Mishkaat Shareef
56. صبح وشام اور سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں کا بیان
مشكاة المصابيح
2411
Mishkaat Shareefصبح سے مراد ہے آفتاب طلوع ہونے تک دن کا بالکل ابتدائی حصہ شام سے مراد ہے آفتاب کے غروب ہونے کے وقت سے شفق غروب ہونے کے وقت تک دن کا بالکل آخری حصہ لہٰذا جو دعائیں صبح کے وقت پڑھنے کے لئے منقول ہیں ان کو چاہے نماز فجر سے پہلے پڑھا جائے چاہے نماز فجر کے بعد دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے اسی طرح شام کے وقت جن دعاؤں کا پڑھنا منقول ہے ان کو بھی چاہے تو مغرب کی نماز سے پہلے پڑھا جائے چاہے مغرب کی نماز کے بعد۔
2412
Mishkaat Shareefعن عبد الله قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أمسى قال : أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله ولا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم إني أسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم وسوء الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر وإذا أصبح قال أيضا : أصبحنا وأصبح الملك لله . وفي رواية : رب إني أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول کریم ﷺ کی لسان مقدس پر یہ الفاظ جاری ہوتے۔ دعا (امسینا وامسی الملک للہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر اللہم انی اسالک من خیر ہذہ اللیلۃ وخیر ما فیہا واعوذ بک من شرہا وشر ما فیہا اللہم انی اعوذبک من الکسل والہرم وسوء الکبر وفتنۃ الدنیا و عذاب القبر) ۔ اور جب صبح ہوتی تو آپ ﷺ اسی طرح پڑھتے لیکن شروع میں امسینا وامسی الملک للہ کی بجائے اصبحنا واصبح الملک للہ یعنی ہم نے صبح کی اور ہر چیز نے صبح کی جو اللہ کی ملک میں ہے) پڑھتے۔ ایک دوسری روایت میں وسوء الکبر کے بعد یہ الفاظ ہیں رب انی اعوذ بک من عذاب فی النار و عذاب فی القبر۔ (یعنی اے میرے رب میں اس عذاب سے جو دوزخ میں ہے اور عذاب سے جو قبر میں ہے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (مسلم)
تشریح
جب یہ دعا صبح کے وقت پڑھی جائے گی تو اس میں اللیلۃ کی بجائے لیوم پڑھا جائے یعنی یوں پڑھیں گے اللہم انی اسألک من خیر ہذا الیوم نیز جہاں جہاں رات کی رعایت سے مونث کی ضمیریں استعمال ہوتی ہیں وہاں دن کی رعایت سے مذکر ضمیریں استعمال ہوں گی یعنی ہا کی جگہ ہ، پڑھا جائے گا بقیہ عبارت جوں کی توں رہے گی۔
تشریح
جب یہ دعا صبح کے وقت پڑھی جائے گی تو اس میں اللیلۃ کی بجائے لیوم پڑھا جائے یعنی یوں پڑھیں گے اللہم انی اسألک من خیر ہذا الیوم نیز جہاں جہاں رات کی رعایت سے مونث کی ضمیریں استعمال ہوتی ہیں وہاں دن کی رعایت سے مذکر ضمیریں استعمال ہوں گی یعنی ہا کی جگہ ہ، پڑھا جائے گا بقیہ عبارت جوں کی توں رہے گی۔
2413
Mishkaat Shareefوعن حذيفة قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أخذ مضجعه من الليل وضع يده تحت خده ثم يقول : اللهم باسمك أموت وأحيا . وإذا استيقظ قال : الحمد الله الذي أحيانا بعدما ما أماتنا وإليه النشور . رواه البخاري
حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب رات میں اپنے بستر پر تشریف لاتے اور سونے کے لئے لیٹتے تو اپنا ہاتھ یعنی اپنی داہنی ہتھیلی اپنے دائیں گال کے نیچے رکھتے اور یہ فرماتے دعا (اللہم باسمک اموت واحیا) اے اللہ تیرے ہی نام پر مرتا (یعنی سوتا) ہوں اور تیرے ہی نام پر زندہ ہوتا یعنی جاگتا ہوں اور جب آپ ﷺ نیند سے بیدار ہوتے تو یہ فرماتے دعا (الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور) ۔ اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے لیکن مسلم نے حضرت حذیفہ (رض) کی بجائے حضرت براء (رض) سے روایت کیا ہے۔
تشریح
