hadith book logo

Mishkaat Shareef

163. قیامت کی علامتوں کا بیان

مشكاة المصابيح

5341
Mishkaat Shareef
صحیح
شرط (را کے جزم کے ساتھ) کے معنی ہیں۔ کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ وابستہ کرنا یا کسی چیز کا لازم کرنا جیسا کہ یوں کہا جائے اگر ایسا ہو تو ایسا ہوگا ! اس کی جمع شروط آتی ہے شرط (را کے زبر کے ساتھ) کے معنی ہیں علامت یعنی وہ چیز جو کسی وقوع پذیر ہونے والی چیز کو ظاہر کرے ! اس کی جمع اشراط ہے پس یہاں سے اشراط سے مراد وہ نشانیاں اور علامتیں ہیں جو قیامت کے وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کریں گی۔ ویسے لغت میں شرط کے معنی کسی چیز کا اول، مال کا زوال اور چھوٹا و کمتر مال لکھے ہیں۔ ساعۃ شب و روز کے اجزاء میں سے کسی بھی ایک جزء کو کہتے ہیں یہ لفظ موجودہ وقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پس قیامت یا قیامت کے آنے کو ساعت اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ جب اس کا وقت غیر معلوم ہے تو وہ کسی بھی وقت آسکتی ہے یہاں تک آنے والا لمحہ یہ احتمال رکھتا ہے کہ اسی وقت قیامت نہ آجائے۔ علماء نے وضاحت کی ہے کہ اشراط ساعت یعنی قیامت کی علامتوں سے مراد وہ نسبتا چھوٹی چیزیں ہیں جو قیامت آنے سے پہلے وقوع پذیر ہوں گی اور جن کو لوگ قیامت کی علامتیں تسلیم نہیں کریں گے مثلا لونڈی کا اپنے مالک کو جننا، فلک بوس عمارتیں بنانا اور ان پر فخر کرنا، جہل ونادانی، زنا کاری اور شراب خوری کی کثرت، مردوں کی کمی اور عورتوں کی زیادتی، امانتوں میں خیانت وبدیانتی، لڑائیوں اور فتنہ فساد کی زیادتی اور اس طرح کی دوسری برائیوں کا ذکر اس باب میں آئے گا۔ اشراط کی وضاحت اس معنی کے ساتھ اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ بڑی علامتیں کہ جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی اور جن کا ذکر اگلے باب میں ہوگا، ان چھوٹی علامتوں کے علاوہ ہیں ! رہی یہ بات کہ لوگ مذکورہ بالا چیزوں کو قیامت کی علامتیں تسلیم کرنے سے کیوں انکار کریں گے ! تو اس کی وجہ اصل میں یہ ہوگی کہ اس طرح کی چیزیں اس دنیا میں ہمیشہ سے چلی آرہی ہیں، پس لوگ یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ چیزیں تو دنیا میں ہوتی رہتی ہیں، اب ان میں کیا خصوصیت پیدا ہوگئی ہے کہ ان کو قیامت کی علامتیں کہا جائے۔ واضح رہے کہ مذکورہ چیزوں کا محض وجود قیامت کی علامت نہیں ہے بلکہ ان چیزوں کا کثرت کے ساتھ وقوع پذیر ہونا اور ان برائیوں کا غیر معمولی طور پھیل جانا ہے، قیامت کی علامت ہے ! ایک بات اور بتا دینی ضروری ہے کہ اس باب میں حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے کا بھی ذکر ہے، جب کہ ان کا ظاہر ہونا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول اور دجال کے پیدا ہونے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، لہذا اس بارے میں کوئی اشکال واقع نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس باب میں حضرت مہدی (علیہ السلام) کے ظاہر ہونے کا ذکر، لڑائیوں اور فتنوں کے ذکر کے ضمن میں ہوا ہے نہ کہ مستقل طور پر اس سلسلہ میں مزید وضاحت اگلے باب میں ہوگی۔
5342
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويكثر الجهل ويكثر الزنا ويكثر شرب الخمر ويقل الرجال وتكثر النساء حتى يكون لخمسين امرأة القيم الواحد . وفي رواية يقل العلم ويظهر الجهل . متفق عليه .
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ بلاشبہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا (یعنی حقیقی عالم اس دنیا سے اٹھ جائیں گے یا یہ کہ علماء کی قدر و منزلت اٹھ جائے گی) جہالت کی زیادتی ہوجائے گی (یعنی ہر طرف جاہل وناداں ہی نظر آنے لگیں گے جو اگرچہ علم و دانش کا دعوی کریں گے مگر حقیقت میں علم و دانش سے کوسوں دور ہوں گے) زنا کثرت سے ہونے لگے گا (کیونکہ لوگوں میں شرم وحیا اور غیرت کم ہوجائے گی) شرب بہت پی جائے گی (اور پھر شراب خوری کی زیادتی، آبادیوں اور لوگوں میں فتنہ و فساد پھیلنے کا باعث ہوگی) مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی ( جن کے دم سے عالم کا نظام استوار و مستحکم ہوتا ہے) عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی ( کہ جن کے ذریعہ ضروری اور اہم امور سر انجام تو کیا پاتے البتہ ان کی وجہ سے تفکرات اور پریشانیوں اور مال و دولت حاصل کرنے کا غم ضرور برداشت کرنا پڑتا ہے) یہاں تک کہ پچاس عورتوں کی خبر گیری کرنے والا ایک مرد ہوگا ( اس سے یہ مراد نہیں کہ ایک ایک مرد کی پچاس بیویاں ہوگی بلکہ یہ مراد ہے کہ ایک ایک مرد پر پچاس پچاس عورتوں کی کفالت وخبر گیری کا بوجھ ہوگا جن میں مائیں، خالائیں، دادیاں، بہنیں، پھوپھیاں، وغیرہ ہوں گی۔ اور ایک روایت میں ہے (یرفع العلم ویکثر الجہل) یعنی علم اٹھالیا جائے گا اور جہل کی زیادتی ہوگی، کے بجائے) یوں ہے کہ علم کم ہوجائے گا اور جہالت پھیل جائے گی۔
5343
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر بن سمرة قال سمعت رسول النبي صلى الله عليه وسلم يقول إن بين يدي الساعة كذابين فاحذروهم . رواه مسلم .
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ قیامت کے آنے سے پہلے جھوٹوں کی پیدائش بڑھ جائے گی لہٰذا ان سے بچتے رہنا۔ (مسلم )

