Mishkaat Shareef
25. قریب المرگ کے سامنے جو چیز پڑھی جاتی ہے اس کا بیان
مشكاة المصابيح
1592
Mishkaat Shareefعن حارثة بن مضرب قال : دخلت على خباب وقد اكتوى سبعا فقال : لولا أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يتمن أحدكم الموت لتمنيته . ولقد رأيتني مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ما أملك درهما وإن في جانب بيتي الآن لأربعين ألف درهم قال ثم أتى بكفنه فلما رآه بكى وقال لكن حمزة لم يوجد له كفن إلا بردة ملحاء إذا جعلت على رأسه قلصت عن قدميه وإذا جعلت على قدميه قلصت عن رأسه حتى مدت على رأسه وجعل على قدميه الأذخر . رواه أحمد والترمذي إلا أنه لم يذكر : ثم أتي بكفنه إلى آخره
قریب المرگ سے مراہ وہ مریض ہے جس پر علامات موت ظاہر ہونے لگیں اور علماء نے لکھا ہے کہ علامات موت یہ ہے کہ مریض کے پاؤں سست ہوجاتے ہیں کہ اگر انہیں کھڑا کیا جائے تو کھڑے نہ ہو سکیں، ناک کا بانسہ ٹیڑھا ہوجاتا ہے کنپٹیاں بیٹھ جاتی ہیں اور بیضتین کا پوست لٹک جاتا ہے۔ اور قریب المرگ کے پاس پڑھی جانے والی چیز سے مراد ہے کلمہ طیبہ یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی تلقین، سورت یسین کی تلاوت، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنا اور دعائے مغفرت وغیرہ۔
1593
Mishkaat Shareefعن أبي سعيد وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقنوا موتاكم لا إله إلا الله . رواه مسلم
حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگ قریب المرگ ہوں انہیں (کلمہ) لاالہ الا اللہ کی تلقین کرو (مسلم)
تشریح
تلقین کے معنی پڑھنا ہیں تلقین سے مراد قریب المرگ کے رو برو کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھنا، تاکہ وہ بھی سن کر پڑھے مگر قریب المرگ سے نہ کہا جائے یہ تم بھی پڑھو مبادا کہ شدت مرض یا بدحواسی کے سبب اس کے منہ سے انکار نکل جائے۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ تلقین مستحب ہے۔
تشریح
تلقین کے معنی پڑھنا ہیں تلقین سے مراد قریب المرگ کے رو برو کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھنا، تاکہ وہ بھی سن کر پڑھے مگر قریب المرگ سے نہ کہا جائے یہ تم بھی پڑھو مبادا کہ شدت مرض یا بدحواسی کے سبب اس کے منہ سے انکار نکل جائے۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ تلقین مستحب ہے۔
1594
Mishkaat Shareefوعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا حضرتم المريض أو الميت فقولوا خيرا فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون . رواه مسلم
حضرت ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم کسی مریض کے پاس یا قریب المرگ کے پاس جاؤ تو منہ سے خیر و بھلائی کے کلمات نکالو کیونکہ تمہاری زبان سے جو کچھ نکلتا ہے (خواہ دعائے خیر و بھلائی ہو یا دعاء شر و بد) فرشتے آمین کہتے ہیں (مسلم)
تشریح
حدیث کے لفظ میت سے میت حکمی یعنی قریب المرگ بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور میت حقیقی یعنی وہ مردہ بھی مراد ہوسکتا ہے لہٰذا اگر میت حکمی مراد ہوگا تو لفظ او راوی کے شک کے اظہار کے لئے ہوگا اور اگر میت حقیقی مراد لیا جائے تو لفظ او تنویع کے لئے ہوگا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مریض و قریب المرگ کے سامنے اپنی زبان سے خیر و بھلائی کے کلمات ادا کرو بایں طور کہ اپنے لئے تو خیر کی، مریض کے لئے شفا کی اور میت کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔
تشریح
