Mishkaat Shareef
45. نفل روزہ کا بیان
مشكاة المصابيح
2045
Mishkaat Shareefعن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم حتى نقول : لا يفطر ويفطر حتى نقول : لا يصوم وما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان وما رأيته في شهر أكثر منه صياما في شعبان وفي رواية قالت : كان يصوم شعبان كله وكن يصوم شعبان إلا قليلا
ام المومنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب نفل روزے رکھنے شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزے رکھنا ختم نہیں کریں گے اور جب روزے نہ رکھنے پر آتے تو ہم کہتے کہ اب آپ ﷺ کبھی روزہ نہیں رکھیں گے میں نے آنحضرت ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورے ماہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے آپ ﷺ کو شعبان کے علاوہ اور کسی مہینہ میں زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا (یعنی آپ ﷺ شعبان کے مہینے میں جتنے زیادہ روزے رکھتے تھے اتنے اور کسی مہینہ میں علاوہ رمضان کے نہیں رکھتے تھے) ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا آنحضرت ﷺ شعبان کے پورے ماہ روزے رکھا کرتے تھے (یعنی) ماہ شعبان میں چند دن چھوڑ کر بقیہ دنوں میں روزے سے رہا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نفل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ کبھی تو مسلسل کافی عرصہ تک روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے روزوں کی اس کثرت اور تسلسل کو دیکھ کر لوگ گمان کرنے لگتے تھے کہ اب روزہ کا سلسلہ شاید آپ ﷺ کبھی ختم نہ کریں اور کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺ مسلسل کافی عرصہ تک روزہ رکھتے ہی نہیں تھے یہاں تک کہ لوگ سوچتے کہ شاید اب آپ ﷺ نفل روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ کان یصوم الخ میں جملہ آخر یعنی دوسرے لفظ کان سے جملہ اول کی وضاحت مقصود ہے کہ شعبان کے پورے ماہ سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، بعض حضرات کے نزدیک مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ ایک سال تو شعبان کے پورے ماہ اور دوسرے سال شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
تشریح
حدیث کے ابتدائی جملوں کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نفل روزے نہیں رکھتے تھے بلکہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ کبھی تو مسلسل کافی عرصہ تک روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے روزوں کی اس کثرت اور تسلسل کو دیکھ کر لوگ گمان کرنے لگتے تھے کہ اب روزہ کا سلسلہ شاید آپ ﷺ کبھی ختم نہ کریں اور کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺ مسلسل کافی عرصہ تک روزہ رکھتے ہی نہیں تھے یہاں تک کہ لوگ سوچتے کہ شاید اب آپ ﷺ نفل روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ کان یصوم الخ میں جملہ آخر یعنی دوسرے لفظ کان سے جملہ اول کی وضاحت مقصود ہے کہ شعبان کے پورے ماہ سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے، بعض حضرات کے نزدیک مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ ایک سال تو شعبان کے پورے ماہ اور دوسرے سال شعبان کے اکثر دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے۔
2046
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن شقيق قال : قلت لعائشة : أكان النبي صلى الله عليه و سلم يصوم شهرا كله ؟ قال : ما علمته صام شهرا كله إلا رمضان ولا أفطره كله حتى يصوم منه حتى مضى لسبيله . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن شقیق (تابعی) کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ پورے مہینہ روزہ رکھا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ میں نہیں جانتی کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی مہینہ میں پورے ماہ روزے رکھے ہوں علاوہ رمضان کے اور میں ایسا کوئی مہینہ بھی نہیں جانتی جس میں آپ ﷺ نے بالکل روزے نہ رکھے ہوں کیونکہ آپ ﷺ ہر مہینہ میں کچھ دن روزے سے رہا کرتے تھے (آپ ﷺ کا یہی معمول رہا) یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ (مسلم)
2047
Mishkaat Shareefوعن عمران بن حصين عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه سأله أو سأل رجلا وعمران يسمع فقال : يا أبا فلان أما صمت من سرر شعبان ؟ قال : لا قال : فإذا أفطرت فصم يومين
