hadith book logo

Mishkaat Shareef

196. نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے مناقب کا بیان

مشكاة المصابيح

6162
Mishkaat Shareef
صحیح
نبی کریم ﷺ نے پہلا نکاح مکہ میں حضرت خدیجہ (رض) بنت خویلد سے کیا، اس وقت آنحضرت ﷺ کی عمر ٢٥ سال اور حضرت خدیجہ (رض) کی عمر ٤٠ سال کی تھی، حضرت خدیجہ (رض) نے ہجرت سے تین سال قبل وفات پائی اور ان کے بعد مکہ ہی میں آپ ﷺ نے ایک پچاس سالہ خاتون حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) سے نکاح کیا، اس وقت آنحضرت ﷺ کی عمر بھی تقریبا ٥٠ سال ہی کی تھی، حضرت سودہ (رض) کا سن وفات ٥٤ ھ یا ایک قول کے مطابق ٤١ ھ ہے حضرت عائشہ صدیقہ بنت ابوبکر (رض) سے آپ ﷺ کا نکاح مکہ میں ١٠ نبوی میں ہوا جب کہ وہ چھ برس کی تھیں اور جب ١ ھ میں وہ رخصت کرا کر حضور ﷺ کے ہاں آئیں اس وقت ان کی عمر ٩ سال کی تھی ان کا سن وفات ٥٥ ھ یا ٥٨ ھ ہے حضرت حفصہ بنت عمر (رض) سے آپ ﷺ کا نکاح ٢ ھ یا ٣ ھ میں ہوا اور انہوں نے ٤١ ھ یا ٤٥ ھ میں وفات پائی حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) ٣ ھ میں آپ کے نکاح میں آئیں اور نکاح سے کچھ ہی ماہ بعد ٤ ھ میں (اور ایک روایت کے مطابق ٣ ھ ہی میں) انتقال کر گئیں حضرت ام سلمہ (رض) بنت امیہ فخرومی سے آپ ﷺ نے ٣ ھ یا ٤ ھ میں نکاح کیا اور ان کا انتقال ٥٩ ھ میں ہوا اور ایک قول کے مطابق ٦٢ ھ میں ہوا۔ حضرت زینب بنت جحش (رض) ٥ ھ میں آپ کی زوجیت میں آئیں اور ٢٠ ھ یا ٢١ ھ میں انتقال کیا، آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد سب سے پہلے جس زوجہ مطہرہ نے انتقال کیا وہ حضرت زینب (رض) ہی ہیں۔ حضرت ام حبیبہ (رض) جو ابوسفیان کی بیٹی اور معاویہ (رض) کی بہن ہیں پہلے عبداللہ بن جحش (رض) کے نکاح میں تھی، دونوں میاں بیوی مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے، وہاں عبداللہ بن جحش نے عیسائی مذہب قبول کرلیا تھا اور وہیں مرگیا تھا، حضرت ام حبیبہ (رض) اپنے مذہب (اسلام) پر قائم رہیں ، ٦ ھ میں نجاشی بادشاہ حبشہ نے ان کا نکاح آنحضور ﷺ سے کیا اور اپنے پاس سے ان کا مہر جو چار ہزار درہم مقرر ہوا تھا ادا کیا، حضرت ام حبیبہ (رض) نے ٤٤ ھ میں انتقال کیا، حضرت جویرہ (رض) غزوہ مریسیع میں جس کو عزوہ بنی المصطلق بھی کہتے ہیں اور جو ٦ ھ میں ہوا تھا اسیر ہو کر آئیں آنحضرت ﷺ نے ان کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کرلیا ان کا انتقال ٥٦ ھ میں ہوا حضرت میمونہ (رض) جو حضرت ابن عباس (رض) کی خالہ ہیں ٧ ھ میں آنحضرت ﷺ کی زوجیت کے شرف سے سرفراز ہوئیں ان کا انتقال ٦١ ھ یا ١٥ ھ میں ہوا، حضرت صفیہ بنت حی ابن اخطب ٧ ھ میں جنگ خبیر میں اسیر بنائی گئیں اس وقت ان کی عمر ١٧ سال کی تھی آنحضرت ﷺ نے ان کو آزاد فرمایا اور پھر ان سے نکاح کرلیا، انہوں نے ٥٠ ھ یا ایک روایت کے مطابق ٥٢ ھ میں وفات پائی آنحضرت ﷺ کی گیارہ ازواج مطہرات کی یہ وہ تعداد ہے جس پر روایات کا اتفاق ہے بارہویں زوجہ مطہرہ یعنی حضرت ریحانہ کے بارے میں اختلاف ہے، بعض حضرات نے ان کو حرم (کنیز) قرار دیا ہے، لیکن بعض دوسری روایتوں میں ہے کہ ریحانہ جو ایک یہودی خاندان کی خاتون تھیں جنگی اسیر ہو کر آئی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو آزاد کیا اور ٦ ھ میں ان سے نکاح کرلیا بہر حال آنحضرت ﷺ نے ان تمام خواتین سے، جو امت کی مائیں ہیں، نکاح کیا اور سب کے ساتھ دخول بھی فرمایا۔ بیس یا بیس سے زائد خواتین بھی تھیں جن سے نکاح کی بات چیت چلی لیکن ان سے نکاح نہیں کیا اسی طرح بعض روایتوں میں ایسی عورتوں کا بھی ذکر آتا ہے جو آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں اور جب یہ آیت کریمہ (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ ) 33 ۔ الاحزاب 59) نازل ہوئی تو انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی اور آپ سے جدائی اختیار کرلی۔ جہاں تک آنحضرت ﷺ کی حرموں (کنیزوں) کا تعلق ہے تو ان کی تعداد چار بیان کی جاتی ہے جن میں سے مشہور ماریہ قبطیہ ہیں جن کے بطن سے ابراہیم بن رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے تھے ان کا انتقال ١٦ ھ میں ہوا دوسری وہی حضرت ریحانہ بنت سمون یا بنت زید ہیں جن کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے نکاح میں نہیں تھیں حرم تھی ان کو آپ نے آزاد نہیں کیا تھا اور بسبب ملک یمین ان سے مجامعت فرمائی، باقی دو میں سے ایک تو وہ کنیز تھیں جو ام المؤمنین زینب بنت جحش (رض) نے بطور ہدیہ آپ کی خدمت میں پیش کی تھی اور ایک کنیز وہ تھیں جو کسی غزوہ میں اسیر ہو کر آئی تھیں۔ مذکورہ بالا تفصیل شیخ عبد الحق دہلوی کی شرح مشکوٰۃ سے ماخوذ ہے، جو انہوں نے جامع الاصول کے حوالہ سے جمع کی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کی تعداد، ان کے نکاح کی ترتیب آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد انتقال کرنے والی ازواج مطہرات کے سنین وفات، جن ازواج کے ساتھ دخول نہیں کیا یا جن خواتین کے ہاں پیغام دیا مگر ان کے ساتھ نکاح نہیں ہوا ان سب کی تعداد کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں اور عام روایتوں میں بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔
6163
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : خير نسائها مريم بنت عمران وخير نسائها خديجة بنت خويلد متفق عليه وفي رواية قال أبو كريب : وأشار وكيع إلى السماء والأرض
حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا مریم بنت عمران اپنی امت میں سب سے بہتر عورت ہیں اور خدیجہ بن خویلد اپنی امت میں سب سے بہتر عورت ہیں (بخاری ومسلم) اور ایک روایت میں ابوکریب نے یہ بیان کیا ہے کہ حضرت وکیع (رض) نے (جو حفاظ حدیث میں سے ہیں اور حضرت امام مالک اور ان کے ہم عصروں کے ہم پلہ ہیں) آسمان اور زمین کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا کہ اس حدیث کے مطابق یہ دونوں خواتین اپنی امتوں میں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل و اشرف ہیں۔

تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت مریم جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ہیں اپنی امت میں اور ام المؤمنین حضرت خدیجہ (رض) اپنی امت (امت محمدیہ) میں سب عورتوں سے افضل ہیں لیکن اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ خود ان دونوں میں کون کس سے افضل ہے، حضرت خدیجہ (رض) سے افضل ہیں یا حضرت خدیجہ حضرت مریم سے افضل ہیں تاہم تفسیر نسفی میں لکھا ہے کہ صحیح قول کے مطابق حضرت مریم علی السلام حضرت خدیجہ (رض) اور حضرت عائشہ (رض) افضل ہیں کیونکہ حضرت مریم پیغمبر تو ہیں نہیں اور یہ بھی طے ہے کہ یہ امت مرحومہ دوسری تمام امتوں سے بہتر و افضل ہے تو اس بارے میں علماء کے اختلافی اقول ہیں اسی طرح حضرت عائشہ (رض) پر حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت بھی مختلف فیہ ہے اور امام مالک کا یہ قول ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) پیغمبر کی جگر پارہ ہیں اور میں جگر پارہ پیغمبر پر کسی خاتون کو فضیلت نہیں دیتا۔
6164
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : أتى جبريل النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله هذه خديجة قد أتت معها إناء فيه إدام وطعام فإذا أتتك فأقرأ عليها السلام من ربها ومني وبشرها ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور بولے کہ یا رسول اللہ ﷺ ابھی خدیجہ (مکہ سے چل کر غار حرا میں) آرہی ہیں، ان کے ساتھ ایک برتن ہے جس میں سالن ( اور روٹی) ہے جب وہ آپ کے پاس پہنچ جائیں تو آپ ﷺ ان کے پروردگار کی طرف سے اور میری طرف سے بھی سلام کہہ دیجئے اور ان کو جنت میں ایک محل کی خوش خبری سنا دیجئے جو خولدار موتی ہے اور اس موتی میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و تکان ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
