hadith book logo

Mishkaat Shareef

178. نبی کریم ﷺ کے اسماء مبارک اور صفات کا بیان

مشكاة المصابيح

5698
Mishkaat Shareef
صحیح
عنوان باب کے دو جز ہیں، ایک کا تعلق آنحضرت ﷺ کے آسماء مبارک سے ہے اور دوسرے کا تعلق صفات نبوی کے ذکر سے ہے لیکن یہاں صفات سے مراد آنحضرت ﷺ کے اخلاق واطوار اور باطنی اوصاف نہیں ہیں جن کا ذکر دوسرے باب میں ہوگا بلکہ صفات سے مراد آپ ﷺ کا حلیہ مبارک قدوقامت اور ظاہری شکل و صورت ہے۔ اسمائے مبارک کی تعداد آنحضرت ﷺ کے اسماء مبارک بہت ہیں جن میں سے کچھ کا ذکر قرآن کریم میں ہے کچھ سابقہ آسمانی کتابوں میں پائے جاتے ہیں، کچھ کا ذکر انبیاء (علیہم السلام) کی زبان مبارک سے ہوا ہے اور کچھ احادیث میں مذکور ہیں۔ تاہم ان کی کل تعداد کے بارے میں کوئی ایک قول نہیں ہے۔ مواہب لدنیہ میں لکھا ہے آنحضرت ﷺ کے نام اور القاب قرآن مجید میں بہت آئے ہیں۔ چناچہ بعض علماء نے ننانوے نام جمع کئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اسماء پاک کی بھی تعداد ہے قاضیی عیاض کا قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں میں سے تیس نام اپنے حبیب کے لئے مخصوص کئے ہیں۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اگر سابقہ آسمانی کتابوں اور قرآن و حدیث میں آنحضرت ﷺ کے نام تلاش کئے جائیں تو ان کی تعداد تین سو تک اور ایک قول کے مطابق چار سو تک پہنچتی ہے۔ اور قاضی ابوبکر ابن العربی نے، جو مالکی مسلک کے بڑے عالموں میں سے ہیں لکھا ہے بعض صوفیاء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہزار نام ہیں اور اس کے حبیب کے بھی ہزار نام ہیں اور یہ کہ ناموں سے مراد وہ اوصاف وصفات ہیں جن سے حضور ﷺ کی ذات متصف ہے اور ہر وصف وصفت سے ایک نام نکلتا ہے سیوطی نے بھی مستقل طور پر ایک کتاب تالیف کی ہے جس میں انہوں نے حضور ﷺ کے اسماء مبارک جمع کئے ہیں اور علامہ طیبی (رح) نے بائیس نام ذکر کیئے ہیں اور ان سب کی وضاحت کی ہے جہاں تک مؤلف مشکوۃ شریف کا تعلق تو انہوں نے اس باب میں صرف دو حدیثیں نقل کی ہیں جن میں آنحضرت ﷺ کے معتدد اسماء نقل کئے گئے ہیں۔ اصل اسم مبارک آنحضرت ﷺ کا اصل نام جو سب سے زیادہ مشہور ورائج ہے محمد ہے یہ آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کا رکھا ہوا نام ہے۔ منقول ہے کہ جب عبد المطلب سے کسی نے کہا کہ تم نے اپنے پوتے کا نام اپنے آباؤ اجداد کے نام پر کیوں نہیں رکھا اور ایسے نام کو ترجیح دی جو تمہاری قوم اور تمہارے خاندان میں پہلے کسی کا نہیں رہا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا میں نے اپنے پوتے کا یہ نام اس امید پر رکھا ہے کہ تمام دنیا والے اس کی توصیف میں رطب اللسان ہوں۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ! تاکہ آسمانوں پر اللہ تعالیٰ اس کی تعریف و توصیف کرے اور زمین پر دنیا والے رطب اللسان ہوں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش سے بہت پہلے حضرت عبد المطلب نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ ان کی پشت سے چاندی کی ایک زنجیر نکلی جس کا سلسلہ آسمان تک چلا گیا، ایک سلسلہ مشرق کی آخری حدوں تک اور ایک سلسلہ مغرب کی آخری حدوں تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد وہ زنجیر ایک تناور درخت میں تبدیل ہوگئی اور اس درخت کے پتہ پتہ پر نور پھیل گیا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ان نورانی پتوں کے نیچے مشرق سے لے کر مغرب تک کے لوگ جمع ہیں۔ عبدا المطلب نے بیدار ہونے کے بعد اس عجیب و غریب خواب کا ذکر لوگوں سے کیا، تعبیر دینے والوں نے اس خواب کو سن کر کہا کہ مبارک ہو، تمہاری نسل میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کی تابعداری کرنے کے والوں کا سلسلہ مشرق سے مغرب تک پھیلا ہوگا اور زمین و آسمان میں اس کی تعریف ہی تعریف ہوگی۔ چناچہ آنحضرت ﷺ پیدا ہوئے تو حضرت عبد المطلب نے آپ ﷺ کا نام مبارک (محمد) رکھا آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ (رض) نے بھی حاملہ ہونے کے بعد خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ تمہارے بطن میں اس امت کا سردار اور پیغمبر ہے، جب تمہارے ہاں ولادت ہو توبچہ کا نام محمد رکھنا۔ روایتوں میں آتا ہم کہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش سے پہلے کبھی کسی کا نام محمد نہیں رکھا گیا تھا، ہاں اہل کتاب نے جب اپنی آسمانی کتابوں میں مذکور پیش گوئیوں کے مطابق لوگوں کو بتایا کہ وہ زمانہ آیا ہی چاہتا ہے جب اللہ کے آخری پیغمبر پیدا ہوں گے اور ان کا نام محمد ہوگا تو یہ سن کر چار لوگوں نے اس آرزو میں اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھا کہ شرف نبوت سے مشرف ہوں۔ تاہم یہ چار نام بھی آنحضرت ﷺ کے نام سے پہلے نہیں کہے جاسکتے کیونکہ ان چاروں نے بھی آنحضرت ﷺ کا نام محمد سن کر ہی اپنے بیٹوں کے نام محمد رکھے تھے۔
5699
Mishkaat Shareef
صحیح
عن جبير بن مطعم قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إن لي أسماء : أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب . والعاقب : الذي ليس بعده شيء . متفق عليهوعن أبي موسى الأشعري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسمي لنا نفسه أسماء فقال : أنا محمد وأحمد والمقفي والحاشر ونبي التوبة ونبي الرحمة . رواه مسلم
حضرت جبیربن معطعم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میرے متعدد نام ہیں جن میں سے میرا مشہور نام ایک تو محمد ہے اور دوسرا احمد ہے میرا نام ماحی بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹاتا ہے، میرا نام حاشر بھی ہے، کہ لوگوں کو میرے نقش قدم پر اٹھایا جائے گا اور میرا نام عاقب بھی ہے یعنی وہ شخص جس کے بعد کوئی نبی نہیں ( بخاری ومسلم )

تشریح
بعض روایتوں میں محمد اور احمد کے ساتھ ایک نام محمود بھی منقول ہے، ان تینوں کا مادہ اشتقاق ایک ہی ہے یعنی حمد محمود کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی ذات وصفات کی تعریف دنیا میں بھی کی گئی اور آخرت میں بھی۔ محمد کا مطلب وہ ہستی جس کی بےانتہا تعریف کی گئی۔ احمد کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی تعریف اگلے پچھلوں اور سابقہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ کی گئی۔ احمد کے ایک معنی یہ بھی بیان ہوئے ہیں کہ وہ ہستی جو صاحب لوائے حمد ہو اور جو اپنے مولیٰ کی حمد وثنااتنی زیادہ اور اتنے اچھوتے انداز میں کرے کہ کسی کے علم و گمان کی رسائی اس تک نہ ہو جیسا کہ قیامت کے دن مقام محمود میں ہوگا۔ ماحی کے معنی ہیں مٹانے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کی دعوت و تبلیغ کی بہ نسبت سب سے زیادہ آپ ﷺ ہی کی دعوت و تبلیغ کے ذریعہ کفر کو مٹایا۔ عاقب کے معنی ہیں سب سے پیچھے آنے والا۔ یعنی آنحضرت ﷺ اللہ کے وہ نبی اور رسول ہیں جو تمام رسولوں اور نبیوں کے بعد اس دنیا میں تشریف لائے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی و رسول اس دنیا میں مبعوث نہیں ہوگا۔ اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمارے سامنے اپنی ذات مبارک کے متعدد نام بیان فرمایا کرتے تھے، چناچہ (ایک دن) آپ ﷺ نے فرمایا میں احمد ہوں میں محمد ہوں، میں مقفی (تمام پیغمبروں کے پیچھے آنے والا ہوں، میں حاشر (یعنی قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرنے والا ہوں میں توبہ کا نبی ہوں اور میں رحمت کا نبی ہوں۔ (مسلم) تشریح توبہ کا نبی یا تو اس اعتبار سے فرمایا کہ خلقت نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی اور آپ ﷺ کے سامنے پچھلی زندگی کے اعمال خواہ وہ کفروشرک ہو یا گناہ و معصیت سے بیزاری کا پختہ عہد کرکے دین اسلام کی کامل تابعداری کا اقرار کیا۔ یا یہ کہ آنحضرت ﷺ چونکہ توبہ و استغفار بہت کرتے تھے اور رجوع الی اللہ آپ ﷺ کی زندگی کا بنیادی نقطہ و محور تھا نیز یہ آپ ﷺ ہی کی ذات کا فیض تھا کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ اگر پختہ عہد یقین کے ساتھ زبان سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی زبانی توبہ کو قبول فرمالیتا ہے جب کہ پچھلی امتوں کے لوگ اس وقت قابل معافی قرار نہیں پاتے تھے جب تک ان کے قصور اور جرم کی سزا قتل یا دوسری صورتوں میں ان کو نہ مل جاتی تھی، اس لئے آنحضرت ﷺ کا نام نبی التوبہ بھی ہوا نبی الرحمۃ یعنی رحمت کا نبی۔ یہ قرآن کریم سے ماخوذ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ ہم نے آپ ﷺ کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔
5700
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم ؟ يشتمون مذمما ويلعنون مذمما وأنا محمد . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک دن صحابہ کرام سے) فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قریش مکہ کی گالیوں اور لعنتوں سے کس طرح محفوظ رکھا ہے ؟ وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں جب کہ میں محمد ہوں۔ (بخاری)

تشریح
مذمم معنی کے اعتبار سے محمد کی ضد ہے یعنی وہ شخص جس کی مذمت و برائی کی گئی ہو یہ لفظ قریش مکہ کے بغض وعناد کا مظہر تھا، وہ بدبخت آنحضور ﷺ کو محمد کہنے کے بجائے مذمم کہا کرتے تھے اور یہی نام لے لے کر آپ ﷺ کی شان میں بد زبانی کرتے اور آپ ﷺ پر لعن وطعن کیا کرتے تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلی دینے کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ قریش مکہ جو بدزبانی کرتے ہیں اور سب وشتم کے تیر پھینکتے ہیں، ان سے آزردہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بدبخت تو مذمم کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور مذمم پر لعن طعن کرتے اور میں مذمم نہیں ہوں بلکہ محمد ہوں، یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ اس نے میرے نام کو جو میری ذات کا مظہر ہے، ان حاسدوں کی گالیوں اور لعن طعن کانشانہ بننے سے بچا رکھا ہے۔
5701
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد شمط مقدم رأسه ولحيته وكان إذا ادهن لم يتبين وإذا شعث رأسه تبين وكان كثير شعر اللحية فقال رجل : وجهه مثل السيف ؟ قال : لا بل كان مثل الشمس والقمر وكان مستديرا ورأيت الخاتم عند كتفه مثل بيضة الحمامة يشبه جسده . رواه مسلم
اور حضرت جابر ابن سمرۃ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے سر اور داڑھی کے اگلے حصہ میں کچھ بال سفید ہوگئے تھے جب آپ ﷺ بالوں میں تیل لگا لیتے تو یہ سفیدی ظاہر نہیں ہوتی تھی، البتہ جب سر مبارک کے بال بکھرے ہوئے ہوتے تو یہ سفیدی جھلکنے لگتی تھی اور آنحضرت ﷺ کی داڑھی میں بہت زیادہ بال تھے جب حضرت جابر (رض) نے آنحضرت ﷺ کا یہ حلیہ بیان کیا تو) ایک شخص نے کہا آپ ﷺ کا چہرہ مبارک (چمک اور دمک میں) تلوار کی طرح تھا۔ حضرت جابر (رض) نے کہا کہ نہیں بلکہ آفتاب وماہتاب کی طرح تھا اور گولائی لئے ہوئے تھا۔ نیز میں نے آپ ﷺ کی مہر نبوت کو دیکھا جو شانہ کے قریب تھی اور کبوتر کے انڈے کی طرح (گول) تھی اس کی رنگت آپ ﷺ کے جسم مبارک کے رنگ کی سی تھی۔ (مسلم)

تشریح
