کریم میں روح کے معنی قرآن کے بھی آئے ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے، آیت (وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا) اور اس اعتبار سے بھی قرآن کو روح کہنا نہایت موزوں ہے کہ جس طرح جسم و بدن کی زندگی کا مدار روح پر ہے اسی طرح قلب انسان کی حیات کا مدار قرآن پر ہے۔ قرآن کو باہمی میل جول محبت کا سبب قرار دینا یا تو اس اعتبار سے ہے کہ قرآن کریم کو نظام زندگی کا اساس قانون ماننے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے باہمی محبت و موانست کی دولت حاصل ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم کی تعلیمات، محبت موانست کی دولت حاصل ہوتی ہے کیونکہ قرآن کریم کی تعلیمات، محبت و موانست کا ذریعہ اور مومنین کو باہمی میل ملاپ اور اتحاد و یکجہتی اختیار کرنے کی ہدایت دینے والی ہے۔ بعض حضرات نے روح اللہ کی مراد قرآن کے بجائے خود محبت کو قرار دیا ہے ان کے نزدیک محبت پر روح کا اطلاق اس سبب سے موزوں سے ہے کہ محبت بھی قلب انسان کی حیات و نشاط اور تازگی کا سبب ہے اسی لئے محبوب کو جان من کہا جاتا ہے۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں یہ را کے زبر کے ساتھ یعنی روح اللہ منقول ہے جس کے معنی رحمت اور رزق کے ہیں بہرحال مال و ماحاصل کے اعتبار سے معنی میں کوئی فرق نہیں مطلب سب کا ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اللہ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنا۔ بالفاظ مصابیح یہ روایت جس طرح نقل کی وہ یوں ہے۔ حضرت ابومالک اشعری کہتے ہیں کہ ایک دن میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اس وقت آپ نے فرمایا اللہ عزوجل کے بعض بندے ایسے ہیں جو اگرچہ انبیاء اور شہداء نہیں ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ کے نزدیک ان کا مرتبہ و مقام دیکھ کر ان کی رفعت شان دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے یہ سن کر ایک اعرابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کے بندے ہیں جن کا تعلق مختلف شہروں اور مختلف قبائل سے ہوتا ہے ان کے درمیان کوئی رشتہ ناتا بھی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے تعلق محبت قائم رکھنے پر مجبور ہوں اور نہ وہ ایک دوسرے سے اپنا مال اور روپیہ پیسہ خرچ کرتے ہیں جس سے ان کے درمیان تعلقات قائم ہوں مگر وہ محض اللہ کی روح یعنی قرآن کریم کے سبب آپس میں میل جول محبت رکھتے ہیں قیامت کے دن ان کے چہرے نور کے ہوں گے اور وہ عرش الٰہی کے نیچے ان کے لئے نور کے منبر رکھے جائیں گے (جن پر وہ متمکن ہوں گے) ۔