Mishkaat Shareef
77. سود کا بیان
مشكاة المصابيح
2853
Mishkaat Shareefسود ایک معاشرتی لعنت وعفریت ہے جس کی اقتصادی تباہ کاریوں نے ہمیشہ ہی غربت کے لہو سے سرمایہ داری کی آبیاری کی ہے اور غریب کے سسکتے وجود سے سرمایہ دار کی ہوس کو غذا بخشی ہے چناچہ اس لعنت میں مبتلا ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں تنبیہہ کی ہے ا یت (فان لم تفغلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ) پھر اگر تم اس سود خوری چھوڑنے کے حکم پر عمل نہ کرو تو پس اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو اسلام نے تجارت اور قرض دونوں میں سود کو حرام قرار دیا ہے اور اس کا ارتکاب گناہ کبیرہ بتایا ہے جو مسلمان سود کے حرام ہونے کا قائل نہ ہو اسلامی قانون کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ کافر ہوجاتا ہے۔ یہ لعنت بہت پرانی ہے اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی اس کا طریقہ رائج تھا چناچہ قریش مکہ اور یہود مدینہ میں اس کا عام رواج تھا اور ان میں صرف شخصی ضرورتوں مثلًا قرض وغیرہ ہی کے لئے نہیں بلکہ تجارتی مقاصد کے لئے بھی سود کا لین دین جاری تھا۔ اسی طرح سود کی تباہ کاریاں بھی ہمیشہ ہی تسلیم شدہ رہی ہیں اور اس کو اختیار کرنے والے بھی کبھی اس کے مضر اثرات سے منکر نہیں رہے ہیں البتہ ایک نئی بات یہ ضرور ہوئی ہے کہ جب سے یورپ کے دلال دنیا کی مسند اقتدار و تجارت پر چھائے ہیں انہوں نے مہاجنوں اور یہودیوں کے اس خاص کاروبار کو نئی نئی شکلیں اور نئے نئے نام دے کر اس کا دائرہ اتنا وسیع کردیا ہے کہ وہی سود جو پہلے انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک گھن سمجھا جاتا تھا آج معاشیات اقتصادیات اور تجارت کے لئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جانے لگا ہے اور سطحی ذہن وفکر رکھنے والوں کو یقین ہوگیا ہے کہ آج کوئی تجارت یا صنعت یا اور کوئی معاشی نظام سود کے بغیر چل ہی نہیں سکتا اگرچہ آج بھی اہل یورپ ہی میں سے وہ لوگ جو تقلید محض اور عصبیت سے بلند ہو کر وسیع نظر سے معاملات کا جائزہ لیتے ہیں اور جو معاشیات (ECONOMICS) کا وسیع علم ہی نہیں رکھتے بلکہ اس کے عملی پہلوؤں پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں خود ان کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ سود معاشیات اور اقتصادی زندگی کے لئے ریڑھ کی ہڈی نہیں بلکہ ایک ایسا کیڑا ہے جو ریڑھ کی ہڈی میں لگ گیا ہے اور جب تک اس کیڑے کو نہ نکالا جائے گا دنیا کی معیشت جو جو اضطراب وہیجان ہے وہ ختم نہیں ہوگا۔ اس میں شبہ نہیں کہ آج دنیا میں سود کا لین دین جتنا وسیع ہوگیا ہے اور دنیا کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک تمام ہی تجارتوں میں اس کا جال جس طرح بچھا دیا گیا ہے افراد واشخاص کی کیا حیثیت اگر کوئی پورا طبقہ و جماعت بلکہ کوئی پورا ملک بھی اس سے نکلنا چاہے تو اس کو اس کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوگا کہ یا تو اپنی تجارت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے یا نقصان برداشت کرتا رہے یہی وجہ ہے کہ اب تو عام مسلمان تاجر الگ رہے وہ دیندار و پرہیزگار مسلمان تاجر جن کی اعتقادی وعملی زندگی بڑی پاکیزہ اور مثالی ہے اب انہوں نے بھی یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ سود جو حرام ترین چیز اور بدترین سرمایہ ہے اس سے کس طرح نجات حاصل کریں جس کا تنیجہ یہ ہے ان دیندار اور پابند شریعت مسلمانوں اور ایک خالص دیندار مہاجن میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ لہذا سود کی ہمہ گیری کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان اس عام مجبوری کا سہارا لے کر اتنی بڑی لعنت سے بالکل بےپرواہ ہو کر بیٹھ جائیں اور ان کے دل میں ذرہ برابر کھٹک بھی پیدا نہ ہو کہ وہ کتنی بڑی حرام چیز میں مبتلا ہیں آج سود کے بارے میں جو تاویلیں کی جاتی ہیں یا اس کو جو نئی نئی شکلیں دی جاتی ہیں یاد رکھئے وہ سب اسی درجے میں حرام ہیں جس درجے میں خود سود کی حرمت ہے۔ اس لئے مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے تجارتی معاملات کو اس انداز میں استوار کریں جس سے حتی الامکان اس لعنت سے نجات مل سکے اگر موجودہ معاشی نظام میں اس حد تک تبدیلی ان کے بس میں نہیں ہے کہہ جس میں سود کا دخل نہ ہو تو کم سے کم اپنی زندگی اور نجی معاملات ہی کو درست کریں تاکہ سود کی لعنت سے اگر بالکل نجات نہ ملے تو کم از کم اس میں کمی ہی ہوجائے اور مسلمان ہونے کا یہ ادنیٰ تقاضہ تو پورا ہو کہ وہ حتی الامکان حرام سے بچنے کی فکر میں رہے۔ بہرکیف اس باب میں اسی موضوع سے متعلق احادیث ذکر ہوں گی جن کے ضمن میں حسب موقع سود کے احکام و مسائل بیان کئے جائیں گے لیکن یہ ضروری ہے کہ پہلے اس موضوع سے متعلق چند بنیادی باتیں بتادی جائیں
2854
Mishkaat Shareefلغت کے اعتبار سے ربا کے معنی زیادتی بڑھوتری بلندی کے آتے ہیں اور اصطلاح شریعت میں ایسی زیادتی کو ربا کہتے ہیں جو کسی مالی معاوضہ کے بغیر حاصل ہو
2855
Mishkaat Shareefقرآن کریم میں جس چیز کو لفظ ربا کے ساتھ حرام قرار دیا گیا ہے اس کا ترجمہ اردو میں عام طور پر سود کیا جاتا ہے جس کیوجہ سے عموماً لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ربا اور مروجہ سود دونوں عربی اور اردو میں ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یعنی جس چیز کو عربی میں ربا کہتے ہیں اسی کو اردو میں سود کہا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ ربا ایک عام اور وسیع مفہوم کا حامل ہے جبکہ مروجہ سود ربا کی ایک قسم یا اس کی ایک شاخ ہے کیونکہ مروجہ سود کے معنی ہیں روپیہ کی ایک متعین مقدار ایک متعین میعاد کے لئے قرض دے کر متعین شرح کے ساتھ نفع یا زیادتی لینا۔ بلاشبہ یہ بھی ربا کی تعریف میں داخل ہے مگر صرف اسی ایک صورت یعنی قرض وادھار پر نفع و زیادتی لینے کا نام ربا نہیں ہے بلکہ ربا کا مفہوم اس سے بھی وسیع ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے وحی الٰہی کی روشنی میں ربا کے مفہوم کو وسعت دے کر لین دین اور خریدو فروخت کے معاملات کی بعض ایسی صورتیں بھی بیان فرمائی ہیں جن میں چیزوں کے باہم لین دین یا ان کی باہمی خریدو فروخت میں کمی بیشی کرنا بھی ربا ہے اور ان میں ادھار لین دین کرنا بھی ربا ہے اگرچہ اس ادھار میں اصل مقدار پر کوئی زیادتی نہ ہو بلکہ برابر سرابر لیا دیا جائے۔
2856
Mishkaat Shareefربا کے مذکورہ بالا وسیع مفہوم کے مطابق فقہا نے ربا کی جو قسمیں مرتب کی ہیں ان میں سے عام طور پر یہ پانچ قسمیں بیان کی جاتی ہیں 1 رباء قرض 2 رباء رہن 3 رباء شراکت 4 رباء نسیہ 5 رباء فضل رباء قرض کا مطلب ہے قرض خواہ قرض دار سے بحسب شرط متعینہ میعاد کے بعد اپنے اصل مال پر کچھ زائد مقدار لینا اس کی مثال مروجہ سود کی صورت ہے یعنی ایک شخص کسی کو اپنے روپیہ کی ایک متعین مقدار ایک متعین میعاد کے لئے اس شرط پر قرض دیتا ہے کہ اتنا روپیہ اس کا ماہوار سود کے حساب سے دینا ہوگا اور اصل روپیہ بدستور باقی رہے گا ربا کی یہ صورت کلیۃً حرام ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ رباء رہن کا مطلب ہے بلا کسی مالی معاوضہ کے وہ نفع جو مرتہن کو راہن سے یا شئ مرہونہ سے حاصل ہو اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص (یعنی راہن) اپنی کوئی مللکیت مثلا زیور یا مکان کسی دوسرے شخص ( یعنی مرتہن) کے پاس بطور ضمانت رکھ کر اس سے کچھ روپیہ قرض لے اور وہ مرتہن اس رہن کی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھائے مثلا اس مکان میں رہے یا اسے کرایہ پر چلائے اور یا یہ کہ اس رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ راہن سے نفع حاصل کرے بایں طور کہ قرض دی ہوئی رقم پر سود حاصل کرے رہن کی یہ دونوں ہی صورتیں حرام ہیں۔ رباء شراکت کا مطلب ہے کسی مشترک کاروبار میں ایک شریک اپنے دوسرے شریک کا نفع متعین کر دے اور جملہ نقصانوں اور فائدوں کا خود مستحق بن جائے یہ بھی حرام ہے۔ رباء نسیہ کا مطلب ہے دو چیزوں کے باہم لین دین یا دو چیزوں کے باہم خریدو فروخت میں ادھار کرنا خواہ اس ادھار میں اصل مال پر زیادتی لی جائے مثلا ایک شخص کسی دوسرے کو ایک من گیہوں دے اور دوسرا شخص اس کے بدلہ میں اسے ایک ہی من گیہوں دے مگر ایک دو دن یا ایک دو ماہ بعد دے یہ اس صورت کی مثال ہے کہ دو چیزوں میں باہم تبادلہ ہوا مگر یہ تبادلہ دست بدست نہیں ہوا بلکہ ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار معاملہ ہوا نیز اس ادھار میں اصل مال پر کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی کمی بیشی کے ساتھ ادھار لین دین کی مثال یہ ہے کہ مثلًا ایک شخص کسی دوسرے کو ایک من گیہوں دے گا رباء نسیہ کی یہی وہ صورت ہے جو زمانہ جاہلیت میں بھی رائج تھی اور اب بھی مروجہ سود کی شکل میں موجود ہے اور ایک اعتبار سے یہ رباء قرض کی قسم میں بھی داخل ہے۔ رباء فضل کا مطلب ہے دو چیزوں میں باہم کمی بیشی کے ساتھ دست بدست لین دین ہو مثلًا ایک شخص کسی کو ایک من گیہوں دے اور اس سے اسی وقت اپنے ایک من گیہوں کے بدلہ میں سوا من گیہوں لے۔ رباء کی یہ دونوں قسمیں یعنی نسیہ اور فضل چونکہ باہم لین دین کی دو بنیادی صورتیں ہیں نیز لا علمی کی بناء پر عام طور پر لوگ ان میں سود کے پیدا ہونے والے حکم سے نابلد ہیں اس لئے مناسب ہے کہ ان کے احکام بیان کرنے سے پہلے چند باتیں بطور تمہید و قاعدہ بیان کردی جائیں تاکہ ان احکام کو سمجھنے میں دقت نہ ہو۔ 1 لین دین اور تجارت کا معاملہ جن چیزوں سے متعلق ہوتا ہے وہ تین قسم کی ہیں 1 یا تو ان کا لین دین وزن سے ہوتا ہے 2 یا کسی برتن سے ناپی جاتی ہے 3 یا نہ تو وزن کی جاتی ہیں اور نہ کسی برتن سے ناپی جاتی ہیں پہلی اور دوسری قسم کی مثال غلہ ہے کہ کہیں تو غلہ کو تول کر بیچنے کا دستور ہے اور کہیں برتن میں بھر کرنا پنے کا۔ لین دین اور خریدو فروخت میں جو چیزیں تولی جاتی ہیں ان کو موزون کہتے ہیں اور جو چیزیں ناپی جاتی ہیں ان کو مکیل کہتے ہیں کسی چیز کے موزون یا مکیل ہونے کی صفت کو اصطلاح فقہ میں قدر کہتے ہیں اس مختصر سے لفظ قدر کو ذہن میں رکھئے۔ 2 ہر چیز کی ایک حقیقت ہوا کرتی ہے مثلا گیہوں کا گیہوں ہونا ٫ چاندی کا چاندی ہونا اور کپڑے کا کپڑا ہونا اسی حقیقت کو جنس کہتے ہیں اور اس لفظ جنس کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔ 3 جن چیزوں کا باہم لین دین ہوتا ہے وہ کبھی تو قدر میں متحد اور مشترک ہوتی ہیں اور جنس میں مختلف ہوتی ہیں مثلا گیہوں اور چنہ یہ دونوں چیزیں قدر میں مشترک یعنی یکساں ہیں کیونکہ دونوں موزون ہیں یا مکیل ہیں مگر جنس میں مختلف یعنی یکساں نہیں ہیں کیونکہ ایک کی حقیقت گیہوں ہے اور دوسرے کی حقیقت چنہ ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن دو چیزوں میں باہم لین دین ہوتا ہے ان کی جنس تو متحد و یکساں ہوتی ہے مگر قدر میں یکسانیت نہیں ہوتی مثلا ململ کا ململ سے تبادلہ کہ دونوں کی جنس تو ایک ہے مگر چونکہ دونوں موزوں اور مکیل نہیں (کیونکہ ململ کی خریدو فروخت نہ تو تول کر ہوتی ہے اور نہ کسی برتن سے ناپ کر) اس لئے جب یہ دونوں قدر ہی نہیں تو قدر میں ایک کیسے ہوں گی ٫ یا بکری کا بکری سے تبادلہ کہ دونوں کی جنس تو ایک ہے مگر چونکہ موزوں اور مکیل نہیں اس لئے نہ قدر اور نہ اتحاد قدر اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن دو چیزوں میں باہم لین دین ہوتا ہے ان کی جنس بھی ایک ہوتی ہے اور قدر میں بھی یکسانیت ہوتی ہے جیسے گیہوں کا گیہوں سے تبادلہ کہ ان دونوں کی جنس بھی ایک ہے اور قدر بھی ایک ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جن دو چیزوں میں باہم لین دین ہوتا ہے ان