hadith book logo

Mishkaat Shareef

34. جن لوگوں کو زکوۃ کا مال لینا اور کھانا حلال نہیں ہے ان کا بیان

مشكاة المصابيح

1816
Mishkaat Shareef
صحیح
اس باب کے تحت وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ زکوٰۃ کا مال کن لوگوں کو لینا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، چونکہ اس باب سے متعلق بہت زیادہ مسائل ہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے ان تمام مسائل کو تفصیلی طور پر نمبر وار نقل کردیا جائے۔ (١) جو شخص صاحب نصاب ہو اور اس پر زکوٰۃ واجب ہو تو وہ زکوٰۃ کا مال اپنی اصل کو نہ دے یعنی ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور ان سے اوپر کے بزرگوں کو خواہ وہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے ان میں سے کسی کو زکوٰۃ دینا درست اور جائز نہیں ہے اسی طرح اپنی فرع یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، نواسا، نواسی اور ان کی اولاد میں سے کسی کو بھی زکوٰۃ کا مال دینا درست نہیں ہے امام اعظم (رح) کے قول کے مطابق شوہر، بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکوٰۃ نہ دے، مگر صاحبین کا قول یہ ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے تو درست ہے، ان کے علاوہ بقیہ رشتہ داروں کو زکوٰۃ کا مال دینا درست ہے بشرطیکہ وہ زکوٰۃ کے مستحق ہوں، یعنی غنی سید، ہاشمی اور کافر نہ ہوں بلکہ غیروں کے مقابلہ میں اپنے رشتہ داروں کو دینا بہتر ہے، اس بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ اس ترتیب سے دی جائے تو بہت اچھا ہے کہ پہلے بہن، بھائی کو دے ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر چچا اور پھوپھی کو، ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر ماموں خالہ کو، ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر ان لوگوں کو جو ذوی الارحام ہوں پھر اپنے اجنبی ہمسایہ اور پڑوسی کو، پھر اپنے ہم پیشہ کو اور پھر اپنے ہم وطن کو یہی حکم صدقہ فطر اور نذر کا ہے کہ مذکورہ بالا ترتیب سے دینا افضل ہے، ویسے اگر کوئی شخص غیر اور اجنبی کو دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر بہتر اور افضل یہی ہے کہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو مقدم رکھا جائے۔ (٢) اپنے غلام اور اپنی لونڈی کو زکوٰۃ دینی درست نہیں ہے، یہی حکم ام ولد یعنی اس لونڈی کا ہے جس کے اپنے مالک سے کوئی اولاد ہو کہ اس کا مالک اسے بھی زکوٰۃ نہ دے۔ (٣) سسرالی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینی درست ہے مثلا ساس سسر، سالا، سالی یا جن لوگوں سے ان کی وجہ سے رشتہ دار ہو اسی طرح داماد اور بہو کو زکوٰۃ دینی درست ہے، نیز سوتیلی ماں، سوتیلی نانی کو بھی زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے۔ (٤) زکوٰۃ کا مال غنی کو دینا درست نہیں ہے، غنی اس شخص کو کہتے ہیں جو بقدر نصاب مال کا مالک ہو مال خواہ نامی ہو غیر نامی۔ نامی مال اس مال کو کہتے ہیں جس میں اضافہ اور بڑھوتری ہوتی ہے جیسے مال تجارت، نقد روپیہ سونا چاندی اور سونے چاندی کے زیورات یہ مال شرعی قاعدہ کے مطابق نامی ہیں یعنی بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسی طرح ایسے مویشی اور جانور بھی حقیقۃً نامی مال ہیں جو تجارت یا افزائش نسل کے لئے ہوں۔ غیرنامی مال اس مال کو کہتے ہیں جس میں اضافہ اور بڑھوتری نہ ہوتی ہو جیسے حویلی و مکانات، کپڑے اور برتن وغیرہ یہ چیزیں بھی اگر ضرورت اصلیہ سے زائد ہوں اور بقدر نصاب ہوں، نیز قرض سے محفوظ ہوں تو بھی زکوٰۃ لینا درست نہیں ہے۔ رہائش کا مکان استعمال کے کپڑے، کھانے پکانے کے برتن، اہل علم کی لکھنے پڑھنے کی کتابیں لڑنے والے ہتھیار و اسلحے اور کاریگروں کے اوزار۔ یہ وہ اشیاء ہیں جنہیں ضرورت اصلیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ (٥) ہاشمی کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے پانچ لوگوں کی اولاد کو ہاشمی کہتے ہیں، اول حضرت علی (رض) کی اولاد خواہ حضرت فاطمہ زہراء کے بطن مبارک سے ہو یا دوسری بیویوں سے، دوم حضرت جعفر کی اولاد، سوم حضرت عقیل کی اولاد، چہارم حضرت عباس کی اولاد اور پنجم حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ان پانچوں کے سلسہ نسب سے تعلق رکھنے والے ہاشمی کہلاتے ہیں۔ ان کے غلام اور لونڈی کو بھی زکوٰۃ دینی جائز نہیں ہے اسی طرح اگر ان کے غلام لونڈی آزاد ہوگئے ہوں تب بھی انہیں زکوٰۃ کا مال لینا اور کھانا جائز نہیں۔ (٦) کافر کو زکوٰۃ کا مال دینا درست نہیں ہے خواہ حربی ہو یا ذمی۔ (٧) اگر کسی شخص نے غنی یا کافر یا اپنے باپ یا اپنے بیٹے یا اپنی بیوی کو مستحق زکوٰۃ سمجھ کر زکوٰۃ کا مال دے دیا یعنی زکوٰۃ دیتے وقت اسے معلوم نہیں ہو کہ یہ ہاشمی ہے یا کافر ہے یا اپنا باپ یا بیٹا ہے یا اپنی بیوی ہے پھر زکوٰۃ دینے کے بعد اسے حقیقت معلوم ہوئی تو اس کے ذمہ سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اب دوبارہ زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ (٨) مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے یا کسی میت کے کفن کے لئے اور یا میت کے قرض کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے اگر کسی شخص نے ان میں سے کسی بھی کام کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ مستحقین زکوۃ۔ زکوٰۃ کے مستحق فقیر ہیں اور اصطلاح شریعت میں فقیر اس شخص کو کہتے ہیں جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو مساکین بھی مستحق زکوٰۃ ہیں۔ مساکین ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ وہ شخص بھی زکوٰۃ کا مستحق ہے جو حاکم وقت کی طرف سے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو اگرچہ وہ خود بھی غنی کیوں نہ ہو برسبیل تذکرہ یہ بھی جان لیجئے کہ ہاشمی کے لئے وہ تنخواہ بھی جائز نہیں ہے جو زکوٰۃ وصول کرنے والے کو ملتی ہے وہ لوگ بھی زکوٰۃ کے مستحق ہیں جو جہاد یا سفر حج کے مسافر ہوں اور ان کے پاس روپیہ پیسہ نہ رہا ہو اگرچہ ان کے وطن میں ان کا کتنا ہی زیادہ روپیہ پیسہ کیوں نہ موجود ہو۔ اسی طرح دوسرے مسافروں کا بھی زکوٰۃ کا مال دینا درست ہے خواہ کسی مسافر کا اپنے وطن میں کتنا ہی مال و زر کیوں نہ ہو لیکن آخر میں اتنی بات جان لیجئے جس شخص کو ایک دن بقدر بھی اسباب زندگی میسر ہوں اس کے لئے دس سوال دراز کرنا بالکل درست نہیں۔ (مولانا اسحق دہلوی)
1817
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم الله عليه وسلم بتمرة في الطريق فقال : لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ کھجور زکوٰۃ کی ہوگی تو میں اللہ کی نعمت کی تعظیم کے پیش نظر اسے اٹھا کر ضرور کھا لیتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس حدیث سے کئی مسئلے مستنبط ہوتے ہیں۔ (١) آنحضرت ﷺ کو زکوٰۃ کا مال کھانا حرام تھا چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے حق میں مطلقاً صدقہ کا مال حرام تھا کہ خواہ صدقہ واجب (یعنی زکوٰۃ وغیر) کا مال ہو یا صدقہ نافلہ کا آپ ﷺ اسے اپنے استعمال میں نہیں لاسکتے تھے۔ (٢) بنی ہاشم کے لئے صدقہ واجبہ لینا اور اسے استعمال کرنا تو حرام ہے لیکن صدقہ نافلہ حرام نہیں ہے (٣) راستے میں پڑی ہوئی کسی ایسی چیز کو اٹھا کر کھا لینا یا اسے اپنے استعمال میں لے آنا جائز ہے خواہ وہ مقدار و تعداد میں بہت تھوڑی ہو اور یہ گمان ہو کہ اس کا مالک اسے تلاش نہیں کرے گا۔ (٤) بندہ مومن کے لئے یہ بات اولیٰ اور افضل ہے کہ وہ ہر اس چیز سے اجتناب و پرہیز کرے جس میں حرمت کا ذرا بھی شبہ ہو۔
