hadith book logo

Mishkaat Shareef

59. جامع دعاؤں کا بیان

مشكاة المصابيح

2511
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي موسى الأشعري عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه كان يدعو بهذا الدعاء : اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري وما أنت أعلم به مني اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطئي وعمدي وكل ذلك عندي اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت به أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر وأنت على كل شيء قدير
حضرت ابوموسی اشعری (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم اغفرلی خطیتئتی وجہلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللہم اغفرلی جدی وہزلی وخطائی وعمدی وکل ذلک عندی اللہم اغفرلی وماقدمت ومااخرت وما اسررت ومااعلنت وماانت اعلم بہ منی انت المقدم وانت المؤخر وانت علی کل شیء قدیر) ۔ اے اللہ ! معاف فرما میری خطا کو میری نادانی کو (یعنی جن چیزوں کو جاننا یا ان پر عمل کرنا واجب تھا اور میں نے ان کو نہیں جانا اسے معاف فرما) کاموں میں میری زیادتی کو اور اس گناہ سے جس کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ اے اللہ ! معاف فرما میرے اس برے کام کو جسے میں نے قصداً کیا ہے، اس کام کو جسے میں نے ہنسی دل لگی میں کیا ہو اور اس کام کو جسے میں نے دانستہ یا نادانستہ کیا ہو اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں۔ اے اللہ بخشش فرما میرے ان گناہوں کو جو میں نے پہلے کئے ہیں ان گناہوں کی جو (بالفرض والتقدیر) بعد میں ہوں گے۔ ان گناہوں کی جو پوشیدہ سرزد ہوئے ہوں ان گناہوں کی جو کھلم کھلا کئے ہوں اور ان گناہوں کی جن کا علم مجھ سے زیادہ تجھ کو ہے۔ تو ہی (جس کو چاہے اپنی توفیق کے ساتھ اپنی رحمت کی طرف آگے کرنے والا ہے اور تو ہی) جس کو چاہے اپنی رحمت سے پیچھے ڈالنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
وکل ذالک عندی (اور یہ سب باتیں مجھ میں ہیں) یہ الفاظ آپ ﷺ نے بارگاہ رب العزت میں اپنے عجز و انکساری اور اپنے مقام عبدیت کے اظہار نیز از راہ تواضع کہے، ورنہ تو آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی تمام گناہوں سے پاک اور تمام خطاؤں سے مبرا تھی اور حقیقت میں تعلیم یہ ہے امت کے لئے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت مانگی جائے۔
2512
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم أصلح لي ديني الذي هو عصمة أمري وأصلح لي دنياي التي فيها معاشي وأصلح لي آخرتي التي فيها معادي واجعل الحياة زيادة لي في كل خير واجعل الموت راحة لي من كل شر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے۔ دعا (اللہم اصلح لی دینی الذی ہو عصمۃ امری واصلح لی دنیای التی فیہا معاشی واصلح لی آخرتی التی فیہا معادی وا جعل الحیوۃ زیادۃ لی فی کل خیر واجعل الموت راحۃ لی من کل شر) ۔ اے اللہ ! درست کر میرے دین کو جو میرے امور کا محافظ ہے (یعنی دین کی وجہ سے جان، مال اور آبرو کی حفاظت ہوتی ہے اور آخرت کے عذاب سے نجات ملتی ہے) درست کر میری آخرت کو جہاں مجھے لوٹ کر جانا ہے) میری زندگی کو سبب بنا ہر نیکی میں زیادتی کا (یعنی طویل عمر عطا فرما تاکہ بہت سی نیکیاں کروں) اور میرے لئے موت کو ہر برائی سے راحت اور آرام کا سبب بنا۔ (مسلم)