حدیث کے لفظ میت سے میت حکمی یعنی قریب المرگ بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور میت حقیقی یعنی وہ مردہ بھی مراد ہوسکتا ہے لہٰذا اگر میت حکمی مراد ہوگا تو لفظ او راوی کے شک کے اظہار کے لئے ہوگا اور اگر میت حقیقی مراد لیا جائے تو لفظ او تنویع کے لئے ہوگا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مریض و قریب المرگ کے سامنے اپنی زبان سے خیر و بھلائی کے کلمات ادا کرو بایں طور کہ اپنے لئے تو خیر کی، مریض کے لئے شفا کی اور میت کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔
1595
Mishkaat Shareefوعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم تصيبه مصيبة فيقول ما أمره الله به : ( إنا لله وإنا إليه راجعون ) اللهم آجرني في مصيبتي واخلف لي خيرا منها إلا أخلف الله له خيرا منها . فلما مات أبو سلمة قالت : أي المسلمين خير من أبي سلمة ؟ أول بيت هاجر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم إني قلتها فأخلف الله لي رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم
حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان کسی (چھوٹی یا بڑی) مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ الفاظ کہتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی طرف ہم کو واپس جانا ہے۔ دعا (اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منہا) اے اللہ ! میری مصیبت پر مجھے ثواب دے (اور اس مصیبت میں) جو چیز میرے ہاتھ سے گئی ہے اس کا نعم البدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس چیز کا بہتر بدلہ عطا فرماتا ہے حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب ابوسلمہ (رض) (یعنی میرے پہلے شوہر) کا انتقال ہوا تو میں نے کہا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون مسلمان ہوگا وہ ابوسلمہ جنہوں نے سب سے پہلے مع اہل و عیال کے آنحضرت ﷺ کی طرف ہجرت کی اور پھر میں نے مذکورہ بالا کلمات کہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ابوسلمہ کے بدلے میں آنحضرت ﷺ کو عطا فرمایا یعنی میں آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آئی) ۔ (مسلم)
تشریح
انا للہ وانا الیہ راجعون کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور جو چیزیں کہ ہماری کہلاتی ہیں سب اللہ ہی کی ملکیت اور اس کی پیدا کی ہوئی ہیں اور ہم لوٹ کر اسی طرف جانے والے ہیں گویا اس آیت میں یہ تسلیم و اقرار ہے کہ خود ہماری جان اور ہماری ذات اور وہ چیزیں جن کا ہم اپنے کو مالک سمجھتے ہیں اور وہ ہمارے اختیار میں ہیں اور ہماری طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے وہ سب کی سب حقیقت میں اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ہمارے پاس تو وہ صرف عاریتا ہیں۔ اللہ ہی کی طرف سے ہماری ابتداء ہوئی اور اس کی طرف ہماری انتہا بھی ہے۔ لہٰذا جو شخص اس مضمون کو اپنے قلب و دماغ میں راسخ کرے اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہو اس مصیبت پر صبر و رضا کے دامن کو پکڑے رہے تو اس کے لئے وہی مصیبت کی ہر مصیبت آسان و سہل ہوجاتی ہے لیکن اتنی بات جان لینی چاہئے کہ مصیبت و بلاء پر جزع و فزع کے ساتھ اس آیت کو محض زبان سے ادا کرنا چنداں مفید نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ اشکال پیدا ہو کہ مذکورہ بالا آیت و کلمات کے پڑھنے کا حکم بیان نہیں فرمایا تو پھر ارشاد گرامی کے اس جزء، فیقول ما امرہ اللہ بہ ( اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ کہے) کا کیا مطلب ہے ؟ تو اس کا جواب مختصر طور پر یہ ہوگا کہ جب اس آیت اور مذکورہ بالا کلمات کے پڑھنے والے کی فضیلت بیان فرما دی تو گویا یہ حکم ہی فرمایا گیا ہے۔ لفظ اجرنی ہمزہ (الف) کے جزم اور جیم کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اور ہمزہ کے زبر اور جیم کے زیر کے ساتھ بھی منقول ہے مگر دونوں کا معنی و مراد ایک ہی ہے۔ حضرت ام سلمہ (رض) کے اس ارشاد فلما مات ابوسلمہ (جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا الخ) کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ پہلے سے سن رکھی تھی، چناچہ جب میرے خاوند ابوسلمہ (رض) نے آنحضرت ﷺ کے سامنے وفات پائی تو آپ کے حکم کی بجا آوری کی خاطر اور فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے میں نے چاہا کہ یہی کلمات پڑھو مگر میرے دل میں یہ خیال ہوا کہ حضرت ابوسلمہ سے بہتر اور کون شخص ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ابوسلمہ کے بدلہ میں مجھے بطور خاوند عطا فرمائے گا۔ چناچہ ام سلمہ حضرت ابوسلمہ کی فضیلت بیان کرتی ہیں کہ جو لوگ ہجرت کر کے مدینہ گئے تھے۔ ان میں حضرت ابوسلمہ (رض) ہی وہ سب سے پہلے مرد حق آگاہ تھے جنہوں نے اپنے اہل و عیال سمیت ہجرت کی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ حضرت ابوسلمہ آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی بھی تھے اس کے بعد حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ باوجود اس خلجان کے میں نے مذکورہ کلمات پڑھے جس کے سبب سے مجھے دنیا و آخرت کی سب سے عطیم سعادت و فضیلت حاصل ہوئی یعنی آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آئی جو افضل البشر ہیں۔
تشریح
انا للہ وانا الیہ راجعون کا مطلب یہ ہے کہ ہم اور جو چیزیں کہ ہماری کہلاتی ہیں سب اللہ ہی کی ملکیت اور اس کی پیدا کی ہوئی ہیں اور ہم لوٹ کر اسی طرف جانے والے ہیں گویا اس آیت میں یہ تسلیم و اقرار ہے کہ خود ہماری جان اور ہماری ذات اور وہ چیزیں جن کا ہم اپنے کو مالک سمجھتے ہیں اور وہ ہمارے اختیار میں ہیں اور ہماری طرف ان کی نسبت کی جاتی ہے وہ سب کی سب حقیقت میں اللہ ہی کی ملکیت میں ہے ہمارے پاس تو وہ صرف عاریتا ہیں۔ اللہ ہی کی طرف سے ہماری ابتداء ہوئی اور اس کی طرف ہماری انتہا بھی ہے۔ لہٰذا جو شخص اس مضمون کو اپنے قلب و دماغ میں راسخ کرے اور جس مصیبت میں وہ مبتلا ہو اس مصیبت پر صبر و رضا کے دامن کو پکڑے رہے تو اس کے لئے وہی مصیبت کی ہر مصیبت آسان و سہل ہوجاتی ہے لیکن اتنی بات جان لینی چاہئے کہ مصیبت و بلاء پر جزع و فزع کے ساتھ اس آیت کو محض زبان سے ادا کرنا چنداں مفید نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ اشکال پیدا ہو کہ مذکورہ بالا آیت و کلمات کے پڑھنے کا حکم بیان نہیں فرمایا تو پھر ارشاد گرامی کے اس جزء، فیقول ما امرہ اللہ بہ ( اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق یہ کہے) کا کیا مطلب ہے ؟ تو اس کا جواب مختصر طور پر یہ ہوگا کہ جب اس آیت اور مذکورہ بالا کلمات کے پڑھنے والے کی فضیلت بیان فرما دی تو گویا یہ حکم ہی فرمایا گیا ہے۔ لفظ اجرنی ہمزہ (الف) کے جزم اور جیم کے پیش کے ساتھ بھی منقول ہے۔ اور ہمزہ کے زبر اور جیم کے زیر کے ساتھ بھی منقول ہے مگر دونوں کا معنی و مراد ایک ہی ہے۔ حضرت ام سلمہ (رض) کے اس ارشاد فلما مات ابوسلمہ (جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا الخ) کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث مبارکہ پہلے سے سن رکھی تھی، چناچہ جب میرے خاوند ابوسلمہ (رض) نے آنحضرت ﷺ کے سامنے وفات پائی تو آپ کے حکم کی بجا آوری کی خاطر اور فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے میں نے چاہا کہ یہی کلمات پڑھو مگر میرے دل میں یہ خیال ہوا کہ حضرت ابوسلمہ سے بہتر اور کون شخص ہوسکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ابوسلمہ کے بدلہ میں مجھے بطور خاوند عطا فرمائے گا۔ چناچہ ام سلمہ حضرت ابوسلمہ کی فضیلت بیان کرتی ہیں کہ جو لوگ ہجرت کر کے مدینہ گئے تھے۔ ان میں حضرت ابوسلمہ (رض) ہی وہ سب سے پہلے مرد حق آگاہ تھے جنہوں نے اپنے اہل و عیال سمیت ہجرت کی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ پھر یہ کہ حضرت ابوسلمہ آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی بھی تھے اس کے بعد حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ باوجود اس خلجان کے میں نے مذکورہ کلمات پڑھے جس کے سبب سے مجھے دنیا و آخرت کی سب سے عطیم سعادت و فضیلت حاصل ہوئی یعنی آنحضرت ﷺ کے نکاح میں آئی جو افضل البشر ہیں۔
