hadith book logo

Mishkaat Shareef

50. دعاؤں کا بیان

مشكاة المصابيح

2243
Mishkaat Shareef
صحیح
دعا کے معنیٰ ہیں کہ اعلیٰ ذات سے ادنیٰ چیزوں میں سے کچھ بطریق عاجزی طلب کرنا امام نووی فرماتے ہیں کہ ہر زمانہ میں اور ہر جگہ کے علماء اس بات پر متفق رہے ہیں کہ دعا مانگنا مستحب ہے ان کی دلیل قرآن و حدیث کے ظاہری اور واضح مفہوم کے علاوہ انبیاء (علیہم السلام) کا فعل بھی ہے کیونکہ تمام انبیاء کرام دعا مانگا کرتے تھے۔ لیکن بعض زہاد اور اہل معارف یہ بھی کہنا ہے کہ ترک دعا (یعنی دعا نہ مانگنا) افضل ہے کیونکہ اس طرح رضاء مولیٰ اور اپنی قسمت پر اور تقدیر کے ساتھ راضی ہونے کا مکمل اظہار ہوتا ہے۔ مولانا شاہ محمد اسحق صاحب نے ان زہاد و اہل معارف کے اس قول کے بارے میں کہا ہے کہ یہ قول اس خاص کیفیت پر محمول ہے جو بعض وقت بعض مردان حق پر طاری ہوتی ہے اور جس میں رضاء بقضاء ہی غالب ہوتی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ پیش آیا کہ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ آپ دعا کیجئے اور اپنے پروردگار سے اپنی نجات سلامتی کے لئے درخواست کیجئے تو انہوں نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جل شانہ میرا حال جانتا ہے مجھے کوئی درخواست کرنے اور دعا مانگنے کی ضرورت نہیں ہے
2244
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل نبي دعوة مستجابة فتعجل كل نبي دعوته وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي إلى يوم القيامة فهي نائلة إن شاء الله من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا . رواه مسلم وللبخاري أقصر منه
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہر ایک نبی کے لئے ایک دعا ہے جو قبول کی جاتی ہے چناچہ ہر نبی نے اپنی دعا کے بارے میں جلدی کی لیکن میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کی خاطر قیامت کے دن تک کے لئے محفوظ رکھی ہے پس میری یہ دعا اگر اللہ نے چاہا تو میری امت کے ہر اس شخص کو فائدہ پہنچائے گی۔ جو اس حال میں مرا ہو کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ (مسلم) اور بخاری نے اس روایت کو اس سے کم نقل کیا ہے۔

