hadith book logo

Mishkaat Shareef

36. خرچ کرنے کی فضیلت اور بخل کی کراہت کا بیان

مشكاة المصابيح

1855
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا يمر علي ثلاث ليال وعندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو مجھے یہ گوارا نہ ہوتا کہ تین راتیں گزر جاتیں اور وہ تمام سونا یا اس کا کچھ حصہ علاوہ بقدر ادائے قرض کے میرے پاس موجود رہتا۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو میرے لئے سب سے زیادہ پسندیدہ بات یہ ہوتی کہ میں تمام سونا تین رات کے اندر اندر ہی لوگوں میں تقسیم کردیتا، اس میں سے اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتا ہاں اتنا سونا ضرور بچا لیتا جس سے میں اپنا قرض ادا کرسکتا کیونکہ قرض ادا کرنا صدقہ سے مقدم ہے۔ اس ارشاد گرامی سے جہاں آنحضرت ﷺ کی انتہائی سخاوت فیاضی کا وصف سامنے آتا ہے وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ اپنے مال و زر کی خیرات نکالتے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اپنی آسائش و راحت کے ذرائع مہیا کرتے ہیں۔ مثلاً عالیشان بلڈنگیں بناتے ہیں کوٹھیاں تعمیر کرتے ہیں یا اسی قسم کی دوسرا آسائش زندگی کے لئے بےتحاشا مال خرچ کرتے ہیں مگر ان کے اوپر دوسرے لوگوں کے حقوق ہوتے ہیں وہ ان کے حقوق کی ادائیگی تو کیا کرتے ان کی طرف ان کا دھیان بھی کبھی نہیں جاتا تو یہ کوئی اچھی اور پسندیدہ بات نہیں ہے بلکہ شرعی طور پر انتہائی غلط ہے۔ شریعت و اخلاق ہی نہیں بلکہ محض عقل و دانش اور انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے بھی کیا یہ بات گوارا کی جاسکتی ہے کہ ایک شخص تو دولت و حرص و ہوس کا پتلا بن کر اپنی تجوریاں بھرے بیٹھا ہوا بےمصرف مال و زر کے انبار لگائے ہوئے ہو اور سونے چاندی کے خزانے جمع کئے مگر ایک دوسرا شخص اس کے آنکھوں کے سامنے نان جویں کے لئے بھی محتاج ہوا ور اس کی تجوری کا منہ نہ کھلے، ایک غریب بھوک و افلاس کے مارے دم توڑ رہا ہو مگر اس کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہ ہو کہ اس غریب کو کھانا کھلا کر اس کی زندگی کے چراغ کو بجھنے سے بچائے ؟ جی ہاں ! آج کے اس دور میں بھی جب کہ سوشلزم، مساوات اور انسانی بھائی چارگی و ہمدردی کے نعرے ہمہ وقت فضا میں گونجتے رہتے ہیں کون نہیں دیکھتا کہ مال و زر کے بندے اپنی ادنیٰ سی خواہش کے لئے تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں اپنی دنیاوی آسائش و راحت کی خاطر مال و زر کے تختے بچھا دیتے ہیں مگر جب بھوک و پیاس سے بلکتا کوئی انہیں جیسا ان کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ان کی جبین پر بل پڑجاتے ہیں اور ان کے منہ سے نفرت و حقارت کے الفاظ ابلنے لگتے ہیں وہ شقی القلب یہ نہیں سوچتے کہ اگر معاملہ برعکس ہوتا تو ان کے جذبات و احساسات کیا ہوتے ؟ لہٰذا جنگ زرگری کے موجودہ دور میں مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانی برادری کے لئے یہ ارشاد گرامی ایک دعوت عمل اور مینارہ نور ہے۔
1856
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما : اللهم أطع منفقا خلفا ويقول الآخر : اللهم أعط ممسكا تلفا
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا روزانہ صبح کے وقت دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک فرشتہ تو سخی کے لئے یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما یعنی جو شخص جائز جگہ اپنا مال خرچ کرتا ہے اس کو بہت زیادہ بدلہ عطا فرما بایں طور کہ یا تو دنیا میں اسے خرچ کرنے سے کہیں زیادہ مال دے دے یا آخرت میں اجر وثواب عطا فرما اور دوسرا فرشتہ بخیل کے لئے بد دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! بخیل کو تلف (نقصان) دے اور یعنی جو شخص مال و دولت جمع کرتا ہے اور جائز جگہ خرچ نہیں کرتا بلکہ بےمحل اور بےمصرف خرچ کرتا ہے تو اس کا مال تلف و ضائع کر دے۔ (بخاری ومسلم)
1857
