hadith book logo

Mishkaat Shareef

177. سیدالمرسلین کے فضائل ومناقب کا بیان

مشكاة المصابيح

5642
Mishkaat Shareef
صحیح
آنحضرت ﷺ کے فضائل ومناقب اور آپ ﷺ کی ذات ستودہ صفات کے اوصاف حمیدہ اور فضائل کبری کا کوئی شمار نہیں، کسی زبان وقلم کو تاب نہیں کہ آپ ﷺ کے تمام فضائل اور اوصاف کا احاطہ کرسکے، تاہم مؤلف مشکوٰۃ نے ان میں سے کچھ فضائل کے متعلق احادیث و روایات کو اس باب کے تحت جمع کیا ہے۔ اس بات پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام اولاد آدم کے سردار ہیں، انبیاء میں سب سے افضل و اشرف آپ ﷺ ہی ہیں، آپ ﷺ کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) افضل ہیں، پھر حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کس کا درجہ ہے اس بارے میں صراحت کے ساتھ علماء سے منقول نہیں ہے، ویسے بعض علماء نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کو افضل و اشرف کہا ہے اور لکھا ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) کی طویل فہرست میں یہ پانچ نبی اولو العزم سمجھے جاتے ہیں اور راہ حق میں ان کے صبر و استقامت اور عزیمیت کا درجہ بےمثال ہے۔
5643
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بعثت من خير قرون بني آدم قرنا فقرنا حتى كنت من القرن الذي كنت منه . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھ کو یکے بعد دیگرے ہر قرن کے بنی آدم کے بہترین طبقوں میں منتقل کیا جاتا رہا، یہاں تک کہ میں اس موجودہ قرن میں پیدا کیا گیا۔ (بخاری)

تشریح
بہترین طبقوں سے مختلف زمینوں کا ہر وہ طبقہ مراد ہے جس میں آنحضرت ﷺ کے آباء و اجداد تھے اور جو اپنے اپنے عہد میں اپنی خاندانی نجابت و شرافت اور انسانی فضل و کمال کے اعتبار سے ممتاز و نمایاں اور قابل تکریم و احترام رہا ہے جیسے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد، ان کے بعد کے عہد میں کنانہ اور ان کی اولاد، ان کے بعد کے عہد میں ہاشم اور ان کی اولاد۔ پس اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہوا کہ میرا سلسلہ نسب شروع سے لے کر اب تک نسل انسانی کے نہایت مفتخر ومعزز افراد پر مشتمل ہے میرے آباء و اجداد کہ جن کی پشت در پشت منتقل ہوتا ہوا میں اس زمانہ میں پیدا ہوا ہوں اپنے اپنے عہد و زمانہ کے وہ ممتاز و نمایاں افراد تھے جن کی ذات خاندانی نجابت و شرافت، سماجی عزت و شوکت، مجلسی تہذیت ومتانت، قومی و وطنی مقبولیت ومرجعیت، ذاتی برگزیدگی وافضلیت اور انسانی خصائل و فضائل کا منبع رہی ہے۔
5644
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن واثلة بن الأسقع قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله اصطفى كنانة من ولد إسماعيل واصطفى قريشا من كنانة واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم . رواه مسلم وفي رواية للترمذي : إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من ولد إسماعيل بني كنانة
اور حضرت واثلہ ابن اسقع (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں کنانہ کو چنا اور اولاد کنانہ سے قریش کو چنا اور اولاد قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چنا (مسلم) اور ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں اسماعیل (علیہ السلام) کو برگزیدہ کیا اور اولاد اسماعیل میں، بنی کنانہ کو برگزیدہ کیا۔

تشریح