یہ واقعہ اس زمانے کا ہے جب آنحضرت ﷺ خلوت کے لئے غار حرا چلے جاتے تھے اور کئی کئی دن تک وہاں عبادت اور ذکر الہٰی میں مشغول رہتے تھے۔ آپ ﷺ اپنے ساتھ کھانے پینے کی کچھ چیزیں (جیسے ستو) اور پانی وغیرہ لے لیتے تھے تاکہ بھوک اور پیاس کا غلبہ خلوت گزینی میں مخل نہ ہو، ایک دن خدیجۃ الکبریٰ (رض) آپ ﷺ کے کھانے پینے کا کچھ سامان خود لے کر غار حرا پہنچیں اور مذکورہ سعادت و بشارت سے سرفراز ہوئیں۔ واضح ہو کہ عام طور پر ثابت تو یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خلوت گزینی کے لئے غار حرا میں جانا اور وہاں عبادت و ذکر میں مشغول رہنا اس زمانہ کا معمول تھا جب کہ آپ خلعت نبوت سے سرفراز نہیں ہوئے تھے اور آپ کے پاس حضرت جبرائیل کا آنا جانا شروع نہیں ہوا تھا، لیکن اس میں کجھ استبعاد نہیں کہ مرتبہ نبوت پر فائز ہوتے اور حضرت جبرائیل کی آمد شروع ہوجانے کے بعد بھی کچھ دنوں تک آپ نے یہ معمول جاری رکھا ہو اور انہی دنوں حضرت خدیجہ (رض) کسی دن آپ کے لئے کھانا لے کر غار حرا میں گئی ہوں۔ ان کو سلام کہہ دیجئے علماء نے لکھا ہے کہ رب العلمین کا سلام ایسا شرف ہے جو حضرت خدیجہ (رض) کے سوا دنیا کی کسی عورت کو حاصل نہیں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت عائشہ (رض) کو بھی سلام کہلایا تھا لیکن صرف اپنی طرف سے اسی لئے اس حدیث کو حضرت عائشہ (رض) پر حضرت خدیجہ (رض) کی فضیلت کی دلیل قرار دیا جاتا ہے۔ جو خولدار موتی کا ہے قصب کا اطلاق اس موتی پر ہوتا ہے جو بہت بڑا ہو اور اندر سے خالی ہو روایتوں میں آتا ہے کہ جنت کے محلات پر جو گنبد ہوں گے وہ دراصل قبہ جسے بڑے بڑے موتی ہوں گے جن کے اندر سے خلا ہوگا۔ لہٰذا اس جملہ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس محل کا گنبد ایک پورا موتی ہوگا، یا یہ کہ وہ پورا محل موتی کا ہوگا یعنی ایک اتنا بڑا موتی ہوگا جس کے اندر کا خلاء ایک پورے محل پر محیط ہوگا۔ اس محل میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف اور تکان ہے بطور خاص ان دونوں چیزوں کی نفی اس اعتبار سے کی گئی ہے کہ دنیاوی گھروں میں رہنے والوں کو دو ناگوار چیزوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے ایک تو شور و غل کا اور دوسرے اس محنت و مشقت اور تکلیف و تکان کا جو گھروں کو بنانے، سنوارنے اور سجانے میں ہوتی ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جنت کے محلات ان ناگوار اور تکلیف دہ چیزوں سے خالی ہوں گے نیز علماء نے لکھا ہے کہ حضرت خدیجہ (رض) کے حق میں یہ بشارت گو اس مقام کا اعلان تھا جو ان کو اس بات کے بدلہ میں عطا ہوا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت اسلام کو سب سے پہلے بطیب خاطر اور بخوشی قبول کرلیا تھا انہوں نے خدائی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنا آبائی مذہب یک لخت اس طرح ترک کردیا کہ نہ تو کسی طرح کا شور شرابہ ہونے دیا نہ بحث و تکرار اور لڑنے جھگڑنے کے تعب میں پڑیں
6165
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : ما غرت على أحد من نساء النبي صلى الله عليه و سلم ما غرت على خديجة وما رأيتها ولكن كان يكثر ذكرها وربما ذبح الشاة ثم يقطعها أعضاء ثم يبعثها في صدائق خديجة فيقول : إنها كانت وكانت وكانت وكان لي منها ولد . متفق عليه