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أسماء قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنفقي ولا تحصي فيحصي الله عليك ولا توعي فيوعي الله عليك ارضخي ما استطعت
حضرت اسماء (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس جگہ مال خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہو وہاں اپنا مال خرچ کرو اور یہ شمار نہ کرو کہ کتنا خرچ کروں اور کیا خرچ کروں نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں شمار کرے گا (یعنی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے مال میں برکت ختم کر کے تمہارا رزق کم کر دے گا بایں طور کہ اسے ایک معدودع و محدود چیز کی مانند کر دے گا یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مال و زر کے بارے میں تم سے محاسبہ کرے گا اور جو مال تمہاری حاجت و ضرورت سے زائد ہو اسے حاجت مندوں سے روک کر نہ رکھو نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں اپنی زائد عطاء و بخشش روک لے گا، نیز یہ کہ تم سے جو کچھ بھی ہو سکے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
لفظ لاتحصی (اور یہ شمار نہ کرو الخ) کے ایک معنی تو وہی ہیں جو اوپر ترجمے میں مذکور ہوئے ہیں اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مال کو جمع کرنے کے لئے نہ شمار کرو اور اس مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ترک نہ کرو۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے تم اپنی حیثیت وقدرت کے مطابق جو کچھ بھی خرچ کرسکو اسے اللہ کی راہ میں جرور خرچ کرو خواہ وہ مقدار تعداد کتنا ہی کم کیوں نہ ہو بلکہ اسے حقیق بھی نہ سمجھو کیونکہ خلوص نیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا ایک ذرہ بھی اللہ کے نزدیک بہت وقیع اور میزان عمل میں بہت وزنی ہے۔
1858
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : أنفق يا ابن آدم أنفق عليك
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے اولاد آدم میری راہ میں اپنا مال خرچ کر میں تیرے اوپر خرچ کروں گا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اے اولاد آدم ! تو دنیا کے فانی مال کو میری راہ میں خرچ کر تاکہ آخرت میں تجھے اموال عالیہ حاصل ہوں۔ بعض حضرات نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا ہے اس میں سے تو لوگوں کو دے تاکہ میں تجھے دنیا و عقبی میں اس سے زیادہ عطا کروں گویا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ آیت ( وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُه) 24 ۔ سبأ 39) ۔ تم جو کچھ بھی اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہو اللہ تمہیں اس کا بدلہ عطا کرتا ہے۔
1859
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ابن آدم إن تبذل الفضل خير لك وإن تمسكه شر لك ولا تلام على كفاف وابدأ بمن تعول . رواه مسلم
حضرت ابوامامہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اے اولاد آدم ! جو مال تمہاری حاجت و ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا تمہارے لئے دنیا و آخرت میں بہتر ہے اور اسے روکے رکھنا یعنی خرچ نہ کرنا اللہ کے نزدیک بھی اور بندوں کے نزدیک بھی تمہارے لئے برا ہے ! بقدر کفایت مال پر کوئی ملامت نہیں ہے اور جو مال تمہاری حاجت سے زائد ہو اسے خرچ کرنے کے سلسلے میں اپنے اہل و عیال سے ابتداء کرو۔ (مسلم)

تشریح