میں نہ تو جنس کی یکسانیت ہوتی ہے اور نہ قدر کی جیسے روپیہ اور کپڑا یا روپیہ اور غلہ (گویا آج کل لین دین اور تجارت کی جو عام شکل ہے) کہ نہ تو ان کی جنس ایک ہے اور نہ قدر ایک ہے لہذا باہم لین دین اور تجارت کی جانیوالی چیزیں چار قسم کی ہوئیں 1 متحد القدر والجنس ( یعنی دونوں کی جنس بھی ایک اور قدر بھی ایک 2 متحد القدر غیر متحد الجنس (یعنی دونوں کی قدر تو ایک مگر جنس الگ الگ 3 متحد الجنس غیر متحد القدر (یعنی دونوں کی جنس تو ایک مگر قدر الگ الگ 4 غیر متحد الجنس و القدر (یعنی دونوں کی نہ تو جنس ایک اور نہ قدر ایک) اس تمہید کو جان لینے کے بعد چیزوں کے باہم لین دین اور تجارت کے سلسلے میں وہ قاعدہ کلیہ سمجھ لیجئے جو اگر ذہن میں رہے تو نہ صرف اس باب کے احکام و مسائل سمجھنے میں آسانی ہوگی بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی رباء اور سود جیسے گناہ سے بچنا آسان ہوگا وہ قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو چیزیں متحد القدر والجنس ہوں ان کے باہم تبادلہ و تجارت میں شرعی طور پر دو چیزیں ضروری ہیں ایک تو یہ کہ وہ دونوں چیزیں وزن یا پیمانے میں برابر ہوں دوسرے یہ کہ دونوں دست بدست ہوں مثلًا اگر ہم دو شخص آپس میں گیہوں کو گیہوں سے بدلنا چاہیں تو اس میں کمی بیشی درست نہیں ہے یعنی یہ درست نہیں کہ ہم میں سے ایک تو سیر بھر گیہوں دے اور دوسرا سوا سیر دے بلکہ دونوں ہی کو سیر سیر بھر یا سوا سوا سیر ہی دینا ضروری ہے اور نہ یہ درست ہے کہ ایک تو سردست لے لے اور دوسرا کل یا پرسوں یا تھوڑی دیر کے بعد بلکہ ایک ہی مجلس میں اور ایک ہی وقت میں دونوں کو اپنا اپنا حق لینا واجب ہے اور جو چیزیں متحد القدر غیر متحد الجنس ہوں یا متحد الجنس غیر متحد القدر ہوں ان دونوں کا حکم ایک ہے وہ یہ کہ ان کے باہم لین دین میں کمی بیشی تو جائز ہے مگر ادھار جائز نہیں مثلا گیہوں کو چنے سے بدلنا چاہیں کہ ان دونوں کی جنس تو الگ الگ ہے مگر قدر ایک ہے اس لئے ان دونوں کے تبادلہ میں کمی بیشی تو جائز ہوگی کہ ایک شخص ایک سیر گیہوں دے اور دوسرا اس کے بدلے میں سوا سیر چنہ دے مگر ان کے تبادلہ میں ادھار جائز نہیں ہوگا۔ یا اسی طرح ایک بکری اور دوسری بکری سے بدلنا چاہیں کہ ان دونوں کی جنس تو ایک ہے مگر قدر ایک نہیں کیونکہ قدر تو موزون یا مکیل ہونے کو کہتے ہیں اور بکری نہ مکیل ہے اور نہ موزون لہذا ان میں بھی کمی بیشی جائز ہے کہ ایک شخص تو ایک بکری دے اور دوسرا اس کے بدلے میں دو بکریاں دے مگر ان کے تبادلے میں بھی ادھار جائز نہیں ہوگا اور جو چیزیں نہ متحد الجنس ہوں اور نہ متحد القدر ہوں ان میں کمی بیشی بھی جائز ہے اور نقد وادھار کا فرق بھی جائز ہے مثلا روپیہ اور غلہ کی باہم تجارت (جیسا کہ آج کل رائج ہے کہ اشیاء کا لین دین روپیہ کے ذریعہ ہوتا ہے) کہ ان دونوں کی نہ تو جنس ایک اور ان کی قدر ایک ہے لہذا اگر کوئی شخص روپیہ دے کر غلہ خریدنا چاہے تو اس صورت میں کمی بیشی بھی جائز ہے کہ چاہے تو ایک روپیہ کے بدلے میں ایک سیر غلہ لیا دیا جائے اور چاہے ایک روپیہ کے بدلے میں دو سیر غلہ لیا دیا جائے اس طرح اس صورت میں ادھار لین دین بھی جائز ہے کہ چاہے تو دست بدست لین دین ہو چاہے ادھار کی صورت میں اب اس قاعدہ کلیہ کا حاصل چار قاعدے ہوئے۔ 1 اشیاء متحد القدر ومتحد الجنس کے لین دین میں برابری اور دست بدست ہونا واجب ہے 2 اشیاء متحد القدر وغیر متحد الجنس کے لین دین میں نہ برابری واجب ہے اور نہ دست بدست ہونا واجب ہے 3 اشیاء متحد الجنس غیر متحد القدر کے لین دین میں دست بدست ہونا ضروری ہے مگر برابری ضروری نہیں 4 اشیاء متحد القدر غیر متحد الجنس کے لین دین میں دست بدست ہونا ضروری ہے مگر برابری ضروری نہیں ان تمام بنیادی اور تمہیدی باتوں کو ذہن میں رکھ اب رباء ان دونوں اقسام یعنی نسیہ اور فضل کے احکام کی جانب آئے جن کا تذکرہ شروع میں کیا گیا تھا چناچہ اگر لین دین