hadith book logo

Mishkaat Shareef

111. حدود کا بیان

مشكاة المصابيح

3521
Mishkaat Shareef
صحیح
حد کے معنی حدود حد کی جمع ہے اور حد کے اصل معنی ہیں ممنوع نیز اس چیز کو بھی حد کہا جاتا ہے جو دو چیزوں کے درمیان حائل ہو اصطلاح شریعت میں حدود ان سزاؤں کو کہتے ہیں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں اور ساتھ ہی متعین ہیں جیسے چوری، زنا، شراب نوشی کی سزائیں۔ لفظ حد کے اصل معنی ممنوع یا حائل اگر پیش نظر ہوں تو واضح ہوگا کہ شرعی سزاؤں کو حدود اسی لئے کہتے ہیں کہ یہ سزائیں بندوں کو گناہوں میں مبتلا ہونے سے روکتی ہیں اور ان کا خوف انسان اور جرم کے درمیان حائل رہتا ہے۔ حدود اللہ محارم کے معنی میں بھی منقول ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (تلک حدود اللہ فلا تقربوھا) اسی طرح مقادیر شرعی یعنی تین طلاقوں کا مقرر ہونا وغیرہ کے معنی میں بھی منقول ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا) لیکن واضح رہے کہ ان دونوں میں بھی حدود کا اطلاق اصل معنی ممنوع ہی کے اعتبار سے ہے کہ محارم کی قربت (یعنی ان سے نکاح وخلوت) بھی ممنوع ہے اور مقادیر شرعی سے تجاوز کرنا بھی ممنوع ہے۔ سزا کی تفصیل شرعی قانون نے جرم و سزاء کا جو ضابطہ مقرر کیا ہے اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں سزائیں تین طرح کی ہیں۔ (١) وہ سزائیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے متعین کردیا ہے مگر ان کے اجزاء کو خود بندوں پر چھوڑ دیا ہے ان میں کسی خارجی طاقت جیسے حاکم یا حکومت کو دخل انداز ہونے کا حکم نہیں ہے، شریعت نے اس طرح کی سزا کا نام کفارہ رکھا ہے جیسے قسم کی خلاف ورزی یا رمضان میں بلا عذر شرعی روزہ توڑ دینے کا نام کفارہ ! (٢) وہ سزائیں جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہیں اور ساتھ ہی متعین ہیں، ان سزاؤں کو جاری کرنے کا اختیار تو حاکم یا حکومت کو ہے مگر ان میں قانون سازی کا حق کسی کو حاصل نہیں ہے، اس طرح کی سزا کو شریعت میں حد کہتے ہیں جیسے چوری، زنا اور شراب نوشی کی سزائیں۔ (٣) وہ سزائیں جنہیں کتاب وسنت نے متعین تو نہیں کیا ہے مگر جن برے کاموں کی یہ سزائیں ہیں ان کو جرائم کی فہرست میں داخل کیا ہے اور سزا کے تعین کا مسئلہ حاکم یا حکومت کے سپرد کردیا ہے کہ وہ موقع ومحل اور ضرورت کے مطابق سزا خود متعین کریں گویا اس قسم کی سزاؤں میں حکومت کو قانون سازی کا حق بھی حاصل ہے مگر اس دائرہ کے اندر رہ کر جو شریعت نے متعین کر رکھا ہے اس طرح کی سزا شریعت میں تعزیر کہلاتی ہے۔ حد اور تعزیر میں فرق حد اور تعزیر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حد تو شریعت میں عقوبت ہے جو اللہ کا حق قرار دی گئی ہے اسی لئے اس کو حق اللہ کہا جاتا ہے بایں وجہ کہ اس میں کوئی بندہ تصرف نہیں کرسکتا اور تعزیر کو حق اللہ کہا جاتا ہے بایں وجہ کہ بندہ اس میں تصرف کرسکتا ہے یعنی اگر وہ کوئی مصلحت دیکھے تو قابل تعزیر مجرم کو معاف بھی کرسکتا ہے اور موقع ومحل اور جرم کی نوعیت کے اعتبار سے سزا میں کمی زیادتی اور تغیر وتبدل بھی کرسکتا ہے، حاصل یہ کہ حد تو اللہ کی طرف سے متعین ہے جس میں کوئی تصرف ممکن نہیں اور تعزیر قاضی یا حکومت کے سپرد ہے اسی عدم تقدیر و تحقیق کی بنا پر تعزیر کو حد نہیں کہا جاتا۔ چونکہ قصاص بھی بندہ کا حق ہے کہ وہ اپنے اختیار سے مجرم کو معاف کرسکتا ہے اس لئے اس کو بھی حد نہیں کہا جاتا۔
3522
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة وزيد بن خالد : أن رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أحدهما : اقض بيننا بكتاب الله وقال الآخر : اجل يا رسول الله فاقض بيننا بكتاب الله وائذن لي أن أتكلم قال : تكلم قال : إن ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامرأته فأخبروني أن على ابني الرجم فاقتديت منه بمائة شاة وبجارية لي ثم إني سألت أهل العلم فأخبروني أن على ابني جلد مائة وتغريب عام وإنما الرجم على امرأته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أما والذي نفسي بيده لأقضين بينكما بكتاب الله أما غنمك وجاريتك فرد عليك وأما ابنك فعليه جلد مائة وتغريب عام وأما أنت يا أنيس فاغد إلى امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها فاعترفت فرجمها
حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید ابن خالد کہتے ہیں ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں دو آدمی اپنا قضیہ لے کر آئے، ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق حکم کیجئے دوسرے نے بھی عرض کیا کہ ہاں، یا رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق حکم کیجئے اور مجھے اجازت دیجئے کہ میں بیان کروں کہ قضیہ کی صورت کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا بیان کرو اس شخص نے بیان کیا کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا، لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تمہارے بیٹے کی سزا سنگساری ہے لیکن میں نے اس کو سنگسار کرنے کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک لونڈی دیدی، پھر جب میں نے اس بارے میں علماء سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہارا بیٹا چونکہ محصن یعنی شادی شدہ نہیں ہے اسی لئے اس کو سزا سو کوڑے ہیں اور ایک سال کی جلا و طنی ہے اور اس شخص کی عورت کی سزا سنگساری ہے کیونکہ وہ شادی شدہ ہے رسول کریم ﷺ نے یہ قصہ سن کر فرمایا کہ آگاہ ! قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ یعنی قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ ہی کے موافق فیصلہ کروں گا تو سنو کہ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس مل جائے گی اور اگر خود ملزم کے اقرار یا چار گواہوں کی شہادت سے زنا کا جرم ثابت ہے تو تمہارے بیٹے کو سو کوڑوں کی سزا دی جائے گی اور ایک سال کے لئے جلا وطن کردیا جائے گا پھر آپ ﷺ نے حضرت انیس کو فرمایا کہ انیس تم اس شخص کی عورت کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اقرار کرلے تو اس کو سنگسار کردو چناچہ اس عورت نے زنا کا اقرار کرلیا اور حضرت انیس نے اس کو سنگسار کردیا۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا حکم مراد ہے کیونکہ قرآن کریم میں رجم وسنگساری کا حکم مذکور نہیں ہے، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ کتاب اللہ سے قرآن کریم ہی مراد ہو اس صورت میں کہا جائے گا کہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آیت رجم کے الفاظ قرآن کریم سے منسوخ التلاوت نہیں ہوئے تھے۔ ایک سال کے لئے جلا وطن کردیا جائے گا کے بارے میں حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ایک سال کی جلا وطنی بھی حد میں داخل ہے یعنی ان کے نزدیک غیر شدہ زنا کار کی حد شرعی سزا یہ ہے کہ اس کو سو کوڑے بھی مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن بھی کردیا جائے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ ایک سال کی جلاوطنی کے حکم کو مصلحت پر محمول فرماتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ایک سال کی جلاوطنی حد کے طور پر نہیں ہے بلکہ بطور مصلحت ہے کہ اگر امام وقت اور حکومت کسی سیاسی اور حکومتی مصلحت کے پیش نظر ضروری سمجھے تو ایک سال کے لئے جلا وطن بھی کیا جاسکتا ہے، بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ابتداء اسلام میں یہی حکم نافذ جاری تھا مگر جب یہ آیت کریمہ (اَلزَّانِيَةُ وَالزَّانِيْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ) 24 ۔ النور 2) (یعنی زانی اور زانیہ کو کوڑے مارے جائیں اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارے جائیں) نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ (فاعترفت فرجمہا) چناچہ اس عورت نے اقرار کیا اور حضرت انیس نے اس کو سنگسار کردیا اس سے بظاہر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حد زنا کے جاری ہونے کے لئے ایک مرتبہ اقرار کرنا کافی ہے جیسا کہ امام شافعی کا مسلک ہے لیکن امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ چار مجلسوں میں چار بار اقرار کرنا ضروری ہے، یہاں حدیث میں جس اقرار کا ذکر کیا گیا ہے اس سے امام اعظم وہی اقرار یعنی چار مرتبہ مراد لیتے ہیں جو اس سلسلہ میں معتبر ومقرر ہے چناچہ دوسری احادیث سے یہ صراحتہ ثابت ہے کہ چار مرتبہ اقرار کرنا ضروری ہے۔
3523
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن زيد بن خالد قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يأمر فيمن زنى ولم يحصن جلد مائة وتغريب عام . رواه البخاري
اور حضرت زید ابن خالد کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو غیر محصن کے بارے میں یہ حکم دیتے ہوئے سنا ہے کہ اس کو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے۔ (بخاری)

تشریح
محصن اس عاقل بالغ مسلمان کو کہتے ہیں جس کی شادی ہوچکی ہو اور اپنی بیوی سے ہم بستری کرچکا ہو غیر محصن اگر زنا کا مرتکب ہو تو اس کی سزا اس حدیث کے مطابق سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، جلا وطنی کے بارے میں جو تفصیل ہے وہ پہلے بیان ہوچکی۔ کوڑے مارنے کے سلسلہ میں یہ حکم ہے کہ سر، منہ اور ستر پر کوڑے نہ مارے جائیں۔
3524
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمر رضي الله عنه قال : إن الله بعث محمدا وأنزل عليه الكتاب فكان مما أنزل الله تعالى آية الرجم رجم رسول الله صلى الله عليه و سلم ورجمنا بعده والرجم في كتاب الله حق على من زنى إذا أحصن من الرجال والنساء إذا قامت البينة أو كان الحبل أو الاعتراف
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا اور ان پر اپنی کتاب نازل کی چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں جو کچھ نازل کیا ہے اس میں آیت رجم بھی ہے۔ اور کتاب اللہ میں اس شخص کو رجم کرنے کا حکم ثابت ہے جو محصن ہونے کے باوجود زنا کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو اور یہ رجم کی سزا اس وقت دی جائے گی، جب کہ زنا کا جرم گواہوں کے ذریعہ یا حمل کے ذریعہ اور یا اعتراف و اقرار کے ذریعہ ثابت ہو۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
اوپر کی حدیث میں اس زانی کی سزا بیان کی گئی تھی جو غیر محصن ہو، اس حدیث میں اس زانی کی سزا بیان کی گئی ہے جو محصن ہو، محصن کی وضاحت اوپر کی حدیث کے ضمن میں کی جاچکی ہے چناچہ جو شخص محصن ہونے کے باوجود زنا کا مرتکب ہو اور اس کا جرم ثابت ہوجائے اس کی سزا رجم یعنی سنگساری ہے کہ اس شخص کو پتھروں سے مار مار کر ہلاک کردیا جائے۔ جس آیت سے رجم کا حکم ثابت ہے وہ پہلے قرآن کریم میں موجود تھی لیکن بعد میں اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی یعنی اس کے الفاظ قرآن میں باقی نہیں رکھے گئے لیکن ان کا حکم بحالہ باقی رہا، وہ آیت یہ ہے۔ (الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فرجموہما البتۃ نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم ) ۔ حدیث کے آخر میں زنا کے ثبوت جرم کے لئے تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ضروری قرار دیا گیا ہے یعنی (١) گواہ (٢) حمل (٣) اقرار، ان تینوں میں سے حمل کا تعلق اس عورت سے ہے جو بغیر خاوند والی ہو لیکن اس کا حکم بھی منسوخ ہوگیا ہے، گواہوں اور اقرار کا حکم جوں کا توں ہے کہ محصن زانی کو اسی وقت رجم (سنگسار) کیا جائے گا جب کہ اس کا جرم یا تو گواہوں کے ذریعہ ثابت ہو یا وہ خود اپنے جرم کا اعتراف و اقرار کرے۔
3525
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبادة بن الصامت أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خذوا عني خذوا عني قد جعل الله لهن سبيلا : البكر بالبكر جلد مائة ووتغريب عام والثيب بالثيب جلد مائة والرجم (2/309) 2559 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن عبد الله بن عمر : أن اليهود جاؤوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا له أن رجلا منهم وامرأة زنيا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تجدون في التوراة في شأن الرجم ؟ قالوا : نفضحهم ويجلدون قال عبد الله بن سلام : كذبتم إن فيها الرجم فأتوا بالتوراة فنشروها فوضع أحدهم يده على آية الرجم فقرأ ما قبلها وما بعدها فقال عبد الله بن سلام : ارفع يدك فرفع فإذا فيها آية الرجم . فقالوا : صدق يا محمد فيها آية الرجم . فأمر بهما النبي صلى الله عليه و سلم فرجما . وفي رواية : قال : ارفع يدك فرفع فإذا فيها آية الرجم تلوح فقال : يا محمد إن فيها آية الرجم ولكنا نتكاتمه بيننا فأمر بهما فرجما
