Mishkaat Shareef
143. آداب کا بیان
مشكاة المصابيح
4525
Mishkaat Shareefادب کے معنی ہیں وہ قول و فعل جس کو اچھا اور قابل تعریف کہا جائے یا ادب کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کو درستی و اچھائی کے ساتھ اچھے موقع پر کہا جائے اور ہر کام کو احتیاط اور دور اندیشی کے ساتھ انجام دیا جائے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ادب کا مطلب یہ ہے کہ نیکی، بھلائی کی راہ کو اختیار کیا جائے اور گناہ و برائی کے راستہ سے اجتناب کیا جائے۔ بعض حضرات کے نزدیک ادب کے معنی یہ ہیں کہ اپنے بڑے بزرگ کی عزت و توقیر کی جائے اور اپنے سے چھوٹے کے ساتھ شفقت و محبت اور نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ ادب اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے چونکہ انسانی زندگی اور تہذیب و معاشرت کے مختلف پہلوؤں سے متعلق احادیث نقل کی جائے گی۔
4526
Mishkaat Shareefسلام کے معنی ہیں نقائص و عیوب سے برأت و نجات پانا۔ سلام اللہ تعالیٰ کا ایک اسم پاک ہے جس کے معنی ہیں وہ ذات جو ہر عیب و آفت اور تغیر و فنا سے پاک اور محفوظ ہے۔ سلام اسلامی تہذیب و معاشرت کا ایک خاص رکن ہے اس کے لئے جو الفاظ مقرر کئے گئے وہ السلام علیک ہے اس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تیرے حال سے واقف ہے لہذا غفلت اختیار نہ کر، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسم پاک کا تجھ پر سایہ ہے یعنی اللہ کی حفاظت و نگہبانی میں ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے۔ اللہ معک۔ یعنی اللہ تیرے ساتھ ہے اکثر علماء کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ تجھ پر سلامتی ہو یعنی تو مجھ سے سلامتی میں ہے اور مجھ کو بھی اپنے سے سلامتی میں رکھ۔ اس صورت میں سلام سلم سے مشتق ہوگا جس کے معنی مصالحت کے ہیں اور اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ تو مجھ سے حفظ وامان میں رہ اور مجھ کو بھی حفظ وامان میں رکھ۔ منقول ہے کہ سلام کرنے کا طریقہ اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ میں مشروع ہوا تھا اور اس کا مقصد ایک ایسی علامت کو رائج کرنا تھا جس کے ذریعہ مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز کیا جاسکے تاکہ ایک مسلمان، دوسرے مسلمان سے تعرض نہ کرے گویا اس کلمہ کو اپنی زبان سے ادا کرنے والا اس بات کا اعلان کرتا تھا کہ میں مسلمان ہوں اور پھر یہ طریقہ مستقل طور پر مشروع قرار پایا۔
4527
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلق الله آدم على صورته طوله ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم على أولئك النفر وهم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فإنها تحيتك وتحية ذريتك فذهب فقال السلام عليكم فقالوا السلام عليك ورحمة الله قال فزادوه ورحمة الله . قال فكل من يدخل الجنة على صورة آدم وطوله ستون ذراعا فلم يزل الخلق ينقص بعده حتى الآن . ( متفق عليه )
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا، ان کی لمبائی ساٹھ گز کی تھی جب اللہ نے ان کو بنایا تو ان سے فرمایا جاؤ اور اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جماعت فرشتوں کی تھی جو وہاں بیٹھی ہوئی تھی پھر سنو کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتی ہے وہ جو جواب دے گا وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا جواب ہے۔ چناچہ حضرت آدم اس حکم الٰہی کی تعمیل میں فرشتوں کی اس جماعت کے پاس گئے اور کہا کہ السلام علیکم فرشتوں نے جواب دیا۔ السلام علیک و (رح) (یعنی تم پر اللہ کی رحمت نازل ہو) آنحضرت نے فرمایا کہ گویا آدم کے سلام کے جواب میں ورحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا پھر آپ نے فرمایا کہ پس جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ آدم کی صورت پر ہوگا بایں طور پر کہ اس کی لمبائی ساٹھ گز کی ہوگی یعنی جنت میں جانے والے حضرت آدم کے قد کی مذکورہ بلندی اور ان کے حسن و جمال کے ساتھ وہاں داخل ہوں گے۔ پھر حضرت آدم کے بعد لوگوں کی ساخت برابر کم ہوتی رہی یہاں تک کہ موجودہ مقدار کو پہنچی۔ (بخاری، مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا۔ اس ارشاد گرامی کے معنی میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی احادیث صفات میں سے ہے جس کے حقیقی مفہوم و مطلب تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لئے اس بارے میں کوئی تاویل و توجہیہ کرنے کے بجائے سکوت ہی بہتر ہے جیسا کہ اس قسم کے ان اقوال و ارشادات کے بارے میں سکوت اختیار کیا جاتا ہے جو متشابہات کہلاتے ہیں علماء سلف اسی قول کی طرف مائل ہیں جب کہ بعض دوسرے حضرات اس ارشاد گرامی کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں جن سے مشہور تاویل یہ ہے کہ فلاں معاملہ کی صورت مسئلہ یہ ہے یا صورت حال یوں ہے ظاہر ہے کہ جس طرح کسی مسئلہ یا حال کی کوئی ظاہر صورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ صورت کا لفظ استعمال کر کے حقیقت میں اس مسئلہ یا حال کی صفت و کیفیت مراد ہوتی ہے اس طرح یہاں اللہ کی صورت کا لفظ سے مراد اللہ کی صفت جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صفت پر بنایا اور ان کو صفات کے ساتھ موصوف کیا جو صفات کریمہ باری تعالیٰ کا پر تو ہے چناچہ اللہ نے ان کو، حیّ ، عالم، قادر، مرید، متکلم، سمیع اور بصیر بنایا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف، شرف و عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ جیسا کہ روح اللہ اور بیت اللہ میں روح اور بیت کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لطیف و جمیل صورت پر پیدا کیا جو اسرار و لطائف پر مشتمل ہے اور جس کو اس نے اپنی قدرت کاملہ کے ذریعہ اپنے پاس سے عطا کیا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی ضمیر حضرت آدم کی طرف راجع ہے یعنی اللہ نے آدم کو انہی کی صورت پر بنایا مطلب یہ ہے کہ وہ ابتداء آفرینش سے ہی شکل پر تھے دوسرے انسانوں کی طرح ان کی تخلیق اس تدریجی طور پر نہیں ہوئی تھی کہ پہلے وہ نطفہ تھے پھر مضغہ ہوئے پھر جنین، پھر طفل، پھر صبی اور پھر پورے مرد ہوئے بلکہ وہ ابتداء ہی میں تمام اعضاء وجوارح، کامل شکل و صورت اور ساٹھ گز کے قد کے پورے انسان بنائے گئے تھے لہذا اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا سے مراد آدم کی تخلیق و پیدائش کی حقیقت کو واضح کرنا ہے اور چونکہ دیگر صفات کے برخلاف قد کی لمبائی ایک غیر معروف چیز تھی اس لئے اس کو خاص طور پر ذکر کیا اسی طرح چونکہ لمبائی پر چوڑائی بھی قیاس کی جاسکتی ہے اور اجمالی طور پر اس کا تصور ذہن میں آسکتا ہے لہذا چوڑائی کو ذکر نہیں کیا۔ ورحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا اس کے ذریعہ سلام کے جواب کے سلسلے میں ایک تہذیب و شائستگی اور ادب فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا چناچہ افضل طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص السلام علیک کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام وحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے اسی طرح اگر کوئی السلام علیک ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے ایک روایت میں ورحمۃ اللہ کے بعد ومغفرۃ کا لفظ بھی منقول ہے حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام کے جواب میں وعلیک السلام کے بجائے السلام علیک کہنا بھی درست