1818
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : أخذ الحسن بن علي تمرة من تمر الصدقة فجعلها في فيه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : كخ كخ ليطرحها ثم قال : أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة ؟
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی (رض) نے زکوٰۃ کی رکھی ہوئی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی (یہ دیکھ کر) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے نکالو ! نکالو (اور اس طرح فرمایا تاکہ) وہ اسے (منہ سے نکال کر) پھینک دیں پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ ہم بنی ہاشم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اما شعرت (کیا تم نہیں جانتے) اس جملے کا استعمال ایسے مواقع پر کیا جاتا ہے جب کہ مخاطب کسی واضح اور ظاہر امر کے برخلاف کوئی بات کہہ یا کر رہا ہو خواہ مخاطب اس واضح امر سے لاعلم ہی کیوں نہ ہو گویا اس جملے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ امر اتنا واضح اور ظاہر ہونے کے باوجود تم پر پوشید کیسے ہے اور تم اس سے لاعلم کیسے ہو۔ بہرحال ظاہر ہے کہ حضرت حسن (رض) تو اس وقت بالکل ہی کمسن تھے، انہیں ان سب باتوں کی کیا خبر تھی مگر آپ ﷺ نے اس کے باجود انہیں اس انداز سے اس لئے خطاب کیا تاکہ دوسرے لوگ اس کے بارے میں مطلع ہوجائیں اور انہیں بنی ہاشم کے حق میں صدقہ زکوٰۃ کے مال کی حرمت کا علم ہوجائے۔ اس حدیث سے یہ نکتہ بھی ہاتھ لگا کہ والدین اور مربی پر واجب ہے کہ وہ اپنی اولاد کو خلاف شرع باتوں اور غلط حرکتوں سے روکیں اسی وجہ سے حنفی علماء فرماتے ہیں کہ والدین کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ اپنے لڑکوں کو ریشم کے کپڑے (جو مردوں کے لئے ناجائز ہیں) اور سونے چاندی کا زیور پہنائیں۔
1819
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد المطلب بن ربيعة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد . رواه مسلم
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ صدقات یعنی زکوٰۃ تو انسانوں کے میل ہیں، صدقہ نہ تو محمد ﷺ کے لئے حلال ہے اور نہ آل محمد (بنی ہاشم) کے لئے حلال ہے (مسلم)

تشریح
زکوٰۃ کو میل اس لئے کہا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا جسم میل اتارنے سے صاف ہوجاتا ہے اسی طرح زکوٰۃ نکالنے سے نہ صرف یہ کہ مال ہی پاک ہوجاتا ہے بلکہ زکوٰۃ دینے والے کے قلب و روح میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لئے زکوٰۃ کا مال لینا حرام تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی اولاد بنی ہاشم کو بھی زکوٰۃ لینی حرام ہے، خواہ وہ زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہوں یا محتاج و مفلس ہوں چناچہ حنفیہ کا صحیح مسلک یہی ہے۔
1820
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتي بطعام سأل عنه : أهدية أم صدقة ؟ فإن قيل : صدقة : قال لأصحابه : كلوا ولم يأكل وإن قيل : هدية ضرب بيده فأكل معهم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب آپ ﷺ کے پاس کھانے کی کوئی چیز لائی جاتی تو پہلے آپ ﷺ اس کے بارے میں پوچھتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ ﷺ (بنی ہاشم کے علاوہ) اپنے دوسرے صحابہ سے فرماتے کہ کھالو لیکن آپ ﷺ خود نہ کھاتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ ﷺ اپنا دست مبارک بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے تناول فرماتے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
