Mishkaat Shareef
172. حوض اور شفاعت کا بیان
مشكاة المصابيح
5479
Mishkaat Shareefحوض کے معنی لغت میں حوض کے معنی ہیں پانی جمع ہونا اور بہنا۔ اسی لئے جو گندا خون عورتوں کو ہر مہینہ آتا ہے۔ حیض کہلاتا ہے اور یہ لفظ بھی حوض ہی سے مشتق ہے یہاں حوض سے وہ حوض ( ہز) مراد ہے جو قیامت کے دن آنحضرت ﷺ کے لئے مخصوص ہوگا اور جس کی صفات و خصوصیات اس باب میں نقل ہونے والی احادیث سے معلوم ہوں۔ قرطبی (رح) نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لئے دو حوض ہوں گے۔ ایک حوض تو میدان محشر میں پل صراط سے پہلے عطا ہوگا اور دوسرا حوض جنت میں ہوگا اور دونوں کا نام کوثر ہوگا۔ واضح رہے کہ عربی میں کوثر کے معنی ہیں خیر کثیر یعنی بیشمار بھلائیاں اور نعمتیں ! پھر زیادہ صحیح یہ ہے کہ میدان حشر میں جو حوض عطا ہوگا وہ میزان کے مرحلہ سے پہلے ہی ہوگا پس لوگ اپنی قبروں سے پیاس کی حالت میں نکلیں گے اور پہلے حوض پر آئیں گے۔ اس کے بعد میزان ( یعنی اعمال کے تولے جانے) کا مرحلہ پیش آئے گا۔ اسی طرح میدان حشر میں ہر پیغمبر کا اپنا حوض ہوگا جس پر اس کی امت آئے گی چناچہ اس وقت تمام پیغمبر آپس میں فخر کا اظہار کریں گے کہ دیکھیں کس کے حوض پر زیادہ لوگ آتے ہیں ہمارے حضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ میرے حوض پر آنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ شفاعت کے معنی شفاعت کا مطلب ہے گناہوں کی معافی کی سفارش کرنا ! چناچہ حضرت محمد ﷺ قیامت کے دن بارگاہ رب العزت میں گنہگار اور مجرم بندوں کے گناہوں اور جرموں کے معاف کئے جانے کی درخواست پیش کریں گے اس لئے عام طور پر شفاعت کا لفظ اسی مفہوم کے لئے استعمال ہوتا ! ویسے شفاعت کا لفظ شفع سے نکلا ہے جس کے اصل معنی جوڑا ( جفت) کرنے، کسی چیز کو کسی چیز کے ساتھ ملانے کے ہیں وتر ( بمعنی طاق) کے مقابلہ پر شفع ( بمعنی جفت) کا لفظ آتا ہے وہ اس معنی کے اعتبار سے ہے۔ اسی طرح زمین یا مکان میں ہمسائیگی کی وجہ سے جو حق خرید حاصل ہوتا ہے اس کو بھی شفعہ اسی معنی کی مناسبت سے کہا جاتا ہے۔ پس شفاعت میں بھی یہ معنی اس اعتبار سے موجود ہیں کہ شفاعت کرنے والا جرم و گناہ کرنے والے کی معافی کی درخواست پیش کر کے گویا خود کو اس مجرم و گناہ گار) کے ساتھ ملاتا ہے۔ شفاعت کی دو قسمیں جن لوگوں نے اس دنیا میں کبیرہ اور صغیرہ گناہ کیئے ہونگے ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی شفاعت کا قبول ہونا اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ واضح رہے کہ شفاعت کی مختلف نوعیتیں ہوں گی۔ اور وہ تمام نوعیتیں آنحضرت ﷺ کی ذات کے لئے ثابت ہیں چناچہ ان میں سے بعض تو ایسی ہیں جو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات سے مخصوص ہوں گی اور بعض ایسی ہیں جن میں دوسروں کے ساتھ مشارکت ہوگی لیکن شفاعت کا دروازہ چونکہ سب سے پہلے آپ ﷺ ہی کھولیں گے اس لئے حقیقت میں تمام شفاعتیں لوٹ کر آپ ﷺ ہی کی طرف منسوب ہوں گی اور علی الاطلاق تمام شفاعتوں کے والی آپ ﷺ ہی ہیں۔ شفاعت کی سب سے پہلی قسم شفاعت عظمی ہے اور یہ وہ شفاعت ہے جو تمام مخلوق کے حق میں ہوگی۔ اور یہ شفاعت کرنے کا شرف صرف ہمارے حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہوگا۔ انبیاء کرام صلواۃ اللہ علیہم اجمعین میں سے بھی کسی کو اس شفاعت کی مجال وجرأت نہیں ہوگی اور اس شفاعت عظمی سے مراد ہے تمام میدان حشر کے لوگوں کو راحت دینے، وقوف کی طوالت وشدت کو ختم کرنے، حساب کتاب اور پروردگار کے آخری فیصلے کو ظاہر کرنے اور تمام لوگوں کو محشر کی ہولنا کیوں، شدتوں اور سختیوں سے چھٹکارا دینے کی سفارش کرنا اس کی تفصیل احادیث سے معلوم ہوگی ! شفاعت کی دوسری قسم وہ ہے جس کے ذریعہ ایک طبقہ کو حساب کتاب کے بغیر جنت میں پہنچانا مقصود ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کی ذات کے لئے اس شفاعت کا ثبوت بھی منقول ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک یہ شفاعت بھی آنحضرت ﷺ ہی کی ذات کے لئے مخصوص ہے۔ شفاعت کی تیسری قسم وہ ہے جس کی مدد سے ان لوگوں کو جنت میں پہنچانا مقصود ہوگا جن کے نامہ اعمال میں ثواب اور گناہ مساوی طور پر ہوں گے۔ شفاعت کی چوتھی قسم وہ ہے جس کے ذریعہ ان لوگوں کو جنت میں پہنچانا مقصود ہوگا جو اپنے گناہ اور جرائم کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ کے مستوجب قرار پائیں گے۔ چناچہ آنحضرت ان لوگوں کے حق میں شفاعت کریں گے اور ان کو جنت میں داخل کرائیں گے ! شفاعت کی پانچویں قسم وہ ہے جس کے ذریعہ کچھ لوگوں کے درجات و مراتب اور ان کے اعزازو اکرام میں ترقی اور اضافہ کرنا مقصود ہوگا شفاعت کی چھٹی قسم وہ ہے جو ان گناہ گاروں کے حق میں ہوگی جنہیں دوزخ میں ڈالا جائے گا اور وہ اس شفاعت کے بعد وہاں سے نکال کر جنت میں پہنچائے جائیں گے، اس شفاعت کا حق مشترکہ ہوگا یعنی آنحضرت ﷺ کے علاوہ دوسرے انبیاء، ملائکہ، علماء اور شہدا بھی اپنے اپنے طور پر اور اپنے اپنے لوگوں کے لئے یہ شفاعت کریں گے۔ شفاعت کی ساتویں قسم وہ ہے جس کے ذریعہ ان لوگوں کے عذاب میں تخفیف کرانا مقصود ہوگا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب و دوزخ کے مستوجب قرار دئیے جا چکے ہوں گے۔ شفاعت کی نویں قسم وہ ہے جو صرف اہل مدینہ کے حق میں ہوگی اور شفاعت کی دسویں قسم وہ ہے جو امتیاز واختصاص کے طور پر صرف ان لوگوں کے حق میں کی جائے گی۔ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت کا شرف حاصل کیا جائے گا۔ علماء نے کہا ہے کہ شفاعت کے متعدد مواقع ومحل ہوں گے، شفاعت کا سب سے پہلا موقع تو وہ ہوگا جب لوگوں کو درگاہ رب العزت میں پیش کرنے کے لئے میدان محشر میں لا کھڑا کردیا جائے گا۔ اس وقت لوگ خوف وخجالت کے پسینے میں غرق ہوں گے، ہر ایک پر ہیبت و دہشت چھائی ہوگی ہر شخص مواخذہ و عذاب کے خوف سے کانپ رہا ہوگا اس وقت شفیع المذنبین ﷺ شفاعت کریں گے تاکہ لوگوں کو کچھ اطمینان و راحت مل جائے اور وہ بیٹھ کر دم لے سکیں پھر جب درگاہ رب العزت سے حکم ہوگا کہ ان سب کو لے جایا جائے اور حساب لیا جائے تو اس موقع پر بھی آپ ﷺ درخواست کریں گے کہ ان کو حساب سے مستثنی قرار دیا جائے اور یوں ہی معاف فرما دیا جائے اور اگر سب کا حساب ضروری لیا جانا ہو تو سرسری حساب پر اکتفا کرلیا جائے، حساب میں سختی وشدت اور سخت باز پرس نہ کی جائے، کیونکہ جو بھی سخت حساب سے دوچار ہوگا، اس کا عذاب سے بچنا ممکن ہی نہیں ہوگا۔ پھر حساب کے بعد جو لوگ مستوجب عذاب قرار پائیں گے، ان کو دوزخ میں بھیجا جائے گا تو یہ موقع بھی شفاعت کا ہوگا تاآنکہ ان کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو آنحضرت ﷺ شفاعت کریں گے اور ان کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں پہنچوائیں گے۔ غرضیکہ ان ہولناکی مواقع پر شروع سے لے کر آخر تک رسول مختار ﷺ کی شفاعت اور غفار وکریم پروردگار کی رحمت و عنایت سے عفو و کرم کی بہت کچھ امید رکھنی چاہئے۔ ویسے جو کچھ بھی فیصلہ صادر ہو۔
5480
Mishkaat Shareefعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا أنا أسير في الجنة إذا أنا بنهر حافتاه الدر المجوف قلت ما هذا يا جبريل ؟ قال الكوثر الذي أعطاك ربك فإذا طينه مسك أذفر . رواه البخاري . ( متفق عليه )
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ میں ( معراج کی رات میں) جنت کی سیر کر رہا تھا کہ اچانک میرا گزر ایک نہر پر ہو ! جس کے دونوں طرف موتیوں کے گنبد تھے میں نے پوچھا کہ جبرائیل (علیہ السلام) یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ حوض کوثر ہے جو آپ ﷺ کو آپ کے پروردگار نے عطا کیا ہے۔ پھر جو میں نے دیکھا تو اس کی مٹی مثل مشک تیز خوشبودار تھی۔ ( بخاری)
تشریح
مجوف کے معنی ہیں کھوکھلا ! مجوف موتی کے گنبدے سے مراد یہ ہے کہ حوض کوثر کے دونوں کناروں پر جو گنبد اور قبے ہیں وہ اینٹ پتھر اور چونے گارے جیسی چیزوں سے تعمیر شدہ نہیں ہیں بلکہ ہر گنبد دراصل ایک بہت بڑا موتی ہے جو اندر سے کھوکھلا ہے اور جس میں نشست ورہائش کی جملہ آسائشیں موجود ہیں جو آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے پروردگار نے عطا کیا ہے۔ کے ذریعہ آیت کریم انا اعطینک الکوثر کی طرف اشارہ ہے جس کی تفسیر میں بہت سے مفسروں نے کہا ہے کہ اس آیت کریمہ میں کوثر سے مراد خیر کثیر یعنی بیشمار بھلائیاں اور نعمتوں کی کثرت ہے جو پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی ہے، اس میں نبوت و رسالت، قرآن کریم اور علم و حکمت کی نعتیں بھی شامل ہیں اور امت کی کثرت اور وہ تمام مراتب عالیہ بھی شامل ہیں جن میں ایک بہت بڑی نعمت آپ ﷺ کو آخرت میں مقام محمود، لوائے ممدود اور مذکورہ حوض کا عطا کیا جانا ہے۔ اس اعتبار سے اس بارے میں کوئی منافات نہیں ہے کہ کوثر سے مراد حوض کوثر ہے یا خیر کثیر مراد ہونے کی صورت میں بشمول حوض کوثر، تمام ہی نعمتیں اور بھلائیاں اس میں شامل ہوجائیں گی اس طرح حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے مذکورہ جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو کوثر عطا کیا ہے اسی میں کی ایک چیز یہ حوض کوثر ہے ! بعض مفسرین نے کوثر کی مراد اولاد اور علماء امت لکھا ہے، لیکن یہ قول بھی خیر کثیر کے قول کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں ( یعنی اولاد اور علماء امت) بھی خیر کثیر ہی میں داخل ہیں۔
تشریح
مجوف کے معنی ہیں کھوکھلا ! مجوف موتی کے گنبدے سے مراد یہ ہے کہ حوض کوثر کے دونوں کناروں پر جو گنبد اور قبے ہیں وہ اینٹ پتھر اور چونے گارے جیسی چیزوں سے تعمیر شدہ نہیں ہیں بلکہ ہر گنبد دراصل ایک بہت بڑا موتی ہے جو اندر سے کھوکھلا ہے اور جس میں نشست ورہائش کی جملہ آسائشیں موجود ہیں جو آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے پروردگار نے عطا کیا ہے۔ کے ذریعہ آیت کریم انا اعطینک الکوثر کی طرف اشارہ ہے جس کی تفسیر میں بہت سے مفسروں نے کہا ہے کہ اس آیت کریمہ میں کوثر سے مراد خیر کثیر یعنی بیشمار بھلائیاں اور نعمتوں کی کثرت ہے جو پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو عطا فرمائی ہے، اس میں نبوت و رسالت، قرآن کریم اور علم و حکمت کی نعتیں بھی شامل ہیں اور امت کی کثرت اور وہ تمام مراتب عالیہ بھی شامل ہیں جن میں ایک بہت بڑی نعمت آپ ﷺ کو آخرت میں مقام محمود، لوائے ممدود اور مذکورہ حوض کا عطا کیا جانا ہے۔ اس اعتبار سے اس بارے میں کوئی منافات نہیں ہے کہ کوثر سے مراد حوض کوثر ہے یا خیر کثیر مراد ہونے کی صورت میں بشمول حوض کوثر، تمام ہی نعمتیں اور بھلائیاں اس میں شامل ہوجائیں گی اس طرح حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے مذکورہ جواب کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو جو کوثر عطا کیا ہے اسی میں کی ایک چیز یہ حوض کوثر ہے ! بعض مفسرین نے کوثر کی مراد اولاد اور علماء امت لکھا ہے، لیکن یہ قول بھی خیر کثیر کے قول کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں ( یعنی اولاد اور علماء امت) بھی خیر کثیر ہی میں داخل ہیں۔
5481
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حوضي مسيرة شهر وزواياه سواء ماؤه أبيض من اللبن وريحه أطيب من المسك وكيزانه كنجوم السماء من يشرب منها فلا يظمأ أبدا . متفق عليه .
اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ یعنی حوض کوثر، ایک ماہ کی مسافت کے بقدر دراز ہے اور اس کے چاروں کنارے برابر ہیں ( یعنی لمبائی چوڑائی میں وہ مربع ہے) اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی بومشک سے زیادہ خوشبودار ہے اور اس کے آب خورے ( اپنی چمک ودمک اور کثرت و زیادتی کے اعتبار سے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں اور جو شخص اس کا پانی پی لے گا اس کو پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ ، ( بخاری ومسلم )
تشریح
اس کو پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں پانی یا کسی بھی مشروب کا پینا پیاس کی وجہ سے نہیں بلکہ حصول لذات کے لئے ہوگا جیسا کہ جنت میں کوئی چیز کھانا، بھوک کی بنیاد پر نہیں بلکہ ازراہ تنعم ہوگا کیونکہ جنت تو وہ نظام ہے جہاں کسی کو نہ بھوک لگے گی اور نہ پیاس، قرآن کریم میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا گیا ہے، وان لک ان لا تجوع فیہا ولا تعری وانک لا تظموأ فیہا ولا تضحی یعنی یہاں جنت میں تو تمہارے لئے ( یہ آرام) ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے رہو گے اور نہ ننگے ہوگے بلا شبہ تم نہ یہاں پیاسے ہوگے اور نہ دھوپ میں تپوگے۔
تشریح
اس کو پھر کبھی پیاس نہ لگے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت میں پانی یا کسی بھی مشروب کا پینا پیاس کی وجہ سے نہیں بلکہ حصول لذات کے لئے ہوگا جیسا کہ جنت میں کوئی چیز کھانا، بھوک کی بنیاد پر نہیں بلکہ ازراہ تنعم ہوگا کیونکہ جنت تو وہ نظام ہے جہاں کسی کو نہ بھوک لگے گی اور نہ پیاس، قرآن کریم میں اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا گیا ہے، وان لک ان لا تجوع فیہا ولا تعری وانک لا تظموأ فیہا ولا تضحی یعنی یہاں جنت میں تو تمہارے لئے ( یہ آرام) ہے کہ تم نہ کبھی بھوکے رہو گے اور نہ ننگے ہوگے بلا شبہ تم نہ یہاں پیاسے ہوگے اور نہ دھوپ میں تپوگے۔
5482
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن حوضي أبعد من أيلة من عدن لهو أشد بياضا من الثلج وأحلى من العسل باللبن ولآنيته أكثر من عدد النجوم وإني لأصد الناس عنه كما يصد الرجل إبل الناس عن حوضه . قالوا يا رسول الله أتعرفنا يومئذ ؟ قال نعم لكم سيماء ليست لأحد من الأمم تردون علي غرا من أثر الوضوء . رواه مسلم . وفي رواية له عن أنس قال ترى فيه أباريق الذهب والفضة كعدد نجوم السماء . وفي أخرى له عن ثوبان قال سئل عن شرابه . فقال أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل يغت فيه ميزابان يمدانه من الجنة أحدهما من ذهب والآخر من ورق . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میرے حوض یعنی حوض کوثر کے دونوں سروں کے درمیان کا فاصلہ ایلہ اور عدن کے درمیانی فاصلہ سے بھی زیادہ ہے اور بلاشبہ اس حوض کا پانی برف سے بھی زیادہ سفید اور شہد سے بھی زیادہ شیریں ہے جس میں دودھ ملا ہوا ہے اور اس کے آبخورے آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہیں اور یقینا میں دوسری امتوں کے لوگوں کو اس حوض پر آنے سے اس طرح روکوں گا اور بھگاؤں گا جس طرح کوئی شخص غیر لوگوں کے اونٹوں کو اپنے حوض پر آنے سے روکتا ہے ( اور یہ روکنا اس وجہ سے ہوگا تاکہ امت محمدی ﷺ کی اس فضیلت وخصوصیت میں دوسرے لوگ شریک نہ ہوں اور اس امت کے لوگ دوسری امتوں کے لوگوں سے ممتاز ومنفرد ہیں) صحابہ نے ( یہ سن کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ( اس وقت) آپ ہمیں پہچان لیں گے ؟ ( یعنی تمام مخلوق کے اتنے زبردست ازدحام میں کیا آپ کے لئے ممکن ہوگا کہ اپنی امت اور دوسری امتوں کے لوگوں کے درمیان امتیاز کرلیں اور وہ کونسی علامت ہوگی جس کو دیکھ کر آپ ﷺ اپنے امتیوں کو پہچان کر حوض کوثر پر آنے دیں گے اور غیر امتیوں کو وہاں آنے سے روکیں گے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں میں تمہیں ( بڑی آسانی کے ساتھ) پہچان لوں گا دراصل تمہاری ایک خاص علامت ہوگی، جس سے دوسری امت کے لوگ محروم ہوں گے اور وہ علامت یہ ہوگی کہ جب تم میری طرف آؤ گے تو اس وقت تمہاری پیشانیاں اور تمہارے ہاتھ پاؤں، وضو کی نورانیت کے سبب روشن اور چمکدار ہوں گے۔ ( مسلم) اور مسلم کی ایک اور روایت میں جو حضرت انس (رض) سے منقول ہے، یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس حوض میں سونے چاندی کے آبخوریے ہوں گے جو ( اپنی چمک دمک اور) تعداد کے اعتبار سے آسمان کے ستاروں کی طرح دکھائی دیں گے۔ اور مسلم ہی کی ایک اور روایت میں حضرت ثوبان سے یوں منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ سے اس حوض کے پانی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے۔ اس حوض کو لبریز رکھنے کے لئے اس میں دو زوردار پر نالے گرتے ہیں جو جنت ( کی اس ہز) سے آتے ہیں ( جس کا نام بھی کوثر ہے) ان میں کا ایک نالہ سونے کا ہے اور چاندی کا۔
تشریح
ایلہ ایک شہر کا نام ہے جو ملک شام کا ایک ساحلی علاقہ تھا اور آج کل اسرائیل کی حدود میں واقع اور اس کی ایک بندگاہ ہے جس کا موجودہ نام ایلات ہے یہ شہر بحر احمر ( جس کو بحیرہ قلزم اور انگریزی میں ریڈسی کہتے ہیں) کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ اور عدن، بحر احمر کے جنوبی سرے پر واقع ایک مشہور جزیرہ نما کا نام ہے جو کبھی یمن کا ایک شہر اور اس کی بندرگاہ تھا حضور ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ ایلہ اور عدن کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اتنا ہی فاصلہ میرے حوض کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ہے ! واضح رہے کہ اس سلسلہ میں جو روایات منقول ہیں ان میں حضور ﷺ نے اپنے حوض کے دونوں سروں کے درمیانی فاصلے کو ظاہر کرنے کے لئے متعدد شہروں اور علاقوں کا ذکر فرمایا ہے، مثلا اس حدیث میں مابین صنعاء اور مدینہ کا ذکر ہے، تو ان تمام حدیثوں میں مفہوم کی مطابقت ویکسانیت پیدا کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا کہ مذکورہ شہروں کے درمیانی فاصلوں کے ذریعہ حوض کوثر کے دونوں سروں کے درمیانی فاصلہ اور اس کی درازی کو ظاہر فرمانا تحدید یعنی حد بندی کے طور پر نہیں ہے بلکہ تمثیلا اور تقریبا ہے۔ مطب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس سلسلہ کی جو بھی حدیث ارشاد فرمائی اور جو اشخاص اس وقت آپ ﷺ کے مخاطب تھے ان کی سمجھ بوجھ اور ان کی ذاتی معلومات کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے سامنے محض تمثیل کے طور پر بیان فرمایا کہ میرے حوض کے دونوں سروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا فلاں شہروں کا درمیانی فاصلہ ہے۔
تشریح
ایلہ ایک شہر کا نام ہے جو ملک شام کا ایک ساحلی علاقہ تھا اور آج کل اسرائیل کی حدود میں واقع اور اس کی ایک بندگاہ ہے جس کا موجودہ نام ایلات ہے یہ شہر بحر احمر ( جس کو بحیرہ قلزم اور انگریزی میں ریڈسی کہتے ہیں) کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ اور عدن، بحر احمر کے جنوبی سرے پر واقع ایک مشہور جزیرہ نما کا نام ہے جو کبھی یمن کا ایک شہر اور اس کی بندرگاہ تھا حضور ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ ایلہ اور عدن کے درمیان جتنا فاصلہ ہے اتنا ہی فاصلہ میرے حوض کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کا ہے ! واضح رہے کہ اس سلسلہ میں جو روایات منقول ہیں ان میں حضور ﷺ نے اپنے حوض کے دونوں سروں کے درمیانی فاصلے کو ظاہر کرنے کے لئے متعدد شہروں اور علاقوں کا ذکر فرمایا ہے، مثلا اس حدیث میں مابین صنعاء اور مدینہ کا ذکر ہے، تو ان تمام حدیثوں میں مفہوم کی مطابقت ویکسانیت پیدا کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا کہ مذکورہ شہروں کے درمیانی فاصلوں کے ذریعہ حوض کوثر کے دونوں سروں کے درمیانی فاصلہ اور اس کی درازی کو ظاہر فرمانا تحدید یعنی حد بندی کے طور پر نہیں ہے بلکہ تمثیلا اور تقریبا ہے۔ مطب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس سلسلہ کی جو بھی حدیث ارشاد فرمائی اور جو اشخاص اس وقت آپ ﷺ کے مخاطب تھے ان کی سمجھ بوجھ اور ان کی ذاتی معلومات کا لحاظ رکھتے ہوئے ان کے سامنے محض تمثیل کے طور پر بیان فرمایا کہ میرے حوض کے دونوں سروں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا فلاں شہروں کا درمیانی فاصلہ ہے۔
5483
Mishkaat Shareefوعن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إني فرطكم على الحوض من مر علي شرب ومن شرب لم يظمأ أبدا ليردن علي أقوام أعرفهم ويعرفونني ثم يحال بيني وبينهم فأقول إنهم مني . فيقال إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك ؟ فأقول سحقا سحقا لمن غير بعدي . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں حوض کوثر پر تمہارا امیر سامان ہونگا ( یعنی وہاں تم سب سے پہلے پہنچ کر تمہارا استقبال کروں گا) جو شخص بھی میرے پاس سے گزرے گا وہ اس حوض کوثر کا پانی پئے گا اور جو شخص بھی اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں رہے گا۔ وہاں میرے پاس ( میری امت کے) کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچان لوں گا اور وہ مجھے پہچان لیں گے لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل کردی جائے گی ( تاکہ وہ مجھ سے اور حوض کوثر سے دور رہیں ) ۔ میں ( یہ دیکھ کر) کہوں گا کہ یہ لوگ تو میرے اپنے ہیں ! ؟ ( یعنی یہ لوگ میری امت کے افراد ہیں، یا یہ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو میرے صحابی رہے ہیں، پھر ان کو میرے پاس آنے سے کیوں روکا جارہا ہے ! ؟ ) اس کے جواب میں مجھے بتایا جائے گا کہ آپ ﷺ کو نہیں معلوم، انہوں نے آپ ﷺ کے بعد کیا کیا نئی باتیں پیدا کیں ہیں ( یہ سن کر) میں کہوں گا کہ وہ لوگ دور ہوں مجھ سے اللہ کی رحمت سے دور، جنہوں نے میری وفات کے بعد دین وسنت میں تبدیلی کی۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
حدیث میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ حوض کوثر کی طرف آئیں گے لیکن ان کو آنحضرت ﷺ اور حوض کوثر سے دور رکھا جائے گا، ان کے بارے میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون لوگ ہوں گے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسلمان ہوگئے تھے اور جب تک آپ ﷺ اس دنیا میں رہے مسلمان ہی رہے، لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد وہ مختلف گمراہ کن تحریکوں جیسے مسیلمہ کذاب کے جھوٹے دعوی نبوت وغیر کا شکار ہو کر اسلام سے پھرگئے اور مرتد ہوگئے ت ہے پس حدیث کا مضمون گزشتہ باب الحشر کی چوتھی حدیث، جو حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے، کے مضمون کی طرح ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں جب میں اپنے کچھ لوگوں کو دوزخ کی طرف لیجاتے ہوئے دیکھوں گا تو کہوں گا کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں، یہ تو میرے صحابہ ہیں ؟ ! لیکن پھر مجھے بتایا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ ﷺ کے سامنے مسلمان تھے لیکن آپ ﷺ کے بعد اسلام سے پھرگئے تھے۔ لہذا اس حدیث کے ضمن میں جو تشریح و تاویل کی گئی ہے اس کو یہاں بھی پیش نظر رکھا جائے۔ ایک احتمال یہ ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ لوگوں سے مراد اہل بدعت ہوں جو دین میں نئی باتیں نکالتے ہیں لیکن یہ بات چونکہ ثابت ہے کہ اس امت کا کوئی بھی گناہ گار خواہ اس کا گناہ کتنا ہی بڑا ہو، حوض کوثر پر آنے اور اس کا پانی پینے سے روکا نہیں جائے گا، اس لئے یہ احتمال سرے سے رد ہوجاتا ہے ہاں اگر بدعت کا تعلق دین وملت میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرنے سے ہو جس سے اصول دن کی نفی ہوتی ہو اور نبوت و شریعت پر براہ راست اس طرح کی زد پڑتی ہو کہ اس پر کفر کا اطلاق ہوجائے تو اس درجہ کے اہل بدعت یقینا مرتد ہی کہلائیں گے اور ان لوگوں کو اس حدیث کا محمول قرار دیا جاسکتا ہے۔
