Mishkaat Shareef
153. دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان
مشكاة المصابيح
5045
Mishkaat Shareefرقاق رقیق کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں نرم، پتلا۔ یہاں سے کتاب کے جو ابواب شروع ہو رہے ہیں ان کو کتاب الرقاق سے اس لئے موسوم کیا گیا ہے کہ ان ابواب میں وہ احادیث منقول ہیں جو دل کو نرم کرتی ہیں، طبیعت میں رقت پیدا کرتی ہیں اور قوائے فکروعمل کو اس طرح متاثر کرتی ہیں کہ دنیا سے زہد وبے اعتنائی آخرت سے رغبت پیدا ہوجاتی ہے۔
5046
Mishkaat Shareefعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس : الصحة والفراغ . رواه البخاري
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ہیں کہ ان کے معاملہ میں بہت سے لوگ فریب اور ٹوٹا کھائے ہوئے ہیں (اور وہ دونوں نعمتیں) تندرستی اور فراغت ہیں۔ (بخاری)
تشریح
مذکورہ نعمتوں میں سے ایک نعمت تو تندرستی ہے یعنی جسم وبدن کا امراض سے محفوظ رہنا اور دوسری نعمت ہے اوقات کا غم روز گار کے مشاغل درمصروفیات اور تفکرات وتشویشات سے فارغ وخالی ہونا، چناچہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی غفلت لاپرواہی کی بنا پر ان دونوں نعمتوں کی قدر نہیں کرر ہے اور ان کے معاملہ میں اپنے نفس سے فریب کھا کر ان کو مفت میں ہاتھ سے جانے دیتے ہیں جیسا کہ کوئی شخص خریدوفروخت کے معاملہ میں کسی کے فریب اور دھوکہ کا شکار ہو کر اپنے مال ومتاع کو مفت میں گنوا دیتا ہے اور نقصان برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں ان لوگوں کے تئیں حسرت و افسوس کا اظہار ہے جو ان نعمتوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاتے، بایں طور کہ نہ تو اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ دین ودنیا کی بھلائی و فائدہ کے کام کرتے ہیں اور نہ فرصت کے اوقات کو غنیمت جان کر ان میں آخرت کے امور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ہاں جب ان کی صحت و تندرستی خراب ہوجاتی ہے دنیا بھر کے فکرات لاحق ہوجاتے ہیں اور غم روزگار کی گردش ان کے اوقات کو مختلف قسم کی مشغولیتوں اور تشویشوں میں جکڑ لیتی ہے اس وقت ان کو ان نعمتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کیسے بیش قیمت مواقع گنوادئیے اور اس قول النعمۃ اذا فقدت عرفت (کہ نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ جاتی رہتی ہے) کا مصداق بنتے ہیں۔ ملا علی قاری (رح) نے حدیث کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان نعمتوں کی حقیقی قدر نہیں کرتے، بایں طور کہ وہ ان نعمتوں کے حاصل ہونے کے زمانہ میں ایسے کام نہیں کرتے جن کے آخرت میں وہ محتاج ہوں گے اور پھر وہاں نادم ہوں گے کہ ہم نے دنیا میں اپنی عمر کے بیش قیمت اوقات کو کس طرح ضائع کردیا اور تندرستی و فراغت وقت کی جو نعمتیں ہمیں میسر تھیں ان کے جاتے رہنے سے پہلے ان کی قدر نہیں کی، حالانکہ اس وقت ان کی یہ ندامت ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ذالک یوم التغابن اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخرت میں اہل جنت اگر کسی بات پر حسرت و افسوس کریں گے تو ان لمحات پر کریں گے جو انہوں نے دنیا میں اس طرح گزار دئیے ہوں گے کہ ان میں انہوں نے اللہ کو یاد نہیں کیا ہوگا۔
تشریح
مذکورہ نعمتوں میں سے ایک نعمت تو تندرستی ہے یعنی جسم وبدن کا امراض سے محفوظ رہنا اور دوسری نعمت ہے اوقات کا غم روز گار کے مشاغل درمصروفیات اور تفکرات وتشویشات سے فارغ وخالی ہونا، چناچہ دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی غفلت لاپرواہی کی بنا پر ان دونوں نعمتوں کی قدر نہیں کرر ہے اور ان کے معاملہ میں اپنے نفس سے فریب کھا کر ان کو مفت میں ہاتھ سے جانے دیتے ہیں جیسا کہ کوئی شخص خریدوفروخت کے معاملہ میں کسی کے فریب اور دھوکہ کا شکار ہو کر اپنے مال ومتاع کو مفت میں گنوا دیتا ہے اور نقصان برداشت کرتا ہے۔ لہٰذا اس ارشاد گرامی میں ان لوگوں کے تئیں حسرت و افسوس کا اظہار ہے جو ان نعمتوں سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھاتے، بایں طور کہ نہ تو اپنی صحت و تندرستی کے زمانہ دین ودنیا کی بھلائی و فائدہ کے کام کرتے ہیں اور نہ فرصت کے اوقات کو غنیمت جان کر ان میں آخرت کے امور کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، ہاں جب ان کی صحت و تندرستی خراب ہوجاتی ہے دنیا بھر کے فکرات لاحق ہوجاتے ہیں اور غم روزگار کی گردش ان کے اوقات کو مختلف قسم کی مشغولیتوں اور تشویشوں میں جکڑ لیتی ہے اس وقت ان کو ان نعمتوں کی قدر ہوتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کیسے بیش قیمت مواقع گنوادئیے اور اس قول النعمۃ اذا فقدت عرفت (کہ نعمت کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ جاتی رہتی ہے) کا مصداق بنتے ہیں۔ ملا علی قاری (رح) نے حدیث کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان نعمتوں کی حقیقی قدر نہیں کرتے، بایں طور کہ وہ ان نعمتوں کے حاصل ہونے کے زمانہ میں ایسے کام نہیں کرتے جن کے آخرت میں وہ محتاج ہوں گے اور پھر وہاں نادم ہوں گے کہ ہم نے دنیا میں اپنی عمر کے بیش قیمت اوقات کو کس طرح ضائع کردیا اور تندرستی و فراغت وقت کی جو نعمتیں ہمیں میسر تھیں ان کے جاتے رہنے سے پہلے ان کی قدر نہیں کی، حالانکہ اس وقت ان کی یہ ندامت ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ذالک یوم التغابن اور حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ آخرت میں اہل جنت اگر کسی بات پر حسرت و افسوس کریں گے تو ان لمحات پر کریں گے جو انہوں نے دنیا میں اس طرح گزار دئیے ہوں گے کہ ان میں انہوں نے اللہ کو یاد نہیں کیا ہوگا۔
5047
Mishkaat Shareefوعن المستورد بن شداد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : والله ما الدنيا في الآخرة إلا مثل ما يجعل أحدكم أصبعه في اليم فلينظر بم يرجع . رواه مسلم
حضرت مستورد بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اللہ کی قسم ! آخرت (کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں) کے مقابلے میں دنیا ( کے زمانہ اور اس کی نعمتوں) کی مثال ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کیا چیز لے کر واپس آئی ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبو کر باہر نکالے تو وہ دیکھے گا کہ اس کی انگلی سمندر میں سے محض تری یا صرف ایک آدھ قطرہ پانی کا لے کر واپس آئی ہے، پس سمجھنا چاہئے کہ آخرت کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کا زمانہ اور دنیا کی تمام نعمتیں اسی قدر قلیل وکمتر ہیں جس قدر کہ سمندر کے مقابلہ میں اس کی انگلی کو لگا ہوا پانی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمثیل بھی محض لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ متناہی کو غیر متناہی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی، پانی کا وہ ایک قطرہ جو دریا سے باہر آیا ہے اپنی کمتری و بےوقعتی کے باوجود سمندر سے کچھ نہ کچھ نسبت ضرور رکھتا ہے مگر دنیا، آخرت سے اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتی۔ ملا علی قاری (رح) لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ نہ تو نہایت جلد فنا ہوجانے والی دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں پر مغرور ہو اور نہ اس کی سختیوں اور پریشانیوں پر روئے پیٹے اور نہ شکوہ و شکایت کرے بلکہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق یہی کہے کہ اللہم لا عیش الا عیش الاخرۃ، اے اللہ ! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے نیز اس حقیقت کو ہر لمحہ مدنظر رکھے کہ یہ دنیا، مزرعۃ الاخرۃ (آخرت کی کھیتی ہے) اور یہاں کی زندگانی بس ایک ساعت کی ہے لہٰذا اس ایک ساعت کو گنوانے کی بجائے طلب الٰہی میں مصروف رکھنا ہی سب سے بڑی دانشوری ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈبو کر باہر نکالے تو وہ دیکھے گا کہ اس کی انگلی سمندر میں سے محض تری یا صرف ایک آدھ قطرہ پانی کا لے کر واپس آئی ہے، پس سمجھنا چاہئے کہ آخرت کے زمانہ اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کا زمانہ اور دنیا کی تمام نعمتیں اسی قدر قلیل وکمتر ہیں جس قدر کہ سمندر کے مقابلہ میں اس کی انگلی کو لگا ہوا پانی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمثیل بھی محض لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ متناہی کو غیر متناہی کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہوسکتی، پانی کا وہ ایک قطرہ جو دریا سے باہر آیا ہے اپنی کمتری و بےوقعتی کے باوجود سمندر سے کچھ نہ کچھ نسبت ضرور رکھتا ہے مگر دنیا، آخرت سے اس قدر بھی نسبت نہیں رکھتی۔ ملا علی قاری (رح) لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ نہ تو نہایت جلد فنا ہوجانے والی دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں پر مغرور ہو اور نہ اس کی سختیوں اور پریشانیوں پر روئے پیٹے اور نہ شکوہ و شکایت کرے بلکہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کے مطابق یہی کہے کہ اللہم لا عیش الا عیش الاخرۃ، اے اللہ ! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے نیز اس حقیقت کو ہر لمحہ مدنظر رکھے کہ یہ دنیا، مزرعۃ الاخرۃ (آخرت کی کھیتی ہے) اور یہاں کی زندگانی بس ایک ساعت کی ہے لہٰذا اس ایک ساعت کو گنوانے کی بجائے طلب الٰہی میں مصروف رکھنا ہی سب سے بڑی دانشوری ہے۔
5048
Mishkaat Shareefوعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بجدي أسك ميت . قال : أيكم يحب أن هذا له بدرهم ؟ فقالوا : ما نحب أنه لنا بشيءقال : فوالله للدنيا أهون على الله من هذا عليكم . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ بکری کے ایک ایسے مردہ بچہ کے پاس سے گزرے جس کے کان بہت چھوٹے تھے یا کٹے ہوئے تھے اور یا اس کے کان تھے ہی نہیں، چناچہ آپ ﷺ نے (اس کو دیکھ کر صحابہ (رض) اجمعین سے) فرمایا کہ تم میں ایسا کوئی شخص ہے جو اس (مردہ بچہ) کو ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ ہم تو اس کو کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں کرسکتے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! یہ دنیا (اپنی تمام لذتوں اور آسائشوں کے ساتھ) اللہ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ بےوقعت وکمتر ہے جیسا کہ تمہارے نظر میں یہ ۔ (مسلم)
تشریح
حضور ﷺ نے بکری کے اس مردہ بچہ کی مثال کے ذریعہ درحقیقت اس طرف متوجہ فرمایا کہ یہ دنیا ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ انسان اس کی محبت وطلب میں آخرت کے نفع نقصان کو فراموش کردے، بلکہ اصل چیز آخرت کی محبت وطلب ہے جہاں کی زندگی بھی لافانی ہے اور جس کی نعمتیں بھی لازوال ہیں، لہٰذا مقصود زندگی آخرت کی محبت وطلب ہونا چاہئے نہ کہ دنیا کی محبت وطلب، کیونکہ فرمایا گیا ہے۔ حب الدنیا رأس کل خطیئۃ دنیا کی محبت و چاہت ہر گناہ کی جڑ ہے ترک الدنیا رأس کل عبادۃ دنیا سے بےاعتنائی، ہر عبادت کی بنیاد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں گرفتار رہنے والا اپنے اعمال میں مخلص و پاکیزہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام کسی فاسد غرض و لالچ کی آمیزش رکھتا ہے خواہ وہ کوئی دینی اور مذہبی کام ہی کیوں نہ کرے، اس کے برخلاف جو شخص دنیا سے بےاعتنائی اختیار کئے ہوئے ہوتا ہے اس کے ہر عمل میں اخلاص و پاکیزگی اور آخرت ہی کا مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ کسی دنیاوی کام ہی میں کیوں نہ مشغول ہو، اسی لئے کسی عارف نے کہا ہے کہ جس نے دنیا کو اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز بنالیا ہے اس کو تمام مشائخ اور مرشدین مل کر بھی راہ راست پر نہیں لگاسکتے اور جس نے دنیا سے بےاعتنائی کو اپنا شیوہ بنا لیا اس کو دنیا بھر کے مفسد و بدکار لوگ بھی گمراہ نہیں کرسکتے۔
تشریح
حضور ﷺ نے بکری کے اس مردہ بچہ کی مثال کے ذریعہ درحقیقت اس طرف متوجہ فرمایا کہ یہ دنیا ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ انسان اس کی محبت وطلب میں آخرت کے نفع نقصان کو فراموش کردے، بلکہ اصل چیز آخرت کی محبت وطلب ہے جہاں کی زندگی بھی لافانی ہے اور جس کی نعمتیں بھی لازوال ہیں، لہٰذا مقصود زندگی آخرت کی محبت وطلب ہونا چاہئے نہ کہ دنیا کی محبت وطلب، کیونکہ فرمایا گیا ہے۔ حب الدنیا رأس کل خطیئۃ دنیا کی محبت و چاہت ہر گناہ کی جڑ ہے ترک الدنیا رأس کل عبادۃ دنیا سے بےاعتنائی، ہر عبادت کی بنیاد ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی محبت میں گرفتار رہنے والا اپنے اعمال میں مخلص و پاکیزہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر کام کسی فاسد غرض و لالچ کی آمیزش رکھتا ہے خواہ وہ کوئی دینی اور مذہبی کام ہی کیوں نہ کرے، اس کے برخلاف جو شخص دنیا سے بےاعتنائی اختیار کئے ہوئے ہوتا ہے اس کے ہر عمل میں اخلاص و پاکیزگی اور آخرت ہی کا مفاد ہوتا ہے، خواہ وہ کسی دنیاوی کام ہی میں کیوں نہ مشغول ہو، اسی لئے کسی عارف نے کہا ہے کہ جس نے دنیا کو اپنی پسندیدہ اور محبوب چیز بنالیا ہے اس کو تمام مشائخ اور مرشدین مل کر بھی راہ راست پر نہیں لگاسکتے اور جس نے دنیا سے بےاعتنائی کو اپنا شیوہ بنا لیا اس کو دنیا بھر کے مفسد و بدکار لوگ بھی گمراہ نہیں کرسکتے۔
5049
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے (مسلم)
تشریح
قید خانہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص قید خانہ میں بند ہو تو وہاں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے اور طرح طرح کی مشقتیں جھیلتا ہے۔ اسی طرح مومن کے لئے یہ دنیا بھی گویا ایک قید خانہ ہے جہاں اس کو محنت ومشقت اور مصائب وشدائد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، منکرات اور منہیات (ممنوع اور خلاف شرع امور) سے اپنے آپ کو بچانا پڑتا ہے۔ نفس کی آزادی اور بےراہ روی کو ختم کرنا پڑتا ہے اور طاعات و عبادات کی مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یا یہ کہ مومن اس دنیا کو ایک ایسی جگہ محسوس کرتا ہے جہاں تنگی وگھٹن ہوتی ہے اور جہاں بودوباش اختیار کرنے کو وہ پسند نہیں کرتا، چناچہ وہ ہر وقت یہی خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس تنگ و تاریک جہاں سے نکل جائے اور عالم ملکوت کی وسعتوں کو اپنی جو لانگاہ بنائے۔ اور دنیا کافر کے لئے جنت ہے کا مطلب یہ ہے کہ کافر چونکہ اپنا مقصد زندگی دنیا کا حصول سمجھتا ہے اس لئے وہ اپنی تمام تر سعی و کوشش اور اپنی تمام ترجدو جہد دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں کو حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے اور پھر وہ دنیا کی لذات شہوات میں اس طرح مشغول ومنہمک ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے یہ دنیا ایک عشرت کدہ بن جاتی ہے جہاں سے نکلنا اس کو گوارہ نہیں ہوتا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ مومن کو آخرت میں جو اجر وثواب ملے گا اور اس کو وہاں کی جن نعمتوں اور راحتوں سے نوازا جائے گا ان کی بہ نسبت یہ دنیا اس کے حق میں گویا قید خانہ ہے اور کافر کو جس دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اس کے مقابلہ میں یہ دنیا اس کے حق میں گویا جنت ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ مومن اس دنیا میں خواہ کتنے ہی نازونعم کے ساتھ رہے اور اس کو یہاں کی کتنی ہی آسائشیں اور راحتیں حاصل ہوں مگر وہ سب ہیچ ہیں کیوں کہ اس کو آخرت میں جو نعمتیں ملنے والی ہیں اور وہاں کی جو راحتیں اور آسائشیں اس کو حاصل ہوں گی وہ اس دنیا کی نعمتوں اور راحتوں وآسائشوں سے کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ اعلی ہوں گی، اسی طرح کافر اس دنیا میں خواہ کتنی ہی مصیبتیں اور آفتیں جھیلے اور کتنے ہی شدائد کا سامنا کرے۔ مگر آخرت میں اس کا حال اس دنیا کے حال سے بھی بدتر ہوگا۔ منقول ہے کہ ایک یہودی نے حضرت حسن (رض) کو دیکھ کر ان سے کہا کہ آپ کے نانا جان (رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر تو ان کو یہ قول میرے اور آپ کے حال پر کس طرح صادق آتا ہے، کیونکہ تم تو گھوڑے پر سواری کرتے ہو اور بڑی راحت و آسائش کے ساتھ زندگی گزارتے ہو، جب کہ میں بیماری میں مبتلا ہوں اور طرح کی تکالیف اور فقروفاقہ میں گرفتار رہتا ہوں ؟ چناچہ حضرت امام (رض) نے اس کو جو جواب دیا وہ وہی تھا جو اوپر نقل کیا گیا۔