تیل لگانے سے بال اکٹھا ہو کر جمے رہتے ہیں، اس لئے آپ ﷺ کے وہ بال سفید بال جو تعداد میں بہت کم تھے، تیل لگے بالوں میں نظر نہیں آتے تھے اور جب آپ ﷺ کے بال خشک رہتے تھے، ان میں تیل نہیں ہوتا تھا تو وہ سفید نہیں ہوتا تھا تو وہ سفید بال جھلکنے لگتے تھے کیونکہ بغیر تیل کے بال بکھرے رہتے ہیں اور اگر کوئی ایک بھی سفید بال ہوتا تو وہ نظر آنے لگتا ہے روایتوں میں آتا ہے کہ آخر عمر میں جب کہ آپ ﷺ پر بڑھاپا طاری ہوگیا تھا اس وقت بھی آپ ﷺ کے سر اور داڑھی میں سفید بالوں کی تعداد بیس سے زیادہ نہیں تھی بلکہ ایک روایت میں اس سے بھی کم کا ذکر ہے۔ داڑھی میں بہت زیادہ بال کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی داڑھی گھنی تھی ہلکی نہیں تھی جیسا کہ ایک روایت میں کث اللحیۃ کے الفاظ بھی ہیں کہ آپ ﷺ گھنی داڑھی والے تھی۔ اس بارے میں کوئی واضح بات ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ کی ریش مبارک کی درازی کیا تھی تاہم آپ ﷺ کے صحابہ کرام اور دوسرے بزرگوں کی داڑھی کے بارے میں واضح روایتیں منقول ہیں۔ چناچہ منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی داڑھی اتنی لمبی چوڑی تھی کہ پورا سینہ کندھوں تک چھپا رہتا تھا اور حضرت ابن عمر (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک مشت سے زیادہ داڑھی رکھتے تھے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رح) کے حالات میں لکھا ہے کہ ان کی داڑھی بھی بہت لمبی چوڑی تھی بہر حال داڑھی کو ایک مشت سے کم رکھنا روا نہیں ہے۔ البتہ ایک مشت سے زائد لمبی داڑھی کے بارے میں مختلف روایات وآثار منقول ہیں، بلکہ آفتاب وماہتاب کی طرح تھا اس شخص نے آنحضرت ﷺ کے چہرہ کو جو تلوار سے مشابہت دی تو اس سے ایک گمان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ لمبوترا ہوگا جس کو بیضوی یا کتابی چہرہ کہا جاسکتا ہے لہذا حضرت جابر نے واضح فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا چہرہ لمبوترا نہیں تھا بلکہ گولائی لئے ہوئے تھا واضح رہے کہ یہاں حدیث میں مستدیر کا جو لفظ ہے یا تو آفتاب وماہتاب اور آئینہ کا جو ذکر آیا ہے تو اس سے یہ وہم بھی نہ ہونا چاہے کہ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک چاندوسورج کی مانند بالکل گول دائرہ کی طرح تھا ایک حدیث میں وضاحت ہے لم یکن بالمکثم آنحضرت ﷺ کا چہرہ مبارک نہ بالکل گول تھا نہ بالکل لمبا بلکہ گولائی لئے ہوئے تھا۔ اسی لئے مستدیر کا ترجمہ گولائی لئے ہوئے کیا گیا ہے۔ ایک روایت میں بل مثل القمر کے الفاظ ہیں یعنی بلکہ چاند کی طرح تھا۔ ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ وکان وجہہ قطعۃ قمر یعنی آپ ﷺ کا چہرہ مبارک آئینہ کی طرح ہوتا تھا کہ دیوار کا عکس آپ ﷺ کے چہرہ مبارک جھلکنے لگتا مواہب لدنیہ میں لکھا ہے کہ جہاں تک ان تشبیہوں کا تعلق ہے تو لوگوں نے اپنی سمجھ کے مطابق اور مروجہ اسلوب و تعبیر بیان کا سہارا لیتے ہوئے آنحضرت کے سراپا اور حسن و جمال کو مختلف چیزوں سے تشبیہ دی ہے ورنہ آنحضرت ﷺ کے جمال باکمال کی شوکت و جلالت اور آپ کے حسن وملاحت کی تا بندگی اور دلربائی سے کوئی بھی چیز مشابہت نہیں رکھ سکتی۔ کسے بحسن ملاحت بیار مانہ رسد ترادریں سخن انکار کار مانہ رسد ہزار نقش برآیدز کلک صنع ولے یکے بخوبی نقش ونگار مانہ رسد میں نے آپ ﷺ کی مہر نبوت کو دیکھا جو شانہ کے قریب تھی۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ مہر نبوت دونوں شانوں کے درمیان تھی، ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے دراصل وہ مہر نبوت بائیں شانہ کے قریب تھی، لہٰذا کسی نے تو یہ بیان کیا کہ شانہ کے قریب تھی اور کسی نے یہ کہا ہے کہ دونوں شانوں کے درمیان تھی ! اس کی رنگت آپ ﷺ کے جسم مبارک کے رنگ کی سی تھی کا مطلب یہ ہے کہ مہر نبوت جسم پر کسی بدنما داغ یا دھبے کی صورت میں نہیں تھی کہ وہ بدن مبارک سے الگ کوئی چیز معلوم ہوتی ہو بلکہ جس طرح آپ ﷺ کے جسم مبارک اور تمام اعضاء کا رنگ وروپ تھا اسی طرح مہر نبوت بھی تھی، اس کی آب وتاب اور رنگ وروپ میں جسم مبارک سے سرموفرق نہیں تھا۔ مہر نبوت کی حقیقت مہر نبوت آنحضرت ﷺ کے بدن مبارک پر ولادت ہی کے وقت سے تھی اور اس کی صورت یہ تھی کہ آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر ایک جگہ بیضوی شکل میں جسم مبارک سے کچھ ابھری ہوئی تھی یہی مخصوص ابھار خاتم نبوت (یعنی نبوت کی مہر اور علامت) کہلاتا تھا، اس مہر نبوت کی مقدار اور رنگت کے بارے میں روایتیں کچھ مختلف ہیں لیکن ان روایتوں کے درمیان تطبیق یہ ہے کہ اس کا حجم گھٹتا بڑھتا رہتا تھا اور اس کی رنگت بھی مختلف ہوتی رہتی تھی، اس طرح اس بارے میں بھی مختلف روایتیں ہیں کہ اس مہر نبوت پر کچھ لکھا ہوا تھا یا نہیں ؟ بعض روایتوں میں ہے کہ اس پر محمد رسول اللہ ﷺ لکھا ہوا تھا اور بعض روایتوں میں یہ ہے کہ مہر نبوت پر یہ عبارت تھی وحدہ لاشریک لہ توجہ حیث کنت فانک منصور روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مہر نبوت میں اتنی نورانیت اور اس قدر چمک تھی کہ اس پر آنکھیں نہیں ٹھہرتی تھیں آنحضرت ﷺ کی اس مہر نبوت کا ذکر پچھلی آسمانی کتابوں تورات اور انجیل وغیرہ میں موجود تھا اور انبیاء (علیہم السلام) آخر زمانہ میں آنحضرت ﷺ کے ظہور کی جو بشارت دیتے تھے تو یہ علامت خاص طور پر بتاتے تھے کہ ان کی پشت پر مہر نبوت ہوگی، حاکم مستدرک میں وہب ابن منبہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایسا کوئی نبی اور رسول نہیں گذرا جس کے داہنے ہاتھ پر نبوت کا نشان (یعنی مہر نبوت) نہ ہو مگر ہمارے آقا ﷺ کی نبوت کانشان آپ کی پشت مبارک پر دونون شانوں کے درمیان تھا اور اس نشان کی حیثیت مہر کی سی تھی جو کسی فرمان ودستاویزکو تغیروتبدل سے محفوظ رکھنے کے لئے اس پر ثبت کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کی اس مہر نبوت کو ظاہری چیزوں جیسے کبوتر کے انڈے وغیرہ سے تشبیہ دینا لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہے ورنہ اس کی اصل حقیقت ایک ایسا سرعظیم اور قدرت کی نادر نشانی ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔
5702
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن سرجس قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم وأكلت معه خبزا ولحما - أو قال : ثريدا - ثم درت خلفه فنظرت إلى خاتم النبوة بين كتفيه عند ناغض كتفه اليسرى جمعا عليه خيلال كأمثال الثآليل . رواه مسلم
حضرت عبداللہ ابن سرجس کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی زیارت کی اور آپ کے ساتھ کھانا کھانے کا شرف حاصل کیا، کھانا روٹی اور گوشت تھا، یا انہوں نے یہ کہا کہ۔ ثرید تھا (یعنی روٹی کے ٹکڑے شوربے میں بھگوئے ہوئے تھے) پھر میں نے آپ ﷺ کی پشت کی طرف آیا اور مہر نبوت ﷺ کو دیکھا جو آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان بائیں شانہ کی نرم ہڈی کے پاس تھی اور (ہیئت کے اعتبار سے) مٹھی کی مانند تھی اور اس پر مسوں کی مانند تل تھے۔ (مسلم )
5703
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أم خالد بنت خالد بن سعيد قالت : أتي النبي صلى الله عليه و سلم بثياب فيها خميصة سوداء صغيرة فقال : ائتوني بأم خالد فأتي بها تحمل فأخذ الخميصة بيده فألبسها . قال : ابلي وأخلقي ثم أبلي وأخلقي وكان فيها علم أخضر أو أصفر . فقال : يا أم خالد هذا سناه وهي بالحبشية حسنة . قالت : فذهبت ألعب بخاتم النبوة فز برني أبي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دعها . رواه البخاري