صدقہ اس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی محتاج و ضرورت مند کو از راہ مہربانی دیا جاتا ہے اور اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا حاصل ہو اور آخرت میں اس کا اجر وثواب ملے چونکہ صدقہ کا مال لینے والے کی ایک طرح سے ذلت اور کمتری محسوس ہوتی ہے اس لئے آنحضرت ﷺ کے لئے مطلقاً صدقہ لینا حرام تھا۔ ہدیہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی بڑے اور عظیم المرتبت شخص کی خدمت میں کوئی چیز از راہ تعظیم و تکریم پیش کرے۔ ہدیہ کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ دنیاوی طور پر اس کا تعلق طرفین سے ہوتا ہے بایں طور کہ جو شخص کسی کو کوئی چیز ہدیہ کرتا ہے تو وہ دنیا ہی میں اس کا اس طرح بدلہ بھی پاتا ہے کہ جسے اس نے ہدیہ دیا ہے وہ کسی وقت اسے بھی کوئی چیز ہدیہ کے طور پر دیتا ہے جب کہ صدقہ میں اس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
1821
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان في بريرة ثلاث سنن : إحدى السنن أنها عتقت فخيرت في زوجها وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الولاء لمن أعتق . ودخل رسول الله صلى الله عليه و سلم والبرمة تفور بلحم فقرب إليه خبز وأدم من أدم البيت فقال : ألم أر برمة فيها لحم ؟ قالوا : بلى ولكن ذلك لحم تصدق به على بريرة وأنت لا تأكل الصدقة قال : هو عليها صدقة ولنا هدية
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ بریرہ کے متعلق تین احکام سامنے آئے پہلا حکم تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اپنے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا (دوسرا حکم یہ کہ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میراث کا حق اس شخص کے لئے ہے جس نے آزاد کیا (تیسرا حکم یہ کہ ایک دن) رسول کریم ﷺ گھر میں تشریف لائے تو گوشت کی ہانڈی پک رہی تھی، آپ ﷺ کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے وہ ہانڈی نہیں دیکھی جس میں گوشت ہے ؟ یعنی جب گوشت پک رہا ہے تو وہ مجھے کیوں نہیں دیا گیا ؟ عرض کیا گیا کہ بیشک ہانڈی میں گوشت پک رہا ہے لیکن وہ گوشت بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے اور آپ ﷺ تو صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ گوشت بریرہ کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
حدیث کے ابتدائی الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ بریرہ جو حضرت عائشہ (رض) کی آزاد کردہ لونڈی تھیں اس کے سبب تین شرعی احکام نافذ ہوئے پہلا حکم تو یہ کہ جب بریرہ آزاد ہوئی تو اسے اختیار دے دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے خاوند کہ جس کا نام مغیث تھا کے نکاح میں رہے یا اس سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرلے۔ یہ علماء کے یہاں خیار عتق کہلاتا ہے یعنی جو لونڈی کسی کے نکاح میں ہو تو آزاد ہونے کے بعد اسے اختیار ہے کہ چاہے تو خاوند کے نکاح میں رہے چاہے اس سے جدائی اختیار کرلے لیکن حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ لونڈی کو یہ اختیار اس وقت حاصل ہوگا جب کہ اس کا خاوند غلام ہو حنفیہ کہتے ہیں کہ اس کا خاوند خواہ غلام ہو خواہ آزاد ہو وہ دونوں صورتوں میں مختار ہوگی۔ بریرہ کا خاوند مغیث غلام تھا جب بریرہ نے آزاد ہونے کے بعد اس سے جدائی اختیار کرلی گویا اسے قبول نہیں کیا تو مغیث بڑا ہی پریشان ہوا یہاں تک کہ وہ بریرہ کے عشق و فراق میں روتا اور فریاد کرتا پھرتا رہا مگر بریرہ نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا اور اس سے علیحدہ ہی رہی۔ بریرہ کے سبب سے دوسرا حکم یہ نافذ ہوا کہ ولاء یعنی لونڈی کی میراث اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا ہوگا اس کی تفصیل یہ ہے کہ بریرہ ایک یہودی کی لونڈی تھی جس نے اسے مکاتب کردیا تھا یعنی یہودی نے اسے یہ کہہ دیا تھا کہ جب تو اتنے درہم دے دے گی تو آزاد ہوجائے گی جب بریرہ مطلوبہ تعداد میں درہم فراہم کرنے سے عاجز ہوگئی تو حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضرت ہوئی تاکہ اگر وہ کچھ دے دیں تو اپنے مالک کو دے کر آزادی کا خلعت زیب تن کرے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اپنے مالک سے پوچھ اگر وہ تجھے بیچے تو میں خریدے لیتی ہوں۔ بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی اور اس سے حضرت عائشہ (رض) کی خواہش بیان کی وہ فروخت کرنے پر تیار ہوگیا مگر اس نے یہ بھی کہا کہ میں اس شرط پر فروخت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ ولاء یعنی بریرہ کی میراث کے ہم حقدار ہوں گے حضرت عائشہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ یہودی اس طرح کہتے ہیں اور ان کی یہ شرط ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں اور بکو اس کرتے ہیں میراث کا حق اسی کو ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے عائشہ (رض) تم اس سے خرید کر آزاد کردو اس کی میراث تمہارے لئے ہوگی، یہودیوں کی یہ شرط باطل ہے۔ تیسرا حکم جو بریرہ کے سبب سے نافذ ہوا اس کا ذکر حدیث کے آخر میں کیا گیا ہے اس کا حاصل اور مطلب یہ ہے کہ اگر مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کا مال دیا جائے اور مستحق زکوٰۃ وہ مال لے کر ایسے شخص کو دے دے جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے تو اس کے لئے یہ مال حلال و جائز ہوگا کیونکہ زکوٰۃ دینے والے نے تو ایک صحیح شخص اور مستحق کو مال دے دیا اور وہ مال اس مستحق زکوٰۃ کی ملکیت ہوگا اب وہ جس شخص کو بھی اپنا مال دے گا جائز اور درست ہوگا اصطلاح میں اسے تملیک کہا جاتا ہے جو جائز اور حلال ہے۔
1822
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل الهدية ويثيب عليها . رواه البخاري
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تحفہ قبول فرماتے تھے اور اس کا بدلہ دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری)
1823
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو دعيت إلى كراع لأجبت ولو أهدي إلي ذراع لقبلت . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر میری کراع کی بھی دعوت کی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر میرے پاس بطور تحفہ ایک دست بھی بھیجا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔ (بخاری)

تشریح
کراع بکری کی پنڈلی کو کہتے ہیں آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مجھے صرف بکری کی پنڈلی دے جو کہ ایک معمولی چیز ہے کھانے کے لئے بلائے تو میں اس کی دعوت قبول کرلوں گا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص میرے پاس تحفہ کے طور پر بکری کا دست بھی بھیجے گا تو میں اسے بھی بڑی خوشی کے ساتھ قبول کروں گا۔ اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ مخلوق اللہ کے ساتھ نہایت تواضع و انکساری اور شفقت و محبت کے ساتھ پیش آتے تھے، آپ ﷺ یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ ﷺ کی ذات کی وجہ سے کسی چھوٹے سے چھوٹے اور معمولی درجے کے انسان کا دل بھی دکھے یا وہ کسی بھی طرح کے احساس کمتری میں مبتلا ہو، گویا آپ ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعے اس بات کی ترغیب بھی دلائی ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس انتہائی معمولی درجہ کا بھی کوئی تحفہ لے کر آئے تو اسے خوشی ورغبت کے ساتھ قبول کرو۔
1824