ایسی دو چیزوں کے درمیان ہو جن میں اتحاد جنس بھی پایا جائے اور اتحاد قدر بھی یعنی وہ دونوں متحد الجنس بھی ہوں اور متحد القدر بھی ( جیسے گیہوں) تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس لین دین میں رباء نسیہ بھی حرام ہے اور رباء فضل بھی اور یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ جنس سے مراد ہے اس چیز کی حقیقت اور قدر سے مراد ہے اس چیز کا مکیل یا موزون ہونا کیونکہ لین دین اور تجارت کے معاملات میں شرعی معیار یہی کیل ہے یا وزن۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ شارع نے جس چیز کو مکیل (یعنی پیمانہ سے ناپی جانے والی) کہا ہے وہ موزون (یعنی تولی جانیوالی) نہیں ہوگی اگرچہ عرف عام اور رواج کے اعتبار سے وہ موزوں ہی ہوں اسی طرح جس چیز کو موزون کہا ہے وہ مکیل نہیں ہوگی اگرچہ عرف عام اور رواج کے اعتبار سے وہ مکیل ہو مثلا گیہوں کو شارع نے ان چیزوں میں شمار کیا ہے جن کا لین دین پیمانہ سے ناپ کر ہوتا ہے اگرچہ آج کل عام طور پر گیہوں کا لین دین وزن کے ذریعے ہوتا ہے ( گو بعض علاقوں میں اب بھی اس کا لین دین ناپ کر ہی ہوتا ہے) اس لئے گیہوں کا گیہوں کے ساتھ لین دین کرنا وزن کے ذریعے جائز نہیں ہوگا اسی طرح چاندی اور سونے کو شارع نے چونکہ موزون کہا ہے اس لئے چاندی کا چاندی کے ساتھ یا سونے کا سونے کے ساتھ لین دین کیل کے ذریعے جائز نہیں ہوگا اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ کسی معاملے میں شارع کا واضح حکم عرف عام اور رواج سے کہیں قوی اور برتر ہوتا ہے ہاں جن چیزوں کو شارع نے نہ مکیل کہا ہے اور نہ موزوں ان کے لین دین عرف عام اور رواج ہی کا اعتبار ہوگا لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف نے مطلق طور پر عرف عام اور رواج ہی کا اعتبار کیا ہے ان کے نزدیک ان چیزوں کا لین دین وزن کے ذریعے جائز ہے جن کو شرعت نے مکیل کہا ہے بشرطیکہ عرف عام اور رواج وزن کے ذریعے ہی اس کے لین دین کا ہو چناچہ کمال نے حضرت امام ابویوسف ہی کے قول کو ترجیح دی ہے اور اسی بناء پر انہوں نے نقود مسکو کہ (یعنی سونے اور چاندی کے سکہ مثلًا اشرفی وغیرہ کا گنتی کے ذریعے بطور قرض لین دین یا آٹے کی وزن کے ذریعے خریدو فروخت کو جائز قرار دیا ہے نیز مستند ترین کتاب کافی میں بھی یہی ہے کہ حنفیہ کے ہاں اس بارے میں حضرت امام ابویوسف ہی کے قول پر فتوی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ شارع نے گیہوں (یا دوسرے غلوں) کو مکیل کہا ہے لیکن ان کا لین دین وزن کے ذریعے بلاشبہ جائز ہے کیونکہ آج کل عام طور پر ان کا لین دین وزن ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔ بہرکیف اتحاد جنس اور اتحاد قدر والی چیزوں کے لین دین کے بارے میں تو معلوم ہوگیا کہ ان میں رباء نسیہ بھی حرام ہے اور رباء فضل بھی۔ اسی طرج اگر لین دین ایسی دو چیزوں کے درمیان ہو جن میں جنس وقدر میں سے کسی ایک کا اتحاد پایا جائے مثلًا وہ متحد الجنس تو ہوں مگر متحد القدر نہ ہوں تو ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ایسی چیزوں کے لین دین میں رباء نسیہ تو حرام ہے مگر رباء فضل حرام نہیں ہے۔ لہذا اگر گیہوں کا گیہوں کے ساتھ یا چنے کا چنے کے ساتھ یا چونے کا چونے کے ساتھ یا سونے کا سونے کے ساتھ یا لوہے کا لوہے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں فضل (یعنی کمی بیشی کے ساتھ دست بدست لینا دینا) بھی حرام ہوگا اور نسیہ ( یعنی ادھار لینا دینا) بھی حرام ہے اور نسیہ ( یعنی ادھار لینا دینا) بھی حرام ہوگا کیونکہ یہاں اتحاد قدر بھی پایا جاتا ہے اور اتحاد جنس بھی اور اگر گیہوں کا چنے کے ساتھ یا سونے کا چاندی کے ساتھ اور لوہے کا تانبے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں فضل ( یعنی کمی بیشی کے ساتھ دست بدست لینا دینا) تو حلال ہوگا لیکن نسیہ ( یعنی ادھار لینا دینا) حرام ہوگا کیونکہ یہاں صرف اتحاد قدر موجود ہے بایں طور کہ گیہوں اور چنے کا لین دین بھی کیل یا وزن کے ساتھ ہوتا ہے لوہے اور تانبے کا لین دین بھی وزن کے ساتھ ہوتا ہے اور چاندی کا لین دین بھی وزن کے ساتھ ہوتا ہے لیکن یہاں اتحاد جنس موجود نہیں ہے اور اگر کسی کپڑے کے ایک ٹکڑے کا اس کپڑے کے دوسرے ٹکڑے کے ساتھ یا گھوڑے کا گھوڑے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں بھی فضل حلال ہوگا اور نسیہ حرام ہوگا کیونکہ یہاں اتحاد جنس موجود ہے مگر اتحاد قدر نہیں ہے بایں طور کہ نہ تو کپڑا ہی مکیل یا موزون ہے اور نہ گھوڑا ہی مکیل یا موزون ہے جبکہ معیار شرعی مکیل یا موزون ہوتا ہے اور گز وغیرہ معیار شرعی نہیں ہے۔ اور اگر لین دین ایسی دو چیزوں کے درمیان ہو جن میں نہ تو اتحاد قدر ہو اور نہ اتحاد جنس تو ان کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ایسی چیزوں کے لین دین میں فضل بھی حلال ہوگا اور نسیہ بھی مثلا اگر گیہوں کا چاندی یا لوہے کے ساتھ لین دین کیا جائے تو اس صورت میں فضل اور نسیہ دونوں جائز ہیں اس لئے کہ یہاں نہ اتحاد جنس ہے اور نہ اتاحد قدر بایں طور کہ گیہوں تو مکیل ہے اور چاندی یا لوہا موزون ہے اسی طرح لوہے کا سونے کے ساتھ یا سونے کا لوہے کے ساتھ لین دین کرنے کی صورت میں بھی فضل ونسیہ دونوں جائز ہیں کیونکہ یہاں بھی نہ اتحاد جنس ہے اور نہ اتحاد قدر بایں طور کہ سونا تولنے کے باٹ ترازو کی قسم الگ ہوتی ہے اور لوہا جن باٹ ترازو سے تولا جاتا ہے ان کی علیحدہ قسم ہوتی ہے گیہوں کا چونے کے لین دین کا پیمانہ الگ قسم کا ہوتا ہے ( لیکن یہ ان علاقوں کی صورت ہے جہاں گیہوں اور چونے کا لین دین وزن کے ساتھ نہیں بلکہ پیمانے کے ذریعے ہوتا ہے۔
2857
Mishkaat Shareefعن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال : هم سواء . رواه مسلم
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سود لینے والے پر سود دینے والے پر سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر سب ہی پر لعنت فرمائی ہے نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سب (اصل گناہ میں) برابر ہیں اگرچہ مقدار کے اعتبار سے مختلف ہوں (مسلم)
تشریح
سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت اس لئے فرمائی کہ ایک غیر مشروع اور حرام کام میں یہ معاون ہوتے ہیں اس سے یہ بات صراحت کے ساتھ معلوم ہوئی کہ سود وبیاج کا تمسک لکھنا اور اس کا گواہ بننا حرام ہے۔
تشریح
سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت اس لئے فرمائی کہ ایک غیر مشروع اور حرام کام میں یہ معاون ہوتے ہیں اس سے یہ بات صراحت کے ساتھ معلوم ہوئی کہ سود وبیاج کا تمسک لکھنا اور اس کا گواہ بننا حرام ہے۔
2858
Mishkaat Shareefوعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد . رواه مسلم
حضرت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے اور جو جو کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے اگر لیا دیا جائے تو ان کا لین دین (مقدار) میں مثل بمثل یعنی برابر سرابر ودست بدست ہونا چاہئے٫ اگر یہ قسمیں مختلف ہوں مثلا گیہوں کا تبادلہ جو کے ساتھ یا جو کا تبادلہ کھجور کے ساتھ ہو تو پھر اجازت ہے کہ جس طرح چاہو خریدو فروخت کرو (یعنی برابر سرابر ہونا ضروری نہیں ہے) البتہ لین دین کا دست بدست ہونا (اس صورت میں بھی) ضروری ہے (مسلم)
تشریح