ہے کیونکہ معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک افضل یہی ہے کہ جواب میں وعلیک السلام یا وعلیکم السلام ہی کہا جائے رہی یہ بات کہ فرشتوں نے حضرت آدم کے سلام کے جواب میں وعلیک کے بجائے السلام علیک کیوں کہا تو ہوسکتا ہے کہ ملائکہ نے بھی یہ چاہا ہوگا کہ سلام کرنے میں وہ خود ابتداء کریں، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب دو آدمی ملتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سلام میں ابتداء کرنا چاہتا ہے تو دونوں ہی ایک دوسرے سے السلام علیک یا السلام علیک یا السلام علیکم کہتے ہیں لیکن یہ بات واضح رہے کہ جواب کے درست و صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جواب سلام کے بعد واقع ہو نہ کہ دونوں ایک ساتھ واقع ہوں جیسا کہ فاستمع مایحیونک سے واضح ہوتا ہے چناچہ فاسمتع میں حرف فاتعقیب کے لئے ہے جو مذکورہ وضاحت کی دلیل ہے عام طور پر لوگ اس مسئلہ سے بہت غافل ہیں اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر دو شخص ملیں اور دونوں ایک ہی ساتھ السلام علیکم کہیں تو دونوں میں سے ہر ایک پر جواب دینا واجب ہوگا۔ حدیث کا آخری جملہ، تقدیم و تاخیر، پر دلالت کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم کا قد ساٹھ گز تھا ان کے بعد لوگوں کے قد بتدریج کوتاہ ہوتے گئے پھر جنت میں داخل ہوں گے تو سب کے قد دراز ہوجائیں گے جیسا کہ حضرت آدم کا قد تھا۔
تشریح
اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا۔ اس ارشاد گرامی کے معنی میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں بعض حضرات تو یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی احادیث صفات میں سے ہے جس کے حقیقی مفہوم و مطلب تک رسائی ممکن نہیں ہے اس لئے اس بارے میں کوئی تاویل و توجہیہ کرنے کے بجائے سکوت ہی بہتر ہے جیسا کہ اس قسم کے ان اقوال و ارشادات کے بارے میں سکوت اختیار کیا جاتا ہے جو متشابہات کہلاتے ہیں علماء سلف اسی قول کی طرف مائل ہیں جب کہ بعض دوسرے حضرات اس ارشاد گرامی کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں جن سے مشہور تاویل یہ ہے کہ فلاں معاملہ کی صورت مسئلہ یہ ہے یا صورت حال یوں ہے ظاہر ہے کہ جس طرح کسی مسئلہ یا حال کی کوئی ظاہر صورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ صورت کا لفظ استعمال کر کے حقیقت میں اس مسئلہ یا حال کی صفت و کیفیت مراد ہوتی ہے اس طرح یہاں اللہ کی صورت کا لفظ سے مراد اللہ کی صفت جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صفت پر بنایا اور ان کو صفات کے ساتھ موصوف کیا جو صفات کریمہ باری تعالیٰ کا پر تو ہے چناچہ اللہ نے ان کو، حیّ ، عالم، قادر، مرید، متکلم، سمیع اور بصیر بنایا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف، شرف و عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ جیسا کہ روح اللہ اور بیت اللہ میں روح اور بیت کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لطیف و جمیل صورت پر پیدا کیا جو اسرار و لطائف پر مشتمل ہے اور جس کو اس نے اپنی قدرت کاملہ کے ذریعہ اپنے پاس سے عطا کیا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ صورتہ کی ضمیر حضرت آدم کی طرف راجع ہے یعنی اللہ نے آدم کو انہی کی صورت پر بنایا مطلب یہ ہے کہ وہ ابتداء آفرینش سے ہی شکل پر تھے دوسرے انسانوں کی طرح ان کی تخلیق اس تدریجی طور پر نہیں ہوئی تھی کہ پہلے وہ نطفہ تھے پھر مضغہ ہوئے پھر جنین، پھر طفل، پھر صبی اور پھر پورے مرد ہوئے بلکہ وہ ابتداء ہی میں تمام اعضاء وجوارح، کامل شکل و صورت اور ساٹھ گز کے قد کے پورے انسان بنائے گئے تھے لہذا اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا سے مراد آدم کی تخلیق و پیدائش کی حقیقت کو واضح کرنا ہے اور چونکہ دیگر صفات کے برخلاف قد کی لمبائی ایک غیر معروف چیز تھی اس لئے اس کو خاص طور پر ذکر کیا اسی طرح چونکہ لمبائی پر چوڑائی بھی قیاس کی جاسکتی ہے اور اجمالی طور پر اس کا تصور ذہن میں آسکتا ہے لہذا چوڑائی کو ذکر نہیں کیا۔ ورحمۃ اللہ کا لفظ فرشتوں نے زیادہ کیا اس کے ذریعہ سلام کے جواب کے سلسلے میں ایک تہذیب و شائستگی اور ادب فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا چناچہ افضل طریقہ یہی ہے کہ اگر کوئی شخص السلام علیک کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام وحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے اسی طرح اگر کوئی السلام علیک ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا جائے ایک روایت میں ورحمۃ اللہ کے بعد ومغفرۃ کا لفظ بھی منقول ہے حدیث سے معلوم ہوا کہ سلام کے جواب میں وعلیک السلام کے بجائے السلام علیک کہنا بھی درست ہے کیونکہ معنی کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک افضل یہی ہے کہ جواب میں وعلیک السلام یا وعلیکم السلام ہی کہا جائے رہی یہ بات کہ فرشتوں نے حضرت آدم کے سلام کے جواب میں وعلیک کے بجائے السلام علیک کیوں کہا تو ہوسکتا ہے کہ ملائکہ نے بھی یہ چاہا ہوگا کہ سلام کرنے میں وہ خود ابتداء کریں، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب دو آدمی ملتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک سلام میں ابتداء کرنا چاہتا ہے تو دونوں ہی ایک دوسرے سے السلام علیک یا السلام علیک یا السلام علیکم کہتے ہیں لیکن یہ بات واضح رہے کہ جواب کے درست و صحیح ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جواب سلام کے بعد واقع ہو نہ کہ دونوں ایک ساتھ واقع ہوں جیسا کہ فاستمع مایحیونک سے واضح ہوتا ہے چناچہ فاسمتع میں حرف فاتعقیب کے لئے ہے جو مذکورہ وضاحت کی دلیل ہے عام طور پر لوگ اس مسئلہ سے بہت غافل ہیں اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر دو شخص ملیں اور دونوں ایک ہی ساتھ السلام علیکم کہیں تو دونوں میں سے ہر ایک پر جواب دینا واجب ہوگا۔ حدیث کا آخری جملہ، تقدیم و تاخیر، پر دلالت کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم کا قد ساٹھ گز تھا ان کے بعد لوگوں کے قد بتدریج کوتاہ ہوتے گئے پھر جنت میں داخل ہوں گے تو سب کے قد دراز ہوجائیں گے جیسا کہ حضرت آدم کا قد تھا۔
4528
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمرو أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الإسلام خير ؟ قال تطعم الطعام وتقرأ السلام على من عرفت ومن لم تعرف . و
اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم سے دریافت کیا کہ اہل اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے آپ نے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور ہر شناسا وناشناسا کو سلام کرنا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اور دو اوصاف کی تخصیص، سائل کے حال کے مناسبت سے ہے لہذا مختلف اوقات میں مختلف اعمال کو افضل فرمانا کہ کسی موقع پر کسی عمل کو افضل فرمایا اور کسی موقع پر کسی کو، سائل کے احوال کے اختلاف و تفاوت پر مبنی ہوتا تھا دریافت کرنے والا جس مزاج و احوال کا آدمی ہوتا تھا اور اس کا رجحان جس نیک خصلت کی ضد کی طرف ہوتا اس کے سامنے اسی نیک خصلت کو افضل قرار دیا جاتا تھا مثلا کسی شخص نے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ اور آپ جانتے تھے کہ اس شخص کے مزاج میں بخل ہے تو اس سے فرماتے کہ کھانا کھلانا، سب سے بہتر ہے لہذا یہاں جس شخص نے سوال کیا تھا آپ نے اس کے احوال کے مناسبت سے اس سے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور ہر آشنا و ناآشنا کو سلام کرنا بہتر عمل ہے۔ لفظ تقری (تا کے پیش کے ساتھ) اقراء سے مشتق ہے اور اس کے معنی پڑھوانے کے ہیں یہ لفظ تاء کے زبر کے ساتھ منقول ہے جو قرأت سے مشتق ہے اور جس کے معنی پڑھنے کے ہیں اگر موخر الذکر صورت میں مفہوم زیادہ بہتر طور پر واضح نہیں ہوتا لہذا اس کی توجہیہ یہ کی جائے گی کہ سلام کرنے والا چونکہ مسلم علیہ (جس کو سلام کیا گیا ہے) کے جواب دینے کے باعث ہوتا ہے اس لئے گوایا وہ اس کی زبان سے وہ کلمہ پڑھواتا ہے جس کا تعلق سلام اور اس کے جواب سے ہے۔ اس حدیث یہ بات واضح ہوئی کہ سلام کا تعلق شناسائی کے حقوق سے نہیں ہے بلکہ یہ ان حقوق میں سے ہے جو اسلام نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے تئیں عائد کئے ہیں اس طرح مریض کی عیادت اور اس جیسے دوسرے امور بھی اسلامی حقوق و واجبات سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے واضح ہوگا۔
تشریح
اور دو اوصاف کی تخصیص، سائل کے حال کے مناسبت سے ہے لہذا مختلف اوقات میں مختلف اعمال کو افضل فرمانا کہ کسی موقع پر کسی عمل کو افضل فرمایا اور کسی موقع پر کسی کو، سائل کے احوال کے اختلاف و تفاوت پر مبنی ہوتا تھا دریافت کرنے والا جس مزاج و احوال کا آدمی ہوتا تھا اور اس کا رجحان جس نیک خصلت کی ضد کی طرف ہوتا اس کے سامنے اسی نیک خصلت کو افضل قرار دیا جاتا تھا مثلا کسی شخص نے پوچھا کہ کون سا عمل افضل ہے ؟ اور آپ جانتے تھے کہ اس شخص کے مزاج میں بخل ہے تو اس سے فرماتے کہ کھانا کھلانا، سب سے بہتر ہے لہذا یہاں جس شخص نے سوال کیا تھا آپ نے اس کے احوال کے مناسبت سے اس سے فرمایا کہ کھانا کھلانا اور ہر آشنا و ناآشنا کو سلام کرنا بہتر عمل ہے۔ لفظ تقری (تا کے پیش کے ساتھ) اقراء سے مشتق ہے اور اس کے معنی پڑھوانے کے ہیں یہ لفظ تاء کے زبر کے ساتھ منقول ہے جو قرأت سے مشتق ہے اور جس کے معنی پڑھنے کے ہیں اگر موخر الذکر صورت میں مفہوم زیادہ بہتر طور پر واضح نہیں ہوتا لہذا اس کی توجہیہ یہ کی جائے گی کہ سلام کرنے والا چونکہ مسلم علیہ (جس کو سلام کیا گیا ہے) کے جواب دینے کے باعث ہوتا ہے اس لئے گوایا وہ اس کی زبان سے وہ کلمہ پڑھواتا ہے جس کا تعلق سلام اور اس کے جواب سے ہے۔ اس حدیث یہ بات واضح ہوئی کہ سلام کا تعلق شناسائی کے حقوق سے نہیں ہے بلکہ یہ ان حقوق میں سے ہے جو اسلام نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے تئیں عائد کئے ہیں اس طرح مریض کی عیادت اور اس جیسے دوسرے امور بھی اسلامی حقوق و واجبات سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ آگے آنے والی حدیث سے واضح ہوگا۔
4529
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمؤمن على المؤمن ست خصال يعوده إذا مرض ويشهده إذا مات ويجيبه إذا دعاه ويسلم عليه إذا لقيه ويشمته إذا عطس وينصح له إذا غاب أو شهد لم أجده في الصحيحين ولا في كتاب الحميدي ولكن ذكره صاحب الجامع برواية النسائي .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان پر مسلمان کے چھ حق ہیں (ایک تو یہ ہے کہ) جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو دوسرا مسلمان اس کی عیادت کرے دوسرے یہ کہ جب کوئی مسلمان مرجائے تو دوسرا مسلمان اس کی نماز جنازہ میں شریک ہو تیسرے یہ کہ جب کوئی مسلمان کھانے پر بلائے تو بلایا جانے والا مسلمان اس کی دعوت کو قبول کرے (بشرطیکہ کوئی شرعی عذر مانع نہ ہو۔ جیسے کہ اس دعوت میں باجا گا جا وغیرہ ہو یا اس دعوت کا تعلق اظہار فخر و ریا کاری سے ہو۔ چوتھے یہ کہ جب کوئی مسلمان ملے تو اس کو سلام کرے پانچویں یہ کہ جب کوئی مسلمان چھینکے اور الحمدللہ کہے تو اس کا جواب دے یعنی یرحمک اللہ کہے اور اگر چھینکنے والا الحمدللہ نہ کہے تو وہ جواب کا مستحق نہیں ہوگا۔ اور چھٹے یہ کہ ایک مسلمان کی ہر حالت میں خیر خواہی کرے خواہ وہ حاضر ہو یا غائب اور مشکوۃ کے مولف کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو نہ تو صحیحین (بخاری و مسلم) میں پایا ہے اور حمیدی کی کتاب میں، البتہ اس کو صاحب جامع الاصول نے نقل کیا ہے۔
