hadith book logo

Mishkaat Shareef

127. قیدیوں کے احکام کا بیان

مشكاة المصابيح

3874
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : عجب الله من قوم يدخلون الجنة في السلاسل . وفي رواية : يقادون إلى الجنة بالسلاسل . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس قوم پر تعجب کرتا ہے یعنی ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو زنجیروں میں بندھے ہوئے جنت میں داخل ہوتے ہیں۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے خوش ہوتا ہے) جو زنجیروں میں باندھ کر جنت کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ کفار (دشمن) کے جو لوگ جہاد وغیرہ کے موقع پر قیدی بنائے جاتے ہیں اور ان کو زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر دارالاسلام میں لایا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو ایمان نصیب فرماتا ہے تو ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا اس اعتبار سے اگرچہ ان کے دخول جنت کا سبب ان کا ایمان قبول کرلینا ہے لیکن ظاہر میں گویا وہ زنجیروں اور بیڑیوں میں باندھ کر جنت میں داخل کئے گئے ہیں۔
3875
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سلمة بن الأكوع قال أتى النبي صلى الله عليه و سلم عين من المشركين وهو في سفر فجلس عند أصحابه يتحدث ثم انفتل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : اطلبوه واقتلوه . فقتلته فنفلني سلبه (2/400) 3962 - [ 3 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم هوازن فبينا نحن نتضحى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاء رجل على جمل أحمر فأناخه وجعل ينظر وفينا ضعفة ورقة من الظهر وبعضنا مشاة إذ خرج يشتد فأتى جمله فأثاره فاشتد به الجمل فخرجت أشتد حتى أخذت بخطام الجمل فأنخته ثم اخترطت سيفي فضربت رأس الرجل ثم جئت بالجمل أقوده وعليه رحله وسلاحه فاستقبلني رسول الله صلى الله عليه و سلم والناس فقال : من قتل الرجل ؟ قالوا : ابن الأكوع فقال : له سلبه أجمع
اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) مشرکین، (دشمن) کا ایک جاسوس نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جب کہ آپ ﷺ سفر کے دوران تھے، چناچہ اس جاسوس نے (ٹوہ لینے کے لئے) آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کیں اور پھر چلا گیا، نبی کریم ﷺ کو جب اس کے بارے میں معلوم ہوا تو (آپ ﷺ نے فرمایا اس کو تلاش کرو اور قتل کر ڈالو چناچہ میں نے اس کو (ڈھونڈھ نکالا اور) قتل کر ڈالا، آنحضرت ﷺ نے اس کا سامان و اسباب مجھے مرحمت فرمایا۔ ( بخاری ومسلم ) اور حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے ساتھ (قبیلہ قیس کی ایک شاخ) ہوازن کے خلاف جہاد میں شریک تھے (ایک دن) اس وقت جب کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، اچانک ایک شخص جو (دشمن کا جاسوس تھا اور) سرخ اونٹ پر سوار تھا آیا، اس نے اونٹ کو بٹھا دیا اور (ادھر ادھر) دیکھنے لگا (یعنی وہ ہماری حالت و کیفیت کی ٹوہ لینے لگا) اس وقت ہم (اپنی خستہ حالی اور پیادہ پائی کی وجہ سے) بہت نڈھال ہو رہے تھے، ہمارے پاس سواریوں کی کمی تھی اور ہم میں سے بعض لوگ پیدل تھے۔ چناچہ (جب اس شخص نے ہماری اس کمزوری کا اندازہ لگا لیا کہ ہم سواریوں کی کمی اور اپنی خستہ حالی کی وجہ سے پریشان اور نڈھال ہیں تو دشمن کو اس کی اطلاع دینے کے لئے) وہ اچانک (ہمارے درمیان سے) دوڑتا ہوا نکلا اور اپنے اونٹ کے پاس پہنچ کر (اس پر سوار ہونے کے بعد) اس کو کھڑا کیا اور وہ اونٹ اس کو لے کر تیزی سے دوڑنے لگا میں (نے یہ صورت حال دیکھی تو میں بھی اپنے لوگوں کے درمیان سے نکلا اور (اس شخص کے پیچھے) دوڑا یہاں تک کہ میں نے (اس کو جا لیا اور) اونٹ کی مہار پکڑ لی اور اس کو بٹھا دیا اور پھر اپنی تلوار سونت کر اس شخص کے سر پر (بھر پور) وار کیا (جس سے اس کا کام تمام ہوگیا) اس کے بعد اونٹ کو، جس پر اس شخص کا سامان اور اس کے ہتھیار تھے، کھینچتا ہوا لایا، جب رسول کریم ﷺ اور دوسرے لوگ میرے سامنے آئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس شخص کو کس نے قتل کیا ہے ؟ صحابہ نے کہا کہ سلمہ ابن اکوع نے ! آپ ﷺ نے فرمایا اس سارے سامان کے حقدار یہی (سلمہ) ہیں۔ بخاری ومسلم )
3876
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد الخدري قال : لما نزلت بنو قريظة على حكم سعد بن معاذ بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم إليه فجاء على حمار فلما دنا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قوموا إلى سيدكم فجاء فجلس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هؤلاء نزلوا على حكمك . قال : فإني أحكم أن تقتل المقاتلة وأن تسبى الذرية . قال : لقد حكمت فيهم بحكم الملك . وفي رواية : بحكم الله