آنحضرت ﷺ کا نسلی ونسبی تعلق حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے ہے، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بیٹے قیدار کی اولاد میں ایک شخص عدنان تھے، انہی عدنان کی اولاد بن اسماعیل کے تمام مشہور قبائل پر مشتمل ہے، اسی لئے عرب مستعربہ بنی اسماعیل کو عدنانی یا آل عدنان کہا جاتا ہے عدنان کے بیٹے معد اور معد کے بیٹے نزار تھے، نزار کے جو چار مشہور بیٹے بتائے جاتے ہیں ان میں سے دو بیٹے ربیعہ اور مضر سب سے زیادہ نامور اور جزیرہ نما عرب کے بڑے قبائل کے مورث ہیں، مضر کی اولاد میں آگے چل کر ایک شخص کنانہ ہوئے اور ان کی اولاد مضر کے قبائل میں سب سے زیادہ مشہور و معروف قبیلہ پر مشتمل ہوئی، کنانہ کے بیٹے نضر اور نضر کے بیٹے مالک اور مالک کے بیٹے فہر تھے، یہی وہ فہر ہیں جن کا لقب قریش تھا، فہر کی اولاد میں بہت سے قبائل ہوئے اور سب قریش کہلاتے ہیں یہ تمام قبائل مختلف علاقوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ان کے درمیان نہ باہمی ربط و اتفاق تھا اور نہ کوئی اجتماعی نظام تھا۔ پھر ایک شخص قصی بن کلاب پیدا ہوئے، انہوں نے بڑی محنت اور جدوجہد کرکے تمام قریش کو منظم کیا، ان میں اجتماعیت اور بیداری کی روح پھونکی جس کی بدولت قریش نے نہ صرف مکہ معظمہ بلکہ تمام حجاز پر غلبہ و اقتدار حاصل کرلیا۔ اسی وجہ سے بعض حضرات یہ کہتے ہیں قریش اصل میں قصی بن کلاب کا لقب ہے، کیونکہ یہ لفظ (قریش) قرش سے نکلا ہے جس کے معنی جمع کرنے اور منظم کرنے کے ہیں۔ ویسے زیادہ مشہور یہ ہے کہ قریش ایک سمندری جانور کا نام ہے جو نہایت قوت اور زور رکھتا ہے، اس کی تائید حضرت ابن عباس کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ قریش کا نام اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ قریش (قرش) ایک بڑی خطرناک مچھلی کا نام ہے جو سب مچھلیوں کو نگل لیتی ہے لیکن خود اس کو نہ کوئی مچھلی گزند پہنچاتی ہے نہ اس پر قابوپاتی ہے۔ یہی وجہ تسمیہ قاموس میں بھی مذکور ہے۔ ظہور اسلام کے وقت قریش کی شاخوں میں سے جو شاخ سب سے زیادہ مشہور باعزت اور غالب تھی وہ بنوہاشم ہے، آنحضرت ﷺ بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے محمد ﷺ بن عبداللہ ابن عبد المطلب ابن ہاشم ابن عبدمناف ابن قصی ابن کلاب ابن مرۃ ابن کعب ابن لوی ابن غالب ابن فہر ابن مالک ابن نضر ابن کنانہ ابن خزیمہ ابن مدرک ابن الیاس ابن مضر ابن نزار ابن معد ابن عدنان۔ عدنان سے پہلے کا نسب نامہ زیادہ وثوق کے ساتھ نہیں بتایا جاسکتا۔ اس کی تفصیل کی روشنی میں حدیث کا مفہوم واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو سب سے زیادہ برگزیدگی و عظمت آنحضرت ﷺ کو حاصل ہوئی، پس آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اپنے سلسلہ نسب کی تمام تر برگزیدگیوں اور عظمتوں کانچوڑ ہے۔
5645
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا سيد ولد آدم يوم القيامة وأول من ينشق عنه القبر وأول شافع وأول مشفع . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے قبر سے میں ہی اٹھوں گا نیز سب سے پہلے میں ہی شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول ہوگی۔ (مسلم )

تشریح
مطلب یہ کہ قیامت کے دن تمام انسانی کمالات وصفات اور تمام تر عظمتوں اور ان کا مظہر آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ہوگی، اس دن مخلوقات میں سے نہ کسی کا درجہ آپ ﷺ سے بڑا ہوگا اور نہ آپ ﷺ کے علاوہ کوئی اور ذات سرداری وسربراہی کی سزا وار قرار پائے گی۔ واضح رہے کہ محمد عربی ﷺ دنیا و آخرت دونوں جہاں میں تمام لوگوں کے سردار وآقا ہیں، لیکن قیامت کے دن کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ اس دن آنحضرت ﷺ کی سرداری اور برتری کا ظہور کسی بھی شخص کے اختلاف وعناد کے اظہار کے بغیر ہوگا، جب کہ اس دنیا میں کفر شرک اور نفاق کی طاقتیں نہ صرف حیات مبارک میں آپ ﷺ کی سرداری و برتری کی مخالف ومعاند رہیں بلکہ بعد میں بھی ان کا اختلاف وعناد ظاہر رہا۔ اس حدیث کے بین السطور سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ فرشتوں پر بھی فضیلت و برتری رکھتے ہیں اور آپ ﷺ کی ذات افضل المخلوقات کو اکمل الموجودات ہے چناچہ بعض حدیثوں میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ پیغمبروں کو ایک دوسرے پر فضیلت نہ دو اور نہ مجھ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) سے افضل کہو، تو اس کی مخالف کی توجیہہ پیچھے گذر چکی ہے۔
5646
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة وأنا أول من يقرع باب الجنة . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن پیغمبروں میں سے جس پیغمبر کے ماننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی وہ میں ہوں گا اور جنت کا دروازہ سب سے پہلے جو شخص کھٹکھٹائے گا (یعنی کھلوائے گا) وہ بھی میں ہی ہوں گا (مسلم)

تشریح
قیامت کے دن امت محمدیہ کی تعداد کی کثرت کے بارے میں پہلے ایک حدیث گذر چکی ہے کہ آپ ﷺ کی امت تمام اہل جنت کی مجموعی تعداد کا دو تہائی حصہ ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کی اتباع اور پیروی کرنے والوں کی کثرت، اس شخص کی فضیلت و برتری کا باعث بنتی ہے، اس لئے کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مرتبہ زیادہ ہے کیونکہ ائمہ فقہ میں سے ان ہی کا مسلک زیادہ رائج ہے اور مسلمانوں کی اکثریت اسلام کے فروعی احکام میں ان ہی کی پیروکار ہے، اسی طرح قاریوں میں امام عاصم کا مرتبہ بلند تر ہے کیونکہ فن تجویدوقرأت میں ان کے پیروکار زیادہ ہیں۔
5647
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آتي باب الجنة يوم القيامة فأستفتح فيقول الخازن : من أنت ؟ فأقول : محمد . فيقول : بك أمرت أن لاأفتح لأحد قبلك . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کے دن میں جنت کے دروازے پر آؤں گا اور اس کو کھلواؤں گا تو جنت کا نگہبان پوچھے گا کہ تم کون ہو ؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ﷺ ہوں۔ تب نگہبان کہے گا مجھ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لئے دروازہ نہ کھولوں۔ (مسلم )
5648
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أول شفيع في الجنة لم يصدق نبي من الأنبياء ما صدقت وإن من الأنبياء نبيا ما صدقه من أمته إلا رجل واحد . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں سب سے پہلے سفارش کرنے والا میں ہوں گا (یعنی اپنی امت کو) جنت میں داخل کرنے کی یا اہل جنت کی مراتب درجات کی ترقی کی سفارش سب سے پہلے میں کروں گا) انبیاء میں سے جتنی تصدیق میری کی گئی ہے اتنی کسی کی نہیں کی گئی ہے (یعنی میری نبوت و رسالت کی تصدیق کرنے والوں اور مجھ پر ایمان لانے اور رکھنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس طرح تمام امتوں کے مقابلہ میں میری امت سب سے بڑی ہے) اور حقیقت یہ ہے کہ انبیاء میں سے ایک نبی ایسے بھی گذرے ہیں جن کی تصدیق صرف ایک مرد نے کی ہے۔ (مسلم)
5649