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں جتنی غیرت اور جتنا رشک میں حضرت خدیجہ (رض) سے کرتی تھی اتنا کسی بیوی سے نہیں، حالانکہ میں نے حضرت خدیجہ (رض) کو دیکھا بھی نہیں تھا، البتہ آنحضرت ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے اکثر ایسا ہوتا تھا کہ آپ ﷺ بکری ذبح کرتے اور اس کا عضو کاٹ کر بوٹیا بناتے پھر اس گوشت کو ان عورتوں کے ہاں بھجواتے جو حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیاں تھیں، اکثر اوقات میں آپ سے کہہ دیا کرتی تھی کہ (آپ ﷺ تو خدیجہ (رض) کے تئیں اس قدر شائستگی اور محبت ظاہر کرتے ہیں) جیسے دنیا میں ایک خدیجہ کے علاوہ اتنی خوبیوں والی اور کوئی عورت ہی نہیں آپ (میری اس بات کے جواب میں) فرماتے وہ واقعی اس طرح کی تھیں اور ایسی ہی تھیں اور پھر میری اولاد بھی تو انہی کے بطن سے ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ایسی ہی تھیں یعنی وہ بڑی عابدہ زاہدہ تھیں روزے رکھا کرتی تھیں، شب بیدار رہتی تھیں، میری خدمت اور میری امداد و راحت رسانی میں بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتی تھیں، حسن سلوک اور احسان کیا کرتی تھیں وغیرہ وغیرہ حضرت خدیجہ (رض) کی ان خوبیوں کو صریحا ذکر کرنے کے بجائے مبہم فرمانے سے آپ ﷺ کا مقصد ان کی حیثیت و فضیلت کو زیادہ بلیغ انداز میں پیش کرنا اور اس طرف اشارہ کرنا ہوتا تھا کہ ان کے اوصاف اور خوبیاں حد شمار و قیاس سے باہر ہیں۔ میری اولاد بھی تو انہی کے بطن سے ہے اس سے حضرت خدیجہ (رض) کی اس خاص فضیلت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا تھا جس کی ہمسری کا دعوی آنحضرت ﷺ کی کوئی بھی زوجہ مطہرہ نہیں کرسکتی تھیں، چناچہ آنحضرت ﷺ کی تمام اولاد امجاد حضرت خدیجہ (رض) ہی کے بطن سے ہوئی، سوائے ابراہیم بن محمد ﷺ کے جو ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے اور وہ آپ کی حرم تھیں اور اولاد بھی ایسی کہ جس میں حضرت فاطمہ زہرا جیسی بیٹی بھی شامل ہیں، جن کے فضائل و مناقب کا کوئی ٹھکانا نہیں باقی ازواج سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، دوسری طرف یہ نکتہ موجود ہے کہ عورتوں سے خاص تر غرض اور ان کا سب سے بڑا فائدہ ان سے اولاد کا ہونا ہے۔ خدیجہ الکبری ام المؤمنین حضرت خدیجہ الکبری (رض) خویلد بن اسد کی بیٹی ہیں جو عرب کے مشہور تاجر اور قریش کے معزز و نامور فرد تھے حضرت خدیجہ (رض) کا پہلا نکاح ابن ہالہ بن زرارہ سے ہوا تھا، اس کے فوت ہوجانے کے بعد دوسرا نکاح عتیق بن عائد سے ہوا تھا ان کا تیسرا نکاح جب آنحضرت ﷺ سے ہوا تو اس وقت ان کی عمر ٤٠ سال تھی اور نبی کریم ﷺ کا یہ پہلا نکاح تھا آپ نے نہ تو ان سے پہلے کسی عورت سے نکاح کیا تھا اور نہ ان کی موجودگی میں کسی اور سے نکاح کیا۔ حضرت خدیجہ (رض) کو اول مسلمان ہونے کا شرف حاصل ہے یعنی تمام مردوں اور عورتوں میں سب سے پہلے انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کا انتقال بعمر ٦٥ سال آنحضرت ﷺ کی ہجرت مدینہ سے پانچ سال قبل مکہ معظمہ میں ہوا۔ بعض حضرات نے ان کا سن وفات ہجرت سے چار سال قبل اور بعض نے تین سال قبل یعنی ١٠ نبوی لکھا ہے۔ آنحضرت سے ان کی رفاقت کی مدت ٢٤ سال چھ ماہ یا پانچ ماہ ہے
6166
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سلمة أن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عائش هذا جبريل يقرئك السلام . قالت : وعليه السلام ورحمة الله . قالت : وهو يرى ما لا أرى متفق عليه
اور حضرت ابوسلمہ (تابعی) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رض) نے (ایک روز مجھ سے) فرمایا عائشہ ! یہ جبرائیل (علیہ السلام) (یہاں میرے سامنے) ہیں تم کو سلام کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے (اس سلام کے جواب میں) کہا وعلیہ السلام و رحمتہ اللہ (اور جبرائیل تم پر بھی اللہ کی سلامتی اور راحت نازل ہو) حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ ان (جبرائیل) کو دیکھ رہے تھے اور میں ان کو نہیں دیکھ رہی تھی۔ (بخاری ومسلم )