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب (مدینہ میں آباد) بنوقریظہ (کے یہودی) حضرت سعد ابن معاذ کو حاکم تسلیم کرلینے پر اتر آئے (یعنی وہ اس پر آمادہ ہوئے کہ سعد ابن معاذ جو فیصلہ کریں گے ہم اس کو تسلیم کرلیں گے، تو رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد کو بلانے کے لئے ایک آدمی بھیجا، سعد ابن معاذ ایک گدھے پر سوار ہو کر آئے اور جب وہ قریب پہنچے تو رسول کریم ﷺ نے (حاضرین سے) کہا کہ تم لوگ اپنے سردار کی تعظیم یا ان کی مدد کے لئے کھڑے ہوجاؤ سعد ابن معاذ (آپ ﷺ کے قریب) آ کر بیٹھ گئے تو رسول کریم ﷺ نے (ان کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ یہ لوگ (یعنی بنو قریظہ کے یہودی) تمہیں حکم ماننے پر راضی ہوگئے ہیں۔ سعد ابن معاذ نے کہا کہ میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان (یہودیوں) میں سے جو لوگ لڑنے (کی صلاحیت رکھنے) والے ہیں ان کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا تم نے ان کے بارے میں بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے یعنی تم نے ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہے) اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
حضرت سعد ابن معاذ بڑے اونچے درجہ کے صحابی اور مشاہیر انصار میں سے ہیں مدینہ کے انصار ان کو اپنا سردار اور بڑا مانتے تھے۔ بنو قریظہ مدینہ کے یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا، یہ قبیلہ حضرت سعد ابن معاذ کا حلیف اور اس کے یہودی ان کے عہد وامان میں تھے، جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مدینہ پہنچ کر وہاں کے قبائل یہود سے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کے تحت یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان، باہمی میل ملاپ کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کے شہری اور سیاسی حقوق و مفادات کے تحفظ کے معاملات طے پائے تھے لیکن یہودیوں نے کچھ ہی دنوں بعد اس معاہدہ کو بالائے طاق رکھ دیا اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور ان کو نقصان پہنچانے کے اقدامات میں مشغول ہوگئے، چناچہ دوسرے یہودی قبائل کی طرح بنوقریظہ بھی اس عہد شکنی کے مرتکب ہوئے اور آنحضرت ﷺ نے ٥ ھ میں غزوہ خندق کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان (بنوقریظہ) کے خلاف جہاد کا ارادہ کیا اور ان کا محاصرہ کرلیا اور یہ محاصرہ پچیس ٢٥ روز تک جاری رہا جب بنو قریظہ بالکل مجبور ہوگئے تو انہوں نے کہا کہ سعد ابن معاذ ہمارے بارے میں جو فیصلہ کریں گے ہم ان اس کو منظور کریں گے، ان کا خیال تھا کہ چونکہ ہم سعد کے حلیف اور ان کے عہد وامان میں ہیں اس لئے وہ ہماری رعایت کریں گے اور ہمیں اس محاصرہ سے نجات دلانے کی کوشش کریں گے، لیکن حضرت سعد نے اس تعلق کا لحاظ کئے بغیر وہی فیصلہ دیا جو ان یہودیوں کے حسب حال اور مصلحت و حکمت کے عین مطابق تھا۔ تم اپنے سردار کے لئے کھڑے ہوجاؤ اس حکم کے بارے میں امام نووی کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ صاحب فضل کی تعظیم و توقیر کی جائے اور اس کے آنے پر تعظیمًا کھڑا ہوجانا چاہئے چناچہ اکثر علماء نے اس مسئلہ میں اس ارشاد گرامی کو دلیل قرار دیا ہے اور بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا یہ حکم حضرت سعد کی تعظیم کرنے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ اس بنا پر تھا کہ ان (سعد) کی ران پر تیر کا زخم تھا جو غزوہ خندق میں ان کو لگا تھا اور اس کی وجہ سے وہ سواری پر سے خود اترنے سے مجبور تھے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ جاؤ اور سواری پر سے اترنے میں سعد کی مدد کرو۔
3877
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم خيلا قبل نجد فجاءت برجل من بني حنيفة يقال له : ثمامة بن أثال سيد أهل اليمامة فربطوه بسارية من سواري المسجد فخرج إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ماذا عندك يا ثمامة ؟ فقال : عندي يا محمد خير إن نقتل تقتل ذا دم وإن تنعم تنعم على شاكر وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت فتركه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كان الغد فقال له : ما عندك يا ثمامة ؟ فقال : عندي ما قلت لك : إن تنعم تنعم على شاكر وإن تقتل تقتل ذا دم وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت . فتركه رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى كان بعد الغد فقال له : ما عندك يا ثمامة ؟ فقال : عندي ما قلت لك : إن تنعم تنعم على شاكر وإن تقتل تقتل ذا دم وإن كنت تريد المال فسل تعط منه ما شئت . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطلقوا ثمامة فانطلق إلى نخل قريب من المسجد فاغتسل ثم دخل المسجد فقال : أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله يا محمد والله ما كان على وجه الأرض وجه أبغض إلي من وجهك فقد أصبح وجهك أحب الوجوه كلها إلي والله ما كان من دين أبغض إلي من دينك فأصبح دينك أحب الدين كله إلي و والله ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك فأصبح بلدك أحب البلاد كلها إلي . وإن خيلك أخذتني وأنا أريد العمرة فماذا ترى ؟ فبشره رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمره أن يعتمر فلما قدم مكة قال له قائل : أصبوت ؟ فقال : لا ولكني أسلمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم والله لا يأتيكم من اليمامة حبة حنطة حتى يأذن فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم واختصره البخاري