1596
Mishkaat Shareefوعن أم سلمة قالت : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على أبي سلمة قد شق بصره فأغمضه ثم قال : إن الروح إذا قبض تبعه البصر فضج ناس من أهله فقال : لا تدعوا على أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون على ماتقولون ثم قال : اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين واخلفه في عقبه في الغابرين واغفر لنا وله يا رب العالمين وافسح له في قبره ونور له فيه . رواه مسلم
حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (میرے پہلے شوہر) حضرت ابوسلمہ کے پاس اس وقت تشریف لائے جب کہ ان کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں چناچہ آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں کو بند کیا اور فرمایا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بینائی بھی چلی جاتی ہے۔ ابوسلمہ کے اہل بیت (یہ سن کر) سمجھ گئے کہ ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا چناچہ وہ سب رونے، چلانے لگے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنے نفسوں کے بارے میں خیر و بھلائی ہی کی دعا کرو (یعنی واویلا اور بد دعا نہ کرو) کیونکہ تم (بری یا بھلی) جس دعا کے بھی الفاظ اپنے منہ سے نکالتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔ پھر آپ نے یہ دعا ارشاد فرمائی۔ (اللہم اغفر لابی سلمہ وارفع درجتہ فی المہدیین واخلفہ فی عقبہ فی الغابرین وغفرلنا ولہ یا رب العالمین وافسح لہ فی قبرہ ونور لہ فیہ) ۔ اے اللہ٫ ابوسلمہ کو بخش دے اور اس کا مرتبہ بلند فرما ان لوگوں میں جو سیدھی راہ دکھائے گئے ہیں اور اس کے پسماندگان کا جو باقی رہے ہوئے لوگوں میں ہیں کا رساز بن جا اور اے دونوں جہاں کے پروردگار ! ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں کشادگی کر اور اس کے لئے قبر کو منور فرما دے۔ آمین۔ (مسلم)
تشریح
ارشاد گرامی کے الفاظ ان الروح اذا قبض الخ کے ذریعہ گویا آپ اغماض یعنی آنکھیں بند کرنے کی علت بیان فرما رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آنکھوں کو اس لئے بند کردیا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بینائی بھی چلی جاتی ہے لہٰذا آنکھیں کھلی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
تشریح
ارشاد گرامی کے الفاظ ان الروح اذا قبض الخ کے ذریعہ گویا آپ اغماض یعنی آنکھیں بند کرنے کی علت بیان فرما رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آنکھوں کو اس لئے بند کردیا کہ جب روح قبض کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ بینائی بھی چلی جاتی ہے لہٰذا آنکھیں کھلی رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
1597
Mishkaat Shareefعن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان آخر كلامه لا إله إلا الله دخل الجنة رواه أبو داود
حضرت معاذ بن جبل (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کا آخری کلام الا الہ الا اللہ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ( ابوداؤد )
تشریح
مراد یہ ہے کہ جو شخص آخری وقت میں پورا کلمہ طیب لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اب یہ احتمال ہے کہ چاہے تو یہ دخول جنت عذاب سے پہلے دخول خاص ہے یا اپنے گناہوں کے بقدر عذاب دیئے جانے کے بعد ہو۔ لیکن پہلا ہی احتمال صحیح معلوم ہوتا ہے تاکہ ان مومنین میں جو کلمہ طیب پڑھتے ہوئے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کریں اور ان مومنین میں کہ جن کا آخری کلام کلمہ طیب نہ ہو امتیاز پیدا ہوجائے۔