حضرت عمران بن حصین (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے عمران سے پوچھا یا کسی دوسرے شخص سے پوچھا اور عمران سنتے تھے کہ اے فلاں شخص کے باپ ! کیا تم نے شعبان کے آخری دنوں کے روزے نہیں رکھے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا جب تم رمضان کے روزوں سے فارغ ہوجاؤ تو دو دن روزے رکھ لینا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جن صاحب سے آنحضرت ﷺ نے شعبان کے آخری دنوں کے بارے میں پوچھا تھا خواہ وہ عمران رہے ہوں یا کوئی دوسرے شخص انہوں نے بطریق نذر اپنے اوپر ہر مہینے کے آخری دو دنوں کے روزے واجب قرار دے رکھے تھے چناچہ ایک مرتبہ شعبان کے آخری دو دنوں کے انہوں نے روزے نہیں رکھے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہوجائے تو شعبان کے آخری دو دنوں کے بدلے دو روزے رکھ لینا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کی یہ عادت تھی کہ وہ ہر مہینہ کے آخری دو دن نفل روزے رکھا کرتے تھے ایک مرتبہ شعبان کے آخری دو دنوں میں اتفاق سے انہوں نے روزے نہیں رکھے تو آپ ﷺ نے ان سے بطور استحباب فرمایا کہ رمضان کے روزے ختم ہوجانے کے بعد ان دو دنوں کے بدلے دو دنوں کے روزے رکھ لینا۔
تشریح
جن صاحب سے آنحضرت ﷺ نے شعبان کے آخری دنوں کے بارے میں پوچھا تھا خواہ وہ عمران رہے ہوں یا کوئی دوسرے شخص انہوں نے بطریق نذر اپنے اوپر ہر مہینے کے آخری دو دنوں کے روزے واجب قرار دے رکھے تھے چناچہ ایک مرتبہ شعبان کے آخری دو دنوں کے انہوں نے روزے نہیں رکھے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ ختم ہوجائے تو شعبان کے آخری دو دنوں کے بدلے دو روزے رکھ لینا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ ان کی یہ عادت تھی کہ وہ ہر مہینہ کے آخری دو دن نفل روزے رکھا کرتے تھے ایک مرتبہ شعبان کے آخری دو دنوں میں اتفاق سے انہوں نے روزے نہیں رکھے تو آپ ﷺ نے ان سے بطور استحباب فرمایا کہ رمضان کے روزے ختم ہوجانے کے بعد ان دو دنوں کے بدلے دو دنوں کے روزے رکھ لینا۔
2048
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا رمضان کے روزے کے بعد بہترین روزے اللہ کے مہینے کے کہ وہ ماہ محرم ہے کہ روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ماہ محرم میں نفل روزے رکھنے بڑی فضیلت اور سعادت کی بات ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں ماہ محرم سے مراد یوم عاشورہ ہے جس کے روزے کی بہت زیادہ فضیلت منقول ہے اور اس کی تائید اس کے بعد آنے والی حدیث سے بھی ہوتی ہے بعض حفاظ حدیث فرماتے ہیں کہ رجب کے مہینہ میں روزے کے بارے میں احادیث منقول ہیں ان میں سے اکثر موضوع اور دوسروں کی اختراع ہیں۔ اس حدیث میں ماہ محرم کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کی گئی ہے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ نسبت تخصیص کی بناء پر نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہو کہ صرف محرم ہی اللہ کا مہینہ ہے بلکہ چونکہ تمام مہینے اللہ ہی کے ہیں اس لئے اس موقع پر بطور خاص اللہ کی طرف محرم کے مہینہ کی نسبت اس ماہ مبارک کے شرف و فضیلت کے اظہار کے طور پر ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رات کی نماز (یعنی نماز تہجد) سنت مؤ کدہ نمازوں سے افضل ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس لئے کہا جائے گا کہ یہاں پوری عبادت اس طرح ہے فرض نماز اور اس کی سنت مؤ کدہ نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے یا پھر اس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ اس اعتبار سے تو نماز تہجد، سنت مؤ کدہ نماز سے افضل ہے کہ تہجد کی نماز میں مشقت و محنت زیادہ ہوتی ہے نیز یہ کہ نماز تہجد ریاء و نمائش سے پاک اور محفوظ ہوتی ہے اور سنت مؤ کدہ نمازیں اس اعتبار سے افضل ہیں کہ ان کو پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے نیز یہ کہ وہ فرض نماز کے تابع ہوتی ہیں۔ آخر میں اتنی بات بھی ملحوظ رہے کہ وتر بھی فرض نماز کے حکم میں داخل ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ماہ محرم میں نفل روزے رکھنے بڑی فضیلت اور سعادت کی بات ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں ماہ محرم سے مراد یوم عاشورہ ہے جس کے روزے کی بہت زیادہ فضیلت منقول ہے اور اس کی تائید اس کے بعد آنے والی حدیث سے بھی ہوتی ہے بعض حفاظ حدیث فرماتے ہیں کہ رجب کے مہینہ میں روزے کے بارے میں احادیث منقول ہیں ان میں سے اکثر موضوع اور دوسروں کی اختراع ہیں۔ اس حدیث میں ماہ محرم کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف کی گئی ہے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ نسبت تخصیص کی بناء پر نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہو کہ صرف محرم ہی اللہ کا مہینہ ہے بلکہ چونکہ تمام مہینے اللہ ہی کے ہیں اس لئے اس موقع پر بطور خاص اللہ کی طرف محرم کے مہینہ کی نسبت اس ماہ مبارک کے شرف و فضیلت کے اظہار کے طور پر ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ رات کی نماز (یعنی نماز تہجد) سنت مؤ کدہ نمازوں سے افضل ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے اس لئے کہا جائے گا کہ یہاں پوری عبادت اس طرح ہے فرض نماز اور اس کی سنت مؤ کدہ نماز کے بعد سب سے بہتر نماز رات کی نماز ہے یا پھر اس کی تاویل یہ کی جائے گی کہ اس اعتبار سے تو نماز تہجد، سنت مؤ کدہ نماز سے افضل ہے کہ تہجد کی نماز میں مشقت و محنت زیادہ ہوتی ہے نیز یہ کہ نماز تہجد ریاء و نمائش سے پاک اور محفوظ ہوتی ہے اور سنت مؤ کدہ نمازیں اس اعتبار سے افضل ہیں کہ ان کو پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی گئی ہے نیز یہ کہ وہ فرض نماز کے تابع ہوتی ہیں۔ آخر میں اتنی بات بھی ملحوظ رہے کہ وتر بھی فرض نماز کے حکم میں داخل ہے۔