اور حضرت عبادہ ابن صامت راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زانیہ کے بارے میں مجھ سے یہ حکم حاصل کرو، مجھ سے یہ حکم حاصل کرو کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راہ مقرر کردی ہے، جو غیر محصن مرد کسی غیر محصنہ عورت سے زنا کرے تو سو کوڑے مارے جائیں اور ایک سال کے لئے جلا وطن کردیا جائے۔ اور جو محصن مرد کسی محصنہ عورت سے زنا کرے تو سو کوڑے مارے جائیں اور سنگسار کیا جائے۔ (مسلم)

تشریح
اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راہ مقر کردی ہے یہ دراصل اس آیت کریمہ (اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا) 4 ۔ النساء 15) کی وضاحت ہے۔ علامہ تورپشتی فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا جب زانی اور زانیہ کے لئے حد مشروع ہوئی تھی، چناچہ آپ ﷺ کے اس ارشاد میں راہ سے مراد حد ہے جو اس سے پہلے تک مشروع نہیں تھی بلکہ اس بارے میں وہ حکم مشروع تھا جو آیت کریمہ میں مذکور ہے (وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَا ى ِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَيْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْھُنَّ فِي الْبُيُوْتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰىھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ يَجْعَلَ اللّٰهُ لَھُنَّ سَبِيْلًا) ۔ 4 ۔ النساء 15) تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بےحیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کو گواہ کرلو، سو اگر وہ گواہی دے دیں تو تم ان کو گھروں کے اندر مقید رکھو۔ یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی راہ مقرر کر دے۔ حاصل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اگر عورتیں زنا کی مرتکب ہوں اور گواہوں کے ذریعہ ان کا یہ جرم ثابت ہوجائے تو ان کو گھر میں قید کردیا جائے یا تاآنکہ اسی قید کی حالت میں مرجائیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لئے کوئی راہ یعنی حد مقرر کی جائے۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے حد کا حکم نازل فرمایا تو آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے یہ راہ یعنی حد مقرر فرما دی ہے اور پھر اس کے بعد آپ نے حد کی وضاحت فرمائی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی محصن (شادی شدہ) زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو سو کوڑے بھی مارے جائیں اور سنگسار بھی کیا جائے، چناچہ علماء ظواہر نے اور صحابہ وتابعین میں سے بعض نے اس پر عمل کیا ہے جب کہ جمہور علماء کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو زانی سنگسار کا مستوجب قرار پا چکا ہو اس کے حق میں سو کوڑے مارے جانے کا سزا کالعدم ہوگی یعنی اس کو صرف سنگسار کیا جائے گا۔ سو کوڑے نہیں مارے جائیں گے، کیونکہ یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک شخص ماعز کو جو شادی شدہ ہونے کی باوجود زنا کے مرتکب قرار دئیے گئے تھے صرف سنگسار کیا تھا ان کو سو کوڑے مارنے کا حکم نہیں تھا، اسی طرح آگے آنے والی ایک حدیث میں ایک غامدیہ عورت کا جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے یا حضرت انیس کی جو حدیث پیچھے گذری ہے ان سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن یہودیوں کی ایک جماعت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ان کی قوم میں سے ایک عورت اور ایک مرد نے جو دونوں محصن (یعنی شادی شدہ تھے) نے زنا کیا ؟ آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے تورات میں رجم کے بارے میں کیا پڑھا ہے ؟ یہودیوں نے کہا کہ ہم زنا کرنے والوں کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں اور ان کو کوڑے مارے جاتے ہیں ان کی یہ بات سن کر حضرت عبداللہ ابن سلام نے کہا کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو، تورات میں بھی رجم کا حکم مذکور ہے تورات لاؤ میں تمہیں رجم کا حکم دکھاتا ہوں چناچہ جب تورات لائی گئی اور اس کو کھولا گیا تو یہودیوں میں سے ایک شخص نے جھٹ سے اس جگہ اپنا ہاتھ رکھ دیا جہاں رجم کے بارے میں آیت تھی یعنی اس نے اپنے ہاتھوں سے رجم کی آیت کو چھپانے کی کوشش کی اور اس کے آگے پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن سلام نے اس سے کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو دیکھا گیا کہ وہاں رجم کی آیت موجود تھی، اس آیت کو چھپانے والے نے کہا کہ اے محمد ! تورات میں رجم کی آیت موجود ہے مگر ہم آپس میں اس کو ظاہر نہیں کرتے، اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان دونوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور وہ دونوں سنگسار کردیئے گئے۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام نے اس شخص سے (کہ جس نے رجم کی آیت کو اپنے ہاتھ کے نیچے چھپانے کی کوشش کی تھی) کہا کہ اپنا ہاتھ ہٹاؤ اور پھر جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو دیکھا گیا کہ وہاں رجم کی آیت موجود تھی، اس آیت کے نیچے کو چھپانے والے نے کہا کہ اے محمد ! تورات میں رجم کی آیت موجود ہے مگر ہم آپس میں آپس میں اس کو ظاہر نہیں کرتے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان دونوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور سنگسار کردیئے گئے۔ (بخاری ومسلم ) تشریح حضرت عبداللہ بن سلام پہلے یہودی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو راہ ہدایت پر گامزن کیا اور وہ مسلمان ہوگئے ان کا شمار بڑے اونچے درجہ کے علماء یہود میں ہوتا تھا تورات پر عبور رکھتے تھے، چناچہ مجلس نبوی میں جب یہودیوں نے اپنی روایتی تلبیس و تحریف سے کام لیا اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ تورات میں زنا کے مرتکب کو سنگسار کرنے کا حکم نہیں ہے بلکہ ہم نے تورات میں یہ پڑھا ہے کہ جو شخص زنا کا ارتکاب کرے اس کو تعزیر کے ذریعہ ذلیل و رسوا کیا جائے اور کوڑے مارے جائیں تو حضرت عبداللہ ابن اسلام نے اس کی تکذیب کی اور یہ بتایا کہ تم یہ بات کہہ رہے ہو وہ سراسر تحریف ہے تورات میں رجم کا حکم موجود نہیں ہے اور پھر جب انہوں نے تورات منگائی اس میں مذکور رجم کی آیت دکھانی چاہی تو اس موقع پر بھی یہودیوں نے اپنی عیاری و مکاری دکھانی چاہی اور ان میں سے ایک شخص نے ایک روایت کے مطابق جس کا نام عبداللہ ابن صوریا تھا، اس جگہ اپنا ہاتھ رکھ دیا جہاں رجم کی آیت مذکور تھی۔ اور اس کے آگے پیچھے کی آیتیں پڑھنے لگا ! مگر عبداللہ بن سلام نے ان کی اس عیاری کا راز بھی طشت از بام کردیا۔ اگر یہاں یہ اشکال پیدا ہو کہ رجم (سنگساری) کا سزاوار ہونے کے لئے محصن شادی شدہ ہونا شرط ہے اور محصن ہونے کے لئے مسلمان ہونا شرط ہے یعنی سنگساری کی سزا اسی زانی کو دی جاسکتی ہے جو محصن ہو اور محصن اطلاق اسی شخص پر ہوسکتا ہے جو مسلمان ہو تو آنحضرت ﷺ نے ان یہودیوں کو جو مسلمان نہیں تھے رجم کا حکم کیوں دیا ؟ اس کا جواب ہے یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ان یہود کو رجم کا جو حکم دیا وہ تورات کے حکم کے تحت تھا اور یہودیوں کے مذہب میں رجم کے سزاوار کے لئے محصن ہونا شرط نہیں تھا، پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ اس بارے میں پہلے تورات کے حکم پر عمل کرتے تھے مگر جب قرآن میں اس کا حکم نازل ہوگیا تو تورات کا حکم منسوخ ہوگیا۔ اس موقع پر یہ بتادینا بھی ضروری ہے کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک محصن ہونے کے لئے مسلمان ہونا شرط نہیں ہے یعنی ان کے مسلک کے مطابق محصن کا اطلاق اس شادی شدہ آدمی پر بھی ہوسکتا ہے جو مسلمان نہ ہو نیز حنیفہ میں سے حضرت امام ابویوسف کا بھی ایک قول یہی ہے۔ ایک اشکال یہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے محض یہودیوں کے کہنے پر ان دونوں کو کیسے سنگسار کرا دیا کیونکہ یہودیوں کی گواہی سرے سے معتبر ہی نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کیا ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف ان یہودیوں کے کہنے پر ہی حکم نافذ کیا ہو، بلکہ بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے کہ یا تو خود ان دونوں نے زنا کا اقرار کیا ہوگا یا ان کے زنا کی چار مسلمانوں نے گواہی دی ہوگی اور اسی پر آنحضرت ﷺ نے ان دونوں کو سنگسار کرایا ہوگا۔ اس موقع پر ملا علی قاری نے بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے یہاں اس کا خلاصہ نقل کیا گیا ہے اہل علم ان کی کتاب مرقات سے مراجعت کرسکتے ہیں۔
3526
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل وهو في المسجد فناداه : يا رسول الله إني زنيت فأعرض عنه النبي صلى الله عليه و سلم فتنحى لشق وجهه الذي أعرض قبله فقال : إني زنيت فأعرض عنه النبي صلى الله عليه و سلم فلما شهد أربع شهادات دعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : أبك جنون ؟ قال : لا فقال : أحصنت ؟ قال : نعم يا رسول الله قال : اذهبوا به فارجموه قال ابن شهاب : فأخبرني من سمع جابر بن عبد الله يقول : فرجمناه بالمدينة فلما أذلقته الحجارة هرب حتى أدركناه بالحرة فرجمناه حتى مات وفي رواية للبخاري : عن جابر بعد قوله : قال : نعم فأمر به فرجم بالمصلى فلما أذلقته الحجارة فر فأدرك فرجم حتى مات . فقال له النبي صلى الله عليه و سلم خيرا وصلى عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا جب کہ آپ ﷺ مسجد نبوی تشریف فرما تھے، اس شخص نے آواز دی یا رسول اللہ ! مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوگیا ہے آپ ﷺ نے یہ سن کر اپنا منہ اس کی طرف سے پھیرلیا وہ شخص پھر اس سمت آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے آ کر کھڑا ہوگیا جدھر آپ ﷺ نے اپنا منہ پھیرا تھا اور کہا کہ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوگیا ہے آپ ﷺ نے پھر اپنا منہ اس کی طرف سے پھیرلیا، یہاں تک کہ جب اس نے اس طرح چار مرتبہ اپنے جرم کا اقرار کیا تو آنحضرت ﷺ نے اس کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ کیا تو دیوانہ ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں ! پھر آپ ﷺ نے پوچھا کیا تو محصن ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں یا رسول اللہ اس کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس شخص کو لے جاؤ اور اس کو سنگسار کردو۔ اس حدیث کے ایک راوی ابن شہاب کا بیان ہے کہ جس شخص نے اس حدیث کو حضرت جابر ابن عبداللہ سے سنا تھا، اس نے مجھے بتایا کہ حضرت جابر نے کہا کہ ہم نے آنحضرت ﷺ کے اس حکم کے بعد اس شخص کو مدینہ میں سنگسار کیا چناچہ جب ہم نے اس کو پتھر مارنے شروع کئے اور اس کو پتھر لگنے لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا یہاں تک کہ ہم نے اس کو حرہ میں جا کر پکڑا مدینہ کا وہ مضافاتی علاقہ جو کالے پتھروں والا تھا حرہ کہلاتا تھا اور پھر اس کو سنگسار کیا تاآنکہ وہ مرگیا۔ (بخاری ومسلم ) اور امام بخاری کی ایک اور روایت میں جو حضرت جابر سے منقول ہے آنحضرت ﷺ کے پوچھنے پر کہ کیا تو محصن ہے ؟ اس شخص کے جواب ہاں کے بعد یہ الفاظ ہیں کہ اس کے بعد آپ نے اس شخص کو سنگسار کئے جانے کا حکم دیا چناچہ اس کو عید گاہ میں سنگسار کیا گیا جب اس کو پتھر لگنے لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا مگر پھر پکڑ لیا گیا اور سنگسار کیا گیا یہاں تک کہ مرگیا اس کے مرنے کے بعد آنحضرت ﷺ نے بھلائی بیان کی یعنی اس کی تعریف و توصیف کی اور اس کی نماز جنازہ پڑھی یا (وصلی علیہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے دعا کی۔

تشریح
اور اس نے چار مرتبہ اقرار کیا یعنی اس شخص نے چاروں طرف سے آپ ﷺ کے سامنے آ کر اپنے جرم کا اقرار کر کے اور گویا ہر دفعہ میں تبدیل مجلس کر کے اس طرح چار مجلسوں میں چار مرتبہ اپنے جرم کا اقرار کیا۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کے آنحضرت ﷺ کے چہرہ مبارک کے سامنے چاروں طرف سے آکر اقرار کرنے سے یہ استدلال کیا ہے کہ زنا کے ثبوت جرم کے لئے ملزم کا چار مجلسوں میں چار بار اقرار کرنا شرط ہے۔ کیا تو دیوانہ ہے ؟ یعنی کیا تم پر دیوانگی طاری ہے کہ تم اپنے گناہ کا خود افشاء کر رہے ہو اور سنگساری کے ذریعہ خود اپنی ہلاکت کا باعث بن رہے ہو حالانکہ چاہئے تو یہ کہ تم اللہ سے توبہ استغفار کرو اور آئندہ کے لئے ہر برائی سے بچنے کا پختہ عہد وعزم کرو۔ نووی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ارشاد کا مقصد اس شخص کے حال کی تحقیق تھا کیونکہ عام طور پر کوئی بھی انسان اپنے کسی بھی ایسے جرم و گناہ کے اقرار پر مصر نہیں ہوتا جس کی سزا میں اس کو موت کا منہ دیکھنا پڑے بلکہ وہ اسی میں اپنی راہ نجات دیکھتا ہے کہ اپنے جرم و گناہ پر شرمسار ونادم ہو کر اللہ سے توبہ استغفار کرے اور اس کے ذریعہ اپنے گناہ کو ختم کرائے۔ حاصل یہ کہ یہ ارشاد جہاں اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ایسے معاملات میں مسلمان کی حالت کی تحقیق وتفتیش میں پوری پوری سعی کرنی چاہئے تاکہ فیصلہ میں کسی قسم کا کوئی اشتباہ نہ رہے وہیں اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ کسی جرم کی سزا میں ایک مسلمان کی جان بچانے کے لئے اس کو جو بھی قانونی فائدہ پہنچایا جاسکتا ہو اس سے صرف نظر نہ کیا جائے، نیز یہ جملہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر کوئی دیوانہ یہ کہے کہ میں نے زنا کیا ہے تو اس کا اقرار کا اعتبار نہیں ہوگا اور نہ اس پر حد جاری کی جائے گی۔ کیا تو محصن ہے ؟ امام نووی فرماتے ہیں کہ اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ امام وقت یا قاضی پر لازم ہے کہ وہ ان چیزوں کے بارے میں تحقیق کرلے جو سزائے رجم (سنگساری) کے نفاذ کے لئے شرط ہیں جیسے محصن ہونا وغیرہ، خواہ زنا کا جرم خود اس کے اقرار سے ثابت ہوچکا ہو یا گواہوں کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہو، نیز اس ارشاد سے کنایۃ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایسا شخص اپنے اقرار سے رجوع کرلے تو اس کو معافی دے کر زنا کی حد ساقط کردی جائے۔ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگر کسی مرد کو کسی بھی حد یا تعزیر میں مارا جائے تو کھڑا کر کے مارا جائے لٹکا کر نہ مارا جائے اور عورت کو بٹھا کر مارا جائے بلکہ اگر کسی عورت کو رجم کی سزا دی جا رہی ہو تو بہتر ہے کہ ایک گڑھا کھود کر اس میں اس کو (سینہ تک ) گاڑ کر سنگسار کیا جائے کیونکہ اس میں اس کے ستر (پردہ پوشی) کی زیادہ رعایت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے غامدیہ کے لئے گڑھا کھدوایا تھا۔ یہاں تک کہ ہم نے اس کو حرہ میں جا کر پکڑا اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر سنگسار کیا جانے والا سنگساری کے دوران بھاگ کھڑا ہو تو اس کا پیچھا نہ کیا جائے بشرطیکہ اس کے جرم زنا خود اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہو اور اگر اس کا جرم زنا گواہوں کے ذریعہ ثابت ہوا ہو تو پھر اس کا پیچھا کیا جائے اور اس کو سنگسار کیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے کیونکہ اس کا بھاگنا دراصل اس کے رجوع (جرم سے انکار) کو ظاہر کرتا ہے اور یہ رجوع کار آمد نہیں ہوگا۔ نووی کہتے ہیں کہ علماء نے لکھا ہے کہ اس جملہ (فرجم بالمصلی) (چنانچہ اس کو عید گاہ میں سنگسار کیا گیا) میں مصلی سے مراد وہ جگہ ہے جہاں جنازے کی نماز پڑھی جاتی تھی، چناچہ ایک روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ بخاری وغیرہ کہتے ہیں کہ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس جگہ جنازے اور عیدین کی نماز پڑھی جاتی ہو اگر اس کو مسجد قرار نہ دیا گیا ہو تو وہ جگہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوتی کیونکہ جنازہ یا عیدین کی نماز پڑھنے کی جگہ کا وہی حکم ہوتا جو مسجد کا ہوتا ہم تو اس جگہ کو خون سے آلودہ ہونے سے بچانے کے لئے اور اس کی تقدیس و احترام کے پیش نظر وہاں زانی کو سنگسار نہ کیا جاتا۔ مساجد میں حد و تعزیر جاری نہ کی جائیں علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ مسجد میں کسی پر کوئی حد جاری کی جائے اور نہ کسی کو کوئی تعزیر دی جائے کیونکہ اس پر تمام علماء کا اجماع و اتفاق ہے اور اس کی بنیاد آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے۔ حدیث (قال جنبوا مساجد صبیانکم و مجانینکم ورفع اصواتکم وشرائکم وبیع واقامۃ حدودکم وجمروہا فی جمعکم وضعوا علی ابوابہا المطاہر ) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم اپنی مسجدوں کو اپنے بچوں سے، دیوانوں سے، شور مچانے سے، خریدو فروخت کرنے سے اور حد قائم کرنے سے بچائے رکھو اور جمعہ کے دن مسجدوں کو اگر کی دھونی دو نیز مسجدوں کے دروازوں پر طہارت (وضو) کی جگہ بناؤ۔
3527
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : لما أتى ماعز بن مالك النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : لعلك قبلت أو غمزت أو نظرت ؟ قال : لا يا رسول الله قال : أنكتها ؟ لا يكني قال : نعم فعند ذلك أمر رجمه . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ جب ماعز ابن مالک، نبی کریم ﷺ کے پاس (مسجد نبی میں ) آئے اور کہا کہ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ شائد تم نے اجنبیہ کا بوسہ لیا ہوگا، یا اس کو شہوت کے ساتھ چھوا ہوگا یا دیکھا ہوگا یعنی یہ چیزیں زنا کا باعث بنتی ہیں تم ان سے کوئی حرکت کر گذرے ہوں گے اور اب اسی کو زنا سے تعبیر کر رہے ہوں انہوں نے عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے جماع کیا ہے۔ اور راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ بات اشارے میں نہیں پوچھی بلکہ صاف لفظوں میں پوچھا کہ کیا واقعی تم نے زنا کیا ہے ؟ ماعز نے کہا ہاں میں نے جماع کیا ہے اس (تحقیق وتفتیش) کے بعد آپ ﷺ نے ماعز کو سنگسار کئے جانے کا حکم فرمایا۔ (بخاری)
3528
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن بريدة قال : جاء ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله طهرني فقال : ويحك ارجع فاستغفر الله وتب إليه . فقال : فرجع غير بعيد ثم جاء فقال : يا رسول الله طهرني . فقال النبي صلى الله عليه و سلم مثل ذلك حتى إذا كانت الرابعة قاله له رسول الله صلى الله عليه و سلم : فيم أطهرك ؟ قال : من الزنا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أبه جنون ؟ فأخبر أنه ليس بمجنون فقال : أشرب خمرا ؟ فقام رجل فاستنكهه فلم يجد منه ريح خمر فقال : أزنيت ؟ قال : نعم فأمر به فرجم فلبثوا يومين أو ثلاثة ثم جاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : استغفروا لماعز بن مالك لقد تاب توبة لو قسمت بين أمة لوسعتهم ثم جاءته امرأة من غامد من الأزد فقالت : يا رسول الله طهرني فقال : ويحك ارجعي فاستغفري الله وتوبي إليه فقالت : تريد أن ترددني كما رددت ماعز بن مالك : إنها حبلى من الزنا فقال : أنت ؟ قالت : نعم قال لها : حتى تضعي ما في بطنك قال : فكفلها رجل من الأنصار حتى وضعت فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : قد وضعت الغامدية فقال : إذا لا نرجمها وندع ولدها صغيرا ليس له من يرضعه فقام رجل من الأنصار فقال : إلي رضاعه يا نبي الله قال : فرجمها . وفي رواية : أنه قال لها : اذهبي حتى تلدي فلما ولدت قال : اذهبي فأرضعيه حتى تفطميه فلما فطمته أتته بالصبي في يده كسرة خبز فقالت : هذا يا نبي الله قد فطمته وقد أكل الطعام فدفع الصبي إلى رجل من المسلمين ثم أمر بها فحفر لها إلى صدرها وأمر الناس فرجموها فيقبل خالد بن الوليد بحجر فرمى رأسها فتنضح الدم على وجه خالد فسبها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : مهلا يا خالد فو الذي نفسي بيده لقد تابت توبة لو تابها صاحب مكس لغفر له ثم أمر بها فصلى عليها ودفنت . رواه مسلم
