Mishkaat Shareef
14. نماز قصر سے متعلقہ احادیث
مشكاة المصابيح
1305
Mishkaat Shareefمسافر جب اپنے گاؤں یا شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے تو اس پر قصر واجب ہے، پوری چار رکعت والی فرض نماز کی دو رکعتیں ہی پڑھنا واجب ہے اگر کوئی آدمی سفر کی حالت میں جب کہ اس پر قصر واجب ہے، پوری چار رکعتیں پڑھے گا تو گنہگار ہوگا اور دو واجب کو چھوڑنے والا ہوگا یعنی ایک واجب تو قصر کا ترک ہوگا اور دوسرے قعدہ اخیرہ کے بعد فورًا سلام پھیرنا، کیونکہ مسافر کے حق میں پہلا قعدہ ہی قعدہ اخیرہ ہوتا ہے اس کے بعد اسے فورا سلام پھیر دینا چاہیے اگر اس نے نہیں پھیرا بلکہ کھڑا ہوگیا اس طرح اس نے دوسرے واجب کو ترک کیا۔ اس موقع پر اتنی بات بھی جانتے چلئے کہ مسافر کے لئے قصر کے جواز میں کسی بھی عالم اور کسی بھی امام کا اختلاف نہیں ہے صرف اتنی بات ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک تو قصر واجب ہے لیکن امام شافعی کے ہاں قصر اولیٰ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مسافر قصر نہیں کرے گا تو وہ امام صاحب کے مسلک کی رو سے گنہگار ہوگا، مگر حضرت شافعی کا مسلک اسے گنہگار نہیں قرار دے گا۔ بلکہ اولیٰ و افضل چیز کو ترک کرنے والا کہلائے گا۔ مسافت قصر قصر اتنی مسافت کے لئے واجب ہوتا ہے جو متوسط چال سے تین دن سے کم میں طے نہیں ہوسکتی۔ متوسط چال سے مراد آدمی یا اونٹ کی متوسط رفتا رہے تین دن کی مسافت ہے یہ مراد ہے کہ صبح سے دوپہر تک چلے نہ یہ کہ صبح سے شام تک، اسی لئے فقہاء نے موجودہ زمانے میں اس مسافت کا اندازہ اڑتالیس میل کیا ہے گویا اگر کوئی آدمی اڑتالیس میل (تقریباً ٧٨ کلومیٹر) کی مسافت کے لئے اپنے گھر سے سفر پر نکلے تو جیسا کہ او پر ذکر کیا گیا اپنے گاؤں یا شہر کی آبادی سے باہر نکلتے ہی اس پر قصر واجب ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی آدمی مسافت قصر (یعنی ٤٨ میل یا ٧٨ کلو میٹر) کو کسی تیز سواری مثلاً گھوڑے یا ریل وغیرہ کے ذریعے تین دن سے کم میں طے کرے تب بھی وہ مسافر سمجھا جائے گا اسے بھی قصر نماز پڑھنی چاہیے۔ مدت قصر مسافر کو اس وقت تک قصر کرنا چاہیے۔ جب تک کہ اپنے وطن اصلی نہ پہنچ جائے یا کسی مقام پر کم سے کم پندرہ دن ٹھہرنے کا قصد نہ کرے بشر طی کہ وہ مقام ٹھہرنے کے لائق ہو اگر کوئی آدمی دریا میں ٹھہرنے کی نیت کرے یا دارلحرب میں یا اسی طرح جنگل میں تو اس نیت کا کچھ اعتبار نہ ہوگا۔ ہاں خانہ بدوش لوگ اگر جنگل میں بھی پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کریں تو یہ نیت صحیح ہوجائے گی اس لئے کہ وہ جنگلوں میں ہی رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اگر کوئی آدمی اس مقدار مسافت کو قطع کرنے سے قبل کہ جس کا سفر میں اعتبار کیا گیا ہے کسی مقام پر ٹھہرنے کی یا اپنے وطن لوٹ جانے کی نیت کرے تو وہ مقیم ہوجائے گا۔ اگرچہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کی ہو اب یہ سمجھا جائے گا کہ اس نے سفر کے ارادے کو ختم کردیا ہے۔ قصر کے کچھ مسائل (١) مندرجہ ذیل صورتوں میں اگر کوئی مسافر مسافت سفر پوری کرنے کے بعد پندرہ دن سے بھی زیادہ ٹھہر جائے تو وہ مقیم نہ ہوگا اور اس پر قصر کرنا واجب رہے گا۔ (الف) ۔ پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ نہ ہو مگر کسی وجہ سے بلا قصد و ارادہ زیادہ ٹھہرنے کا اتفاق ہوجائے۔ (ب) ۔ کچھ نیت ہی نہ کی ہو، بلکہ امروز، فردا میں اس کا ارادہ وہاں سے چلے جانے کا ہو مگر وہ اسی پس و پیش میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہر جائے۔ (ج) ۔ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے مگر وہ مقام قابل سکونت نہ ہو۔ (د) پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے مگر دو مقام پر، بشرطیکہ ان دونوں مقامات میں اس قدر فاصلہ ہو کہ ایک مقام کی اذان کی آواز دوسرے مقام میں نہ جاسکتی ہوں، مثلا دس روز مکہ معظمہ میں رہنے کا ارادہ کرے اور پانچ روزمنی میں مکہ سے منیٰ تین میل کے فاصلے پر ہے اور اگر رات کو تو ایک مقام میں رہنے کی نیت کرے اور دن کو دوسرے مقام پر تو جس موضع میں رات کو ٹھہرنے کی نیت کرلی ہے وہ اس کا وطن اقامت ہوجائے گا وہاں اس کو قصر کی اجازت نہ ہوگی اب دوسرا مقام جہاں وہ دن کو رہتا ہے اگر اس پہلے مقام سے سفر کی مسافت پر ہے تو وہاں جانے سے مسافر ہوجائے گا ورنہ مقیم رہے گا اور اگر ایک مقام دوسرے مقام سے اس قدر قریب ہو کہ ایک جگہ کی اذان کی آواز دوسری جگہ جاسکتی ہے۔ تو وہ دونوں مقام ایک ہی سمجھے جائیں گے اور دونوں جگہ پندرہ دن ٹھہرنے کے ارادے سے مقیم ہوجائے گا۔ (٢) مقیم کی اقتداء مسافر کے پیچھے ہر حال میں درست ہے خواہ اداء نماز ہو یا قضا، مسافر امام جب دو رکعتیں پڑھ کے سلام پھیر دے تو مقیم مقتدی کو چاہیے کہ اٹھ کر اپنی نماز پوری کرلے اور اس میں قرأت نہ کرے بلکہ چپ کھڑا رہے اس لئے کہ وہ لاحق ہے اور قعدہ اولیٰ اس مقتدی پر بھی فرض ہوگا مسافر امام کے لئے مستحب ہے کہ سلام پھیرنے کے فوراً بعد مقتدیوں کو اپنے مسافر ہونے کی اطلاع یہ کہہ کر دے دے کہ میں مسافر ہوں، مقتدی اپنی نماز پوری کرلیں۔ مسافر بھی مقیم کی اقتداء کرسکتا ہے مگر وقت کے اندر، وقت کے بعد نہیں۔ اس لئے کہ مسافر جب مقیم کی اقتداء کرے گا تو امام کی اتباع میں چار رکعت یہ بھی پڑھے گا اور امام کا قعدہ اولیٰ نفل ہوگا اور اس کا فرض، امام کی تحریمہ قعدہ اولیٰ کے نفل ہونے کے ساتھ ہوگی اور مسافر مقتدی کی اس کی فرضیت کے ساتھ پس فرض نماز پڑھنے والے کی اقتداء نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے ہوئی اور یہ درست نہیں۔ مسافر فجر کی سنتوں کو ترک نہ کرے اور مغرب کی سنت کو بھی ترک کرنا بہتر نہیں ہے اور باقی اور سنتوں کے ترک کا اختیار ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اگر چل رہا ہو اور اطمینان نہ ہو تو نہ پڑھے ورنہ پڑھ لے۔ (علم الفقہ)