اسی کی طرف رجوع ہے کا مطلب بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ آخر کار موت کے بعد حساب اور جزا و سزا کے لئے اسی ذات باری تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے گا کہ یہاں نشور (رجوع) سے مراد ہے سونے کے بعد اٹھ کر طلب معاش اور اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کے لئے زندگی کی ہماہمی میں شریک ہوجانا۔ رخسار کے نیچے ہاتھ رکھ کر سونے سے چونکہ غفلت بہت زیادہ طاری نہیں ہوتی اس لئے آپ ﷺ اپنے دائیں رخسار مبارک کے نیچے اپنی دائیں ہتھیلی رکھ کر سوتے تھے۔ اسی طرح سوتے وقت اور جاگنے کے بعد ذکر و دعا کرنے کی حکمت و وجہ یہ ہے کہ اعمال کا خاتمہ بھی عبادت وطاعت پر ہو، افعال کی ابتداء بھی عبادت ہی سے ہے۔
تشریح
اسی کی طرف رجوع ہے کا مطلب بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ آخر کار موت کے بعد حساب اور جزا و سزا کے لئے اسی ذات باری تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ کہا جائے گا کہ یہاں نشور (رجوع) سے مراد ہے سونے کے بعد اٹھ کر طلب معاش اور اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کے لئے زندگی کی ہماہمی میں شریک ہوجانا۔ رخسار کے نیچے ہاتھ رکھ کر سونے سے چونکہ غفلت بہت زیادہ طاری نہیں ہوتی اس لئے آپ ﷺ اپنے دائیں رخسار مبارک کے نیچے اپنی دائیں ہتھیلی رکھ کر سوتے تھے۔ اسی طرح سوتے وقت اور جاگنے کے بعد ذکر و دعا کرنے کی حکمت و وجہ یہ ہے کہ اعمال کا خاتمہ بھی عبادت وطاعت پر ہو، افعال کی ابتداء بھی عبادت ہی سے ہے۔
2414
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أوى أحدكم إلى فراشه فلينفض فراشه بداخلة إزاره فإنه لا يدري ما خلفه عليه ثم يقول : باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمهما وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين . وفي رواية : ثم ليضطجع على شقه الأيمن ثم ليقل : باسمك وفي رواية : فلينفضه بصنفة ثوبه ثلاث مرات وإن أمسكت نفسي فاغفر لها
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں کوئی سونے کے لئے اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہئے کہ اپنے بستر کو اپنی لنگی کے اندر کے کونے سے جھاڑ لے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کے بستر پر کیا چیز (مثلاً کیڑا مکوڑا، یا گرد و غبار) گری پڑی ہو اور اس کے بعد وہ بستر پر لیٹے اور پھر کہے دعا (باسمک ربی وضعت جنبی وبک ارفعہ ان امسکت نفسی فارحمہا وان ارسلتہا فاحفظہا بما تحفظ بہ عبادک الصالحین) ۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے اپنا بستر جھاڑے پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے اور پھر باسمک (یعنی مذکورہ بالا دعا) آخرت تک پڑھے) (مسلم اور بخاری) ایک روایت میں یہ ہے کہ اسے چاہئے کہ وہ اپنے بستر کو اپنے کپڑے کے کونے سے تین مرتبہ جھاڑے نیز اس روایت میں دعا (وان امسکت نفسی فاغفر لہا) یعنی مذکورہ بالا دعا میں فارحمہا کی بجائے فاغفر لہا ہے۔
تشریح
لنگی کے کونے سے مراد کپڑے کا وہ حصہ یا کونہ ہے جو اندرونی طرف اور بدن سے لگا ہوا ہوتا ہے خواہ وہ لنگی ہو یا کوئی اور لباس ! نیز لنگی کے کونے سے جھاڑنے کے لئے اس لئے فرمایا کہ باہر کے کونے جھاڑنے سے بستر کا کوئی حصہ کھلنے بھی نہیں پائے گا ! حاصل یہ کہ جب کوئی شخص بستر پر آئے تو پہلئے وہ بستر کو کسی کپڑا وغیرہ سے جھاڑے تاکہ بستر اگر اذیت و نقصان پہنچانے والی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اس سے بستر صاف ہوجائے گا اگر بستر کو جھاڑنے کے لئے الگ سے کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو تو پھر اپنی لنگی یا کرتے وغیرہ کے کونے سے ہی اسے جھاڑ لیا جائے۔ جب انسان سوتا ہے تو وہ گویا مردے ہی کے حکم میں ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اس کی روح عارضی طور پر قبض کرلیتا ہے پھر اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں بھیج دیتا ہے یعنی اسے نیند سے بیدار کردیتا ہے یا اس کی روح کو چھوڑتا ہے یعنی مستقل طور پر قبض کرلیتا ہے اور اس شخص پر موت طاری کردیتا ہے چناچہ اسی چیز کے بارے میں مذکورہ بالا دعا میں درخواست ہے کہ پروردگار اگر تو سونے کی حالت میں میری روح کو رکھ چھوڑے اور مجھ پر موت طاری فرما دے تو اس صورت میں مجھے بخش دیجئے اور اگر میری روح کو واپس بھیج دے اور مجھے زندہ رکھے تو پھر اسی طرح میری نگہبانی فرمائیے جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی نگہبانی فرماتا ہے یعنی نیکی و بھلائی کی توفیق دیجئے اور میرے ہر کام و فعل میں میرا معین و مددگار بنئے۔ نیک بندوں سے مراد وہ بندے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اور عبادت وطاعت کے ذریعہ اللہ کا حق بھی ادا کرتے ہیں اور بندوں کے حقوق بھی جو ان کے ذمہ ہوتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ دائیں کروٹ سونے میں حکمت یہ ہے کہ دل چونکہ بائیں پہلو میں ہوتا ہے اس لئے دائیں کروٹ سونے کی سورت میں دل لٹکتا رہتا ہے جس کی وجہ سے نیند میں استراحت اور غفلت زیادہ نہیں ہوتی۔ اور نماز تہجد وغیرہ کے لئے جاگنا آسان ہوتا ہے جبکہ بائیں کروٹ سونے کی صورت میں دل اپنی جگہ ٹھہرا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیند میں غفلت اور استراحت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
تشریح
لنگی کے کونے سے مراد کپڑے کا وہ حصہ یا کونہ ہے جو اندرونی طرف اور بدن سے لگا ہوا ہوتا ہے خواہ وہ لنگی ہو یا کوئی اور لباس ! نیز لنگی کے کونے سے جھاڑنے کے لئے اس لئے فرمایا کہ باہر کے کونے جھاڑنے سے بستر کا کوئی حصہ کھلنے بھی نہیں پائے گا ! حاصل یہ کہ جب کوئی شخص بستر پر آئے تو پہلئے وہ بستر کو کسی کپڑا وغیرہ سے جھاڑے تاکہ بستر اگر اذیت و نقصان پہنچانے والی کوئی چیز گری پڑی ہو تو اس سے بستر صاف ہوجائے گا اگر بستر کو جھاڑنے کے لئے الگ سے کوئی کپڑا وغیرہ نہ ہو تو پھر اپنی لنگی یا کرتے وغیرہ کے کونے سے ہی اسے جھاڑ لیا جائے۔ جب انسان سوتا ہے تو وہ گویا مردے ہی کے حکم میں ہوجاتا ہے کہ حق تعالیٰ اس کی روح عارضی طور پر قبض کرلیتا ہے پھر اس کے بعد اس کی روح کو اس کے جسم میں بھیج دیتا ہے یعنی اسے نیند سے بیدار کردیتا ہے یا اس کی روح کو چھوڑتا ہے یعنی مستقل طور پر قبض کرلیتا ہے اور اس شخص پر موت طاری کردیتا ہے چناچہ اسی چیز کے بارے میں مذکورہ بالا دعا میں درخواست ہے کہ پروردگار اگر تو سونے کی حالت میں میری روح کو رکھ چھوڑے اور مجھ پر موت طاری فرما دے تو اس صورت میں مجھے بخش دیجئے اور اگر میری روح کو واپس بھیج دے اور مجھے زندہ رکھے تو پھر اسی طرح میری نگہبانی فرمائیے جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی نگہبانی فرماتا ہے یعنی نیکی و بھلائی کی توفیق دیجئے اور میرے ہر کام و فعل میں میرا معین و مددگار بنئے۔ نیک بندوں سے مراد وہ بندے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اور عبادت وطاعت کے ذریعہ اللہ کا حق بھی ادا کرتے ہیں اور بندوں کے حقوق بھی جو ان کے ذمہ ہوتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ دائیں کروٹ سونے میں حکمت یہ ہے کہ دل چونکہ بائیں پہلو میں ہوتا ہے اس لئے دائیں کروٹ سونے کی سورت میں دل لٹکتا رہتا ہے جس کی وجہ سے نیند میں استراحت اور غفلت زیادہ نہیں ہوتی۔ اور نماز تہجد وغیرہ کے لئے جاگنا آسان ہوتا ہے جبکہ بائیں کروٹ سونے کی صورت میں دل اپنی جگہ ٹھہرا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیند میں غفلت اور استراحت بہت زیادہ ہوتی ہے۔
2415