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک لشکر کو (جہاد کرنے کے لئے) بخد کی طرف روانہ کیا، لشکر کے لوگ (قبیلہ) بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ کر (مدینہ) لائے جس کا نام ثمامہ ابن اثال تھا اور جو شہر یمامہ کا سردار تھا، اس شخص کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا گیا (تاکہ وہ بھاگ نہ سکے) رسول کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور اس سے پوچھا کہ کہو ثمامہ ! تمہارے پاس (کہنے سننے کو) کیا ہے ؟ (یعنی بتاؤ تمہارا کیا حال ہے میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح کا سلوک کروں گا ؟ ) ثمامہ نے کہا کہ میرے پاس بھلائی ہی بھلائی ہے یا میرے پاس بہت مال ہے، اگر آپ ﷺ (مجھ کو قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے (جو قتل ہی کئے جانے کا مستحق ہے، ان الفاظ کے ذریعہ گویا ثمامہ نے اپنی تقصیر کا اعتراف و اقرار کیا، یا اس کے ان الفاظ کا یہ مطلب تھا کہ اگر آپ ﷺ مجھے قتل کردیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون رائیگاں نہیں جائے گا کیونکہ میری قوم میرا خون معاف نہیں کرے گی بلکہ آپ سے بدلہ لے گی، اس صورت میں اس نے گویا اپنی امارت اور اپنی ریاست و وجاہت کا دعوی کیا) اور اگر آپ (مجھے باعزت رہائی دے کر میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو ایک شخص ساتھ اچھا سلوک کریں گے جو شکر گذار وقدر دان سے (یعنی میں بھی اس اچھے سلوک کا آپ ﷺ کو بدلہ دوں گا) اور اگر آپ ﷺ مال چاہتے ہیں تو مانگیے، جتنا مال چاہیں گے دیا جائے گا۔ (یہ باتیں سن کر) آنحضرت ﷺ نے اس کو (اس حال پر) چھوڑ دیا جب دوسرا دن آیا تو آنحضرت ﷺ نے پھر سے پوچھا کہ (کہو ثمامہ ! تمہارے پاس) کہنے سننے کو کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس وہی چیز ہے جو میں کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ اچھا سلوک کریں گے تو ایک ایسے شخص کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے جو شکر گزار وقدردان ہے، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو مانگیے جتنا مال چاہیں گے دیا جائے گا۔ آنحضرت ﷺ نے (اس دن بھی یہ سن کر) اس کو (اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور جب تیسرا دن آیا تو آپ ﷺ نے پھر اس سے پوچھا کہ (کہو ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ اس نے کہا وہی چیز ہے جو میں کہہ چکا ہوں کہ اگر آپ اچھا سلوک کریں گے تو ایک ایسے شخص کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے جو شکر گذار وقدر دان ہے، اگر قتل کریں گے تو ایک خون والے شخص کو قتل کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو مانگیے جتنا مال چاہیں گے دیا جائے گا، رسول کریم ﷺ نے (یہ سن کر) حکم دیا کہ ثمامہ کو رہا کردیا جائے۔ چناچہ (رہائی پانے کے بعد کچھ کہے سنے بغیر) کھجوروں کے ان درختوں (کے جھنڈ) میں چلا گیا جو مسجد نبوی ﷺ کے قریب تھے اور وہاں سے نہا دھو کر پھر مسجد نبوی میں آیا اور (آنحضرت ﷺ کے سامنے) کہا اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ یعنی میں (سچے دل کے اعتراف و اقرار کے ساتھ) گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور (پھر کہنے لگا کہ) اے محمد ﷺ اللہ کی قسم میرے نزدیک روئے زمین پر آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ نفرت انگیز کوئی چہرہ نہیں تھا لیکن اب آپ ﷺ کا چہرہ مبارک میرے نزدیک (دنیا کے) سارے چہروں سے زیادہ پیارا ہے، اللہ کی قسم ! میرے نزدیک آپ ﷺ کے دین سے زیادہ نفرت انگیز کوئی دین نہیں تھا لیکن اب آپ ﷺ کا دین میرے نزدیک سارے دینوں سے زیادہ پیارا ہے اور اللہ کی قسم ! میرے نزدیک آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ نفرت انگیز کوئی شہر نہیں تھے لیکن اب میرے نزدیک سارے دنیا کے سارے شہروں سے زیادہ پیارا ہے۔ پھر (اس عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ) آپ ﷺ کے لشکر نے مجھے اس وقت گرفتار کیا تھا جب کہ میں عمرہ (کرنے کے لئے مکہ جانے کا ارادہ کر رہا تھا تو اب آپ ﷺ مجھ کو کیا حکم دیتے ہیں (آیا میں عمرہ کے لئے مکہ جاؤں یا نہیں ؟ ) رسول کریم ﷺ نے (پہلے تو) اس کو بشارت دی کہ اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے تمہیں شرف و عظمت انسانیت حاصل ہوگئی ہے اور تمہارے پہلے سارے گناہ بخش دیئے گئے ہیں) اور پھر ان کو عمرہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد ثمامہ جب (عمرہ کرنے کے لئے) مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے ان سے کہا کہ تم تو بےدین ہوگئے ہو۔ ثمامہ نے جواب دیا کہ نہیں ! میں نے رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے، میں بےدین نہیں ہوا ہوں اور (یاد رکھو ! ) اللہ کی قسم ! اب یمامہ سے تم کو گہیوں کا ایک دانہ بھی نہیں بھیجا جائے گا جب تک کہ رسول کریم ﷺ اس کی اجازت نہ دیں۔ (مسلم) اس روایت کو بخاری نے بھی اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
3878
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جبير بن مطعم أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في أسارى بدر : لو كان المطعم بن عدي حيا ثم كلمني في هؤلاء النتنى لتركتهم له . رواه البخاري
اور حضرت جبیر ابن مطعم کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر مطعم ابن عدی زندہ ہوتے اور مجھ سے ان ناپاک قیدیوں کے حق میں سفارش کرتے، تو میں ان (قیدیوں) کو ان (مطعم) کی سفارش پر رہا کردیتا۔ ( بخاری)

تشریح
حضرت جبیر اسلام قبول کرنے سے پہلے جنگ بدر کے موقع پر کفار کے ساتھ تھے اور مسلمانوں کے مقابلے پر لڑ رہے تھے جنگ کے بعد ان کفار میں سے جو لوگ قیدی بنا کر مدینہ لائے گئے ان میں حضرت جبیر بھی تھے اس طرح حضرت جبیر نے آنحضرت ﷺ سے یہ حدیث سنی تو کفر کی حالت میں، مگر اس کو بیان کیا اسلام قبول کرنے کے بعد۔ مطعم ابن عدی، حضرت جبیر کے والد تھے اور نوفل ابن عبد مناف کا پوتا ہونے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کے ہم جد قرابتی تھے ان (مطعم) کا آنحضرت ﷺ پر ایک احسان تھا کہ جب آنحضرت ﷺ تبلیغ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے اور وہاں سے واپس آئے تو مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو اپنے نرغے میں لے کر نقصان پہنچانا چاہا مگر مطعم نے ان مشرکین کو آنحضرت ﷺ سے دور کیا اس لئے آنحضرت ﷺ نے جبیر کے سامنے مذکورہ کلمات ارشاد فرمائے جس کا ایک مقصد جبیر کی تالیف قلب اور ان کو اسلام کی طرف راغب کرنا تھا۔
3879
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس : أن ثمانين رجلا من أهل مكة هبطوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم من جبل التنعيم متسلحين يريدون غرة النبي صلى الله عليه و سلم وأصحابه فأخذهم سلما فاستحياهم . وفي رواية : فأعتقهم فأنزل الله تعالى ( وهو الذي كف أيديهم عنكم وأيديكم عنهم ببطن مكة ) رواه مسلم
اور حضرت انس راوی ہیں کہ (صلح حدیبیہ کے سال) نبی کریم ﷺ کے خلاف مکہ کے اسی آدمی ہتھیاروں سے لیس ہو کر تنعیم کے پہاڑ سے اتر آئے جن کا ارادہ یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ پر اچانک حملہ کر کے ان کو نقصان پہنچائیں لیکن آنحضرت ﷺ نے (لڑے بھڑے بغیر) ان سب کو بےبس اور ذلیل کر کے گرفتار کرلیا اور پھر ان کو زندہ چھوڑ دیا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ۔ اور پھر ان کو رہا کردیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ ) 48 ۔ الفتح 24) اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے نواح مکہ میں ان (کفار) کا ہاتھ تمہارے خلاف اور تمہارا ہاتھ ان کے خلاف بند رکھا۔ (مسلم)
3880
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن قتادة قال : ذكر لنا أنس بن مالك عن أبي طلحة أن نبي الله صلى الله عليه و سلم أمر يوم بدر بأربعة وعشرين رجلا من صناديد قريش فقذفوا في طوي من أطواء بدر خبيث مخبث وكان ذا ظهر على قوم أقام بالعرصة ثلاث ليال فلما كان ببدر اليوم الثالث أمر براحلته فشد عليها رحلها ثم مشى وأتبعه أصحابه حتى قام على شفة الركي فجعل يناديهم بأسمائهم وأسماء آبائهم : يا فلان بن فلان ويا فلان بن فلان أيسركم أنكم أطعتم الله ورسوله ؟ فإنا قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا ؟ فقال عمر : يا رسول الله ما تكلم من أجساد لا أرواح لها ؟ قال النبي صلى الله عليه و سلم : والذي نفس محمد بيده ما أنتم بأسمع لما أقول منهم . وفي رواية : ما أنتم بأسمع منهم ولكن لا يجيبون . متفق عليه . وزاد البخاري : قال قتادة : أحياهم الله حتى أسمعهم قوله توبيخا وتصغيرا ونقمة وحسرة وندما