1306
Mishkaat Shareefعَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمصَلَّی الظُّھْرَ بِا لْمَدِ یْنَۃِ اَرْبَعًا وَّ صَلَّی الْعَصْرَ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ رَکْعَتَیْنِ ( صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذی الحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے سفر کا حال بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حج کے لئے مکہ کے سفر کا ارادہ فرمایا تو مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی پھر جب مدینہ سے نکلے اور ذوالحلیفہ پہنچے۔ تو وہاں قصر فرمایا اور عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ذوالحلیفہ ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے کہ جب مسافر شرعی اپنے شہر یا گاؤں کے مکانات سے باہر نکل جائے تو قصر نماز پڑھنے لگے۔
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے سفر کا حال بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حج کے لئے مکہ کے سفر کا ارادہ فرمایا تو مدینہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی پھر جب مدینہ سے نکلے اور ذوالحلیفہ پہنچے۔ تو وہاں قصر فرمایا اور عصر کی نماز دو رکعت پڑھی ذوالحلیفہ ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ منورہ سے تین کوس کے فاصلے پر واقع ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے کہ جب مسافر شرعی اپنے شہر یا گاؤں کے مکانات سے باہر نکل جائے تو قصر نماز پڑھنے لگے۔
1307
Mishkaat Shareefوَعَنْ حَا رِثَۃَبْنِ وَھْبِ نِ الْخُزَاعِیِّ صقَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَنَحْنُ اَکْثَرُ مَا کُنَّا قَطُّ وَاٰمَنَہُ بِمِنٰی رَّکْعَتَیْنِ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت حارثہ ابن وہب خزاعی (رض) فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے ہمیں منیٰ میں دو رکعتیں پڑھائیں اور اس موقعہ پر ہم اتنی تعداد میں تھے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھے اور امن کی حالت میں تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
یہ حجۃ الوداع کا ذکر ہے اس موقع پر چونکہ اسلام کی حقانیت و صداقت اکثر دلوں میں اپنا گھر کرچکی تھی اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی اس لئے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام اتنی زیادہ تعداد میں تھے اس سے پہلے کسی موقع پر نہ تھے۔ امن کی حالت میں تھے کا مطلب یہ ہے کہ کفار کے کسی حملے اور ان سے کسی جنگ وغیرہ کا کوئی خوف نہیں تھا۔ بلکہ بہت اطمینان اور سکون کی حالت میں تھے اس کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ قصر کی مشروعیت کفار کے فتنوں کے خوف پر موقوف نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سے ظاہری پر معلوم ہوتا ہے بلکہ سفر پر بہر صورت قصر کرنا چاہیے چناچہ اگلی حدیث میں اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
تشریح
یہ حجۃ الوداع کا ذکر ہے اس موقع پر چونکہ اسلام کی حقانیت و صداقت اکثر دلوں میں اپنا گھر کرچکی تھی اور مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی اس لئے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حجۃ الوداع کے موقع پر صحابہ کرام اتنی زیادہ تعداد میں تھے اس سے پہلے کسی موقع پر نہ تھے۔ امن کی حالت میں تھے کا مطلب یہ ہے کہ کفار کے کسی حملے اور ان سے کسی جنگ وغیرہ کا کوئی خوف نہیں تھا۔ بلکہ بہت اطمینان اور سکون کی حالت میں تھے اس کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ قصر کی مشروعیت کفار کے فتنوں کے خوف پر موقوف نہیں ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیت سے ظاہری پر معلوم ہوتا ہے بلکہ سفر پر بہر صورت قصر کرنا چاہیے چناچہ اگلی حدیث میں اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
1308
Mishkaat Shareefوَعَنْ یَّعْلَی بْنِ اُمَیَّۃَص قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَبْنِ الْخَطَّا بِصاِنَّمَا قَالَ اللّٰہُ اَنْ تَقْصُرُوْ مِنَ الصَّلٰوۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَکُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَقَدْ اَمِنَ النَّا سُ قَالَ عُمَرُ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْہُ فَسَاَ لْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمفَقَالَ صَدَ قَۃٌ تَصَدَّقَ اللّٰہُ بِھَاعَلَیْکُمْ فَاقْبَلُوْا صَدَقَتَہُ (رواہ مسلم)