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ماعز ابن مالک آیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے پاک کر دیجئے یعنی (مجھ سے جو گناہ سر زد ہوگیا ہے اس کی حد جاری کر کے میرے گناہ کی معافی کا سبب بن جائے) آپ ﷺ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے واپس جا یعنی زبان کے ذریعہ استغفار کر اور دل سے توبہ کر راوی کہتے ہیں وہ چلا گیا اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آگیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے وہی الفاظ فرمائے جو پہلے فرمائے تھے، چار مرتبہ اسی طرح ہوا اور (جب چوتھی بار ماعز نے کہا کہ یا رسول اللہ ! مجھے پاک کر دیجئے) تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ میں تجھے کس چیز سے اور کس وجہ سے پاک کروں ؟ اس نے کہا کہ (حد جاری کر کے) زنا کے گناہ سے آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ کیا اس نے شراب پی رکھی ہے ؟ (یہ سن کر ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس کا منہ سونگھا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس نے شراب پی رکھی ہے یا نہیں) لیکن شراب کی بو نہیں پائی گئی، آنحضرت ﷺ نے پھر ماعز سے پوچھا کہ کیا (واقعی) تو نے زنا کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ! اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس کو سنگسار کئے جانے کا حکم دیا چناچہ اس کو سنگسار کردیا گیا دو یا تین روز اسی طرح گذر گئے یعنی مجلس نبوی میں ماعز کی سنگساری کے بارے میں دو تین دن تک کوئی ذکر نہیں ہوا پھر (ایک دن) رسول کریم ﷺ تشریف لائے تو فرمایا کہ تم لوگ ماعز کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کرو بلا شبہ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کے ثواب کو پوری امت پر تقسیم کیا جائے تو وہ سب کے لئے کافر ہوجائے، پھر اس کے بعد (ایک دن) ایک عورت جو قبیلہ ازد کے خاندان غامد میں سے تھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے پاک کر دیجئے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس ہے، واپس جا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار توبہ کر۔ اس عورت نے عرض کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ جس طرح آپ ﷺ نے ماعز ابن مالک کو پہلی دفعہ واپس کردیا تھا اسی طرح مجھ کو بھی واپس کردیں ؟ اور درا نحالی کہ (میں) وہ عورت (ہوں جو) زنا کے ذریعہ حاملہ ہے لہٰذا اس اقرار کے بعد میرے انکار کی گنجائش تھی، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تو ! (یعنی آنحضرت ﷺ نے ایک طرح سے اپنے تغافل کو ظاہر کرنے اور اس کو اقرار زنا سے رجوع کرنے کا ایک اور موقع دینے کے لئے فرمایا کہ یہ تو کیا کہہ رہی ہے ؟ کیا زنا کے ذریعہ حاملہ ہے ! ) اس عورت نے اس کے باوجود اپنے اقرار پر اصرار کیا اور کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا اچھا تو اس وقت تک انتظار کر جب تک تو اپنے بچہ کی ولادت سے فارغ نہ ہوجائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے بعد ایک انصاری نے اس عورت کی خبر گیری اور کفالت کا اس وقت تک کے لئے ذمہ لے لیا جب تک کہ وہ ولادت سے فارغ نہ ہوجائے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اس شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ وہ غامدیہ عورت ولادت سے فارغ ہوگئی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہم ابھی اس کو سنگسار نہیں کریں گے اور اس کمسن بچے کو اس حالت میں نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی اس کو دودھ پلانے والا نہ ہو۔ یعنی اگر ہم نے اس کو ابھی سنگسار کردیا تو اس کا بچہ جو شیر خوار اور بہت چھوٹا ہے ہلاک ہوجائے گا، کیونکہ اس کی ماں کے بعد اس کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے اس لئے ابھی اس کو سنگسار کرنا مناسب نہیں ہے) ایک اور انصاری (یہ سن کر) کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس بچہ کے دودھ پلانے اور اس کی خبر گیری کا میں ذمہ دار ہوں راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اس عورت کو سنگسار کئے جانے کا حکم دیا اور وہ سنگسار کی گئی ) ۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت سے فرمایا کہ جا جب تک کہ تو ولادت سے فارغ نہ ہوجائے (انتظار کر) پھر جب وہ ولادت سے فارغ ہوگئی تو آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا جا اس بچہ کو دودھ پلا تاآنکہ تو اس کا دودھ چھڑائے اور پھر جب اس نے بچہ کا دودھ بھی چھڑا دیا تو اس بچہ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی اس وقت اس کے بچہ کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے اس بچہ کا دودھ چھڑا دیا ہے یہ اب روٹی کھانے لگا ہے ! آنحضرت ﷺ نے اس بچہ کو ایک مسلمان کے حوالے کیا اور اس عورت کے لئے حکم فرمایا کہ ایک گڑھا کھودا جائے جو اس کے سینہ تک کھودا جائے جب اس کے سینہ تک گڑھا کھود دیا گیا تو آپ ﷺ نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اور اس کو سنگسار کیا گیا اس کی سنگساری کے دوران جب حضرت خالد ابن ولید نے ایک پتھر اس کے سر پر مارا اور اس کے سر کا خون حضرت خالد کے منہ پر آکر پڑا تو حضرت خالد اس کو برا بھلا کہنے لگے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خالد ! اس کی بخشش ہوچکی ہے اس کو برا بھلا مت کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر توبہ (ناروا) ٹیکس لینے والا کرے تو اس کی مغفرت و بخشش ہوجائے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا چناچہ پڑھی گئی اور وہ دفن کی گئی۔ (مسلم )

تشریح