2049
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : ما رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يتحرى صيام يوم فضله على غيره إلا هذا اليوم : يوم عاشوراء وهذا الشهر يعني شهر رمضان
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کسی دن روزہ کا ارادہ کرتے ہوں اور اس دن کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں۔ مگر اس دن یعنی یوم عاشورہ کو اور اس مہینہ یعنی ماہ رمضان کو دوسرے دن اور دوسرے مہینہ پر فضیلت دیتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی دن روزہ کو دوسرے دنوں کے روزوں سے افضل قرار نہیں دیتے تھے البتہ یوم عاشورہ کے روزے کو دوسرے دنوں کے روزوں پر فضیلت دیتے تھے اسی طرح رمضان کے روزوں کو اور سب روزوں سے افضل قرار دیتے تھے۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ حضرت ابن عباس (رض) کا فہم و گمان ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے احوال و اقوال سے ایسا سمجھ لیا ہو ورنہ تو جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے یوم عرفہ اور اس دن کا روزہ یوم عاشورہ اور اس دن کے روزہ سے افضل ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی دن روزہ کو دوسرے دنوں کے روزوں سے افضل قرار نہیں دیتے تھے البتہ یوم عاشورہ کے روزے کو دوسرے دنوں کے روزوں پر فضیلت دیتے تھے اسی طرح رمضان کے روزوں کو اور سب روزوں سے افضل قرار دیتے تھے۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ حضرت ابن عباس (رض) کا فہم و گمان ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کے احوال و اقوال سے ایسا سمجھ لیا ہو ورنہ تو جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے یوم عرفہ اور اس دن کا روزہ یوم عاشورہ اور اس دن کے روزہ سے افضل ہے۔
2050
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : حين صام رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم عاشوراء وأمر بصيامه قالوا : يا رسول الله إنه يوم يعظمه اليهود والنصارى . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لئن بقيت إلى قابل لأصومن التاسع . رواه مسلم
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت رسول کریم ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ تو وہ دن ہے جو یہود و نصاریٰ کے ہاں بڑا باعظمت ہے اور چونکہ یہود و نصاری کی مخالفت ہمارا شیوہ ہے لہٰذا ہم روزہ رکھ کر اس دن کی عظمت کرنے میں یہود و نصاریٰ کی موافقت کیسے کریں آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں تاریخ کو ضرور روزہ رکھوں گا۔ (مسلم)
تشریح
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا ؟ اس کی وضاحت اسی باب کی تیسری فصل کی پہلی حدیث میں آئے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری بہ نسبت ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ قریب ہیں چناچہ اس کے بعد آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کو روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ یہ واقعہ ہجرت کے ابتدائی دنوں کا ہے گویا اس وقت آپ ﷺ نے صحابہ کو عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کو جو حکم دیا وہ بطور وجوب کے تھا۔ یہاں جو صورت ذکر کی گئی ہے وہ آپ ﷺ کی دنیاوی زندگی کے آخری سال میں پیش آئی ہے اس موقت پر آپ ﷺ نے جو حکم دیا وہ بطور استحباب کے ہے کیونکہ اس بارے میں وجوب کا حکم منسوخ ہوگیا تھا اور اس کی جگہ استحباب نے لے لی اس موقع پر صحابہ نے مذکورہ بالا عرضداشت پیش کی جس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال اس دنیا میں رہا تو نویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا۔ اب اس میں احتمال ہے کہ یا تو آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ محرم کی دسویں تاریخ ( عاشورہء) کی بجائے صرف نویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا۔ یا یہ کہ دسویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا اور پہلا احتمال ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور اس ترمیم سے مقصد یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ ﷺ آئندہ سال تک اس دنیا میں تشریف فرما نہیں رہے بلکہ اسی سال ربیع الاول کے مہینہ میں واصل بحق ہوگئے اس طرح اگر آپ ﷺ نے نویں کا روزہ نہیں رکھا مگر علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اس عزم و ارادہ کی بنا پر امت کے لئے محرم کی نویں تاریخ کا روزہ رکھنا سنت قرار پا گیا ہے۔ محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ عاشورے کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے مگر اس کے ساتھ ہی عاشورہ سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھنا مستحب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے یہود کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔
تشریح
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا ؟ اس کی وضاحت اسی باب کی تیسری فصل کی پہلی حدیث میں آئے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن کی کیا خصوصیت ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ یہ بڑا عظیم دن ہے اسی دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور شکر اس دن روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری بہ نسبت ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ قریب ہیں چناچہ اس کے بعد آپ ﷺ نے یوم عاشورہ کو روزہ رکھا اور صحابہ کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ یہ واقعہ ہجرت کے ابتدائی دنوں کا ہے گویا اس وقت آپ ﷺ نے صحابہ کو عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کو جو حکم دیا وہ بطور وجوب کے تھا۔ یہاں جو صورت ذکر کی گئی ہے وہ آپ ﷺ کی دنیاوی زندگی کے آخری سال میں پیش آئی ہے اس موقت پر آپ ﷺ نے جو حکم دیا وہ بطور استحباب کے ہے کیونکہ اس بارے میں وجوب کا حکم منسوخ ہوگیا تھا اور اس کی جگہ استحباب نے لے لی اس موقع پر صحابہ نے مذکورہ بالا عرضداشت پیش کی جس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال اس دنیا میں رہا تو نویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا۔ اب اس میں احتمال ہے کہ یا تو آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ محرم کی دسویں تاریخ ( عاشورہء) کی بجائے صرف نویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا۔ یا یہ کہ دسویں تاریخ کو روزہ رکھوں گا اور پہلا احتمال ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور اس ترمیم سے مقصد یہ تھا کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا، آپ ﷺ آئندہ سال تک اس دنیا میں تشریف فرما نہیں رہے بلکہ اسی سال ربیع الاول کے مہینہ میں واصل بحق ہوگئے اس طرح اگر آپ ﷺ نے نویں کا روزہ نہیں رکھا مگر علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اس عزم و ارادہ کی بنا پر امت کے لئے محرم کی نویں تاریخ کا روزہ رکھنا سنت قرار پا گیا ہے۔ محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ عاشورے کے دن روزہ رکھنا مستحب ہے مگر اس کے ساتھ ہی عاشورہ سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں بھی روزہ رکھنا مستحب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف عاشورہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے یہود کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔
2051
Mishkaat Shareefوعن أم الفضل بنت الحارث : أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة في صيام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال بعضهم : هو صائم وقال بعضهم : ليس بصائم فأرسلت إليه بقدح لبن وهو واقف عل بعيره بعرفة فشربه
حضرت ام فضل بنت حارث (رض) کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ عرفہ کے روز میرے سامنے کچھ لوگ نبی کریم ﷺ کے روزہ کے بارے میں بحث کرنے لگے بعض لوگ تو کہہ رہے تھے کہ آپ ﷺ آج روزہ سے ہیں اور بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ آپ ﷺ آج روزہ سے نہیں ہیں یہ دیکھ کر میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ ﷺ کے پاس بھیجا آپ اس وقت میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر کھڑے تھے چناچہ آپ ﷺ نے وہ دودھ لے کر پی لیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ام فضل (رض) حضرت عباس (رض) کی زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی چچی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنا حج کرنے والے کے لئے تو مسنون نہیں ہے البتہ دوسرے لوگوں کے لئے مسنون ہے۔
تشریح
حضرت ام فضل (رض) حضرت عباس (رض) کی زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی چچی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنا حج کرنے والے کے لئے تو مسنون نہیں ہے البتہ دوسرے لوگوں کے لئے مسنون ہے۔
2052
Mishkaat Shareefوعن عائشة رضي الله عنها قالت : ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صائما في العشر قط . رواه مسلم
ام المومنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو عشرہ میں روزہ رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ (مسلم)
تشریح
عشرہ سے مراد ذی الحجہ کا عشرہ اول یعنی یکم تاریخ سے دس تاریخ تک کا عرصہ مراد ہے اس حدیث سے بظاہر تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ میں کبھی روزہ نہیں رکھا ہے جب کہ ایک روایت میں منقول ہے کہ اس عشرہ میں ہر دن (علاوہ دسویں تاریخ کے یعنی پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزہ کے ثواب کے برابر ہے اور اس عشرہ کی ہر رات میں عبادت الٰہی کے لئے جاگنا شب قدر میں عبادت کے لئے جاگنے کے ثواب کے برابر ہے لہٰذا حضرت عائشہ (رض) کی مذکورہ بالا روایت کی مراد کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہاں حضرت عائشہ (رض) نے اپنے علم کی نفی کی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کا نہ دیکھنا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ ﷺ نے روزہ نہ رکھا ہو ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ میں روزہ رکھا ہو اور حضرت عائشہ (رض) کو اس کا علم نہ ہوا ہو، یا پھر آخری درجہ میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ کے روزے کا مذکورہ بالا ثواب تو بیان فرمایا مگر خود آپ ﷺ کو اس عشرہ میں روزہ رکھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو۔
تشریح
عشرہ سے مراد ذی الحجہ کا عشرہ اول یعنی یکم تاریخ سے دس تاریخ تک کا عرصہ مراد ہے اس حدیث سے بظاہر تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ میں کبھی روزہ نہیں رکھا ہے جب کہ ایک روایت میں منقول ہے کہ اس عشرہ میں ہر دن (علاوہ دسویں تاریخ کے یعنی پہلی تاریخ سے نویں تاریخ تک کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزہ کے ثواب کے برابر ہے اور اس عشرہ کی ہر رات میں عبادت الٰہی کے لئے جاگنا شب قدر میں عبادت کے لئے جاگنے کے ثواب کے برابر ہے لہٰذا حضرت عائشہ (رض) کی مذکورہ بالا روایت کی مراد کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہاں حضرت عائشہ (رض) نے اپنے علم کی نفی کی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت عائشہ (رض) کا نہ دیکھنا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ ﷺ نے روزہ نہ رکھا ہو ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ میں روزہ رکھا ہو اور حضرت عائشہ (رض) کو اس کا علم نہ ہوا ہو، یا پھر آخری درجہ میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس عشرہ کے روزے کا مذکورہ بالا ثواب تو بیان فرمایا مگر خود آپ ﷺ کو اس عشرہ میں روزہ رکھنے کا اتفاق نہ ہوا ہو۔
2053
Mishkaat Shareefوعن أبي قتادة : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال كيف تصوم فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله . فلما رأى عمر رضي الله عنهم غضبه قال رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله فجعل عمر رضي الله عنهم يردد هذا الكلام حتى سكن غضبه فقال عمر يا رسول الله كيف بمن يصوم الدهر كله قال : لا صام ولا أفطر . أو قال : لم يصم ولم يفطر . قال كيف من يصوم يومين ويفطر يوما قال : ويطيق ذلك أحد . قال كيف من يصوم يوما ويفطر يوما قال : ذاك صوم داود عليه السلام قال كيف من يصوم يوما ويفطر يومين قال : وددت أني طوقت ذلك . ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كل شهر ورمضان إلى رمضان فهذا صيام الدهر كله صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده وصيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله . رواه مسلم
حضرت ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ آپ ﷺ روزہ کس طرح رکھتے ہیں ؟ یہ سن کر رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے، حضرت عمر (رض) نے جو اس وقت مجلس میں حاضر تھے جب آپ ﷺ کے غصہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فورا بول اٹھے کہ ہم راضی ہوئے اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد کے نبی ہونے پر اور ہم اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) یہ جملے بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ آپ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوا اس کے بعد حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ اس شخص کے بارہ کیا حکم ہے جو ہمیشہ روزہ رکھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ وہ بغیر روزہ رہا۔ یا فرمایا نہ روزہ رکھا اور نہ بغیر روزہ رہا۔ اس موقع پر راوی کو شک ہے کہ آپ نے لا صام ولا افطر یا لم یصم ولم یفطر فرمایا پھر حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو دو دن تو روزہ سے رہے اور ایک دن بغیر روزہ رہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ پھر حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن روزہ نہ رکھے ؟ فرمایا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا روزہ ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر (رض) نے پوچھا کہ اچھا اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ایک دن تو روزہ رکھے اور دو دن بغیر روزہ کے رہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہر مہینہ کے تین روزے ہمیشہ کے روزے کے برابر ہیں (یعنی ان کا ثواب ہمیشہ روزہ رکھنے کے ثواب کے برابر ہوتا ہے) اور (غیر حج کی حالت میں) عرفہ کا روزہ تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس روزہ کی وجہ سے اس سے پہلے سال کے گناہ دور کر دے گا اور اس کے بعد والے سال کے گناہ بھی دور کر دے گا یعنی یا تو اللہ تعالیٰ آئندہ سال گناہوں سے محفوظ رکھے گا یا یہ کہ اگر گناہ سرزد ہوں گے تو معاف کر دئیے جائیں اور یوم عاشورہ کے روزے کے بارے میں بھی مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ اس روزہ کی بناء پر ایک سال پہلے کے گناہ دور کر دے گا۔ (مسلم)