تشریح
جھوٹوں سے مراد یا تو وہ لوگ ہیں جو جھوٹی حدیثیں گھڑیں گے، یا وہ لوگ مراد ہیں جو نبوت کا جھوٹا دعوی کریں گے اور زیادہ تر وہ لوگ مراد ہیں جو بدعتیں رائج کریں گے اپنے غلط سلط عقائد و خیالات اور اپنی جھوٹی اغراض و خواہشات کو صحیح اور جائز ثابت کرنے کے لئے ان کی نسبت صحابہ کرام اور اگلے بزرگوں کی طرف کریں گے۔ ابن مالک (رح) نے شرح مشارق میں لکھا ہے فاحذروہم کا جملہ صحیح مسلم میں مذکور نہیں ہے البتہ اس کے علاوہ دوسری روایتوں میں یہ جملہ یقینًا موجود ہے، بلکہ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یہ جملہ اصل حدیث یعنی حضور ﷺ کے ارشاد گرامی کا جزء نہیں ہے بلکہ حضرت جابر (رض) کا اپنا قول ہے ! نیز جامع میں یہ روایت بعینہ اس طرح منقول ہے جس طرح یہاں مشکوۃ میں نقل کی گئی ہے اور صاحب جامع نے کہا ہے کہ اس روایت کو امام محمد اور امام مسلم نے حضرت جابر ابن سمرہ (رض) سے نقل کیا ہے۔
5344
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال بينما كان النبي صلى الله عليه وسلم يحدث إذ جاء أعرابي فقال متى الساعة ؟ قال إذا ضيعت الأمانة فانتظر الساعة . قال كيف إضاعتها ؟ قال إذا وسد الأمر إلى غير أهله فانتظر الساعة . رواه البخاري .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ صحابہ کرام سے سے (کسی سلسلہ میں) باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ایک دیہاتی (مجلس نبوی میں) آیا اور کہنے لگا کہ قیامت کب آئے گی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب امانت، تلف کی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرنے لگنا۔ دیہاتی نے پوچھا کہ امانت، کیونکر تلف کی جائے گی اور یہ نوبت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جب حکومت و سلطنت کا کام نااہل لوگوں کے سپرد ہوجائے تو ( سمجھنا کہ یہ امانت کا تلف ہوجانا ہے اور اس وقت) قیامت کا انتظار کرنا۔ (بخاری)