تشریح
قید خانہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی شخص قید خانہ میں بند ہو تو وہاں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتا ہے اور طرح طرح کی مشقتیں جھیلتا ہے۔ اسی طرح مومن کے لئے یہ دنیا بھی گویا ایک قید خانہ ہے جہاں اس کو محنت ومشقت اور مصائب وشدائد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، منکرات اور منہیات (ممنوع اور خلاف شرع امور) سے اپنے آپ کو بچانا پڑتا ہے۔ نفس کی آزادی اور بےراہ روی کو ختم کرنا پڑتا ہے اور طاعات و عبادات کی مشقتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ یا یہ کہ مومن اس دنیا کو ایک ایسی جگہ محسوس کرتا ہے جہاں تنگی وگھٹن ہوتی ہے اور جہاں بودوباش اختیار کرنے کو وہ پسند نہیں کرتا، چناچہ وہ ہر وقت یہی خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس تنگ و تاریک جہاں سے نکل جائے اور عالم ملکوت کی وسعتوں کو اپنی جو لانگاہ بنائے۔ اور دنیا کافر کے لئے جنت ہے کا مطلب یہ ہے کہ کافر چونکہ اپنا مقصد زندگی دنیا کا حصول سمجھتا ہے اس لئے وہ اپنی تمام تر سعی و کوشش اور اپنی تمام ترجدو جہد دنیا کی نعمتوں اور آسائشوں کو حاصل کرنے میں صرف کرتا ہے اور پھر وہ دنیا کی لذات شہوات میں اس طرح مشغول ومنہمک ہوجاتا ہے کہ اس کے لئے یہ دنیا ایک عشرت کدہ بن جاتی ہے جہاں سے نکلنا اس کو گوارہ نہیں ہوتا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ حدیث کی مراد یہ ہے کہ مومن کو آخرت میں جو اجر وثواب ملے گا اور اس کو وہاں کی جن نعمتوں اور راحتوں سے نوازا جائے گا ان کی بہ نسبت یہ دنیا اس کے حق میں گویا قید خانہ ہے اور کافر کو جس دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا اس کے مقابلہ میں یہ دنیا اس کے حق میں گویا جنت ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ مومن اس دنیا میں خواہ کتنے ہی نازونعم کے ساتھ رہے اور اس کو یہاں کی کتنی ہی آسائشیں اور راحتیں حاصل ہوں مگر وہ سب ہیچ ہیں کیوں کہ اس کو آخرت میں جو نعمتیں ملنے والی ہیں اور وہاں کی جو راحتیں اور آسائشیں اس کو حاصل ہوں گی وہ اس دنیا کی نعمتوں اور راحتوں وآسائشوں سے کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ اعلی ہوں گی، اسی طرح کافر اس دنیا میں خواہ کتنی ہی مصیبتیں اور آفتیں جھیلے اور کتنے ہی شدائد کا سامنا کرے۔ مگر آخرت میں اس کا حال اس دنیا کے حال سے بھی بدتر ہوگا۔ منقول ہے کہ ایک یہودی نے حضرت حسن (رض) کو دیکھ کر ان سے کہا کہ آپ کے نانا جان (رسول کریم ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ الدنیا سجن المومن وجنۃ الکافر تو ان کو یہ قول میرے اور آپ کے حال پر کس طرح صادق آتا ہے، کیونکہ تم تو گھوڑے پر سواری کرتے ہو اور بڑی راحت و آسائش کے ساتھ زندگی گزارتے ہو، جب کہ میں بیماری میں مبتلا ہوں اور طرح کی تکالیف اور فقروفاقہ میں گرفتار رہتا ہوں ؟ چناچہ حضرت امام (رض) نے اس کو جو جواب دیا وہ وہی تھا جو اوپر نقل کیا گیا۔
5050
Mishkaat Shareefوعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الله لا يظلم مؤمنا حسنة يعطي بها في الدنيا ويجزي بها في الآخرة وأما الكافر فيطعم بحسنات ما عمل بها لله في الدنيا حتى إذا أفضى إلى الآخرة لم يكن له حسنة يجزى بها . رواه مسلم
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مومن کی نیکی کا اجر ضائع نہیں کرتا، کہ اس کی اس نیکی کے سبب اس کو دنیا میں بھلائیاں دی جاتی ہیں اور آخرت میں بھی اس کا اجروثواب دیا جائے گا۔ اور کافر اللہ کی خوشنودی کے لئے جو اچھے کام کرتا ہے اس کو اس کے بدلہ میں اس دنیا میں کھلا پلا دیا جاتا ہے (یعنی وہ ان اچھے کاموں کی وجہ سے جس بھلائی کا مستحق ہوتا ہے وہ اس کو نعمتوں اور راحتوں کی صورت میں اس دنیا میں دے دی جاتی ہے) یہاں تک کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایسی کوئی نیکی نہیں ہوگی کہ جس کی وجہ سے اس کو وہاں اجروثواب دیا جائے۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کے ذریعہ اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی بھلائی اور وہاں کے اجروثواب کا دارومدار دنیا میں محض اچھے کام کرنے پر نہیں ہے بلکہ ایمان و عقیدہ پر ہے چناچہ وہ نیک کام جو اللہ کی خوشنودی کے لئے کئے جاتے ہیں اور جن سے اللہ یقیناخوش ہوتا ہے، جب کوئی مومن کرتا ہے تو اس کو ان نیک کاموں کی وجہ سے دنیا میں بھی اچھا بدلہ ملتا ہے۔ بایں طور پر کہ اس کے کاروبار معیشت اور رزق میں وسعت وفراخی عطا کی جاتی ہے، اس کی زندگی کو چین و سکون اور خوش حالی وقلبی اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے اور پھر اس کو ہر طرح کی آفات وبلیات اور ناپسندیدہ عناصر سے محفوظ ومامون رکھا جاتا ہے اور پھر جب وہ اس دنیا کی زندگی کو پورا کر کے آخرت میں پہنچے گا تو اس کو وہاں بھی ان نیک کاموں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جب کافر اچھے اعمال کرتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہو جیسے فقیر و محتاج کو کھانا کھلانا اور اس کی مدد کرنا، یتیم اور بیواؤں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنا اور اس طرح کے دوسرے فلاح ورفاہی کے کام تو اس کے ان اچھے کاموں کا پورا بدلہ اس کو دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، جب کہ آخرت میں وہ ان اچھے کاموں کا کوئی اجروثواب پانے کا مستحق نہیں ہوگا۔ رہی یہ بات کہ جس طرح مومن کو دنیا میں اپنے اچھے کاموں کا بدلہ اچھا ملتا ہے اسی طرح کیا اس کو دنیا میں برے کاموں کی سزا بھی ملتی ہے ؟ تو اس کا جواب اثبات میں ہوگا کہ حق تعالیٰ اپنے جس بندہ کو آخرت کے عذاب وشدائد سے بچانا چاہتا ہے اس کو اس کی برائیوں کی سزا اس دنیا میں دے دیتا ہے۔ چناچہ ایک دوسری حدیث میں منقول ہے کہ مومن کو اس کے برے کاموں کا بدلہ دنیا میں مختلف قسم کے مصائب وآلام اور تکالیف وپریشانیوں کی صورت میں دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایسی کوئی برائی نہیں ہوگی جس پر وہ عذاب کا مستوجب قرار پائے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو احمد اور ابن حبان نے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ من یعمل سوء یجز بہ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر ایسا ہے کہ بندہ سے جو بھی برائی صادر ہوگی اس کی وجہ سے اس کو آخرت میں ضرور سزا دی جائے گی اور ظاہر ہے کہ دنیا میں ہر بندے سے چھوٹی یا بڑی کوئی نہ کوئی برائی ضرور صادر ہوتی ہے) تو پھر نجات پانے والا کون شخص ہوگا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تمہیں بخشے، کیا تم غمگین نہیں ہوتے، کیا تم رنج والم نہیں اٹھاتے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے اور کیا تمہیں کوئی آفت یا بلا نہیں پہنچتی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ ! ﷺ حضور ﷺ نے فرمایا (تو یاد رکھو) یہ چیز (یعنی تمہارا کسی تکلیف و مصیبت اور رنج والم میں مبتلا ہونا) دراصل تمہارے حق میں اس برائی کی سزا اور بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوجاتی ہے ۔
تشریح
اس ارشاد گرامی کے ذریعہ اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی بھلائی اور وہاں کے اجروثواب کا دارومدار دنیا میں محض اچھے کام کرنے پر نہیں ہے بلکہ ایمان و عقیدہ پر ہے چناچہ وہ نیک کام جو اللہ کی خوشنودی کے لئے کئے جاتے ہیں اور جن سے اللہ یقیناخوش ہوتا ہے، جب کوئی مومن کرتا ہے تو اس کو ان نیک کاموں کی وجہ سے دنیا میں بھی اچھا بدلہ ملتا ہے۔ بایں طور پر کہ اس کے کاروبار معیشت اور رزق میں وسعت وفراخی عطا کی جاتی ہے، اس کی زندگی کو چین و سکون اور خوش حالی وقلبی اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے اور پھر اس کو ہر طرح کی آفات وبلیات اور ناپسندیدہ عناصر سے محفوظ ومامون رکھا جاتا ہے اور پھر جب وہ اس دنیا کی زندگی کو پورا کر کے آخرت میں پہنچے گا تو اس کو وہاں بھی ان نیک کاموں کا پورا پورا اجر وثواب ملے گا۔ اس کے برخلاف جب کافر اچھے اعمال کرتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہو جیسے فقیر و محتاج کو کھانا کھلانا اور اس کی مدد کرنا، یتیم اور بیواؤں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنا اور اس طرح کے دوسرے فلاح ورفاہی کے کام تو اس کے ان اچھے کاموں کا پورا بدلہ اس کو دنیا ہی میں دے دیا جاتا ہے، جب کہ آخرت میں وہ ان اچھے کاموں کا کوئی اجروثواب پانے کا مستحق نہیں ہوگا۔ رہی یہ بات کہ جس طرح مومن کو دنیا میں اپنے اچھے کاموں کا بدلہ اچھا ملتا ہے اسی طرح کیا اس کو دنیا میں برے کاموں کی سزا بھی ملتی ہے ؟ تو اس کا جواب اثبات میں ہوگا کہ حق تعالیٰ اپنے جس بندہ کو آخرت کے عذاب وشدائد سے بچانا چاہتا ہے اس کو اس کی برائیوں کی سزا اس دنیا میں دے دیتا ہے۔ چناچہ ایک دوسری حدیث میں منقول ہے کہ مومن کو اس کے برے کاموں کا بدلہ دنیا میں مختلف قسم کے مصائب وآلام اور تکالیف وپریشانیوں کی صورت میں دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کے نامہ اعمال میں ایسی کوئی برائی نہیں ہوگی جس پر وہ عذاب کا مستوجب قرار پائے۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کو احمد اور ابن حبان نے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت کریمہ من یعمل سوء یجز بہ نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر ایسا ہے کہ بندہ سے جو بھی برائی صادر ہوگی اس کی وجہ سے اس کو آخرت میں ضرور سزا دی جائے گی اور ظاہر ہے کہ دنیا میں ہر بندے سے چھوٹی یا بڑی کوئی نہ کوئی برائی ضرور صادر ہوتی ہے) تو پھر نجات پانے والا کون شخص ہوگا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تمہیں بخشے، کیا تم غمگین نہیں ہوتے، کیا تم رنج والم نہیں اٹھاتے، کیا تم بیمار نہیں ہوتے اور کیا تمہیں کوئی آفت یا بلا نہیں پہنچتی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ ! ﷺ حضور ﷺ نے فرمایا (تو یاد رکھو) یہ چیز (یعنی تمہارا کسی تکلیف و مصیبت اور رنج والم میں مبتلا ہونا) دراصل تمہارے حق میں اس برائی کی سزا اور بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوجاتی ہے ۔
5051
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : حجبت النار بالشهوات وحجبت الجنة بالمكاره . متفق عليه . إلا أن عند مسلم : حفت . بدل حجبت
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دوزخ کی آگ شہوتوں یعنی خواہشات لذات سے ڈھانکی گئی ہے اور جنت سختیوں اور مشقتوں سے ڈھانکی گئی ہے اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے لیکن مسلم کی روایت میں حجبت (یعنی ڈھانکی گئی ہے کہ بجائے) حفت (یعنی گھیری گئی ہے) کا لفظ ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ وہ محنت ومشقت اور سختی و پریشانی پر جو طاعت و عبادت کی مداومت و پابندی اور نفسانی خواہشات ولذات سے اجتناب کی وجہ سے اٹھانا پڑتی ہے، گویا بہشت کا پردہ ہے اور جو چیز پردے کے پیچھے ہوتی ہے اس تک پہنچنے کے لئے پہلے پردہ تک پہنچنا اور اس کو اٹھانا ضروری ہوتا ہے اس لئے اگر جنت تک پہنچنا چاہتے ہو تو پہلے اس کے پردے کو اٹھاؤ یعنی احکام الٰہی کی اتباع اور نفس کی خواہشات سے اجتناب کی محنت اور سختی برداشت کرو، جب ان باتوں کو اختیار کرو گے تب کہیں جنت تک رسائی ہوگی۔ اسی طرح نفس کی خواہشات ولذژات گویا دوزخ کا پردہ ہیں۔ جو شخص اس پردہ کو ہٹائے گا یعنی نفس کی اتباع اور خواہش پرستی کا ارتکاب کرے گا وہ دوزخ تک پہنچ جائے گا۔ واضح رہے کہ حدیث میں شہوات کا جو لفظ استعمال فرمایا گیا ہے اس کا تعلق نفس کی ان خواہشات ولذات سے ہے جو حرام چیزوں جیسے شراب نوشی، زنا اور غیبت وغیرہ کا ارتکاب کراتی ہیں، ورنہ جہاں تک مباح خواہشات ولذات کا تعلق ہے وہ نہ تو دوزخ میں لے جانے کا باعث بنتی ہیں اور نہ جنت میں داخل ہونے سے روکتی ہیں، اگرچہ نفس کی مباح خواہشات ولذات کا اتباع بھی بندہ کو قرب اور ولایت کے مقام سے دور کردیتا ہے۔ حدیث کی مذکورہ بالا وضاحت سے یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ ایک روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ العلم حجاب اللہ (یعنی علم اللہ تعالیٰ کا پردہ ہے) تو اس کے کیا معنی ہیں، چناچہ اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ علم، گویا اللہ اور بندے کے درمیان پردہ ہے، جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ گویا اس پردہ کو اٹھا دیتا ہے اور جب وہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو اللہ کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ وہ محنت ومشقت اور سختی و پریشانی پر جو طاعت و عبادت کی مداومت و پابندی اور نفسانی خواہشات ولذات سے اجتناب کی وجہ سے اٹھانا پڑتی ہے، گویا بہشت کا پردہ ہے اور جو چیز پردے کے پیچھے ہوتی ہے اس تک پہنچنے کے لئے پہلے پردہ تک پہنچنا اور اس کو اٹھانا ضروری ہوتا ہے اس لئے اگر جنت تک پہنچنا چاہتے ہو تو پہلے اس کے پردے کو اٹھاؤ یعنی احکام الٰہی کی اتباع اور نفس کی خواہشات سے اجتناب کی محنت اور سختی برداشت کرو، جب ان باتوں کو اختیار کرو گے تب کہیں جنت تک رسائی ہوگی۔ اسی طرح نفس کی خواہشات ولذژات گویا دوزخ کا پردہ ہیں۔ جو شخص اس پردہ کو ہٹائے گا یعنی نفس کی اتباع اور خواہش پرستی کا ارتکاب کرے گا وہ دوزخ تک پہنچ جائے گا۔ واضح رہے کہ حدیث میں شہوات کا جو لفظ استعمال فرمایا گیا ہے اس کا تعلق نفس کی ان خواہشات ولذات سے ہے جو حرام چیزوں جیسے شراب نوشی، زنا اور غیبت وغیرہ کا ارتکاب کراتی ہیں، ورنہ جہاں تک مباح خواہشات ولذات کا تعلق ہے وہ نہ تو دوزخ میں لے جانے کا باعث بنتی ہیں اور نہ جنت میں داخل ہونے سے روکتی ہیں، اگرچہ نفس کی مباح خواہشات ولذات کا اتباع بھی بندہ کو قرب اور ولایت کے مقام سے دور کردیتا ہے۔ حدیث کی مذکورہ بالا وضاحت سے یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ ایک روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ العلم حجاب اللہ (یعنی علم اللہ تعالیٰ کا پردہ ہے) تو اس کے کیا معنی ہیں، چناچہ اس جملہ کا مطلب بھی یہی ہے کہ علم، گویا اللہ اور بندے کے درمیان پردہ ہے، جو شخص علم حاصل کرتا ہے وہ گویا اس پردہ کو اٹھا دیتا ہے اور جب وہ پردہ اٹھ جاتا ہے تو اللہ کی معرفت حاصل ہوجاتی ہے۔
5052