تشریح
دنیا کی درستی و اصلاح اس رزق سے ہوتی ہے جو حلال ذرائع سے اور غیر مشتبہ وسائل کے راستے حاصل ہوا ہو، اس رزق سے گزارا اچھی طرح ہوتا ہے، طاعت کی قوت حاصل ہوتی ہے قلب کو سکون و اطمینان کی دولت میسر آتی ہے اور عبادت میں خلل و تشویش کا گزر نہیں ہوتا۔ آخرت کی درستی و اصلاح کا انحصار ان امور (نیک عقائد، اچھے اعمال و کردار کی توفیق پر ہوتا ہے جو عذاب سے نجات کا سبب اور اس جہان کی سعادتوں تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دعا کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ میری زندگی کا خاتمہ کلمہ شہادت، اچھے اعتقاد اور توبہ کرنے کے بعد ہو تاکہ میری موت دنیا کی مشقتوں اور مصائب سے نجات اور آخرت کی راحت کے حصول کا باعث ہو۔
2513
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول : اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نبی ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ دعا مانگتے تھے۔ (اللہم انی اسئلک الہدی والتقی والعفاف والغنی) ۔ اے اللہ میں تجھ سے مانگتا ہوں، ہدایت، تقویٰ اور حرام و مکروہ سے نفس کی حفاظت نیز قلبی اور ظاہری استغناء۔ (مسلم)
2514
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قل اللهم اهدني وسددني واذكر بالهدى هدايتك الطريق وبالسداد سداد السهم . رواه مسلم
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ یہ دعا مانگو۔ (اللہم اہدنی وسددنی) ۔ اے اللہ مجھے سیدھی راہ دکھا کر ہدایت یافتہ بنا اور میرے اعمال اور افعال کو راست درست فرما کر، مجھے سیدھا کر (نیز آپ ﷺ نے فرمایا) جب تم ہدایت کی طلب کرو تو راستہ کے سیدھا چلنے کا اور جب راستی کی طلب کرو تو تیر کی سی راستی کا تصور کرو۔ (مسلم)

تشریح
حدیث کے آخری ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب تم بارگاہ رب العزت میں طلب ہدایت کی درخواست کرو تو تمہارے ذہن میں بات رہنی چاہئے کہ مجھے وہی راہنمائی اور ہدایت حاصل ہو، جو سیدھی راہ پر چلنے والے شخص کو حاصل ہوتی ہے اور جب تم راستی مانگو تو یہ خیال رکھو کہ مجھے ایسی ہی راستی اور استقامت حاصل ہو جس طرح تیر راست و سیدھا ہوتا ہے مقصد یہ ہے کہ آخری درجہ کی اور مکمل ہدایت اور آخری درجہ کی مکمل راستی طلب کرو تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں مکمل ہدایت اور مکمل راستی ہی کی سعادت سے نوازے۔
2515
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي مالك الأشجعي عن أبيه قال : كان الرجل إذا أسلم علمه النبي صلى الله عليه و سلم الصلاة ثم أمره أن يدعو بهؤلاء الكلمات : اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وعافني وارزقني . رواه مسلم
حضرت ابومالک اشجعی اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسے نماز کی تعلیم دیتے پھر اس کو حکم دیتے کہ وہ ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگے۔ (اللہم اغفر لی وارحمنی واہدنی وعافنی وارزقنی) ۔ یعنی اے اللہ میری مغفرت فرما میرے عیوب کو ڈھانک کر، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت یافتہ بنا اور مجھے حلال روزی عطا فرما۔ (مسلم)
