Mishkaat Shareef
175. دوزخ اور دوزخیوں کا بیان
مشكاة المصابيح
5570
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ناركم جزء من سبعين جزءا من نار جهنم قيل : يا رسول الله إن كانت لكافية قال : فضلت عليهن بتسعة وستين جزءا كلهن مثل حرها . متفق عليه . واللفظ للبخاري . وفي رواية مسلم : ناركم التي يوقد ابن آدم . وفيها : عليها و كلها بدل عليهن و كلهن
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہاری (دنیا کی) آگ دوزخ کی آگ کے ستّر حصوں میں سے ایک حصہ ہے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! یہ تو دنیا کی آگ ہی (عذاب دینے کے لئے) کافی تھی (پھر اس سے بھی زیادہ حرارت وتپش رکھنے والی آگ پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو یہاں (دنیا) کی آگ انہتر حصہ بڑھا دیا گیا ہے اور ان انہتر حصوں میں سے ہر ایک حصہ تمہاری (دنیا کی) آگ کے برابر ہے۔ اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے، لیکن (یہاں مذکورہ) الفاظ بخاری کے ہیں اور صحیح مسلم کی روایت یوں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) تمہاری (دنیا کی) یہ آگ جس کو ابن آدم (انسان) بتلاتا ہے دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے، نیز مسلم کی روایت میں علیہن اور کلہن کے بجائے علیہا اور کلہا کے الفاظ ہیں (یعنی بخاری کی روایت میں ہے
تشریح
دنیا کی آگ کا دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آگ جو درجہ حرارت رکھتی ہے دوزخ کی آگ اس سے ستر درجہ حرارت زیادہ گرم ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ستر کے عدد سے مراد دنیا کی آگ کا مقابلہ پر دوزخ کی آگ کی گرمی کی شدت و زیادتی کو بیان کرنا ہو نہ کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہے گویا اصل مفہوم یہ ہوگا کہ دوزخ کی آگ تمہاری دنیا کی آگ کے مقابلہ پر بہت زیادہ درجہ حرارت رکھتی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے جو سوال کیا گیا، اس کے جواب میں آپ ﷺ نے جو فرمایا وہ گویا از راہ تاکید اسی جملہ کی تکرار تھی جو آپ ﷺ نے شروع میں فرمایا تھا اور اس سے جواب کا حاصل یہ نکلا کہ بیشک کسی کو جلانے کے لئے یہ دنیا کی آگ ہی بہت ہے کہ اگر تم کسی انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے اس آگ میں ڈال دو تو وہ جل کر کوئلہ ہوجائے گا مگر دوزخ کی آگ جس عذاب الٰہی کے لئے تیار کی گئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس کی حرارت و گرمی اس دنیا کی آگ کی حرارت و گرمی سے بہت زیادہ ہوتا کہ اللہ کا عذاب دنیا والوں کے عذاب سے ممتاز رہے اور دوزخ کی اس آگ میں جلنے والوں کو معلوم ہو کہ ان کے اللہ کا عذاب اتنا شدید اور اتنا سخت ہے کہ اگر دنیا میں کوئی شخص انہیں وہاں کی آگ میں جلاتا تو وہ عذاب اس عذاب الٰہی کے مقابلے پر ہیچ ہوتا حاصل یہ کہ دوزخ کی آگ دراصل عذاب الٰہی ہے جیسا کہ اس کا اضاف عذاب میں ذکر ہوتا ہے اس لئے اس کو دنیا کی بہ نسبت کہیں زیادہ درجہ حرارت رکھنا ہی چاہے۔
تشریح
دنیا کی آگ کا دوزخ کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آگ جو درجہ حرارت رکھتی ہے دوزخ کی آگ اس سے ستر درجہ حرارت زیادہ گرم ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ستر کے عدد سے مراد دنیا کی آگ کا مقابلہ پر دوزخ کی آگ کی گرمی کی شدت و زیادتی کو بیان کرنا ہو نہ کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہے گویا اصل مفہوم یہ ہوگا کہ دوزخ کی آگ تمہاری دنیا کی آگ کے مقابلہ پر بہت زیادہ درجہ حرارت رکھتی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے جو سوال کیا گیا، اس کے جواب میں آپ ﷺ نے جو فرمایا وہ گویا از راہ تاکید اسی جملہ کی تکرار تھی جو