ولا تلام علی کفاف (بقدر کفایت مال پر کوئی ملامت نہیں ہے) کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اتنا مال اپنے پاس بچائے رکھو جو تمہاری زندگی کی بقاء کے لئے ضروری ہو بایں طور کہ اس کی وجہ سے تمہاری غذائی ضرورت پوری ہو اور تم کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بچے رہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ بقاء زندگی کے بقدر مال کا تعین اشخاص و احوال اور زمانہ کے مطابق ہوتا ہے یعنی بعض اشخاص کے بقاء زندگی کے بقدر مال کی مقدار کم ہوتی ہے اور بعضوں کے لئے زیادہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی واقعی ضروریات زندگی کے لئے کم مال درکار ہوتا ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے زیادہ مقدار ضروری ہوتی ہے اسی طرح بعض دنوں میں بقاء زندگی کے لئے کم مال درکار ہوتا ہے اور بعض دنوں میں زیادہ مقدار میں ضروری ہوتا ہے نیز بعض حالات میں تھوڑا مال کفایت کرجاتا ہے اور بعض حالات میں زیادہ مال کی ضرورت ہوتی ہے حاصل یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی حیثیت کے مطابق کسی واقعی ضرورت و حاجت کے بقدر مال و زر بچائے رکھتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ و ابدا بمن تعول کا مفہوم یہ ہے کہ سخاوت خرچ کے معاملے میں اپنے اہل و عیال اور ان لوگوں کو مقدم رکھنا چاہئے جن کا نفقہ اپنے اوپر واجب ہو یعنی ان لوگوں کو دو ، جب ان سے بچ رہے تو دوسرے لوگوں کو دینا چاہئے اور اس انداز سے خرچ کرنا کوئی مستحسن بات نہیں ہے کہ اپنے اہل و عیال تو ضرورت مند و محتاج رہیں اور دوسروں کو دیا جائے۔ حدیث کے ظاہری الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد بھی حدیث قدسی (اللہ تعالیٰ کا ارشاد) ہے اگرچہ حدیث میں صراحتا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ شاید آنحضرت ﷺ نے اپنے ہی ارشاد کے لئے یہ اسلوب اختیار فرمایا ہو۔ واللہ اعلم۔
1860
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل البخيل والمتصدق كمثل رجلين عليهما جنتان من حديد قد اضطرت أيديهما إلى ثديهما وتراقيهما فجعل المتصدق كلما تصدق بصدقة انبسطت عنه البخيل كلما هم بصدقة قلصت وأخذت كل حلقة بمكانها
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی ہے جن کے جسم پر لوہے کی زرہیں اور ان زرہوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کے ہاتھ ان کی چھاتیوں اور گردن کی ہنسلی کی طرف چمٹے ہوئے ہوں چناچہ جب صدقہ دینے کا قصد کرتا ہے تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کا قصد کرتا ہے تو اس کی زرہ کے حلقے اور تنگ ہوجاتے ہیں اور اپنی جگہ پر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ سخی انسان جب اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنا مال خرچ کرنے کا قصد کرتا ہے تو اس جذبہ صدق کی بنا پر اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے قلب و احساسات کے تابع ہوتے ہیں بایں طور کہ وہ مال خرچ کرنے کے لئے دراز ہوتے ہیں اس کے برخلاف ایسے مواقع پر بخیل انسان کا سینہ تنگ ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ سمٹ جاتے ہیں۔ اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ جب سخی انسان خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو توفیق الٰہی اس کے شامل حال ہوتی ہے بایں طور کہ اس کے لئے خیر و بھلائی اور نیکی کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے اور بخیل کے لئے نیکی و بھلائی کا راستہ دشوار گزار ہوجاتا ہے۔
1861
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ظلم سے بچو کیونکہ قیامت کے روز ظلم اندھیروں کی شکل میں ہوگا (جس میں ظالم بھٹکتا پھرے گا) اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے ان لوگوں کو ہلاک کیا ہے جو تم سے پہلے گزرے ہیں بخل ہی کے باعث انہوں نے خونریزی کی اور حرام کو حلال جانا۔ (مسلم)

تشریح