تشریح
حدیث میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ حوض کوثر کی طرف آئیں گے لیکن ان کو آنحضرت ﷺ اور حوض کوثر سے دور رکھا جائے گا، ان کے بارے میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ وہ کون لوگ ہوں گے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مسلمان ہوگئے تھے اور جب تک آپ ﷺ اس دنیا میں رہے مسلمان ہی رہے، لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد وہ مختلف گمراہ کن تحریکوں جیسے مسیلمہ کذاب کے جھوٹے دعوی نبوت وغیر کا شکار ہو کر اسلام سے پھرگئے اور مرتد ہوگئے ت ہے پس حدیث کا مضمون گزشتہ باب الحشر کی چوتھی حدیث، جو حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے، کے مضمون کی طرح ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں جب میں اپنے کچھ لوگوں کو دوزخ کی طرف لیجاتے ہوئے دیکھوں گا تو کہوں گا کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں، یہ تو میرے صحابہ ہیں ؟ ! لیکن پھر مجھے بتایا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آپ ﷺ کے سامنے مسلمان تھے لیکن آپ ﷺ کے بعد اسلام سے پھرگئے تھے۔ لہذا اس حدیث کے ضمن میں جو تشریح و تاویل کی گئی ہے اس کو یہاں بھی پیش نظر رکھا جائے۔ ایک احتمال یہ ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں مذکورہ لوگوں سے مراد اہل بدعت ہوں جو دین میں نئی باتیں نکالتے ہیں لیکن یہ بات چونکہ ثابت ہے کہ اس امت کا کوئی بھی گناہ گار خواہ اس کا گناہ کتنا ہی بڑا ہو، حوض کوثر پر آنے اور اس کا پانی پینے سے روکا نہیں جائے گا، اس لئے یہ احتمال سرے سے رد ہوجاتا ہے ہاں اگر بدعت کا تعلق دین وملت میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرنے سے ہو جس سے اصول دن کی نفی ہوتی ہو اور نبوت و شریعت پر براہ راست اس طرح کی زد پڑتی ہو کہ اس پر کفر کا اطلاق ہوجائے تو اس درجہ کے اہل بدعت یقینا مرتد ہی کہلائیں گے اور ان لوگوں کو اس حدیث کا محمول قرار دیا جاسکتا ہے۔
5484
Mishkaat Shareefوعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال يحبس المؤمنون يوم القيامة حتى يهموا بذلك فيقولون لو استشفعنا إلى ربنا فيريحنا من مكاننا فيأتون آدم فيقولون أنت آدم أبو الناس خلقك الله بيده وأسكنك جنته وأسجد لك ملائكته وعلمك أسماء كل شيء اشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا . فيقول لست هناكم . ويذكر خطيئته التي أصاب أكله من الشجرة وقد نهي عنها ولكن ائتوا نوحا أول نبي بعثه الله إلى أهل الأرض فيأتون نوحا فيقول لست هناكم ويذكر خطيئته التي أصاب سؤاله ربه بغير علم ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن . قال فيأتون إبراهيم فيقول إني لست هناكم ويذكر ثلاث كذبات كذبهن ولكن ائتوا موسى عبدا آتاه الله التوراة وكلمه وقربه نجيا . قال فيأتون موسى فيقول إني لست هناكم ويذكر خطيئته التي أصاب قتله النفس ولكن ائتوا عيسى عبد الله ورسوله وروح الله وكلمته قال فيأتون عيسى فيقول لست هناكم ولكن ائتوا محمدا عبدا غفر الله له ماتقدم من ذنبه وما تأخر . قال فيأتوني فأستأذن على ربي في داره فيؤذن لي عليه فإذا رأيته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني فيقول ارفع محمد وقل تسمع واشفع تشفع وسل تعطه . قال فأرفع رأسي فأثني على ربي بثناء تحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرج فأخرجهم من النار وأدخلهم الجنة ثم أعود الثانية فأستأذن على ربي في داره . فيؤذن لي عليه فإذا رأيته وقعت ساجدا . فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقول ارفع محمد وقل تسمع واشفع تشفع وسل تعطه . قال فأرفع رأسي فأثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرج فأخرجهم من النار وأدخلهم الجنة ثم أعود الثالثة فأستأذن على ربي في داره فيؤذي لي عليه فإذا رأيته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقول ارفع محمد وقل تسمع واشفع تشفع وسل تعطه . قال فأرفع رأسي فأثني على ربي بثناءوتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأخرج فأخرجهم من النار وأدخلهم الجنة حتى ما يبقى في النار إلا من قد حبسه القرآن أي وجب عليه الخلود ثم تلا هذه الآية ( عسى أن يبعثك الله مقاما محمودا ) قال وهذا المقام ا لمحمود الذي وعده نبيكم متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت کے دن ( میدان حشر میں) مؤمنین کو روک دیا جائے گا ( یعنی سب کو کسی ایک جگہ اس طرح محصور کردیا جائے گا کہ کوئی شخص بھی کسی طرح کی نقل و حرکت نہیں کرسکے گا اور ہر شخص سکتے کی سی کیفیت میں ٹھہرا رہے گا) یہاں تک کہ سارے لوگ اس ( محصور ہوجانے) کی وجہ سے سخت فکر وتردد میں پڑجائیں گے، پھر وہ آپس میں تذکرہ کریں گے کہ کاش ہمیں کوئی ایسا شخص مل جاتا جو ہمارے پروردگار سے ہماری شفاعت کرتا اور ہمیں اس سختی و پریشانی سے چھٹکارا دلاتا اور پھر ( کچھ لوگ سب کی نمائندگی کرتے ہوئے) حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ آدم (علیہ السلام) ہیں، تمام لوگوں کے باپ، آپ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ( بلا کسی واسطہ وسیلہ کے) اپنے ہاتھ سے ( یعنی اپنی قدرت کاملہ سے) پیدا کیا، آپ (علیہ السلام) کو جنت کی سکونت عطا فرمائی اپنے فرشتوں سے ( تحیہ کا) سجدہ آپ (علیہ السلام) کو کرایا اور آپ (علیہ السلام) کو ہر چیز کے نام سکھائے براہ کرام آپ (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے ( کہ جس نے آپ (علیہ السلام) کو اتنی زیادہ فضیلتیں اور اعزاز بخشے ہیں) ہماری سفارش کر دیجئے کہ وہ ہم کو اس ( سخت ہولناک اور پریشان کن) جگہ سے نکال کر راحت و اطمینان بخشے حضرت آدم (علیہ السلام) ( یہ سن کر کہیں گے) کہ میں اس مرتبہ کا سزاوار نہیں ہوں ( یعنی میں یہ مرتبہ ( درجہ نہیں رکھتا کہ آج کے دن بارگاہ کبریائی میں شفاعت کرنے کا حوصلہ کروں) پھر حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی اس لغزش کا ذکر کریں گے جو انہوں نے ( گیہوں کا) درخت کھانے کی صورت میں کی تھی درآنحالیکہ ان کو اس درخت کے قریب جانے سے بھی منع کردیا گیا تھا، ( اس کے بعد وہ کہیں گے کہ) تم لوگوں کو نوح (علیہ السلام) کے پاس جانا چاہئے ( وہ تمہاری شفاعت کرسکتے ہیں) کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیا والوں کی ہدایت کے لئے مبعوث کیا تھا) وہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے ( اور ان سے شفاعت کے لئے درخواست کریں گے) حضرت نوح (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں اس مرتبہ کا سزاوار نہیں ہوں ! اور وہ اپنی اس لغزش کا ذکر کریں گے جو انہوں نے بےجانے بوجھے اللہ تعالیٰ سے ( اپنے بیٹھے کو غرق ہونے سے بچانے کی درخواست کرنے کی صورت میں کی تھی ( پھر وہ مشورہ دیں گے کہ) تم لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جو اللہ تعالیٰ کے خلیل ( دوست ہیں، جانا چاہئے ! آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ( یہ سن کر) ابراہیم خلیل اللہ کے پاس آئیں گے ( اور ان سے شفاعت کی درخواست کریں گے) حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں اس مرتبہ کا سزاوار نہیں ہوں اور وہ دنیا میں تین مرتبہ اپنے جھوٹ بولنے کا ذکر کریں گے (پھر وہ مشورہ دیں گے کہ) تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کو اللہ نے ( اپنی عظیم الشان کتاب) توریت عطا کی) اور بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کو ان کا تابع بنایا اور جن کو اللہ نے براہ راست اپنی ہم کلامی کے شرف سے نوازا اور ان کو اپنا کمال قرب عطا فرما کر اپنا محرم اسرار بنایا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ( یہ سن کر) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے ( اور ان سے شفاعت کے لئے درخواست کریں گے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو جواب دیں گے کہ میں اس مرتبہ کا سزاوار نہیں ہوں ! اور وہ اپنی اس لغزش کا ذکر کریں گے جو ایک قبطی کو قتل کرنے کی صورت میں سرزد ہوگئی تھی ( یعنی انہوں نے طیش میں آکر ایک قبطی کو مکا مار دیا تھا جس سے اس کا کام تمام ہوگیا تھا۔ پھر وہ مشورہ دیں گے کہ تمہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانا چائے جو اللہ کے بندے اور رسول (علیہ السلام) ہیں۔ وہ سراسر روحانی ہیں ( کہ جسمانی مادہ کے بغیر محض اللہ کی قدرت سے پیدا ہوئے تھے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ( یہ سن کر) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئینگے ( اور ان سے شفاعت کے لئے کہیں گے) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں اس مرتبہ کا سزاوار نہیں ہوں ! البتہ تم لوگ محمد ﷺ کے پاس جاؤ جو اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کے اگلے پچھلے سارے گناہ اللہ تعالیٰ نے بخش دیئے ہیں ( یقینا وہی تم لوگوں کی شفاعت کریں گے ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تب لوگ ( شفاعت کی درخواست لے کر) میرے پاس آئیں گے اور میں ( ان کی شفاعت کے لئے تیار ہوجاؤں گا اور مقصد کی خاطر) در رب العزت پہنچ کر اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے اپنی بارگاہ میں پیش ہونے کی اجازت مرحمت فرمائے گا ! میں جب اس کے حضور میں پہنچ کر اس کو دیکھوں گا تو اس کی ہیبت وخوف کے مارے اور اس کی تعظیم کرنے کے لئے) سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جتنا عرصہ مناسب سمجھے گا اتنے عرصہ کے لئے مجھے سجدہ میں پڑا رہنے دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ محمد ﷺ ! سر اٹھاؤ، جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، تم ( جس کے حق میں چاہو) شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، اس کے بعد میں ( درگاہ رب العزت سے) باہر آؤں گا اور اس ( متعینہ) جماعت کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں داخل کراؤں گا پھر ( دوسری جماعتوں کے حق میں شفاعت کرنے کے لئے) میں دوبارہ در رب العزت پر حاضر ہو کر اس کی خدمت میں پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا مجھے اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کی اجازت عطا کی جائے گی اور جب میں اس کے حضور میں پہنچ کر اس کو دیکھوں گا تو سجدہ میں گر پڑونگا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہئے گا مجھے سجدہ میں پڑا رہنے دے گا، پھر فرمائے گا کہ محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ، جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو، تمہاری بات سنی جائے گی، شفاعت کے ساتھ کہ جو پروردگار مجھے سکھلائے گا اس کی حمد وثنا بیان کروں گا پھر میں شفاعت کروں گا اور میرے لئے شفاعت کی ایک حد مقرر کردی جائے گی، اس کے بعد میں ( درگاہ رب العزت سے) باہر آؤں گا اور اس متعینہ) جماعت کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں داخل کراؤں گا اور پھر میں تیسری مرتبہ بارگاہ رب العزت پر حاضر ہو کر اس کی خدمت میں پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا، مجھے اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کی اجازت عطا کی جائے گی اور جب میں پروردگار کے حضور پہنچ کر اس کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ میں پڑا رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا محمد ﷺ اپنا سر اٹھاؤ، جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو، تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو میں قبول کروں گا اور مانگو میں دوں گا۔ ( یہ سن کر) میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اس حمد و تعریف کے ساتھ کہ جو پروردگار مجھے سکھلائے گا اس کی حمد وثنا بیان کروں گا پھر میں شفاعت کروں گا اور میرے لئے شفاعت کی ایک حد مقرر کردی جائے گی۔ اس کے بعد میں ( درگاہ رب العزت سے) باہر آؤں گا اور اس ( متعینہ) جماعت کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں داخل کراؤں گا، یہاں تک کہ دوزخ میں ان کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہ جائے گا جن کو قرآن نے روکا ہوگا ( یعنی اس آخری شفاعت کے بعد دوزخ میں وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے بارے میں قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، چناچہ حدیث کے اس جملہ کی وضاحت حضرت انس کے نیچے کے روای حضرت قتادہ جو جلیل القدر تابعی ہیں ان الفاظ میں کی ہے کہ) اس کا مطلب یہ ہے کہ بس وہ لوگ دوزخ میں باقی رہ جائیں گے جو ( قرآن کے حکم کے بموجب) ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب دوزخ کے مستوجب قرار پاچکے ہیں ( اور وہ کفار ہیں) پھر آنحضرت ﷺ نے (یا حضرت انس یا حضرت قتادہ نے اس بات کو مستند کرنے کے لئے) قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی (عَسٰ ي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا) 17 ۔ الاسراء 79) امید ہے کہ آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ کو مقام محمود میں جگہ دے گا۔ اور پھر ( آنحضرت ﷺ نے یا حضرت انس نے یا حضرت قتادہ نے) یہ فرمایا کہ ( یہی وہ مقام محمود ہے، جس کا وعدہ اللہ نے تمہارے نبی ﷺ سے کیا ہے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
وہ پہلے نبی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے۔۔ الخ۔ کے سلسلہ میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے تین نبی حضرت آدم (علیہ السلام) ، حضرت شیث (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) دنیا میں آچکے تھے۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) دنیا والوں کی طرف آنے والے پہلے نبی کیونکر ہوئے ! ؟ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ پہلے تینوں نبی جب دنیا میں آئے تو تمام روئے زمین صرف اہل کفر کی آماجگاہ نہیں تھی بلکہ اس دنیا میں اہل ایمان بھی موجود تھے اور گویا ان تینوں نبیوں کے مخاطب اہل ایمان اور اہل کفر دونوں تھے، ان کے برخلاف جب جضرت نوح (علیہ السلام) دنیا والوں میں آئے تو تمام روئے زمین پر صرف کافر ہی کافر تھے اہل ایمان کا وجود نہیں تھا، اس اعتبار سے حضرت نوح (علیہ السلام) دنیا میں آنے والے پہلے نبی ہیں جن کا واسطہ صرف کافروں سے تھا، اس اشکال کے کچھ اور جواب بھی علماء نے لکھے ہیں لیکن وہ زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ اس مقام پر خاص نکتہ کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ جب تمام لوگ ابتدائی اور سب سے پہلے حضرت آدم کے پاس اور پھر یکے بعد دیگرے ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے یہاں تک کہ آخر میں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کریں گے اور آپ ﷺ ان کی درخواست قبول کرلیں گے تو سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوگا کہ وہی ان لوگوں کے دلوں میں کسی شفاعت کرنے والے کے پاس جانے کا خیال ڈالے گا اور پہلا خیال حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں ہوگا کہ وہی ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کا خیال ڈال دے اور وہ ایک ایک نبی کے پاس جانے کے بجائے صرف آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ کر شفاعت کی درخواست کریں اور آپ ﷺ ان کی شفاعت کردیں تو یہ احتمال باقی رہے گا کہ دوسرے بھی شفاعت کرنے جرأت رکھتے ہوں گے اور اگر کسی اور نبی سے بھی شفاعت کی درخواست کی جاتی تو وہ بھی شفاعت کردیتا، لیکن جب وہ لوگ ایک ایک نبی کے پاس جا کر ان سے شفاعت کی دراخوست کریں گے اور ہر ایک شفاعت سے انکار کر دے گا اور پھر آخر میں آنحضرت ﷺ سے درخواست کی جائے گی جس کو آپ ﷺ قبول کرکے ان کا مقصد پورا کردیں گے تو آنحضرت ﷺ کا سب سے عالی مرتبہ ہونا اور بارگاہ کبریائی میں کمال قرب رکھنا واضح طور پر ثابت ہوجائے گا اور ہر ایک پر یہ عیاں ہوجائے گا کہ آپ ﷺ کے مرتبہ ودرجہ کا کوئی اور نہیں ہے۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام مخلوق، حتی کہ انسانوں فرشتوں اور تمام انبیاء تک پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ شفاعت جو اتنا بڑا درجہ اور اتنا اہم کام ہے کہ کوئی بھی، خواہ وہ فرشتہ یا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو اس کی جرأت و حوصلہ نہیں کرے گا صرف آنحضرت ﷺ کریں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی جس لغزش کا ذکر کیا، اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح کو مسلسل جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی سزا میں دنیا والوں پر پانی کا عذاب نازل ہوا اور تمام روئے زمین پر ہلاکت خیز پانی ہی پانی پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں اور اپنے ماننے والوں کی ایک مختصر تعداد کو لے کر ایک کشتی میں بیٹھ گئے تاکہ وہ سب طوفانی سیلاب کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہیں، اس وقت انہوں نے اپنے بیٹے کو جو کافروں کے ساتھ تھا، بلایا اور کہا کہ کافروں کے ساتھ وہ بھی غرق ہوگیا، اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے اس بیٹے کے حق میں غرقابی سے نجات کی دعا مانگی تھے اور بارگاہ رب العزت میں یوں عرض کیا تھا کہ۔ رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین۔ میرے پروردگار ! میرا یہ بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے، ( اس کو نجات دے) بیشک آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور آپ احکم الحاکمین ہیں۔ (جاری)
تشریح
وہ پہلے نبی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے۔۔ الخ۔ کے سلسلہ میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے تین نبی حضرت آدم (علیہ السلام) ، حضرت شیث (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) دنیا میں آچکے تھے۔ تو حضرت نوح (علیہ السلام) دنیا والوں کی طرف آنے والے پہلے نبی کیونکر ہوئے ! ؟ اس کا واضح جواب یہ ہے کہ پہلے تینوں نبی جب دنیا میں آئے تو تمام روئے زمین صرف اہل کفر کی آماجگاہ نہیں تھی بلکہ اس دنیا میں اہل ایمان بھی موجود تھے اور گویا ان تینوں نبیوں کے مخاطب اہل ایمان اور اہل کفر دونوں تھے، ان کے برخلاف جب جضرت نوح (علیہ السلام) دنیا والوں میں آئے تو تمام روئے زمین پر صرف کافر ہی کافر تھے اہل ایمان کا وجود نہیں تھا، اس اعتبار سے حضرت نوح (علیہ السلام) دنیا میں آنے والے پہلے نبی ہیں جن کا واسطہ صرف کافروں سے تھا، اس اشکال کے کچھ اور جواب بھی علماء نے لکھے ہیں لیکن وہ زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ اس مقام پر خاص نکتہ کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے یہ جو فرمایا گیا ہے کہ جب تمام لوگ ابتدائی اور سب سے پہلے حضرت آدم کے پاس اور پھر یکے بعد دیگرے ایک ایک نبی کے پاس جائیں گے یہاں تک کہ آخر میں حضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر شفاعت کی درخواست کریں گے اور آپ ﷺ ان کی درخواست قبول کرلیں گے تو سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوگا کہ وہی ان لوگوں کے دلوں میں کسی شفاعت کرنے والے کے پاس جانے کا خیال ڈالے گا اور پہلا خیال حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں ہوگا کہ وہی ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کا خیال ڈال دے اور وہ ایک ایک نبی کے پاس جانے کے بجائے صرف آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ کر شفاعت کی درخواست کریں اور آپ ﷺ ان کی شفاعت کردیں تو یہ احتمال باقی رہے گا کہ دوسرے بھی شفاعت کرنے جرأت رکھتے ہوں گے اور اگر کسی اور نبی سے بھی شفاعت کی درخواست کی جاتی تو وہ بھی شفاعت کردیتا، لیکن جب وہ لوگ ایک ایک نبی کے پاس جا کر ان سے شفاعت کی دراخوست کریں گے اور ہر ایک شفاعت سے انکار کر دے گا اور پھر آخر میں آنحضرت ﷺ سے درخواست کی جائے گی جس کو آپ ﷺ قبول کرکے ان کا مقصد پورا کردیں گے تو آنحضرت ﷺ کا سب سے عالی مرتبہ ہونا اور بارگاہ کبریائی میں کمال قرب رکھنا واضح طور پر ثابت ہوجائے گا اور ہر ایک پر یہ عیاں ہوجائے گا کہ آپ ﷺ کے مرتبہ ودرجہ کا کوئی اور نہیں ہے۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہمارے حضرت محمد ﷺ تمام مخلوق، حتی کہ انسانوں فرشتوں اور تمام انبیاء تک پر فضیلت رکھتے ہیں کیونکہ شفاعت جو اتنا بڑا درجہ اور اتنا اہم کام ہے کہ کوئی بھی، خواہ وہ فرشتہ یا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو اس کی جرأت و حوصلہ نہیں کرے گا صرف آنحضرت ﷺ کریں گے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی جس لغزش کا ذکر کیا، اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح کو مسلسل جھٹلانے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی سزا میں دنیا والوں پر پانی کا عذاب نازل ہوا اور تمام روئے زمین پر ہلاکت خیز پانی ہی پانی پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں اور اپنے ماننے والوں کی ایک مختصر تعداد کو لے کر ایک کشتی میں بیٹھ گئے تاکہ وہ سب طوفانی سیلاب کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہیں، اس وقت انہوں نے اپنے بیٹے کو جو کافروں کے ساتھ تھا، بلایا اور کہا کہ کافروں کے ساتھ وہ بھی غرق ہوگیا، اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے اس بیٹے کے حق میں غرقابی سے نجات کی دعا مانگی تھے اور بارگاہ رب العزت میں یوں عرض کیا تھا کہ۔ رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین۔ میرے پروردگار ! میرا یہ بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے، ( اس کو نجات دے) بیشک آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور آپ احکم الحاکمین ہیں۔ (جاری)
5485