Mishkaat Shareefوعن البراء بن عازب قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أوى إلى فراشه نام على شقه الأيمن ثم قال : اللهم أسلمت نفسي إليك ووجهت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت . وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قالهن ثم مات تحت ليلته مات على الفطرة وفي رواية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لرجل : يا فلان إذا أويت إلى فراشك فتوضأ وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الأيمن ثم قل : اللهم أسلمت نفسي إليك إلى قوله : أرسلت وقال : فإن مت من ليلتك مت على الفطرة وإن أصبحت أصبت خيرا
حضرت براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر سوتے وقت دائیں کروٹ پر سوتے اور سونے سے پہلے یہ فرماتے دعا (اللہم اسلمت نفسی الیک وجہت وجہی الیک و فوضت امری الیک والجأت ظہری الیک رغبۃ ورہبۃ الیک لا ملجا ولا منجا منک الا الیک امنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت) ۔ نیز آپ ﷺ فرماتے جس شخص نے ان کلمات کو سونے سے پہلے کہا اور پھر اسی رات میں مرگیا تو وہ دین اسلام پر مرا۔ ایک اور روایت میں یوں ہے کہ حضرت براء (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا۔ اے فلاں شخص جب تم اپنے بستر پر آؤ تو پہلے تم نماز کے وضو جیسا وضو پورا کرو اور پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ کر (اللہم اسلمت نفسی سے ارسلت تک (یعنی مذکورہ بالا دعا) پڑھو پھر آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس رات میں تمہاری موت واقع ہوگئی تو تم دین اسلام پر مرو گے اور اگر تم نے صبح کرلی تو بھلائیوں کو بہت (یعنی بہت زیادہ بھلائیوں کو یا یہ کہ دارین کی بھلائیوں) کو پاؤ گے۔ (بخاری ومسلم)
2416
Mishkaat Shareefوعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا أوى إلى فراشه قال : الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مؤوي . رواه مسلم
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ کہتے دعا (الحمد للہ الذی اطعمنا وسقانا وکفانا واوانا ممن لاکافی لہ ولا مؤوی۔ (مسلم)
تشریح
دعا کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو روز مرہ کی تکلیف وپریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو تکالیف وپریشانیوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ وہ ان پر غالب رہتی ہیں چناچہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی روز مرہ کی ضروریات زندگی ہی میں رحمت الٰہی کے التفات سے محروم رہتے ہیں بلکہ قضا و قدر الٰہی کے تحت ان کو سر چھپانے کے لئے کوئی ٹھکانہ بھی میسر نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ کوچوں، بازاروں میں فٹ پاتھ اور سڑکوں پر اور جنگلات و ویرانوں میں اپنی سخت کوش زندگی کی گھڑیاں گزارتے ہیں نہ انہیں گرمی سے بچنے کی راحت نصیب ہوتی ہے اور نہ سردی کی ایذاء تکلیف سے نجات کی کوئی پناہ گاہ۔
تشریح
دعا کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو روز مرہ کی تکلیف وپریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو تکالیف وپریشانیوں سے محفوظ نہیں رکھتا بلکہ وہ ان پر غالب رہتی ہیں چناچہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی روز مرہ کی ضروریات زندگی ہی میں رحمت الٰہی کے التفات سے محروم رہتے ہیں بلکہ قضا و قدر الٰہی کے تحت ان کو سر چھپانے کے لئے کوئی ٹھکانہ بھی میسر نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ کوچوں، بازاروں میں فٹ پاتھ اور سڑکوں پر اور جنگلات و ویرانوں میں اپنی سخت کوش زندگی کی گھڑیاں گزارتے ہیں نہ انہیں گرمی سے بچنے کی راحت نصیب ہوتی ہے اور نہ سردی کی ایذاء تکلیف سے نجات کی کوئی پناہ گاہ۔
2417