Mishkaat Shareefوعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة إن أعطي رضي وإن لم يعط سخط تعس وانتكس وإذا شيك فلا انتقش . طوبى لعبد آخذ بعنان فرسه في سبيل الله أشعث رأسه مغبرة قدماه إن كان في الحراسة كان في الحراسة وإن كان في الساقة كان في الساقة وإن استأذن لم يؤذن له وإن شفع لم يشفع . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہلاک ہو وہ شخص جو دینار کا غلام ہو، درہم کا غلام ہو اور چادر کا غلام ہو (یعنی اس شخص کے لئے آخرت میں ہلاکت و تباہی مقدر ہے جس نے مال و دولت کے حصول کو اپنا مقصد زندگی بنالیا ہو، دنیاوی عیش وتمول کو معبود جبار کی رضا و خوشنودی پر ترجیح دیتا ہے اور طلب مال و حصول زر کی راہ میں ناجائز و حرام وسائل و ذرائع اختیار کرنے سے باز نہ رہتا ہو اور پھر جو کچھ کماتا ہو اس کو از راہ بخل جمع کردیتا ہو کہ نہ اس مال کے حقوق کو ادا کرتا ہو نہ اللہ کی راہ میں اور اللہ کی خوشنودی کے لئے اس کو خرچ کرتا ہو اور اس کے ساتھ ہی اپنی شان و شوکت اور بڑائی جتانے کے لئے لباس فاخرہ زیب تن کرتا ہو اور ناروا اطور پر زیب وزینت میں مبتلا ہو اور ایسے شخص کی علامت یہ ہے کہ) جب اس کو (مال و دولت اور لباس فاخرہ) ملے تو خوش اور راضی ہو اور اگر نہ ملے تو ناراض وناخوش ہو (گویا اس کی طبیعت کا میلان ہمیشہ لوگوں کے مال وزر کی طرف رہتا ہو اور ہر وقت اس حرص میں مبتلا رہتا ہے کہ فلاں شخص سے فلاں چیز حاصل ہوجائے، چناچہ اگر لوگ اس کی حرص و تمنا کو پورا کرتے ہیں تو وہ ان سے خوش رہتا ہے اور اگر ان کی طرف سے اس کی اس حرص وطمع کی تکمیل نہیں ہوتی تو ان سے ناخوش و ناراض ہوجاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس دینے یا نہ دینے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہو، یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کے مطابق اس کو مال و دولت اور سامان تعیش عطا کرتا ہے تو وہ اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس کی خواہش وحرص کو پورا نہیں کرتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے تئیں اپنی ناراضگی ظاہر کرتا ہے) ایسے شخص کی اس مذموم خصلت کی وجہ سے گویا حضور ﷺ نے مکرر بددعا فرمائی کہ ہلاک ہو ایسا شخص اور ذلیل وسرنگوں ہو ! اور (دیکھو) جب اس شخص کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو کوئی اس کو نہ نکالے (گویا تہدید و تنبیہ کے طور پر ایسے شخص کے حق میں مسلمانوں کو آگاہ فرمایا گیا کہ اگر ایسی مذموم خصلت رکھنے والا شخص کسی آفت و پریشانی میں مبتلا ہوجائے تو کوئی اس کی مدد و اعانت نہ کرے۔ دنیا داروں اور حرص وطمع کے غلام لوگوں کی اس بدحالی کو ذکر کرنے کے بعد حضور ﷺ نے چاہا کہ ان کے مقابلہ پر ان طالبان دین اور زاہدان دنیا کا بھی ذکر فرمائیں جو آخرت کی فلاح حاصل کرنے اور دین کو سربلند کرنے کے لئے محنت ومشقت اور جہاد کے ذریعہ اللہ کی راہ میں مشغول رہتے ہیں، دنیا سے بےنیازی برتتے ہیں، ظاہری زینت و آرائش سے دور رہتے ہیں اور اہل دنیا کے طور طریقوں سے اپنے کو الگ رکھتے ہیں اور اس وجہ سے ظاہر پرستوں کی نظر میں نہایت کمتر و حقیر معلوم ہوتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا) سعادت وخوش بختی ہے اس بندے کے لئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے اپنے گھوڑے کی باگ پکڑے کھڑا ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ اور قدم غبار آلود ہیں، اگر اس کو لشکر کی اگلی صفوں کے آگے نگہبانی پر مامور کیا جاتا ہے تو پوری طرح نگہبانی کرتا ہے (کہ کسی بھی وقت اپنی ذمہ داری کی انجام دہی سے نہ غافل رہتا ہے اور نہ سوتا ہے بلکہ ہر وقت پوری ہوشیاری و چستی کے ساتھ نگہبانی کرتا ہے) اور اگر اس کو لشکر کے پیچھے رکھا جاتا ہے تو لشکر کے پیچھے ہی رہتا ہے (یعنی وہ امیر لشکر اور مسلمانوں کی پوری تابعداری کرتا ہے کہ اس کو جس جگہ مامور کیا جاتا ہے وہیں اپنا فرض انجام دیتا ہے اور اس سے جو کچھ کہا جاتا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتا ہے، تکبر اور ضدواصرار نہیں کرتا) اور (خدا کے نزدیک اپنے اس مرتبہ وسعادت کے باوجود اپنے معاشرہ میں اس قدر سادگی، جاہ ومال اور شان و شوکت سے اس قدر بےنیازی اور اس قدر انکساری کے ساتھ رہتا ہے کہ دنیا دار اس کو کوئی وقعت و اہمیت نہیں دیتے یہاں تک کہ) اگر وہ لوگوں کی محفلوں میں شریک ہونا چاہتا ہے تو اس کو شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی اور اگر کسی کی سفارش کرتا ہے تو اس کی سفارش قبول نہیں کی جاتی۔
تشریح
دینار و درہم کا غلام اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ مال و دولت کے سلسلہ میں جو چیز مذموم ہے وہ اس مال و دولت کی محبت اور دنیا داری میں مبتلا ہونا ہے، چناچہ یہ خصلت (یعنی مال و دولت اور دنیا کی محبت میں گرفتارہونا) انسان کو مال کا بندہ بنا دیتی ہے کہ اس کی ہر سعی اور جدو جہد کا محور، اس کی ہر تمنا و خواہش کا مرکز اور اس کے ہر فعل وعمل کی بنیاد صرف مال و زر ہوتا ہے اس سے واضح ہوا کہ مال داری اور دولت مندی بذات خود کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کسی شخص کے پاس خواہ کتنا ہی مال و زر ہو اور وہ کتنا بڑا دولت مند ہو، اگر وہ دولت کی محبت میں گرفتار نہیں ہے تو اس کو برا نہیں کہیں گے۔ حدیث میں مال و دولت کے تعلق سے دینار اور درہم ہی کا ذکر اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں (جن کو سونا چاندی یا روپیہ پیسہ بھی کہا جاسکتا ہے) زر نقد ہیں کہ لین دین اور خریدو فروخت میں انہیں کا اعتبار ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ ہی تمام جائز و ناجائز مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے، اسی طرح اسباب معیشت میں صرف چادر کا ذکر اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ اصل میں خمیصہ اس خط دار چادر کو کہتے ہیں جو اس زمانہ میں لباس فاخرہ کا سب سے اعلی مظہر سمجھی جاتی تھی اور اس کے استعمال سے عام طور پر تکبرورعونت اور نمود ونمائش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، نیز لوگ اس چادر کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ اس کو اپنے سے جدا کرنا بھی ان کو گوارہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا اس زمانہ کے دنیادار اس چادر کی خواہش وطلب اور اس کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوتے تھے کہ جیسے انہوں نے اس چادر کی غلامی اختیار کرلی ہو۔ نقش اور انتقاش کے معنی ہیں پیر سے کانٹا نکالنا لہٰذا واذا شیک فلا انتقش کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال و دولت اور روپیہ پیسہ کا غلام بن جائے کہ نہ تو وہ ناجائز اور حرام وسائل و ذرائع سے کمانا اور دولت جوڑنا ترک کرتا ہو اور نہ اپنے روپیہ پیسہ کو حقداروں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون اور اس کی پشت پناہی سے گریز کریں۔ اور جب وہ کسی آفت میں پھنسے تو اس کی کوئی مدد نہ کریں، اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ پیر سے کانٹا نکالنا چونکہ مدد کرنے کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے لہٰذا اس سب سے ادنیٰ درجہ کی مدد سے بھی منع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اس کو کوئی اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آجائے اور اس سے بھی زیادہ سخت حالات سے دوچار ہو تو اس کی مدد نہ کرنا بطریق اولیٰ جائز بلکہ مطلوب ہوگا۔ یہ بات بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ حدیث کے لفظ تعس کا یہ ترجمہ کہ ہلاک ہو وہ شخص الخ اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کی مراد ایسے شخص کے حق میں بد دعا کرنا ہے، چناچہ مذکورہ ترجمہ کے پیش نظر اور شارحین کی اتباع کی بناء پر نقل کیا گیا ہے اور اگر یہ مراد لیا جائے تو حضور ﷺ نے اس لفظ کے ذریعہ اس شخص کے حق میں بد دعا نہیں فرمائی بلکہ اس بد ترین خصلت کی مذمت اور اس خصلت کو اختیار کرنے والوں کو دنیاوی اور اخروی ذلت و خواری اور ان کے برے انجام کو بطور خبر ظاہر فرمایا تو اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ہلاک ہوا وہ شخص الخ اور یہ مراد بھی حدیث کے مغائر نہیں ہوگی۔
تشریح