اور حضرت یعلی ابن امیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق (رض) سے عرض کیا کہ اللہ جل شانہ کا ارشاد یہ ہے کہ کم نماز پڑھو (یعنی قصر کرو) اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ۔ تو اب جب کہ لوگ امن میں ہیں (اور کافروں کے ستانے کا خوف جاتا رہا ہے تو قصر کی کیا ضرورت ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا۔ جس پر تمہیں تعجب ہے اسی پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا چناچہ میں نے سر تاج دو عالم ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (نماز میں قصر) اللہ تعالیٰ کا ایک احسان ہے جو تم پر کیا گیا ہے لہٰذا تم اس کا صدقہ (یعنی احسان) قبول کرو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مسافر کے لئے نماز میں قصر کی اجازت کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی تھی اور جس کا ایک جز یہاں حدیث میں نقل کیا گیا ہے وہ پوری یوں ہے۔ آیت ( وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ڰ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) 4 ۔ النساء 101) اور (مسلمانو ! ) جب تم کہیں سفر کرو، تم تمہارے لئے یہ گناہ نہیں ہے کہ کم (یعنی قصر) نماز پڑھو اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالت سفر میں قصر کی اجازت اسی وقت ہوگی جب کافروں کے ستانے اور ان کے پریشان کرنے کا خطرہ ہو، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آیت میں خوف کی قید عادت اور اغلب کی اعتبار سے لگائی گئی ہے کہ اکثر مسافروں کو خوف ہوتا ہے خصوصاً اس زمانے میں جب کہ کافر ہر وقت اور ہر موقع پر درپے آزاد ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاقبلوا صدقتہ فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ حالت سفر میں قصر نماز پڑھنے کا حکم صرف کافروں کے خوف کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ بلکہ یہ آسانی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان تمام بندوں پر جو حالت سفر میں ہوتے ہیں۔ ایک احسان ہے جس سے ہر مسافر فیضیاب ہوسکتا ہے خواہ کسی بھی قسم کا کوئی خوف ہو یا نہ ہو۔ فاقبلوا میں حکم وجوب کے لئے ہے یعنی ہر شرعی مسافر کے لئے قصر کرنا واجب ہے اور ضروری ہے چناچہ اس سے حنیفہ کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ حالت سفر میں قصر واجب ہے اور قصر نہ کرنا یعنی پوری نماز پڑھنا غیر پسندیدہ ہے۔
تشریح
مسافر کے لئے نماز میں قصر کی اجازت کے بارے میں جو آیت نازل ہوئی تھی اور جس کا ایک جز یہاں حدیث میں نقل کیا گیا ہے وہ پوری یوں ہے۔ آیت ( وَاِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْاَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ ڰ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ يَّفْتِنَكُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا) 4 ۔ النساء 101) اور (مسلمانو ! ) جب تم کہیں سفر کرو، تم تمہارے لئے یہ گناہ نہیں ہے کہ کم (یعنی قصر) نماز پڑھو اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے۔ اس آیت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالت سفر میں قصر کی اجازت اسی وقت ہوگی جب کافروں کے ستانے اور ان کے پریشان کرنے کا خطرہ ہو، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آیت میں خوف کی قید عادت اور اغلب کی اعتبار سے لگائی گئی ہے کہ اکثر مسافروں کو خوف ہوتا ہے خصوصاً اس زمانے میں جب کہ کافر ہر وقت اور ہر موقع پر درپے آزاد ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاقبلوا صدقتہ فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ حالت سفر میں قصر نماز پڑھنے کا حکم صرف کافروں کے خوف کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ بلکہ یہ آسانی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان تمام بندوں پر جو حالت سفر میں ہوتے ہیں۔ ایک احسان ہے جس سے ہر مسافر فیضیاب ہوسکتا ہے خواہ کسی بھی قسم کا کوئی خوف ہو یا نہ ہو۔ فاقبلوا میں حکم وجوب کے لئے ہے یعنی ہر شرعی مسافر کے لئے قصر کرنا واجب ہے اور ضروری ہے چناچہ اس سے حنیفہ کے مسلک کی تائید ہوتی ہے کہ حالت سفر میں قصر واجب ہے اور قصر نہ کرنا یعنی پوری نماز پڑھنا غیر پسندیدہ ہے۔
1309
Mishkaat Shareefوَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلممِنَ الْمَدِیْنَۃِ اِلٰی مَکَّۃَ فَکَانَ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِِ رَکْعَتَیْنِ حَتّٰی رَجَعْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِقِیْلَ لَہُ اَقَمْتُمْ بِمَکَّۃَ شَیْئًا قَالَ اَقَمْنَا بِھَا عَشْرًا (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حجتہ الوداع کے موقع پر مدینہ سے مکہ گئے اور آپ ﷺ نے (چار رکعتوں والی نماز کی) دو دو رکعتیں پڑھیں یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے۔ حضرت انس (رض) سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ دن ٹھہرے تھے ؟ حضرت انس نے فرمایا کہ (ہاں) ہم لوگ مکہ میں دس دن ٹھہرے تھے۔ (بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رفقاء صحابہ کا قیام مکہ میں دس دن اس طرح رہا کہ آپ ﷺ مکہ میں ذی الحجہ کی چار تاریح کو پہنچے تھے اور ارکان حج وغیرہ سے فراغت کے بعد چودہویں ذی الحجہ کی صبح کو وہاں سے مدینہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ بہر حال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت سفر میں کسی جگہ دس دن ٹھہرنے سے کوئی آدمی مقیم نہیں ہوتا اس کے لئے قصر نماز پڑھنی جائز ہے جب کہ یہ حدیث بظاہر حضرت امام شافعی کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگر کوئی آدمی کہیں چار دن سے زیادہ ٹھہرے گا تو پھر اس کے لئے قصر جائز نہیں اسے پوری نماز پڑھنی ضروری ہوگی اس کی پوری تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔
تشریح
حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے رفقاء صحابہ کا قیام مکہ میں دس دن اس طرح رہا کہ آپ ﷺ مکہ میں ذی الحجہ کی چار تاریح کو پہنچے تھے اور ارکان حج وغیرہ سے فراغت کے بعد چودہویں ذی الحجہ کی صبح کو وہاں سے مدینہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ بہر حال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حالت سفر میں کسی جگہ دس دن ٹھہرنے سے کوئی آدمی مقیم نہیں ہوتا اس کے لئے قصر نماز پڑھنی جائز ہے جب کہ یہ حدیث بظاہر حضرت امام شافعی کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگر کوئی آدمی کہیں چار دن سے زیادہ ٹھہرے گا تو پھر اس کے لئے قصر جائز نہیں اسے پوری نماز پڑھنی ضروری ہوگی اس کی پوری تفصیل اگلی حدیث میں آرہی ہے۔
1310
Mishkaat Shareefوَعَنِ بْنِ عّبَّاسٍ قَالَ سَافَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم سَفَراً فَأَقَامَ تِسْعَۃَ عَشَرَ یَوْمًا یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ قَالَ ابْنُ عُبَّاسٍ فَنَحْنُ نُصَلِّی فِیْمَا بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَکَّۃَ تِسْعَۃَ عَشَرَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتَیْنِ فَاِذَا اَقَمْنَا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ صَلَّیْنَا اَرْبَعَا۔ (رواہ البخاری)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ (کہیں) سفر پر تشریف لے گئے اور وہاں انیس دن قیام فرمایا (دوران قیام) آپ ﷺ دو دو رکعتیں نماز پڑھتے رہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بھی جب مکہ اور اپنے (یعنی مدینہ) کے درمیان کہیں انیس دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعتیں نماز پڑھتے ہیں اور جب اس سے زیادہ ٹھہرتے ہیں تو چار رکعت نماز پڑھتے ہیں۔ (صحیح البخاری )
تشریح
فاقام تسعۃ عشر یوما کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ انیس دن بغیر اقامت کے اس طرح ٹھہرے کہ امروز فردا میں وہاں سے روانہ ہوجانے کا ارادہ فرماتے رہے مگر بلاقصد و ارادہ آپ ﷺ کا قیام وہاں انیس دن ہوگیا۔ مگر اس سے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے یہ نیتجہ اخذ کیا کہ اگر کوئی آدمی حالت سفر میں کہیں انیس دن ٹھہر جائے تو وہ قصر نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہاں انیس دن بعد اس کے لئے قصر جائز نہیں ہوگا اس مسئلے میں حضرت عبداللہ ابن عباس منفرد ہیں اور کسی کا بھی یہ مسلک نہیں ہے۔ مدت اقامت کے سلسلے میں ابتداء باب میں تفصیل کے ساتھ مسئلہ بیان کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر پھر جان لیجئے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی حالت سفر میں کسی جگہ پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو اس کے لئے قصر جائز نہیں ہے بلکہ وہ پوری نماز پڑھے اور اگر کوئی آدمی پندرہ دن یا پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو قصر نماز پڑھے بلکہ اگر وہ اقامت کی نیت نہ کرے اور آج کل میں وہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ کرتا رہے اور اس طرح بلا قصد ارادہ اس کے قیام کا سلسلہ برسوں تک بھی دراز ہوجائے تب بھی وہ قصر نماز پڑھتا رہے امام طحاوی (رح) نے یہی مسئلہ جلیل القدر صحابہ مثلاً حضرت عبداللہ ابن عمر وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ حضرت امام محمد نے کتاب الآثار میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر آزربائیجان میں چھ مہینے اس طرح ٹھہرے رہے کہ آج کل میں وہاں سے چلنے کا ارادہ کرتے رہے مگر بلا قصد و ارادہ ان کا قیام اس قدر طویل ہوگیا چناچہ وہ اس مدت میں برابر قصر نماز پڑھتے رہے اس موقع پر دیگر صحابہ بھی ان کے ہمراہ تھے اسی طرح حضرت انس بھی مروان کے بیٹے عبدالملک کے ہمراہ شام میں دو مہینے تک بلا قصد ارادہ ٹھہرے رہے اور وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ اس مسئلے میں حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی جگہ علاوہ دو دن آنے اور جانے کے چار روز سے زیادہ قیام کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ مقیم ہوجاتا ہے اس کے لئے قصر جائز نہیں ہے وہ پوری نماز پڑھے اسی طرح اقامت کی نیت کے بغیر امروز و فردا میں چلنے کا ارادہ کرتے کرتے بلا قصد و ارادہ اٹھارہ دن سے زیادہ ٹھہر جائے تو تب بھی اس کے لئے قصر جائز نہیں ہوگا وہ پوری نماز پڑھے امام شافعی کی فقہ میں یہی معتمد اور صحیح قول ہے۔
تشریح
فاقام تسعۃ عشر یوما کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ انیس دن بغیر اقامت کے اس طرح ٹھہرے کہ امروز فردا میں وہاں سے روانہ ہوجانے کا ارادہ فرماتے رہے مگر بلاقصد و ارادہ آپ ﷺ کا قیام وہاں انیس دن ہوگیا۔ مگر اس سے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے یہ نیتجہ اخذ کیا کہ اگر کوئی آدمی حالت سفر میں کہیں انیس دن ٹھہر جائے تو وہ قصر نماز پڑھ سکتا ہے۔ ہاں انیس دن بعد اس کے لئے قصر جائز نہیں ہوگا اس مسئلے میں حضرت عبداللہ ابن عباس منفرد ہیں اور کسی کا بھی یہ مسلک نہیں ہے۔ مدت اقامت کے سلسلے میں ابتداء باب میں تفصیل کے ساتھ مسئلہ بیان کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر پھر جان لیجئے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی حالت سفر میں کسی جگہ پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تو اس کے لئے قصر جائز نہیں ہے بلکہ وہ پوری نماز پڑھے اور اگر کوئی آدمی پندرہ دن یا پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو قصر نماز پڑھے بلکہ اگر وہ اقامت کی نیت نہ کرے اور آج کل میں وہاں سے روانہ ہونے کا ارادہ کرتا رہے اور اس طرح بلا قصد ارادہ اس کے قیام کا سلسلہ برسوں تک بھی دراز ہوجائے تب بھی وہ قصر نماز پڑھتا رہے امام طحاوی (رح) نے یہی مسئلہ جلیل القدر صحابہ مثلاً حضرت عبداللہ ابن عمر وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ حضرت امام محمد نے کتاب الآثار میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر آزربائیجان میں چھ مہینے اس طرح ٹھہرے رہے کہ آج کل میں وہاں سے چلنے کا ارادہ کرتے رہے مگر بلا قصد و ارادہ ان کا قیام اس قدر طویل ہوگیا چناچہ وہ اس مدت میں برابر قصر نماز پڑھتے رہے اس موقع پر دیگر صحابہ بھی ان کے ہمراہ تھے اسی طرح حضرت انس بھی مروان کے بیٹے عبدالملک کے ہمراہ شام میں دو مہینے تک بلا قصد ارادہ ٹھہرے رہے اور وہاں دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ اس مسئلے میں حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی جگہ علاوہ دو دن آنے اور جانے کے چار روز سے زیادہ قیام کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ مقیم ہوجاتا ہے اس کے لئے قصر جائز نہیں ہے وہ پوری نماز پڑھے اسی طرح اقامت کی نیت کے بغیر امروز و فردا میں چلنے کا ارادہ کرتے کرتے بلا قصد و ارادہ اٹھارہ دن سے زیادہ ٹھہر جائے تو تب بھی اس کے لئے قصر جائز نہیں ہوگا وہ پوری نماز پڑھے امام شافعی کی فقہ میں یہی معتمد اور صحیح قول ہے۔
1311
Mishkaat Shareefوَعَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍص قَالَ صَحِبْتُ ابنَ عُمَرَ فِیْ طَرِیْقِ مَکَّۃَ فَصَلّٰی لَنَا الظُّھْرَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ جَآءَ رَحْلَہُ وَجَلَسَ فَرَاٰی نَاسًا قِیَامًا فَقَالَ مَا یَصْنَعُ ہٰوُلآءِ قُلْتُ یُسَبِّحُوْنَ قَالَ لَوْ کُنْتُ مُسَبِّحًا اَتْمَمْتُ صَلٰوتِیْ صَحِبْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمفَکَانَ لَا یَزِیْدُ فِی السَّفَرِ عَلٰی رَکْعَتَیْنِِِ وَاَبَابَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ کَذَالِکَ( صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت حفص ابن عاصم فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) مکہ اور مدینہ کے درمیان راستے میں مجھے حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا (جب وقت ہوگیا تو) انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعت پڑھائیں اور اس کے بعد جب وہ اپنے خیمے میں واپس آئے تو دیکھا کہ لوگ کھڑے ہوئے ہیں انہوں نے پوچھا کہ لوگ یہ کیا کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ نفل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے نفل نماز پڑھنی ہوتی تو میں اپنی فرض نماز پوری نہ پڑھتا (یعنی اگر یہ موقع نفل نماز پڑھنے کا ہوتا تو فرض نمازیں پوری پڑھنی زیادہ اہم ہوتیں مگر جب آسانی کے پیش نظر فرض نماز کو قصر پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے تو نفل نماز کو ترک کرنا ہی اولیٰ ہوگا کیونکہ فرض کو اداء کرنا نفل پڑھنے سے اولیٰ ہے) مجھے رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کا شرف حاصل ہے آپ ﷺ سفر کی حالت میں دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، نیز مجھے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان (رض) کی رفاقت کا شرف بھی حاصل ہے ان حضرات میں بھی یہی معمول ہوتا ہے (کہ سفر میں دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
تشریح
حضرت ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ حالت سفر میں نفل نہ پڑھے جائیں۔ سنت راتبہ نمازوں کا حکم دوسری فصل میں انشاء اللہ مذکور ہوگا۔
تشریح
حضرت ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ حالت سفر میں نفل نہ پڑھے جائیں۔ سنت راتبہ نمازوں کا حکم دوسری فصل میں انشاء اللہ مذکور ہوگا۔
1312
Mishkaat Shareefوَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَجْمَعُ بَیْنَ صَلٰوۃِ الظُّھْرِ وَالْعَصْرِ اِذَا کَانَ عَلٰی ظَھْرِ سَیْرٍ وَّیَجْمَعُ بَیْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَآءِ (صحیح البخاری)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ پڑھتے تھے اور (اسی طرح) مغرب و عشاء کی نماز (بھی) ایک ساتھ پڑھتے تھے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
حضرات شوافع نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم کو اپنا مستدل بناتے ہوئے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ سفر کی حالت میں جمع بین الصلوٰتین یعنی ظہر و عصر کی نماز ایک ہی وقت میں ایک ساتھ پڑھ لیناجائز ہے خواہ عصر کی نماز ظہر کے وقت پڑھ لی جائے خواہ ظہر کی عصر کے وقت اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کو بھی ایک ساتھ پڑھ لینا جائز ہے چاہے مغرب کے وقت عشاء کی نماز پڑھ لی جائے اور چاہے عشاء کی نماز مغرب کے وقت۔ حضرت امام اعطم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چونکہ جمع بین الصلوٰتین جائز نہیں ہے اس لئے ان کی طرف سے اس حدیث کی جو شوافع کی سب سے بڑی مستدل ہے یہ تاویل کی ہے کہ یہ حدیث جمع صوری پر محمول ہے یعنی رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر کی نماز ایک ساتھ اس طرح پڑھتے تھے کہ ظہر کو تو اس کے بالکل آخری وقت پڑھتے اور عصر کی نماز اس کے بالکل ابتدائی وقت میں ادا فرماتے۔ لہٰذا ظاہری صورت کے اعتبار سے تو یہ جمع بین الصلوٰتین ہے۔ کہ آپ ﷺ نے دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھیں لیکن حقیقت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھی جاتی تھیں اسی طرح مغرب کی نماز تاخیر سے بالکل آخری وقت میں پڑھتے اور عشاء کی نماز ابتدائی وقت میں ادا فرماتے۔