ظلم کا اصل مفہوم ہے کسی چیز کو اس کی غیر جگہ استعمال کرنا مثلاً انسان کی تخلیق کا مقصد ہے اللہ کی عبادت و اطاعت کرنا اور نیک راہ پر چلنا اب اگر انسان کا نفس امارہ اسے اس کی تخلیق کے اصل مقصد سے ہٹا کر اللہ سے بغاوت و سرکشی اور برائی کے راستے پر چلاتا ہے تو یہ ظلم کہلائے گا۔ لہٰذا ظلم کا مفہوم تمام گناہوں کو شامل ہے یعنی جو بھی گنہگار ہوگا۔ وہ ظالم کہلائے گا۔ ظلم اندھیروں کی شکل میں ہوگا، کے بارے میں علماہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اپنے ظاہر معنی پر محمول ہے یعنی قیامت کے روز ظلم گناہ ظالم کے سامنے اندھیروں کی صورت میں ہوگا جس میں ظالم بھٹکتا پھرے گا اور ان کی وجہ سے نجات کا راستہ نہیں پائے گا جس طرح کہ مومن صالح کے بارے میں منقول ہے کہ وہ قیامت کے روز نجات کی راہ اس طرح پائیں گے کہ ان سب کی سعادت نیک بختی کا نور ان کے آگے آگے دوڑتا ہوگا جس کی روشنی میں جنت کی ابدی سعادتوں کا راستہ ان کے سامنے ہوگا اور وہ اس پر اطمینان و آسانی چل کر اپنے مولا کی خوشنودی اور رحمت کو پالیں گے۔ نیز یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیروں سے قیامت کے دن ہولناکیاں اور شدائد مراد ہوں یعنی ایک ظلم قیامت کی بہت سی ہولنا کیوں اور شدائد کا باعث ہوگا۔ بخل سے بچنے کے لئے اس لئے فرمایا گیا ہے کہ بخل بھی نہ صرف یہ کہ ظلم ہی کی ایک قسم ہے بلکہ ظلم کی ایک بہت بڑی قسم ہے یہی وجہ ہے کہ ظلم سے بچنے کا حکم عمومی طور پر فرمانے کے بعد پھر بھی بعد میں بطور خاص بخل سے بچنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ بخل کو خونریزی اور حرام کو حلال جاننے کا باعث بتایا گیا ہے کیونکہ اپنے مال و زر کو دوسروں کی راحت بھلائی کے لئے خرچ کرنا اور اس طرح اپنے مسلمان بھائیوں کی خبر گیری درحقیقت آپس کی محبت و ملاپ کا ذریعہ اور سبب ہے اس کے برعکس بخل ترک ملاقات اور انقطاع تعلقات کا سبب ہے جس کا آخری نتیجہ آپس کی دشمنی اور مخاصمت ہے اور یہ بالکل ظاہری بات ہے کہ جب ایک دوسرے سے دشمنی اور مخاصمت ہوتی ہے تو پھر خونریزی بھی ہوتی ہے اسی دشمنی اور مخاصمت کا ایک دوسرا پہلو حرام باتوں کو مباح و حلال سمجھ لینا بھی ہوتا ہے کیونکہ کوئی بھی شخص ہو وہ دشمنی کے جذبات سے مغلوب ہو کر اپنے دشمن کی عورتوں کو، اس کے مال و زر کو اور اس کی آبرو ریزی وغیرہ کو حلال جانتا ہے اسی لئے جہاں ایک طرف بخل کو خونریزی کا سبب بتایا گیا ہے وہیں دوسری طرف اسے حرام کو حلال سمجھ لینے کا باعث بھی فرمایا گیا ہے۔
1862
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن حارثة بن وهب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تصدقوا فإنه يأتي عليكم زمان يمشي الرجل بصدقته فلا يجد من يقبلها يقول الرجل : لو جئت بها بالأمس لقبلتها فأما اليوم فلا حاجة لي بها
حضرت حارثہ بن وہب (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ خدا کی خوشنودی کے لئے اپنا مال خرچ کرو، کیونکہ انسانی زندگی میں ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب ایک شخص صدقہ کا مال لے کر نکلے گا مگر وہ کسی ایسے شخص کو نہ پائے گا جو اس کا صدقہ قبول کرلے بلکہ ہر شخص یہی کہے گا کہ اگر تم صدقہ کے اس مال کو کل لے کر آتے تو میں قبول کرلیتا آج تو مجھے اس کی حاجت و ضرورت نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنا مال خرچ کرو، کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تو اللہ کی راہ میں اپنا مال و زر خرچ کرنے کو غنیمت اور اپنے حق میں باعث سعادت جانو کیونکہ ابھی تو صدقہ کے مال کو قبول کرنے والے بہت سے مل جانتے ہیں لیکن ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ صدقہ کے مال کو قبول کرنے والا کوئی شخص ڈھونڈے سے نہیں ملے گا کیونکہ یا تو اس وقت سب ہی لوگ مالدار ہوں گے یا پھر یہ کہ دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کی طرف میلان اور رغبت کی وجہ سے ان کے دل غنی و بےپرواہ ہوں گے۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ اس زمانے کی طرف اشارہ جب کہ یہ فانی دنیا اپنی عمر کی آخری حدوں کو پہنچ چکی ہوگی اور حضرت امام مہدی (علیہ السلام) اس عالم میں تشریف فرما ہوں گے۔
1863
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رجل : يا رسول الله أي الصدقة أعظم أجرا ؟ قال : أن تصدق وأنت صحيح شحيح تخشى الفقر وتأمل الغنى ولا تمهل حتى إذا بلغت الحلقوم قلت : لفلان كذا ولفلان كذا وقد كان لفلان