6167
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : أريتك في المنام ثلاث ليال يجيء بك الملك في سرقة من حرير فقال لي : هذه امرأتك فكشفت عن وجهك الثوب فإذا أنت هي . فقلت : إن يكن هذا من عند الله يمضه . متفق عليه
اور حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک روز) مجھ سے فرمایا کہ تین رات مسلسل تمہیں میرے خواب میں لایا گیا جس کی صورت یہ تھی کہ ایک فرشتہ نہایت شاندار ریشمی کپڑے پر تمہاری تصویر کو میرے سامنے لاتا اور مجھ سے کہتا کہ یہ (تصویر) تمہاری (ہونے والی) بیوی کی ہے اور جب میں (تصویر کا) پردہ اٹھا کر تمہارا چہرہ دیکھتا تو ہو بہو تمہارا ہی چہرہ ہوتا تھا پھر میں (فرشتہ کے جواب میں کہہ دیا کرتا تھا اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی اس کو پورا کرے گا یعنی اس معاملہ کو تکمیل تک وہی پہنچائے گا اور اس عورت سے میرے نکاح کے اسباب پیدا فرما دے گا۔

تشریح
ریشمی کپڑے پر تمہاری تصویر کو ایک اور روایت میں حضرت عائشہ (رض) نے یوں بیان فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ مجھ (عائشہ) سے نکاح کریں تو حضرت جبرائیل اپنی ہتھیلی پر میری تصویر (آنحضرت ﷺ کے خواب میں) لے کر آئے پس ان دونوں روایتوں میں وجہ تطبیق یہ ہے کہ تصویر کپڑے پر تھی اور وہ ریشمی کپڑا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی ہتھیلی پر تھا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت عائشہ (رض) کی تصویر دو بار لا کر دکھائی ہو، ایک بار تو ریشمی کپڑے پر اور ایک بار ہتھیلی پر اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت جبرائیل تو اپنی ہتھیلی پر تصویر لائے تھے اور کوئی دوسرا فرشتہ ریشمی کپڑے پر لے کر آیا تھا۔ فاذا انتھی الخ۔ کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا، اس کا دوسرا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ (نکاح و شادی کے بعد) جب میں نے تمہارے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ تو وہی چہرہ ہے جو میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ اگر یہ خواب اللہ کی طرف ہے یہاں اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ اس خواب کے بارے میں شک کا اظہار کیا معنی رکھتا ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) خصوصاً آنحضرت ﷺ کا خواب وحی کی ایک صورت ہے جس کی تحقیق میں کسی شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں تو اس کا جواب علماء نے یہ لکھا ہے کہ اگر خواب کے اس واقعہ کو آنحضرت ﷺ کے مرتبہ نبوت پر فائز ہونے سے پہلے کا مانا جائے تو پھر یہ اشکال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہاں اس صورت میں یہ سوال اٹھے گا کہ فرشتہ کا آنا اس بات کے منافی ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خواب نبوت سے پہلے دیکھا تھا لیکن اگر ذہن میں یہ بات ہو کہ فرشتہ کو دیکھنا خصوصًا خواب میں دیکھنا ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے نبی کے ساتھ جو چیز مخصوص ہے وہ فرشتہ کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لانا ہے تو یہ سوال بھی کوئی معنی رکھے گا۔ اور اگر یہ واقعہ و خواب مرتبہ نبوت پر فائز ہونے کے بعد کا ہے تو کہا جائے گا کہ آپ نے یہ الفاظ اظہار شک کے لئے نہیں بلکہ اس کے وقوع کے یقینی ہونے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے فرمائے تھے دراصل اس طرح کا جملہ استعمال ہی ایسے موقع پر ہوتا ہے جب کوئی بات متحقق اور ثابت شدہ ہوتی ہے جیسے کوئی حاکم یوں کہے اگر میں حاکم ہوں تو دیکھنا میں کیا کچھ نہیں کروں گا اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اس جملہ میں جو شک ہے وہ اصل خواب سے متعلق نہیں ہے بلکہ تعبیر سے متعلق ہے کہ نہ معلوم ظاہر کے