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثلي ومثل الأنبياء كمثل قصر أحسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف النظار يتعجبون من حسن بنيانه إلا موضع تلك اللبنة فكنت أنا سددت موضع اللبنة ختم بي البنيان وختم بي الرسل . وفي رواية : فأنا اللبنة وأنا خاتم النبيين . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میری اور دوسرے تمام انبیاء کی مثال اس محل کی سی ہے جس کے درودیوار نہایت شاندار اور عمدہ ہوں، لیکن اس دیوار میں اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی ہو اور جب لوگ اس محل کے گرد پھر کر عمارت کو دیکھیں تو عمارت کی شان و شوکت اور درودیوار کی خوشنمائی انہیں حیرت میں ڈال مگر ایک اینٹ کے بقدر اس خالی جگہ کو دیکھ کر انہیں سخت تعجب ہو پس میں اس اینٹ کی جگہ بھرنے والا ہوں، اس عمارت کی تکمیل میری ذات سے ہے اور انبیاء ورسل کے سلسلہ کا اختتام مجھ پر ہوگیا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ پس میں ہی وہ اینٹ ہوں (جس کی جگہ خالی رکھی گئی تھی) اور میں ہی نبیوں کے سلسلہ کو پایہ اختتام تک پہنچانے والا ہوں۔

تشریح
یہ حدیث آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی واضح دلیل ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے دنیا میں اپنے رسول اور نبی بھیجنے کا جو سلسلہ انسان اول حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع کیا تھا وہ محمد عربی ﷺ پر آ کر ختم ہوگیا آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی اور رسول اس دنیا میں آیا ہے اور نہ آئندہ کبھی آئے گا۔ اسی حقیقت کو آنحضرت ﷺ نے بڑے نفسیاتی طریقہ سے ایک مثال کے ذریعہ فرمایا کہ مجھ سے پہلے دنیا میں جتنے اور رسول آئے وہ اللہ کی طرف سے جو شریعت، آئین ہدایت، علم ودین اور پیغام و احکام لائے ان کا مجموعہ کو ایک ایسا محل تصور کرو جو نہایت شاندار، مضبوط و پختہ اور دیدہ زیب ہو، لیکن اس کی دیوار میں ایک اینٹ کے برابر جگہ خالی چھوڑ دی گئی ہو اور وہ خالی جگہ کسی ایسے شخص کی منتظر ہو جو آکر اس کو پر کردے اور اس خالی جگہ کے نقص کو پورا کرکے محل کی تعمیر کا سلسلہ ختم کردے۔ پس آنحضرت ﷺ نے پہلے آنے والے انبیاء کی بعثت، ان کی لائی ہوئی شریعت و ہدایت اور ان کے تبلیغ و ارشاد کے ذریعہ دین کا محل گویا تیار ہوچکا تھا، لیکن کچھ کسر باقی رہ گئی تھی، وہ کسر ہمارے حضرت محمد ﷺ کی بعثت مبارکہ سے پوری ہوگئی، اب نہ اللہ کا دین ناقص ہے، نہ شریعت حقہ غیر مکمل ہے اور نہ کسی نبی کے آنے کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔
5650
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من الأنبياء من نبي إلا قد أعطي من الآيات ما مثله آمن عليه البشر وإنما كان الذي أوتيت وحيا أوحى الله إلي وأرجو أن أكون أكثرهم تابعا يوم القيامة . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے ہر ایک نبی کو معجزات میں صرف اتنا دیا گیا جس پر انسان ایمان لاسکے اور جو معجزہ مجھ کو ملاوہ اللہ کی وحی ہے جو اس نے میری طرف بھیجی (اور جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے) اس کی بناء پر مجھے یقین ہے کہ قیامت کے دن میرے ماننے والوں کی تعداد تمام انبیاء کے ماننے والوں سے زیادہ ہوگی۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام چونکہ مخلوق کے سامنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسالت ونبوت کا دعوی کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو کچھ ایسے معجزے عطا فرماتا ہے جس کو وہ اپنے دعوے کی دلیل وبرہان کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرسکیں، چناچہ جتنے بھی نبی اور رسول اس زمین پر آئے ان کو کسی نہ کسی نوعیت کا ایسا معجزہ دیا گیا جس کو دیکھ کر عقل سلیم رکھنے والا انسان اس نبی کی تصدیق کرسکے اور اس پر ایمان لاسکے لیکن آنحضرت ﷺ سے پہلے جس نبی کو جو بھی معجزہ دیا گیا وہ اس نبی کے زمانہ اور اس کی حیات تک مخصوص اور