بلاشبہ ماعز نے توبہ کی اس ارشاد کے ذریعہ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے ماعز کی سعادت اور اس کی توبہ کی فضیلت کو ظاہر فرمایا کہ اس نے ایسی توبہ کی ہے جو اس مغفرت اور رحمت کو لازم کرتی ہے جس کا دامن، مخلوق اللہ کی ایک بہت بڑی جماعت پر سایہ فگن ہوسکتا ہے یہاں اقامت حد (حد کی قائم ہونے) کو توبہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ جس طرح توبہ کے ذریعہ گناہ دھل جاتے ہیں اسی طرح حد جاری ہونے سے بھی گناہ ختم ہوجاتا ہے۔ جب تک کہ تو اپنے بچہ کی ولادت سے فارغ نہ ہوجائے ابن مالک کہتے ہیں کہ اس ارشاد سے یہ معلوم ہوا کہ حاملہ جب تک کہ ولادت سے فارغ نہ ہوجائے اس پر حد قائم نہ کی جائے تاکہ ایک بےگناہ کو جو اس کے پیٹ میں ہے ہلاک کرنا لازم نہ آئے۔ میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ زانیہ کو سنگسار کرنے میں اس وقت تک کی مہلت دی جائے جب تک کہ اس کا وہ بچہ جو اس کے زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے اس سے مستغنی نہ ہوجائے بشرطیکہ اس کی پرورش اور دیکھ بھال کرنے والا اور کوئی نہ ہو، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ اگر ایسی توبہ (ناورا) ٹیکس لینے والا کرے اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ غیر شرعی طور پر اور نامناسب طریقوں سے لوگوں سے محصول ٹیکس وصول کرتے ہیں وہ بڑے گناہگار ہیں کیونکہ اس طرح کے محصول وٹیکس وصول کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کا مال زور زبر دستی سے اور ظلم کر کے چھین لیا جائے۔ حدیث کے آخری جملہ میں لفظ صلی مسلم کے تمام راویوں سے صاد اور لام کے زبر یعنی صیغہ معروف کے ساتھ منقول ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی تھی جب کہ طبری کے نزدیک اور ابن ابی شیبہ اور ابوداؤد کی روایت میں یہ لفظ صاد کے پیش اور لام کے زیر یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ منقول ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کی نماز جنازہ دوسرے لوگوں نے پڑھی آنحضرت ﷺ نے نہیں پڑھی چناچہ ابوداؤد کی روایت میں تو صراحت کے ساتھ یہ منقول ہے کہ (لم یصل علیہا) یعنی آنحضرت ﷺ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی بلکہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا حکم دیا، اسی وجہ سے ائمہ کے ہاں سنگسار کئے جانے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ چناچہ امام مالک کے ہاں اس کی نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے اور حضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ امام وقت اور اہل فضل نہ پڑھیں دوسرے لوگ پڑھ سکتے ہیں لیکن حضرت امام شافعی اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے بلکہ ہر اس شخص کی نماز جنازہ پڑھی جائے جو کلمہ گو اور ا اہل قبلہ ہو اگرچہ وہ فاسق وفاجر ہو یا اس پر حد قائم کی گئی ہو نیز ایک روایت میں امام احمد سے بھی یہی منقول ہے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ صحیح مسلم کے تمام راویوں نے لفظ صلی کو صاد اور لام کے زبر یعنی صیغہ معروف کے ساتھ نقل کیا ہے جب کہ طبری کے نزدیک یہ لفظ صاد کے پیش یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ ہے نیز ابی شیبہ ابوداؤد اور امام نووی نے بھی اس طرح نقل کیا ہے لہٰذا اس بارے میں یہ بات کہنی زیادہ مناسب ہے کہ یہ لفظ اصل میں تو صیغہ معروف ہی کے ساتھ ہے البتہ ماقبل کے الفاظ (ثم امربہا) اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حکم دیا کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو اس عورت کے جنازہ کو نہلانے کفنانے اور نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ لانے کا حکم دیا، چناچہ اس کی تائید اس عبارت سے ہوتی ہے جو مسلم کی روایت میں ہے کہ حدیث (امربہا النبی ﷺ فرجمت ثم صلی علیہا فقال لہ عمر تصلی علیہا یا نبی اللہ وقد زنت) یہ روایت صراحت کے ساتھ یہ ثابت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی تھی۔ اور ابوداؤد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حدیث (ثم امرہم یصلوا علیہا) (یعنی پھر آپ ﷺ نے یہ حکم دیا کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے قاضی عیاض نے بھی وضاحت کی ہے کہ اگرچہ مسلم نے اپنی روایت میں آنحضرت ﷺ کا معاذ ابن مالک کے جنازے کی نماز پڑھنا ذکر نہیں کیا ہے لیکن بخاری نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ جب مسلم کے اکثر راویوں نے لفظ صلی صیغہ معروف کے ساتھ نقل کیا تو یہاں صاحب مشکوٰۃ نے اس لفظ کو صیغہ مجہول کے ساتھ کیوں نقل کیا ؟ تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرچہ اثبات، نفی پر مقدم ہوتا ہے اس اعتبار سے صاحب مشکوٰۃ کو یہ لفظ صیغہ معروف کے ساتھ کر کے اثبات کو ترجیح دینا چاہئے تھا لیکن جب انہوں نے معتمد صحیح نسخوں میں دیکھا کہ اس بارے میں مختلف روایات ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس عورت کے جنازے کی نماز پڑھی یا نہیں پڑھی تو انہوں نے لفظ صلی کو صیغہ مجہول کے ساتھ نقل کرنے کو ترجیح دی تاکہ اس صورت میں دونوں ہی احتمال ملحوظ رہیں لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ صورت ابہام سے خالی نہیں ہے اس لئے اس بارے میں اولیٰ اور بہتر یہی ہے کہ جمہور کی متابعت اور نقل مشہور کی موافقت کے پیش نظر اس لفظ کو صیغہ معروف ہی کے ساتھ قبول کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تھی۔ بہرکیف یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حد، اس گناہ کو ختم کردیتی ہے جس کی سزا میں اس کا نفاذ اجراء ہوتا ہے مثلا اگر زید زنا کا مرتکب ہوا اور اس کے اس جرم کی سزا میں اس پر حد جاری کی جائے تو وہ زنا کے گناہ سے بری ہوجائے گا اور آخرت میں اس سے اس زنا پر کوئی مؤ اخذہ نہیں ہوگا۔ ایک بات اور نووی کہتے ہیں کہ (یہاں اس عورت کے بارے میں دو روایتیں نقل کی گئی ہیں اور) بظاہر دوسری روایت پہلی روایت کے مخالف ہے کیونکہ دوسری روایت سے تو صراحۃ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت کو اس وقت سنگسار کیا گیا جب اس عورت نے اپنے بچے کا دودھ چھڑا دیا تھا اور وہ روٹی کھانے لگا تھا لیکن پہلی روایت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بچے کی ولادت کے بعد ہی سنگسار کردیا گیا تھا، لہٰذا دوسری دوسری روایت کے صریح مفہوم کے پیش نظر پہلی روایت کی تاویل کرنی ضروری ہوئی تاکہ دونوں روایتوں کا مفہوم یکساں ہوجائے کیونکہ دونوں روایتوں کا تعلق ایک ہی واقعہ سے ہے اور دونوں ہی روایتیں صحیح ہیں، پس تاویل یہ ہے کہ پہلی روایت میں جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک انصاری نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں اس بچے کو دودھ پلانے کا ذمہ دار ہوں تو انہوں نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب کہ اس عورت نے اپنے بچے کا دودھ چھڑا دیا تھا اور دودھ پلانے کا ذمہ دار ہونے سے اس کی مراد یہ تھی کہ میں اس بچہ کی کفالت اور پرورش کی ذمہ داری لیتا ہوں اور اپنے اس مفہوم کو انہوں نے مجازاً دودھ پلانے سے تعبیر کیا۔