تشریح
مراد یہ ہے کہ جو شخص آخری وقت میں پورا کلمہ طیب لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اب یہ احتمال ہے کہ چاہے تو یہ دخول جنت عذاب سے پہلے دخول خاص ہے یا اپنے گناہوں کے بقدر عذاب دیئے جانے کے بعد ہو۔ لیکن پہلا ہی احتمال صحیح معلوم ہوتا ہے تاکہ ان مومنین میں جو کلمہ طیب پڑھتے ہوئے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کریں اور ان مومنین میں کہ جن کا آخری کلام کلمہ طیب نہ ہو امتیاز پیدا ہوجائے۔
1598
Mishkaat Shareefوعن معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤوا سورة ( يس ) على موتاكم . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه
حضرت معقل بن یسار (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے مردوں کے سامنے سورت یٰسین پڑھو (احمد ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں۔ اس صورت میں سورت یٰسین پڑھنے کی حکمت بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ قریب المرگ اس سورت میں مذکورہ مضامین مثلاً ذکراللہ، احوال قیامت، بعث اور اسی قسم کے دوسرے عجیب و بدیع مضامین سے لطف اندوز ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حدیث میں لفظ مردوں سے مراد قریب المرگ نہ ہوں بلکہ حقیقی مردے مراد ہوں اس صورت میں اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ سورت یٰسین مردہ کے پاس اس کے گھر میں دفن سے پہلے دفن کے بعد اس کی قبر کے سرہانے پڑھی جائے۔ ابن مردویہ (رح) وغیرہ نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس میت (یعنی قریب المرگ یا حقیقی میت) کے سر کے پاس سورت یٰسین پڑھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر آسانی فرماتا ہے ۔ ابن عدی (رح) وغیرہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی (یعنی صرف ماں کی یا صرف باپ کی) قبر پر ہر جمعہ کو جاتا ہے اور پھر وہاں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو صاحب قبر کے لئے سورت یٰسین کے تمام حروف کی تعداد کے بقدر مغفرت عطا کی جاتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جمعہ سے مراد حسب ظاہر خاص طور پر یوم جمعہ بھی ہوسکتا ہے اور پورا ہفتہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
تشریح
مردوں سے مراد قریب المرگ ہیں۔ اس صورت میں سورت یٰسین پڑھنے کی حکمت بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ قریب المرگ اس سورت میں مذکورہ مضامین مثلاً ذکراللہ، احوال قیامت، بعث اور اسی قسم کے دوسرے عجیب و بدیع مضامین سے لطف اندوز ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حدیث میں لفظ مردوں سے مراد قریب المرگ نہ ہوں بلکہ حقیقی مردے مراد ہوں اس صورت میں اس کلمہ کا مطلب یہ ہوگا کہ سورت یٰسین مردہ کے پاس اس کے گھر میں دفن سے پہلے دفن کے بعد اس کی قبر کے سرہانے پڑھی جائے۔ ابن مردویہ (رح) وغیرہ نے ایک حدیث روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جس میت (یعنی قریب المرگ یا حقیقی میت) کے سر کے پاس سورت یٰسین پڑھی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر آسانی فرماتا ہے ۔ ابن عدی (رح) وغیرہ نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی (یعنی صرف ماں کی یا صرف باپ کی) قبر پر ہر جمعہ کو جاتا ہے اور پھر وہاں سورت یٰسین پڑھتا ہے تو صاحب قبر کے لئے سورت یٰسین کے تمام حروف کی تعداد کے بقدر مغفرت عطا کی جاتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جمعہ سے مراد حسب ظاہر خاص طور پر یوم جمعہ بھی ہوسکتا ہے اور پورا ہفتہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے۔
