hadith book logo

Mishkaat Shareef

40. روزے کا بیان

مشكاة المصابيح

1954
Mishkaat Shareef
صحیح
لغت میں صوم اور صیام کے معنی ہیں امساک یعنی مطلقاً رکنا ! اصطلاح شریعت میں ان الفاظ کا مفہوم ہے فجر سے غروب آفتاب تک روزہ کی نیت کے ساتھ کھانے پینے، جماع کرنے اور بدن کے اس حصے میں وہ اندر کے حکم میں ہو کسی چیز کے داخل کرنے سے رکے رہنا نیز روزہ دار کا مسلمان اور حیض و نفاس سے پاک ہونا اس کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے۔
1955
Mishkaat Shareef
صحیح
روزہ کب فرض ہواَ ؟ ماہ رمضان کے روزے ہجرت کے اٹھارہ ماہ بعد شعبان کے مہینے میں تحویل قبلہ کے دس روز بعد فرض کئے گئے بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے قبل کوئی روزہ فرض نہیں تھا جب کہ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے قبل بھی کچھ ایام کے روزے فرض تھے جو اس ماہ رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد منسوخ ہوگئے۔ چناچہ بعض حضرات کے نزدیک تو عاشورہ محرم کی دسویں تاریخ کا روزہ فرض تھا اور بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ ایام بیض (قمری مہینے کی تیرہویں، چودھویں اور پندرہویں راتوں کے دن) کے روزے فرض تھے۔ رمضان کے روزے کی فرضیت کے ابتدائی دنوں میں بعض احکام بہت سخت تھے مثلاً غروب آفتاب کے بعد سونے سے پہلے کھانے پینے کی اجازت تھی مگر سونے کے بعد کچھ بھی کھانے پینے کی اجازت نہیں تھی۔ چاہے کوئی شخص بغیر کھائے پئے ہی کیوں نہ سو گیا ہو، اسی طرح جماع کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں جائز نہ تھا۔ مگر جب یہ احکام مسلمانوں پر بہت شاق گزرے اور ان احکام کی وجہ سے کئی واقعات بھی پیش آئے تو یہ احکام منسوخ کر دئیے گئے اور کوئی سختی باقی نہ رہی۔
1956
Mishkaat Shareef
صحیح
روزے کی اہمیت و فضیلت اسلام کے جو پانچ بنیادی ارکان ہیں ان میں روزے کا تیسرا درجہ ہے گویا روزہ اسلام کا تیسرا رکن ہے اس اہم رکن کی جو تاکید اور بیش از بیش اہمیت ہے اسے ماہرین شریعت ہی بخوبی جان سکتے ہیں روزہ کا انکار کرنے والا کافر اور اس کا تارک فاسق اور اشد گنہگار ہوتا ہے چناچہ در مختار کے باب مایفسد الصوم میں یہ مسئلہ اور حکم نقل کیا گیا ہے کہ ولہ اکل عمداً اشہرۃ بلا عذر یقتل، جو شخص رمضان میں بلا عذ علی الاعلان کھاتا پیتا نظر آئے اسے قتل کردیا جائے۔ روزہ کی فضیلت کے بارے صرف اسی قدر کہہ دینا کافی ہے کہ بعض علماء نے اس اہم ترین اور باعظمت رکن کے بےانتہا فضائل دیکھ کر اس کو نماز جیسی عطیم الشان عبادت پر ترجیح اور فضیلت دی ہے اگرچہ یہ بعض ہی علماء کا قول ہے جب کہ اکثر علماء کا مسلک یہی ہے کہ نماز تمام اعمال سے افضل ہے اور اسے روزہ پر بھی ترجیح و فضیلت حاصل ہے مگر بتانا تو صرف یہ ہے کہ جب اس بات میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ نماز افضل ہے یا روزہ ؟ تو اب ظاہر ہے کہ نماز کے علاوہ اور کوئی بھی دوسرا عمل اور دوسرا رکن روزے کی ہمسری نہیں کرسکتا۔
1957
Mishkaat Shareef
صحیح