اور حضرت قتادہ کہتے ہیں حضرت انس بن مالک نے حضرت ابوطلحہ کے حوالہ سے ہمارے سامنے یہ بیان کیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے جنگ بدر کے دن (مکہ کے) کفار قریش کے چوبیس (مقتولین) سرداروں کے بارے میں حکم دیا ( کہ ان کو ٹھکانے لگا دیا جائے) چناچہ ان کی نعشوں کو بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا جو ناپاک تھا اور ناپاک کرنے والا تھا۔ نبی کریم ﷺ کی یہ عادت تھی کہ جب آپ ﷺ (جنگ میں) کسی قوم (یعنی دشمنوں) پر غلبہ اور فتح پالیتے تھے تو اس میدان جنگ میں تین راتیں قیام فرماتے تھے چناچہ (اسی عادت کے مطابق آپ ﷺ جنگ جیت لینے کے بعد بدر کے میدان میں بھی تین راتیں قیام فرما رہے اور جب تین دن گذر گئے تو آپ ﷺ نے اپنی سواری کے اونٹ پر کجاوہ باندھنے کا حکم دیا، چناچہ کجاوہ باندھ دیا گیا اور وہاں سے روانہ ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی آپ کے پیچھے ہو لئے (جب اس کنوئے پر پہنچے جس میں سرداران قریش کی نعشیں ڈالی گئی تھی تو) آپ ﷺ اس کنوئیں کے کنارے کھڑے ہوگئے اور ان سرداروں کو ان کا اور ان کے باپوں کا نام لے کر پکارنا شروع کیا کہ اے فلاں ابن فلاں اور اے فلاں ابن فلاں (اور پھر گویا ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ) (اب) تمہیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ؟ بلاشبہ ہمیں تو وہ چیز حاصل ہوگئی جس کا ہم سے ہمارے رب نے قطعی وعدہ کیا تھا ( یعنی تمہارے مقابلہ پر ہماری فتح اور باطل طاقتوں پر ہمارے غلبہ کا) اور کیا تم نے بھی وہ چیز پالی جس کا تم سے تمہارے پروردگار نے قطعی وعدہ کیا تھا یعنی تمہارے عذاب کا (مطلب یہ کہ ہم کو تو اللہ کے وعدے کے مطابق فتح و کامیابی حاصل ہوگئی کیا تم کو بھی عذاب ملا جس سے تمہارے پروردگار نے تمہیں ڈرایا تھا ؟ گویا آنحضرت ﷺ کا یہ سوال ازراہ توبیخ تھا) حضرت عمر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ایسے جسموں کو مخاطب کر رہے ہیں جن میں روحیں نہیں ہیں ! ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، ان (جسموں سے میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم اس کو زیادہ سننے والے نہیں ہو اور ایک روایت میں یوں ہے کہ۔ تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن (فرق صرف اتنا ہے کہ تم جواب دینے پر قادر ہو اور) یہ جواب نہیں دے سکتے۔ (بخاری ومسلم) بخاری نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت قتادہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان (سرداران قریش) کو آنحضرت ﷺ کے خطاب کے وقت) زندہ کردیا تھا تاکہ وہ آنحضرت ﷺ کی بات سن لیں اللہ تعالیٰ کے سامنے) ان کو سرزنش ہو اور وہ ذلت و خواری، عذاب اور افسوس وپشیمانی کو محسوس کریں۔

تشریح
حضرت عبد الحق محدث دہلوی وغیرہ نے اس حدیث کے ذریعہ سماع موتی کے مسئلہ کو ثابت کیا ہے جس کہ اکثر حنفی علماء نے اس (سماع موتی) کا انکار کیا ہے، ان علماء کی طرف سے مختلف انداز میں جواب دئیے گئے ہیں جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں جیسے فتح القدیر وغیرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
3881
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن مروان والمسور بن مخرمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام حين جاءه وفد من هوازن مسلمين فسألوه أن يرد إليهم أموالهم وسبيهم فقال : فاختاروا إحدى الطائفتين : إما السبي وإما المال . قالوا : فإنا نختار سبينا . فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فأثنى على الله بما هو أهله ثم قال : أما بعد فإن إخوانكم قد جاؤوا تائبين وإني قد رأيت أن أرد إليهم سبيهم فمن أحب منكم أن يطيب ذلك فليفعل ومن أحب منكم أن يكون على حظه حتى نعطيه إياه من أول ما يفيء الله علينا فليفعل فقال الناس : قد طيبنا ذلك يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنا لا ندري من أذن منكم ممن لم يأذن فارجعوا حتى يرفع إلينا عرفاؤكم أمركم . فرجع الناس فكلمهم عرفاؤهم ثم رجعوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبروه أنهم قد طيبوا وأذنوا . رواه البخاري
اور حضرت مروان اور حضرت مسور ابن مخرمہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اس وقت (خطبہ ارشاد کرنے کے لئے) کھڑے ہوئے جب قبیلہ ہوازن کے لوگ اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے قیدی واپس کر دئیے جائیں، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ دونوں چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو اختیار کرلو یعنی یا تو قیدیوں کو رہا کرا لے جاؤ یا مال واپس لے لو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اپنے قیدیوں کو رہا کرانا پسند کرتے ہیں تب رسول کریم ﷺ نے (صحابہ کے سامنے) یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ پہلے آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جس کا وہ مستحق ہے اور پھر فرمایا کہ ! بعد ازاں یہ (قبیلہ ہوازن کے لوگ) جو تمہارے (دینی یا نسبی) بھائی ہیں (اپنے کفر وشرک سے) توبہ کر کے (اور مسلمان ہو کر) تمہارے پاس آئے ہیں، میں نے اس چیز کو مناسب سمجھا ہے کہ ان کو ان کے قیدی واپس کر دے) اور جو شخص اپنے حصہ پر قائم رہنا چاہے تاوقتیکہ ہم اس کا عوض اس پہلے آنے والے مال میں سے نہ دے دیں جو اللہ تعالیٰ ہمیں غنیمت کے طور پر عطا