اور خالد ابن سعید کی بیٹی ام خالد کہتی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کے پاس (ہدیہ میں) کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی کملی بھی تھی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ام خالد کو میرے پاس لاؤ۔ آپ ﷺ نے وہ کملی اٹھائی اور اپنے ہاتھ سے ام خالد کو اڑھا دی اور پھر (جیسا کہ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس کو دعا دیتے) ام خالد کو یہ دعا دی اس کپڑے کو پرانا کرو اور پھر پرانا کرو یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری عمر دراز کرے اور باربار تمہیں کپڑا استعمال کرنا اور بہت کپڑا پہننا نصیب ہو۔ اس کملی میں سبز یازرد نشان بنے ہوئے تھے ! آپ ﷺ نے فرمایا ام خالد یہ کپڑا تو بہت عمدہ ہے۔ اور لفظ سناہ ( جس کا ترجمہ بہت عمدہ کیا گیا ہے) حبشی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عمدہ اور بہترین کے ہیں۔ ام خالد کہتی ہیں کہ پھر میں (آنحضرت ﷺ کی بشت مبارک کی طرف چلی) گئی اور (بچپن کی ناسمجھی کی بنا پر) مہر نبوت سے کھیلتی رہی، میرے باپ نے (یہ دیکھا تو) مجھے منع کرنے لگے، رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس کو کھیلنے دو منع نہ کرو۔ (بخاری)
5704
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ليس بالطويل البائن ولا بالقصير وليس بالأبيض الأمهق ولا بالآدم وليس بالجعد القطط ولا بالسبط بعثه الله على رأس أربعين سنة فأقام بمكة عشر سنين وبالمدينة عشر سنين وتوفاه الله على رأس ستين سنة وليس في رأسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء وفي رواية يصف النبي صلى الله عليه و سلم قال : كان ربعة من القوم ليس بالطويل ولا بالقصير أزهر اللون . وقال : كان شعر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أنصاف أذنيه وفي رواية : بين أذنيه وعاتقه . متفق عليه وفي رواية للبخاري قال : كان ضخم الرأس والقدمين لم أر بعده ولا قبله مثله وكان سبط الكفين . وفي أخرى له قال : كان شئن القدمين والكفين
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا قد نہ تو بہت لمبا تھا اور نہ ٹھگنا، آپ ﷺ کا رنگ نہ بالکل سفید تھا اور نہ بالکل گندمی یعنی مائل بہ سیاہی آپ ﷺ کے سر کے بال نہ بالکل خمدار تھے اور نہ بالکل سیدھے تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس وقت مبعوث فرمایا (یعنی منصب رسالت پر فائز کیا) جب کہ آپ ﷺ کی عمر پورے چالیس سال کی ہوگئی تھی، پھر آپ ﷺ نے دس سال مکہ میں قیام فرمایا (دس سال مدینہ میں اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ساٹھ سال کی عمر میں وفات دی، اس وقت آپ ﷺ کے سر مبارک اور داڑھی میں صرف بیس بال سفید تھے۔ ایک اور روایت میں حضرت انس (رض) نے نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ آپ ﷺ لوگوں میں میانہ قد تھے نہ لمبے تھے نہ ٹھگنے، آپ ﷺ کا رنگ نہایت صاف اور چمکدار تھا۔ حضرت انس (رض) نے بیان کیا آپ ﷺ کے سر کے بال آدھے کانوں تک تھے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (آپ ﷺ کے سرکے بال) کانوں اور شانوں کے درمیان تک لمبے تھے ( بخاری ومسلم) ایک اور روایت میں، جس کو بخاری نے نقل کیا ہے اس طرح ہے کہ حضرت انس (رض) نے بیان کیا آنحضرت ﷺ کا سر مبارک بڑا تھا اور پاؤں مبارک پرگوشت تھے، میں نے آپ جیسا (وجیہہ وشکیل انسان) نہ تو آپ ﷺ سے پہلے دیکھا تھا اور نہ آپ ﷺ کے بعد دیکھا اور آپ ﷺ کی ہتھیلیاں فراخ تھیں۔ بخاری ہی کی روایت میں ہے کہ حضرت انس نے بیان کیا ! آنحضرت ﷺ کے دونوں بازو اور ہتھیلیاں گدازا ور پر گوشت تھیں۔

تشریح