Mishkaat Shareefوعن علي : أن فاطمة أنت النبي صلى الله عليه و سلم تشكو إليه ما تلقى في يدها من الرحى وبلغها أنه جاءه رقيق فلم تصادفه فذكرت ذلك لعائشة فلما جاء أخبرته عائشة قال : فجاءنا وقد أخذنا مضاجعنا فذهبنا نقوم فقال : على مكانكما فجاء فقعد بيني وبينها حتى وجدت برد قدمه على بطني فقال : ألا أدلكما على خير مما سألتما ؟ إذا أخذتما مضجعكما فسبحا ثلاثا وثلاثين واحمدا ثلاثا وثلاثين وكبرا ثلاثا وثلاثين فهو خير لكما من خادم
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ (میری زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی) حضرت فاطمہ (رض) نبی کریم ﷺ کے ہاں اس غرض سے حاضر ہوئی کہ چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ جس زحمت و مشقت میں مبتلا تھے اس کی شکایت آنحضرت ﷺ سے کریں (اور کوئی خدمت گار مانگیں) کیونکہ حضرت فاطمہ (رض) کو معلوم ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے ہیں مگر اس وقت آپ ﷺ سے ان کی ملاقات نہیں ہوئی، چناچہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) کے سامنے اس کا تذکرہ کیا یعنی ان سے کہا کہ جب آنحضرت ﷺ تشریف لائیں تو کہہ دیجئے گا کہ فاطمہ (رض) اپنی مشقت و تکلیف کے پیش نظر ایک غلام مانگنے حاضر ہوئی تھیں۔ پھر جب آنحضرت ﷺ تشریف لائے تو حضرت عائشہ (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) کا پیغام آپ ﷺ تک پہنچا دیا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ ہمارے ہاں اس وقت تشریف لائے جب کہ ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے (آپ ﷺ کو دیکھ کر ہم نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر لیٹے رہو، پھر آپ ﷺ ہمارے نزدیک تشریف لائے اور میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے اپنے پیٹ پر آپ ﷺ کے مبارک قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا (مجھے فاطمہ کا پیغام مل گیا ہے) کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتلا دوں جو اس چیز (یعنی غلام) سے بہتر ہے جو تم نے مانگی تھی اور وہ یہ ہے کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہو تمہارے لئے خادم سے یہ چیز بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
چونکہ آنحضرت ﷺ حضرت فاطمہ (رض) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ دونوں ہی سے بےانتہا محبت فرماتے تھے اور آپ ﷺ کی بےحد شفقت کسی تکلف کو گوارہ نہیں کرتی تھی اس لئے جب آپ ﷺ ان کے ہاں آئے تو کامل محبت و شفقت کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان تشریف فرما ہوگئے کیونکہ پیار و محبت اور شفقت و الفت کسی تکلف کی پابند نہیں ہوتی، اس لئے کہا گیا ہے کہ (اذا جاءت الالفۃ رفعت الکلفۃ (ترجمہ) جب الفت آئی تو تکلف اٹھا دی گئی۔ مذکورہ بالا کلمات کی ترتیب کے سلسلہ میں جزری نے شرح مصابیح میں کہا ہے کہ تکبیر پہلے ہے چناچہ ابن کثیر (رح) فرمایا کرتے تھے کہ نمازوں کے بعد تو پہلے سبحان اللہ پڑھنا چاہئے اس کے بعد الحمد للہ اور پھر اللہ اکبر لیکن سوتے وقت پہلے اللہ اکبر ہی پڑھ لینا چاہئے اس سلسلہ میں علماء لکھتے ہیں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ اکبر کو کبھی تو پہلے پڑھا جائے اور کبھی بعد میں تاکہ اس بارے میں منقول دونوں روایتوں ہی پر عمل ہو اور یہی اولی اور زیادہ بہتر ہے۔ ارشاد گرامی، تمہارے لئے یہ چیز خادم سے زیادہ بہتر ہے۔ کے ذریعہ حضرت فاطمہ (رض) کو دنیا کی مشقتوں اور تکالیف اور دنیاوی طور پر ناپائیدار چیزوں مثلاً مرض و فقر پر صبر کی ترغیب دلائی گئی ہے نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شکر کرنے والے مالدار کی بہ نسبت صبر کرنے والا مفلس زیادہ افضل ہے۔
تشریح