دینار و درہم کا غلام اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ مال و دولت کے سلسلہ میں جو چیز مذموم ہے وہ اس مال و دولت کی محبت اور دنیا داری میں مبتلا ہونا ہے، چناچہ یہ خصلت (یعنی مال و دولت اور دنیا کی محبت میں گرفتارہونا) انسان کو مال کا بندہ بنا دیتی ہے کہ اس کی ہر سعی اور جدو جہد کا محور، اس کی ہر تمنا و خواہش کا مرکز اور اس کے ہر فعل وعمل کی بنیاد صرف مال و زر ہوتا ہے اس سے واضح ہوا کہ مال داری اور دولت مندی بذات خود کوئی مذموم چیز نہیں ہے، کسی شخص کے پاس خواہ کتنا ہی مال و زر ہو اور وہ کتنا بڑا دولت مند ہو، اگر وہ دولت کی محبت میں گرفتار نہیں ہے تو اس کو برا نہیں کہیں گے۔ حدیث میں مال و دولت کے تعلق سے دینار اور درہم ہی کا ذکر اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ یہ دونوں چیزیں (جن کو سونا چاندی یا روپیہ پیسہ بھی کہا جاسکتا ہے) زر نقد ہیں کہ لین دین اور خریدو فروخت میں انہیں کا اعتبار ہوتا ہے اور ان کے ذریعہ ہی تمام جائز و ناجائز مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے، اسی طرح اسباب معیشت میں صرف چادر کا ذکر اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ اصل میں خمیصہ اس خط دار چادر کو کہتے ہیں جو اس زمانہ میں لباس فاخرہ کا سب سے اعلی مظہر سمجھی جاتی تھی اور اس کے استعمال سے عام طور پر تکبرورعونت اور نمود ونمائش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، نیز لوگ اس چادر کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ اس کو اپنے سے جدا کرنا بھی ان کو گوارہ نہیں ہوتا تھا، لہٰذا اس زمانہ کے دنیادار اس چادر کی خواہش وطلب اور اس کی محبت میں اس قدر گرفتار ہوتے تھے کہ جیسے انہوں نے اس چادر کی غلامی اختیار کرلی ہو۔ نقش اور انتقاش کے معنی ہیں پیر سے کانٹا نکالنا لہٰذا واذا شیک فلا انتقش کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص مال و دولت اور روپیہ پیسہ کا غلام بن جائے کہ نہ تو وہ ناجائز اور حرام وسائل و ذرائع سے کمانا اور دولت جوڑنا ترک کرتا ہو اور نہ اپنے روپیہ پیسہ کو حقداروں پر اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ تعاون اور اس کی پشت پناہی سے گریز کریں۔ اور جب وہ کسی آفت میں پھنسے تو اس کی کوئی مدد نہ کریں، اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ پیر سے کانٹا نکالنا چونکہ مدد کرنے کا سب سے ادنیٰ درجہ ہے لہٰذا اس سب سے ادنیٰ درجہ کی مدد سے بھی منع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اگر اس کو کوئی اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آجائے اور اس سے بھی زیادہ سخت حالات سے دوچار ہو تو اس کی مدد نہ کرنا بطریق اولیٰ جائز بلکہ مطلوب ہوگا۔ یہ بات بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ حدیث کے لفظ تعس کا یہ ترجمہ کہ ہلاک ہو وہ شخص الخ اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کی مراد ایسے شخص کے حق میں بد دعا کرنا ہے، چناچہ مذکورہ ترجمہ کے پیش نظر اور شارحین کی اتباع کی بناء پر نقل کیا گیا ہے اور اگر یہ مراد لیا جائے تو حضور ﷺ نے اس لفظ کے ذریعہ اس شخص کے حق میں بد دعا نہیں فرمائی بلکہ اس بد ترین خصلت کی مذمت اور اس خصلت کو اختیار کرنے والوں کو دنیاوی اور اخروی ذلت و خواری اور ان کے برے انجام کو بطور خبر ظاہر فرمایا تو اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ہلاک ہوا وہ شخص الخ اور یہ مراد بھی حدیث کے مغائر نہیں ہوگی۔
5053
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن مما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها . فقال رجل : يا رسول الله أو يأتي الخير بالشر ؟ فسكت حتى ظننا أنه ينزل عليه قال : فمسح عنه الرحضاء وقال : أين السائل ؟ . وكأنه حمده فقال : إنه لا يأتي الخير بالشر وإن مما ينبت الربيع ما يقتل حبطا أو يلم إلا آكلة الخضر أكلت حتى امتدت خاصرتاها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم عادت فأكلت . وإن هذا المال خضرة حلوة فمن أخذه بحقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو ومن أخذه بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون شهيدا عليه يوم القيامة . متفق عليه
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (صحابہ (رض) اور ان کے ذریعہ عام مسلمانوں کو مخابط کر کے) فرمایا۔ اپنی وفات کے بعد تمہارے بارے میں مجھے جن چیزوں کا خوف ہے ( کہ تم ان میں مبتلا ہوجاؤگے ( ان میں سے ایک چیز دنیا کی تروتازگی اور زینت بھی ہے (جو ملکی فتوحات و اقتدار کی صورت میں) تم کو حاصل ہوگی ۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ، کیا بھلائی اپنے ساتھ برائی بھی لائے گی ؟ (یعنی ملکی فتوحات و اقتدار کی وجہ سے ہم مسلمانوں کو جو مال غنیمت اور سازوسامان حاصل ہوگا وہ تو ہمارے حق میں اللہ کی نعمت ہوگی اور ویسے بھی جائز وسائل و ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت اور رزق وغیرہ کی وسعت وفراخی ایک اچھی چیز ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت اور ایک اچھی چیز ہمارے لئے برائی وفتنہ اور ترک طاعات کا سبب و ذریعہ بن جائے ؟ ) حضور ﷺ (یہ سن کر) خاموش رہے (اور انتظار کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئے تو جواب دیں) یہاں تک کہ ہم نے محسوس کیا کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ (تھوڑی دیر کے بعد) حضور ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھا (جو نزول وحی کے وقت آتا تھا) اور پھر فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے سوال کیا تھا ؟ گویا آپ ﷺ نے سائل کے سوال کی تحسین فرمائی (کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس شخص نے جو سوال کیا ہے اور اب اس کا جو جواب دیا جائے گا اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا) اور اس کے بعد فرمایا حقیقت یہ ہے کہ بھلائی اپنے ساتھ برائی نہی لاتی (یعنی جائز ذرائع سے مال و دولت کا حاصل ہونا اور رزق میں وسعت وفراخی اور خوشحالی کا نصیب ہونا بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے اور اس کی وجہ سے کوئی برائی پیشن نہیں آتی، بلکہ اصل میں برائی کا پیش آنا ان عوارض کی وجہ سے ہوتا ہے جو دولتمندی اور خوشحالی کے وقت لاحق ہوجاتے ہیں جیسے بخل واسراف اور حد اعتدال سے تجاوز کرنا اور اس کی مثال موسم بہار ہے جو زمین کے پیٹ سے گھاس وغیرہ اگاتا ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے تو اچھا اور فائدہ مند ہوتا ہے، البتہ اس سے ضرور نقصان اس وقت پہنچتا ہے جب کوئی چوپایہ اس کو ضرورت سے زائد کھائے اور بسیار خوری کے سبب ضرور ہلاکت میں مبتلا ہوجائے، چناچہ خود حضور ﷺ نے اس مثال کو یوں بیان فرمایا کہ) موسم بہار میں جو سبزہ اگاتا ہے (وہ حقیقت میں تو بھلائی و فائدہ کی چیز ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ کوئی نقصان و برائی لے کر زمین کے پیٹ سے نہیں اگتا مگر) وہ جانور کو اس کا پیٹ پھلا کر مار دیتا ہے یا (اگر وہ مرتا نہیں تو) مرنے کے قریب پہنچ جاتا ہے (یعنی جو جانور اس سبزہ کو کھانے میں حد سے تجاوز کرجاتا ہے وہ اس سبزہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے فعل یعنی زیادہ کھانے کی وجہ سے ضرور ہلاکت میں مبتلا ہوجاتا ہے) یہ کہ کھانے والے جانور نے اس سبزہ کو اس طرح کھایا کہ (جب بسیار خوری کی وجہ سے) اس کی دونوں کو کھیں پھول گئیں تو وہ سورج کے سامنے بیٹھ گیا (جیسا کہ جانور کی عادت ہوتی ہے کہ بدہضمی کی وجہ سے اس کا پیٹ پھول جاتا ہے تو وہ دھوپ میں بیٹھ جاتا ہے اور اس کا پیٹ گرمی پاکر نرم ہوجاتا ہے اور اس میں جو کچھ ہوتا ہے باہر نکل جاتا ہے اور پھر (جب) پتلا گوبر اور پیشاب کر کے (اس نے اپنا پیٹ ہلکا کرلیا تو) چراگاہ کی طرف چلا گیا اور سبزہ چرنے لگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا یہ مال وزر بڑا سرسبز، تروتازہ اور نرم ودلکش ہے (کہ بظاہر آنکھوں کو بہت