تشریح
امانت سے مراد شریعت کی طرف سے عائد کی جانے والی ذمہ داریاں اور دین کے احکام ہیں جیسا کہ قرآن کریم کے ارشاد انا عرضنا الامانۃ میں امانت کا یہی مفہوم ہے یا امانت سے لوگوں کے حقوق اور ان کی امانتیں مراد ہیں۔ حاصل یہ کہ حضور ﷺ نے اس دیہاتی کے پوچھنے پر یہ واضح فرمایا کہ قیامت کا متعین وقت عالم الغیوب کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو وہ ذریعہ بتایا ہے جس سے قیامت کا متعینہ وقت جانا جاسکے، ہاں اس نے ایسی علامتیں ضرور مقرر کی ہیں جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی اور جو اس امر کی نشانیاں ہوں گی کہ اب قیامت قریب ہے چناچہ ان علامتوں میں سے ایک علامت امانتوں کا ضائع کرنا ہے کہ لوگ امانتوں میں خیانت کرنے لگیں گے۔ نااہل سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر حکومت وسیادت کی شرائط نہ رکھنے کی وجہ سے حکمراں بننے کا استحقاق نہ رکھتے ہوں گے، جیسے عورتیں، بچے جہلاء، فاسق وبد کار، بخیل اور نا مرد وغیرہ، اسی طرح جو شخص قریش النسل نہ ہو وہ بھی اس باب میں نااہل ہی کے زمرہ میں شمار ہوگا خواہ وہ سلاطین کی نسل سے کیوں نہ ہو لیکن اس شرط کا تعلق خاص طور پر خلافت سے ہے ! حدیث کے اس جزء کا حاصل یہ ہے کہ اگر دین ودنیا کے امور کا نظم و انتظام ایسے شخص کے ہاتھوں میں آجائے جو اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو یقینا ان امور کا صحیح طور پر انجام پانا ناممکن نہیں ہوگا اور طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوجائیں گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے حقوق ضائع وپامال ہونے لگیں گے اور ہر شخص بےچین ومضطرب رہے گا۔ وسد بصیغہ مجہول اور سین کی تشدید کے ساتھ یا تشدید کے بغیر۔ اصل میں وسادۃ سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی تکیہ کے ہیں، چناچہ جس شخص کے سپرد کوئی کام کیا جاتا ہے تو گویا اس کام کے اعتبار سے اس شخص پر تکیہ کیا جاتا ہے۔
5345
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يكثر المال ويفيض حتى يخرج الرجل زكاة ماله فلا يجد أحدا يقبلها منه وحتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا رواه مسلم . وفي رواية قال تبلغ المساكن إهاب أو يهاب . وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون في آخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده . وفي رواية قال يكون في آخر أمتي خليفة يحثي المال حثيا ولا يعده عدا . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مال و دولت کی فراوانی نہیں ہوجائے گی اور فراوانی بھی اس طرح کی ہوجائے گی کہ ایک شخص اپنے مال سے زکوٰۃ نکالے گا لیکن وہ کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا جو اس کا زکوٰۃ کا مال لے لے ( کیونکہ مال و دولت کی فراوانی کسی شخص کو محتاج اور ضرورتمند نہیں چھوڑے گی اور کوئی آدمی اس طرح کے مال لینے پر تیار نہیں ہوگا اور قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی) جب تک کہ عرب کی سر زمین باغ و بہار اور نہر والی (یعنی بےحساب مال و دولت فراہم کرنے والی بن جائے۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک روایت میں ہے کہ ( قیامت تک نہیں آئے گی جب تک کہ) عمارتوں اور آبادی کا سلسلہ اہاب یا یہاب تک نہ پہنچ جائے گا۔

تشریح
ویفیض اصل میں عطف تفسیری ہے، یعنی مال و دولت کی وہ فراوانی اس طرح ہوگی کہ چاروں طرف پانی کی مانند بہتی پھرے گی اور لوگ اپنی ضرورت و حاجت سے کہیں زیادہ دولت کے مالک ہوں گے۔ اہاب اور یہاب (اور ایک نسخہ میں ی کے زبر کے ساتھ یعنی یہاب) یہ دونوں جگہ کے نام ہیں جو مدینہ کے نواح میں واقع ہیں ! اہاب اور یہاب میں حرف او تنویع کے لئے ہے دوسری روایت کے ان الفاظ کی مراد یہ واضح کرنا ہے کہ آخر زمانہ میں مدینہ میں اس قدر عمارتیں بنیں گی کہ ان کا سلسلہ شہر کے اردگرد نواحی علاقوں تک پہنچ جائے گا ؟۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ لفظ اہاب الف کے زبر کے ساتھ سحاب کے وزن پر ہے اور یہ مدینہ سے چند کوس کے فاصلہ پر ایک موضع کا نام ہے نیز یہ لفظ الف کے زیر کے ساتھ بھی منقول ہے۔ حضرت امام مہدی کے بارے میں پیشگوئی
5346
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يكون في آخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده . وفي رواية قال يكون في آخر أمتي خليفة يحثي المال حثيا ولا يعده عدا . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ( یعنی سلطان برحق) پیدا ہوگا جو ضرورت مندوں، مستحقین کو خوب مال تقسیم کرے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔ یعنی لوگوں میں بےحساب مال و دولت تقسیم کرے گا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میری امت کے آخری زمانہ میں ایک خلیفہ پیدا ہوگا جو لوگوں کو مٹھی یا چلو بھر کر ( یعنی بہت زیادہ) مال دولت دے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا جیسا کہ شمار کیا جاتا ہے۔ (مسلم )

تشریح
خلیفہ سے مراد حضرت امام مہدی ہیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ان کے نظام حکومت کی مالی حالت بہت زیادہ اچھی ہوگی، فتوحات اور مال غنیمت وغیرہ کے ذریعہ ان کی آمدنی کا کوئی حساب نہیں ہوگا، لیکن وہ اس مال و دولت کو اپنی شان و شوکت بڑھانے اور اپنی زندگی کو پر عیش بنانے پر خرچ نہیں کریں گے یا جمع کر کے اپنے خزانوں میں بند کر کے نہیں رکھیں گے جیسا کہ ہمارے زمانہ کے حکمران اور بادشاہوں کا دستور ہے، بلکہ وہ اس دولت کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ضروریات میں خرچ کریں گے اور اپنی طبعی سخاوت کی وجہ سے دونوں ہاتھ بھر بھر کر یہ دولت لوگوں میں تقسیم کریں گے۔
5347
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوشك الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب فمن حضر فلا يأخذ منه شيئا . متفق عليه .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جلدی وہ زمانہ آنے والا ہے جب دریائے فرات سونے کا خزانہ برآمد کرے گا ( یعنی اس کا پانی خشک ہوجائے گا اور اس کے نیچے سے سونے کا خزانہ برآمد ہوگا) پس جو شخص اس وقت وہاں موجود ہو اس کو چاہئے کہ اس خزانہ میں کچھ نہ لے۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
اس خزانہ میں سے کچھ لینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس کی وجہ سے تنازعہ اور قتل و قتال کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ اگلی حدیث میں وضاحت کی گئی ہے ! اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس خزانہ میں سے کچھ بھی لینا اس لئے ممنوع ہے کہ خاص طور پر اس خزانہ میں سے کچھ حاصل کرنا آفات اور بلاؤں کے اثر کرنے کا موجب ہوگا اور ایک طرح سے یہ بات قدرت الہٰی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ! نیز بعض حضرات نے یہ لکھا کہ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ وہ خزانہ مغضوب اور مکروہ مال کے حکم میں ہوگا جیسا کہ قارون کا خزانہ لہٰذا اس خزانہ سے فائدہ حاصل کرنا حرام ہوگا۔
5348
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب يقتتل الناس عليه فيقتل من كل مائة تسعة وتسعون ويقول كل رجل منهم لعلي أكون أنا الذي أنجو . رواه مسلم .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ دریائے فرات سونے کا پہاڑ برآمد نہ کرے گا ! لوگ اس کی وجہ سے ( یعنی اس دولت کو حاصل کرنے اور اپنے قبضہ میں لینے کے لئے) جنگ اور قتل و قتال کریں گے، پس ان لوگوں میں ننانوے فیصد مارے جائیں گے اور ہر شخص یہ کہے گا کہ شاید میں ( زندہ بچ جاؤں گا اور) مقصد میں کامیاب ہوجاؤں گا، یعنی ہر شخص اس توقع پر لڑے گا کہ شاید میں ہی کامیابی حاصل کرلوں اور اس دولت پر قبضہ جما لوں چناچہ ننانوے فیصد لوگ اس توقع میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔ ( مسلم )

تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو دو مختلف موقوں پر مختلف الفاظ میں بیان فرمایا گیا، لہٰذا دونوں حدیثوں کا خلاصہ یہ نکلے گا کہ دریائے فرات کے نیچے سے سونے کا ایک عظیم خزانہ برآمد ہوگا جس کی مقدار پہاڑ کے برابر ہوگی۔ تاہم یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں حدیث میں پہاڑ کے برابر سونے کہ جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ اس خزانہ کے علاوہ ہوگا جس کا ذکر پہلی جدیث میں کیا گیا ہے اور سونے کے پہاڑ سے مراد سونے کی کان ہے۔
5349
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تقيء الأرض أفلاذ كبدها أمثال الأسطوانة من الذهب والفضة فيجيء القاتل فيقول في هذا قتلت ويجيء القاطع فيقول في هذا قطعت رحمي . ويجيء السارق فيقول في هذا قطعت يدي ثم يد عونه فلا يأخذون من شيئا . رواه مسلم .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ (قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ) زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو نکال کر باہر پھینک دے گی جو سونے چاندی کے ستونوں کے مانند ہوں گے۔ پس ایک شخص کہ جس نے محض مال حاصل کرنے کے لئے قتل کا ارتکاب کیا ہوگا آئے گا اور کہے گا کہ ( کیا) اسی کے لئے میں نے لوگوں کو قتل کیا ہے اور ایک شخص کہ جس نے ناطہ توڑا ہوگا (یعنی جس نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ احسان و سلوک نہیں کیا ہوگا) آئے گا اور کہے گا کہ (کیا) میں نے اسی مال کے لئے رشتہ داروں سے ناطہ توڑا ہے اور پھر چور آئے گا اور کہے گا کہ (کیا) اسی مال کے لئے میرا ہاتھ کا ٹا گیا ہے ( یعنی ان سب کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ مال و دولت ایسی چیز ہے جس کی محبت میں اور جس کو حاصل کرنے کے لئے ہم نے ایسے ایسے گناہ کئے اور ایسی ایسی پریشانیوں سے دو چار ہوئے لیکن اب جب کہ یہ مال و دولت ہمارے سامنے اور ہمارے اختیار میں ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے اور ہمیں اس کی کوئی حاجت و ضرورت محسوس نہیں ہوتی) چناچہ وہ سب لوگ اس مال و دولت کو یوں ہی چھوڑیں گے کہ کوئی بھی اس میں سے کچھ نہیں لے گا۔ (مسلم)

تشریح
افلاذ اصل میں فلذۃ کی جمع ہے جس کے معنی کسی چیز کے اس ٹکڑے کے ہیں جس کو لمبائی میں کاٹا گیا ہو اور قاموس میں لکھا ہے کہ فلذ ( ف کے زیر کے ساتھ) کے معنی ہیں اونٹ کا جگر، جب کہ فلذۃ (یعنی ۃ کے ساتھ، کے معنی ہیں جگر کا ٹکڑا، سونے یا چاندی کا ٹکڑا اور گوشت کا ٹکڑا۔ واضح رہے کہ زمین کے جگر ٹکڑے سے مراد زمین کے نیچے چھپے ہوئے خزینے یعنی معدنیات ہیں اور معدنیات کو جگر کے ٹکڑوں سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے، زمین کا خلاصہ اور جوہر اصل میں معدنیات ہی ہیں جیسا کہ اونٹ کی سب سے اصل چیز اس کا جگر ہوتا ہے نیز معدنیات، زمین کی چیزوں میں سے سب سے زیادہ قابل اعتناء اور سب سے زیادہ پسندیدہ چیز ہے جیسا کہ پیٹ کے اندر کی چیزوں میں سے جگر ہی سب سے اعلیٰ ہے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آخر زمانہ میں زمین کا سینہ بڑی فراخ دلی کے ساتھ اپنے اندر چھپے ہوئے خزانوں کو باہر اگل دے گا ہر طرف معدنیات کا کام زور شور کے ساتھ جاری ہوگا اور ایک ایک ملک میں مختلف قسم کی مفید و کارآمد اور قیمتی چیزیں کانوں کے ذریعہ نکالی جائیں گی جس کے ذریعہ نسل انسانی مال و دولت کی فراوانی میں غرق ہوجائے گی۔
5350
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول يا ليتني مكان صاحب هذا القبر وليس به الدين إلا البلاء . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی) جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ دنیا اس وقت تک اختتام پذیر نہیں ہوگی جب تک کہ ایسا زمانہ نہیں آجائے گا کہ آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا اور پھر لوٹ کر قبر پر آئے گا اور (حسرت سے) کہہ گا کہ کاش ! میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا۔ اور یہ اس کا دین نہیں ہوگا بلکہ بلا ہوگی۔ (مسلم )

تشریح
علماء نے حدیث کے آخری جملہ۔ اور یہ اس کا دین نہیں ہوگا۔۔ الخ۔۔ کے دو مطلب بیان کئے ہیں، ایک تو یہ کہ دین سے مراد عادت ہے اور ویسے دین عادت کے معنی میں آتا بھی ہے، لہٰذا مراد یہ ہے کہ وہ شخص جب قبر کے پاس سے گذرے گا اور پھر لوٹ کر قبر پر آئے گا اور اپنی مذکورہ خواہش وآرزوکا اظہار کرے گا تو اس کو وہ لوٹنا اور اس کا آرزوکا اظہار کرنا اس کی کسی عادت کے مطابق نہیں ہوگا بلکہ اس فتنہ وبلا کی وجہ سے ہوگا جس میں وہ گرفتار ہوگا ! دوسرا مطلب یہ ہے کہ دین سے مراد اس کے مشہور معنی دین و مذہب ہیں اس صورت میں اس جملہ کی وضاحت یہ ہوگی کہ اس کا قبر پر لوٹ کر آنا اور وہاں کھڑے ہو کر مذکورہ خواہش و حسرت کا اظہار کرنا کسی ایسے فتنہ وبلا میں گرفتار ہونے کی وجہ سے نہیں ہوگا جو اس کے دین اور اس کے آخری معاملات کو نقصان پہچانے یا تباہ کرنے کا سبب بنا ہو بلکہ کسی ایسی مصیبت وبلا میں گرفتاری کی وجہ سے ہوگا جس نے اس کی دنیا کو نقصان یا تباہ کیا ہوگا ! ان دونوں وضاحتوں کے علاوہ ایک اور وضاحت یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ اس کا قبر پر لوٹ کر آنا اور مذکورہ حسرت کے اظہار کی صورت میں گویا موت کی آرزو کرنا ایک ایسے وقت کی بات ہوگی جب کسی فتنہ وبلا کے سبب اس کا دین جاتا رہا ہوگا اور اس وقت اس کے پاس اس فتنہ وبلاء کے مضر اثرات کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