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ثواب کے اعتبار سے کونسا بڑا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا افضل صدقہ وہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اس وقت اپنا مال خرچ کرو جب کہ تم توانا و تندرست ہو اور مال جمع کرنے کی حرص رکھتے ہو، فقر و افلاس سے ڈرتے رہو اور حصول دولت کے امیدوار ہو یاد رکھو صدقہ خیرات کے معاملے میں ڈھیل نہ دو ، یہاں تک کہ جب تمہاری جان حلق میں آجائے تو کہنے لگو کہ اتنا مال فلاں کے لئے ہے اور اتنا مال فلاں کے لئے ہے۔ درآنحالیکہ اس مال کا مالک فلاں وارث ہوجائے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ افضل اور بہت زیادہ ثواب کا باعث وہ صدقہ ہوتا ہے جو زندگی کے اس دور میں ادا ہو جب کہ صحت تندرستی رفیق جان ہو، کیونکہ زندگی کے اس حصہ میں درازگی عمر کی امید مال جمع کرنے کی حرص کا باعث ہوتی ہے صحت مند و تندرست انسان نہ صرف یہ کہ جنگ زرگری کے میدان میں آگے رہنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ اس کی جبلت طبعی، بخل کی طرف مائل ہوتی ہے اندر کا چھپا ہوا شیطان اسے فقر و محتاجگی سے ڈراتا رہتا ہے اور اس کے دل میں یہ وسوسہ و خیال پیدا کرتا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کی وجہ سے کہیں مفلس و قلاش نہ بن جاؤں نیز زیادہ سے زیادہ دوسلت حاصل کرنے آرزو بسا اوقات حرص و ہوس کا روپ اختیار کرلیتی ہے لہٰذا زندگی کے اس حصے میں اللہ کی خوشنودی کے لئے مال خرچ کرنا درحقیقت نیک بختی وسعادت کی معراج ہے۔ حدیث کے آخری جملے ولا تمہل الخ کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ دینے اور خیرات کرنے میں اتنی تاخیر، سستی اور غفلت نہ کرو کہ جب زندگی کا پیمانہ لبریز ہونے لگے جان نکل کر حلق میں آجائے تو کہنے لگو کہ اتنا مال فلاں شخص کے لئے ہے اور اتنا مال فلاں نیک کام کے لئے حالانکہ اس وقت وہ مال وارثوں کا ہوجاتا ہے بایں طور کہ وارثوں کا حق متلعق ہوجاتا ہے۔ بہرحال اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑی فضیلت اور ثواب کی بات ہے مگر جب مرنے کا وقت آئے تو اس وقت اپنے مال کو نیک کاموں میں خرچ کرنے کی وصیت کرنا یا اسے اس وقت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زیادہ ثواب کا باعث نہیں ہے۔
1864
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي ذر قال : انتهيت إلى النبي صلى الله عليه و سلم وهو جالس في ظل الكعبة فلما رآني قال : هم الأخسرون ورب الكعبة فقلت : فداك أبي وأمي من هم ؟ قال : هم الأكثرون أموالا إلا من قال : هكذا وهكذا وهكذا من بين يديه ومن خلفه وعني مينه وعن شماله وقليل ما هم
حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس وقت پہنچا جب کہ آپ ﷺ کعبہ کے سایہ میں تشریف فرماتے۔ جب آپ ﷺ کی نظر مبارک مجھ پر پڑی تو فرمایا رب کعبہ کی قسم وہ لوگ بہت ٹوٹے میں ہیں میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کون ہیں وہ لوگ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو زیادہ مال جمع کرتے ہیں ہاں ! وہ لوگ مستثنی ہیں جو اپنے ادھر ادھر اور اس طرف یعنی اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اپنے بائیں غرض یہ کہ ہر طرح اور ہر جگہ اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنا مال خرچ کرتے رہتے ہیں۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہیں (بخاری ومسلم)

تشریح
حضرت ابوذر غفاری (رض) نے چونکہ فقر افلاس کو اپنی زندگی کا امتیاز بنا لیا تھا اور اس طرح انہوں نے دنیا کی آسائشوں سے منہ موڑ کر غنا و تونگر پر فقر افلاس کو ترجیح دے رکھی تھی اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کی تسلی اور ان کے اطمینان قلب کی خاطر یہ بات ارشاد فرمائی۔ گویا اس ارشاد گرامی میں دنیا سے بےرغبتی اور فقر کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے۔