قد نہ تو بہت لمبا تھا نہ ٹھگنا۔ کا مطلب یہ کہ آپ ﷺ کا قد میانہ مائل بہ درازی تھا جس کو ہمارے محاورے میں نکلتا قد کہتے ہیں۔ بعض روایتوں میں جو یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی مجمع میں کھڑے ہوتے تو سب سے بلند دکھائی دیتے تھے، اگرچہ اس مجمع میں دراز قد لوگ بھی ہوتے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ کا قد بہت زیادہ دراز تھا بلکہ اس کا مقصد آپ ﷺ کی اعجازی حیثیت کو بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جو عظمت و رفعت عطا فرمائی تھی وہ ہر موقع پر آپ ﷺ کے قد وقامت سے بھی ظاہر ہوتی تھی یہاں تک کہ اگر آپ دراز قد لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ ہی کے وجود کو سب سے زیادہ نمایاں رکھتا تھا۔ آپ ﷺ کا رنگ نہ بالکل سفید تھا۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رنگت نہ تو چونے کی طرح بالکل سفید تھی جس میں سرخی کی جھلک بھی نہیں ہوتی اور نہ بہت گہری گندمی تھی بلکہ ایسی گندم گوں تھی جس کو سرخ سفید رنگ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کے سر مبارک کے بال نہ تو اتنے زیادہ گھونگھرلے تھے جیسے افریقی اور حبشی لوگوں کے ہوتے ہیں اور نہ بالکل سیدھے تھے بلکہ ان دونوں کے بیچ بیچ تھے۔ مدینہ میں آنحضرت ﷺ کے قیام کی مدت دس سال تو بالاتفاق ثابت ہے اور اس میں کوئی اختلافی روایت نہیں ہے لیکن منصب رسالت پر فائز ہونے کے بعد مکہ میں قیام کی مدت کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ تحقیقی طور پر جو قول صحیح مانا گیا ہے وہ تیرہ سال کی مدت کا ہے اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی عمر تریسٹھ سال ہوتی ہے پس اس روایت میں جو ساٹھ سال کہا گیا ہے تو اس کی توجیہہ یہ ہے کہ راوی نے اس روایت میں کسور کے ذکر کو اہمیت نہ دیتے ہوئے تیرہ سال کو دس سال کہا اور تریسٹھ سال کو ساٹھ سال کہا، کیونکہ اس زمانہ میں عام طور پر یہ رواج تھا کہ اعداد و شمار کو بیان کرتے وقت کسور کو ذکر کرنا زیادہ ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے سرکے بالوں کی لمبائی کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں، دو روایتیں تو یہاں نقل ہوئیں، ایک روایت میں دونوں کانوں کی لوتک کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں کاندھوں کے قریب تک کا ذکر ہے۔ روایتوں کے اس اختلاف کا سبب دراصل یہ ہے کہ جس وقت آپ ﷺ اپنے بالوں کو تیل اور کنگھی سے آراستہ کئے ہوئے ہوتے اس وقت بال لمبے معلوم ہوتے اور جب بالوں میں تیل نہ ہوتا اور نہ آپ ﷺ کئے ہوئے ہوتے تو اس وقت بال چھوٹے معلوم ہوتے، اس طرح جیسا کہ مجمع البحار میں لکھا ہے جب بالوں کی اصلاح کرائے ہوئے زیادہ دن گذرجاتے تھے تو قدرتی طور پر بال لمبے ہوجاتے تھے اور جب اصلاح کر الیتے تھے تو بالوں کی لمبائی کم ہوجاتی تھی، جس شخص نے اس میں سے جس حالت میں آپ ﷺ کے بالوں کو دیکھا اس کے مطابق ان کی لمبائی کو ذکر کیا۔ مجمع البحار کی اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ وقتا فوقتا اپنے بالوں کو موزوں مقدار میں کٹواتے رہتے تھے، جہاں تک بالوں کو منڈوانے اور سربالکل صاف کرانے کا تعلق ہے تو اس کا ثبوت کسی روایت سے نہیں ملتا۔ ہاں صرف حج اور عمرے کے موقع پر آپ ﷺ کا سر منڈوانا ضرورثابت ہے۔ سر مبارک بڑا اور پاؤں پرُگوشت تھے پیروں کاموٹا یعنی پرگوشت ہونا شجاعت اور ثابت قدمی کی علامت ہے جب کہ سرکا بڑا ہونا سرداری عظمت اور عقلمندی کی نشانی سمجھا جاتا تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی دونوں ہتھیلیاں بھی بہت گداز اور پرگوشت تھیں اور یہ چیز بھی قوت و شجاعت کی علامت مانی جاتی ہے۔
5705
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن البراء قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم مربوعا بعيد ما بين المنكبين له شعر بلغ شحمة أذنيه رأيته في حلة حمراء لم أر شيئا قط أحسن منه . متفق عليه وفي رواية لمسلم قال : ما رأيت من ذي لمة أحسن في حلة حمراء من رسول الله صلى الله عليه و سلم شعره يضرب منكبيه بعيد ما بين المنكبين ليس بالطويل ولا بالقصير