کرے تو وہ ایسا ہی کرے (یعنی جو شخص اپنے حصے کے قیدی کو بغیر معاوضہ نہ دینا چاہے تو وہ ہمیں بتائے کہ وہ کیا معاوضہ لے گا تاکہ ہم یہ انتظام کردیں کہ اب کہیں سے جو سب سے پہلے مال غنیمت آئے اس میں سے اس کا وہ معاوضہ ادا کردیا جائے ! لوگوں نے (یعنی بعض صحابہ یا بلا امتیاز تمام صحابہ نے) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم اس پر (یعنی قیدیوں کو واپس کردینے پر) خوشی کے ساتھ آمادہ ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہمیں (اس مجمع میں ) یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ تم میں سے کون شخص راضی ہے اور جو شخص راضی نہیں ہے اس کا امتیاز نہیں کیا جاسکتا لہٰذا تم سب لوگ (اپنے اپنے گھر) لوٹ جاؤ اور اپنے خاندان و قبیلہ کے سرداروں سے اس بارے میں مشورہ کرلو) تاآنکہ تمہارے (وہ) سردار تفصیل کے ساتھ) ہمارے سامنے تمہارا فیصلہ پیش کریں۔ چناچہ سب لوگ لوٹ کر چلے گئے اور جب ان کے سرداروں نے ان سے گفتگو کرلی تو وہ لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں واپس آئے اور آپ ﷺ کی بتایا کہ وہ (قیدیوں کو واپس کردینے پر) راضی ہیں اور انہوں نے (اس امر کی) اجازت دے دی ہے۔ (بخاری)

تشریح
مکہ مکرمہ سے شمال مشرقی جانب طائف کے لئے جو راستہ جاتا ہے اس راستے پر ایک وسیع میدان ملتا ہے جس کے اطراف میں پہاڑیاں ہیں اور اس سے گذرنے کے بعد چھوٹی سی بستی ملتی ہے، اس میدان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے آس پاس قبیلہ ہوازن کے لوگ آباد تھے اور یہیں فتح مکہ کے بعد وہ غزوہ ہوا تھا جس کو غزوہ حنین یا غزوہ ہوازن کہتے ہیں۔ اس غزوہ میں غزوہ میں غنیمت کا بہت زیادہ مال مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور دشمن کے بیشمار بال بچے قیدی بنا کر مدینے لائے گئے تھے جن کو صحابہ کے درمیان تقسیم کردیا گیا ہے چناچہ جب اس غزوہ کے بعد قبیلہ ہوازن کے لوگ مشرف بہ اسلام ہوگئے تو وہ دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور اپنے مال اور اپنے قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، چونکہ ان کا مال اور قیدی مجاہدین اسلام (یعنی صحابہ) کی ملکیت ہوگئے تھے اور ان کی اجازت کے بغیر ان کی ملکیت کو واپس کرنا جائز نہیں تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں صحابہ کے سامنے مذکورہ بالا ارشاد فرمایا اور ان سے مذکورہ اجازت طلب کی۔
3882
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمران بن حصين قال : كانت ثقيف حليفا لبني عقيل فأسرت ثقيف رجلين من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم وأسر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا من بني عقيل فأوثقوه فطرحوه في الحرة فمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فناداه : يا محمد يا محمد فيم أخذت ؟ قال : بجريرة حلفائكم ثقيف فتركه ومضى فناداه : يا محمد يا محمد فرحمه رسول الله صلى الله عليه و سلم فرجع فقال : ما شأنك ؟ قال : إني مسلم . فقال : لو قلتها وأنت تملك أمرك أفلحت كل الفلاح . قال : ففداه رسول الله صلى الله عليه و سلم بالرجلين اللذين أسرتهما ثقيف . رواه مسلم
اور حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف، بنو عقیل کا حلیف تھا، چناچہ جو قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابیوں کو گرفتار کرلیا تو رسول کریم ﷺ کے صحابہ نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو گرفتار کرلیا اور اس کو مضبوطی سے باندھ کر حرہ میں ڈال دیا۔ رسول کریم ﷺ ادھر سے گذرے تو اس (قیدی) نے پکارا محمد ﷺ ! محمد ﷺ مجھے کس جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے حلیف، قبیلہ ثقیف (کے لوگوں کے جرم میں یعنی قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے ہمارے دو مسلمانوں کو پکڑ لیا ہے، ان کے بدلے میں تمہیں پکڑ لیا گیا ہے۔ (یہ کہہ کر) آپ ﷺ نے اس کو اس کے حال پر (اس جگہ) چھوڑ دیا اور آگے بڑھ گئے، اس نے آنحضرت ﷺ کو پھر پکارا محمد ﷺ ! محمد ! رسول کریم ﷺ کو اس پر رحم آگیا، آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا کہ تم کس حال میں ہو ؟ اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں آپ ﷺ نے فرمایا (کاش ! ) تم یہ بات اس وقت کہتے، جب تم خود اپنے اختیار کے مالک تھے (یعنی جب کہ تم قید ہونے سے پہلے اپنے اوپر اختیار رکھتے تھے اور تم پر کوئی دباؤ نہیں تھا اگر اس وقت بطریق رغبت کے یہ کہتے کہ میں مسلمان ہوں تو تم نجات پا جاتے کامل نجات (یعنی دنیا میں تو یہ نجات ملتی کہ قید نہ ہوتے اور آخرت میں دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا پاتے) راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے اس کو ان دونوں آدمیوں کے بدلے میں جن کو ثقیف نے گرفتار کیا تھا چھوڑ دیا۔ (مسلم)

تشریح