1599
Mishkaat Shareefوعن عائشة قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل عثمان بن مظعون وهو ميت وهو يبكي حتى سال دموع النبي صلى الله عليه و سلم على وجه عثمان . رواه الترمذي و أبو داود وابن ماجه
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون کی وفات کے بعد ان کو بوسہ دیا اور ان کی مٹی پر روئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے آنسو حضرت عثمان کے چہرے پر (ٹپک کر) بہہ نکلے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
مہاجرین میں سے حضرت عثمان بن مظعون (رض) ہی کا سب سے پہلے انتقال مدینہ میں ہوا ہے چناچہ سب سے پہلے یہی بقیع میں دفن کئے گئے جس کے بعد بقیع کو قبرستان کی حیثیت دی گئی آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پتھر اٹھا کر ان کی قبر پر بطور نشان کے رکھا۔ (رض) ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان میت کو دفن کرنے سے پہلے بوسا دینا اور مسلمان میت پر آنسوؤں کے ساتھ رونا جائز ہے۔
تشریح
مہاجرین میں سے حضرت عثمان بن مظعون (رض) ہی کا سب سے پہلے انتقال مدینہ میں ہوا ہے چناچہ سب سے پہلے یہی بقیع میں دفن کئے گئے جس کے بعد بقیع کو قبرستان کی حیثیت دی گئی آنحضرت ﷺ نے اپنے دست مبارک سے پتھر اٹھا کر ان کی قبر پر بطور نشان کے رکھا۔ (رض) ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان میت کو دفن کرنے سے پہلے بوسا دینا اور مسلمان میت پر آنسوؤں کے ساتھ رونا جائز ہے۔
1600
Mishkaat Shareefوعن عائشة قالت : إن أبا بكر قبل النبي صلى الله عليه و سلم وهو ميت . رواه الترمذي وابن ماجه
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے رسول کریم ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے جسد اطہر پر بوسہ دیا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
1601
Mishkaat Shareefوعن حصين بن وحوح أن طلحة بن البراء مرض فأتاه النبي صلى الله عليه و سلم يعوده فقال : إني لا أرى طلحة إلا قد حدث به الموت فآذنوني به وعجلوا فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله . رواه أبو داود
حضرت حصین ابن وحوح (رض) فرماتے ہیں کہ طلحہ بن براء (رض) بیمار ہوئے تو نبی کریم ﷺ ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور (ان کے اہل بیت سے) فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ طلحہ کی موت آگئی ہے (یعنی ان پر علامات موت ظاہر ہونے لگی ہیں) لہٰذا جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے (فورا) خبر دینا۔ (تاکہ میں ان کی نماز پڑھنے کے لئے آسکوں) اور تم تجہیز و تکفین اور تدفین میں جلدی کرنا کیونکہ مسلمان میت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اسے لوگوں کے درمیان روکے رکھا جائے ( ابوداؤد )
تشریح
اگر میت کی تکفین و تدفین میں تاخیر ہو تو لاش کے سڑ جانے کا خوف ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ لاش کے سڑ جانے سے لوگ اس سے بےاعتنائی اور نفرت کا معاملہ کرتے ہیں اس صورت میں میت کی حقارت اور توہین ہوتی ہے مومن کو چونکہ اللہ تعالیٰ معظم و مکرم پیدا فرماتا ہے اس لئے فرمایا کہ اس کی تکفین و تدفین میں جلدی کرو تاکہ مذکورہ بالا صورت پیدا نہ ہو سکے۔
تشریح
اگر میت کی تکفین و تدفین میں تاخیر ہو تو لاش کے سڑ جانے کا خوف ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ لاش کے سڑ جانے سے لوگ اس سے بےاعتنائی اور نفرت کا معاملہ کرتے ہیں اس صورت میں میت کی حقارت اور توہین ہوتی ہے مومن کو چونکہ اللہ تعالیٰ معظم و مکرم پیدا فرماتا ہے اس لئے فرمایا کہ اس کی تکفین و تدفین میں جلدی کرو تاکہ مذکورہ بالا صورت پیدا نہ ہو سکے۔