تشریح
سائل کو تو چاہئے تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اپنے بارے میں سوال کرتا کہ میں نفل روزہ کیونکر اور کب کب رکھوں ؟ تاکہ آپ ﷺ اس کے احول و کوائف کے مطابق اسے کوئی جواب دیتے مگر وہ اپنے بارے میں پوچھنے کی بجائے نبی کریم ﷺ ہی کے بارے میں پوچھ بیٹھا جو ظاہر ہے کہ آداب نبوت کے نہ صرف خلاف ہی تھا بلکہ یہ ایک حد تک گستاخی بھی تھی اس لئے آپ ﷺ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ کے احوال و کوائف بالکل دوسری نوعیت کے تھے آپ ﷺ کے افعال اور آپ ﷺ کی عبادت میں کثرت و قلت کے بھی اسرار و مصالح تھے اور ظاہر ہے کہ اسرار و مصالح ہر شخص کے افعال و عبادات میں نہیں ہوسکتے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ بہت زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے کیونکہ آپ ﷺ مسلمانوں کے مسائل و مصالح ازواج مطہرات کے حقوق کی ادائیگی اور باہر سے آنے والے مہمانوں کی خاطر و مدارات اور ان کی دیکھ بھال میں مشغول رہا کرتے تھے ایسی صورت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ ﷺ نفل روزہ کثرت سے رکھتے۔ من یصوم الدہر کلہ (جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ) سائل درحقیقت یہی آنحضرت ﷺ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر چونکہ اس نے اسلوب غلط اختیار کیا اس لئے اسی سوال کو حضرت عمر (رض) نے اس انداز سے نہایت ہی ادب و عاجزی کے ساتھ پوچھا کہ جو شخص ہمیشہ نفل روزہ رکھتا ہے اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ آیا وہ شخص اپنے اس عمل کی وجہ سے شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہے یا نہیں ؟ اس سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے جو جملہ لا صام ولا افطر ارشاد فرمایا اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ جملہ یا تو ایسے شخص کے لئے بطور تنبیہ و عابد ہے یا پھر یہ کہ اس شخص کے حال کی خبر ہے کہ نہ تو اس شخص نے روزہ رکھا کیونکہ اس طرح روزہ رکھنا شریعت کے حکم کے مطابق نہیں ہے اور نہ ہی وہ بغیر روزہ رہا کیونکہ کھانا پینا اور تمام چیزیں اس نے ترک کئے رکھیں۔ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد اس شخص کے حق میں ہے جو ممنوع روزے بھی رکھے یعنی تمام سال روزے رکھے حتیٰ کی عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزے رکھنا چھوڑے ہاں اگر کوئی شخص ان ممنوع ایام میں روزے نہ رکھے تو یہ ارشاد اس کے حق میں نہیں ہوگا او وہ ان ایام کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں روزے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ حضرت ابوطلحہ انصاری (رض) اور حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی (رض) ان ممنوع ایام کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں روزے رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ انہیں منع فرماتے تھے یا پھر یہ کہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ اس طرح روزے رکھنا، جسم انسانی کو ضعیف و نا تو اں کردیتا ہے جس کی بناء پر ایسا شخص جہاد اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہے لہٰذا ہمیشہ روزہ رکھتا اگر کسی شخص کو ضعف و نا تو انی میں مبتلا نہ کرے تو اس کے لئے ہمیشہ روزے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے حنفی محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس سے ضعف و نا تو انی لاحق ہوجاتی ہے اسی طرح فتاویٰ عالمگیری اور درمختار میں بھی یہی لکھا ہے کہ صوم دہر (ہمیشہ روزہ رکھنا) مکروہ ہے۔ ویطیق ذالک احد (کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دو دن روزہ سے اور ایک دن بغیر روزہ رہنے پر قادر ہو اور اس میں اتنی طاقت ہو کہ وہ اس طرح روزہ رکھ سکے تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں یا اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح روزہ رکھنا افضل ہے۔ ذالک صوم داؤد (یہ حضرت داؤد کا روزہ ہے) کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھنے کا یہ طریقہ نہایت معتدل ہے اور اس میں عبادت و عادت کی رعایت بھی ہے اسلام چونکہ تمام مذاہب آسمانی کا ایک حسین سنگم ہے اس لئے مذہب نے ہر معاملہ میں توازن اور اعتدال کی راہ دکھائی ہے اس کے نظریات و اعمال میں نہ افراط ہے نہ تفریط چناچہ اس لئے بعض مفکرین اسلام نے یہ کلیہ بیان کیا ہے کہ حصول علم میں اس انداز سے سعی و کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی وجہ سے عمل کی راہیں مسدود نہ ہوجائیں اور اعمال میں بھی اس طریقہ سے مشغولیت نہ ہو کہ اس کی وجہ سے علم کی روشنی حاصل نہ ہو سکے حاصل اس کلیہ کا یہ ہے کہ حصول علم کی بہت زیادہ سعی و کوشش عمل سے نہ روک دے اور عمل میں بےمشغولیت علم سے بےبہرہ نہ کر دے بلکہ اعتدال اور توازن کے ساتھ دونوں راہوں کو اپنایا جائے اسی لئے کہا گیا ہے کہ خیر الامور اوسطہا وشرہا تفریطہا وافراطہا یعنی کسی چیز کی بھلائی و بہتری اس کی درمیانی راہ میں پوشیدہ ہے اور اس کی برائی حد سے زیادہ زیادتی اور حد سے زیادہ کمی کو اختیار کرنے میں ہے نیز اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ۔ افضل الصیام صوم داؤد علی نبینا وعلیہ السلام یعنی نفل روزوں میں سب سے بہتر روزہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ہے۔ وددت انی طوقت (میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے) یعنی یہ میری عین پسند ہے کہ حق تعالیٰ مجھے اتنی طاقت اور قوت عطا فرمائے کہ ہر چوتھے دن روزہ رکھوں یعنی ایک دن تو روزہ رکھوں اور دو دن بغیر روزہ رہو اور اس سلسلہ میں دوسرے حقوق اور مسلمانوں کے مصالح میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ گویا اس ارشاد سے اس طرف اشارہ ہے کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا الاّ یہ کہ حق تعالیٰ کی طرف سے میرے اندر یہ طاقت و قوت و دیعت فرما دی جائے حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ نے نفل روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اس صورت کو بھی پسند فرمایا اگرچہ آپ ﷺ نے بسبب عدم طاقت اس پر عمل نہیں فرمایا۔ ہر مہینہ کے تین روزے سے مراد ایام بیض یعنی ہر مہینہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کے روزے ہیں مگر بعض حضرات کہتے ہیں کہ ہر مہینہ کی کسی بھی تین تاریخوں کے روزے مذکورہ ثواب کے حامل ہیں اور یہی قول صحیح بھی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ (رض) کی ایک روایت نے جو آگے آرہی ہے اس کی وضاحت بھی کی ہے۔
تشریح
سائل کو تو چاہئے تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے اپنے بارے میں سوال کرتا کہ میں نفل روزہ کیونکر اور کب کب رکھوں ؟ تاکہ آپ ﷺ اس کے احول و کوائف کے مطابق اسے کوئی جواب دیتے مگر وہ اپنے بارے میں پوچھنے کی بجائے نبی کریم ﷺ ہی کے بارے میں پوچھ بیٹھا جو ظاہر ہے کہ آداب نبوت کے نہ صرف خلاف ہی تھا بلکہ یہ ایک حد تک گستاخی بھی تھی اس لئے آپ ﷺ پر غصہ کے آثار ظاہر ہوگئے پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ کے احوال و کوائف بالکل دوسری نوعیت کے تھے آپ ﷺ کے افعال اور آپ ﷺ کی عبادت میں کثرت و قلت کے بھی اسرار و مصالح تھے اور ظاہر ہے کہ اسرار و مصالح ہر شخص کے افعال و عبادات میں نہیں ہوسکتے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ بہت زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے کیونکہ آپ ﷺ مسلمانوں کے مسائل و مصالح ازواج مطہرات کے حقوق کی ادائیگی اور باہر سے آنے والے مہمانوں کی خاطر و مدارات اور ان کی دیکھ بھال میں مشغول رہا کرتے تھے ایسی صورت میں یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ ﷺ نفل روزہ کثرت سے رکھتے۔ من یصوم الدہر کلہ (جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ ) سائل درحقیقت یہی آنحضرت ﷺ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر چونکہ اس نے اسلوب غلط اختیار کیا اس لئے اسی سوال کو حضرت عمر (رض) نے اس انداز سے نہایت ہی ادب و عاجزی کے ساتھ پوچھا کہ جو شخص ہمیشہ نفل روزہ رکھتا ہے اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ آیا وہ شخص اپنے اس عمل کی وجہ سے شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہے یا نہیں ؟ اس سوال کے جواب میں آپ ﷺ نے جو جملہ لا صام ولا افطر ارشاد فرمایا اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ جملہ یا تو ایسے شخص کے لئے بطور تنبیہ و عابد ہے یا پھر یہ کہ اس شخص کے حال کی خبر ہے کہ نہ تو اس شخص نے روزہ رکھا کیونکہ اس طرح روزہ رکھنا شریعت کے حکم کے مطابق نہیں ہے اور نہ ہی وہ بغیر روزہ رہا کیونکہ کھانا پینا اور تمام چیزیں اس نے ترک کئے رکھیں۔ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد اس شخص کے حق میں ہے جو ممنوع روزے بھی رکھے یعنی تمام سال روزے رکھے حتیٰ کی عیدین اور ایام تشریق میں بھی روزے رکھنا چھوڑے ہاں اگر کوئی شخص ان ممنوع ایام میں روزے نہ رکھے تو یہ ارشاد اس کے حق میں نہیں ہوگا او وہ ان ایام کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں روزے رکھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیونکہ حضرت ابوطلحہ انصاری (رض) اور حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی (رض) ان ممنوع ایام کے علاوہ بقیہ تمام دنوں میں روزے رکھتے تھے اور آنحضرت ﷺ انہیں منع فرماتے تھے یا پھر یہ کہ ہمیشہ روزہ رکھنے کی اس ممانعت کی علت یہ ہے کہ اس طرح روزے رکھنا، جسم انسانی کو ضعیف و نا تو اں کردیتا ہے جس کی بناء پر ایسا شخص جہاد اور دوسرے حقوق کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہے لہٰذا ہمیشہ روزہ رکھتا اگر کسی شخص کو ضعف و نا تو انی میں مبتلا نہ کرے تو اس کے لئے ہمیشہ روزے رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے حنفی محقق علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس سے ضعف و نا تو انی لاحق ہوجاتی ہے اسی طرح فتاویٰ عالمگیری اور درمختار میں بھی یہی لکھا ہے کہ صوم دہر (ہمیشہ روزہ رکھنا) مکروہ ہے۔ ویطیق ذالک احد (کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے ؟ ) کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دو دن روزہ سے اور ایک دن بغیر روزہ رہنے پر قادر ہو اور اس میں اتنی طاقت ہو کہ وہ اس طرح روزہ رکھ سکے تو اس کے لئے کوئی مضائقہ نہیں یا اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح روزہ رکھنا افضل ہے۔ ذالک صوم داؤد (یہ حضرت داؤد کا روزہ ہے) کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھنے کا یہ طریقہ نہایت معتدل ہے اور اس میں عبادت و عادت کی رعایت بھی ہے اسلام چونکہ تمام مذاہب آسمانی کا ایک حسین سنگم ہے اس لئے مذہب نے ہر معاملہ میں توازن اور اعتدال کی راہ دکھائی ہے اس کے نظریات و اعمال میں نہ افراط ہے نہ تفریط چناچہ اس لئے بعض مفکرین اسلام نے یہ کلیہ بیان کیا ہے کہ حصول علم میں اس انداز سے سعی و کوشش کرنی چاہئے کہ اس کی وجہ سے عمل کی راہیں مسدود نہ ہوجائیں اور اعمال میں بھی اس طریقہ سے مشغولیت نہ ہو کہ اس کی وجہ سے علم کی روشنی حاصل نہ ہو سکے حاصل اس کلیہ کا یہ ہے کہ حصول علم کی بہت زیادہ سعی و کوشش عمل سے نہ روک دے اور عمل میں بےمشغولیت علم سے بےبہرہ نہ کر دے بلکہ اعتدال اور توازن کے ساتھ دونوں راہوں کو اپنایا جائے اسی لئے کہا گیا ہے کہ خیر الامور اوسطہا وشرہا تفریطہا وافراطہا یعنی کسی چیز کی بھلائی و بہتری اس کی درمیانی راہ میں پوشیدہ ہے اور اس کی برائی حد سے زیادہ زیادتی اور حد سے زیادہ کمی کو اختیار کرنے میں ہے نیز اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ۔ افضل الصیام صوم داؤد علی نبینا وعلیہ السلام یعنی نفل روزوں میں سب سے بہتر روزہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ہے۔ وددت انی طوقت (میں اسے پسند کرتا ہوں کہ مجھے اتنی طاقت میسر آجائے) یعنی یہ میری عین پسند ہے کہ حق تعالیٰ مجھے اتنی طاقت اور قوت عطا فرمائے کہ ہر چوتھے دن روزہ رکھوں یعنی ایک دن تو روزہ رکھوں اور دو دن بغیر روزہ رہو اور اس سلسلہ میں دوسرے حقوق اور مسلمانوں کے مصالح میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ گویا اس ارشاد سے اس طرف اشارہ ہے کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا الاّ یہ کہ حق تعالیٰ کی طرف سے میرے اندر یہ طاقت و قوت و دیعت فرما دی جائے حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ نے نفل روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اس صورت کو بھی پسند فرمایا اگرچہ آپ ﷺ نے بسبب عدم طاقت اس پر عمل نہیں فرمایا۔ ہر مہینہ کے تین روزے سے مراد ایام بیض یعنی ہر مہینہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کے روزے ہیں مگر بعض حضرات کہتے ہیں کہ ہر مہینہ کی کسی بھی تین تاریخوں کے روزے مذکورہ ثواب کے حامل ہیں اور یہی قول صحیح بھی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عائشہ (رض) کی ایک روایت نے جو آگے آرہی ہے اس کی وضاحت بھی کی ہے۔
2054
Mishkaat Shareefوعن أبي قتادة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن صوم الاثنين فقال : فيه ولدت وفيه أنزل علي . رواه مسلم
حضرت ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر کتاب کا نزول شروع ہوا۔ (مسلم)
تشریح
سوال کا مقصد یا تو پیر کے روز آنحضرت ﷺ کے روزہ رکھنے کا سبب معلوم کرنا تھا یا یہ مقصد تھا کہ پیر کے روز روزہ رکھنا مستحب کیوں ہے ؟ بہر صورت پیر کے روزہ رکھنے اور اس کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ چونکہ اسی دن رسول کریم ﷺ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن دین فطرت دنیا میں نازل ہونا شروع ہوا اور اس طرح دنیا والوں کو ایک عظیم نعمت حاصل ہوئی اس لئے اس کے شکرانہ کے طور پر پیر کے دن روزہ رکھا جاتا ہے۔
تشریح
سوال کا مقصد یا تو پیر کے روز آنحضرت ﷺ کے روزہ رکھنے کا سبب معلوم کرنا تھا یا یہ مقصد تھا کہ پیر کے روز روزہ رکھنا مستحب کیوں ہے ؟ بہر صورت پیر کے روزہ رکھنے اور اس کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ چونکہ اسی دن رسول کریم ﷺ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن دین فطرت دنیا میں نازل ہونا شروع ہوا اور اس طرح دنیا والوں کو ایک عظیم نعمت حاصل ہوئی اس لئے اس کے شکرانہ کے طور پر پیر کے دن روزہ رکھا جاتا ہے۔