تشریح
خیر خواہی کرے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ ہر حالت میں ایک دوسرے کے خیر خواہ و ہمدرد ہیں جو مسلمان سامنے ہے اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کی جائے اور جو نظروں سے دور ہے اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کریں، یہ طرز عمل اختیار نہ کرنا چاہیے کہ جب کسی مسلمان کے سامنے آئیں تو اس کے ساتھ تملق یعنی خوشامد چاپلوسی کا رویہ اپنائیں اور جب وہ سامنے نہ ہو تو غیبت کریں یہ خالص منافقانہ رویہ ہے اور منافقوں کی خاصیت ہے۔
تشریح
خیر خواہی کرے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ وہ ہر حالت میں ایک دوسرے کے خیر خواہ و ہمدرد ہیں جو مسلمان سامنے ہے اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کی جائے اور جو نظروں سے دور ہے اس کے ساتھ بھی خیر خواہی کریں، یہ طرز عمل اختیار نہ کرنا چاہیے کہ جب کسی مسلمان کے سامنے آئیں تو اس کے ساتھ تملق یعنی خوشامد چاپلوسی کا رویہ اپنائیں اور جب وہ سامنے نہ ہو تو غیبت کریں یہ خالص منافقانہ رویہ ہے اور منافقوں کی خاصیت ہے۔
4530
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أو لا أدلكم على شيء إذا فعلمتموه تحاببتم ؟ أفشوا السلام بينكم رواه مسلم ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تم جب تک کہ ایمان نہ لاؤ جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے اور تمہارا ایمان اس وقت کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم اللہ کی رضاء خوشنودی کے لئے آپس میں تعلق و دوستی قائم نہ کرو۔ نیز آپ نے فرمایا اور کیا میں تمہیں ایک ایسا ذریعہ نہ بتادوں جس کو تم اختیار کرو تو آپس میں دوستی کا تعلق قائم ہوجائے اور وہ ذریعہ یہ ہے کہ تم آپس میں سلام کا چلن عام کرو یعنی آشنا و ناآشنا سب کو سلام کرو۔ (مسلم )
تشریح
مشکوۃ کے ان صحیح و معتمد نسخوں میں کہ جو اونچے درجہ کے مشائخ کے سامنے پڑھے گئے ہیں لفظ ولا تو منوا نون کے حذف کے ساتھ ہے اور یہ حذف نون حتی تومنوا کے مجانست و مقارنت کی وجہ سے ہے تاہم بعض نسخوں میں یہ لفظ نون کے ساتھ یعنی ولا تو منون منقول ہے اور یہ نحوی قاعدہ کے مطابق ہے۔
تشریح
مشکوۃ کے ان صحیح و معتمد نسخوں میں کہ جو اونچے درجہ کے مشائخ کے سامنے پڑھے گئے ہیں لفظ ولا تو منوا نون کے حذف کے ساتھ ہے اور یہ حذف نون حتی تومنوا کے مجانست و مقارنت کی وجہ سے ہے تاہم بعض نسخوں میں یہ لفظ نون کے ساتھ یعنی ولا تو منون منقول ہے اور یہ نحوی قاعدہ کے مطابق ہے۔
4531
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم الراكب على الماشي والماشي على القاعد والقليل على الكثير .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سواری پر ہو وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی زیادہ تعداد والے آدمیوں کو سلام کریں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جو شخص سواری پر ہو۔۔۔ الخ۔۔ یہ حکم اصل میں تواضع و انکساری کی طرف راغب کرنے کے لئے ہے کہ کیونکہ جو شخص سواری پر ہے اس کو گویا اللہ نے پیدل چلنے والے پر برتری و فوقیت عطا فرمائی ہے لہذا اس کو فروتنی ہی اختیار کرنی چاہیے اسی طرح جو لوگ کم تعداد میں ہوں اور وہ لوگ ایسے لوگوں کو ملیں جو تعداد میں ان سے زیادہ ہوں تو ان کو بھی چاہیے کہ تواضع و انکساری کی بنا پر اور اکثریت کے احترام کے پیش نظر سلام کرنے میں ابتداء کریں۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کچھ لوگوں سے ملے اور یہ چاہے کہ ان سب کو سلام کرنے کے بجائے ان میں سے چند کو سلام کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ سلام کا اصل مقصد آپس میں موانست و الفت کو فروغ دینا ہے جب کہ بعض دوسرے مخصوص لوگوں کو سلام کرنا گویا باقی لوگوں کو وحشت و اجنبیت میں مبتلا کرنا ہے اور یہ چیز اکثر اوقات نفرت و عداوت کا بھی سبب بن جاتی ہے۔ لیکن بازار اور شارع عام کا حکم اس سے الگ ہے کہ اگر بازار میں یا شارع عام پر بہت سے لوگ آ رہے ہوں تو وہاں بعض لوگوں کو سلام کرنا کافی ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص بازار میں شارع عام پر ملنے والے ہر شخص کو سلام کرنے لگے تو وہ اسی کام کا ہو کر رہ جائے گا اور اپنے امور کی انجام دہی سے باز رہے گا۔
تشریح
جو شخص سواری پر ہو۔۔۔ الخ۔۔ یہ حکم اصل میں تواضع و انکساری کی طرف راغب کرنے کے لئے ہے کہ کیونکہ جو شخص سواری پر ہے اس کو گویا اللہ نے پیدل چلنے والے پر برتری و فوقیت عطا فرمائی ہے لہذا اس کو فروتنی ہی اختیار کرنی چاہیے اسی طرح جو لوگ کم تعداد میں ہوں اور وہ لوگ ایسے لوگوں کو ملیں جو تعداد میں ان سے زیادہ ہوں تو ان کو بھی چاہیے کہ تواضع و انکساری کی بنا پر اور اکثریت کے احترام کے پیش نظر سلام کرنے میں ابتداء کریں۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کچھ لوگوں سے ملے اور یہ چاہے کہ ان سب کو سلام کرنے کے بجائے ان میں سے چند کو سلام کرے تو یہ مکروہ ہے کیونکہ سلام کا اصل مقصد آپس میں موانست و الفت کو فروغ دینا ہے جب کہ بعض دوسرے مخصوص لوگوں کو سلام کرنا گویا باقی لوگوں کو وحشت و اجنبیت میں مبتلا کرنا ہے اور یہ چیز اکثر اوقات نفرت و عداوت کا بھی سبب بن جاتی ہے۔ لیکن بازار اور شارع عام کا حکم اس سے الگ ہے کہ اگر بازار میں یا شارع عام پر بہت سے لوگ آ رہے ہوں تو وہاں بعض لوگوں کو سلام کرنا کافی ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص بازار میں شارع عام پر ملنے والے ہر شخص کو سلام کرنے لگے تو وہ اسی کام کا ہو کر رہ جائے گا اور اپنے امور کی انجام دہی سے باز رہے گا۔
4532
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم الصغير على الكبير والمار على القاعد والقليل على الكثير . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا چھوٹا بڑے کو گزرنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں کو سلام کریں۔ (بخاری)
تشریح
علماء نے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ بالا حکم سرراہ ملاقات کے وقت کا ہے مثلا ایک شخص ادھر سے آ رہا ہے اور دوسرا ادھر سے جا رہا ہو اور دونوں آپس میں ملیں تو اس صورت کے لئے یہ حکم ہے کہ ان دونوں میں جو شخص چھوٹا ہو وہ بڑے کو سلام کرے لیکن وارد ہونے یعنی کسی کے پاس یا مجلس میں جانے کی صورت میں سلام کی ابتداء وارد کو کرنی چاہیے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اور خواہ وہ کم تعداد والے لوگ ہوں یا زیادہ تعداد والے لوگ۔
تشریح
علماء نے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ بالا حکم سرراہ ملاقات کے وقت کا ہے مثلا ایک شخص ادھر سے آ رہا ہے اور دوسرا ادھر سے جا رہا ہو اور دونوں آپس میں ملیں تو اس صورت کے لئے یہ حکم ہے کہ ان دونوں میں جو شخص چھوٹا ہو وہ بڑے کو سلام کرے لیکن وارد ہونے یعنی کسی کے پاس یا مجلس میں جانے کی صورت میں سلام کی ابتداء وارد کو کرنی چاہیے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا اور خواہ وہ کم تعداد والے لوگ ہوں یا زیادہ تعداد والے لوگ۔
4533
Mishkaat Shareefوعن أنس قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على غلمان فسلم عليهم .