Mishkaat Shareefبقیہ) اللہ تعالیٰ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی یہ درخواست چونکہ ایک ایسا امر تھا جس کو انہوں نے جانے بوجھے بغیر ظاہر کیا تھا اور اس بات کی تحقیق نہیں کرلی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے اس طرح کی دعا مانگنی چاہئے یا نہیں، اس لئے ان پر بارگاہ الٰہی سے عتاب نازل ہوا کہ نوح ہم سے وہ چیز نہ مانگو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں ہے اور جس کے بارے میں تم نہیں جانتے کہ وہ چیز مانگی جانی چاہئے یا نہیں۔ اور وہ دنیا میں تین مرتبہ جھوٹ بولنے کا ذکر کریں گے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی جن باتوں کو جھوٹ سے تعبیر کریں گے حقیقت میں ان پر جھوٹ کا اطلاق نہیں ہوسکتا، گو ظاہری حیثیت کے اعتبار سے وہ جھوٹ کی سی صورت رکھتی ہوں، لیکن انبیاء جس عالی مرتبہ کے ہوتے ہیں اور ان کا جو اونچا مقام ہوتا ہے اس کے پیش نظر ان کی اس طرح کی باتوں کو بھی جو ان کے مقام سے فروتر ہوں، بارگاہ رب العزت میں نظر انداز نہیں کیا جاتا اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ حسنات الا برار سئیات المقربین ( بعض باتیں نیکوں کے حق میں تو نیکیاں ہوتی ہیں لیکن مقربین کے حق میں برائیاں ہوتی ہیں۔ رہی یہ بات کہ وہ تین باتیں کیا تھیں جن کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جھوٹ کے طور پر اپنی لغزش بتائیں گے، تو ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ ایک دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے کسی میلہ میں تماشہ دیکھنے آبادی سے باہر جانے لگی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں جاؤں گا اور جب یہ سب لوگ چلے جائیں گے تو ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھا کر ان کے بت توڑ دوں گا جن کو یہ پوجتے ہیں اور میری باربار کی تلقین و تنبیہ کے باوجود بت پرستی سے باز نہیں آتے، چناچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگوں کو جانا ہو تو جاؤ میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتا کیونکہ میں بیمار ہوں، ظاہر ہے کہ وہ دیکھنے میں جسمانی طور پر بیمار نہیں تھے اور ان کا یہ کہنا کہ میں بیمار ہوں بظاہر جھوٹ سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو ان کی یہ بات جھوٹ میں شمار نہیں کی جاسکتی کیونکہ جب انہوں نے یہ بات کہی تھی تو یہ مراد رکھ کر کہی تھی کہ تمہارے کفر وشرک اور تمہاری غلط حرکتوں نے میرے دل کو دکھی کردیا ہے اور میں تمہارے غم میں اندورنی طور پر بیمار ہوں، دوسری بات یہ تھی کہ قوم کے لوگوں کے میلے میں چلے جانے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے بتوں کو توڑ پھوڑ دیا اور جب ان لوگوں نے واپس آکر دیکھا کہ آپ نے بتوں کو توڑ پھوڑ دیا ہے۔ ان کا یہ جواب بھی اپنی ظاہری حیثیت میں ایک جھوٹ نظر آتا ہے، لیکن یہاں بھی وہی صورت حال ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بات اس مراد کے ساتھ کہی تھی کہ یہ جو بڑا بت ہے یہ تمہاری عبادات و تعظیم کے لئے ایک ممتاز ومنفرد حیثیت رکھتا ہے لہٰذا اس کا وجود اس بات کا باعث بنا کہ میں دوسرے چھوٹے چھوٹے بتوں کو توڑ دوں یا اس بات سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد ان لوگوں کا مذاق اڑانا اور ان کو شرمندہ کرنا تھا کہ جس بت کو تم سب سے بڑا مانتے ہو اور سب سے زیادہ اس کی عبادت کرتے ہو، اس کی لاچاری اور بےوقعتی کا یہ عالم ہے کہ اس کے ساتھی بتوں کو توڑ پھوڑ ڈالا گیا مگر وہ کسی بت کو بچا نہیں سکا ایسی صورت میں کیا یہ بت تمہاری پرستش کا مستحق ہوسکتا ہے ! اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسا کہ ایک شخص تو بہت زیادہ خوشخط ہو اور اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا شخص بہت زیادہ بد خط ہو اور وہ بدخط شخص خوشخط شخص کی کسی لکھی ہوئی تحریر کو دیکھ کر کہے کہ کیا یہ تحریر تم نے لکھی ہے اور خوشخط شخص اس کے جواب میں کہے کہ جی نہیں، یہ تو تم نے لکھی ہے، ظاہر ہے کہ اس جواب کے ذریعہ وہ یہی واضح کرتا ہے کہ تم تو اتنی اچھی تحریر ہرگز نہیں لکھ سکتے، پھر یہاں میرے علاوہ اور کون لکھنے والا ہوسکتا ہے ! تیسری بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی بیوی یعنی حضرت سارہ کو ایک بدکار کافر کے ہاتھوں سے بچانے کے لئے کہا تھا کہ یہ عورت میری بہن ہے یہ بات بھی بظاہر جھوٹ کے دائرہ میں آتی ہے، لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ ایک مؤمن کی مؤمنہ بیوی بہرحال اس کی دینی بہن ہوتی ہے اور یہ بات کہنے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مراد بھی یہی تھی کہ یہ عورت میری دینی بہن ہے، تو اس پر جھوٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے، ویسے یہ بھی ملحوظ رہے کہ حضرت سارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چچازاد بہن بھی تھیں، اس اعتبار سے بھی ان کا سارہ کو بہن کہنا کوئی جھوٹ نہیں تھا۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آئے، دوسرے انبیاء کے برخلاف حضرت عیسیٰ شفاعت کی درخواست لے کر آنے والوں کے سامنے اپنے کسی عذر کو بیان نہیں کریں گے اور نہ اپنی کسی لغزش کا ذکر کریں گے، اس کی وجہ علماء نے یہ لکھی ہے کہ حضرت عیسیٰ اس وقت اپنا عذر بیان کرنے میں توقف شاید اسی لئے کرینگے کہ وہ اس تہمت کی وجہ سے جو عیسائیوں کی طرف سے ان کو اللہ کا بیٹا کہے جانے کی صورت میں ان پر تھوپی گئی ہے، اس درجہ شرمندہ ونادم ہوں گے کہ وہ اپنی خاموشی ہی کو زبان حال سے عذر بنالیں گے ویسے بعض روایتوں میں ان کے کچھ عذر نقل بھی کئے گئے ہیں، بہر حال اصل بات یہ ہے کہ شفاعت کا درجہ صرف ہمارے حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہوگا جو سید المرسلین اور امام النبین ہیں، آپ ﷺ کے علاوہ دوسرے تمام انبیاء اور رسول صلوت اللہ علیہم اجمعین شفاعت کے مقام پر کھڑا ہونے اور بارگاہ رب العزت میں شفاعت کرنے سے عاجز و قاصر ہیں، ان کو یہ بلند بالا مرتبہ عطا ہی نہیں ہوا ہے، لہٰذا شفاعت کی درخواست لے کر آنے والوں کے سامنے انہیں کونسی عذر بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی اور وہ سب یا ان میں سے کچھ انبیاء کوئی عذر بیان کئے بغیر یہی کہیں گے کہ ہم اس عظیم الشان امر کے اہل نہیں ہیں۔ جن کے اگلے پچھلے سارے گناہ اللہ تعالیٰ نے بخش دیئے ہیں۔ اس جملہ کے سلسلہ میں واضح رہے کہ تمام ہی انبیاء معصوم عن الخطا یعنی گناہوں سے محفوظ ہیں چہ جائیکہ رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی کہ آپ ﷺ تو بدرجہا اولی اس سے پاک ومنزہ ہیں کہ کسی گناہ کی نسبت بھی آپ ﷺ کی طرف ہو، پس یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کے سارے اگلے پچھلے گناہ اللہ تعالیٰ نے بخش دیئے ہیں۔ یہ معنی رکھتا ہے ؟ اس کے بارے میں علماء نے مختلف باتیں کہی ہیں اور اس جملہ کی متعدد تاویلیں منقول ہیں، لیکن زیادہ واضح تاویل یہ ہے کہ یہ جملہ دراصل بارگاہ رب العزت کی جانب سے سید المرسلین ﷺ کی عظیم اعزاز اور آپ ﷺ کی برتر فضیلت کے اظہار کا ذریعہ ہے قطع نظر اس امر کے کہ آپ ﷺ سے کوئی گناہ سرزد ہوا اور اس کی بخشش کی جائے ! اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کوئی امر مطلق اور بادشاہ اپنے کسی خاص مصاحب کو ہر حالت میں اپنا مطیع و فرمانبردار پرکھ لیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے تو اپنے دوسرے مصاحبوں اور رعایا کے لوگوں کے درمیان اس خاص مصاحب کی امتیازی اور مخصوص حیثیت کو ظاہر کرنے کے لئے اس سے یہ کہتا ہے کہ ہم نے تمہیں معاف کیا خواہ تم نے کچھ ہی کیا ہو اور آئندہ تم جو کرو وہ بھی معاف، تم پر کوئی مواخذہ اور گرفت نہیں۔ اور میں در رب العزت پر پہنچ کر اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا۔ یہ جملہ حدیث کی اس عبارت۔ کا آزاد ترجمہ ہے اگر اس عبارت کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو وہ یوں ہوگا کہ پس میں اپنے پروردگار کے پاس اس کے مکان میں داخل ہونے کی اجازت طلب کروں گا۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ اس کے مکان سے مراد اس کی طرف سے عطا ہونے والے اجروثواب کی جگہ یعنی جنت ہے۔ لیکن یہ مراد گنجلک ہے، زیادہ واضح تاویل وہ ہے جو علامہ تورپشتی نے بیان کی ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ پروردگار کے پاس اس کے مکان میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے یہ اجازت مانگیں گے کہ وہ آپ ﷺ کو اس مقام میں داخل ہونے کی اجازت عطا کرے جہاں کسی کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے جہاں پہنچ کر جو بھی عرض ودعا کی جائے، اس کا منظور و مقبول ہونا یقینی ہے اور جہاں پہنچ کر کھڑے ہونے والے اور پروردگار کے درمیان کوئی حجاب حائل نہیں ہے اور یہ وہ مقام ہے جس کو مقام محمود سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی کو مقام شفاعت بھی کہتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ پروردگار تو مکان ولامکان کی قید سے پاک ہے۔ اس کو جہاں بھی پکارا جائے اور جس جگہ بھی اس سے عرض ودعا کی جائے وہ وہیں موجود ہے اور وہیں سنتا اور دیکھتا ہے تو پھر اس کی کیا ضرورت ہوگی کہ آنحضرت ﷺ میدان حشر میں جس جگہ لوگوں کی شفاعت کی درخواست قبول کریں گے وہاں سے چل کر اس مقام خاص پر بارگاہ رب العزت میں پیش ہونے کی اجازت طلب کریں گے اور پھر عرض ومعروض کریں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مؤقف ( یعنی میدان حشر کہ جہاں لوگ ٹھہرے ہوں گے) دراصل ایک ایسے ملکی نظام کی طرح ہوگا جو کسی باقاعدہ اور مہذب حکومت کے تحت ہو، جہاں ہر شخص کے مرتبہ ودرجہ کے مطابق طریق کار اور نظم عمل کا ( اصول کار فرما ہو، چناچہ اس وقت آنحضرت ﷺ شافع کی حیثیت رکھیں گے اور شافع کا یہ حق ہے کہ وہ اعزازو اکرام کی جگہ آکر کھڑا ہو، لہٰذا اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ بات ڈالے گا کہ وہ اس جگہ سے چل کر جو خوف وہولنا کی اور وحشت و گھبراہٹ سے گھری ہوگی، اس جگہ آئیں جو آپ ﷺ کے اعزازو اکرام کا مقام ہے، تاکہ آپ وہاں اطمینان اور دلجمی کے ساتھ عرض ومعروض کرسکیں۔ اور اس حمد و تعریف کے ساتھ کہ جو پروردگار مجھے سکھلائے گا۔۔ الخ۔ سے حضور نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ اس وقت میں جن الفاظ، جس اسلوب اور جس انداز میں اللہ رب العزت کی تعریف و توصیف بیان کروں گا وہ کیا ہوگا۔ اس وقت اس کا علم مجھے بھی نہیں ہے وہ سب کچھ مجھے اسی وقت سکھایا اور بتایا جائے گا اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمدوتعریف اس موقع اور اس مقام کی مناسبت سے جس قدر وسعت وگہرائی رکھ سکتی ہے اس کا ادراک یہاں کیا ہی نہیں جاسکتا۔ اسی اعتبار سے اس مقام کو مقام حمد اور مقام محمود کہتے ہیں۔ حدیث کے اس جزو سے یہ بات ہوئی کہ جو شخص کسی سے سفارش کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ پہلے اس ( اس سفارش قبول کرنے والے کی تعریف و توصیف کرے تاکہ اس کا قرب اور اس کی توجہ حاصل کرسکے اور قبول سفارش سے نوازا جائے۔ پھر میں شفاعت کروں گا کے ضمن میں قاضی نے لکھا ہے کہ حضرت انس اور حضرت ابوہریرہ (رض) ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی خوب خوب حمد و ثنا کریں گے اور پھر اس حمدو ثناء کے بعد شفاعت کی اجازت پا کر امتی امتی کہنا شروع کریں گے۔ اور میرے لئے شفاعت کی ایک حد مقرر کردی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سامنے یہ متعین فرما دے گا کہ ایسے ایسے گنہگاروں کی شفاعت کرو، مثلا وہ فرمائے گا کہ اپنی امت کے ان لوگوں کی شفاعت کرو جو زنا کار تھے، یا جو بےنمازی تھے اور یا جو شراب نوش تھے، چناچہ میں اسی تعین کے ساتھ شفاعت کروں گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے زانیوں کے حق میں تمہاری سفارش قبول کی، پھر فرمائے گا کہ میں نے بےنمازیوں کے حق میں تمہاری شفاعت قبول کی۔ اسی پر دوسرے طبقوں کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ اور اس جماعت کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں داخل کراؤں گا اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث کے شروع میں تو یہ مذکور ہے کہ شفاعت کی درخواست کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جن کو میدان حشر میں محصور کیا گیا ہوگا اور وہاں کی تنگی و سختی اور کرب وہولنا کی سے تنگ آکر آپ ﷺ کی سفارش چاہیں گے تاکہ آپ ﷺ انہیں اس جگہ کی پریشانیوں اور ہولنا کیوں سے نجات دلائیں لیکن یہاں حدیث کے اس جزو میں جب بارگاہ الٰہی میں حضور ﷺ کی شفاعت کرنے اور آپ ﷺ کی شفاعت قبول ہونے کا ذکر آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس جماعت کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں داخل کراؤں گا تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کسے شفاعت کی درخواست کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جنہیں دوزخ میں بھیجا جا چکا ہوگا ! ؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک تو یہ کہ شاید اہل ایمان کے دو طبقے ہونگے ایک طبقہ کو تو ( جو اپنے گناہوں کے سبب سزا کا مستوجب ہوگا) میدان حشر میں محصور کئے بغیر دوزخ میں بھیج دیا جائے گا اور یہی طبقہ آنحضرت ﷺ سے شفاعت کی درخواست کرے گا، چناچہ آپ ﷺ شفاعت کے ذریعہ اس طبقہ کو اس بدترین حالت سے کہ جس میں وہ گرفتار ہوگا نجات دلا کر جنت میں پہنچوائیں گے اور پھر اس کے بعد آپ ﷺ اس طبقہ کے حق میں جماعت جماعت کر کے شفاعت فرمائے گے جو دوزخ میں ڈالا جا چکا ہوگا اور متعدد دفعوں میں ان کو دوزخ سے نکلوا کر جنت میں داخل کروائیں گے ! اس جواب کا حاصل یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اس حدیث میں یہاں صرف اسی ایک طبقہ کا ذکر فرمایا اور اختصار کلام کے طور پر دوسرے طبقہ کے ذکر کو حذف فرما دیا کیونکہ اس ایک طبقہ کو نجات دلانے کے ذکر سے دوسرے طبقہ کو نجات دلانے کے ذکر سے دوسرے طبقہ کو نجات دلانا بطریق اولی مفہوم ہوجاتا ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ حدیث میں یہاں نار ( یعنی آگ) کا لفظ منقول ہے جس کا ترجمہ دوزخ کیا گیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ نار یعنی آگ سے مراد دوزخ نہ ہو بلکہ وہ سخت حبس، تپش اور گرمی مراد ہو جو میدان حشر میں سورج کے بہت قریب آجانے کی وجہ سے وہاں محسوس کی جائے گی اور نکلوانے سے مراد اس سخت تپش اور گرمی سے لوگوں کو چھٹکارا دلانا ہو، اس صورت میں حدیث کی اس عبارت فاخرجہم من النار وادخلہم الجنۃ کا مفہوم یہ ہوگا کہ میں شفاعت قبول ہونے کے بعد درگاہ رب العزت سے باہر آؤں گا اور لوگوں کو سخت ترین تپش اور گرمی سے چھٹکارا دلا کر جنت تک پہنچواؤں گا یہ جواب اگرچہ ایک ایسی وضاحت ہے جس پر مجازی اسلوب کا اطلاق ہوسکتا ہے، مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہی جواب حقیقت امر کے بہت قریب ہے اور حدیث کے اصل موضوع کے نہایت مناسب ہے، کیونکہ اس ارشاد گرامی میں جس شفاعت کا ذکر ہو رہا ہے اس سے شفاعت عظمی مراد ہے جس کو آنحضرت ﷺ کے ایک ارشاد ادم ومن دونہ تحت لوائی یوم القیامۃ۔ کے بموجب مقام محمود اور لوائے ممدود سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس شفاعت عظمی کا اصل مقصد تمام مخلوق کو میدان حشر کی پریشانیوں اور ہولنا کیوں سے چھٹکارا دلانا، جہاں وہ حساب کے انتظار میں کھڑے ہوں گے اور ان کا حساب جلد کرنا ہوگا، نیز یہی وہ شفاعت ہے جو صرف آنحضرت کے لئے مخصوص ہے، اس کے بعد پھر خود آنحضرت ﷺ ، دوسرے انبیاء، اولیاء علماء، صلحا، شہدا اور فقراء کی طرف سے متعدد شفاعتیں ہوں گی جن کی تفصیل ابتدائے باب میں بیان ہوچکی ہے۔ یہی وہ مقام محمود ہے۔۔ الخ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اس آیت میں حضور کے لئے جس مقام محمود کا وعدہ کیا ہے وہ اسی شفاعت عظمی کا مقام ہے جو آپ ﷺ کے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ اس مقام کی صفت لفظ محمود کے ساتھ یا تو اس اعتبار سے ہے کہ اس مقام پر کھڑا ہونے والا اس کی تعریف کرے گا اور اس کو پہچانے گا، یا اس اعتبار سے ہے کہ آنحضرت ﷺ اس مقام پر کھڑے ہو کر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کریں گے اور یا اس اعتبار سے ہے کہ وہ مقام عطا ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی تعریف و توصیف تمام اولین وآخرین مخلوق کی زبان پر ہوگی۔
5486
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم في بعض فيأتون آدم فيقولون اشفع لنا إلى ربك فيقول لست لها ولكن عليكم بابراهيم فإنه خليل الرحمن فيأتون إبراهيم فيقول لست لها ولكن عليكم بموسى فإنه كليم الله فيأتون موسى فيقول لست لها ولكن عليكم بعيسى فإنه روح الله وكلمته فيأتون عيسى فيقول لست لها ولكن عليكم بمحمد فيأتوني فأقول أنا لها فأستأذن على ربي فيؤذن لي ويلهمني محامد أحمده بها لا تحضرني الآن فأحمده بتلك المحامد وأخر له ساجدا فيقال يا محمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فأقول يارب أمتي أمتي فيقال انطلق فأخرج من كان في قلبه مثقال شعيرة من إيمان فأنطلق فأفعل ثم أعود فأحمده بتلك المحامدوأخر له ساجدا فيقال يا محمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فأقول يارب أمتي أمتي فيقال انطلق فأخرج من كان في قلبه مثقال ذرة أو خردلة من إيمان فأنطلق فأفعل ثم أعود فأحمده بتلك المحامدوأخر له ساجدا فيقال يا محمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فأقول يارب أمتي أمتي فيقال انطلق فأخرج من كان في قلبه أدنى أدنى أدنى مثقال حبة من خردلة من إيمان فأخرجه من النار فأنطلق فأفعل ثم أعود الرابعة فأحمده بتلك المحامدوأخر له ساجدا فيقال يا محمد ارفع رأسك وقل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع فأقول يارب ائذن لي فيمن قال لا إله إلا الله قال ليس ذلك لك ولكن وعزتي وجلالي وكبريائي وعظمتي لأخرجن منها من قال لا إله إلا الله . متفق عليه
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو (میدان حشر میں) لوگ ایک دوسرے کے ساتھ عجب اضطراب افراتفری کی حالت میں ہوں گے (یعنی وہاں کی سختی وتنگی اور ہولناکی سے بیتاب ہو کر ادھر ادھر بھاگے پھریں گے اور آپس میں صلاح و مشورہ کریں گے کہ اس ہولناکی سے چھٹکارے کی کیا راہ نکالی جائے) چناچہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے شفاعت کر دیئجے ( کہ وہ ہمارے حساب و کتاب کا حکم جاری فرما دے اور ہمیں اجرو ثواب یا عذاب دے کر ہمارے معاملہ ایک طرف کرے) حضرت آدم (علیہ السلام) جواب دیئے گے کہ میں شفاعت کا اہل نہیں ہوں، البتہ تم لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ اللہ کے دوست ہیں ( اور تمہاری شفاعت کرسکتے ہیں) وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی انہیں جواب دیں گے کہ میں شفاعت کا اہل نہیں ہوں، البتہ تم لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ اللہ کے کلیم ہیں ( اور تمہاری شفاعت کرسکتے ہیں) وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی یہی جواب دیں گے کہ میں شفاعت کا اہل نہیں ہوں، البتہ تم لوگوں کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانا چاہئے جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ( اور تمہاری شفاعت کرسکتے ہیں) وہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی یہی جواب دیں گے کہ میں شفاعت کا اہل نہیں ہوں اور تمہیں محمد ﷺ کے پاس جانا چاہئے ( وہی تمہاری شفاعت کرسکتے ہیں ) ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تب لوگ میرے پاس آئیں گے ( اور مجھ سے شفاعت کی درخواست کریں گے) میں ان سے کہوں گا کہ ہاں بیشک میں شفاعت کا اہل ہوں ( کہ یہ کام میں ہی کرسکتا ہوں، کسی اور کے بس میں کا نہیں ہے پھر میں بارگاہ رب العزت میں پیش ہونے کی اجازت طلب کروں گا، مجھے پیش ہونے کی اجازت عطا کی جائے گی اور ( اس کے ساتھ ہی) اللہ تعالیٰ میرے دل میں اپنی حمد وثنا کے الفاظ ڈالے گا جس کے ذریعہ ( اس وقت) میں اس کی حمد وثنا کروں گا اور وہ حمد وثنا ( کن الفاظ اور کس اسلوب میں ہوگی اس وقت مجھے معلوم نہیں ہے، بہر حال ( جب میں اس کی بارگاہ میں پیش ہوں گا اور اس کو دیکھوں گا تو) سجدہ میں گر پڑوں گا اور اس کی وہی حمد وثنا بیان کروں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ محمد ! اپنا سر اٹھاؤ، جو کچھ کہنا چاہتے ہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی، جو مانگنا چاہتے ہو مانگو میں دوں گا اور جو شفاعت کرنا چاہتے ہو کرو میں قبول کروں گا۔ میں ( سجدہ سے سر اٹھانے کے بعد یا سجدہ ہی میں) عرض کروں گا کہ میرے پروردگار ! میری امت کو بخش دیجئے، میری امت پر رحم فرمائیے ( یا یہ مطلب ہے کہ میرے پروردگار میں اپنی امت کے بارے میں شفاعت کرتا ہوں) مجھ سے کہا جائے گا کہ جاؤ ہر اس شخص کو ( دوزخ سے) نکال لو جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے، پس میں جاؤں گا اور پروردگار کے حکم کے مطابق عمل کروں گا، اس کے بعد میں پھر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہونگا اور انہیں الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتا ہوا سجدہ میں گر پڑوں گا پھر مجھ سے کہا جائے گا محمد ! اپنا سر اٹھاؤ کہنا چاہتے ہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی جو مانگنا چاہتے ہو مانگو میں دوں گا اور جو شفاعت کرنا چاہتے ہو کرو میں قبول کروں گا میں عرض کروں گا میرے پروردگار ! میری امت کو بخش دیجئے، میری امت پر رحم فرمائیے ! مجھ سے کہا جائے گا کہ جاؤ اور ہر اس شخص کو دوزخ سے) نکال لو جس کے دل میں ذرے یا رائی کے برابر بھی ایمان ہے پس میں جاؤں گا اور پروردگار کے حکم کے مطابق عمل کروں گا، اس کے بعد پھر میں بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوں گا اور انہی الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرتا ہوا سجدہ میں گرپڑوں گا۔ پھر مجھ سے کہا جائے گأ کہ محمد ! اپنا سر اٹھاؤ جو کہنا چاہتے ہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی جو مانگنا چاہتے ہو مانگو میں دوں گا اور جو شفاعت کرنا چاہتے ہو کرو میں قبول کروں گا میں عرض کروں گا کہ میرے پروردگار ! میری امت کو بخش دیجئے، میری امت پر رحم فرمائیے مجھ سے کہا جائے گا کہ جاؤ اور ہر اس شخص کو ( دوزخ سے) نکال لو جس کے دل میں رائی کے ادنیٰ دانہ برابر بھی ایمان ہے۔ پس میں جاؤں گا اور پروردگار کے حکم کے مطابق عمل کروں گا۔ اس کے بعد پھر میں چوتھی مرتبہ بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوں گا اور انہیں الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرتا ہوا سجدہ میں گر پڑونگا، پھر مجھ سے پوچھا جائے گا کہ محمد ! اپنا سر اٹھاؤ جو کہنا چاہتے ہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی جو مانگنا چاہتے ہو مانگوں میں دوں گا اور جو شفاعت کرنا چاہتے ہو کرو میں قبول کروں گا۔ میں عرض کروں گا میرے پروردگار (اب) مجھے اس شخص کی بھی شفاعت کی اجازت مرحمت فرما دیجئے جس نے لا الہ الا اللہ کہا ہو پروردگار فرمائے گا کہ نہیں، اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اپنے عزت و جلال اور اپنی ذاتی وصفاتی عظمت و بڑائی کی قسم، اس شخص کو میں خود دوزخ سے نکالوں گا جس نے لاالہ الا اللہ کہا ہوگا۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