مطابق مراد سامنے آئے یا ظاہر کے خلاف کچھ اور یا یہ کہ نہ معلوم بیوی سے مراد دنیا کی بیوی ہے یا آخرت کی بیوی۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) عائشہ صدیقہ (رض) حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بیٹی ہیں، نبی کریم ﷺ نے پیغام ڈالا اور ہجرت سے تین سال قبل شوال ١٠ نبوی میں مکہ میں ان سے نکاح کیا، حضرت عائشہ (رض) جب شوال ٢ ھ میں رخصت کرا کر مدینہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئیں تو اس وقت ان کی عمر ٩ سال تھی بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مدینہ آنے کے سات مہینے بعد حضرت عائشہ (رض) رخصت کرا کر مدینہ منورہ آپ ﷺ کے گھر آئیں، سرکار دو عالم ﷺ کی رفاقت ان کو ٩ سال حاصل رہی، آنحضرت ﷺ کے وصال وقت ان کی عمر اٹھارہ سال تھی امہات المؤمنین میں یہی وہ طیبہ ہیں جن کا پہلا نکاح آنحضرت ﷺ سے ہوا آنحضرت ﷺ نے ان کے علاوہ اور کسی باکرہ (کنواری) سے نکاح نہیں کیا۔ حضرت عائشہ (رض) علم و دانائی اور ذاتی محاسن و کمالات کے اعتبار سے منفرد مقام رکھتی تھیں، زبردست عالمہ فاضلہ فصیحہ اور فقیہہ تھیں آنحضرت ﷺ کی بیشمار احادیث ان کو یاد تھیں، بہت زیادہ حدیثیں روایت کرتی ہیں، شعر و ادب کا بھی اعلی ذوق رکھتی تھیں نامور شعراء عرب کے کلام پر ان کی پوری نظر تھی اور اشعار ادبیات کی ایک بڑی تعداد ان کے حافظہ میں تھی، ان سے احادیث روایت کرنے والوں کی تعداد صحابہ اور تابعین کی ایک بہت بڑی جماعت پر مشتمل ہے ١٧ رمضان ٥٧ ھ یا ٥٨ ھ اور ایک روایت کے مطابق ٢٧ رمضان ٥٧ ھ منگل کی شب میں بعمر ٦٣ سال مدینہ منورہ میں وفات ہوئی انہوں نے رات میں دفن کئے جانے کی وصیت کی تھی چناچہ رات ہی میں جنت البقیع میں ان کو دفن کیا گیا اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے نماز جنازہ پڑھائی، اس وقت امیر معاویہ (رض) کی جانب سے مروان مدینہ کا گورنر تھا۔
6168
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنها قالت : إن الناس كانوا يتحرون بهداياهم يوم عائشة يبتغون بذلك مرضاة رسول الله صلى الله عليه و سلم . وقالت : إن نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم كن حزبين : فحزب فيه عائشة وحفصة وصفية وسودة والحزب الآخر أم سلمة وسائر نساء رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلم حزب أم سلمة فقلن لها : كلمي رسول الله صلى الله عليه و سلم يكلم الناس فيقول : من أراد أن يهدي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فليهده إليه حيث كان . فكلمته فقال لها : لا تؤذيني في عائشة فإن الوحي لم يأتني وأنا في ثوب امرأة إلا عائشة . قالت : أتوب إلى الله من ذاك يا رسول الله ثم إنهن دعون فاطمة فأرسلن إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكلمته فقال : يا بنية ألا تحبين ما أحب ؟ قالت : بلى . قال : فأحبي هذه . متفق عليه وذكر حديث أنس فضل عائشة على النساء في باب بدء الخلق برواية أبي موسى
اور حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ لوگ اس بات کو ترجیح دیتے تھے کہ وہ اپنے ہدیئے اور تحائف اس دن پیش کریں جو عائشہ (رض) کی باری کا دن ہو یعنی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہدیئے اور تحائف لانے والے دن کا انتظار کرتے تھے جس روز کہ آپ ﷺ میرے ہاں تشریف فرما ہوتے تھے اور اس سے ان کا مقصد صرف رسول اللہ ﷺ کی (زیادہ سے زیادہ) رضا و خوشنودی حاصل کرنا ہوتا تھا حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی بیویاں دو ٹولیوں میں منقسم تھیں اور ان میں سے ہر ٹولی یکساں مزاج، یکساں طرز معاشرت و اختلاط رکھنے والی بیویوں پر مشتمل تھی) ایک ٹولی تو وہ تھی جس میں عائشہ (رض) ، حفصہ، صفیہ اور سودہ (رض) تھیں اور دوسری ٹولی وہ تھی جس میں ام سلمہ (رض) اور رسول اللہ ﷺ کی