باقی رہا، اس نبی کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ اس کا معجزہ بھی ختم ہوگیا، مثلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں سحر اور جادو کا زبردست چرچا تھا، بڑے بڑے جادوگر اپنے فن کا کمال دکھایا کرتے تھے اور لوگ ان کے فن کے کمال سے متاثر ہوتے تھے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یدبیضا اور عصا کا معجزہ دیا گیا ان کے دونوں معجزوں نے تمام چھوٹے بڑے جادوگروں کا چراغ گل کردیا اور نہ صرف عام لوگوں کو بلکہ خود ان جادوگروں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عظمت کا اعتراف کرنا پڑا، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طب و حکمت کا بڑا زور تھا اس وقت ایسے ایسے قابل اور ماہر فن طبیب اور حلیم موجود تھے جو پیچیدہ سے پیچیدہ دکھ اور بیماری کو جڑ سے اکھیڑ دیا کرتے تھے، چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معجزہ عطا ہوا کہ وہ مردوں کو زندہ کردیتے تھے، کوڑھی کو تندرست اور اندھے کو بینابنا دیتے تھے، اس طرح ان کا یہ معجزہ اپنے زمانہ کے نہایت ترقی یافتہ طب و حکمت پر غالب رہا، لیکن نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ان کے بعد باقی رہا اور نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو دائمی حیثیت حاصل ہوئی۔ تمام انبیاء کے برخلاف آنحضرت ﷺ کو قرآن کریم کی صورت میں جو سب سے بڑا معجزہ عطا ہوا اس کو دائمی حیثیت حاصل ہوئی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں فصاحت و بلا غت کا زور تھا، عرب فصحاء کا دعوی تھا کہ ان کی فصاحت و بلاغت کے سامنے دنیا کے تمام لوگ گونگے ہیں چناچہ آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم نازل کیا گیا جس کی فصاحت و بلاغت نے عرب کے بڑے سے بڑے فصیح وبلیغ کی فصاحت و بلاغت کو مانند کردیا، اپنی زبان دانی اور معجز بیانی کا بلند بانگ دعوی کرنے والے مغلوب ہوگئے، تمام فصیح مل کر بھی قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت جیسا کلام بھی پیش نہ کرسکے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس عظیم معجزہ کو قیامت تک کے لئے باقی رکھا جو ہر زمانے اور ہر طبقہ میں سید العٰلمین ﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت پر پوری حقانیت اور یقین کے ساتھ گواہی پیش کرتا رہا ہے اور پیش کرتا رہے گا۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ مجھے عطا کیا جانے والا یہ عظیم معجزہ چونکہ قیامت تک باقی رہے گا اور لوگ برابر اس پر لاتے رہیں گے اس لئے قیامت کے دن اکثریت ان اہل ایمان کی ہوگی جو میری نبوت و رسالت پر عقیدہ رکھنے والے اور میرے اس معجزہ قرآن کریم کو ماننے والے ہونگے۔
5651
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطيت خمسا لم يعطهن أحد قبلي : نصرت بالرعب مسيرة شهر وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا فأيما رجل من أمتي أدركته الصلاة فليصل وأحلت لي المغانم ولم تحل لأحد قبلي وأعطيت الشفاعة وكان النبي يبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلى الناس عامة . متفق عليهوعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فضلت على الأنبياء بست : أعطيت جوامع الكلم ونصرت بالرعب وأحلت لي الغنائم وجعلت لي الأرض مسجدا وطهورا وأرسلت إلى الخلق كافة وختم بي النبيون . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی و رسول کو عطا نہیں ہوئیں، ایک تو مجھ کو اس رعب کے ذریعہ نصرت عطا ہوئی ہے جو ایک مہینے کی مسافت کی دوری پر اثر انداز ہوتا ہے دوسرے ساری زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا، چناچہ میری امت کا ہر (وہ) شخص (جس پر نماز واجب ہو) جہاں نماز کا وقت پائے (اگر پانی نہ ہو تو تیمم کرکے) نماز پڑھ لے، تیسرے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا، جو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا چوتھے مجھ کو شفاعت عظمی عامہ کے مرتبہ فرمایا گیا اور پانچویں مجھ سے پہلے ہر نبی کو خاص طور پر اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا جب کہ مجھ کو روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ( بخاری ومسلم)

تشریح
مجھ کو اس رعب کے ذریعہ نصرت عطا ہوئی ہے۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اور اسلام کے دشمنوں اور مخالفوں کے مقابلہ پر مجھے اس خصوصیت کے ساتھ فتح ونصرت عطا فرماتا ہے کہ ان کے دلوں میں میرا رعب اور خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ مجھ سے ایک مہینہ کی مسافت کی دوری پر بھی ہوتے ہیں تو میرے نام ہی سے ان کی ہمت پست ہوجاتی ہے اور مارے رعب و دہشت کے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ، ساری زمین کو میرے لئے مسجد۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے پہلے کے رسولوں اور نبیوں کی شریعت میں ہر جگہ نماز پڑھنا اور عبادت کرنا درست نہیں تھا ان کی نمازوعبادت کے لئے جو جگہ عبادت خانہ کے طور پر متعین اور مخصوص ہوتی تھی بس وہیں نماز و عبادت ہوسکتی تھی لیکن مجھے یہ خصوصیت عطاء ہوئی کہ میں اور میری امت کے لوگ بیت الخلاء وغسل خانہ اور مقبرہ کے علاوہ پوری روئے زمین پر جس جگہ اور جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں الاّ یہ کہ کسی جگہ کی ناپاکی کا علم یقین کے ساتھ ہوجائے تو اس جگہ نماز پڑھنا جائز نہیں اسی طرح گذشتہ امتوں میں پانی کے بغیر پاکی حاصل نہیں ہوتی تھی لیکن ہمارے لئے یہ جائز قرار دیا گیا ہے کہ اگر کہیں پانی دستیاب نہ ہو یا پانی کے استعمال میں کوئی شرعی عذر حائل ہو تو پاک مٹی کے ذریعہ تیمم کرکے پاکی حاصل کی جاسکتی ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا کی وضاحت یہ ہے کہ مال غنیمت کے بارے میں گذشتہ امتوں میں جو یہ معمول تھا کہ حاصل ہونے والا مال غنیمت اگر جانوروں کے علاوہ کسی اور جنس کا ہوتا تو اس کو جمع کرکے ایک جگہ رکھ دیا جاتا اور پھر آسمان سے ایک آگ اترتی اور وہاں جمع شدہ تمام مال و اسباب کو جلا کر واپس چلی جاتی اور اگر مال غنیمت مویشوں اور جانوروں کی صورت میں ہوتا تو اس کے حقدار صرف وہی لوگ ہوتے تھے جو اس کو دشمنوں سے چھنتے اور اس پر قبضہ کرتے تھے نبی اور رسول کو اس میں سے کچھ نہ ملتا لیکن ہمارے حضرت محمد ﷺ کے لئے نہ صرف یہ کہ خمس یعنی مال غنیمت کا پانچوں حصہ بلکہ صفی بھی لینا جائز کیا گیا ہے صفی اس چیز کو کہتے ہیں جو مال غنیمت میں سب سے اچھی ہو چناچہ مال غنیمت میں جو چیز سب سے اچھی معلوم ہوتی تھی جیسے تلوار وغیرہ اس کو آنحضرت ﷺ اپنے لئے مخصوص فرمالیتے تھے مجھے کو شفاعت عظمی عامہ کے مرتبے سے سرفراز فرمایا گیا قیامت کے دن یہ مرتبہ خاص صرف آنحضرت ﷺ کو حاصل ہوگا اور شفاعت کے جتنے بھی مواقع اور مقام ہوں گے وہ سب آنحضرت ﷺ کے اسی مرتبہ کے تحت ہوں گے اس بارے میں تفصیلی بحث باب شفاعتہ میں گذر چکی ہے مجھ کو روئے زمین کے تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا کہ بارے میں یہ ذہن نشین رہے کہ آنحضرت ﷺ کی رسالت صرف انسانوں کی تک محدود نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ کی بعثت جنات کی طرف بھی ہوئی ہے اپنی رسالت