بھاتا ہے، طبیعت کو بہت اچھا لگتا ہے جس کی وجہ سے دل چاہتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ حاصل ہو) لہٰذا جو شخص دنیا کے مال وزر کو حق کے ساتھ (یعنی بوقت ضرورت اور جائز وسائل و ذرائع سے) حاصل کرے اور اس کو اس کے حق میں (یعنی اس کے اچھے مصارف میں کہ خواہ واجب ہو یا مستحب) خرچ کرے تو وہ مال وزر اس کے حق میں (دین کا) بہترین مددگار ثابت ہوتا ہے اور جو شخص اس مال وزر کو حق کے بغیر یعنی ناجائز طور پر حاصل کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا رہتا ہے اور شکم سیر نہیں ہوتا اور وہ مال وزر قیامت کے دن اس کے بارے میں (اس کے اسراف اور اس کی حرص وطمع کا) گواہ ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے بارے میں مجھے خدشہ ہے کہ جب تم دنیا کے ملکوں اور شہروں کو فتح کرکے اپنے تسلط و اقتدار کا جھنڈا لہراؤ گے اور اس کے نتیجہ میں تمہیں مال و دولت کی فراوانی اور خوشحالی نصیب ہوگی تو یہ چیز تمہیں عبادت وطاعت اور نیک اعمال سے باز رکھنے کی کوشش کرے گی، نفع پہنچانے والے علوم (یعنی دینی علوم وفنون) سے لاپرواہ بنادے گی اور عجب وتکبر، گھمنڈ و غرور، شان شوکت کا اظہار اور جاہ ومال سے محت جیسی برائیاں تمہارے اندر پیدا ہوجائیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تم آخرت کی زندگی کی فکر کرنے اور موت کے لئے تیاری کرنے کی بجائے دنیاوی امور میں پھنس کر رہ جاؤ گے۔ پھر چراگاہ کی طرف چلا گیا اور سبزہ چرنے لگا یعنی جب وہ جانور ضرورت سے زیادہ کھالیتا ہے اور بدہضمی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اپنے طریقہ سے بدہضمی کا علاج کرتا ہے اور اپنے پیٹ کو صاف کر کے دوبارہ سبزہ چرنے لگتا ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو انسانی خمیر میں شامل حرص و خواہشات کے غلبہ کی وجہ سے بعض وقت اعتدال کی راہ سے بھٹک کر حد سے تجاوز کرجاتا ہے اور پھر ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے لیکن اپنے طرز عمل سے جلد ہی رجوع کرلیتا ہے اور مسقتل طور سے بےاعتدالی و گناہ کی راہ پر قائم نہیں رہتا بلکہ آفتاب ہدایت کی روشنی اس کو راہ راست کی طرف متوجہ کردیتی ہے اور ندامت و توبہ کے ذریعہ اپنے نفس کو بےاعتدالی اور گناہ کی غلاظت سے پاک کر کے گویا اپنا علاج کرلیتا ہے۔ اس کے برخلاف پہلی قسم کی کہ جس کو وہ جانور کو اس کا پیٹ پھلا کر مار دیتا ہے کے ذریعہ بیان فرمایا اس شخص کی حالت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نفس کی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، گناہ و معصیت پر قائم رہتا ہے اور اسی حالت میں مرجاتا ہے، یہاں تک کہ اس کو توبہ وانابت اور رجوع و استغفار کی توفیق بھی نصیب نہیں ہو پاتی۔ ان دونوں قسموں پر غور کرنے سے ایک اور قسم سامنے آتی ہے جس کا تعلق اس شخص سے ہے جو سرے سے بےاعتدالی اور گناہ کی راہ اختیار نہیں کرتا اور نفس کی خواہشات اور ناروا تمناؤں کا اسیر نہیں ہوتا بلکہ دنیا سے بےپرواہ ہوتا ہے اور اپنی تمام تر توجہ آخرت کے مفاد کی طرف مبذول رکھتا ہے، لہٰذا پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو اصطلاحی طور پر ظالم سے موسوم کیا جاتا ہے، دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو مقتصد یعنی میانہ رو کہا جاتا ہے اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو سابق یعنی بھلائیوں کو اختیار کرنے میں سبقت لے جانے والا کہا جاتا ہے۔ پس جو شخص سابق ہوتا ہے وہ سرے سے اپنے ہاتھوں کو گناہ سے آلودہ ہی نہیں کرتا، جو شخص مقتصد ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھوں کو گناہ سے آلودہ تو کرتا ہے لیکن ان کو پھر دھو ڈالتا ہے اور جو شخص ظالم ہوتا ہے وہ ہاتھ آلودہ ہی اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مذکورہ مثال اور اس کی مطابقت کو بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ نے یہ مال وزر بڑا سرسبز تازہ اور نرم ودلکش ہے سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ دنیا کے مال وزر، اس کے تئیں محبت اور اس کے مصارف کے تعلق سے انسانوں کے حالات و خیالات مختلف ہوتے ہیں کہ کچھ لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو محض ضرورت و حاجت کے بقدر ہی مال و اسباب کے حصول پر اکتفا کرتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے بھی جائز و درست وسائل و ذرائع اختیار کرتے ہیں، نیز ان کے پاس جو مال و اسباب اور روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس کو وہ اچھے مصارف میں خرچ کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مال و دولت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کی حرص وطمع کسی بھی حد پر قناعت نہیں کرتی، وہ نہ صرف یہ کہ ضرورت و احتیاج سے زائد مال وز حاصل کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور اس کو جوڑنے میں لگے رہتے ہیں بلکہ اس کے حصول میں جائز و ناجائز کے درمیان کوئی تمیز نہیں کرتے، سخت سے سخت برائی کا ارتکاب کرکے اور حرام ذرائع کو اختیار کرکے دولت سمیٹتے رہتے ہیں، علاوہ ازیں ان کے پاس جو مال و دولت اور روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس کو حقداروں پر اور ان مصارف میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوتے ہیں اور مال و دولت کے تئیں ان کی یہ حرص وطمع ان کو اس شخص کی مانند بنادیتی ہے جو کھاتا رہتا ہے مگر غلبہ حرص کی وجہ سے کبھی شکم سیر نہیں ہوتا یا ان کی حالت اس شخص کی سی ہوجاتی ہے جو استسقاء کا مریض ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی سیراب نہیں ہوتا اور جتنا پانی پیتا ہے اسی قدر پیاس بھڑکتی ہے اور پیٹ پھولتا جاتا ہے۔ ایک عارف کی نظر میں دنیا کی مثال بڑے پایہ کے بزرگ اور عارف باللہ حضرت خواجہ عبیداللہ نقشبندی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ دنیا سانپ کی مانند ہے، لہٰذا جو شخص اس کا منتر جانتا ہے اس کے لئے تو دنیا کو حاصل کرنا جائز ہے لیکن دوسروں کے لئے جائز نہیں جب لوگوں نے یہ سنا تو عرض کیا کہ حضرت ! اس کا منتر کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس بات کا علم ہونا کہ اس (ادنی کے مال و دولت) کو کہاں سے اور کس طرح حاصل کر رہا ہے اور کہا خرچ کر رہا ہے
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے بارے میں مجھے خدشہ ہے کہ جب تم دنیا کے ملکوں اور شہروں کو فتح کرکے اپنے تسلط و اقتدار کا جھنڈا لہراؤ گے اور اس کے نتیجہ میں تمہیں مال و دولت کی فراوانی اور خوشحالی نصیب ہوگی تو یہ چیز تمہیں عبادت وطاعت اور نیک اعمال سے باز رکھنے کی کوشش کرے گی، نفع پہنچانے والے علوم (یعنی دینی علوم وفنون) سے لاپرواہ بنادے گی اور عجب وتکبر، گھمنڈ و غرور، شان شوکت کا اظہار اور جاہ ومال سے محت جیسی برائیاں تمہارے اندر پیدا ہوجائیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تم آخرت کی زندگی کی فکر کرنے اور موت کے لئے تیاری کرنے کی بجائے دنیاوی امور میں پھنس کر رہ جاؤ گے۔ پھر چراگاہ کی طرف چلا گیا اور سبزہ چرنے لگا یعنی جب وہ جانور ضرورت سے زیادہ کھالیتا ہے اور بدہضمی میں مبتلا ہوجاتا ہے تو اپنے طریقہ سے بدہضمی کا علاج کرتا ہے اور اپنے پیٹ کو صاف کر کے دوبارہ سبزہ چرنے لگتا ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو انسانی خمیر میں شامل حرص و خواہشات کے غلبہ کی وجہ سے بعض وقت اعتدال کی راہ سے بھٹک کر حد سے تجاوز کرجاتا ہے اور پھر ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے لیکن اپنے طرز عمل سے جلد ہی رجوع کرلیتا ہے اور مسقتل طور سے بےاعتدالی و گناہ کی راہ پر قائم نہیں رہتا بلکہ آفتاب ہدایت کی روشنی اس کو راہ راست کی طرف متوجہ کردیتی ہے اور ندامت و توبہ کے ذریعہ اپنے نفس کو بےاعتدالی اور گناہ کی غلاظت سے پاک کر کے گویا اپنا علاج کرلیتا ہے۔ اس کے برخلاف پہلی قسم کی کہ جس کو وہ جانور کو اس کا پیٹ پھلا کر مار دیتا ہے کے ذریعہ بیان فرمایا اس شخص کی حالت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو نفس کی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، گناہ و معصیت پر قائم رہتا ہے اور اسی حالت میں مرجاتا ہے، یہاں تک کہ اس کو توبہ وانابت اور رجوع و استغفار کی توفیق بھی نصیب نہیں ہو پاتی۔ ان دونوں قسموں پر غور کرنے سے ایک اور قسم سامنے آتی ہے جس کا تعلق اس شخص سے ہے جو سرے سے بےاعتدالی اور گناہ کی راہ اختیار نہیں کرتا اور نفس کی خواہشات اور ناروا تمناؤں کا اسیر نہیں ہوتا بلکہ دنیا سے بےپرواہ ہوتا ہے اور اپنی تمام تر توجہ آخرت کے مفاد کی طرف مبذول رکھتا ہے، لہٰذا پہلی قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو اصطلاحی طور پر ظالم سے موسوم کیا جاتا ہے، دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو مقتصد یعنی میانہ رو کہا جاتا ہے اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو سابق یعنی بھلائیوں کو اختیار کرنے میں سبقت لے جانے والا کہا جاتا ہے۔ پس جو شخص سابق ہوتا ہے وہ سرے سے اپنے ہاتھوں کو گناہ سے آلودہ ہی نہیں کرتا، جو شخص مقتصد ہوتا ہے وہ اپنے ہاتھوں کو گناہ سے آلودہ تو کرتا ہے لیکن ان کو پھر دھو ڈالتا ہے اور جو شخص ظالم ہوتا ہے وہ ہاتھ آلودہ ہی اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ مذکورہ مثال اور اس کی مطابقت کو بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ نے یہ مال وزر بڑا سرسبز تازہ اور نرم ودلکش ہے سے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ دنیا کے مال وزر، اس کے تئیں محبت اور اس کے مصارف کے تعلق سے انسانوں کے حالات و خیالات مختلف ہوتے ہیں کہ کچھ لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو محض ضرورت و حاجت کے بقدر ہی مال و اسباب کے حصول پر اکتفا کرتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے بھی جائز و درست وسائل و ذرائع اختیار کرتے ہیں، نیز ان کے پاس جو مال و اسباب اور روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس کو وہ اچھے مصارف میں خرچ کرتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مال و دولت ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ ان کی حرص وطمع کسی بھی حد پر قناعت نہیں کرتی، وہ نہ صرف یہ کہ ضرورت و احتیاج سے زائد مال وز حاصل کرنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں اور اس کو جوڑنے میں لگے رہتے ہیں بلکہ اس کے حصول میں جائز و ناجائز کے درمیان کوئی تمیز نہیں کرتے، سخت سے سخت برائی کا ارتکاب کرکے اور حرام ذرائع کو اختیار کرکے دولت سمیٹتے رہتے ہیں، علاوہ ازیں ان کے پاس جو مال و دولت اور روپیہ پیسہ ہوتا ہے اس کو حقداروں پر اور ان مصارف میں خرچ نہیں کرتے جو اللہ کی خوشنودی کا باعث ہوتے ہیں اور مال و دولت کے تئیں ان کی یہ حرص وطمع ان کو اس شخص کی مانند بنادیتی ہے جو کھاتا رہتا ہے مگر غلبہ حرص کی وجہ سے کبھی شکم سیر نہیں ہوتا یا ان کی حالت اس شخص کی سی ہوجاتی ہے جو استسقاء کا مریض ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی سیراب نہیں ہوتا اور جتنا پانی پیتا ہے اسی قدر پیاس بھڑکتی ہے اور پیٹ پھولتا جاتا ہے۔ ایک عارف کی نظر میں دنیا کی مثال بڑے پایہ کے بزرگ اور عارف باللہ حضرت خواجہ عبیداللہ نقشبندی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ دنیا سانپ کی مانند ہے، لہٰذا جو شخص اس کا منتر جانتا ہے اس کے لئے تو دنیا کو حاصل کرنا جائز ہے لیکن دوسروں کے لئے جائز نہیں جب لوگوں نے یہ سنا تو عرض کیا کہ حضرت ! اس کا منتر کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس بات کا علم ہونا کہ اس (ادنی کے مال و دولت) کو کہاں سے اور کس طرح حاصل کر رہا ہے اور کہا خرچ کر رہا ہے
5054
Mishkaat Shareefوعن عمرو بن عوف قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فوالله لا الفقر أخشى عليكم ولكن أخشى عليكم أن تبسط عليكم الدنيا كما بسطت على من كان قبلكم فتنافسوها كما تنافسوها وتهلككم كما أهلكتهم . متفق عليه
حضرت عمروبن عوف (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی قسم مجھے تمہارے فقروافلاس کا کوئی ڈر نہیں ہے (کیونکہ فقروافلاس کی حالت میں دین کی سلامتی کا امکان غالب ہوتا ہے اور یہ چیز تمہارے حق میں زیادہ سود مند ہے) بلکہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کی جائے گی (اور تم مالداروں کا طور طریقہ اختیار کر کے مختلف قسم کی آفتوں اور بلاؤں کے ذریعہ ہلاکت و تباہی میں مبتلا ہوجاؤگے) جیسا کہ ان لوگوں پر دنیا کشادہ کی گئی تھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (اور وہ مال و دولت کی بےحد رغبت و محبت رکھنے کی وجہ سے فقراء اور مساکین پر رحم نہیں کھاتے تھے اور ان کی مدد واعانت سے گریز کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو تباہ و برباد کردیا گیا) چناچہ تم دنیا کی طرف رغبت کرو گے (یعنی دنیا کو اختیار کرو گے اور اس کی طرف نہایت رغبت رکھوگے کہ ایک دوسرے سے مال و دولت اور جاہ و حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑائی جھگڑا شروع کردو گے) جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اس کی طرف رغبت کی تھی اور پھر یہ دنیا تم کو اسی طرح تباہ و برباد کردے گی جس طرح ان کو تباہ و برباد کرچکی ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مال و دولت کی وہ فراخی وآسودگی جو دنیا کا گرویدہ بناتی ہے، حرص وطمع میں مبتلا کرتی ہے، جوڑنے سمیٹنے اور ذخیرہ اندوزی کا خوگر کرتی ہے چونکہ انسان کو اخلاقی و روحانی طور پر تباہ و برباد کردیتی ہے اور اخروی ہلاکت کا مستوجب بنادیتی ہے اس لئے حضور ﷺ نے مسلمانوں کی دنیاوی خوشحال وآسودگی اور مالداری سے اپنے خوف کا اظہار فرمایا ! یا آپ ﷺ نے اس دنیاوی نفع وآسودگی اور خوشحالی کے تئیں خوف کا اظہار فرمایا جو باہمی مخالفت ونزاع، سماجی استحاصل ولوٹ گھسوٹ اور محض دنیاوی اقتدار کے لئے جنگ وجدل اور قتل و قتال کے نتیجہ میں حاصل ہو۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں فقر سے مراد ان تمام چیزوں سے تہی دست ہونا ہے جن کی ایک انسانی زندگی کو احتیاج ہوتی ہے اور جن پر ضروریات دین کی تکمیل اور بنیادی اسباب معیشت کا انحصار ہوتا ہے۔ اسی طرح غنا یعنی دنیاوی فراخی وآسودگی سے مراد دنیا کی چیزوں کا اس قدر حاصل ہونا ہے جو مقدار کفایت و ضرورت سے زائد ہوں جس کی وجہ سے انسان حق تعالیٰ کی عبادت و اطاعت سے غافل ہوجاتا ہے اور تمردو سرکشی اختیار کرلیتا ہے۔
تشریح
مال و دولت کی وہ فراخی وآسودگی جو دنیا کا گرویدہ بناتی ہے، حرص وطمع میں مبتلا کرتی ہے، جوڑنے سمیٹنے اور ذخیرہ اندوزی کا خوگر کرتی ہے چونکہ انسان کو اخلاقی و روحانی طور پر تباہ و برباد کردیتی ہے اور اخروی ہلاکت کا مستوجب بنادیتی ہے اس لئے حضور ﷺ نے مسلمانوں کی دنیاوی خوشحال وآسودگی اور مالداری سے اپنے خوف کا اظہار فرمایا ! یا آپ ﷺ نے اس دنیاوی نفع وآسودگی اور خوشحالی کے تئیں خوف کا اظہار فرمایا جو باہمی مخالفت ونزاع، سماجی استحاصل ولوٹ گھسوٹ اور محض دنیاوی اقتدار کے لئے جنگ وجدل اور قتل و قتال کے نتیجہ میں حاصل ہو۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں فقر سے مراد ان تمام چیزوں سے تہی دست ہونا ہے جن کی ایک انسانی زندگی کو احتیاج ہوتی ہے اور جن پر ضروریات دین کی تکمیل اور بنیادی اسباب معیشت کا انحصار ہوتا ہے۔ اسی طرح غنا یعنی دنیاوی فراخی وآسودگی سے مراد دنیا کی چیزوں کا اس قدر حاصل ہونا ہے جو مقدار کفایت و ضرورت سے زائد ہوں جس کی وجہ سے انسان حق تعالیٰ کی عبادت و اطاعت سے غافل ہوجاتا ہے اور تمردو سرکشی اختیار کرلیتا ہے۔