جس کے دل میں جو برابر بھی ایمان ہو۔ واضح رہے کہ اس طرح کے جملوں، یعنی جس کے دل میں جو برابر یا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر اور یا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر اور یا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو کی توضیح و تاویل میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں اور یہ اختلاف اقوال پر مبنی ہے جو اصل ایمان کی بحث کے سلسلہ میں ان کے درمیان پایا جاتا ہے، یہ ایک لمبی چوڑی بحث ہے اور کتاب الایمان وغیرہ میں مختلف مواقع پر گزر بھی چکی ہے اس موقع پر صرف اتنا بتادینا ضروری ہے کہ مذکورہ جملوں میں جس چیز کو جو یا رائی یا ذرہ کے برابر فرمایا گیا ہے اس سے حقیقی ایمان مراد نہیں ہے بلکہ از قسم خود خیرو بھلائی وہ چیز مراد ہے جو ایمان کے ثمرات و نتائج، ایقان کی روشنی اور عرفان کے نور سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس چیز پر حقیقت ایمان کا اطلاق اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ اصل ایمان جو تصدیق قلبی ( یعنی خاص دل سے ماننے) اور ایسے ہی قرار لسانی ( زبان سے سچا اقرار کرنے) کا نام ہے، ایک ایسا جوہر ہے جس کو اجزاء اور حصوں میں تقسیم ہی نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس پر کسی قسم کی زیادتی کا اجراء ہوسکتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل ایمان ( یعنی نفس تصدیق قلبی اور یقین دلی، نہ تو گھٹتا ہے اور نہ اس کو کسی مقدار یا حصہ میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پس جو علماء یہ کہتے ہیں کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے اور اس پر کمی وبیشی کا اطلاق ہوسکتا ہے اگر ان کے اس قول کو اچھے اور برے اعمال کے اعتبار سے ایمان کے ثمرات و درجات میں کمی و زیادتی پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں معلوم ہوگا کہ مذکورہ مسئلہ سے متعلق علماء کے درمیان درحقیقت کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ ان کے اختلافی اقوال محض لفظی اختلاف اور صوری نزاع ہے۔ جس کے دل میں رائی کے ادنیٰ دانہ کے برابر بھی ایمان ہے۔ یہ دراصل حق تعالیٰ کی طرف سے انتہائی فضل و کرم کا اظہار ہوگا کہ اس شخص کو بھی دوزخ سے نکال لو جو ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مؤمن ہے۔ جس نے لاالہ الا اللہ کہا۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان لوگوں کی بھی شفاعت کرنا چاہتا ہوں جن کے نامہ اعمال میں اس کلمہ طیبہ کے علاوہ اور کوئی بھی نیکی نہیں ہے اور ملا علی قاری کی وضاحت کے مطابق اگرچہ انہوں نے اپنے ایمان کی حالت میں یا ایمان لانے کے بعد اپنی پوری زندگی میں کلمہ طیبہ بھی صرف ایک ہی مرتبہ کیوں نہ زبان سے ادا کیا ہو ! حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ آخری مرتبہ جن لوگوں کی شفاعت کریں گے وہ اس درجہ کے مؤمن ہوں گہ ان کا نامہ اعمال میں کوئی بھی نیکی اور کوئی بھی اچھا کام نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کبھار اپنی زبان سے کلمہ طیبہ ادا کیا ہوگا بلکہ بعض تو ایسے بھی ہوں گے جن کی زبان پر پوری عمر میں صرف ایک ہی مرتبہ یہ کلمہ آیا ہوگا اور ان کے بارے میں یہ شفاعت بھی آپ ﷺ اس امید پر کرنا چاہیں گے کہ زبان سے لا الہ الا اللہ کہنا بھی بہر حال ایک نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی بھی نیکی خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی اور کتنی ہی کم درجہ کی کیوں نہ ہو، ضائع نہیں جانے دیئے گا بلکہ اول یا آخر اس کا اجر ضرور دے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے کہ من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ ( یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں جائے گا) طیبی نے کہا ہے کہ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ اس حدیث میں جو اور رائی وغیرہ کی مقدار کے برابر کے ذریعہ جس چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے وہ اصل ایمان مراد نہیں ہے جس کو تصدیق قلبی سے تعبیر کیا جاتا ہے بلکہ اس ایمان کے علاوہ کچھ اور مراد ہے اور وہ کچھ اور از قسم نیکی و بھلائی وہ چیز ہے جو ایمان کے ثمرہ کے طور پر دل میں پیدا ہوتی ہے۔ نہیں اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے الخ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جس شخص کے نامہ اعمال میں لا الہ الا اللہ کہنے کے علاوہ اور کوئی بھی نیکی، نہیں ہے اس کو دوزخ سے نکالنے کی شفاعت کا حق بھی گو آپ ﷺ کو حاصل ہے اور آپ ﷺ شوق سے ایسے شخص کی شفاعت بھی کیجئے ہم اس کو قبول کریں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو دوزخ سے نکلوانا آپ ﷺ کے ذمہ نہیں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ بیشک ہم اس شخص کو بھی دوزخ سے نکالیں گے مگر ایسا ہم آپ کی شفاعت کی وجہ سے نہیں کرینگے بلکہ اس وجہ سے کریں گے کہ اپنے فضل و کرم کو ظاہر کرنے کے لئے ہم خود اس کو دوزخ سے نکالنا پسند کرتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس مؤمن کے دوزخ سے نکالے جانے کا معاملہ کہ جس نے اپنی پوری عمر میں کوئی نیکی و بھلائی نہیں کی ہے، شفاعت کے دائرہ سے باہر ہوگا بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے متعلق ہوگا۔ اس صورت میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ آگے حضرت ابوہریرہ (رض) کی جو روایت اسعد الناس الخ آرہی ہے پھر اس کا کیا مفہوم ہوگا اور مذکورہ مطلب مراد لینے کی صورت میں اس روایت اور اس حدیث کے درمیان تطبیق کیا ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہاں پہلا مطلب مراد لیا جائے تو ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تعارض ہی نہیں رہے گا کیونکہ مذکورہ شخص کو اللہ تعالیٰ بہر حال آنحضرت ﷺ کی شفاعت ہی کے سبب دوزخ سے نکالے گا اور اگر دوسرا مطلب مراد لیا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ یہاں حدیث میں جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا ہو سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے نبی پر ایمان تو لائے تھے لیکن کوئی بھی عمل خیر نہ رکھتے اور اپنی بد عملیوں کی بنا پر دوزخ کے مستوجب قرار دے دئیے گیئے ہوں گے اور آگے آنے والی حضرت ابوہررہ (رض) کی روایت میں آنحضرت ﷺ کے امت کے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنے نیک اعمال کو اپنے برے اعمال کے ساتھ اس طرح خلط ملط کیا ہوگا ان کی نیکیاں ہلکی اور برائیاں بھاری پڑگئی ہوں گی اور وہ دوزخ کے مستوجب قرار دے دئیے گئے ہوں گے۔
تشریح
جس کے دل میں جو برابر بھی ایمان ہو۔ واضح رہے کہ اس طرح کے جملوں، یعنی جس کے دل میں جو برابر یا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر اور یا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر اور یا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو کی توضیح و تاویل میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں اور یہ اختلاف اقوال پر مبنی ہے جو اصل ایمان کی بحث کے سلسلہ میں ان کے درمیان پایا جاتا ہے، یہ ایک لمبی چوڑی بحث ہے اور کتاب الایمان وغیرہ میں مختلف مواقع پر گزر بھی چکی ہے اس موقع پر صرف اتنا بتادینا ضروری ہے کہ مذکورہ جملوں میں جس چیز کو جو یا رائی یا ذرہ کے برابر فرمایا گیا ہے اس سے حقیقی ایمان مراد نہیں ہے بلکہ از قسم خود خیرو بھلائی وہ چیز مراد ہے جو ایمان کے ثمرات و نتائج، ایقان کی روشنی اور عرفان کے نور سے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس چیز پر حقیقت ایمان کا اطلاق اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ اصل ایمان جو تصدیق قلبی ( یعنی خاص دل سے ماننے) اور ایسے ہی قرار لسانی ( زبان سے سچا اقرار کرنے) کا نام ہے، ایک ایسا جوہر ہے جس کو اجزاء اور حصوں میں تقسیم ہی نہیں کیا جاسکتا اور نہ اس پر کسی قسم کی زیادتی کا اجراء ہوسکتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل ایمان ( یعنی نفس تصدیق قلبی اور یقین دلی، نہ تو گھٹتا ہے اور نہ اس کو کسی مقدار یا حصہ میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پس جو علماء یہ کہتے ہیں کہ ایمان گھٹتا بڑھتا ہے اور اس پر کمی وبیشی کا اطلاق ہوسکتا ہے اگر ان کے اس قول کو اچھے اور برے اعمال کے اعتبار سے ایمان کے ثمرات و درجات میں کمی و زیادتی پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں معلوم ہوگا کہ مذکورہ مسئلہ سے متعلق علماء کے درمیان درحقیقت کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ ان کے اختلافی اقوال محض لفظی اختلاف اور صوری نزاع ہے۔ جس کے دل میں رائی کے ادنیٰ دانہ کے برابر بھی ایمان ہے۔ یہ دراصل حق تعالیٰ کی طرف سے انتہائی فضل و کرم کا اظہار ہوگا کہ اس شخص کو بھی دوزخ سے نکال لو جو ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ کا مؤمن ہے۔ جس نے لاالہ الا اللہ کہا۔ کا مطلب یہ ہے کہ میں ان لوگوں کی بھی شفاعت کرنا چاہتا ہوں جن کے نامہ اعمال میں اس کلمہ طیبہ کے علاوہ اور کوئی بھی نیکی نہیں ہے اور ملا علی قاری کی وضاحت کے مطابق اگرچہ انہوں نے اپنے ایمان کی حالت میں یا ایمان لانے کے بعد اپنی پوری زندگی میں کلمہ طیبہ بھی صرف ایک ہی مرتبہ کیوں نہ زبان سے ادا کیا ہو ! حاصل یہ کہ آنحضرت ﷺ آخری مرتبہ جن لوگوں کی شفاعت کریں گے وہ اس درجہ کے مؤمن ہوں گہ ان کا نامہ اعمال میں کوئی بھی نیکی اور کوئی بھی اچھا کام نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کبھار اپنی زبان سے کلمہ طیبہ ادا کیا ہوگا بلکہ بعض تو ایسے بھی ہوں گے جن کی زبان پر پوری عمر میں صرف ایک ہی مرتبہ یہ کلمہ آیا ہوگا اور ان کے بارے میں یہ شفاعت بھی آپ ﷺ اس امید پر کرنا چاہیں گے کہ زبان سے لا الہ الا اللہ کہنا بھی بہر حال ایک نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی بھی نیکی خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی اور کتنی ہی کم درجہ کی کیوں نہ ہو، ضائع نہیں جانے دیئے گا بلکہ اول یا آخر اس کا اجر ضرور دے گا، جیسا کہ ایک حدیث میں یوں فرمایا گیا ہے کہ من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ ( یعنی جس نے لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں جائے گا) طیبی نے کہا ہے کہ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ اس حدیث میں جو اور رائی وغیرہ کی مقدار کے برابر کے ذریعہ جس چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے وہ اصل ایمان مراد نہیں ہے جس کو تصدیق قلبی سے تعبیر کیا جاتا ہے بلکہ اس ایمان کے علاوہ کچھ اور مراد ہے اور وہ کچھ اور از قسم نیکی و بھلائی وہ چیز ہے جو ایمان کے ثمرہ کے طور پر دل میں پیدا ہوتی ہے۔ نہیں اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے الخ کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جس شخص کے نامہ اعمال میں لا الہ الا اللہ کہنے کے علاوہ اور کوئی بھی نیکی، نہیں ہے اس کو دوزخ سے نکالنے کی شفاعت کا حق بھی گو آپ ﷺ کو حاصل ہے اور آپ ﷺ شوق سے ایسے شخص کی شفاعت بھی کیجئے ہم اس کو قبول کریں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کو دوزخ سے نکلوانا آپ ﷺ کے ذمہ نہیں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ بیشک ہم اس شخص کو بھی دوزخ سے نکالیں گے مگر ایسا ہم آپ کی شفاعت کی وجہ سے نہیں کرینگے بلکہ اس وجہ سے کریں گے کہ اپنے فضل و کرم کو ظاہر کرنے کے لئے ہم خود اس کو دوزخ سے نکالنا پسند کرتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس مؤمن کے دوزخ سے نکالے جانے کا معاملہ کہ جس نے اپنی پوری عمر میں کوئی نیکی و بھلائی نہیں کی ہے، شفاعت کے دائرہ سے باہر ہوگا بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے متعلق ہوگا۔ اس صورت میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ آگے حضرت ابوہریرہ (رض) کی جو روایت اسعد الناس الخ آرہی ہے پھر اس کا کیا مفہوم ہوگا اور مذکورہ مطلب مراد لینے کی صورت میں اس روایت اور اس حدیث کے درمیان تطبیق کیا ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہاں پہلا مطلب مراد لیا جائے تو ان دونوں روایتوں کے درمیان کوئی تعارض ہی نہیں رہے گا کیونکہ مذکورہ شخص کو اللہ تعالیٰ بہر حال آنحضرت ﷺ کی شفاعت ہی کے سبب دوزخ سے نکالے گا اور اگر دوسرا مطلب مراد لیا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ یہاں حدیث میں جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا ہو سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے نبی پر ایمان تو لائے تھے لیکن کوئی بھی عمل خیر نہ رکھتے اور اپنی بد عملیوں کی بنا پر دوزخ کے مستوجب قرار دے دئیے گیئے ہوں گے اور آگے آنے والی حضرت ابوہررہ (رض) کی روایت میں آنحضرت ﷺ کے امت کے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنے نیک اعمال کو اپنے برے اعمال کے ساتھ اس طرح خلط ملط کیا ہوگا ان کی نیکیاں ہلکی اور برائیاں بھاری پڑگئی ہوں گی اور وہ دوزخ کے مستوجب قرار دے دئیے گئے ہوں گے۔
5487
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا الله خالصا من قلبه أونفسه .
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری شفاعت کے لئے نصیبہ والا شخص وہ ہوگا، جس نے ( دنیا میں) خلوص تہ دل سے، یا یہ فرمایا کہ خلوص تہ نفس سے لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
من قلبہ او من نفسہ میں حرف او کے ذریعے راوی نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہاں من قلبہ کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا من نفسہ کے، بہر حال دونوں کے معنی ایک ہی ہیں کیونکہ نفس سے مراد بھی دل ہی ہے نیز خالصا من قلبہ ( خلوص تہ دل) ترکیب تاکیدی ہے، کیونکہ خلوص کی جگہ تہ دل یعنی دل کی گہرائی ہی ہے نہ کہ کچھ اور، اس اعتبار سے تہ دل کا دوسرانام خلوص ہے پس کہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے میں نے فلاں چیز کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے یا میں نے فلاں بات اپنے کان سے سنی ہے۔ حدیث میں اسعد کا لفظ سعید کے معنی میں ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اہل توحید میں سے نہیں ہوگا وہ آنحضرت کی شفاعت سے فیض یاب نہیں ہوگا یا من قال سے مراد وہ شخص ہے جس کے نامہ اعمال میں ایسا کوئی بھی عمل نہ ہو جس کے سبب وہ رحمت کا مستحق قرار پاسکے اور دوزخ کی آگ سے نجات پانے کا سزا وار ہوسکے، اس صورت میں ظاہر ہے کہ شفاعت کا سب سے زیادہ ضرورت مند وہی شخص ہوگا اور شفاعت اسی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے گی۔
تشریح
من قلبہ او من نفسہ میں حرف او کے ذریعے راوی نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہاں من قلبہ کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا من نفسہ کے، بہر حال دونوں کے معنی ایک ہی ہیں کیونکہ نفس سے مراد بھی دل ہی ہے نیز خالصا من قلبہ ( خلوص تہ دل) ترکیب تاکیدی ہے، کیونکہ خلوص کی جگہ تہ دل یعنی دل کی گہرائی ہی ہے نہ کہ کچھ اور، اس اعتبار سے تہ دل کا دوسرانام خلوص ہے پس کہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے میں نے فلاں چیز کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے یا میں نے فلاں بات اپنے کان سے سنی ہے۔ حدیث میں اسعد کا لفظ سعید کے معنی میں ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو شخص اہل توحید میں سے نہیں ہوگا وہ آنحضرت کی شفاعت سے فیض یاب نہیں ہوگا یا من قال سے مراد وہ شخص ہے جس کے نامہ اعمال میں ایسا کوئی بھی عمل نہ ہو جس کے سبب وہ رحمت کا مستحق قرار پاسکے اور دوزخ کی آگ سے نجات پانے کا سزا وار ہوسکے، اس صورت میں ظاہر ہے کہ شفاعت کا سب سے زیادہ ضرورت مند وہی شخص ہوگا اور شفاعت اسی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے گی۔
5488
Mishkaat Shareefوعنه قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم بلحم فرفع إليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها نهسة ثم قال : أنا سيد الناس يوم القيامة يوم يقوم الناس لرب العالمين وتدنو الشمس فيبلغ من الغم والكرب ما لا يطيقون فيقول الناس ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم ؟ فيأتون آدم . وذكر حديث الشفاعة وقال : فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي ثم يفتح الله علي من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه على أحد قبلي ثم قال يا محمد ارفع رأسك وسل تعطه واشفع تشفع فأرفع رأسي فأقول أمتي يارب أمتي يارب فيقال يا محمد أدخل من أمتك من لا حساب عليهم من الباب الأيمن من أبواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب . ثم قال : والذي نفسي بيده إن ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وهجر . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ( پکا ہوا) گوشت لایا گیا اس میں سے دست کا گوشت آپ کو پیش کیا گیا جو آپ ﷺ کو بہت پسند اور مرعوب تھا، آپ ﷺ نے اس میں سے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھایا اور پھر فرمانے لگے کہ میں قیامت کے دن، جب کہ لوگ دوجہان کے پروردگار کا فیصلہ سننے کے انتظار میں کھڑے ہوں گے، تمام لوگوں کا سردار ہوں گا، اس دن سورج ( لوگوں کے سروں کے) بہت قریب ہوگا اور لوگوں کی حالت ( مسلسل کھڑے رہنے، گرمی کی تپش و سختی اور وہاں کے ہولناک ماحول کے اثر سے) اس قدر کربناک اور غم وفکر سے بوجھل ہوگی کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں گے، یعنی صبر و استقامت پر قادر نہیں ہوں گے اور نہایت حیرانی و پریشانی کے عالم میں) ایک دوسرے سے کہتے پھریں گے کہ آخر تم کسی ایسے شخص کی تلاش کیوں نہیں کرتے جو تمہارے پروردگار سے تمہاری سفارش کردے ( اور وہ تمہیں اس کرب واذیت کی حالت سے نجات عطا کر دے) چناچہ لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے۔ اس کے بعد حضرت ابوہریرہ (رض) نے یا خود آنحضرت ﷺ نے شفاعت کے سلسلے میں حدیث کے ( وہی) اجزاء بیان کئے ( جو پہلے ایک حدیث میں بیان ہوچکے ہیں، کہ لوگ یکے بعد دیگرے تمام انبیاء کرام کے پاس جا کر شفاعت کی درخواست کریں گے اور وہ سب جواب دیں گے کہ ہم اس کام کی اہلیت نہیں رکھتے اور پھر وہ لوگ شفاعت کی درخواست لے کر میرے پاس آئیں گے یہ ذکر کرنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا پس میں لوگوں کے پاس سے روانہ ہوں گا اور عرش کے نیچے آؤں گا اور وہاں ( بارگاہ رب العزت میں) اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور بہترین ثناء کے وہ الفاظ و اسلوب منکشف کر دے گا جو مجھ سے پہلے اس نے کسی پر منکشف نہیں کئے ہوں گے (یعنی اس موقع کے لئے میرے دل میں اپنی حمد و ثنا کے وہ الفاظ اور کو رنش وآداب حضوری کے وہ طریقہ القاء فرمائے گا جو اس نے مجھ سے پہلے کسی اور کو القاء نہیں کئے ہوں گے بلکہ اس وقت سے پہلے مجھ کو ان کا کوئی علم نہیں ہوگا، جیسا کہ پہلے ایک حدیث میں اس طرف اشارہ کیا جا چکا ہے پھر پروردگار فرمائے گا محمد ! اپنا سر اٹھاؤ، جو چاہتے ہو مانگوں میں دوں گا اور جو شفاعت کرنا چاہتے ہو تو کرو میں قبول کروں گا ( یہ سن کر) میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا کہ میرے پروردگار ! میری امت کو بخش دیجئے، تب کہا جائے گا کہ اے محمد ! آپ ﷺ اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ( اور جو حساب کے بغیر جنت کے مستحق ہیں) جنت کے دائیں طرف کے دروازہ سے جنت میں داخل کر دیجئے اور وہ لوگ اس دروازہ کے علاوہ دوسرے ( اطراف کے، دروازوں کے استعمال کے حق میں بھی لوگوں کے ساتھ شریک ہیں اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کی دست قدرت میں میری جان ہے، جنت کے دروازوں میں سے ہر ایک دروازہ کے دونوں کو اڑوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا کہ مکہ اور ہجر کے درمیان ہے ( بخاری ومسلم )
تشریح
میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ میں لوگوں کا اطلاق پوری نوع انسانی پر ہے جس میں انبیاء کرام بھی شامل ہیں ! اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا انا سید ولد ادم یوم القیامۃ الخ یعنی قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا ! اور یہ بات آپ ﷺ نے اس اعتبار سے ارشاد فرمائی کہ اس تو قیر وعزت کی بنا پر کہ جو آپ ﷺ کو بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ قرب و محبوبیت کی وجہ سے حاصل ہوگی، اس دن ہر ایک آپ ﷺ کی شفاعت کا محتاج ہوگا، جب سب لوگ نہایت مضطرب و پریشان ہوں گے تو آخر میں آپ ﷺ ہی کے پاس شفاعت کی درخواست لے کر آئیں گے اور صرف آپ ﷺ ہی ان کی شفاعت کا حوصلہ کریں گے۔ عرش الہٰی کے نیچے آؤں گا۔ یہ جملہ پیچھے حضرت انس (رض) سے نقل کی جانے والی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں اپنے پروردگار کے گھر میں آنے ، کے الفاظ ہیں، پس ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کا گھر جنت ہے اور جنت عرش الہٰی کے نیچے ہی ہے، لہٰذا دونوں حدیثوں کے الفاظ میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی تعارض نہیں ہے۔ میرے پروردگامیری امت کو بخش دیجئے۔ ان الفاظ کو تین بار کہنا یا تو اپنی عرض کو زیادہ سے زیادہ اہم اور قابل توجہ بنا کر پیش کرنے کے لئے ہوگا جیسا کہ جب کوئی شخص اپنے حاکم وآقا کے کسی اہم مقصد کی بارآوری چاہتا ہے تو وہ اپنی عرض کو اس کے سامنے بار بار دہراتا ہے یا ان الفاظ کو بار بار دہرانے سے گناہگاروں کے طبقوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوگا، جیسا کہ پیچھے گزرنے والی حدیث میں بیان ہوا کہ آپ ﷺ کی ایک دفع کی شفاعت کسی ایک طبقہ کے ساتھ مختص ہوگی اور پھر دوسری مرتبہ کی شفاعت کسی دوسرے طبقہ کے ساتھ اور اس طرح متعدد دفعوں میں سب کی شفاعت پوری ہوگی۔ جنت کے دائیں طرف کے دروازے سے۔۔ الخ۔ یعنی ان لوگوں کے اعزازو تکریم کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ازراہ عنایت جنت کے دائیں طرف کا دروازہ انہی لوگوں کے لئے مخصوص، ہوگا، ان کے علاوہ کسی اور کو اس دروازہ سے داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی، اس دروازہ کے علاوہ باقی اور جو تمام دروازے ہوں گے وہ دوسرے سب لوگوں کے لئے مشترک ہوں گے اور مذکورہ لوگ بھی ان دروازوں کو استعمال کرنے کا حق رکھیں گے۔ ہجر ایک جگہ کا نام ہے جو جزیرہ نما عرب کے مشرقی ساحل پر ( سعودی عرب کے) اس علاقہ میں واقعہ ہے جس کو اب احساد کہا جاتا ہے اور پہلے زمانہ میں بحرین اسی علاقہ کو کہتے تھے۔ بہر حال اس جملہ کا مقصود جنت کے دروازوں کی چوڑائی اور وسعت کو بیان کرنا ہے کہ جنت کے ہر دروازے کی چوڑائی اس فاصلہ کے بقدر ہے جو مکہ اور ہجر کے درمیان ہے، لیکن اس سے مراد تحدید وتعبین ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ تخمی نا فرمایا گیا ہے تاکہ دروازے کی چوڑائی ووسعت کا اندازہ ہوجائے حہاں تک حقیقت حال کا تعلق ہے وہ کچھ اور ہی ہے۔
تشریح
میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ میں لوگوں کا اطلاق پوری نوع انسانی پر ہے جس میں انبیاء کرام بھی شامل ہیں ! اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا انا سید ولد ادم یوم القیامۃ الخ یعنی قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا ! اور یہ بات آپ ﷺ نے اس اعتبار سے ارشاد فرمائی کہ اس تو قیر وعزت کی بنا پر کہ جو آپ ﷺ کو بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ قرب و محبوبیت کی وجہ سے حاصل ہوگی، اس دن ہر ایک آپ ﷺ کی شفاعت کا محتاج ہوگا، جب سب لوگ نہایت مضطرب و پریشان ہوں گے تو آخر میں آپ ﷺ ہی کے پاس شفاعت کی درخواست لے کر آئیں گے اور صرف آپ ﷺ ہی ان کی شفاعت کا حوصلہ کریں گے۔ عرش الہٰی کے نیچے آؤں گا۔ یہ جملہ پیچھے حضرت انس (رض) سے نقل کی جانے والی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں اپنے پروردگار کے گھر میں آنے ، کے الفاظ ہیں، پس ان دونوں کے درمیان تطبیق یوں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کا گھر جنت ہے اور جنت عرش الہٰی کے نیچے ہی ہے، لہٰذا دونوں حدیثوں کے الفاظ میں مفہوم کے اعتبار سے کوئی تعارض نہیں ہے۔ میرے پروردگامیری امت کو بخش دیجئے۔ ان الفاظ کو تین بار کہنا یا تو اپنی عرض کو زیادہ سے زیادہ اہم اور قابل توجہ بنا کر پیش کرنے کے لئے ہوگا جیسا کہ جب کوئی شخص اپنے حاکم وآقا کے کسی اہم مقصد کی بارآوری چاہتا ہے تو وہ اپنی عرض کو اس کے سامنے بار بار دہراتا ہے یا ان الفاظ کو بار بار دہرانے سے گناہگاروں کے طبقوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوگا، جیسا کہ پیچھے گزرنے والی حدیث میں بیان ہوا کہ آپ ﷺ کی ایک دفع کی شفاعت کسی ایک طبقہ کے ساتھ مختص ہوگی اور پھر دوسری مرتبہ کی شفاعت کسی دوسرے طبقہ کے ساتھ اور اس طرح متعدد دفعوں میں سب کی شفاعت پوری ہوگی۔ جنت کے دائیں طرف کے دروازے سے۔۔ الخ۔ یعنی ان لوگوں کے اعزازو تکریم کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ازراہ عنایت جنت کے دائیں طرف کا دروازہ انہی لوگوں کے لئے مخصوص، ہوگا، ان کے علاوہ کسی اور کو اس دروازہ سے داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی، اس دروازہ کے علاوہ باقی اور جو تمام دروازے ہوں گے وہ دوسرے سب لوگوں کے لئے مشترک ہوں گے اور مذکورہ لوگ بھی ان دروازوں کو استعمال کرنے کا حق رکھیں گے۔ ہجر ایک جگہ کا نام ہے جو جزیرہ نما عرب کے مشرقی ساحل پر ( سعودی عرب کے) اس علاقہ میں واقعہ ہے جس کو اب احساد کہا جاتا ہے اور پہلے زمانہ میں بحرین اسی علاقہ کو کہتے تھے۔ بہر حال اس جملہ کا مقصود جنت کے دروازوں کی چوڑائی اور وسعت کو بیان کرنا ہے کہ جنت کے ہر دروازے کی چوڑائی اس فاصلہ کے بقدر ہے جو مکہ اور ہجر کے درمیان ہے، لیکن اس سے مراد تحدید وتعبین ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ تخمی نا فرمایا گیا ہے تاکہ دروازے کی چوڑائی ووسعت کا اندازہ ہوجائے حہاں تک حقیقت حال کا تعلق ہے وہ کچھ اور ہی ہے۔