آپ ﷺ نے شروع میں فرمایا تھا اور اس سے جواب کا حاصل یہ نکلا کہ بیشک کسی کو جلانے کے لئے یہ دنیا کی آگ ہی بہت ہے کہ اگر تم کسی انسان کو عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے اس آگ میں ڈال دو تو وہ جل کر کوئلہ ہوجائے گا مگر دوزخ کی آگ جس عذاب الٰہی کے لئے تیار کی گئی ہے اس کا تقاضا ہے کہ اس کی حرارت و گرمی اس دنیا کی آگ کی حرارت و گرمی سے بہت زیادہ ہوتا کہ اللہ کا عذاب دنیا والوں کے عذاب سے ممتاز رہے اور دوزخ کی اس آگ میں جلنے والوں کو معلوم ہو کہ ان کے اللہ کا عذاب اتنا شدید اور اتنا سخت ہے کہ اگر دنیا میں کوئی شخص انہیں وہاں کی آگ میں جلاتا تو وہ عذاب اس عذاب الٰہی کے مقابلے پر ہیچ ہوتا حاصل یہ کہ دوزخ کی آگ دراصل عذاب الٰہی ہے جیسا کہ اس کا اضاف عذاب میں ذکر ہوتا ہے اس لئے اس کو دنیا کی بہ نسبت کہیں زیادہ درجہ حرارت رکھنا ہی چاہے۔
5571
Mishkaat Shareefوعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يؤتى بجهنم يومئذ لها سبعون ألف زمام مع كل زمام سبعون ألف ملك يجرونها . رواه مسلم
اور حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس دن (یعنی قیامت کے دن) دوزخ کو (اس جگہ سے کہ جہاں اس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے) لایا جائے گا اس کی ستر ہزار باگیں ہوں گی اور ہر باگ پر ستر ہزار فرشتے متعین ہوں گے جو اس کو کھینچے ہوئے لائیں گے۔ (رواہ مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ کو لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے اور ایسی جگہ رکھ دینگے کہ وہ اہل محشر اور جنت کے درمیان حائل ہوجائے گی اور جنت تک جانے کے لئے اس پل صراط کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا جو دوزخ کی پیٹھ پر رکھا ہوگا دوزخ جو ستر ہزار باگیں ہوں گی ان کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ جب لائی جائے گی تو اہل دوزخ پر اپنی غضب ناکی کا اظہار کر رہی ہوگی اور چاہے گی سب وہ نگل لے اور ہڑپ کر جائے پس نگہبان فرشتے اس کو انہیں باگوں کے ذریعہ روکیں گے اگر اس کی باگیں چھوڑ دی جائیں اور اس کو حملہ آور ہونے سے باز نہ رکھا جائے تو وہ مومن اور کافر سب کو چٹ کر جائے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن دوزخ کو لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے اور ایسی جگہ رکھ دینگے کہ وہ اہل محشر اور جنت کے درمیان حائل ہوجائے گی اور جنت تک جانے کے لئے اس پل صراط کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوگا جو دوزخ کی پیٹھ پر رکھا ہوگا دوزخ جو ستر ہزار باگیں ہوں گی ان کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ جب لائی جائے گی تو اہل دوزخ پر اپنی غضب ناکی کا اظہار کر رہی ہوگی اور چاہے گی سب وہ نگل لے اور ہڑپ کر جائے پس نگہبان فرشتے اس کو انہیں باگوں کے ذریعہ روکیں گے اگر اس کی باگیں چھوڑ دی جائیں اور اس کو حملہ آور ہونے سے باز نہ رکھا جائے تو وہ مومن اور کافر سب کو چٹ کر جائے۔
5572
Mishkaat Shareefوعن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أهون أهل النار عذابا من له نعلان وشراكان من نار يغلي منهما دماغه كما يغلي المرجل ما يرى أن أحدا أشد منه عذابا وإنه لأهونهم عذابا . متفق عليه
اور حضرت نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ دوزخیوں میں سے جو شخص سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا اس کو آگ کی دو جوتیاں پہنائی جائیں گی جن کے اوپر آگ کے دو تسمے ہوں گے (یعنی ان جوتیوں کے تلوے بھی آگ کے ہوں گے جو پیروں کے نیچے کے حصے میں ہوں گے اور ان کے تسمے بھی آگ کے ہوں گے جو پیروں کے اوپر کے حصے پر ہوں گے) اور ان دونوں (یعنی جوتیوں کے تلوؤں اور تسموں کی تپش و حرارت سے ان کا دماغ اس طرح جوش مارے گا جس طرح دیگ جوش کھاتی ہے۔ وہ شخص چونکہ دوسرے دوزخیوں کی حالت و کیفیت سے بیخبر ہوگا اس لئے) یہ خیال کرے گا کہ اس سے زیادہ سخت عذاب میں کوئی مبتلا نہیں ہے حالانکہ وہ سب سے ہلکے عذاب میں مبتلا ہوگا۔