روزہ کے فوائد کسی بھی عبادت اور کسی بھی عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور پروردگار کی رحمت کاملہ اس عمل اور عبادت کرنے والے کو دین اور دنیا دونوں جگہ اپنی آغوش میں چھپالے ظاہر ہے کہ اس اعتبار سے روزہ کا فائدہ بھی بڑا ہی عظیم الشان ہوگا مگر اس کے علاوہ روزے کے کچھ اور بھی روحانی اور دینی فوائد ہیں جو اپنی اہمیت و عظمت کے اعتبار سے قابل ذکر ہیں لہٰذا ان میں سے کچھ فائدے بیان کئے جاتے ہیں۔ (١) روزہ کی وجہ سے خاطر جمعی اور قلبی سکون حاصل ہوتا ہے نفس امارہ کی تیزی و تندی جاتی رہتی ہے، اعضاء جسمانی اور بطور خاص وہ اعضاء جن کا نیکی اور بدی سے براہ راسات تعلق ہوتا ہے جیسے ہاتھ، آنکھ، زبان، کان اور ستر وغیرہ سست ہوجاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے گناہ کی خواہش کم ہوجاتی ہے اور معصیت کی طرف رجحان ہلکا پڑجاتا ہے۔ چناچہ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جب نفس بھوکا ہوتا ہے تو تمام اعضاء سیر ہوتے ہیں یعنی انہیں اپنے کام کی رغبت نہیں ہوتی اور جب نفس سیر ہوتا ہے تو تمام اعضاء بھوکے ہوتے ہیں انہیں اپنے کام کی طرف رغبت ہوتی ہے اس قول کو وضاحت کے ساتھ یوں سمجھ لیجئے کہ جسم کے جتنے اعضاء ہیں قدرت نے انہیں اپنے مخصوص کاموں کے لئے پیدا کیا ہے مثلاً آنکھ کی تخلیق دیکھنے کے لئے ہوئی ہے گویا آنکھ کا کام دیکھنا ہے لہٰذا بھوک کی حالت میں کسی بھی چیز کو دیکھنے کی طرف راغب نہیں ہوتی ہاں جب پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے تو آنکھ اپنا کام بڑی رغبت کے ساتھ کرتی ہے اور ہر جائز و ناجائز چیز کو دیکھنے کی خواہش کرتی ہے اسی پر بقیہ اعضاء کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ (٢) روزہ کی وجہ سے دل کدورتوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے کیونکہ دل کی کدورت آنکھ، زبان اور دوسرے اعضاء کے فضول کاموں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یعنی زبان کا ضرورت و حاجت سے زیادہ کلام کرنا، آنکھوں کا بلا ضرورت دیکھنا، اسی طرح دوسرے اعضاء کا ضرورت سے زیادہ اپنے کام میں مشغول رہنا افسردگی دل اور رنجش قلب کا باعث ہے اور ظاہر ہے کہ روزہ دار فضول گوئی اور فضول کاموں سے بچا رہتا ہے بدیں وجہ اس کا دل صاف اور مطمئن رہتا ہے اس طرح پاکیزگی دل اور اطمینان قلب اچھے و نیک کاموں کی طرف میلان ورغبت اور درجات عالیہ کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔ (٣) روزہ مساکین و غرباء کے ساتھ حسن سلوک اور ترحم کا سبب ہوتا ہے کیونکہ جو شخص کسی وقت بھوک کا غم جھیل چکا ہوتا ہے اسے اکثر و بیشتر وہ کر بناک حالت یاد آتی ہے چناچہ وہ جب کسی شخص کو بھوکا دیکھتا ہے تو اسے خود اپنی بھوک کی وہ حالت یاد آجاتی ہے جس کی وجہ سے اس کا جذبہ ترحم امنڈ آتا ہے۔ (٤) روزہ دار اپنے روزہ کی حالت میں گویا فقراء مساکین کی حالت بھوک کی مطابقت کرتا ہے بایں طور کہ جس اذیت اور تکلیف میں وہ مبتلا ہوتے ہیں۔ اسی تکلیف اور مشقت کو روزہ دار بھی برداشت کرتا ہے اس وجہ سے اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے جیسا کہ ایک بزرگ بشرحافی کے بارے میں منقول ہے کہ ایک شخص ان کی خدمت میں جاڑے کے موسم میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کانپ رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس اتنے کپڑے موجود تھے جو ان کو سردی سے بچا سکتے تھے۔ مگر وہ کپڑے الگ رکھے ہوئے تھے۔ اس شخص نے یہ صورت حال دیکھ کر ان سے بڑے تعجب سے پوچھا کہ آپ نے سردی کی اس حالت میں اپنے کپڑے الگ رکھ چھوڑے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے بھائی فقراء و مساکین کی تعداد بہت زیادہ ہے مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں ان کے کپڑوں کا انتظام کروں لہٰذا (جو چیز میرے اختیار میں ہے اسی کو غنیمت جانتا ہوں کہ) جس طرح وہ لوگ سردی کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں اس طرح میں بھی سردی کی تکلیف برداشت کر رہا ہوں اس طرح میں بھی ان کی مطابقت کر رہا ہوں۔ یہی جذبہ ہمیں ان اولیاء عارفین کی زندگیوں میں بھی ملتا ہے جن کے بارے میں منقول ہے کہ وہ کھانے کے وقت ہر ہر لقمہ پر یہ دعائیہ کلمات کہا کرتے تھے۔ اللہم لا تواخذنی بحق الجائعین۔ اے اللہ مجھ سے بھوکوں کے حق کے بارے میں مواخذہ نہ کیجئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں منقول ہے کہ جب قحط سالی نے پورے ملک کو اپنے مہیب سایہ میں لے لیا باوجودیکہ خود ان کے پاس بےانتہا غلہ کا ذخیرہ تھا مگر وہ صرف اس لئے پیٹ بھر کر نہیں کھاتے تھے کہ کہیں بھوکوں کا خیال دل سے اتر نہ جائے نیز یہ انہیں اس طرح بھوکوں اور قحط زدہ عوام کی تکلیف و مصیبت سے مشابہت اور مطابقت حاصل رہے۔
1958
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب السماء . وفي رواية : فتحت أبواب الجنة وغلقت أبواب جهنم وسلسلت الشياطين . وفي رواية : فتحت أبواب الرحمة
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں نیز شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت کے الفاظ آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کی بجائے یہ ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں سے اس بات کی طرف کنایہ مقصود ہے کہ اس ماہ مقدس کے شروع ہوتے ہیں باری تعالیٰ کی پے در پے رحمتوں کا نزول شروع ہوجاتا ہے اور بندوں کے اعمال بغیر کسی مانع اور رکاوٹ کے صعود کرتے ہیں نیز باب قبولیت واہو جاتا ہے کہ بندہ جو دعا مانگتا ہے بارگاہ الوہیت میں شرف قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔ جنت کے دروازے کھو لے جاتے ہیں سے اس طرف کنایہ مقصود ہے کہ بندہ کو ان نیک اور اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائی جاتی ہے جو دخول جنت کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں سے اس بات کی طرف کنایہ مقصود ہے کہ روزہ دار ایسے کاموں سے بچا رہتا ہے جو دوزخ میں داخل ہونے کا باعث ہوتے ہیں اور یہ ظاہر ہی ہے روزہ دار کبیرہ گناہوں سے سے محفوظ و مامون رہتا ہے اور جو صغیرہ گناہ ہوتے ہیں وہ اس کے روزے کی برکت سے بخش دیئے جاتے ہیں۔ شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ ان شیاطین کو جو سرکش و سرغنہ ہوتے ہیں زنجیروں میں باندھ دیا جاتا ہے اور ان کی وہ قوت سلب کرلی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ بندوں کو بہکانے پر قادر ہوتے ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ جملہ دراصل اس بات کی طرف کنایہ ہے کہ ماہ رمضان میں شیاطین لوگوں کو بہکانے سے باز رہتے ہیں اور بندے نہ صرف یہ کہ ان کے وسوسوں اور ان کے اوہام کو قبول نہیں کرتے بلکہ ان کے مکر و فریب کے جال میں پھنستے بھی نہیں اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ روزہ کی وجہ سے انسان کی قوت حیوانیہ مغلوب ہوجاتی ہے جو غیظ و غضب اور شہوت کی جڑ ہے اور طرح طرح کے گناہوں کا باعث ہوتی ہے اس کے برخلاف قوت عقلیہ غالب اور قوی ہوجاتی ہے جو طاعات اور نیکی کا باعث ہوتی ہے چناچہ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں دوسرے مہینوں کی بہ نسبت گناہ کم صادر ہوتے ہیں اور عبادات و اطاعات میں زیادتی ہوتی ہے۔
1959
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في الجنة ثمانية أبواب منها : باب يسمى الريان لا يدخله إلا الصائمون
حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان رکھا گیا اور اس دروازے سے صرف روزہ داروں کا داخلہ ہی ہو سکے گا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ریان کے معنی ہیں سیراب اس کی پوری وضاحت اور تفصیل باب افضل الصدقہ کی حدیث نمبر ٣ کی تشریح میں گزر چکی ہے۔
1960
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه . ومن قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه . ومن قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہی کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایمان کے ساتھ (یعنی شریعت کو سچ جانتے ہوئے اور فرضیت رمضان کا اعتقاد رکھتے ہوئے) اور طلب ثواب کی خاطر (یعنی کسی خوف یا ریاء کے طور پر نہیں بلکہ خالصۃ للہ) رمضان کا روزہ رکھا تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے نیز جو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کی خاطر رمضان میں کھڑا ہوا تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے اسی طرح جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ (یعنی شب قدر کی حقیقت کا ایمان و اعتقاد رکھتے ہوئے) اور طلب ثواب کی خاطر کھڑا ہوا تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے۔ (بخار ومسلم)

تشریح
رمضان میں کھڑا ہونے، سے مراد یہ ہے کہ رمضان کی راتوں میں تراویح پڑھے، تلاوت قرآن کریم اور ذکر اللہ وغیرہ میں مشغول رہے نیز اگر حرم شریف میں ہو تو طواف وعمرہ کرے یا اسی طرح کی دوسری عبادات میں اپنے آپ کو مصروف رکھے۔ شب قدر میں کھڑا ہونے، کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر عبادت الٰہی اور ذکر اللہ میں مشغول رہے خواہ اس رات کے شب قدر ہونے کا اسے علم ہو یا نہ ہو۔ غفرلہ ماتقدم من ذنبہ۔ تو اس کے وہ گناہ بخش دئیے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے تھے۔ کے بارے میں علامہ نووی فرماتے ہیں کہ مکفرات (یعنی وہ اعمال جو گناہوں کو ختم کرنے والے ہوتے ہیں) صغیرہ گناہوں کو تو مٹا ڈالتے ہیں اور کبیرہ گناہوں کو ہلکا کردیتے ہیں اگر کسی خوش نصیب کے نامہ اعمال میں گناہ کا وجود نہیں ہوتا تو پھر مکفرات کی وجہ سے جنت میں اس کے درجات بلند کر دئیے جاتے ہیں۔
1961
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف قال الله تعالى : إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به يدع شهوته وطعامه من أجلي للصائم فرحتان : فرحة عند فطره وفرحة عند لقاء ربه ولخلوف فم الصائم أطيب عند الله من ريح المسك والصيام جنة وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب وفإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بنی آدم کے ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے بایں طور کہ ایک نیکی کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مگر روزہ کہ وہ میرے ہی لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا (یعنی روزہ کی جو جزا ہے اسے میں ہی جانتا ہوں اور وہ روزہ دار کو میں خود ہی دوں اس بارے میں کوئی دوسرا یعنی فرشتہ بھی واسطہ نہیں ہوگا کیونکہ روزہ دار) اپنی خواہش اور اپنا کھانا صرف میرے لئے ہی چھوڑتا ہے (یعنی وہ میرے حکم کی بجا آوری میری رضاء و خوشنودی کی خاطر اور میرے ثواب کی طلب کے لئے روزہ رکھتا ہے) روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی تو روزہ کھولنے کے وقت اور دوسری خوشی (ثواب ملنے کی وجہ سے) اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت، یاد رکھو روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے زنزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ لطف اور پسندیدہ ہے اور روزہ سپر ہے (کہ اس کی وجہ سے بندہ دنیا میں شیطان کے شر و فریب سے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے) لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہو تو وہ نہ فحش باتیں کرے اور نہ بےہودگی کے ساتھ اپنی آواز بلند کرے اور اگر کوئی (نادان جاہل) اسے برا کہے یا اس سے لڑنے جھگڑنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
نیک عمل کے اجر کے سلسلے میں ادنیٰ درجہ دس ہے کہ نیکی تو ایک ہو مگر ثواب اس کا دس گناہ ملے، پھر اس کے بعد نیک عمل کرنے والے کے صدق خلوص پر انحصار ہوتا ہے کہ اس کی ریاضت و مجاہدہ اور اس کے خلوص و صدق نیت میں جتنی پختگی اور کمال بڑھتا رہتا ہے اسی طرح اس کے ثواب میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بعض حالات میں ایک نیکی پر سات سو گناہ ثواب ملتا ہے گویا یہ آخری درجہ ہے لیکن بعض مقامات و اوقات ایسے بھی ہیں جہاں کی جانے والی ایک نیکی اس سے بھی زیادہ اجر وثواب سے نوازی جاتی ہے چناچہ منقول ہے کہ مکہ میں ایک نیک عمل کے بدلے میں ایک لاکھ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ الاالصوم (مگر روزہ) سے ثواب کی اہمیت و فضیلت کی طرف اشارہ ہے کہ روزہ کا ثواب بےانتہاء اور لامحدود ہے جس کی مقدار سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا۔
1962
Mishkaat Shareef
صحیح
روزہ اور اس کے ثواب کی اس فضیلت کے دو سبب ہیں اول تو یہ کہ روزہ دوسرے لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوتا ہے، دوسری عبادتوں کے برخلاف کہ ان میں یہ وصف نہیں ہے جتنی بھی عبادات ہیں وہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آتی ہیں جب کہ روزہ ہی ایک ایسی عبادت ہے جس کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے سوا صرف روزہ دار ہی کو ہوتا ہے۔ لہٰذا روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہوتا ہے کہ اس میں ریاء اور نمائش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشاد فانہ لی کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ روزہ خاص میرے ہی لئے ہے کیونکہ روہ تو صورۃ اپنے لئے وجود نہیں رکھتا جب کہ دوسری عبادتیں صورتا اپنے لئے وجود رکھتی ہیں۔ دوم یہ کہ روزہ میں نفس کشی اور جسم وبدن کا ہلکان و نقصان ہے نیز روزہ کی حالت میں انتہائی کرب و تکلیف کی صورتیں بھوک و پیاس پیش آتی ہیں اور ان پر صبر کرنا پڑتا ہے جب کہ دوسری عبادتوں میں نہ اتنی تکلیف ومشقت ہوتی ہے اور نہ اپنی خواہش و طبیعت پر اتنا جبر چناچہ باری تعالیٰ نے اپنے ارشاد یدع شہوتہ کے ذریعے اسی طرف اشارہ فرمایا کہ روزہ دار اپنی خواہش کو چھوڑ دیتا ہے یعنی روزہ کی حالت میں جو چیزیں ممنوع ہیں وہ ان سب سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے۔ لفظ شہوتہ کے بعد لفظ طعامہ کا ذکر کیا تو تخصیص بعد تعمیم کے طور پر ہے یا پھر شہوت سے مراد تو جماع ہے اور طعام سے جماع کے علاوہ دوسری چیزیں مراد ہیں جو روزہ کو توڑنے والی ہوتی ہیں۔ افطار کے وقت روزہ دار کو خوشی دو وجہ سے ہوسکتی ہے یا تو اس لئے کہ وہی وہ وقت ہوتا ہے جب کہ روزہ دار اپنے آپ کو اللہ رب العزت کے حکم اور اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ محسوس کرتا ہے، یا پھر یہ کہ وہ عبادت کی توفیق اور اس کی نورانیت کی وجہ سے اپنے آپ کو مطمئن ومسرور محسوس کرتا ہے، جو ظاہر ہے کہ خوشی کا سبب ہے اس کے علاوہ دنیاوی اور جسمانی طور پر بھی یوں خوشی محسوس ہوتی ہے کہ دن بھر کی بھوک و پیاس کے بعد اسے کھانے پینے کو ملتا ہے۔ حدیث کے آخری جملے کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص روزہ دار کو برا بھلا کہے یا اس سے لڑنے کا ارادہ کرے تو وہ اس شخص کو انتقاما برا بھلا نہ کہے اور نہ اس سے لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہوجائے بلکہ اس شکص سے یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں اور یہ بات یا تو زبان سے کہے تاکہ دشمن اپنے ناپاک ارادوں سے باز رہے کیونکہ جب روزہ دار اپنے مقابل سے یہ کہے گا کہ میں روزہ دار ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لئے میرے لئے تو یہ جائز نہیں کہ میں تم سے لڑوں جھگڑوں اور جب میں خود لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار نہیں ہوں تو تمہارے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ ایسی صورت میں تم مجھ سے لڑائی جھگڑے کا ارادہ کرو کیونکہ یہ اصول ومروت کے خلاف ہے ظاہر ہے کہ یہ انداز اور پیرایہ دشمن کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے غلط ارادوں سے باز رہے۔ یا اس کے یہ معنی ہوں کہ میں چونکہ روزہ دار ہوں اس لئے اس وقت تمہارے لئے زبان درازی مناسب اور لائق نہیں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کے ذمہ اور اس کی حفاظت میں ہوں۔ یا پھر یہ کہ ایسے موقع پر روزہ دار اپنے دل میں یہ کہہ لے کہ میں روزہ دار ہوں میرے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ میں روزہ حالت میں کسی سے لڑائی جھگڑا کروں یا کسی کو اپنی زبان سے برا کہوں۔ لفظ الاالصوم کے سلسلے میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ حدیث کے بعض شارحین اس موقع پر کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ روزہ کی یہ خصوصیت کس وجہ سے ہے ؟ تاہم ہمارے اوپر یہ بات واجب اور لازم ہے کہ بغیر کسی شک و شبہہ کے اس کی تصدیق کرے ہاں بعض محققین علماء نے اس خصوصیت کے کچھ اسباب بیان کئے ہیں چناچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ روزہ ہی وہ عبادت ہے جو ایام جاہلیت میں بھی اہل عرب کے یہاں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے مخصوص تھی یعنی جس طرح کفار و مشرکین سجدہ وغیرہ اللہ کے علاوہ دوسری چیزون کے لئے بھی کرتے تھے اسی طرح وہ روزہ میں بھی اللہ کے علاوہ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے بلکہ روزہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے رکھتے تھے۔ اس طرح اس نکتہ کے ذریعے بھی اس کی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ درحقیقت جو شخص روزہ رکھتا ہے اور اس طرح وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضاء کی خاطر اپنا کھانا پینا اور دوسری خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ ایک طرح کی لطافت و پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گویا وہ اس بارے میں باری تعالیٰ کے اوصاف و خلق کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے بایں طور کہ جس طرح اللہ رب العزت کھانے پینے سے منزہ اور پاک ہے اس طرح بھی دن میں اپنے آپ کو دنیاوی خواہشات و علائق سے منزہ رکھتا ہے لہٰذا اس سبب سے روزہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے۔ عبرت خیز و عبرت آموز ! ابھی آپ نے اوپر پڑھا ہے کہ عرب کے مشرکین تک روزہ میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں کرتے تھے ان کا روزہ بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص قرار دیتے تھے لیکن اب روزہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں رہ گیا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اب بعض بزرگوں کے نام پر اور ان کے لئے بھی روزہ رکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو گمراہی و ضلالت کے اس راستے سے بچائے اور صرف اپنی مرضیات تابع و پابند بنائے آمین۔
1963
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن وغلقت أبواب النار فلم يفتح منها باب الجنة فلم يغلق منها باب وينادي مناد : يا باغي الخير أقبل ويا باغي الشر أقصر ن ولله عتقاء من النار وذلك كل ليلة . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات کو قید کردیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں پھر اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا اور اعلان کرنے والا فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اے بھلائی (یعنی نیکی وثواب) کے طلب گار ! اللہ کی طرف متوجہ ہوجا اور اے برائی کا ارادہ رکھنے والے برائی سے باز آ جا کیونکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہے یعنی اللہ رب العزت اس ماہ مبارک کے وسیلے میں بہت لوگوں کو دوزخ کی آگ سے آزاد کرتا ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ تو بھی ان لوگوں میں شامل ہوجائے۔ اور یہ اعلان رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔ (ترمذی ابن ماجہ، امام احمد نے بھی اس روایت کو ایک شخص سے نقل کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔

تشریح
ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی شیاطین کو اس لئے قید کردیا جاتا ہے تاکہ وہ روزہ داروں کو نہ بہکائیں اور ان کے دلوں وسوسوں اور گندے خیالات کا بیج نہ بوئیں چناچہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے ماہ رمضان میں اکثر گناہ گار گناہوں سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں البتہ بعض بدبخت ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس ماہ مبارک میں بھی گناہ و معصیت سے باز نہیں آتے تو اس کی وجہ وہ اثرات ہوتے ہیں جو رمضان سے قبل ایام میں شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ان کے طبائع بد میں راسخ ہوجاتے ہیں یعنی چونکہ ان کے ذہن و فکر اور ان کی عملی قوت پہلے ہی سے شیطان کے زیر اثر ہوتی ہے اور ان کا نفس اس کا عادی ہوچکا ہوتا ہے اس لئے ایسے لوگ اپنی عادت سے مجبور ہو کر رمضان میں بھی گناہ و معصیت سے نہیں بچ پاتے۔ اللہ کی طرف متوجہ ہوجا۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بندگی اس کی عبادت اور اس کی رضا و خوشنودی کے کامون میں زیادہ سے زیادہ مشغول رہنے کی کوشش کر کیونکہ یہ وقت ایسا ہے کہ اگر تھوڑا بھی نیک عمل کیا جائے گا تو اس کا ثواب ملے گا اور معمولی درجہ کی نیکی بھی سعادت و نیک بختی کے اونچے درجے پر پہنچائے گی۔ اسی طرح برائی سے باز آ جا۔ کا مطلب یہ ہے کہ گناہ و معصیت کے راستے کو چھوڑ دے، نیکی و بہتری کی راہ اپنا لے اپنے کئے ہوئے گناہوں سے توبہ کر اور اللہ کی طرف اپنی توجہ لگا دے کیونکہ قبولیت دعا اور مغفرت کا یہ بہترین وقت ہے۔