اور حضرت براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ میانہ قد تھے اور آپ ﷺ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کافی کشادگی تھی (جس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کا سینہ مبارک بہت چوڑا تھا) آپ ﷺ کے سرکے بال کانوں کی لو تک تھے اور میں نے آپ ﷺ کو سرخ لباس میں (جو یمنی کپڑے کے تہبند اور چادر پر مشتمل تھا) (اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ) میں نے آنحضرت ﷺ سے زیادہ حسین کوئی چیز نہیں دیکھی۔ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت براء (رض) نے کہا میں نے کوئی بالوں والا آدمی سرخ لباس میں رسول کریم ﷺ سے زیادہ حسین و وجیہہ نہیں دیکھا، آپ ﷺ کے سرکے بال مونڈھو تک تھے۔ آپ ﷺ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کافی کشادگی تھی۔ اور آپ ﷺ کا قد نہ بہت لمبا تھا اور نہ ٹھگنا۔

تشریح
محدثین نے تحقیق کے بعد لکھا ہے کہ سرخ لباس سے مراد یہ کہ آپ ﷺ کے جسم مبارک پر جس کپڑے کا تہبند اور چادر تھی اس میں سرخ دھاریاں تھیں اس طرح جن حدیثوں میں سبز لباس کا ذکر ہے، اس سے بھی یہی مراد ہے کہ وہ لباس ایسے کپڑے کا تھا جس میں سبز دھاریاں تھیں عربی میں انسان کے سرکے بالوں کے لئے عام طور پر تین لفظ مستعمل ہوتے ہیں ایک جمہ ہے اس سے مراد وہ بال ہوتے ہیں جو کان کی لو سے اتنے نیچے تک ہوں کہ کاندھوں تک پہنچ جائیں اور کبھی اس لفظ کا اطلاق مطلق بالوں پر بھی ہوتا ہے خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے دوسرا لفظ لمہ ہے یہ لفظ بالوں کی اس زلف کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کانوں کی لو سے متجاوز ہو، لیکن کاندھوں تک نہ پہنچی ہو اور تیسرا لفظ وفرہ ہے جو کانوں کی لوتک لٹکے ہوئے بالوں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
5706
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سماك بن حرب عن جابر بن سمرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ضليع الفم أشكل العينين منهوش العقبين قيل لسماك : ما ضليع الفم ؟ قال : عظيم الفم . قيل : ما أشكل العينين ؟ قال : طويل شق العين . قيل : ما منهوش العقبين ؟ قال : قليل لحم العقب . رواه مسلم
اور حضرت سماک ابن حرب، حضرت جابر ابن سمرۃ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول کریم ﷺ کشادہ دہن تھے آپ ﷺ کی آنکھوں میں سرخی ملی ہوئی تھی اور ایڑیاں کم گوشت تھیں (روای کہتے ہیں کہ) حضرت سماک سے پوچھا گیا کہ ضلیع الفم سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کے معنی ہیں بڑے منہ والا ! ان سے پوچھا گیا کہ اشکل العین کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے معنی ہیں دائرہ چشم کا بڑا ہونا پھر ان سے پوچھا گیا کہ منہوش العقبین کے کیا معنی ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایڑیاں جن پر گوشت کم ہو۔ (مسلم)

تشریح
کشادہ دہن سے کیا مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کے منہ کا بایا بڑا تھا اور یہ چیز عرب میں مردوں کے لئے قابل تعریف سمجھی جاتی ہے جب کہ کسی مرد کے منہ کا بایا چھوٹا ہونا ایک عیب مانا جاتا ہے۔ اور بعض حضرات نے کشادہ دہنی سے فصاحت و بلاغت مراد لی ہے۔ آنکھوں کی سفیدی میں سرخی سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ کی آنکھوں میں سرخ ڈورے بہت نمایاں تھے ! واضح رہے کہ حضرت سماک نے اشکل العین کے جو یہ معنی بیان کئے کہ دائرہ چشم کا بڑا ہونا تو یہ ان کا سہو ہے، اصل معنی وہی ہیں جو ترجمہ میں ذکر کئے گئے ہیں، تمام ائمہ لغت نے بھی اس لفظ کے یہی معنی لکھے ہیں۔
5707
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي الطفيل قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم كان أبيض مليحا مقصدا . رواه مسلم
اور حضرت ابوطفیل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سفید ملیح رنگ کے تھے نیز متوسط القامت اور تناسب الاعضاء تھے (مسلم )