تشریح
اس حدیث سے صراحۃ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے اعتبار سے اہل دوزخ متفاوت ہوں گے کہ کوئی سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوگا اور کوئی ہلکے عذاب میں ،
تشریح
اس حدیث سے صراحۃ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کے اعتبار سے اہل دوزخ متفاوت ہوں گے کہ کوئی سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوگا اور کوئی ہلکے عذاب میں ،
5573
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أهون أهل النار عذابا أبو طالب وهو منتعل بنعلين يغلي منهما دماغه . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب ابوطالب کا ہوگا وہ آگ کی جوتیاں پہنے ہوں گے جن سے ان کا دماغ کھولتا رہے گا۔ (بخاری)
تشریح
ابو طالب آنحضرت ﷺ کے چچا تھے جن کی شفقت وسرپرستی نے آنحضرت ﷺ کی بہت مدد کی اگرچہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا مگر جب تک جئے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ کی دشمنی و عداوت سے محفوظ رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتے رہے اور اس کے بدلے میں ان کو دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔
تشریح
ابو طالب آنحضرت ﷺ کے چچا تھے جن کی شفقت وسرپرستی نے آنحضرت ﷺ کی بہت مدد کی اگرچہ انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا مگر جب تک جئے آنحضرت ﷺ کو کفار مکہ کی دشمنی و عداوت سے محفوظ رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرتے رہے اور اس کے بدلے میں ان کو دوزخ میں سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔
5574
Mishkaat Shareefوعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يؤتى بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة فيصبغ في النار صبغة ثم يقال : يا ابن آدم هل رأيت خيرا قط ؟ هل مر بك نعيم قط ؟ فيقول : لا والله يا رب ويؤتى بأشد الناس بؤسا في الدنيا من أهل الجنة فيصبغ صبغة في الجنة فيقال له : يا ابن آدم هل رأيت بؤسا قط ؟ وهل مر بك شدة قط . فيقول : لا والله يا رب ما مر بي بؤس قط ولا رأيت شدة قط . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دوزخیوں میں ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ عیش و آرام کی زندگی گزارتا تھا (اور اپنے اس عیش و آرام سے بدمست ہو کر ظلم وجور میں بہت بڑھا ہوا تھا) پھر اس کو دوزخ میں ایک غوطہ دیا جائے گا (یعنی دوزخ میں ڈبویا جائے گا جس طرح کپڑا رنگ میں ڈبویا جاتا ہے) اور کہا جائے گا کہ اے ابن آدم ! کیا تو نے دنیا میں کبھی کوئی راحت و بھلائی دیکھی تھی اور کوئی عیش و آرام اٹھایا تھا ؟ وہ دوزخی (دوزخ میں ڈالے جانے کے ڈر سے اس قدر سہم جائے گا کہ دنیا کے تمام نازونعم اور ان تمام آسائش و راحت کو فراموش کردے گا جو اس کو حاصل تھیں اور ایسا ظاہر کرے گا جیسے اس کو دنیا میں کوئی راحت ونعمت نصیب ہی نہیں ہوئی تھی چناچہ وہ کہے گا کہ نہیں میرے پروردگار اللہ کی قسم مجھے کوئی راحت ونعمت نصیب نہیں ہوئی تھی اس طرح جنتیوں میں سے ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ غم والم اور مشقت وکلفت برداشت کرنے والا تھا، پھر اس کو جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اے ابن آدم کیا تو نے دنیا میں کوئی غم اٹھایا تھا اور کسی مشقت وکلفت سے دوچار ہوا تھا ؟ وہ جنتی جنت کی نعمتیں اور راحتیں دیکھ کر اپنے دنیا کے تمام رنج وغم اور کلفت ومشقت بھول جائے گا اور جواب دے گا کہ نہیں میرے پروردگار اللہ کی قسم میں نے دنیا میں کبھی کوئی رنج وغم نہیں دیکھا اور کوئی مشقت وکلفت نہیں اٹھائی۔ (مسلم)