تشریح
ہر نبی کے لئے ایک دعا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو حکم فرمایا تھا کہ اپنے مخالفین کی تباہی کے لئے بد دعا کرو لہٰذا وہ بد دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اسے منظور فرماتا تھا چناچہ اسی دعا کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو دعا مانگنے کا جو حق دیا تھا اور پھر اس کی قبولیت کا یقین بھی عطا فرمایا تھا تو ہر نبی نے اپنے اس حق کے استعمال میں بہت جلدی کی جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کی ہلاکت و تباہی کے لئے بد دعا کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری امت طوفان میں غرق کردی گئی۔ یا اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کی تباہی کے لئے بد دعا کی اور امت ان کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ایک آواز کے ذریعہ ہلاکت کی وادیوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھپ گئی لیکن میں نے اپنی دعا کو محفوظ رکھا یعنی اپنے مخالفین کی ایذاء پر صبر کیا اور ان کے لئے بد دعا نہ کی۔ کیونکہ میں رحمۃ اللعلمین ہوں میری شان یہ نہیں ہے کہ میں بد دعا کروں اور لوگوں کے لئے تباہی و بربادی کا سامان فراہم کروں میں نے اپنے اس حق کو جو مجھے بھی ملا تھا قیامت تک کے لئے اٹھا رکھا ہے۔ قیامت کے دن میں اس دنیا میں بد دعا کے بجائے ہر اس امتی کے حق میں شفاعت کروں گا جو ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا ہو اگرچہ وہ گنہگار ہی کیوں نہ رہا ہو۔ اس موقع پر اتنی بات اور جان لیجئے کہ شفاعت کئی قسم کی ہوگی بعض لوگ تو آنحضرت ﷺ کی شفاعت کے نتیجہ میں دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوں گے بعض دوزخ سے جلدی نکل آئیں گے بعض جنت میں جلدی داخل ہوں گے اور بعض کے جنت میں درجے بلند ہوں گے۔ اللہم ارزقنا شفاعۃ نبینا علیہ الف الف صلوۃ۔
2245
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم إني اتخذت عندك عهدا لن تخلفنيه فإنما أنا بشر فأي المؤمنين آذيته شتمته لعنته جلدته فاجعلها له صلاة وزكاة وقربة تقربه بها إليك يوم القيامة
حضرت ابوہریرہ (رض) روای ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بارگاہ حق میں یوں دعا کی کہ اے میرے پروردگار ! میں نے تیری خدمت میں ایک درخواست پیش کی ہے تو مجھے اس کی قبولیت سے نواز اور مجھے ناامید نہ کر۔ یعنی میں امیدوار کرم ہوں کہ میری درخواست ضرور ہی منظور ہوگی اور وہ درخواست یہ ہے کہ میں ایک انسان ہوں لہٰذا جس مومن کو میں نے کوئی ایذاء پہنچائی ہو بایں طور کہ میں نے اسے برا بھلا کہا ہو میں نے اس پر لعنت کی ہو میں نے اسے مارا ہو تو ان سب چیزوں کو تو اس مومن کے حق میں رحمت کا سبب گناہوں سے پاکی کا ذریعہ اور اپنے قرب کا باعث بنا دے کہ تو ان چیزوں کے سبب اس کو قیامت کے دن اپنا قرب بخشے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
لفظ فانما انا بشر تمہید ہے عذر کی کہ میں بھی ایک انسان ہوں کبھی کبھی بتقاضائے بشریت کسی پر خفا بھی ہوجاتا ہوں۔ لفظ فای المومنین، اس چیز کی تفصیل اور بیان ہے جس کے لئے آپ ﷺ نے اپنے ارشاد اللہم اتخذت الخ کے ذریعہ بارگاہ حق جل شانہ میں درخواست پیش کی بہرکیف آنحضرت ﷺ کی اس دعا کا حاصل یہ ہے کہ جس مومن کو مجھ سے کوئی بھی ایذاء پہنچ جائے تو اس ایذاء کو اس کے حق میں رحمت وغیرہ کا سبب بنا دے۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ (رض) نے کسی چیز کی طلب میں بہت مبالغہ سے کام لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا دامن پکڑ کر کھڑی ہوگئیں آنحضرت ﷺ نے ان کے اس طرز عمل پر فرمایا کہ قطع اللہ یدک۔ اللہ تعالیٰ تیرا ہاتھ کاٹے۔ حضرت عائشہ (رض) کو یہ بات بہت محسوس ہوئی۔ وہ فورا آپ کا دامن چھوڑ کر ہٹ گئیں اور اپنے حجرہ میں آخر بہت ہی رنجیدہ ملول اور غصہ میں بھر کر بیٹھ گئیں۔ جب آنحضرت ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت عائشہ (رض) کی یہ کیفیت دیکھی تو اس وقت آپ نے ان کو خوش کرنے کے لئے یہ کہا۔ اللہم انی اتخذت عندک عہدا الخ۔ لہٰذا علماء لکھتے ہیں کہ جو شخص کسی کے لئے بد دعا کر بیٹھے تو اس کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ اس بد دعا کے بدلہ میں مذکورہ بالا دعا بھی ضرور کرے۔
2246
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعا أحدكم فلا يقل : اللهم اغفر لي إن شئت ارحمني إن شئت ارزقني إن شئت وليعزم مسألته إنه يفعل ما يشاء ولا مكره له . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے۔ اے اللہ مجھے بخش دے اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر اگر تو چاہے تو مجھے رزق عطا فرما اگر تو چاہے۔ بلکہ چاہئے یہ کہ وہ عزم بالجزم اور یقین و اعتماد کے ساتھ دعا مانگے (شک وشبہ کا کلمہ مثلا اگر تو چاہے وغیرہ کا استعمال نہ کرے) کیونکہ اللہ تعالیٰ تو خود وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اس پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگو جزم و یقین کے ساتھ مانگو یعنی یہی کہو کہ اے اللہ ہمارا فلاں مطلب پورا کر، جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے اس لئے یہ نہ کہو۔ کہ اگر تو چاہے تو ہمارا فلاں مطلب پورا کر دے۔ کیونکہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت دعا میں شک پیدا کرنا ہے حالانکہ قبولیت دعا میں یقین ہونا چاہئے کیونکہ اس نے قبولیت کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا خلاف نہیں کیا کرتا اور پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات چونکہ بےپروا اور مستغنی ہے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں اس پر کسی کا کوئی زور نہیں ہے بلکہ وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اس لئے اپنی دعا کے ساتھ یہ کہنا کہ اگر تو چاہے بالکل بےفائدہ اور لا حاصل ہے۔
2247
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعا أحدكم فلا يقل : اللهم اغفر لي إن شئت ولكن ليعزم وليعظم الرغبة فإن الله لا يتعاظمه شيء أعطاه . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی شخص دعا مانگے تو اس طرح نہ کہے کہ اے اللہ مجھے بخش دے اگر تو چاہے۔ بلکہ بلا کسی شک کے جزم و یقین کے ساتھ اور پوری رغبت کے ساتھ دعا مانگے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو چیز عطا کرتا ہے۔ وہ اس کے لئے مشکل نہیں ہوتی۔ (مسلم)
2248
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يستجاب للعبد ما لم يدع بإثم أو قطيعة رحم ما لم يستعجل . قيل : يا رسول الله ما الاستعجال ؟ قال : يقول : قد دعوت وقد دعوت فلم أر يستجاب لي فيستحسر عند ذلك ويدع الدعاء . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بندے کی دعا شرائط قبولیت کے بعد قبول کی جاتی ہے جب تک وہ گناہ کی یا ناطہ توڑنے کی دعا نہیں مانگتا اور جب تک کہ جلدی نہیں کرتا۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ جلدی کا کیا مطلب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا دعا مانگنے والا بار بار کہنے لگے کہ میں نے دعا مانگی یعنی اکثر میں نے دعا مانگی لیکن میں نے اسے قبول ہوتے نہیں دیکھا۔ اور پھر وہ تھک کر بیٹھ جائے اور دعا مانگنی ہی چھوڑ دے۔ (مسلم)