کے ذریعہ جس طرح آپ ﷺ روئے زمین کے تمام انسانوں تک اللہ کا پیغام ہدایت پہنچایا اسی طرح جنات کی بھی ہدایت فرمائی اسی لئے آپ ﷺ کو رسول الثقلین کہا جاتا ہے ہوسکتا ہے کہ جس وقت آپ ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی اس وقت تک جنات کی طرف آپ ﷺ کی بعثت نہ ہوئی ہو بعد میں ہوئی ہو اور اسی وجہ سے اس حدیث میں جنات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے چھ چیزوں کے ذریعہ دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے، (١) مجھے جامع کلمات عطاء ہوئے (٢) دشمنوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے کے ذریعہ مجھے فتح ونصرت عطا فرمائی گئی (٣) مال غنیمت میرے لئے حلال ہوا (٤) ساری زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی قرار دیا گیا، (٥) ساری مخلوق کے لئے مجھے نبی بنا کر بھیجا گیا (٦) اور نبوت و رسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا۔ (مسلم) تشریح مجھے جامع کلمات عطا ہوئے۔ کا مطلب یہ ہے کہ دین کی حکمتیں اور احکام، ہدایت کی باتیں اور مذہبی و دنیاوی امور سے متعلق دوسری چیزوں کو بیان کرنے کا ایسا مخصوص اسلوب مجھے عطا فرمایا گیا جو نہ پہلے کسی نبی اور رسول کو عطا ہوا اور نہ دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے فصیح وبلیغ کو نصیب ہوا ! اس اسلوب کی خصوصیت یہ ہے کہ تھوڑے سے الفاظ کے ایک چھوٹے سے جملہ میں معانی و مفہوم کا ایک گنجینہ پہناں ہوتا ہے، پڑھئے اور لکھئے تو چھوٹی سی سطر بھی پوری نہ ہو، لیکن اس کا فہم اور وضاحت بیان کیجئے تو کتاب کی کتاب تیار ہوجائے، چناچہ آنحضرت ﷺ کے اقوال و ارشادات میں اس طرح کے کلمات کی ایک بڑی تعداد ہے جن کو جوامع الکلم سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان میں سے چند کلمات کو بطور مثال یہاں نقل کیا جاتا ہے ١ انماالاعمال بالنیات۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اعمال کا مدار نیتوں پر ہے۔ ٢ ومن حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ۔ بےفائدہ بات کو ترک کردینا آدمی کے اسلام کا حسن ہے۔ ٣ الدین النصیحۃ۔ دین خیر خواہی کا نام ہے ٤ العدۃ دین وعدہ۔ وعدہ، بمنزلہ دین کے ہے۔ ٥ المستشارموتمن جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانتدار ہے۔ بعض علماء نے بڑی محنت اور دیدہ ریزی سے کام لے کر احادیث کے ذخائر میں سے اس طرح کی حدیثوں کو، جو جوامع الکلم میں سے ہیں چنا ہے (اور انکا مجموعہ تیار کیا ہے ! بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ مجھے جوامع الکلم یعنی جامع کلمات عطا ہوئے ہیں۔ میں جوامع الکلم سے قرآن کریم مراد ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے کلام کا یہ اعجاز نمایاں ہے کہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑے بڑے مضمون پنہاں ہیں، لیکن پہلی وضاحت ہی زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اسی مضمون کی ایک دوسری روایت میں اختصہ لی الکلام کے الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں اس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ یہاں جوامع الکلم سے آنحضرت ﷺ کے ارشاد اقوال مراد ہیں اور نبوت و رسالت کا سلسلہ مجھ پر ختم کیا گیا، کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا، رسالت تمام ہوئی اب میرے بعد کوئی اور نبی و رسول نہیں آئے گا کیونکہ اللہ کا دین مکمل ہوگیا ہے قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اترنا بھی اسی دین کو مضبوط بنانے اور زیادہ سے زیادہ پھیلانے کے لئے ہوگا۔