چونکہ آنحضرت ﷺ حضرت فاطمہ (رض) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ دونوں ہی سے بےانتہا محبت فرماتے تھے اور آپ ﷺ کی بےحد شفقت کسی تکلف کو گوارہ نہیں کرتی تھی اس لئے جب آپ ﷺ ان کے ہاں آئے تو کامل محبت و شفقت کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان تشریف فرما ہوگئے کیونکہ پیار و محبت اور شفقت و الفت کسی تکلف کی پابند نہیں ہوتی، اس لئے کہا گیا ہے کہ (اذا جاءت الالفۃ رفعت الکلفۃ (ترجمہ) جب الفت آئی تو تکلف اٹھا دی گئی۔ مذکورہ بالا کلمات کی ترتیب کے سلسلہ میں جزری نے شرح مصابیح میں کہا ہے کہ تکبیر پہلے ہے چناچہ ابن کثیر (رح) فرمایا کرتے تھے کہ نمازوں کے بعد تو پہلے سبحان اللہ پڑھنا چاہئے اس کے بعد الحمد للہ اور پھر اللہ اکبر لیکن سوتے وقت پہلے اللہ اکبر ہی پڑھ لینا چاہئے اس سلسلہ میں علماء لکھتے ہیں کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ اکبر کو کبھی تو پہلے پڑھا جائے اور کبھی بعد میں تاکہ اس بارے میں منقول دونوں روایتوں ہی پر عمل ہو اور یہی اولی اور زیادہ بہتر ہے۔ ارشاد گرامی، تمہارے لئے یہ چیز خادم سے زیادہ بہتر ہے۔ کے ذریعہ حضرت فاطمہ (رض) کو دنیا کی مشقتوں اور تکالیف اور دنیاوی طور پر ناپائیدار چیزوں مثلاً مرض و فقر پر صبر کی ترغیب دلائی گئی ہے نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شکر کرنے والے مالدار کی بہ نسبت صبر کرنے والا مفلس زیادہ افضل ہے۔
2418
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : جاءت فاطمة إلى النبي صلى الله عليه و سلم تسأله خادما فقال : ألا أدلك على ما هو خير من خادم ؟ تسبحين الله ثلاثا وثلاثين وتحمدين الله ثلاثا وثلاثين وتكبرين الله أربعا وثلاثين عند كل صلاة وعند منامك . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرہ (رض) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس مقصد سے حاضر ہوئیں کہ آپ ﷺ سے کوئی خادم مانگیں لیکن آپ ﷺ سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔ جب آنحضرت ﷺ کو یہ معلوم ہوا تو آپ ﷺ حضرت فاطمہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتادوں جو خادم سے بہتر ہے۔ (اور وہ یہ ہے) ہر نماز کے بعد اور سوتے وقت سبحان اللہ تینتیس بار اور الحمدللہ تینتیس بار اور اللہ اکبر چونتیس بار پڑھ لیا کرو۔ (مسلم)
تشریح
سونے کے وقت ان تسبیحات کا پڑھنا دن بھر کی مشقت و محنت و کوفت اور ہر قسم کے رنج و غم کو دور کرتا ہے۔
تشریح
سونے کے وقت ان تسبیحات کا پڑھنا دن بھر کی مشقت و محنت و کوفت اور ہر قسم کے رنج و غم کو دور کرتا ہے۔
2419
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أصبح قال : اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك المصير . وإذا أمسى قال : اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تو رسول کریم ﷺ کی زبان پر یہ دعائیہ کلمات جاری ہوتے دعا (اللہم بک اصبحنا وبک امسینا وبک نحیی وبک نموت والیک المصیر) ۔ اور جب شام ہوتی تو آپ ﷺ یہ دعا فرماتے دعا (اللہم بک امسینا وبک اصبحنا وبک نحیی وبک نموت والیک النشور۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
2420
Mishkaat Shareefوعنه قال : قال أبو بكر : قلت يا رسول الله مرني بشيء أقوله إذا أصبحت وإذا أمسيت قال : قل اللهم عالم الغيب والشهادة فاطر السماوات والأرض رب كل شيء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي ومن شر الشيطان وشركه قله إذا أصبحت وإذا أمسيت وإذا أخذت مضجعك . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ! یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی دعا پڑھنے کا حکم دیجئے جسے میں صبح اور شام کے وقت (بطریق ورد) پڑھ لیا کروں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کرو دعا (اللہم عالم الغیب والشہادۃ فاطر السموات والارض رب کل شیء وملیکہ اشہد ان لا الہ الا انت اعوذبک من شر نفسی ومن شر الشیطان وشرکہ۔ (نیز آپ ﷺ نے فرمایا) تم اس دعا کو صبح کے وقت پڑھ لیا کرو، شام کے وقت پڑھ لیا کرو اور سونے کے وقت بھی۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)