تشریح
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے جہاں جزم و یقین اور اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ شرط ہے وہیں یہ بات بھی ضروری ہے کہ دعا ان ہی چیزوں کے لئے مانگی جائے جو عادتا مانگی جاتی ہوں اور مباح ہوں، لہٰذا یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ مومن کی دعا اسی وقت قبول ہوتی ہے جب کہ وہ نہ گناہ کی کوئی چیز طلب کرے اور نہ ناطہ توڑنے کی دعا کرے اور نہ جلد بازی سے کام لے۔ گناہ کی چیز مانگنے کا مطلب یہ کہ کوئی شخص یہ دعا مانگنے لگے کہ اے اللہ ! مجھے فلاں شخص کو (جو مسلمان ہے) قتل کردینے کی طاقت عطا فرما، یا یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے شراب یا کوئی حرام و غیر حلال چیز عطا کر یا یہ کہے کہ اے اللہ فلاں شخص کو بخش دے درآنحالیکہ اس بارے میں یقین ہے کہ وہ کافر مرا ہے۔ ، ظاہر ہے اس قسم کی دعا مانگنا اور پھر ان کی قبولیت کی توقع ہی رکھنا دیدہ دلیری ہی کہا جاسکتا ہے اس طرح محال اور غیر ممکن الوقوع چیزوں کی دعا مانگنا اور ان کی قبولیت کی امید رکھنا بھی انتہائی حماقت اور بےوقوفی کی بات ہے مثلا کوئی عقل کا اندھا یہ دعا مانگے کہ اے اللہ ! تو مجھے دنیا ہی میں حالت بیداری میں اپنا دیدار عطا فرما۔ ناطہ توڑنے کی دعا، کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بد باطن شخص یہ دعا مانگنے لگے کہ اے اللہ ! مجھ میں اور میرے باپ میں جدائی اور تفریق کر دے۔ یہ حدیث کا مفہوم کے مطابق مومن کی ایسی غیر ایمانی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات بندہ مومن کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اگر قبولیت دعا میں تاخیر محسوس ہو تو تھک کر بیٹھ جائے اور دعا مانگنا ہی چھوڑ دے۔ کیونکہ دعا بھی عبادت ہے اور عبادت سے اس طرح اکتاہٹ یا دل گرفتگی مومن کے لئے کسی بھی حال میں مناسب نہیں ہے۔ پھر یہ کہ قبولیت دعا میں تاخیر یا تو اس لئے ہوتی ہے کہ اس کا وقت نہیں آتا کیونکہ ازل ہی میں ہر چیز کے وقوع اور تکمیل کا ایک وقت مقرر ہے جب تک وہ وقت نہیں آتا وہ چیز بھی وقوع پذیر نہیں ہوتی یا یہ دعا مانگنے والا جو دعا مانگتا ہے اس کی تقدیر میں اس کی دعا کا اس دنیا میں قبول ہونا لکھا نہیں ہوتا اس صورت میں اسے اس کے بدلہ میں آخرت کا ثواب عطا کیا جاتا ہے یا پھر قبولیت میں تاخیر اس لئے ہوتی ہے کہ دعا مانگنے میں پوری عاجزی و انکساری، سچی لگن اور تڑپ اور کمال عبودیت کا اظہار کرتا رہے کیونکہ دعا میں ان چیزوں کو اختیار کرنے والے کو اللہ تعالیٰ بہت پسند کرتا ہے۔
2249
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي الدرداء رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعوة المسلم لأخيه بظهر الغيب مستجابة عند رأسه ملك موكل كلما دعا لأخيه بخير قال الملك الموكل به : آمين ولك بمثل . رواه مسلم
حضرت ابودرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلم بندہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ دعا کرتا ہے تو وہ قبول کی جاتی ہے۔ دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ متعین کردیا جاتا ہے جب وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ متعین شدہ فرشتہ کہتا ہے کہ اے اللہ اس کی دعا قبول کر اور (یہ بھی کہتا ہے کہ) تیرے لئے بھی ایسا ہی ہو۔ (مسلم)