تشریح
جنتی کو چونکہ نہایت درجہ کی خوشی حاصل ہوگی اس لئے وہ جواب میں طوالت اختیار کرے گا اس کے برخلاف دوزخی مختصر سا جواب دے کر خاموش ہوجائے گا۔
تشریح
جنتی کو چونکہ نہایت درجہ کی خوشی حاصل ہوگی اس لئے وہ جواب میں طوالت اختیار کرے گا اس کے برخلاف دوزخی مختصر سا جواب دے کر خاموش ہوجائے گا۔
5575
Mishkaat Shareefوعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله لأهون أهل النار عذابا يوم القيامة : لو أن لك ما في الأرض من شيء أكنت تفتدي به ؟ فيقول : نعم . فيقول : أردت منك أهون من هذا وأنت في صلب آدم أن لا تشرك بي شيئا فأبيت إلا أن تشرك بي . متفق عليه
اور حضرت انس (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوزخیوں میں سے اس شخص سے جو سب سے ہلکے عذاب میں ہوگا فرمائے گا کہ اگر تیرے پاس روئے زمین کی چیزوں میں سے کوئی ایسی چیز ہوتی جس کا بدلہ میں دے سکتا اور اس کے عوض دوزخ کا عذاب سے خواہ وہ کتنا ہی ہلکا ہو چھٹکارا پاسکتا، تو کیا تو ایسا کرتا وہ دوزخی کہے گا کہ ہاں میں دنیا کی حاصل شدہ بڑی سے بڑی چیزبدلہ میں دے کر دوزخ کے عذاب سے چھٹکارا پانا چاہوں گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ بدنصیب انسان میں نے تو اسی وقت جب تو آدم کی پشت میں تھا، اس (بدلہ میں کوئی چیز دینے) سے بھی آسان وسہل چیز تیرے لئے طے کردی تھی اور وہ یہ کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، مگر تو اس سے مکر گیا اور میرے احکام کی کوئی پابندی نہیں کی یہاں تک کہ بتوں وغیرہ کی پرستش و تعظیم کے ذریعہ میرا شریک ٹھہرا کر رہا، پس اب میں اس عذاب دوزخ کے بدلہ میں کوئی چیز قبول نہیں کروں گا خواہ تو دنیا کی تمام چیزیں ہی کیوں نہ لے آئے۔ ( بخاری و مسلم )
تشریح
لفظی ترجمہ کے اعتبار سے اس جگہ اردت منک الخ کے معنی یہ ہوں گے کہ میں نے تجھ سے اس سے بھی آسان وسہل چیز چاہی تھی اور مظہر نے لکھا ہے کہ یہاں ارادہ کا لفظ امر کے معنی میں ہے (یعنی چاہنے سے مراد حکم دینا ہے) نیز ارادہ اور امر میں فرق یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے سب اسی کے ارادے ومشیت سے ہوتا ہے جب کہ امر کا اطلاق کبھی اس چیز پر بھی ہوتا ہے جو اس کے ارادہ ومشیت کے خلاف ہو طیبی (رح) یہ کہتے ہیں کہ زیادہ درست یہ ہے کہ یہاں ارادہ کو میثاق یعنی عہد لینے پر محمول کیا جائے جس کا ذکر قرآن کریم میں یوں فرمایا گیا ہے واذا اخذربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم الخ اور اس کا قرینہ خود حدیث قدسی کے یہ الفاظ وانت فی صلب ادم ہیں (مکر نے) کو عہد توڑنے محمول کیا جائے۔
تشریح
لفظی ترجمہ کے اعتبار سے اس جگہ اردت منک الخ کے معنی یہ ہوں گے کہ میں نے تجھ سے اس سے بھی آسان وسہل چیز چاہی تھی اور مظہر نے لکھا ہے کہ یہاں ارادہ کا لفظ امر کے معنی میں ہے (یعنی چاہنے سے مراد حکم دینا ہے) نیز ارادہ اور امر میں فرق یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے سب اسی کے ارادے ومشیت سے ہوتا ہے جب کہ امر کا اطلاق کبھی اس چیز پر بھی ہوتا ہے جو اس کے ارادہ ومشیت کے خلاف ہو طیبی (رح) یہ کہتے ہیں کہ زیادہ درست یہ ہے کہ یہاں ارادہ کو میثاق یعنی عہد لینے پر محمول کیا جائے جس کا ذکر قرآن کریم میں یوں فرمایا گیا ہے واذا اخذربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم الخ اور اس کا قرینہ خود حدیث قدسی کے یہ الفاظ وانت فی صلب ادم ہیں (مکر نے) کو عہد توڑنے محمول کیا جائے۔
5576