ثقیف عرب کے ایک بڑے اور مشہور قبیلہ کا نام ہے۔ جو بنو ہوازن کی ایک شاخ اور طائف میں آباد تھا، اسی طرح بنوعقیل بھی ایک تھا، یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے کے حلیف تھے۔ زمانہ جاہلیت کے عرب میں یہ دستور تھا کہ قبائل آپس میں ایک دوسرے کے درمیان حلف وقسم کے ساتھ یہ عہد و پیمان کیا کرتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے برے بھلے کام کے ساتھی ہوں گے اور ہم میں سے کسی ایک کا دشمن دوسرے کا بھی دشمن اور کسی ایک کا دوست دوسرے کا بھی دوست ہوگا، لیکن جب اسلام کا زمانہ آیا تو زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق وہ قسما قسمی تو جائز رہی جس کا تعلق حق اور جائز باتوں سے تھا لیکن جس کا تعلق ناحق اور ناجائز باتوں سے تھا اس کو ختم کردیا گیا اور حکم دیا گیا کہ اسلام کا جو حلف ہے وہ کافی ہے۔ بنو عقیل کے ایک آدمی کو گرفتار کرلیا یعنی قبیلہ ثقیف کے لوگوں نے جن دو صحابہ کو پکڑ کر اپنے یہاں قید کرلیا تھا ان کے بدلے میں مسلمانوں نے بنوعقیل ایک آدمی پکڑ کر اپنے یہاں باندھ دیا، کیونکہ اس وقت قبائل کا باہمی دستور یہی تھا کہ ایک حلیف کے جرم میں دوسرے حلیف کے حلیف کے آدمی پکڑ لیا جاتا تھا چناچہ مسلمانوں نے بھی اسی دستور کے مطابق عمل کیا اور بظاہر اس میں مصلحت بھی تھی۔ حرہ مدینہ کے مضافات میں پہاڑی علاقہ کے اس قطعہ کو کہا جاتا تھا جس کی زمین کالی پتھریلی تھی۔ میں مسلمان ہوں الخ ان الفاظ کے ذریعہ اس شخص نے گویا یہ بتانا چاہا کہ میں پہلے ہی سے مسلمان ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو غیر مسلم، مسلمانوں کی قید میں ہو اور وہ یہ دعوی کرلے کہ میں مسلمان ہوں تو اس کی بات کو اس وقت تک تسلیم نہ کیا جائے جب تک کہ اس کا دعوی گواہی کے ذریعہ ثابت نہ ہوجائے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعہ اس شخص کی یہ مراد ہو میں اب اسلام قبول کرتا ہوں۔ بہرحال آنحضرت ﷺ نے اس کے دعوی اسلام کو قبول نہیں کیا کیونکہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہ تو ازراہ نفاق اپنے اسلام کا دعویٰ کر رہا ہے یا بطریق اضطرار وہ اس دعوے پر مجبور ہے اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے جھوٹا سمجھتے ہوئے دارالحرب جانے دیا۔ اس اعتبار سے اس شخص کے ساتھ آنحضرت ﷺ کا یہ معاملہ گویا آپ ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔
3883
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت : لما بعث أهل مكة في فداء أسرائهم بعثت زينب في فداء أبي العاص بمال وبعثت فيه بقلادة لها كانت عند خديجة أدخلتها بها على أبي العاص فلما رآها رسول الله صلى الله عليه و سلم رق لها رقة شديدة وقال : إن رأيتم أن تطلقوا لها أسيرها وتردوا عليها الذي لها فقالوا : نعم وكان النبي صلى الله عليه و سلم أخذ عليه أن يخلي سبيل زينب إليه وبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم زيد بن حارثة ورجلا من الأنصار فقال : كونا ببطن يأحج حتى تمر بكما زينب فتصحباها حتى تأتيا بها . رواه أحمد وأبو داود
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب (جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ پر غلبہ اور فتح عطا فرمائی اور ان میں سے کچھ کو قتل کر دئیے گئے اور کچھ قیدی بنا کر مدینہ لائے گئے اور پھر آنحضرت ﷺ نے ان کی رہائی کے بدلے میں مال طلب کیا تو) اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کی رہائی کا معاوضہ روانہ کیا، (آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی) حضرت زینب نے بھی (اپنے شوہر) ابوالعاص کی رہائی کے بدلے میں کچھ مال بھیجا جس میں ان کا وہ ہار بھی تھا جو (پہلے) حضرت خدیجہ کے پاس تھا اور اس کو انہوں نے ابوالعاص کے ساتھ زینب کے نکاح کے وقت ان کو (جہیز میں) دیا تھا جب رسول کریم ﷺ نے وہ ہار دیکھا تو زنیب کے لئے آپ ﷺ پر رقت طاری ہوگئی (یعنی) اس وقت اپنی بیٹی حضرت زینب کی غربت و تنہائی کا احساس کر کے اور حضرت خدیجہ کی رفاقت کی یاد تازہ ہوجانے کی وجہ سے جن کے گلے میں وہ ہار رہتا تھا آپ ﷺ کا دل امنڈ آیا) اور آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا کہ اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کی خاطر اس کے قیدی (ابو العاص) کو (بلا معاوضہ) رہا کردو اور اس (زینب) کو اس کی (وہ سب) چیزیں (جو اس نے ابوالعاص کی رہائی کی لئے بھیجی ہیں) واپس کردو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ بہتر ہے (ہم زینب کا مال واپس کر کے ابوالعاص کو بلا معاوضہ رہا کردیتے ہیں) چناچہ (ابو العاص کو رہا کردیا گیا اور رہائی کے وقت) آنحضرت ﷺ نے ابوالعاص سے یہ عہد وعدہ لیا کہ وہ آپ ﷺ کے پاس زینب کے آنے کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں (یعنی آپ ﷺ نے ابوالعاص کو رہا کرتے وقت ان سے کہا کہ یہ پختہ وعدہ کرو کہ مکہ پہنچ کر زینب کو میرے پاس مدینہ آنے دو گے اور اس کا راستہ نہیں روگے) اور پھر رسول کریم ﷺ نے زید ابن حارثہ اور انصار میں سے ایک شخص کو (مکہ) روانہ کیا اور ان سے کہا کہ تم لوگ بطن یا جج میں ٹھہر جانا، جب زنیب (مکہ سے روانہ ہو کر) وہاں تمہارے پاس آجائے تو تم اس کے ساتھ ہوجانا اور (مدینہ) لے آنا۔ (احمد، ابوداؤد )