باقی بیویاں تھیں پس (ایک روز) ام سلمہ (رض) سے بات چیت کی اور ان سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے عرض کرو کہ آپ ﷺ لوگوں سے یہ فرما دیں کہ کوئی ہدیہ و تحفہ پیش کرنا چاہئے وہ (عائشہ (رض) کی باری کے دن کی تخصیص نہ کرے بلکہ) پیش کر دے چاہے آپ کسی جگہ ہوں (خواہ عائشہ کے گھر میں ہوں خواہ کسی اور بیوی کے گھر میں تاکہ عائشہ (رض) اور دوسری بیویوں کے درمیان سے وہ امتیاز اٹھ جائے جس سے ان بیویوں کو غیرت محسوس ہوتی ہے) چناچہ ام سلمہ (رض) نے اس بارے میں آنحضرت ﷺ سے گفتگو کی اور آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ کو عائشہ (رض) کے معاملہ میں تکلیف نہ پہنچاؤ (تم شاید نہیں جانتیں کہ) اس وقت میرے پاس وحی نہیں آتی جب میں کسی بیوی کے لحاف میں یا چادر میں ہوتا ہوں سوائے عائشہ (رض) کے ام سلمہ (رض) (یہ سن کر) بولیں یا رسول اللہ ﷺ ، میں اللہ کے حضور اس بات سے توبہ کرتی ہوں کہ آپ ﷺ کو تکلیف پہنچاؤں ( یا کسی ایسے کام کا ارادہ بھی کروں جو آپ کو تکلیف پہنچانے کا باعث ہو) پھر ام سلمہ (رض) کی ٹولی کی عورتوں نے فاطمہ (رض) کو بلوایا اور ان کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا (تاکہ اس بارے میں اب وہ آنحضرت ﷺ سے بات کریں) چناچہ فاطمہ (رض) نے اس بارے میں آپ سے گفتگو کی اور ہوسکتا ہے کہ وہ اس بات سے لاعلم ہی ہوں کہ اس سے پہلے ام سلمہ (رض) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جا چکی ہیں اور آنحضرت ﷺ ان کو کن الفاظ میں جواب دے چکے ہیں، بہرحال آنحضرت ﷺ نے فاطمہ (رض) کی گفتگو سن کر ان سے فرمایا میری بیٹی ! کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت رکھتا ہوں فاطمہ (رض) بولیں کیوں نہیں (یقینا میں ہر اس ذات سے محبت رکھتی ہوں اور محبت اور محبت رکھوں گی جس سے آپ محبت رکھتے ہیں) آپ نے فرمایا تو پھر تم عائشہ (رض) سے محبت رکھو اور کسی ایسی بات کا ذکر نہ کرو جس سے عائشہ (رض) کو ناگواری ہو) بخاری ومسلم اور حضرت انس (رض) کی روایت کردہ حدیث فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائر الاطعمہ باب بدا الخلق میں ابوموسیٰ کی روایت سے نقل کی جا چکی ہے

تشریح
حضرت عائشہ (رض) کی ٹولی میں جو ازواج مطہرات تھیں ان کی سردار حضرت عائشہ (رض) تھیں کیونکہ تمام ازواج مطہرات میں آنحضرت ﷺ کی سب سے چہیتی حضرت عائشہ (رض) ہی تھیں یہ نکتہ نوٹ کرنے کا ہے کہ ام المؤمنین حضرت حفضہ بن عمر (رض) بھی نہ صرف یہ کہ حضرت عائشہ (رض) کی ٹولی میں تھی بلکہ اس کے درمیان وہی کامل رفاقت و دوستی اور اتفاق و اتحاد تھا جو ان دونوں کے باپوں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق (رض) کے درمیان تھا، حضرت ام سلمہ (رض) کی ٹولی میں جو امہات المؤمنین تھیں ان کی سردار حضرت ام سلمہ (رض) ہی تھیں یہاں یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ہدیئے اور تحائف پیش کرنے کے لئے حضرت عائشہ (رض) کی باری کے دن کی جو تخصیص کر رکھی تھی وہ آنحضرت ﷺ کے کسی حکم اور ایماء کے تحت نہیں تھی اور چونکہ بہ معاملہ ازواج مطہرات کے حقوق سے متعلق نہیں تھا اس لئے آنحضرت ﷺ لوگوں کو اس سے منع بھی نہیں کرتے تھے۔ سوائے عائشہ کے یعنی صرف عائشہ (رض) ہی میری ایک ایسی بیوی ہے کہ اگر میں ان کے لحاف اور بستر میں ہوتا ہوں تو اس وقت بھی مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے چناچہ حضرت عائشہ (رض) ایک روایت میں فرماتی ہیں کہ آیت کریمہ (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ ) 28 ۔ القصص 56) نازل ہوئی تو اس وقت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ اپنے لحاف میں تھی۔ اور حضرت انس (رض) کی روایت کردہ حدیث یعنی صاحب مصابیح نے اس حدیث کو حضرت انس (رض) کی روایت سے یہاں اس باب میں نقل کرایا تھا جب کہ صاحب مشکوٰۃ نے اس کو حضرت ابوموسیٰ کی روایت سے باب بدء الخلق میں شامل کیا ہے واضح ہو کہ اس حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ عائشہ (رض) کی فضیلت دوسری عورتوں پر تو پیچھے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں کہ عورتوں سے کیا مراد ہے ؟ ایک قول تو یہ ہے کہ عورتوں کی جنس یعنی کل عورتیں مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ ازواج مطہرات مراد ہیں اور اس میں بھی اختلافی اقول ہیں کہ آیا تمام ازواج مطہرات مراد ہیں یا حضرت خدیجہ (رض) کے علاوہ باقی ازواج مطہرات تاہم زیادہ صحیح یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) تمام عورتوں سے افضل ہیں اور حضرت عائشہ (رض) کے علمی و عملی کمالات کا جامع ہونے کے سبب کہ جس کو آپ نے ثرید کی مشابہت کے ذریعہ واضح فرمایا ہے ظاہر اطلاق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ ابتداء باب میں ازواج مطہرات کے متعلق کچھ باتیں ذکر کی جا چکی ہیں پھر حضرت خدیجہ (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں قدرے تفصیل بھی گزر چکی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ باقی ازواج مطہرات کے بھی کچھ احوال ذکر کر دئیے جائیں۔
6169
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت سودہ (رض) حضرت سودہ بنت زمعہ سکران بن عمرو بن عبدور کے نکاح میں تھیں جو ان کے عم زاد تھے انہوں نے اسلام قبول کیا پھر ان کی ترغیب پر سکران بھی مسلمان ہوگئے اور دونوں میاں بیوی ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے حبشہ میں سکران کا انتقال ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی دلداری کے لئے حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد ١٠ نبوی میں ان سے نکاح کرلیا اس وقت تک آپ نے حضرت عائشہ (رض) سے نکاح نہیں کیا تھا اور حضرت سودہ (رض) کی عمر پچاس سال تھی ایک زمانہ میں آنحضرت ﷺ نے بعض حالات کے تحت ان کو طلاق دینی چاہی مگر پھر ان کی درخواست پر آپ ﷺ نے اپنا ارادہ منسوخ کردیا تھا اور اسی وقت سے انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ (رض) کو دے دی تھی ان کا انتقال ١٩ ھ کے ماہ شوال میں مدینہ میں ہوا جب کہ ایک روایت میں ان کا سن وفات ٥٤ اور ایک روایت میں ٤١ منقول ہے۔
6170
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت حفصہ (رض) حضرت حفصہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رض) کی بیٹی ہیں ان کی ماں کا نام زینب بنت مظعون تھا یہ پہلے جیش بن عقافہ سہمی کے نکاح میں تھیں اپنے خاوند حضرت جیش کے ساتھ مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ آگئی تھیں غزوہ بدر میں حضرت جیش (رض) شیہد ہوگئے۔ تو حضرت عمر (رض) نے ان کا نکاح حضرت ابوبکر (رض) یا حضرت عثمان (رض) سے کرنا چاہا لیکن ان دونوں نے انکار کردیا تب رسول اللہ ﷺ نے اپنا پیغام ڈالا اور شعبان ٣ ھ میں ان کا نکاح کیا ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے ان کو ایک طلاق دیدی تھیں لیکن جب آپ کے پاس وحی آئی کہ حفصہ (رض) سے رجوع کرلیجئے کیونکہ وہ بہت عبادت گزار بہت روزہ دار عورت ہے اور وہ جنت میں آپ کی زوجہ ہے تو آنحضرت ﷺ نے رجوع کرلیا صحابہ تابعین کی ایک جماعت ان سے آنحضرت ﷺ کی احادیث نقل کرتی ہے انہوں نے بعمر ٦٠ سال شعبان ٤٥ ھ میں وفات پائی
6171
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) یہ زمانہ جاہلیت ہی سے ام المساکین کے لقب سے یاد کی جاتی تھیں ان کا پہلا نکاح عقیل سے اور دوسرا عبیدہ سے ہوا ان دونوں کے بعد تیسرا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش (رض) سے ہوا عبداللہ بن جحش (رض) جنگ احد میں شہید ہوگئے تو ٣ ھ میں آنحضرت ﷺ نے زینب (رض) سے نکاح کرلیا لیکن نکاح کے چند ہی ماہ بعد انتقال کر گئیں۔