Mishkaat Shareefوعن سمرة بن جندب أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : منهم من تأخذه النار إلى كعبيه ومنهم من تأخذه النار إلى ركبتيه ومنهم من تأخذه النار إلى حجزته ومنهم من تأخذه النار إلى ترقوته . رواه مسلم
اور حضرت سمرۃ بن جندب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دوزخیوں میں سے کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں ٹخنوں تک آگ ہوگی، کچھ لوگ ہوں گے جن کے دونوں زانوں تک آگ ہوگی کچھ لوگ ہوں گے جن کی کمر تک آگ ہوگی اور کچھ لوگ ہوں گے جن کی گردن تک آگ ہوگی۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہم کہ ہم اہل دوزخ عذاب کے ہلکے اور سخت ہونے میں متفاوت ہوں گے جو دنیا میں جس درجہ کا بد عقیدہ اور بدعمل رہا ہوگا۔ اس کو اسی درجہ کا عذاب ہوگا۔
تشریح
اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہم کہ ہم اہل دوزخ عذاب کے ہلکے اور سخت ہونے میں متفاوت ہوں گے جو دنیا میں جس درجہ کا بد عقیدہ اور بدعمل رہا ہوگا۔ اس کو اسی درجہ کا عذاب ہوگا۔
5577
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما بين منكبي الكافر في النار مسيرة ثلاثة أيام للراكب المسرع . وفي رواية : ضرس الكافر مثل أحد وغلظ جلده مسيرة ثلاث . رواه مسلم وذكر حديث أبي هريرة : إذا اشتكت النار إلى ربها . في باب تعجيل الصلوات
اور حضرت ابوہریرۃ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دوزخ میں کافر کے جسم کو اس قدر موٹا اور فربہ بنادیا جائے گا کہ اس کے دونوں مونڈھوں کا درمیانی فاصلہ تیز رو سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ دوزخ میں کافر کا دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اس کے جسم کی کھال تین دن کی مسافت کے برابر موٹی ہوگی۔ (مسلم) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت اشتکت النار الی ربہا باب تعجیل الصلوۃ میں نقل کی جاچکی ہے۔
تشریح
اس حدیث میں اہل دوزخ کے جسم کے پھیلاؤ اور مٹاپے کا ذکر ہے جب کہ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ قیامت کے دن متکبرین کو میدان حشر میں اس حالت میں لایا جائے گا کہ ان کے جسم تو چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ان کی صورتیں مردوں کی ہوں گی اور پھر انہیں ہانک کر قید خانہ میں لایا جائے گا۔ پس ان دونوں رویتوں میں تطبیق یہ ہے کہ متکبرین سے مراد مؤمن گناہ گار ہیں جب کہ مذکورہ بالا حدیث میں کفار کا ذکر کیا گیا ہے لیکن زیادہ درست یہ کہنا ہے کہ ان کو میدان حشر میں چیونٹیوں ہی کے جسم میں لایا جائے گا جہاں وہ لوگوں کے تلوؤں تلے خوب روندے جائیں گے اس کے بعد پھر ان کے بدن اپنی اصلی حالت میں آجائیں گے اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے، دوزخ میں ان کے بدن دوبارہ غیر معمولی ساخت کے ہوجائیں گے اور ان کا مٹاپا اور پھیلاؤ اتنا بڑھ جائے گا جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے نیز ان کے بدن کو اس قدر موٹا اور فربہ اس لئے کیا جائے گا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہوسکے۔
تشریح
اس حدیث میں اہل دوزخ کے جسم کے پھیلاؤ اور مٹاپے کا ذکر ہے جب کہ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ قیامت کے دن متکبرین کو میدان حشر میں اس حالت میں لایا جائے گا کہ ان کے جسم تو چیونٹیوں کے برابر ہوں گے اور ان کی صورتیں مردوں کی ہوں گی اور پھر انہیں ہانک کر قید خانہ میں لایا جائے گا۔ پس ان دونوں رویتوں میں تطبیق یہ ہے کہ متکبرین سے مراد مؤمن گناہ گار ہیں جب کہ مذکورہ بالا حدیث میں کفار کا ذکر کیا گیا ہے لیکن زیادہ درست یہ کہنا ہے کہ ان کو میدان حشر میں چیونٹیوں ہی کے جسم میں لایا جائے گا جہاں وہ لوگوں کے تلوؤں تلے خوب روندے جائیں گے اس کے بعد پھر ان کے بدن اپنی اصلی حالت میں آجائیں گے اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے، دوزخ میں ان کے بدن دوبارہ غیر معمولی ساخت کے ہوجائیں گے اور ان کا مٹاپا اور پھیلاؤ اتنا بڑھ جائے گا جس کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے نیز ان کے بدن کو اس قدر موٹا اور فربہ اس لئے کیا جائے گا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ عذاب ہوسکے۔