تشریح
آنحضرت ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں اور ابوالعاص ابن ربیع جو عبدالعزی ابن عبد شمس ابن عبد مناف کے پوتے تھے، ام المؤمنین حضرت خدیجہ کے بھانجے تھے اور حضرت زنیب کے شوہر ہونے کی وجہ سے داماد بھی تھے۔ حضرت خدیجہ، آنحضرت ﷺ سب سے پہلی زوجہ مطہرہ ہیں، آپ ﷺ کی ساری اولاد علاوہ ابراہیم کے حضرت خدیجہ ہی کے بطن سے تھی۔ ابراہیم جن کا کم سنی میں انتقال ہوگیا تھا حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے۔ حضرت زینب جو ایک کافر یعنی ابوالعاص کے نکاح میں تھیں تو اس کا سبب یہ تھا کہ اس وقت مسلمان عورت کا کافر مرد کے ساتھ نکاح جائز تھا، نیز مکہ سے حضرت زینب کو لانے کے لئے آنحضرت ﷺ کی طرف سے ایسے دو آدمیوں کا بھیجا جانا جو حضرت زینب کے شرعی محرم نہیں تھے ایک بالکل مخصوص نوعیت کا معاملہ تھا اور وہ ایک ایسی صورت تھی جو ( امن) کی صورت کہلائی جاسکتی ہے کہ حضرت زینب چونکہ صاحبزادی رسول تھیں اس لئے ان کے ساتھ کسی غیر محرم کا ہونا کسی قسم کے شک وشبہ سے بالا تر تھا اور کسی خوف و خطرہ کے پیدا ہونے کا سوال نہیں تھا۔ ویسے یہ ایک عام مسئلہ ہے کہ عورت کو کسی نا محرم کے ساتھ سفر کرنا جائز نہیں ہے بطن یا حج ایک جگہ کا نام تھا جو مکہ سے تقریبا آٹھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس لفظ یا جج کو صاحب قاموس نے یا اور دونوں جیم کے ساتھ یعنی یا جج لکھا ہے اور علماء نے اس کو نون اور یا و جیم کے ساتھ یعنی ناجج بھی نقل کیا ہے چناچہ مشکوۃ المصابیح کے اکثر قدیم نسخوں میں یہ لفظ ناجج ہی مذکور ہے۔ حضرت زینب جب مکہ سے مدینہ آگئیں تو ابوالعاص مکہ ہی میں رہے اور کفر کی حالت پر قائم رہے، کچھ دنوں کے بعد ان کو تجارت کی غرض سے شام کا سفر کرنا پڑا، جب مدینہ کے مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ابوالعاص اس سفر میں مدینہ کے قریب سے گذرنے والے ہیں تو انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ ابوالعاص جیسے ہی مدینہ کے علاقہ میں داخل ہوں ان کا سارا مال چھین لیا جائے، اس اسکیم کی خبر حضرت زینب کو پہنچی تو ان کا دل شوہر کی محبت میں بےتاب ہوگیا، فورًا آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا مسلمانوں میں سے کسی ایک کے عہد امان کا اعتبار نہیں ہے۔ حضرت زینب نے کہا کہ تو پھر یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ گواہ رہئے کہ میں ابوالعاص کو عہد امان دیتی ہوں۔ جب صحابہ نے یہ حال دیکھا تو ان کے لئے اپنی اسکیم پر عمل کرنا قطعًا ممکن نہیں رہا تاہم وہ بغیر ہتھیار واسلحہ کے مدینہ کے قریب ابوالعاص کی گزر گاہ پر پہنچے اور ان سے ملے تو کہا کہ ابوالعاص تم قریش کے ایک معزز شریف اور صاحب حیثیت فرد ہو اور پیغمبر اسلام کے چچا کے بیٹے بھی ہو ( اس نسبت سے تمہارے حق میں اس سے بہتر اور کوئی راہ نہیں ہے کہ) تم مسلمان ہوجاؤ تاکہ ( تمہیں آخرت کی فلاح ونجات تو ملے ہی گی) تمہارا یہ سب مال بھی تمہارے ہی پاس رہے۔ ابوالعاص نے ( یہ سن کر) کہا تم نے جو یہ کہا ہے ( کہ مسلمان ہوجانے کی وجہ سے مال محفوظ رہے گا) تو یہ ایک قطعی نامناسب اور غیرموزوں بات ہے میں اس سے پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے اسلام کو مال و دولت ( کی کثافت) سے گندہ کروں ! اس کے بعد ابوالعاص مکہ روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر لوگوں کا مال ان کے سپرد کیا اور پھر ( سب کو جمع کر کے) کہا کہ مکہ والو ! تم لوگوں کے مال تمہارے پاس پہنچ گئے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، پہنچ گئے۔ پھر ابوالعاص نے ان کے سامنے اعلان کیا کہ تم سب گواہ رہو ! میں مسلمان ہوگیا ہوں اشھدان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ۔ اس کے بعد حضرت ابوالعاص نے مکہ میں اپنا گھر بار، دوست عزیز اور مال و اسباب سب کچھ چھوڑ کر راہ ہجرت اختیار کی اور مدینہ پہنچ کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، آنحضرت ﷺ نے بکمال محبت والفت ان کو خوش آمدید کہا اور حضرت زینب کو ان کی سپردگی میں دے دیا۔ اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ابوالعاص کے مدینہ پہنچنے پر حضرت زینب سے ان کا دوبارہ ( از سر نو) نکاح کیا تھا یا پہلا ہی نکاح باقی رکھا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو ابوالعاص سے بہت زیادہ تعلق تھا، خاص طور سے ان کے مسلمان ہوجانے کے بعد تو آپ ان سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور ان سے بہت خوش رہا کرتے تھے۔ وہ حضرت ابوبکر صدیق کے دور خلافت میں جنگ یمامہ کے دوران شہید ہوئے۔