تشریح
حضرات شوافع نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم کو اپنا مستدل بناتے ہوئے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ سفر کی حالت میں جمع بین الصلوٰتین یعنی ظہر و عصر کی نماز ایک ہی وقت میں ایک ساتھ پڑھ لیناجائز ہے خواہ عصر کی نماز ظہر کے وقت پڑھ لی جائے خواہ ظہر کی عصر کے وقت اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کو بھی ایک ساتھ پڑھ لینا جائز ہے چاہے مغرب کے وقت عشاء کی نماز پڑھ لی جائے اور چاہے عشاء کی نماز مغرب کے وقت۔ حضرت امام اعطم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چونکہ جمع بین الصلوٰتین جائز نہیں ہے اس لئے ان کی طرف سے اس حدیث کی جو شوافع کی سب سے بڑی مستدل ہے یہ تاویل کی ہے کہ یہ حدیث جمع صوری پر محمول ہے یعنی رسول اللہ ﷺ ظہر و عصر کی نماز ایک ساتھ اس طرح پڑھتے تھے کہ ظہر کو تو اس کے بالکل آخری وقت پڑھتے اور عصر کی نماز اس کے بالکل ابتدائی وقت میں ادا فرماتے۔ لہٰذا ظاہری صورت کے اعتبار سے تو یہ جمع بین الصلوٰتین ہے۔ کہ آپ ﷺ نے دونوں نمازیں ایک ساتھ پڑھیں لیکن حقیقت میں دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت میں پڑھی جاتی تھیں اسی طرح مغرب کی نماز تاخیر سے بالکل آخری وقت میں پڑھتے اور عشاء کی نماز ابتدائی وقت میں ادا فرماتے۔
1313
Mishkaat Shareefوَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّیْ فِی السَّفَرِ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ حَیْثُ تَوَجَّھْتُ بِہٖ یُوْ مِیْ اِیْمَآئً صَلٰوۃَ اللَّیْلِ اِلَّا الْفَرَائِضَ وَیُوْتِرُ عَلٰی رَاحِلَتِہٖ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر میں ہوتے تو رات کی نماز علاوہ فرض نماز کے اپنی سواری پر اشارے سے پڑھتے اور سواری کا منہ جس سمت ہوتا اسی سمت آپ ﷺ کا بھی منہ ہوتا نیز نماز وتر بھی آپ ﷺ سواری ہی پر پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حَیْثُ تَوَجَّھْتُ بِہ کا مطلب یہ ہے کہ کہ جدھر سواری کا منہ ہوتا (ادھر ہی کو آپ ﷺ بھی منہ کئے ہوئے نماز پڑھتے رہتے تھے لیکن تکبیر تحریمہ کے وقت اپنا روئے مبارک بہر صورت قبلے ہی کی طرف رکھتے تھے۔ جیسا کہ حضرت انس (رض) کی روایت سے معلوم ہوگا اشارے سے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرتے تھے نیز یہ کہ آپ ﷺ سجدہ کا جو اشارہ کرتے وہ رکوع کے اشارے سے پست ہوتا تھا۔ اس حدیث سے دو مسئلے مستنبط ہوتے ہیں اول تو یہ کہ سواری پر نفل نماز پڑھنی جائز ہے لیکن فرض نہیں اس حدیث میں اگرچہ رات کی نماز کا ذکر کیا گیا ہے لیکن دوسری روایتوں میں عام نفل نمازوں کا ذکر موجود ہے لہٰذا یہ حکم سنت موکدہ اور اس کے علاوہ دیگر سنن و نوافل نمازوں کو بھی شامل ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت میں ثابت ہے کہ فجر کی سنتوں کے لئے سواری سے اتر جانا مستحب ہے بلکہ ایک دوسری روایت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی سنتوں کو سواری سے اتر کر پڑھنا واجب ہے۔ اسی لئے اس نماز کو بغیر کسی عذر کے بیٹھے بیٹھے پڑھنا جائز نہیں ہے فرض نماز سواری پر پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن مندرجہ ذیل اعذار کی صورت میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھ لینا جائز ہے۔ (١) کوئی آدمی جنگل میں ہو اور اپنے مال یا اپنی جان کی ہلاکت کا خوف غالب ہو مثلاً یہ ڈر ہو کہ اگر سواری سے اتر کر نماز پڑھنے لگوں گا تو کوئی چور یا راہزن مال و اسباب لے کر چلتا بنے گا یا کوئی درندہ نقصان پہنچائے گا یا قافلے سے بچھڑ جاؤں گا یا راستہ بھول جاؤں (٢) سواری میں کوئی ایسا سرکش جانور ہو یا کوئی ایسی چیز ہو جس پر اترنے کے بعد پھر چڑھنا ممکن نہ ہو۔ (٣) نماز پڑھنے والا اتنا ضعیف اور بوڑھا ہو کہ خود نہ تو سواری سے اتر سکتا ہو اور سواری پر چڑھنے پر قادر ہو اور نہ کوئی ایسا آدمی پاس موجود ہو جو سواری سے اتار سکے اور اس پر چڑھا سکے۔ (٤) زمین پر اتنا کیچڑ ہو کہ اس پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہے۔ (٥) یا بارش کا عذر ہو۔ بہر حال ان صورتوں میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھی جاسکتی ہے کیونکہ اعذار اور ضروتیں شرعی و قواعد و قوانین سے مشتثنی ہوتی ہیں۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے اس عمل کا تعلق ہے کہ آپ ﷺ وتر کی نماز بھی سواری پر پڑھ لیتے تھے تو اس کے بارے میں امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ پہلے نماز وتر کے حکم کی تاکید کے پیش نظر اور اس کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے سواری پر وتر کی نماز پڑھ لیتے تھے مگر جب لوگوں کے ذہن میں اس نماز کی تاکید و اہمیت بیٹھ گئی اور اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کی اتنی تاکید فرما دی کہ اس کے چھوڑنے کو روا نہیں رکھا تو بعد میں آپ ﷺ وتر کی نماز بھی سواری سے اتر کر زمین پر پڑھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے حضرت امام محمد نے اپنی کتاب موطا میں صحابہ وتابعین کے ایسے بہت آثار نقل کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرات وتر کی نماز پڑھنے کے لئے اپنی سواریوں سے اتر جاتے تھے۔ علامہ شمنی فرماتے ہیں کہ نماز فرض کی طرح جنازہ کی نماز، منت مانی ہوئی نماز نذر اور وہ سجدہ تلاوت کہ جس کی آیت سجدہ کی تلاوت زمین پر کی گئی سواری پر جائز نہیں ہے۔ حدیث سے دوسرا مسئلہ یہ مستنبط ہوتا ہے کہ سواری پر نماز پڑھنا سفر کے ساتھ مشروط ہے چناچہ ائمہ جمہور کا یہی مسلک ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ و حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا محقق اور صحیح مسلک یہ ہے کہ سواری پر نماز کا جواز نمازی کے شہر سے باہر ہونے کے ساتھ مشروط ہے خواہ مسافر ہو یا نہ ہو، چناچہ اگر کوئی مسافر بھی شہر کے اندر ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کے لئے سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک جائز ہے اگرچہ مکروہ ان کے نزدیک بھی ہے حضرت امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ مسافر شہر کے اندر بھی سواری پر نفل پڑھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اب اس کے بعد اس میں اختلاف ہے کہ شہر سے کتنے فاصلے پر ہونے کی صورت میں سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے چناچہ بعض حضرات کے نزدیک کم سے کم دو فرسخ (چھ میل) شہر سے باہر ہونا ضروری ہے بعض حضرات نے تین فرسخ اور بعض حضرات نے ایک کوس متعین کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ شہر و آبادی کے مکانات سے باہر ہوتے ہی سواری پر نماز نفل پڑھنا جائز ہے جیسا کہ قصر نماز کے جواز کے سلسلے میں قاعدہ ہے۔
تشریح
حَیْثُ تَوَجَّھْتُ بِہ کا مطلب یہ ہے کہ کہ جدھر سواری کا منہ ہوتا (ادھر ہی کو آپ ﷺ بھی منہ کئے ہوئے نماز پڑھتے رہتے تھے لیکن تکبیر تحریمہ کے وقت اپنا روئے مبارک بہر صورت قبلے ہی کی طرف رکھتے تھے۔ جیسا کہ حضرت انس (رض) کی روایت سے معلوم ہوگا اشارے سے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرتے تھے نیز یہ کہ آپ ﷺ سجدہ کا جو اشارہ کرتے وہ رکوع کے اشارے سے پست ہوتا تھا۔ اس حدیث سے دو مسئلے مستنبط ہوتے ہیں اول تو یہ کہ سواری پر نفل نماز پڑھنی جائز ہے لیکن فرض نہیں اس حدیث میں اگرچہ رات کی نماز کا ذکر کیا گیا ہے لیکن دوسری روایتوں میں عام نفل نمازوں کا ذکر موجود ہے لہٰذا یہ حکم سنت موکدہ اور اس کے علاوہ دیگر سنن و نوافل نمازوں کو بھی شامل ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت میں ثابت ہے کہ فجر کی سنتوں کے لئے سواری سے اتر جانا مستحب ہے بلکہ ایک دوسری روایت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی سنتوں کو سواری سے اتر کر پڑھنا واجب ہے۔ اسی لئے اس نماز کو بغیر کسی عذر کے بیٹھے بیٹھے پڑھنا جائز نہیں ہے فرض نماز سواری پر پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن مندرجہ ذیل اعذار کی صورت میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھ لینا جائز ہے۔ (١) کوئی آدمی جنگل میں ہو اور اپنے مال یا اپنی جان کی ہلاکت کا خوف غالب ہو مثلاً یہ ڈر ہو کہ اگر سواری سے اتر کر نماز پڑھنے لگوں گا تو کوئی چور یا راہزن مال و اسباب لے کر چلتا بنے گا یا کوئی درندہ نقصان پہنچائے گا یا قافلے سے بچھڑ جاؤں گا یا راستہ بھول جاؤں (٢) سواری میں کوئی ایسا سرکش جانور ہو یا کوئی ایسی چیز ہو جس پر اترنے کے بعد پھر چڑھنا ممکن نہ ہو۔ (٣) نماز پڑھنے والا اتنا ضعیف اور بوڑھا ہو کہ خود نہ تو سواری سے اتر سکتا ہو اور سواری پر چڑھنے پر قادر ہو اور نہ کوئی ایسا آدمی پاس موجود ہو جو سواری سے اتار سکے اور اس پر چڑھا سکے۔ (٤) زمین پر اتنا کیچڑ ہو کہ اس پر نماز پڑھنا ممکن نہ ہے۔ (٥) یا بارش کا عذر ہو۔ بہر حال ان صورتوں میں فرض نماز بھی سواری پر پڑھی جاسکتی ہے کیونکہ اعذار اور ضروتیں شرعی و قواعد و قوانین سے مشتثنی ہوتی ہیں۔ جہاں تک رسول اللہ ﷺ کے اس عمل کا تعلق ہے کہ آپ ﷺ وتر کی نماز بھی سواری پر پڑھ لیتے تھے تو اس کے بارے میں امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ پہلے نماز وتر کے حکم کی تاکید کے پیش نظر اور اس کی اہمیت کا احساس دلانے کے لئے سواری پر وتر کی نماز پڑھ لیتے تھے مگر جب لوگوں کے ذہن میں اس نماز کی تاکید و اہمیت بیٹھ گئی اور اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کی اتنی تاکید فرما دی کہ اس کے چھوڑنے کو روا نہیں رکھا تو بعد میں آپ ﷺ وتر کی نماز بھی سواری سے اتر کر زمین پر پڑھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے حضرت امام محمد نے اپنی کتاب موطا میں صحابہ وتابعین کے ایسے بہت آثار نقل کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرات وتر کی نماز پڑھنے کے لئے اپنی سواریوں سے اتر جاتے تھے۔ علامہ شمنی فرماتے ہیں کہ نماز فرض کی طرح جنازہ کی نماز، منت مانی ہوئی نماز نذر اور وہ سجدہ تلاوت کہ جس کی آیت سجدہ کی تلاوت زمین پر کی گئی سواری پر جائز نہیں ہے۔ حدیث سے دوسرا مسئلہ یہ مستنبط ہوتا ہے کہ سواری پر نماز پڑھنا سفر کے ساتھ مشروط ہے چناچہ ائمہ جمہور کا یہی مسلک ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ و حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما سے بھی ایک روایت میں یہی منقول ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا محقق اور صحیح مسلک یہ ہے کہ سواری پر نماز کا جواز نمازی کے شہر سے باہر ہونے کے ساتھ مشروط ہے خواہ مسافر ہو یا نہ ہو، چناچہ اگر کوئی مسافر بھی شہر کے اندر ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کے لئے سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن حضرت امام محمد کے نزدیک جائز ہے اگرچہ مکروہ ان کے نزدیک بھی ہے حضرت امام ابویوسف فرماتے ہیں کہ مسافر شہر کے اندر بھی سواری پر نفل پڑھے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اب اس کے بعد اس میں اختلاف ہے کہ شہر سے کتنے فاصلے پر ہونے کی صورت میں سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے چناچہ بعض حضرات کے نزدیک کم سے کم دو فرسخ (چھ میل) شہر سے باہر ہونا ضروری ہے بعض حضرات نے تین فرسخ اور بعض حضرات نے ایک کوس متعین کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ شہر و آبادی کے مکانات سے باہر ہوتے ہی سواری پر نماز نفل پڑھنا جائز ہے جیسا کہ قصر نماز کے جواز کے سلسلے میں قاعدہ ہے۔