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ کچھ لڑکوں کے پاس گزرے تو آپ نے ان کو سلام کیا۔
تشریح
آنحضرت کا یہ عمل مبارک کہ آپ نے بچوں کو سلام کیا درحقیقت آپ کے وصف تواضع و انکساری اور دنیا والوں کو تئیں کمال شفقت و محبت کا مظہر ہے۔
تشریح
آنحضرت کا یہ عمل مبارک کہ آپ نے بچوں کو سلام کیا درحقیقت آپ کے وصف تواضع و انکساری اور دنیا والوں کو تئیں کمال شفقت و محبت کا مظہر ہے۔
4534
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تبدؤوا اليهود ولا النصارى بالسلام وإذا لقيتم أحدهم في طريق فاضطروه إلى أضيقه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا یہودیوں اور عیسائیوں کو سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تم راستے میں ان میں سے کسی سے ملو تو ان کو تنگ ترین راستے پر چلے جانے پر مجبور کرو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم ان کو السلام علیکم نہ کہو کیونکہ سلام میں پہل کرنا درحقیقت اسلامی تہذیب کا بخشا ہوا ایک اعزاز ہے جس کے مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اسلامی تہذیب کے پیرو ہوں اور مسلمان ہیں اس اعزاز کا استحقاق ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوسکتا جو دین دشمن اور اللہ کے باغی ہیں اسی طرح ان باغیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلام اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ذریعہ الفت و محبت کے مراسم کو قائم کرنا بھی جائز نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے۔ آیت (لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ) ۔ ترجمہ۔ آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں۔ ہاں اگر وہ لوگ سلام میں خود پہل کریں اور السلام علیک یا السلام علیکم کہیں تو اس کے جواب میں صرف علیک یا علیکم کہہ دیا جائے اور علماء نے لکھا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ غیر مسلم کے جواب میں ھداک اللہ کہا جائے نیز بعض علماء نے لکھا ہے کہ کسی ضرورت و مجبوری کی بناء پر یہود و نصاری کے ساتھ سلام میں پہل کرنی جائز ہے اور یہی حکم ان مسلمانوں کا بھی ہے جو بدعت اور فسق میں مبتلا ہوں۔ اسلامی سلطنت میں رہنے والے کسی مسلمان نے کسی اجنبی کو سلام کیا اور پھر معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہے تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ اپنے سلام کو واپس کرنے کا مطالبہ کرے یعنی یوں کہے کہ اسرجعت سلامی میں اپنے سلام کو واپس کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری جو دین کے دشمن ہیں اور اپنے مکر و فریب کی طاقتوں کے ذریعہ اللہ کے جھنڈے کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں اس سلوک کے مستحق ہیں کہ جب وہ راستہ میں ملیں تو ان پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ یکسو ہو کر گزرنے پر مجبور ہوجائیں اور ان پر راستہ تنگ ہوجائے تاکہ اسلام کی عظمت و شوکت اور مسلمانوں کا دبدبہ ظاہر ہر۔ مشکوۃ کے بعض حواشی میں یہ مطلب لکھا ہے کہ ان کو یہ حکم دو کہ وہ ایک طرف ہوجائیں اور کنارے پر چلیں تاکہ راستے کا درمیانی حصہ مسلمانوں کی آمدورفت کے لئے مخصوص رہے۔
تشریح
سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تم ان کو السلام علیکم نہ کہو کیونکہ سلام میں پہل کرنا درحقیقت اسلامی تہذیب کا بخشا ہوا ایک اعزاز ہے جس کے مستحق وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اسلامی تہذیب کے پیرو ہوں اور مسلمان ہیں اس اعزاز کا استحقاق ان لوگوں کو حاصل نہیں ہوسکتا جو دین دشمن اور اللہ کے باغی ہیں اسی طرح ان باغیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلام اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ذریعہ الفت و محبت کے مراسم کو قائم کرنا بھی جائز نہیں ہیں کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے۔ آیت (لاتجد قوما یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ) ۔ ترجمہ۔ آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتے ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں۔ ہاں اگر وہ لوگ سلام میں خود پہل کریں اور السلام علیک یا السلام علیکم کہیں تو اس کے جواب میں صرف علیک یا علیکم کہہ دیا جائے اور علماء نے لکھا ہے کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ غیر مسلم کے جواب میں ھداک اللہ کہا جائے نیز بعض علماء نے لکھا ہے کہ کسی ضرورت و مجبوری کی بناء پر یہود و نصاری کے ساتھ سلام میں پہل کرنی جائز ہے اور یہی حکم ان مسلمانوں کا بھی ہے جو بدعت اور فسق میں مبتلا ہوں۔ اسلامی سلطنت میں رہنے والے کسی مسلمان نے کسی اجنبی کو سلام کیا اور پھر معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہے تو اس صورت میں مستحب یہ ہے کہ اپنے سلام کو واپس کرنے کا مطالبہ کرے یعنی یوں کہے کہ اسرجعت سلامی میں اپنے سلام کو واپس کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری جو دین کے دشمن ہیں اور اپنے مکر و فریب کی طاقتوں کے ذریعہ اللہ کے جھنڈے کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں اس سلوک کے مستحق ہیں کہ جب وہ راستہ میں ملیں تو ان پر اتنا دباؤ ڈالا جائے کہ وہ یکسو ہو کر گزرنے پر مجبور ہوجائیں اور ان پر راستہ تنگ ہوجائے تاکہ اسلام کی عظمت و شوکت اور مسلمانوں کا دبدبہ ظاہر ہر۔ مشکوۃ کے بعض حواشی میں یہ مطلب لکھا ہے کہ ان کو یہ حکم دو کہ وہ ایک طرف ہوجائیں اور کنارے پر چلیں تاکہ راستے کا درمیانی حصہ مسلمانوں کی آمدورفت کے لئے مخصوص رہے۔