3529
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إذا زنت أمة أحدكم فتبين زناها فليجلدها الحد ولا يثرب عليها ثم إن زنت فليجلدها الحد ولا يثرب ثم إن زنت الثالثة فتبين زناها فليبعها ولو بحبل من شعر
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم میں سے کسی شخص کی لونڈی، زنا کی مرتکب ہو اور اس کا زنا ظاہر ہوجائے (یعنی اس کی زنا کاری ثابت ہوجائے) تو وہ اس پر حد جاری کرے اور اس کو عار نہ دلائے اگر وہ پھر زنا کی مرتکب ہو تو اس پر حد جاری کرے اور اس کو عار نہ دلائے اور اگر وہ تیسری مرتبہ زنا کی مرتکب ہو اور اس کی زنا کاری ثابت ہوجائے تو اب اس کو چاہئے کہ وہ لونڈی کو بیچ ڈالے اگرچہ بالوں کی رسی (یعنی حقیر ترین چیز) ہی کے بدلے میں کیوں نہ بیچنا پڑے۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
تو ! وہ اس پر حد جاری کرے، یعنی اس کو پچاس کوڑے مارے ! یہ واضح رہے کہ لونڈی غلام کی حد، آزاد مرد عورت کی بہ نسبت آدھی حد ہے اور لونڈی غلام کے لئے سنگساری کی سزا مشروع نہیں ہے۔ حضرت امام شافعی نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ آقا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مملوک پر خود بخود جاری کرے جب کہ حنفی علماء کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، ان کے نزدیک یہ حکم وہ اس پر حد جاری کرے دراصل سبب پر محمول ہے یعنی اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ آقا اپنی زنا کار لونڈی پر جاری ہونے کا سبب اور واسطہ بنے بایں طور کہ وہ اس لونڈی کو حاکم کے سامنے پیش کر دے تاکہ وہ اس پر حد جاری کرے۔ اور اس کو عار نہ دلائے کا مطلب یہ ہے کہ حد جاری ہوجانے کے بعد اس لونڈی پر لعن طعن نہ کرے اور نہ اس کو حد جاری ہونے کی عار وغیرہ دلائے کیونکہ جب اس نے حد کی صورت میں اپنے گناہ کا کفارہ بھر دیا اور وہ گناہ سے پاک ہوگئی تو اب اس پر لعن طعن کیسا اور اسے عار کیوں دلائی جائے ! اور یہ حکم خاص طور پر لونڈی ہی کے لئے نہیں ہے بلکہ آزاد کا بھی یہی حکم ہے لیکن لونڈیاں چونکہ توبیخ وسرزنش کا محل ہوتی ہیں اس لئے خاص طور پر لونڈی کے بارے میں یہ حکم بیان کیا گیا۔ وہ اس لونڈی کو بیچ ڈالے کا مطلب یہ ہے کہ چاہئے تو حد جاری کرنے کے بعد اس کو بیچے اور چاہے حد جاری کرنے سے پہلے ہی بیچ دے لیکن حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حد جاری کرنے سے پہلے ہی بیچ دینا چاہئے۔ امام نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ فاسق وفاجر اور اہل معاصی کے ساتھ رہن سہن کو ترک کردینا اور اس طرح کی لونڈی کو بیچ دینا مستحب ہے لیکن علماء ظواہر کے نزدیک واجب ہے۔
3530
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علي رضي الله عنه قال : يا أيها الناس أقيموا على أرقائكم الحد من أحصن منهم ومن لم يحصن فإن أمة لرسول الله صلى الله عليه و سلم زنت فأمرني أن أجلدها فإذا هي حديث عهد بنفاس فخشيت إن أنا جلدتها أن أقتلها فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : أحسنت . رواه مسلم . وفي رواية أبي داود : قال : دعها حتى ينقطع دمها ثم أقم عليها الحد وأقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم
اور حضرت علی کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا لوگو ! اپنے غلام لونڈیوں پر حد جاری کرو یعنی اگر وہ زنا کے مرتکب ہوں تو پچاس کوڑے مارو خواہ وہ محصن یعنی شادی شدہ ہوں یا غیر محصن۔ رسول کریم ﷺ کی ایک لونڈی نے زنا کا ارتکاب کیا تو آنحضرت ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس پر حد جاری کروں مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ ابھی حال ہی میں اس کی ولادت ہوئی ہے تو مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اس کے پچاس کوڑے مارتا ہوں تو وہ مرجائے گی چناچہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا کہ اس حالت میں اس پر حد جاری نہیں کی۔ (مسلم ) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (جب حضرت علی نے آنحضرت ﷺ سے اس بارے میں ذکر کیا تو) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تک کہ اس کا نفاس کا خون بند نہ ہوجائے اس وقت تک کے لئے اسے چھوڑ دو اس کے بعد اس پر حد جاری کرو اور اپنے بردوں غلام لونڈیوں پر حد جاری کیا کرو۔

تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حد کی سزا اور عورت اگر نفاس کی حالت میں ہو تو اس پر اس وقت تک حد جاری نہ کی جائے جب تک کہ وہ نفاس سے فارغ نہ ہوجائے کیونکہ نفاس ایک طرح کا مرض ہے اور مریض کو اس کے اچھا ہونے تک مہلت دینی چاہئے۔ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مریض، زنا کا مرتکب ہو اور اس کے محصن شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس کو رجم سنگساری کا سزا اور گردانا چکا ہو تو اس کو اسی مرض کی حالت میں رجم کیا جائے اور اگر اس کے غیر محصن غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اس کو کوڑے مارے جانے کا سزا وار گردانا گیا ہو تو پھر اس کو اس وقت تک کوڑے نہ مارے جائیں جب تک کہ وہ اچھا نہ ہوجائے ہاں اگر وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جس سے بچنے کی امید نہ کی جاتی ہو جیسے دق وسل وغیرہ یا وہ ناقص و ضعیف الخلقت ہو تو اس صورت میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ سزا پوری کرنے کے لئے اس کو کھجور کی کسی ایسی بڑی شاخ سے مارا جائے جس میں چھوٹی چھوٹی سو ٹہنیاں ہوں اور وہ شاخ اس کو ایک دفعہ اس طرح ماری جائے کہ اس کی ایک ایک ٹہنی اس کے بدن پر لگ جائے اسی لئے کہا گیا ہے کہ اس مقصد کے لئے پھیلی ہوئی شاخ استعمال کرنا ضروری ہے۔ یہ بھی ملحوظ رہے کہ تلف کے خوف سے کوڑے مارنے کی حد نہ تو شدید گرمی میں جاری کی جائے اور نہ سخت جاڑے میں بلکہ اس کے لئے معتدل موسم کا انتظار کیا جائے۔