2516
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال : كان أكثر دعاء النبي صلى الله عليه و سلم اللهم أتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔ (اللہم اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار) ۔ اے اللہ ہمیں دنیا میں نیکی و بھلائی یعنی نعمتیں اور اچھی حالت عطا کر اور آخرت میں یعنی موت کے بعد بھی نیکی و بھلائی یعنی اچھے مراتب عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
آنحضرت ﷺ کثرت سے یہ دعا اس لئے پڑھا کرتے تھے کہ یہ ایک جامع دعا ہے جس میں دین و دنیا کے تمام مقاصد آجاتے ہیں پھر یہ کہ یہ دعا قرآن کریم میں نازل کی گئی ہے۔ طالب صادق اگر حضور مناجات کے وقت خلوت میں بیٹھ کر باطن کی صفائی کے ساتھ دنیا و آخرت کے حسنات کے ہر ہر گوشے کا تصور کر کے یہ دعا پڑھے تو وہ دیکھے گا کہ کیا کچھ ذوق و جمعیت، سکون و اطمینان اور نورانیت وسعادت حاصل ہوتی ہے۔
2517
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عباس قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يدعو يقول : رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني علي من بغى علي رب اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا لك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي وثبت حجتي وسدد لساني واهد قلبي واسلل سخيمة صدري . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے۔ (رب اعنی ولا تعن علی وانصرنی ولا تنصر علی وام کرلی ولا تمکر علی واہدنی ویسر الہدا لی وانصرنی علی من بغی علی رب اجعلنی لک شاکرا لک ذاکرا لک راہبا لک مطواعا لک مخبتا الیک اواہا منیبا رب تقبل توبتی واغسل حوبتی واجب دعوتی وثبت حجتی وسدد لسانی وہد قلبی واسلل سخیمۃ صدری) ۔ اے پروردگار ! میری مدد کر (یعنی اپنے ذکر، شکر اور اپنی عبادت کے حسن کی مجھے توفیق دے میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر (یعنی جو طاقتیں مجھے تیری طاعت عبادت سے باز رکھیں خواہ شیطان ہو، خواہ نفس اور خواہ کفار ان کو مجھ پر غالب نہ کر مجھے فتح دے مجھ پر کسی کو فتحیاب نہ کر (یعنی مجھے کفار پر غالب کر کفار کو مجھ پر غلبہ نہ دے) اور میری مدد کرنے کے دشمنوں کے حق میں میرے لئے مکر کر، میرے ضرر کے لئے مکر نہ کر مجھے سیدھی راہ دکھا سیدھی راہ پر چلنا میرے لئے آسان کر اور اس کے خلاف میری مدد کر جو مجھ پر زیادتی کرے۔ اے میرے رب ! مجھے ہر وقت، تیرا شکر گزار (ہر حال میں) تیرا ذکر کرنے والا تجھ سے ڈرنے والا، تیری بہت فرمانبرداری کرنے والا بنا، اے اللہ ! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول کر (دنیا و آخرت میں اپنے دشمنوں کے سامنے) میری دلیل و حجت کو ثابت کر، میری زبان کو سچی اور درست رکھ (یعنی اس سے سچ و حقا بات کے علاوہ کچھ نہ نکلے) میرے دل کو ہدایت بخش اور میرے سینہ کی سیاہی دور کر دے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)