تشریح
یہاں تو بطور خاص اس دعا کی قبولیت کی بشارت دی گئی ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے اس کی عدم موجودگی میں زبان سے نکلے لیکن ایسے ہی اگر کوئی کسی مسلمان کے لئے اس کے سامنے اپنے دل میں چپکے سے دعا کرے تو وہ دعا بھی اس بشارت کے تحت آتی ہے کیونکہ جس طرح غائبانہ دعا میں خلوص کار فرما ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں دعا قبول ہوتی ہے اسی طرح اس کی موجودگی میں اپنے دل میں یا چپکے سے دعا کرتے وقت بھی پوری طرح خلوص ہی کی کار فرمائی ہوتی ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ دعا قبول کرنے والے کے ساتھ جو فرشتہ متعین کیا جاتا ہے کہ وہ دعا کے وقت بارگاہ حق شانہ میں یہ سفارش پیش کرتا ہے کہ الٰہی اس شخص کی دعا اس کے بھائی کے حق میں قبول فرما اور پھر وہ دعا کرنے والے کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ جس طرح اس دعا کے نتیجہ میں تیرا بھائی خیر و بھلائی کو پہنچے گا۔ اسی طرح اللہ کرے کہ تجھے بھی خیر و بھلائی حاصل ہو۔
2250
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تدعوا على أنفسكم ولا تدعوا على أولادكم لا توافقوا من الله ساعة يسأل فيها عطاء فيستجيب لكم . رواه مسلم وذكر حديث ابن عباس : اتق دعوة المظلوم . في كتاب الزكاة
حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے لئے بد دعا نہ کرو اپنی اولاد کے لئے بد دعا نہ کرو اور نہ اپنے مال غلام لونڈیوں جانوروں اور دوسرے مال و اسباب کے لئے بد دعا کرو تاکہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ ساعت حاصل نہ ہوجائے جس میں اللہ ہر سوال پورا کرتا ہے اور پھر تمہاری بد دعا قبول ہوجائے گی۔ (مسلم)

تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کچھ اوقات ایسے ہوتے ہیں جس میں حق تعالیٰ کی بارگاہ میں ہر دعا کو شرف قبولیت سے نوازا جاتا ہے اس لئے کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جس وقت اپنے لئے یا اپنی اولاد یا اپنے مال کے لئے بد دعا کر رہے ہو وہی وقت قبولیت دعا کا ہو اور پھر تمہاری بد دعا قبول ہوجائے جس کے نتیجے میں نقصان و خسران بھی ہو اور پشیمانی بھی ہو لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ جو نادان کسی مصیبت و تکلیف یا غصہ کے وقت اپنے لئے یا اپنی اولاد کے لئے اپنے اموال کے لئے بد دعا کرتے ہیں وہ مناسب نہیں ہے۔ وذکر حدیث ابن عباس اتق دعوۃ المظلوم فی کتاب الزکوۃ اور ابن عباس (رض) کی حدیث مظلوم کی دعا سے ڈرو الخ کتاب الزکوۃ میں نقل کی جا چکی ہے۔
2251
Mishkaat Shareef
صحیح
عن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدعاء هو العبادة ثم قرأ : ( وقال ربكم ادعوني أستجب لكم ) رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه
حضرت نعمان بن بشری (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دعا ہی عبادت ہے۔ اور پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ اور تمہارے پروردگار نے کہہ دیا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)

تشریح
گویا آپ ﷺ نے بطور مبالغہ فرمایا کہ۔ دعا ہی عبادت ہے۔ کیونکہ دعا وہ عبادت ہے جس میں بندہ حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اللہ کی ذات کے علاوہ ہر ایک ذات سے استغنا برتتا ہے اللہ کی ذات کے علاوہ اور کسی سے نہ ڈرتا ہے نہ امید رکھتا ہے اور پھر یہ کہ دعا میں اخلاص ہوتا ہے اللہ کی حمد و شکر گزاری ہوتی ہے اللہ سے سوال کیا جاتا ہے اللہ کی وحدانیت کو ظاہر کیا جاتا ہے اپنے مقصد اور مطلب کے حصول کے لئے اللہ ہی کی طرف توجہ اور رغبت ہوتی ہے اللہ کی مناجات کی جاتی ہے اللہ کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل و کمتر و عاجز کر کے کمال عبودیت کا اظہار کیا جاتا ہے اور اللہ سے فریاد کی جاتی ہے اور اس سے مدد مانگی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے ارشاد کی توثیق کے سلسلہ میں بطور دلیل قرآن کریم کی آیت اس لئے پڑھی کہ اس سے معلوم ہوجائے کہ دعا مامور بہ ہے یعنی دعا کرنے کا حکم دیا گیا اور اس حکم کی تعمیل یعنی دعا مانگنے پر ثواب دیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز اس درجہ کی ہوتی ہے اسے ہی عبادت کہتے ہیں کہ اس آیت کا آخری حصہ بھی دلالت کرتا ہے کہ دعا عبادت ہے چناچہ آگے فرمایا گیا ہے۔ آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) 40 ۔ غافر 60) ۔ جو لوگ میری عبادت یعنی دعا کے سلسلہ میں تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل و خوار ہو کر دوزخ میں داخل ہوں گے۔
2252
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدعاء مخ العبادة . رواه الترمذي
حضرت انس (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ دعا عبادت کا خلاصہ ہے اور اس کا مقصود باالذات ہے کیونکہ عبادت کی حقیقت اور اس کا خلاصہ عاجزی اور اپنے آپ کو ذلیل و کمتر سمجھنا ہے اور یہی چیز دعا میں حاصل ہوتی ہیں۔