5578
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أوقد على النار ألف سنة حتى احمرت ثم أوقد عليها ألف سنة حتى ابيضت ثم أوقد عليها ألف سنة حتى اسودت فهي سوداء مظلمة . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ کی آگ کو ایک ہزار برس جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی پھر ایک ہزار برس اور جلایا گیا جس سے وہ سیاہ ہوگئی ہے پس اب دوزخ کی آگ بالکل سیاہ و تاریک ہے جس میں نام کو بھی روشنی نہیں ہے۔ (ترمذی)
تشریح
یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی۔ یہ آگ کا خاصہ ہے کہ جب وہ دیر تک جلتی رہتی ہے اور خوب صاف وتیز ہوجاتی ہے تو بالکل سفید معلوم ہونے لگتی ہے، پہلے اس میں جو سرخی ہوتی ہے وہ دھویں کی آمیزش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بہرحال یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ دوزخ وجود میں آچکی ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔ اس کے برخلاف معتزلہ کا مسلک یہی ہے کہ دوزخ ابھی تیار نہیں ہوئی ہے اور وجود میں نہیں ہے۔ اہل سنت والجماعت کی بڑی دلیل قرآن کی اس آیت ( اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران 131) میں اعدت کا لفظ ہے جو ماضی کے صیغہ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔
تشریح
یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی۔ یہ آگ کا خاصہ ہے کہ جب وہ دیر تک جلتی رہتی ہے اور خوب صاف وتیز ہوجاتی ہے تو بالکل سفید معلوم ہونے لگتی ہے، پہلے اس میں جو سرخی ہوتی ہے وہ دھویں کی آمیزش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بہرحال یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ دوزخ وجود میں آچکی ہے جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسلک ہے۔ اس کے برخلاف معتزلہ کا مسلک یہی ہے کہ دوزخ ابھی تیار نہیں ہوئی ہے اور وجود میں نہیں ہے۔ اہل سنت والجماعت کی بڑی دلیل قرآن کی اس آیت ( اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران 131) میں اعدت کا لفظ ہے جو ماضی کے صیغہ کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے۔
5579
Mishkaat Shareefوعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ضرس الكافر يوم القيامة مثل أحد وفخذه مثل البيضاء ومقعده من النار مسيرة ثلاث مثل الربذة . رواه الترمذي
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ فرمایا قیامت کے دن (دوزخ میں) کافر کے دانت احد پہاڑ کے برابر اور اس کی ران بیضا (پہاڑ کے برابر ہوگی اور دوزخ میں اس کے بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت کے بقدر ہوگی جیسا کہ ربذہ ہے۔ (ترمذی)
تشریح
ربذہ مدینہ کے قصبات میں سے ایک قصبہ تھا جو وہاں سے تین دن کی مسافت پر ذات عرق کے قریب واقع تھا۔ پس جیسا کہ ربذہ ہے سے مراد یہ ہے کہ کافر دوزخی اپنی لمبی چوڑی جسامت کی وجہ سے اپنے بیٹھنے میں اتنی جگہ گھیرے گا جتنی کہ مدینہ سے ربذہ تک کا فاصلہ ہے۔
تشریح
ربذہ مدینہ کے قصبات میں سے ایک قصبہ تھا جو وہاں سے تین دن کی مسافت پر ذات عرق کے قریب واقع تھا۔ پس جیسا کہ ربذہ ہے سے مراد یہ ہے کہ کافر دوزخی اپنی لمبی چوڑی جسامت کی وجہ سے اپنے بیٹھنے میں اتنی جگہ گھیرے گا جتنی کہ مدینہ سے ربذہ تک کا فاصلہ ہے۔