تشریح
مکر کے معنی ہیں فریب۔ لیکن جب اس لفظ کی نسبت اللہ کی طرف ہوتی ہے تو اس سے مراد ہوتا ہے (دشمنان دین اسلام پر ایسی جگہ سے بلاؤں کا اترنا جہاں سے انہیں گمان بھی نہ ہو) ۔ سینہ کی سیاہی سے مراد ہے کینہ، بغض، حسد اور اسی قسم کی دوسری خصلتیں۔
2518
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي بكر قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر ثم بكى فقال : سلوا الله العفو والعافية فإن أحدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب إسنادا
حضرت ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے رونے لگے اور پھر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش و عافیت مانگو کیونکہ کسی کو ایقان (ایمان) کے بعد عافیت سے بہتر کوئی عمل نہیں اس روایت کو ترمذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے، نیز امام ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث باعتبار سند کے حسن غریب ہے۔

تشریح
آنحضرت ﷺ جانتے تھے کہ میری امت کے افراد خواہشات نفس، ہوس و حرص اور غلبہ شہوت کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے اس لئے آپ ﷺ اس کے تصور سے بھی رونے لگے کہ جس امت کے لوگوں کو ایمان و ایقان کی دولت اسلام کی ہدایت اور میری تربیت نے ضبط نفس ایثار و استغناء، دیانت و امانت، عزت و خدداری، پاک دامنی و پرہیزگاری کے معیار پر نہ صرف پورا اتارا بلکہ انہیں ان اخلاق حمیدہ اور خصائل شریفہ کا بذات خود معیار بنادیا ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب اسی امت کے لوگ شیطان کے مکر و فریب میں پھنس کر اور اپنے نفس کے تابع ہو کر حرص و ہوس کے مجسمے، بددیانتی و بد کرداری کے پیکر اور خواہشات نفسانیہ کے غلام بن جائیں گے چناچہ آپ ﷺ نے منبر رشد و ہدایت سے یہ حکم فرمایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت و بخشش کی طلب کریں اور عافیت مانگیں تاکہ پروردگار انہیں ان آفات و بلاء سے محفوظ و مامون رکھے۔ عافیت کے معنی ہیں سلامتی حاصل ہونا دین میں فتنہ سے اور جسم و بدن کو بری بیماریوں، شدید مصائب اور سخت رنج و تکلیف سے۔
2519
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أنس أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أي الدعاء أفضل ؟ قال : سل ربك العافية والمعافاة في الدنيا والآخرة ثم أتاه في اليوم الثاني فقال : يا رسول الله أي الدعاء أفضل ؟ فقال له مثل ذلك ثم أتاه في اليوم الثالث فقال له مثل ذلك قال : فإذا أعطيت العافية والمعافاة في الدنيا والآخرة فقد أفلحت . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب إسنادا
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے رب سے عافیت (یعنی دین و بدن کی سلامتی اور دنیا آخرت میں معافات مانگو) معافات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں تمہیں لوگوں سے اور لوگوں کو تم سے عافیت و حفاظت میں رکھے۔ وہ شخص پھر دوسرے دن آیا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے اس سے وہی فرمایا جو (پہلے دن کہا تھا، پھر وہ شخص تیسرے دن آیا) اور اس نے وہی پوچھا آپ ﷺ نے اس کو وہی جواب دیا اور فرمایا کہ اگر تمہیں عافیت اور دنیا و آخرت میں معافات عطا کردی جائے تو تم نجات پا گئے اور تم نے اپنے مقصد کو حاصل کرلیا اس روایت کو ترمذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے۔ نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث باعتبار سند کے غریب ہے۔
2520
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن عبد الله يزيد الخطمي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يقول في دعائه : اللهم ارزقني حبك وحب من ينفعني حبه عندك اللهم ما رزقتني مما أحب فاجعله قوة لي فيما تحب اللهم ما زويت عني مما أحب فاجعله فراغا ي فيما تحب . رواه الترمذي
حضرت عبداللہ بن یزید خطمی (رض) رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی دعا میں یہ فرمایا کرتے تھے۔ (اللہم ارزقنی حبک وحب من ینفعنی حبہ عندک اللہم ما رزقتنی مما احب فاجعلہ قوۃ لی فیما تحب اللہم ما زویت عنی ممااحب فاجعلہ فراغالی مماتحب) ۔ اے اللہ ! مجھے نصیب کر اپنی محبت اور اس شخص کی محبت جس کی محبت تیرے نزدیک مجھے نفع دے اے اللہ تو نے مجھے اس چیز میں سے جسے میں پسند کرتا ہوں جو کچھ بھی عطا کیا ہے اس کو میرے لئے اس چیز میں قوت کا سبب بنا جسے تو پسند کرتا ہے۔ (یعنی تو نے مال و زر، عافیت و اطمینان اور دوسری دنیاوی نعمتوں میں سے جو کچھ بھی عطا فرمایا ہے اور ان کو شکر گزاری اور اپنی طاعت کا سبب بنا کہ میں اسے تیری راہ میں اور تیری خوشنودی کے لئے خرچ کرو۔ اے اللہ ! تو نے مجھے اس چیز میں سے جسے میں پسند کرتا ہوں جو کچھ نہیں دیا ہے اس کو میرے لئے اس میں فراغت کا سبب بنا جسے تو پسند کرتا ہے۔ (ترمذی)

تشریح
دعا کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ تو نے مجھے مال و زر میں سے جو کچھ نہیں دیا ہے اس کو میرے لئے اپنی عبادت میں مشغولیت کا سبب بنا کہ مجھے قناعت و توکل کی دولت حاصل رہے اور وہ مال و زر جو مجھے حاصل نہیں ہوا ہے اس سے بےپرواہ ہو کر بغیر مانع کے تیری عبات میں مشغول رہوں اور حاصل دعا کے آخری دونوں جملوں کا یہ ہے کہ اگر تو مجھے دنیا کی نعمتیں عطا کرے تو پھر ان کا شکر ادا کرنے کی توفیق بھی عطا فرما تاکہ میرا شمار شکر کرنے والے اغنیا کے زمرہ میں ہو اور اگر مجھے وہ نعمتیں حاصل نہ ہو تو میرے دل کو فارغ رکھ بایں طور کہ میں ان سے بےپرواہ ہوجاؤں میرا دل ان میں نہ لگا رہے۔ میں پورے اطمینان کے ساتھ تیری عبادت میں مشغول رہوں اور جزع فزع، شکوہ و شکایت نہ کروں تاکہ میرا شمار صبر کرنے والے فقراء میں ہو۔