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مسکین وہ شخص نہیں ہے جو لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے اور لوگ اسے ایک لقمہ یا دو لقمہ اور کھجوریں دیتے ہیں بلکہ مسکین شخص وہ ہے جو اتنا بھی مال نہیں رکھتا کہ وہ اس کی وجہ سے مستغنی ہو اور اس کے ظاہر حالات کی وجہ سے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ محتاج و ضروت مند ہے اسے صدقہ دیا جائے نیز لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنے کے لئے گھر سے نہیں نکلتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
قرآن کریم میں جس طرح زکوٰۃ و صدقات کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زکوٰۃ کے مصارف اور زکوٰۃ کے مستحقین کو بھی بیان فرمایا ہے چناچہ ارشادربانی ہے۔ آیت (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَا ءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰه) 9 ۔ التوبہ 60) ۔ صدقہ کے مال صرف فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور عمال کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کی تالیف قلب کی جائے اور غلاموں کی آزادی خرچ کرنے کے لئے اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے کے لئے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے اور مسافر کے لئے۔ اس آیت میں آٹھ قسم کے لوگ بیان کئے گئے ہیں جو صدقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ وغیرہ کا مال لینے کے مستحق ہیں ان کے سوا کسی دوسرے کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، ان میں سے بھی حنفیہ کے نزدیک مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہوگیا ہے اس لئے ان کے ہاں مستحقین زکوٰۃ کی سات قسمیں باقی رہ گئیں ہیں۔ بہرحال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں جن مسکینوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے وہ مسکین مراد نہیں ہیں جو عرف عام میں مسکین کہلاتے ہیں اور جن کا کام یہ ہوتا ہے کہ مانگنے کے لئے ہر در پر مارے مارے پھرتے ہیں جس دروازے پر پہنچ جاتے ہیں روٹی کا ایک آدھ ٹکڑا یا آٹے کی ایک آدھ چٹکی اپنی جھولی میں ڈلوا کر رخصت کر دئیے جاتے ہیں، بلکہ حقیقی مسکین تو وہ لوگ ہیں جنہیں نان جویں بھی میسر نہیں ہوتی مگر ان کی شرافت و خودداری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ان کی بغل میں رہنے والا ہمسایہ بھی ان کی اصل حقیقت نہیں جانتا وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے اپنے احتیاج و ضرورت کی جھولی پھیلا کر گھر گھر نہیں پھرتے بلکہ وہ اپنے اللہ پر اعتماد و بھروسہ کئے ہوئے اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔
1825
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع : اصحبني كيما تصيب منها . فقال : لا حتى آتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسأله . فانطلق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال : إن الصدقة لا تحل لنا وإن موالي القوم من أنفسهم . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت ابورافع (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا اس نے ابورافع سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو تاکہ اس میں سے تمہیں بھی کچھ حصہ مل جائے ابورافع نے کہا کہ میں ابھی نہیں جاؤں گا پہلے رسول کریم ﷺ سے جا کر پوچھتا ہوں کہ میں اس شخص کے ساتھ زکوٰۃ لینے جاؤں یا نہیں ! چناچہ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اپنے جانے کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ ہمارے یعنی بنی ہاشم کے لئے حلال نہیں ہے اور مولیٰ یعنی آزاد کردہ غلام زکوٰۃ لینے کے معاملے میں اسی آزاد قوم کے حکم میں ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی )