Mishkaat Shareef
176. جنت اور دوزخ کی تخلیق کا بیان۔
مشكاة المصابيح
5597
Mishkaat Shareefاس باب میں وہ احادیث نقل ہوں گی جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنت اور دوزخ کی تخلیق ہوچکی ہے اور وہ موجود ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے، اس کے برخلاف مسلمانوں میں ہی کے بعض گمراہ فرقے کہتے ہیں کہ جنت و دوزخ کی ابھی تخلیق نہیں ہوئی خصوصیات کا ذکر ہے اور یہ بیان ہے کہ کس کے لئے جنت پیدا کی گئی ہے اور کس کے لئے دوزخ۔
5598
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تحاجت الجنة والنار فقالت النار : أوثرت بالمتكبرين والمتجبرين وقالت الجنة : فما لي لا يدخلني إلا ضعفاء الناس وسقطهم وغرتهم . قال الله تعالى للجنة : إنما أنت رحمتي أرحم بك من أشاء من عبادي وقال للنار : إنما أنت عذابي أعذب بك من أشاء من عبادي ولكل واحدة منكما ملؤها فأما النار فلا تمتلئ حتى يضع الله رجله . تقول : قط قط قط فهنالك تمتلئ ويزوى بعضها إلى بعض فلا يظلم الله من خلقه أحدا وأما الجنة فإن الله ينشئ لها خلقا . متفق عليه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت و دوزخ نے آپس میں بحث و تکرار کی چناچہ دوزخ نے تو یہ کہا کہ مجھے سرکش و متکبر اور ظالموں کے لئے چھانٹا گیا ہے اور جنت نے یہ کہا کہ میں اپنے بارے میں کیا کہوں میرے اندر بھی تو وہی لوگ داخل ہوں گے جو ضعیف و کمزور ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے ہیں اور جو بھولے بھالے اور فریب میں آجانے والے ہیں۔ (یہ سن کر) اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت کے اظہار کا ذریعہ اور میرے کرم کی آماجگاہ کے علاوہ اپنے بندوں سے جس کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہوں اس کے لئے تجھے ہی ذریعہ بناتا ہوں۔ اور دوزخ سے فرمایا تو میرے عذاب کا محل ومظہر ہونے کے علاوہ کچھ نہیں میں اپنے بندوں میں سے جس کو عذاب دینا چاہتا ہوں اس لئے تجھے ہی ذریعہ بناتا ہوں اور میں تم دونوں ہی کو لوگوں سے بھردوں گا البتہ دوزخ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہوگا کہ وہ اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اس پر اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں نہ رکھ دے گا، چناچہ جب اللہ تعالیٰ رکھ دے گا تو دوزخ پکار اٹھے گی کہ بس، بس، بس، اس وقت دوزخ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بھر جائے گی اور اس کے حصوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا جائے گا (پس وہ سمٹ جائے گی) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا رہا جنت کا معاملہ تو (اس کے بھرنے کے لئے) اللہ تعالیٰ نئے لوگ پیدا کردے گا۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
جنت و دوزخ نے آپس میں بحث و تکرار کی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں نے گویا اپنے اپنے بارے میں ایک طرح کا شکوہ شکایت کیا دوزخ کا کہنا اگر یہ تھا کہ سرکش و ظالم لوگوں کے لئے مجھے ہی کیوں مخصوص کیا گیا تو جنت نے یہ کہا کہ میرا معاملہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے میرے اندر بھی تو انہی لوگوں کو داخل کیا جائے گا دنیا میں جن کی کوئی شان و شوکت نہیں ہے اور کمزور جسم لاغر بدن خستہ حال ومفلس اور لوگوں کی نظروں میں بےوقعت ہیں ان دونوں کا شکوہ سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر واضح کیا کہ تم میں سے کسی کا بھی اس کے علاوہ کوئی معاملہ نہیں کہ تم دونوں کو محض میری مشیت اور مصلحت کے نتیجہ میں وجود میں لایا گیا ہے کہ میں نے ایک کو اپنی رحمت اور لطف و کرم کا اور دوسری کو اپنے قہر وغضب کا محل ومظہر بنایا پس مؤمن اور کافر کی طرح تم دونوں بھی، یعنی جنت و دوزخ دراصل خدائی جمال و جلال کے مظاہر کا نقطہ کمال ہو اور تم دونوں میں سے کسی کو بھی ایسی کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے جس سے دوسرے کے مقابلہ پر اس کی فضیلت و برتری ظاہر ہو اگرچہ اتنی بات ضرور ہے کہ دوزخ کے معاملات کا تعلق عدل و انصاف سے جڑا ہوا ہے اور جنت کے معاملات فضل و کرم سے تعلق رکھتے ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے ہیں یعنی وہ لوگ جو اگرچہ اپنے عقیدہ وعمل اور اخلاق کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی قدر ومنزلت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں یعنی علماء وصلحاء اور ارباب باطن کی نظروں میں بھی انہیں قدر ومنزلت ہی حاصل ہوتی ہے لیکن ظاہری طور پر ان کے کمزور و ضعیف خستہ حال اور غریب ونادار ہونے کی وجہ سے اکثر دنیا والے ان کو حقیر وکمتر اور ناقابل اعتناء سمجھتے ہیں نیز میرے اندر وہی لوگ داخل ہوں گے جو کمزور و ضعیف ہیں میں جو مصر ہے اس سے مراد اکثر واغلب ہے کہ جنت میں زیادہ تر لوگ اسی زمرہ کے ہوں گے، ورنہ جنت میں جانے والے تو انبیاء و رسول بھی ہوں گے اور سلاطین وامراء بھی ! یا یہ کہا جائے کہ ضعفاء (ضعیف و کمزور) سے مراد وہ بندے ہیں جو پروردگار کے سامنے بھی ذلت وفروتنی ظاہر کرتے ہیں، مخلوق کے ساتھ بھی تو تواضع و انکساری کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور خود اپنی نظر میں بھی اپنے کو گرائے رکھتے ہیں۔ جو بھولے بھالے اور فریب میں آجانے والے ہیں۔ یعنی وہ لوگ فکر آخرت میں سرگرداں رہنے کی وجہ سے دنیاوی امور سے غافل اور دنیاوی معاملات میں ناتجربہ کار رہتے ہیں اس لئے دنیا ان کو بڑی آسانی کے ساتھ بیوقوف بنادیتے ہیں اپنے مکر و فریب کے جال میں پھانس لیتے ہیں اسی اعتبار سے ایک حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت کی اکثریت دنیاوی امور سے نابلند اور نادان) لوگوں پر مشتمل ہوگی ان کے مقابلہ پر کافر و منافق دنیاوی معاملات میں بڑے چالاک اور مکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کے معاملات کو سب کچھ سمجھ کر اپنے فکر وعمل کی پوری توانائی ادھر ہی لگائے رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعملون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا وہم عن الاخرۃ ہم غافلون وہ دوزخ اس وقت تک نہیں بھرے گی۔۔۔۔۔۔ الخ۔ یعنی جتنے لوگوں کا دوزخ میں جانا مقدر ہوگا ان سب کے دوزخ میں پہنچ جانے کے بعد بھی جب دوزخ کا پیٹ نہیں بھرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے مزید دوزخیوں کا مطالبہ کرے گی، قرآن کریم میں ہے یوم نقول لجہنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید لیکن اللہ تعالیٰ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے یہ نہیں کرے گا کہ بےگناہ لوگوں کو جہنم میں بھر دے یا جو گناہ گار بخشے جانے والے ہوں گے انہیں کو دوزخ کے سپرد کردے یا نئے لوگ اس لئے پیدا کرے کہ ان کو دوزخ کا پیٹ بھرنے کے کام میں لایا جائے، بلکہ یہ کرے گا کہ اپنا پیر دوزخ پر رکھ دے گا جس سے دوزخ کے تمام اطراف ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں گی اور دوزخ کا پیٹ سمٹ کر وہاں موجود لوگوں سے بھر جائے گا، یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر ظلم نہیں کرے گا تو اس سے مراد یہ ہے کہ دوزخ کا پیٹ بھرنے کے لئے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا جس کو صورتا ظلم سے تعبیر کا جاسکتا ہو، ورنہ اصل بات یہ ہے اگر پروردگار بےگناہ لوگوں ہی کو دوزخ میں ڈال کر اس کا پیٹ بھرے تو حقیقت میں اس کو ظلم نہیں کہیں گے کیونکہ اپنی ملکیت میں کسی طرح کے بھی تصرف کو ظلم قرار نہیں دیا جاتا مگر اللہ تعالیٰ صورۃ ظلم بھی نہیں کرے گا اس ضمن میں یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی طرف پاؤں کی نسبت متشابہات میں سے ہے جیسا کہ اس کے لئے ہاتھ آنکھ اور چہرے کے ذکر کو متشابہات میں شمار کیا جاتا ہے اور متشابہات کے سلسلے میں قرآن و حدیث میں ہے وہ یہ ہے کہ بس یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس سے جو کچھ مراد ہے وہی درست اور حق ہے اس کی حقیقت و کیفیت کی جستجو میں نہ پڑا جائے یہی سب سے بہتر راستہ ہے اور اسی کو سلف نے اختیار کیا ہے، تاہم متاخیرین ارباب طویل میں سے بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے پیر سے مراد اس کی مخلوق میں سے کسی کا پیر ہے، اس کے علاوہ بعض لوگوں نے کچھ اور ایسی تاویلیں بھی کی ہیں جو ذات اقدس تعالیٰ کی شان کے مطابق ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ان کو یہاں ذکر نہیں کیا جارہا ہے۔ جنت کو بھرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نئے لوگ پیدا کرے گا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جمع کرکے جنت میں داخل کردے گا جنہوں نے کبھی کوئی عمل نہیں کیا ہوگا اور جنت کے مستحق نہیں ہوں گے پس یہ رب کریم کی شان رحمت کا اظہار ہوگا کہ وہ دوزخ کو بھرنے کے لئے بےگناہ لوگوں کو تو اس میں نہیں ڈالے گا لیکن بہشت کو بھرنے کے لئے بےعمل لوگوں کو اس میں داخل کردے گا۔
تشریح
جنت و دوزخ نے آپس میں بحث و تکرار کی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں نے گویا اپنے اپنے بارے میں ایک طرح کا شکوہ شکایت کیا دوزخ کا کہنا اگر یہ تھا کہ سرکش و ظالم لوگوں کے لئے مجھے ہی کیوں مخصوص کیا گیا تو جنت نے یہ کہا کہ میرا معاملہ بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے میرے اندر بھی تو انہی لوگوں کو داخل کیا جائے گا دنیا میں جن کی کوئی شان و شوکت نہیں ہے اور کمزور جسم لاغر بدن خستہ حال ومفلس اور لوگوں کی نظروں میں بےوقعت ہیں ان دونوں کا شکوہ سن کر اللہ تعالیٰ نے ان پر واضح کیا کہ تم میں سے کسی کا بھی اس کے علاوہ کوئی معاملہ نہیں کہ تم دونوں کو محض میری مشیت اور مصلحت کے نتیجہ میں وجود میں لایا گیا ہے کہ میں نے ایک کو اپنی رحمت اور لطف و کرم کا اور دوسری کو اپنے قہر وغضب کا محل ومظہر بنایا پس مؤمن اور کافر کی طرح تم دونوں بھی، یعنی جنت و دوزخ دراصل خدائی جمال و جلال کے مظاہر کا نقطہ کمال ہو اور تم دونوں میں سے کسی کو بھی ایسی کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے جس سے دوسرے کے مقابلہ پر اس کی فضیلت و برتری ظاہر ہو اگرچہ اتنی بات ضرور ہے کہ دوزخ کے معاملات کا تعلق عدل و انصاف سے جڑا ہوا ہے اور جنت کے معاملات فضل و کرم سے تعلق رکھتے ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں گرے ہوئے ہیں یعنی وہ لوگ جو اگرچہ اپنے عقیدہ وعمل اور اخلاق کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی قدر ومنزلت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں یعنی علماء وصلحاء اور ارباب باطن کی نظروں میں بھی انہیں قدر ومنزلت ہی حاصل ہوتی ہے لیکن ظاہری طور پر ان کے کمزور و ضعیف خستہ حال اور غریب ونادار ہونے کی وجہ سے اکثر دنیا والے ان کو حقیر وکمتر اور ناقابل اعتناء سمجھتے ہیں نیز میرے اندر وہی لوگ داخل ہوں گے جو کمزور و ضعیف ہیں میں جو مصر ہے اس سے مراد اکثر واغلب ہے کہ جنت میں زیادہ تر لوگ اسی زمرہ کے ہوں گے، ورنہ جنت میں جانے والے تو انبیاء و رسول بھی ہوں گے اور سلاطین وامراء بھی ! یا یہ کہا جائے کہ ضعفاء (ضعیف و کمزور) سے مراد وہ بندے ہیں جو پروردگار کے سامنے بھی ذلت وفروتنی ظاہر کرتے ہیں، مخلوق کے ساتھ بھی تو تواضع و انکساری کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور خود اپنی نظر میں بھی اپنے کو گرائے رکھتے ہیں۔ جو بھولے بھالے اور فریب میں آجانے والے ہیں۔ یعنی وہ لوگ فکر آخرت میں سرگرداں رہنے کی وجہ سے دنیاوی امور سے غافل اور دنیاوی معاملات میں ناتجربہ کار رہتے ہیں اس لئے دنیا ان کو بڑی آسانی کے ساتھ بیوقوف بنادیتے ہیں اپنے مکر و فریب کے جال میں پھانس لیتے ہیں اسی اعتبار سے ایک حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے کہ اہل جنت کی اکثریت دنیاوی امور سے نابلند اور نادان) لوگوں پر مشتمل ہوگی ان کے مقابلہ پر کافر و منافق دنیاوی معاملات میں بڑے چالاک اور مکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کے معاملات کو سب کچھ سمجھ کر اپنے فکر وعمل کی پوری توانائی ادھر ہی لگائے رکھتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یعملون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا وہم عن الاخرۃ ہم غافلون وہ دوزخ اس وقت تک نہیں بھرے گی۔۔۔۔۔۔ الخ۔ یعنی جتنے لوگوں کا دوزخ میں جانا مقدر ہوگا ان سب کے دوزخ میں پہنچ جانے کے بعد بھی جب دوزخ کا پیٹ نہیں بھرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے مزید دوزخیوں کا مطالبہ کرے گی، قرآن کریم میں ہے یوم نقول لجہنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید لیکن اللہ تعالیٰ اس کا پیٹ بھرنے کے لئے یہ نہیں کرے گا کہ بےگناہ لوگوں کو جہنم میں بھر دے یا جو گناہ گار بخشے جانے والے ہوں گے انہیں کو دوزخ کے سپرد کردے یا نئے لوگ اس لئے پیدا کرے کہ ان کو دوزخ کا پیٹ بھرنے کے کام میں لایا جائے، بلکہ یہ کرے گا کہ اپنا پیر دوزخ پر رکھ دے گا جس سے دوزخ کے تمام اطراف ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں گی اور دوزخ کا پیٹ سمٹ کر وہاں موجود لوگوں سے بھر جائے گا، یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر ظلم نہیں کرے گا تو اس سے مراد یہ ہے کہ دوزخ کا پیٹ بھرنے کے لئے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گا جس کو صورتا ظلم سے تعبیر کا جاسکتا ہو، ورنہ اصل بات یہ ہے اگر پروردگار بےگناہ لوگوں ہی کو دوزخ میں ڈال کر اس کا پیٹ بھرے تو حقیقت میں اس کو ظلم نہیں کہیں گے کیونکہ اپنی ملکیت میں کسی طرح کے بھی تصرف کو ظلم قرار نہیں دیا جاتا مگر اللہ تعالیٰ صورۃ ظلم بھی نہیں کرے گا اس ضمن میں یہ ذکر کردینا بھی ضروری ہے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی طرف پاؤں کی نسبت متشابہات میں سے ہے جیسا کہ اس کے لئے ہاتھ آنکھ اور چہرے کے ذکر کو متشابہات میں شمار کیا جاتا ہے اور متشابہات کے سلسلے میں قرآن و حدیث میں ہے وہ یہ ہے کہ بس یہ اعتقاد رکھا جائے کہ اس سے جو کچھ مراد ہے وہی درست اور حق ہے اس کی حقیقت و کیفیت کی جستجو میں نہ پڑا جائے یہی سب سے بہتر راستہ ہے اور اسی کو سلف نے اختیار کیا ہے، تاہم متاخیرین ارباب طویل میں سے بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس کے پیر سے مراد اس کی مخلوق میں سے کسی کا پیر ہے، اس کے علاوہ بعض لوگوں نے کچھ اور ایسی تاویلیں بھی کی ہیں جو ذات اقدس تعالیٰ کی شان کے مطابق ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ان کو یہاں ذکر نہیں کیا جارہا ہے۔ جنت کو بھرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نئے لوگ پیدا کرے گا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جمع کرکے جنت میں داخل کردے گا جنہوں نے کبھی کوئی عمل نہیں کیا ہوگا اور جنت کے مستحق نہیں ہوں گے پس یہ رب کریم کی شان رحمت کا اظہار ہوگا کہ وہ دوزخ کو بھرنے کے لئے بےگناہ لوگوں کو تو اس میں نہیں ڈالے گا لیکن بہشت کو بھرنے کے لئے بےعمل لوگوں کو اس میں داخل کردے گا۔
5599
Mishkaat Shareefوعن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا تزال جهنم يلقى فيها وتقول : هل من مزيد ؟ حتى يضع رب العزة فيها قدمه فينزوي بعضها إلى بعض فتقول : قط قط بعزتك وكرمك ولا يزال في الجنة فضل حتى ينشئ الله لها خلقا فيسكنهم فضل الجنة . متفق عليه وذكر حديث أنس : حفت الجنة بالمكاره في كتاب الرقاق
اور حضرت انس (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں برابر (لوگوں) کو ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہتی رہے گی کہ کچھ اور بھی ہے ؟ (یعنی ابھی تک میرا پیٹ نہیں بھرا ہے مجھے اور لوگ چاہیں) آخر کار خداوند بزرگ و برتر اس پر اپنا پاؤں رکھ دے گا اور دوزخ کے حصے ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے (جس سے دوزخ سمٹ جائے گی تب وہ کہے گی کہ بس، بس، تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم میں بھر گئی اس طرح جنت کے اندر وسعت و زیادتی ہوتی رہے گی (یعنی جنتیوں کے جنت میں پہنچ جانے کے باوجود اس کے محلات ومکانات خالی بچ جائیں گے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جنت کے ان خالی محلات مکانات کو پر کرنے کے لئے نئے لوگ پیدا کردے گا جہنیں ان میں بسا دیا جائے گا۔ ( بخاری ومسلم) اور حضرت انس کی روایت کتاب الرقاق میں نقل کی جاچکی ہے۔
5600
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لما خلق الله الجنة قال لجبريل : اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها وإلى ما أعد الله لأهلها فيها ثم جاء فقال : أي رب وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها ثم حفها بالمكاره ثم قال : يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها ثم جاء فقال : أي رب وعزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد . قال : فلما خلق الله النار قال : يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها فقال : أي رب وعزتك لا يسمع بها أحد فيدخلها فحفها بالشهوات ثم قال : يا جبريل اذهب فانظر إليها فذهب فنظر إليها فقال : أي رب وعزتك لقد خشيت أن لا يبقى أحد إلا دخلها . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب جنت کو بنایا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جاؤ ذرا جنت کی طرف نگاہ اٹھا کر تو دیکھو، (میں نے کتنی اچھی اور کس قدر نازک اور دیدہ زیب چیز بنائی ہے چناچہ وہ گئے اور جنت کو اور اس کی ان تمام چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے بنائی ہیں دیکھا، پھر واپس آکر عرض کیا کہ پروردگار تیری عزت کی قسم (تونے اتنی اعلی اور نفیس جنت بنائی ہے اور اس کو ایسی ایسی نعمتوں اور خوبیوں سے معمور کیا ہے کہ) جو کوئی بھی اس کے بارے میں سنے گا وہ اس میں داخلہ کی یقینا خواہش کرے گا۔ تب اللہ تعالیٰ نے جنت کے چاروں طرف ان چیزوں کا احاطہ قائم کردیا، جو نفس کو ناگوار ہیں اور فرمایا کہ جبرائیل (علیہ السلام) جا کر جنت کو دوبارہ دیکھ آؤ چناچہ وہ گئے اور جنت کو اس اضافہ کے ساتھ جو چاروں طرف احاطہ کی صورت میں ہوا تھا) دیکھ کر واپس آئے اور عرض کیا کہ پروردگار ! تیری عزت کی قسم مجھے یہ خدشہ ہے کہ اب شاید ہی کوئی جنت میں داخل ہونے کی خواہش کرے (کیونکہ اس کے گرد مکروہات نفس کا جو احاطہ قائم کردیا گیا ہے اس کو عبور کرنے کے لئے نفسانی خواہشات کو مارنا پڑے گا اور ظاہر ہے کہ انسان خواہشات نفس کو مار کر جنت تک پہنچنا دشوار سمجھے گا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسی طرح جب اللہ تعالیٰ نے دوزخ بنائی تو حکم دیا کہ جبرائیل (علیہ السلام) ! جاؤ دوزخ کو دیکھ کر آؤ کہ میں نے کتنی ہولناک اور بری چیز بنائی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا پس جبرائیل گئے اور دوزخ کو دیکھ کر واپس آئے تو عرض کیا کہ پروردگار ! تیری عزت و جلال کی قسم جو کوئی بھی دوزخ کے بارے میں سنے گا وہ ڈر کے مارے اس سے دور رہے گا اور اس میں جانے کی خواہش نہ کرے گا، تب اللہ تعالیٰ نے دوزخ کے چاروں طرف خواہشات اور لذات دنیا کا احاطہ قائم کردیا اور جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جبرائیل ! جاؤ دوزخ کو دوبارہ دیکھ کر آؤ آنحضرت ﷺ نے فرمایا چناچہ حضرت جبرائیل گئے اور دوزخ کو اس احاطہ کے اضافہ کے ساتھ دیکھ کر واپس آئے اور عرض کیا کہ پروردگار ! تیری عزت و جلال کی قسم، مجھے خدشہ ہے کہ اب شاید ہی کوئی باقی بچے جو دوزخ میں نہ جائے کیونکہ جن خواہشات نفس اور لذات دنیا کا احاطہ دوزخ کے چاروں طرف کردیا گیا ہے وہ اس قدر دلفریب اور اتنی زیادہ مزیدار ہیں کہ نفس طبیعت کی پیروی کرنے والوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو ان خواہشات ولذات کی طرف نہ لپکے اور اس کے نتیجہ میں دوزخ میں نہ جانا پڑے۔
تشریح
مکارہ اصل میں مکرہ کی جمع ہے جس کی معنی ہیں مکروہ یعنی ناپسندیدہ و دشوار چیز یہاں مکارہ سے مراد وہ شرعی امور ہیں جن کا انسان کو مکلف قرار دیا گیا ہے کہ فلاں فلاں کو اختیار کیا جائے اور فلاں فلاں سے اجتناب کیا جائے پس جنت کے چاروں طرف مکارہ کا احاطہ قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے کی تکلیف ومشقت اٹھائی جائے گی نفس کی خواہشات اور اس کی تمناؤں کو ختم نہ کردیا جائے گا اس وقت تک جنت میں داخل ہونا ناممکن ہوگا۔
تشریح
مکارہ اصل میں مکرہ کی جمع ہے جس کی معنی ہیں مکروہ یعنی ناپسندیدہ و دشوار چیز یہاں مکارہ سے مراد وہ شرعی امور ہیں جن کا انسان کو مکلف قرار دیا گیا ہے کہ فلاں فلاں کو اختیار کیا جائے اور فلاں فلاں سے اجتناب کیا جائے پس جنت کے چاروں طرف مکارہ کا احاطہ قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے کی تکلیف ومشقت اٹھائی جائے گی نفس کی خواہشات اور اس کی تمناؤں کو ختم نہ کردیا جائے گا اس وقت تک جنت میں داخل ہونا ناممکن ہوگا۔
5601
Mishkaat Shareefعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بنا يوما الصلاة ثم رقي المنبر فأشار بيده قبل قبلة المسجد فقال : قد أريت الآن مذ صليت لكم الصلاة الجنة والنار ممثلتين في قبل هذا الجدار فلم أر كاليوم في الخير والشر . رواه البخاري
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دن) رسول کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر منبر پر چڑھے اور مسجد کے قبلہ کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کرکے فرمایا کہ ابھی جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کے سامنے کے حصہ میں جنت اور دوزخ کی تمثیلیں دکھائی گئیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے جتنی اچھی چیز اور جتنی بری چیز آج دیکھی ہے اس جیسی اچھی اور بری چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ (بخاری)
تشریح
لفظ قبل ق کے زیر ب کے زبر کے ساتھ بھی منقول ہے اور ان دونوں کے پیش کے ساتھ بھی اسی طرح ق کے پیش ب کے جزم کم ساتھ بھی نقل ہوا ہے ان سب صورتوں میں معنی ایک ہی ہیں یعنی سامنے ہونا۔ میں نے جتنی اچھی چیز اور جتنی بری چیز آج دیکھی ہے۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی اچھی چیز انسان دیکھ سکتا ہے اس سے زیادہ اچھی چیز میں نے جنت کو دیکھا ہے اسی طرح جو بھی بری چیز اس دنیا میں دیکھی جاسکتی ہے اس سے بھی زیادہ بری چیز میں نے دوزخ کو دیکھا ہے۔ یہاں اگر یہ اشکال پیدا ہوتا ہو کہ جنت و دوزخ اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے سامنے ایک دیوار میں کس طرح ممثل ومنور ہو کر آگئیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ کسی بھی چیز کی تمثیل وعکس کے لئے یہ مطلقا ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اس چیز کے اصل طول وعرض کے ساتھ منعکس ہو۔ سب سے بڑی مثال پانی یا آئینہ میں کسی چیز کے عکس کی ہے کہ کسی وسیع و عریض باغ یا مکان کا جو پورا عکس پانی یا آئینہ میں آتا ہے وہ اصل باغ یا مکان کے حقیقی طول وعرض کے ساتھ ہرگز نہیں ہوتا ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ حدیث کے متعلقہ الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا جنت یا دوزخ کی تمثیل یا تصویر دیوار کے اوپر نقش یا کندہ ہوگئی ہو بلکہ ان الفاظ میں ان تمثیل کو دیوار کے سامنے کے حصہ میں دیکھنے کا ذکر ہے جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمثیلیں آپ ﷺ کو دیوار کی سمت میں دکھائی گئی ہے اور ان تمثیلوں کا وجود کسی اور عالم میں یا کسی اور جگہ ہو۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ یعنی میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے گوشہ پر دیکھا اس حدیث کے ضمن میں بھی شارحین حدیث نے مذکورہ بالااشکال اور اس کا مذکورہ ہی جواب نقل کیا ہے۔ بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی یہ مراد نہیں تھی کہ میں نے جنت اور دوزخ کو اس طرح دیکھا کہ ان کی تمثیل دیوار کے سامنے کے حصہ میں تھیں، بلکہ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میں نے (اپنی روحانی آنکھوں سے) جنت اور دوزخ کو دیکھا، جب کہ میں قبلہ کی طرف کی دیوار کے سامنے تھا، اس صورت میں کوئی اشکال واقع نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
تشریح
لفظ قبل ق کے زیر ب کے زبر کے ساتھ بھی منقول ہے اور ان دونوں کے پیش کے ساتھ بھی اسی طرح ق کے پیش ب کے جزم کم ساتھ بھی نقل ہوا ہے ان سب صورتوں میں معنی ایک ہی ہیں یعنی سامنے ہونا۔ میں نے جتنی اچھی چیز اور جتنی بری چیز آج دیکھی ہے۔۔۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ تھا کہ جو بھی اچھی چیز انسان دیکھ سکتا ہے اس سے زیادہ اچھی چیز میں نے جنت کو دیکھا ہے اسی طرح جو بھی بری چیز اس دنیا میں دیکھی جاسکتی ہے اس سے بھی زیادہ بری چیز میں نے دوزخ کو دیکھا ہے۔ یہاں اگر یہ اشکال پیدا ہوتا ہو کہ جنت و دوزخ اس قدر وسیع و عریض ہونے کے باوجود حضور ﷺ کے سامنے ایک دیوار میں کس طرح ممثل ومنور ہو کر آگئیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ کسی بھی چیز کی تمثیل وعکس کے لئے یہ مطلقا ضروری نہیں ہوتا کہ وہ اس چیز کے اصل طول وعرض کے ساتھ منعکس ہو۔ سب سے بڑی مثال پانی یا آئینہ میں کسی چیز کے عکس کی ہے کہ کسی وسیع و عریض باغ یا مکان کا جو پورا عکس پانی یا آئینہ میں آتا ہے وہ اصل باغ یا مکان کے حقیقی طول وعرض کے ساتھ ہرگز نہیں ہوتا ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ حدیث کے متعلقہ الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا جنت یا دوزخ کی تمثیل یا تصویر دیوار کے اوپر نقش یا کندہ ہوگئی ہو بلکہ ان الفاظ میں ان تمثیل کو دیوار کے سامنے کے حصہ میں دیکھنے کا ذکر ہے جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ تمثیلیں آپ ﷺ کو دیوار کی سمت میں دکھائی گئی ہے اور ان تمثیلوں کا وجود کسی اور عالم میں یا کسی اور جگہ ہو۔ اسی مضمون کی ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ یعنی میں نے جنت اور دوزخ کو اس دیوار کے گوشہ پر دیکھا اس حدیث کے ضمن میں بھی شارحین حدیث نے مذکورہ بالااشکال اور اس کا مذکورہ ہی جواب نقل کیا ہے۔ بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی یہ مراد نہیں تھی کہ میں نے جنت اور دوزخ کو اس طرح دیکھا کہ ان کی تمثیل دیوار کے سامنے کے حصہ میں تھیں، بلکہ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ میں نے (اپنی روحانی آنکھوں سے) جنت اور دوزخ کو دیکھا، جب کہ میں قبلہ کی طرف کی دیوار کے سامنے تھا، اس صورت میں کوئی اشکال واقع نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
5602
Mishkaat Shareefابتدائے پیدائش سے مراد اس کائنات کا عالم وجود میں آنا اور مخلوقات کی پیدائش و تخلیق کا سلسلہ شروع ہونا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) چونکہ اس کائنات کا جوہر ہیں، دین وملت کی تدوین و تربیت کا نقطہ آغاز ان ہی کی ذات ہے، امور عالم کا نظم و انتظام اور اصلاح انہی سے وابستہ ہے اور نوع انسانی کی پیدائش کا سلسلہ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) ہی سے شروع ہوتا ہے جو نبی اول بھی ہیں اس لئے ان مقدس نفوس کے ذکر کو عنوان باب کا دوسرا جزء قرار دیا گیا ہے۔ عالم حادث ہے سب سے پہلے یہ امر ذہن نشین رہنا چاہئے کہ تمام مذہب سماویہ اور ملتیں یہاں تک مجوسی بھی اس پر متفق ہیں کہ عالم حادث ہے یعنی یہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز عدم سے وجود میں آئی ہے، اللہ کے سوا کوئی بھی چیز پہلے موجود نہیں تھی بعد میں اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ اس بارے میں سب سے بہتر شہادت مخبر صادق ﷺ کی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا۔ کان اللہ ولم یکن معہ شیئ۔ صرف اللہ کی ذات موجود تھی اس کے ساتھ کسی چیز کا وجود نہیں تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح وقلم کو پیدا کیا اور مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب (تقدیر) لکھی، اس کے بعد عرش کرسی، آسمانوں، زمینوں، فرشتوں اور جنات و انسان کو پیدا فرمایا۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام اجسام اپنی ذات وصفات کے ساتھ حادث ہیں اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اجسام میں سے جو چیز سب سے پہلے پیدا ہوئی وہ پانی ہے کیونکہ یہ خصوصیت صرف پانی کو حاصل ہے کہ وہ ہر شکل و صورت اختیار کرسکتا ہے اور تمام چیزوں کا مادہ تخلیق بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، چناچہ کہا جاتا ہے کہ یہ پانی ہی تھا جس میں لطافت پیدا ہوئی تو ہوا عالم وجود میں آئی پھر اس کے جوہر سے آگ پیدا ہوئی اور اس کے دھوئیں سے آسمان بنا واضح رہے کہ آسمان پر دخان یعنی دھوئیں کا اطلاق قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ یہ قول کہ کائنات کی ہر چیز کا مادہ تخلیق پانی ہے اور پانی ہی کے جوہر سے آگ اور اس کے دھوئیں سے آسمان پیدا ہوا۔ قدیم حکماء میں سے ایک شخص ط اس ملطی کی طرف منسوب ہے لیکن علماء نے کہا ہے کہ ط اس ملطی نے یہ بات آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے اخذکر کے کہی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس سلسلہ میں جو کچھ فرمایا ہے اس کی تصدیق نہ صرف حکماء قدیم وجدید کے اقوال سے ہوتی ہے بلکہ قدیم آسمانی کتابوں میں بھی اسی طرح منقول ہے چناچہ توریت کے پہلے صفحہ میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اس کائنات ارضی وسماوی کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو) ایک جوہر پیدا فرمایا اور اس پر ہیبت و جلال کی نظر ڈالی جس سے اس جوہر کے اجزاء پگھل کر پانی ہوگئے پھر اس میں سے دھوئیں کے مانند بخارات اٹھے جس سے آسمان کو پیدا کیا اور پھر اس پانی پر جھاگ ظاہر ہوا جس سے زمین کو وجود بخشا اور زمین کو جمانے اور قائم رکھنے کے لئے پہاڑوں کو پیدا فرمایا۔ بہرحال ابتدائے تخلیق کائنات کا موضوع بڑا وسیع اور خاصا بحث طلب مانا گیا ہے، ہمیشہ سے حکماء اور دانشور اس میں مصرف تحقیق رہے ہیں اور کتنے ہی مختلف نظریات و اقوال سامنے آچکے ہیں، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس موضوع کا تعلق ایسے امور سے ہے جن کو محض عقل و قیاس سے معلوم نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی حقیقت تک رسائی کا مدار خالق کائنات کے عطا کردہ اس علم اور اس علم سے اخذواستنباط پر ہے جو بذریعہ وحی دنیا میں آیا ہے اور جس کو آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ دنیا والوں تک پہنچا بھی دیا ہے۔
5603
Mishkaat Shareefعن عمران بن حصين قال : إني كنت عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاء قوم من بني تميم فقال : اقبلوا البشرى يا بني تميم قالوا : بشرتنا فأعطنا فدخل ناس من أهل اليمن فقال : اقبلوا البشرى يا أهل اليمن إذ لم يقبلها بنو تميم . قالوا : قبلنا جئناك لنتفقه في الدين ولنسألك عن أول هذا الأمر ما كان ؟ قال : كان الله ولم يكن شيء قبله وكان عرشه على الماء ثم خلق السماوات والأرض وكتب في الذكر كل شيء ثم أتاني رجل فقال : يا عمران أدرك ناقتك فقد ذهبت فانطلقت أطلبها وأيم الله لوددت أنها قد ذهبت ولم أقم . رواه البخاري
حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ( مشہور اور عظیم قبیلہ) بنوتمیم کے کچھ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم کے لوگوں بشارت حاصل کرو، انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے (دین کی تعلیمات کی صورت میں) بشارت تو ہمیں عطا فرمادی، اب کچھ اور بھی عنایت فرما دیجئے۔ پھر کچھ دیر بعد یمن کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ (یمن کے لوگوں تم بشارت حاصل کرلو، بنوتمیم کے لوگوں نے تو بشارت حاصل نہیں کی، یمن والوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم نے بشارت حاصل کی اور ہم اسی لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ سے مذہبی معلومات اور دینی شعور وفہم حاصل کریں، چناچہ ہم آپ سے ابتدائے آفرینش اور مبداء عالم کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس (کائنات کے وجود میں آنے اور مخلوقات کی پیدائش) سے پہلے کیا چیز موجود تھی ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ صرف اللہ کی ذات موجود تھی (ازل الازال میں) اس کے ساتھ اور اس کے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ (حدیث کے راوی حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی یہیں تک سن پایا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ عمران جاؤ اپنی اونٹنی کو تلاش کرو وہ بھاگ گئی ہے (یہ سنتے ہی میں اپنی اونٹنی کو تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوا اور اب میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کاش میں اس وقت مجلس نبوی سے اٹھ کر نہ جاتا بھلے ہی میری اونٹنی جاتی رہتی (بخاری)
تشریح
اس موقع پر بنوتمیم کے جو لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان کا مطمح نظر آنحضرت ﷺ سے اکتساب دین اور حصول معرفت سے زیادہ کوئی دنیاوی طلب و خواہش تھی، اس لئے جب آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بشارت حاصل کرو، یعنی مجھ سے ایسی چیز حاصل کرو اور وہ بات قبول کرو جو جنت کی نعمتوں اور دونوں جہان کی سعادتوں کے حصول کی بشارت کا موجب ہے جیسے دین کے عقائد و احکام سیکھنا اور مذہبی معلومات حاصل کرنا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کی عطا کردہ بشارت ہمارے سر آنکھوں پر، دینی عقائدواحکام سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہمیں تسلیم، لیکن اس وقت ہمارا اصل مقصد کچھ دنیاوی چیزوں کا حاصل کرنا ہے آپ تو ہماری وہ دنیاوی طلب و خواہش پوری فرمادیجئے پس ان لوگوں نے چونکہ فانی دنیا کو زیادہ اہم جانا اور اس کو مذہبی تعلیمات اور دینی فہم و شعور حاصل کرنے پر کہ جو آخرت کے اجروثواب اور دارین کی فلاح وسعادت کا باعث ہے، فوقیت دی، اس لئے آپ ﷺ نے ان کی اس بات کو ان کی عدم لیاقت اور یقین و اعتماد میں ان کے ضعف و کمزوری پر محمول فرمایا اور ازراہ غصہ ان کی طرف سے وہ بشارت کو قبول کئے جانے کی نفی فرمادی، چناچہ آپ ﷺ نے یمن کے لوگوں سے فرمایا کہ بنوتمیم کے لوگوں نے تو بشارت حاصل کی نہیں، تم ہی لوگ اس بشارت کو حاصل کرلو۔ بنوتمیم کے لوگوں کے بعد یمن کے لوگ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، ان کی نیت چونکہ بالکل اور سچی تھی اور ان کی آمد کا اصل مقصد ہی یہ پاک جذبہ تھا کہ آنحضرت ﷺ سے کچھ دین کی باتیں سیکھیں آپ ﷺ کی صحبت سے اپنے عقیدہ و ایمان کو تازگی بخشیں نہ کہ وہ دنیا کی چیز حاصل کرنے یا کسی پست مقصد کے لئے حاضر ہوئے تھے لہٰذا ان کو بشارت حاصل ہوئی طاعت و قبول کی سعادت ان کے حصہ میں آئی۔ علم وعمل ان کا نصیب بنا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے جب کہ بنو تمیم کے لوگ دنیا طلبی کے چکر میں پڑ کر ان سعادتوں اور نعمتوں سے محروم رہے اور ان کی کم نظری اور پست ہمتی نہ ان کو نیچے گرا دیا اس سے معلوم ہوا کہ بندہ مؤمن کو ہمیشہ بلند نظر عالی ہمت اور پاک مقصد ہونا چاہے کیونکہ بلند نظری عالی ہمتی اور مقصد کی پاکی بڑے سے بڑے درجہ و مرتبہ کو پہنچا دیتی ہے اور دارین کی فلاح وسعادت سے نوازتی ہے جیسا کہ ایک بزرگ حضرت شیخ ابوالعباس مرصی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک دن حضرت امیرحمزہ کی تربت کی زیارت کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور ایک شخص بھی ان کے ساتھ ہولیا جو وہ حضرت امیرحمزہ کے مقبرہ پر پہنچے تو خلاف معمول حضرت شیخ ابوالعباس کے لئے خاص طور پر مقبرہ کا دروازہ کھولا گیا وہ اندر داخل ہوئے اور تربت پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ عالم غیب کے کچھ لوگوں کی ایک جماعت کسی بھی طرح کی کمی اور عیب سے پاک اپنے اجسام کے ساتھ موجود ہے حضرت شیخ ان کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ ساعت قبولیت ہے یہاں پروردگار سے جو کچھ بھی طلب کیا جائے حاصل ہوگا چناچہ انہوں نے پروردگار سے دنیا وآخرت میں عفو و عافیت کی دعا مانگی اور پھر از راہ ہم دردی اور شفقت اپنے ساتھی سے کہا کہ میرے عزیز اللہ تعالیٰ سے جو کچھ چاہتے ہو مانگ لو، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت اور فضل ربی حاصل ہونے کا وقت ہے اس شخص نے بڑی پست ہمتی دکھائی اور ایک دینار کی دعا مانگی (کہ پروردگار مجھے ایک دینار عطا کردے) نہ تو اس نے آخرت کا کوئی ذکر کیا اور نہ جنت و دوزخ کے بارے میں کچھ عرض مدعا کیا۔ اس کے بعد وہ دونوں مقبرہ سے نکلے اور واپسی کے لئے مدینہ کی طرف چل پڑے اور مدینہ شہر میں داخل ہوئے تو اہل مدینہ میں سے کسی نے اس شخص کے ہاتھ میں ایک دینار تھما دیا پھر شہر میں پہنچ کر وہ دونوں اس زمانے کے مشہور قطب وولی حضرت سید ابوالحسن شاذلی کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت شاذلی پر ان دونوں کا پورا قصہ منکشف ہوگیا انہوں نے بڑے تأسف کے ساتھ اس شخص سے کہا کہ ارے پست ہمت تجھے قبولیت دعا کا وقت نصیب ہوا اور تو نے ذلیل دنیا کا ایک حقیر ٹکڑا مانگنے پر اکتفا کیا ؟ آخر تو نے ابوالعباس کی طرح عفو و عافیت کی دعا کیوں نہیں مانگی یہ تو وہ نعمت ہے جو تجھے حاصل ہوجاتی تو تیری دنیا بھی تیرے قدموں میں آجاتی اور تیری عاقبت بھی سنور جاتی صرف اللہ کی ذات موجود تھی یعنی جس طرح اس کی پاک ذات ابد الاباد تک رہنے والی ہے اسی طرح ازل الازال میں بھی صرف اسی کی ذات تھی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ سے موجود ہے اور اس سے پہلے کسی بھی چیز کا وجود نہیں تھا، جس طرح اس کے لئے کوئی انتہا واختتام نہیں ہے اسی طرح اس کے لئے کوئی ابتداء نہیں ہے، اس کی ذات اور اس کا وجود تغیروحدث سے پاک ومبرا ہے جو اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کا خاصہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ نہ پہلے کبھی اس کی ذات عدم میں تھی اور نہ آئندہ کبھی وہ عدم میں ہوگا کیونکہ جو ذات ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے قائم و باقی ہے اس کا عدم محال ہے۔ اللہ تعالیٰ سے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں تھا یہ پہلے جملہ کی وضاحت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے علاوہ ہر چیز حادث ہے تو اس واجب الوجود سے پہلے کسی اور چیز کے وجود کا تصور تک نہیں ہوسکتا اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق وموجد ہے اس لئے جو بھی چیز وجود میں آئی ہے اسے کے بعد اور اسے کی قدرت تخلیق سے وجود پذیر ہوئی ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا الخ، اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہے عرش اور پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے نیز شروع میں عرش کے نیچے پانی کے علاوہ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز نہیں تھی پس عرش کا پانی پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عرش اور پانی کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی یہ مطلب نہیں ہے کہ عرش پانی کی سطح پر قائم تھا نیز اس پانی سے مراد وہ پانی نہیں ہے جو سمندروں اور دریاؤں میں موجود ہے بلکہ عرش کے نیچے کا وہ پانی قدرت ومشیت الہٰی کا مظہر کوئی اور ہی پانی تھا اس کا تفصیلی ذکر کتاب کی ابتداء میں باب الایمان بالقدر میں گزر چکا ہے ابن ملک نے مذکورہ جملہ کی تشریح میں لکھا ہے عرش پانی پر تھا پانی ہوا کی پشت پر تھا اور ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم تھی۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہم کہ عرش اور پانی کی تخلیق آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پانی سے پیدا فرمایا اس طرح کہ پانی اپنی تجلی ڈالی، تو وہ موجیں مارنے لگا اور اس میں زبردست اتھل پتھل ہوئی جس کے سبب سے اس میں جھاگ پیدا ہوا اور وہ جھاگ جمع ہو کر اس جگہ قائم ہوا جہاں خانہ کعبہ ہے اور اس طرح زمین کا سب سے پہلا ٹکڑا عالم وجود میں آیا اور پھر اسی ٹکڑے سے چاروں طرف زمین پھیلائی گئی اور اس کائنات کا تختہ ارض قائم ہوا، پھر اس تختہ ارض پر پہاڑوں کو پیدا کیا گیا تاکہ زمین ہلنے اور ڈولنے نہ پائے اور پہاڑوں کے دباؤ سے ساکن وجامد رہے اور جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، سب سے پہلے جو پہاڑ پیدا کیا گیا وہ جبل ابوقبیس ہے نیز اس پانی میں تموج اور اضطراب سے دھوئیں کی شکل میں جو بخارات اوپر کی طرف بلند ہوئے ان سے آسمان پیدا ہوئے۔ اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہر چیز کے متعلق لوح محفوظ میں ہر وہ بات لکھ دی ہے جو اس کو پیش آنے والی ہے اور اسی کے مطابق دنیا میں ظہور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے لکھنے سے کیا مراد ہے ؟ تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حروف والفاظ پیدا فرمائے ہوں جو اس لوح محفوظ میں مرتسم ہوگئے ہوں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو لکھنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس حکم کے مطابق ہر چیز لوح محفوظ میں لکھ دی ! یہ واضح رہے کہ لوح محفوظ میں ہر چیز کا لکھا جانا عرش کی بھی تخلیق سے پہلے ہوگیا تھا۔ روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ حضرت عمران ابن حصین نے اپنے تاسف کا اظہار کیا کہ وہ اپنی اونٹنی کے چکر میں پڑ کر ایسے موقع پر مجلس نبوی سے اٹھ گئے جب کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا سلسلہ جاری تھا اور وہ آگے کے ملفوظات نبوی ﷺ نہ سن سکے صورت حال یہ ہوئی کہ حضرت عمران مجلس نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی اونٹنی دروازے کے باہر باندھ دی تھی، اس دوران کہ آنحضرت ﷺ یمن کے لوگوں کو اس کائنات کے ابتدائے آفرنیش اور مبدء عالم کے بارے میں بتا رہے تھے، کسی شخص نے آکر حضرت عمران سے کہا کہ تمہاری اونٹنی کھل کر بھاگ گئی ہے جلدی جاؤ اور اس کو پکڑ و اور وہ یہ سنتے ہی مجبورا اٹھ گئے اور اپنی اونٹنی کو پکڑنے کے لئے چلے گئے پھر بعد میں بشیمان ہوئے کہ میں کیوں اٹھ گیا اور آنحضرت ﷺ کی مبارک صحبت اور ان حقائق وعلوم سے محروم رہ گیا جو اس وقت بیان فرمائے جارہے تھے۔
تشریح
اس موقع پر بنوتمیم کے جو لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ان کا مطمح نظر آنحضرت ﷺ سے اکتساب دین اور حصول معرفت سے زیادہ کوئی دنیاوی طلب و خواہش تھی، اس لئے جب آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بشارت حاصل کرو، یعنی مجھ سے ایسی چیز حاصل کرو اور وہ بات قبول کرو جو جنت کی نعمتوں اور دونوں جہان کی سعادتوں کے حصول کی بشارت کا موجب ہے جیسے دین کے عقائد و احکام سیکھنا اور مذہبی معلومات حاصل کرنا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کی عطا کردہ بشارت ہمارے سر آنکھوں پر، دینی عقائدواحکام سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہمیں تسلیم، لیکن اس وقت ہمارا اصل مقصد کچھ دنیاوی چیزوں کا حاصل کرنا ہے آپ تو ہماری وہ دنیاوی طلب و خواہش پوری فرمادیجئے پس ان لوگوں نے چونکہ فانی دنیا کو زیادہ اہم جانا اور اس کو مذہبی تعلیمات اور دینی فہم و شعور حاصل کرنے پر کہ جو آخرت کے اجروثواب اور دارین کی فلاح وسعادت کا باعث ہے، فوقیت دی، اس لئے آپ ﷺ نے ان کی اس بات کو ان کی عدم لیاقت اور یقین و اعتماد میں ان کے ضعف و کمزوری پر محمول فرمایا اور ازراہ غصہ ان کی طرف سے وہ بشارت کو قبول کئے جانے کی نفی فرمادی، چناچہ آپ ﷺ نے یمن کے لوگوں سے فرمایا کہ بنوتمیم کے لوگوں نے تو بشارت حاصل کی نہیں، تم ہی لوگ اس بشارت کو حاصل کرلو۔ بنوتمیم کے لوگوں کے بعد یمن کے لوگ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، ان کی نیت چونکہ بالکل اور سچی تھی اور ان کی آمد کا اصل مقصد ہی یہ پاک جذبہ تھا کہ آنحضرت ﷺ سے کچھ دین کی باتیں سیکھیں آپ ﷺ کی صحبت سے اپنے عقیدہ و ایمان کو تازگی بخشیں نہ کہ وہ دنیا کی چیز حاصل کرنے یا کسی پست مقصد کے لئے حاضر ہوئے تھے لہٰذا ان کو بشارت حاصل ہوئی طاعت و قبول کی سعادت ان کے حصہ میں آئی۔ علم وعمل ان کا نصیب بنا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے جب کہ بنو تمیم کے لوگ دنیا طلبی کے چکر میں پڑ کر ان سعادتوں اور نعمتوں سے محروم رہے اور ان کی کم نظری اور پست ہمتی نہ ان کو نیچے گرا دیا اس سے معلوم ہوا کہ بندہ مؤمن کو ہمیشہ بلند نظر عالی ہمت اور پاک مقصد ہونا چاہے کیونکہ بلند نظری عالی ہمتی اور مقصد کی پاکی بڑے سے بڑے درجہ و مرتبہ کو پہنچا دیتی ہے اور دارین کی فلاح وسعادت سے نوازتی ہے جیسا کہ ایک بزرگ حضرت شیخ ابوالعباس مرصی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک دن حضرت امیرحمزہ کی تربت کی زیارت کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور ایک شخص بھی ان کے ساتھ ہولیا جو وہ حضرت امیرحمزہ کے مقبرہ پر پہنچے تو خلاف معمول حضرت شیخ ابوالعباس کے لئے خاص طور پر مقبرہ کا دروازہ کھولا گیا وہ اندر داخل ہوئے اور تربت پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ عالم غیب کے کچھ لوگوں کی ایک جماعت کسی بھی طرح کی کمی اور عیب سے پاک اپنے اجسام کے ساتھ موجود ہے حضرت شیخ ان کو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ ساعت قبولیت ہے یہاں پروردگار سے جو کچھ بھی طلب کیا جائے حاصل ہوگا چناچہ انہوں نے پروردگار سے دنیا وآخرت میں عفو و عافیت کی دعا مانگی اور پھر از راہ ہم دردی اور شفقت اپنے ساتھی سے کہا کہ میرے عزیز اللہ تعالیٰ سے جو کچھ چاہتے ہو مانگ لو، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت اور فضل ربی حاصل ہونے کا وقت ہے اس شخص نے بڑی پست ہمتی دکھائی اور ایک دینار کی دعا مانگی (کہ پروردگار مجھے ایک دینار عطا کردے) نہ تو اس نے آخرت کا کوئی ذکر کیا اور نہ جنت و دوزخ کے بارے میں کچھ عرض مدعا کیا۔ اس کے بعد وہ دونوں مقبرہ سے نکلے اور واپسی کے لئے مدینہ کی طرف چل پڑے اور مدینہ شہر میں داخل ہوئے تو اہل مدینہ میں سے کسی نے اس شخص کے ہاتھ میں ایک دینار تھما دیا پھر شہر میں پہنچ کر وہ دونوں اس زمانے کے مشہور قطب وولی حضرت سید ابوالحسن شاذلی کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت شاذلی پر ان دونوں کا پورا قصہ منکشف ہوگیا انہوں نے بڑے تأسف کے ساتھ اس شخص سے کہا کہ ارے پست ہمت تجھے قبولیت دعا کا وقت نصیب ہوا اور تو نے ذلیل دنیا کا ایک حقیر ٹکڑا مانگنے پر اکتفا کیا ؟ آخر تو نے ابوالعباس کی طرح عفو و عافیت کی دعا کیوں نہیں مانگی یہ تو وہ نعمت ہے جو تجھے حاصل ہوجاتی تو تیری دنیا بھی تیرے قدموں میں آجاتی اور تیری عاقبت بھی سنور جاتی صرف اللہ کی ذات موجود تھی یعنی جس طرح اس کی پاک ذات ابد الاباد تک رہنے والی ہے اسی طرح ازل الازال میں بھی صرف اسی کی ذات تھی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ سے موجود ہے اور اس سے پہلے کسی بھی چیز کا وجود نہیں تھا، جس طرح اس کے لئے کوئی انتہا واختتام نہیں ہے اسی طرح اس کے لئے کوئی ابتداء نہیں ہے، اس کی ذات اور اس کا وجود تغیروحدث سے پاک ومبرا ہے جو اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کا خاصہ ہے۔ پس ثابت ہوا کہ نہ پہلے کبھی اس کی ذات عدم میں تھی اور نہ آئندہ کبھی وہ عدم میں ہوگا کیونکہ جو ذات ہمیشہ سے اور ہمیشہ کے لئے قائم و باقی ہے اس کا عدم محال ہے۔ اللہ تعالیٰ سے پہلے کسی چیز کا وجود نہیں تھا یہ پہلے جملہ کی وضاحت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے علاوہ ہر چیز حادث ہے تو اس واجب الوجود سے پہلے کسی اور چیز کے وجود کا تصور تک نہیں ہوسکتا اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق وموجد ہے اس لئے جو بھی چیز وجود میں آئی ہے اسے کے بعد اور اسے کی قدرت تخلیق سے وجود پذیر ہوئی ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا الخ، اس جملہ میں اس طرف اشارہ ہے عرش اور پانی کی تخلیق زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے نیز شروع میں عرش کے نیچے پانی کے علاوہ زمین و آسمان کی کوئی بھی چیز نہیں تھی پس عرش کا پانی پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عرش اور پانی کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی یہ مطلب نہیں ہے کہ عرش پانی کی سطح پر قائم تھا نیز اس پانی سے مراد وہ پانی نہیں ہے جو سمندروں اور دریاؤں میں موجود ہے بلکہ عرش کے نیچے کا وہ پانی قدرت ومشیت الہٰی کا مظہر کوئی اور ہی پانی تھا اس کا تفصیلی ذکر کتاب کی ابتداء میں باب الایمان بالقدر میں گزر چکا ہے ابن ملک نے مذکورہ جملہ کی تشریح میں لکھا ہے عرش پانی پر تھا پانی ہوا کی پشت پر تھا اور ہوا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے قائم تھی۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہم کہ عرش اور پانی کی تخلیق آسمان اور زمین کی تخلیق سے پہلے ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پانی سے پیدا فرمایا اس طرح کہ پانی اپنی تجلی ڈالی، تو وہ موجیں مارنے لگا اور اس میں زبردست اتھل پتھل ہوئی جس کے سبب سے اس میں جھاگ پیدا ہوا اور وہ جھاگ جمع ہو کر اس جگہ قائم ہوا جہاں خانہ کعبہ ہے اور اس طرح زمین کا سب سے پہلا ٹکڑا عالم وجود میں آیا اور پھر اسی ٹکڑے سے چاروں طرف زمین پھیلائی گئی اور اس کائنات کا تختہ ارض قائم ہوا، پھر اس تختہ ارض پر پہاڑوں کو پیدا کیا گیا تاکہ زمین ہلنے اور ڈولنے نہ پائے اور پہاڑوں کے دباؤ سے ساکن وجامد رہے اور جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، سب سے پہلے جو پہاڑ پیدا کیا گیا وہ جبل ابوقبیس ہے نیز اس پانی میں تموج اور اضطراب سے دھوئیں کی شکل میں جو بخارات اوپر کی طرف بلند ہوئے ان سے آسمان پیدا ہوئے۔ اور لوح محفوظ میں ہر چیز کو لکھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہر چیز کے متعلق لوح محفوظ میں ہر وہ بات لکھ دی ہے جو اس کو پیش آنے والی ہے اور اسی کے مطابق دنیا میں ظہور ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ لوح محفوظ میں اللہ تعالیٰ کے لکھنے سے کیا مراد ہے ؟ تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے حروف والفاظ پیدا فرمائے ہوں جو اس لوح محفوظ میں مرتسم ہوگئے ہوں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو لکھنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس حکم کے مطابق ہر چیز لوح محفوظ میں لکھ دی ! یہ واضح رہے کہ لوح محفوظ میں ہر چیز کا لکھا جانا عرش کی بھی تخلیق سے پہلے ہوگیا تھا۔ روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ حضرت عمران ابن حصین نے اپنے تاسف کا اظہار کیا کہ وہ اپنی اونٹنی کے چکر میں پڑ کر ایسے موقع پر مجلس نبوی سے اٹھ گئے جب کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا سلسلہ جاری تھا اور وہ آگے کے ملفوظات نبوی ﷺ نہ سن سکے صورت حال یہ ہوئی کہ حضرت عمران مجلس نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے تو انہوں نے اپنی اونٹنی دروازے کے باہر باندھ دی تھی، اس دوران کہ آنحضرت ﷺ یمن کے لوگوں کو اس کائنات کے ابتدائے آفرنیش اور مبدء عالم کے بارے میں بتا رہے تھے، کسی شخص نے آکر حضرت عمران سے کہا کہ تمہاری اونٹنی کھل کر بھاگ گئی ہے جلدی جاؤ اور اس کو پکڑ و اور وہ یہ سنتے ہی مجبورا اٹھ گئے اور اپنی اونٹنی کو پکڑنے کے لئے چلے گئے پھر بعد میں بشیمان ہوئے کہ میں کیوں اٹھ گیا اور آنحضرت ﷺ کی مبارک صحبت اور ان حقائق وعلوم سے محروم رہ گیا جو اس وقت بیان فرمائے جارہے تھے۔
5604
Mishkaat Shareefوعن عمر قال : قام فينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مقاما فأخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل أهل الجنة منازلهم وأهل النار منازلهم حفظ ذلك من حفظه ونسيه من نسيه . رواه البخاري
اور حضرت امیر المؤمنین حضرت عمر ف اور ق (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ خطبہ دینے کے لئے ہمارے سامنے کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے اس خطبہ کے دوران ابتدائے آفرینش سے قیامت کے دن جنت و دوزخ میں داخل ہونے تک کے تمام احوال و کوائف کا ذکر فرمایا جس شخص نے ان باتوں کو یاد رکھا اس کو یاد ہیں اور جس شخص نے بھلادیا وہ بھول گیا ہے (بخاری)
تشریح
مطلب یہ کہ آپ ﷺ نے اس دن بڑی تفصیل کے ساتھ مبداء ومعاد کے احوال کو اول سے آخر تک بیان فرمایا یعنی پہلے آپ ﷺ نے تخلیق کائنات کی ابتداء کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو قائم کرنے کا ارادہ کیا تو شروع میں کیا کیا چیزیں بنائیں پھر کس طرح نظام عالم کو قائم فرمایا اور اس عالم کو انسان نامی مخلوق سے آباد کرنے کے لئے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرمائی اور ان کے ذریعہ نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا، کائنات انسانی کی تہذیبی، اخلاقی اور دینی زندگی کا نظم قائم کرنے اور رب کائنات کی حاکمیت و ہدایت کے ظہور کے لئے کون نبی اور رسول اس دنیا میں آئے کیسی کیسی ملتیں اور قومیں وجود میں آئیں، ان ملتوں اور قوموں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا، جن لوگوں نے اللہ کے بیجھے ہوئے رسولوں کی اطاعت کی ان کو کیا اجروانعام ملے اور جن لوگوں نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا ان کو کس طرح تباہ و برباد کردیا گیا اور آخرت میں ان سب ملتوں اور امتوں کا کیا حال ہوگا اور پھر آخر میں آپ ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں بتایا کہ اللہ کے آخری دین اسلام کو ماننے والوں یعنی مسلمانوں کی ملی زندگی میں کیسے کیسے انقلاب آئیں گے، انہیں کن کن احوال سے دوچار ہونا پڑے گا کون کون سی اچھائیاں ان کا طرہ امتیاز بنیں گی اور کون کون سی برائیاں ان کی دینی و دنیاوی زندگی کو خراب کریں گی پھر آخرت میں اس امت محمدیہ کے ساتھ کیا سلوک ہوگا، کس طرح کے لوگ جنت میں اور کس طرح کے لوگ دوزخ کے سپرد کئے جائیں گے۔ جس شخص نے ان باتوں کو یاد رکھا۔۔۔۔ الخ۔ سے حضرت عمر کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے وہ باتیں جس کا تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی تھیں، ان کو ان لوگوں نے یاد رکھا جہنوں نے یاد رکھنے کی کوشش کی اور جن کو اللہ تعالیٰ نے یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ لوگ ان باتوں کو بھول گئے جہنوں نے یاد رکھا جہنوں نے یاد رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ حاصل یہ کہ بعض لوگوں کو وہ پوری باتیں یاد ہیں اور بعض لوگ ان کو بھول گئے ہیں۔
تشریح
مطلب یہ کہ آپ ﷺ نے اس دن بڑی تفصیل کے ساتھ مبداء ومعاد کے احوال کو اول سے آخر تک بیان فرمایا یعنی پہلے آپ ﷺ نے تخلیق کائنات کی ابتداء کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو قائم کرنے کا ارادہ کیا تو شروع میں کیا کیا چیزیں بنائیں پھر کس طرح نظام عالم کو قائم فرمایا اور اس عالم کو انسان نامی مخلوق سے آباد کرنے کے لئے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرمائی اور ان کے ذریعہ نسل انسانی کا سلسلہ شروع ہوا، کائنات انسانی کی تہذیبی، اخلاقی اور دینی زندگی کا نظم قائم کرنے اور رب کائنات کی حاکمیت و ہدایت کے ظہور کے لئے کون نبی اور رسول اس دنیا میں آئے کیسی کیسی ملتیں اور قومیں وجود میں آئیں، ان ملتوں اور قوموں نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا، جن لوگوں نے اللہ کے بیجھے ہوئے رسولوں کی اطاعت کی ان کو کیا اجروانعام ملے اور جن لوگوں نے ان رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا ان کو کس طرح تباہ و برباد کردیا گیا اور آخرت میں ان سب ملتوں اور امتوں کا کیا حال ہوگا اور پھر آخر میں آپ ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں بتایا کہ اللہ کے آخری دین اسلام کو ماننے والوں یعنی مسلمانوں کی ملی زندگی میں کیسے کیسے انقلاب آئیں گے، انہیں کن کن احوال سے دوچار ہونا پڑے گا کون کون سی اچھائیاں ان کا طرہ امتیاز بنیں گی اور کون کون سی برائیاں ان کی دینی و دنیاوی زندگی کو خراب کریں گی پھر آخرت میں اس امت محمدیہ کے ساتھ کیا سلوک ہوگا، کس طرح کے لوگ جنت میں اور کس طرح کے لوگ دوزخ کے سپرد کئے جائیں گے۔ جس شخص نے ان باتوں کو یاد رکھا۔۔۔۔ الخ۔ سے حضرت عمر کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے وہ باتیں جس کا تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی تھیں، ان کو ان لوگوں نے یاد رکھا جہنوں نے یاد رکھنے کی کوشش کی اور جن کو اللہ تعالیٰ نے یاد رکھنے کی توفیق عطا فرمائی اور وہ لوگ ان باتوں کو بھول گئے جہنوں نے یاد رکھا جہنوں نے یاد رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ حاصل یہ کہ بعض لوگوں کو وہ پوری باتیں یاد ہیں اور بعض لوگ ان کو بھول گئے ہیں۔
5605
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تعالى كتب كتابا قبل أن يخلق الخلق : إن رحمتي سبقت غضبي فهو مكتوب عنده فوق العرش . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق یعنی زمین آسمان کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب لکھی اس میں یہ درج ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے اور وہ کتاب یا مذکورہ عبارت اللہ تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر لکھی ہوئی موجود ہے (بخاری ومسلم )
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کو تمام خلائق سے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ اس کے مندرجات اللہ تعالیٰ کا ایسا راز ہیں جن کو کسی پر کھولا نہیں گیا ہے اور نہ کسی کے علم و ادراک کو اس قابل بنایا گیا ہے کہ اس کتاب میں لکھی ہوئی باتوں کو جان اور سمجھ سکے۔ تورپشتی نے لکھا ہے کہ احتمال ہے کہ اس کتاب سے مراد لوح محفوظ ہو اور آنحضرت ﷺ کے اس پاک ارشاد فہو مکتوب عندہ کے معنی یہ ہوں کہ مذکورہ عبارت لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ نہ ہوبل کہ قضا یعنی فیصلہ الٰہی ہو جس کو حق تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے، بہرحال دونوں صورتوں میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد عندہ فوق العرش میں یہ آگاہی ہے کہ وہ کتاب لکھی گئی اور تمام خلائق کے احاطہ ادراک سے ماوراء رکھی گئی ہیں کہ اس کے مندرجات تک کسی کا علم وفہم نہیں پہنچ سکتا۔ رحمت الٰہی کے غضب الہٰی پر سبقت لے جانے کے معنی یہ ہیں، رحمت کے آثار و مظاہر بہت زیادہ ہیں کہ کیا مؤمن کیا کافر اور کیا متقی کیا گنہ گار سب ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے زیر سایہ ہیں جب کہ اس کا غضب بہت کم ظاہر ہوتا ہے اور کبھی کبھی اور کوئی ہی اس کا مورد بنتے ہیں، چناچہ قرآن مجید میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان عذابی اصیب بہ من اشاء ور حمتی وسعت کل شیء۔ میں اپنے عذاب میں ان ہی لوگوں کو مبتلا کرتا ہوں جن کو چاہتا ہوں لیکن میری رحمت نے ہر چیز کو اپنے دامن میں لے رکھا ہے۔
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کو تمام خلائق سے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ اس کے مندرجات اللہ تعالیٰ کا ایسا راز ہیں جن کو کسی پر کھولا نہیں گیا ہے اور نہ کسی کے علم و ادراک کو اس قابل بنایا گیا ہے کہ اس کتاب میں لکھی ہوئی باتوں کو جان اور سمجھ سکے۔ تورپشتی نے لکھا ہے کہ احتمال ہے کہ اس کتاب سے مراد لوح محفوظ ہو اور آنحضرت ﷺ کے اس پاک ارشاد فہو مکتوب عندہ کے معنی یہ ہوں کہ مذکورہ عبارت لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ نہ ہوبل کہ قضا یعنی فیصلہ الٰہی ہو جس کو حق تعالیٰ نے جاری فرمایا ہے، بہرحال دونوں صورتوں میں آنحضرت ﷺ کے ارشاد عندہ فوق العرش میں یہ آگاہی ہے کہ وہ کتاب لکھی گئی اور تمام خلائق کے احاطہ ادراک سے ماوراء رکھی گئی ہیں کہ اس کے مندرجات تک کسی کا علم وفہم نہیں پہنچ سکتا۔ رحمت الٰہی کے غضب الہٰی پر سبقت لے جانے کے معنی یہ ہیں، رحمت کے آثار و مظاہر بہت زیادہ ہیں کہ کیا مؤمن کیا کافر اور کیا متقی کیا گنہ گار سب ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے زیر سایہ ہیں جب کہ اس کا غضب بہت کم ظاہر ہوتا ہے اور کبھی کبھی اور کوئی ہی اس کا مورد بنتے ہیں، چناچہ قرآن مجید میں خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان عذابی اصیب بہ من اشاء ور حمتی وسعت کل شیء۔ میں اپنے عذاب میں ان ہی لوگوں کو مبتلا کرتا ہوں جن کو چاہتا ہوں لیکن میری رحمت نے ہر چیز کو اپنے دامن میں لے رکھا ہے۔
5606
Mishkaat Shareefوعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خلقت الملائكة من نور وخلق الجان من مارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم . رواه مسلم
اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا گیا ہے، جس میں دھواں ملا ہوتا ہے اور آدم (علیہ السلام) کو اس چیز سے پیدا کیا گیا ہے جو تمہیں بتادی گئی ہے (مسلم)
تشریح
قاموس میں لکھا ہے کہ نور کے معنی یا تو روشنی کے ہیں یا روشنی سے پھوٹنے والی شعاع کے ہیں بہرحال یہاں حدیث میں نور سے مراد اصل روشنی وہ جوہر ہے جس سے روشنی وجود میں آتی ہے پس فرشتوں کی تخلیق اسی جوہر روشنی سی ہوئی ہے لفظ جان کے معنی یا تو جن یا جنات کے ہیں یا اس لفظ سے مراد جنات کی وہ اصل (یعنی ان کا باپ) ہے جس سے جنات کی نسل چلی ہے جسے انسان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو تمہیں بتادی گئی ہے سے قرآن کریم کے ان الفاظ وخلقہ من تراب (اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا) کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے بعض روایتوں میں کچھ دوسری چیزوں کے جوہر تخلیق کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے ابن عسا کرنے حضرت ابوسعید (رض) سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ کھجور انار اور انگور کو آدم کی مٹی کے فضلہ سے پیدا کیا گیا ہے طبرانی نے حضرت ابوامامہ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حورعین زعفران سے پیدا کی گئی ہے جنات و انسان کی تین تخلیقی اقسام حکیم ابن ابی الدنیا ابوشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت ابودرداء سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو تین طرح سے پیدا کیا ہے ان کی ایک قسم وہ ہے جس کو سانپ وبچھو اور حشرات الارض کی صورت دی گئی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو فضاء میں ہوا کی مانند ہے اور تیسری قسم کے جنات وہ ہیں جن کو انسان کی طرح خیروشرکا مکلف قرار دیا ہے گیا ہے اور ان کو حساب ومواخذہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی تین قسم کا پیدا کیا ہے، ایک قسم تو وہ ہے جو چوپاؤں کے مانند ہے دوسری قسم کے انسان وہ ہیں جن کے جسم وبدن اور شکل و صورت تو بنی آدم (آدمیوں) کی سی ہے لیکن ان کی ارواح گویا شیاطین کی ارواح ہیں اور تیسری قسم کے انسان وہ ہیں جو جسم وبدن اور روح دونوں اعتبار سے انسانیت و آدمیت کا پیکر ہیں اور جو قیامت کے دن پروردگار کے سایہ رحمت میں ہوں گے۔
تشریح
قاموس میں لکھا ہے کہ نور کے معنی یا تو روشنی کے ہیں یا روشنی سے پھوٹنے والی شعاع کے ہیں بہرحال یہاں حدیث میں نور سے مراد اصل روشنی وہ جوہر ہے جس سے روشنی وجود میں آتی ہے پس فرشتوں کی تخلیق اسی جوہر روشنی سی ہوئی ہے لفظ جان کے معنی یا تو جن یا جنات کے ہیں یا اس لفظ سے مراد جنات کی وہ اصل (یعنی ان کا باپ) ہے جس سے جنات کی نسل چلی ہے جسے انسان کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو تمہیں بتادی گئی ہے سے قرآن کریم کے ان الفاظ وخلقہ من تراب (اور آدم کو مٹی سے پیدا کیا) کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے بعض روایتوں میں کچھ دوسری چیزوں کے جوہر تخلیق کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے ابن عسا کرنے حضرت ابوسعید (رض) سے یہ مرفوع روایت نقل کی ہے کہ کھجور انار اور انگور کو آدم کی مٹی کے فضلہ سے پیدا کیا گیا ہے طبرانی نے حضرت ابوامامہ سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حورعین زعفران سے پیدا کی گئی ہے جنات و انسان کی تین تخلیقی اقسام حکیم ابن ابی الدنیا ابوشیخ اور ابن مردویہ نے حضرت ابودرداء سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو تین طرح سے پیدا کیا ہے ان کی ایک قسم وہ ہے جس کو سانپ وبچھو اور حشرات الارض کی صورت دی گئی ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو فضاء میں ہوا کی مانند ہے اور تیسری قسم کے جنات وہ ہیں جن کو انسان کی طرح خیروشرکا مکلف قرار دیا ہے گیا ہے اور ان کو حساب ومواخذہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی تین قسم کا پیدا کیا ہے، ایک قسم تو وہ ہے جو چوپاؤں کے مانند ہے دوسری قسم کے انسان وہ ہیں جن کے جسم وبدن اور شکل و صورت تو بنی آدم (آدمیوں) کی سی ہے لیکن ان کی ارواح گویا شیاطین کی ارواح ہیں اور تیسری قسم کے انسان وہ ہیں جو جسم وبدن اور روح دونوں اعتبار سے انسانیت و آدمیت کا پیکر ہیں اور جو قیامت کے دن پروردگار کے سایہ رحمت میں ہوں گے۔