1314
Mishkaat Shareefعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کُلُّ ذٰلِکَ قَدْ فَعَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَصَرَ الصَّلَاَۃ وَاَتَمَّ ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سب کچھ کیا ہے آپ ﷺ نے (سفر کی حالت میں) کم رکعتیں بھی پڑھی ہیں اور پوری بھی پڑھی ہیں۔ (شرح النسۃ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ حالت سفر میں دونوں طریقوں پر عمل فرماتے تھے یعنی چار رکعت والی نماز کی دو رکعتیں بھی پڑھتے تھے اور پوری چار رکعتیں بھی پڑھتے تھے۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا عمل اسی حدیث پر ہے وہ فرماتے ہیں کہ سفر میں قصر کرنا بھی جائز ہے اور پوری نماز پڑھنا بھی جائز ہے جب کہ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک سفر میں پوری نماز پڑھنی جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی قصر نہیں کرے گا بلکہ پوری نماز پڑھے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔ یہ حدیث اگرچہ امام شافعی کی دلیل ہے لیکن اہل نظر کا کہنا ہے کہ اس حدیث کے سلسلہ روایت میں ابراہیم بن یحییٰ کا نام بھی آتا ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف قرار دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ صاحب سفر السعادۃ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرتبہ صحت کو پہنچی ہوئی نہیں ہے اور سفر کی حالت میں رسول اللہ ﷺ سے پوری نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے اور دارقطنی اور بیہقی وغیرہ نے جو روایت نقل کی ہے جس سے حالت سفر میں اتمام اور قصر دونوں کا جواز ثابت ہوتا ہے بلکہ دار قطنی نے اس کی صراحت بھی کی ہے کہ اس کی سند صحیح ہے تو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کا تعلق حکم اول سے ہوگا یعنی ابتداء میں تو اتمام اور قصر دونوں جائز تھے۔ مگر بعد میں قصر ہی کو ضروری قرار دیدیا گیا۔ یہاں حضرت عائشہ کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حدیث کے پہلے جزء کا تعلق تو ان نمازوں سے ہے جن میں قصر کیا جاتا ہے مثلاً چار رکعتوں والی نماز اور دوسرے جز کا تعلق ان نمازوں سے ہے جن میں قصر ہوتا ہی نہیں جیسے تین یا دو رکعتوں والی نماز یعنی چار رکعتوں والی نماز میں تو قصر کرتے تھے اور تین و دو رکعتوں والی نماز کو پورا کر کے پڑھتے تھے اسی مفہوم کو مراد لینے سے ظاہری معنی و مفہوم سے زیادہ دور جانا نہیں پڑتا کیونکہ قصر و اتمام دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مفہوم ہوجاتے ہیں اور یہ تو جیہہ بہت مناسب اور قریب از حقیقت ہے۔ بلا قصد و ارادہ پندرہ دن سے زیادہ قیام کی صورت میں قصر جائز ہے
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ حالت سفر میں دونوں طریقوں پر عمل فرماتے تھے یعنی چار رکعت والی نماز کی دو رکعتیں بھی پڑھتے تھے اور پوری چار رکعتیں بھی پڑھتے تھے۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا عمل اسی حدیث پر ہے وہ فرماتے ہیں کہ سفر میں قصر کرنا بھی جائز ہے اور پوری نماز پڑھنا بھی جائز ہے جب کہ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک سفر میں پوری نماز پڑھنی جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی آدمی قصر نہیں کرے گا بلکہ پوری نماز پڑھے گا تو وہ گنہگار ہوگا۔ یہ حدیث اگرچہ امام شافعی کی دلیل ہے لیکن اہل نظر کا کہنا ہے کہ اس حدیث کے سلسلہ روایت میں ابراہیم بن یحییٰ کا نام بھی آتا ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف قرار دی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ صاحب سفر السعادۃ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مرتبہ صحت کو پہنچی ہوئی نہیں ہے اور سفر کی حالت میں رسول اللہ ﷺ سے پوری نماز پڑھنا ثابت نہیں ہے اور دارقطنی اور بیہقی وغیرہ نے جو روایت نقل کی ہے جس سے حالت سفر میں اتمام اور قصر دونوں کا جواز ثابت ہوتا ہے بلکہ دار قطنی نے اس کی صراحت بھی کی ہے کہ اس کی سند صحیح ہے تو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر اس روایت کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کا تعلق حکم اول سے ہوگا یعنی ابتداء میں تو اتمام اور قصر دونوں جائز تھے۔ مگر بعد میں قصر ہی کو ضروری قرار دیدیا گیا۔ یہاں حضرت عائشہ کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حدیث کے پہلے جزء کا تعلق تو ان نمازوں سے ہے جن میں قصر کیا جاتا ہے مثلاً چار رکعتوں والی نماز اور دوسرے جز کا تعلق ان نمازوں سے ہے جن میں قصر ہوتا ہی نہیں جیسے تین یا دو رکعتوں والی نماز یعنی چار رکعتوں والی نماز میں تو قصر کرتے تھے اور تین و دو رکعتوں والی نماز کو پورا کر کے پڑھتے تھے اسی مفہوم کو مراد لینے سے ظاہری معنی و مفہوم سے زیادہ دور جانا نہیں پڑتا کیونکہ قصر و اتمام دونوں ہی اپنی اپنی جگہ مفہوم ہوجاتے ہیں اور یہ تو جیہہ بہت مناسب اور قریب از حقیقت ہے۔ بلا قصد و ارادہ پندرہ دن سے زیادہ قیام کی صورت میں قصر جائز ہے