یہی وہ حدیث ہے جس نے ربا کے مفہوم کو وسعت دے کر خریدو فروخت اور لین دین کے بعض معاملات کو ربا اور سود قرار دیا ہے چناچہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جن چھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اگر ان کا باہمی تبادلہ یا ان کی باہمی خریدو فروخت کی جائے تو یہ ضروری ہے کہ لین دین برابر سرابر بھی ہو اور دست بدست بھی ہو برابر سرابر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنا گیہوں بطور تبادلہ بیع دے تو اس سے اتنا ہی گیہوں لے جتنا خود دے دست بدست کا مطلب یہ ہے کہ جس مجلس میں معاملہ طے ہو اس مجلس میں دونوں فریق اپنا اپنا حق ایک دوسرے سے الگ ہونے سے پہلے ہی اپنے قبضے میں لے لیں یہ نہ ہونا چاہئے کہ ایک فریق تو نقد دے اور دوسرا یہ وعدہ کرے کہ میں بعد میں دے دوں گا اگر اس حکم کے برخلاف ہوگا کہ یا لین دین برابر نہ ہو یا دست بدست نہ ہو تو اس صورت میں وہ معاملہ ربا یعنی سود کے حکم میں داخل ہوجائے گا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں جن چھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے آیا ربا کا حکم انہی چھ چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ چیزیں بطور مثال کے بیان فرمائی گئی ہیں اور دوسری کچھ اشیاء بھی اس حکم میں داخل ہیں اور اگر دوسری اجناس بھی داخل ہیں تو ان کا ضابطہ کیا ہے۔ چنانچہ ائمہ مجتہدین کا یہ فیصلہ ہے کہ حدیث میں جن چھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض مثال کے طور پر ہیں اور انہوں نے اپنے اجتہاد سے کچھ اور چیزوں مثلا لوہے چونے اور دیگر اجناس کو ان چھ چیزوں پر قیاس کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ضابطہ بنانے کے لئے ہر ایک نے اپنے اپنے اجتہاد سے ان چھ چیزوں میں ربا کی علت الگ الگ متعین کی ہے جس کی تفصیل یہ ہے حضرت امام مالک کے نزدیک ان چھ چیزوں میں سے سونے اور چاندی میں ربا کی علت تو ثمنیت (یعنی کسی چیز کی قیمت ہونے کی صلاحیت) ہے اور باقی چار چیزوں میں ربا کی علت قوت مذخر (یعنی محفوظ رہنے والی غذا) ہونا ہے اس اعتبار سے ان چھ چیزوں کے علاوہ بھی جن چیزوں میں ثمنیت پائی جائے گی یا جو چیزیں قوت مذخر ہوں گی ان سب میں ربا حرام ہوگا لہذا حضرت امام مالک کے مسلک میں ترکاریاں پھل اور کھانے کی ایسی اشیاء جو ( کافی عرصے تک) محفوظ نہ رہ سکتی ہوں وہ چیزیں ہیں جن کے باہمی تبادلہ اور خریدو فروخت حضرت امام شافعی کے نزدیک بھی سونے اور چاندی میں تو ربا کی علت ثمنیت ہے لیکن باقی چار چیزوں میں ربا کی علت محض قوت (یعنی صرف غذائیت) ہے۔ لہذا ان کے مسلک میں ترکاریوں پھلوں اور ادویات کی چیزوں میں ربا کا حکم جاری ہوگا کہ ان چیزوں کے باہمی تبادلہ میں برابر سرابر لینا دینا تو جائز ہوگا مگر کمی بیشی کے ساتھ لین دین کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح حضرت امام شافعی کے ہاں لوہا تانبا پیتل دھات چونا اور اسی قسم کی دوسری اشیاء وہ چیزیں ہیں جن کے باہم تبادلہ میں ربا کا حکم جاری نہیں ہوگا مثلا ایک پیمانہ چونے کے بدلے میں دو پیمانے چونے کا لینا دینا درست ہے اسی طرح ایک سیر لوہے یا ایک سیر تانبے کے بدلے میں دو سیر لوہا یا دو سیر تانبا لینا دینا جائز ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں اصولی طور پر ربا کی علت قدر مع الجنس ہے اس اعتبار سے حنفی مسلک میں سونے اور چاندی میں ربا کی علت چونکہ مکیل ہے اس لئے ہر اس چیز کے باہمی لین دین میں ربا کا حکم جاری ہوگا جو مکیل (یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جانیوالی) ہو جیسے چونا وغیرہ اور یہ بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ شریعت نے جس چیز کے مکیل یا موزون ہونے کا حکم صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں تبدلی روا نہیں ہے مثلا سونے اور چاندی کو شریعت نے ان چیزوں میں شمار کیا ہے جو وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں اس لئے یہ دونوں موزون کے حکم میں ہیں اگرچہ عام رواج اس کے برخلاف ہو اسی طرح گیہوں جو کھجور اور نمک کو شریعت نے ان چیزوں میں شمار کیا ہے جو کیل یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جاتی ہیں اس لئے یہ چیزیں مکیل کے حکم میں ہیں اگرچہ عام رواج اس کے برخلاف ہو لہذا سونے یا چاندی کے باہم لین دین کے جائز ہونے میں وزن اور کیل ہی کا اعتبار ہوگا کہ اگر سونے کو سونے کے بدلے یا چاندی کو چاندی کے بدلے لیا دیا جائے تو وزن کا برابر سرابر ہونا ضروری ہے وزن میں کمی بیشی قطعًا جائز نہیں ہوگی اسی طرح باقی چار چیزوں کے باہم لین دین کے جائز ہونے میں کیل کا اعتبار ہوگا کیونکہ اگرچہ عام رواج کے مطابق ان چیزوں کا لین دین وزن کے ذریعے ہوتا ہے لیکن شرعی طور پر یہ چیزیں مکیل ہی کے حکم میں ہوں گی۔ اس لئے اگر کوئی شخص کسی کو ایک من گیہوں کے بدلے میں ایک ہی من گیہوں دے تو تو یہ لین دین جائز نہ ہوگا تاوقتیکہ دونوں طرف کے گیہوں پیمانے کے اعتبار سے برابر سرابر نہ ہوں (لیکن یہ بات بھی پہلے صاف کی جا چکی ہے کہ حنفیہ میں حضرت امام ابویوسف کے نزدیک مطلقًا ہر چیز کے مکیل یا موزون ہونے میں عام رواج کا اعتبار ہے اور حنفیہ کے ہاں اس پر عمل ہے) جو کھجور اور نمک کا بھی یہی حکم ہے۔ ہاں جس چیز کا موزون یا مکیل ہونا شریعت نے صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا ہے اس کے بارے میں عام رواج ہی کا اعتبار ہوگا کہ اگر وہ چیز عام رواج کے مطابق وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہوگی تو وہ شرعی طور پر بھی موزون ہی کے حکم میں ہوگی کہ اس کے باہم لین دین میں وزن کا برابر سرابر ہونا ضروری ہوگا۔ اس لئے لوہا اور تانبا چونکہ عام رواج کے مطابق وزن کے ذریعے لیا دیا جاتا ہے اس لئے ان کے باہم لین دین میں وزن کا برابر سرابر ہونا ضروری ہے اگر وزن میں کمی بیشی ہوگی تو یہ ربا کے حکم میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے اور جو جو کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے میں اگر دیا جائے تو ان کا لین دین برابر سرابر دست بدست ہونا چاہئے۔ لہذا جس نے ایسا نہیں کیا بلکہ زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا اور لیا تو گویا اس نے سود لیا اور سود دیا اور لینے دینے والا دونوں اس میں برابر ہیں (مسلم)
تشریح
یہی وہ حدیث ہے جس نے ربا کے مفہوم کو وسعت دے کر خریدو فروخت اور لین دین کے بعض معاملات کو ربا اور سود قرار دیا ہے چناچہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہاں جن چھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اگر ان کا باہمی تبادلہ یا ان کی باہمی خریدو فروخت کی جائے تو یہ ضروری ہے کہ لین دین برابر سرابر بھی ہو اور دست بدست بھی ہو برابر سرابر کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو اپنا گیہوں بطور تبادلہ بیع دے تو اس سے اتنا ہی گیہوں لے جتنا خود دے دست بدست کا مطلب یہ ہے کہ جس مجلس میں معاملہ طے ہو اس مجلس میں دونوں فریق اپنا اپنا حق ایک دوسرے سے الگ ہونے سے پہلے ہی اپنے قبضے میں لے لیں یہ نہ ہونا چاہئے کہ ایک فریق تو نقد دے اور دوسرا یہ وعدہ کرے کہ میں بعد میں دے دوں گا اگر اس حکم کے برخلاف ہوگا کہ یا لین دین برابر نہ ہو یا دست بدست نہ ہو تو اس صورت میں وہ معاملہ ربا یعنی سود کے حکم میں داخل ہوجائے گا اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں جن چھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے آیا ربا کا حکم انہی چھ چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ چیزیں بطور مثال کے بیان فرمائی گئی ہیں اور دوسری کچھ اشیاء بھی اس حکم میں داخل ہیں اور اگر دوسری اجناس بھی داخل ہیں تو ان کا ضابطہ کیا ہے۔ چنانچہ ائمہ مجتہدین کا یہ فیصلہ ہے کہ حدیث میں جن چھ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض مثال کے طور پر ہیں اور انہوں نے اپنے اجتہاد سے کچھ اور چیزوں مثلا لوہے چونے اور دیگر اجناس کو ان چھ چیزوں پر قیاس کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ضابطہ بنانے کے لئے ہر ایک نے اپنے اپنے اجتہاد سے ان چھ چیزوں میں ربا کی علت الگ الگ متعین کی ہے جس کی تفصیل یہ ہے حضرت امام مالک کے نزدیک ان چھ چیزوں میں سے سونے اور چاندی میں ربا کی علت تو ثمنیت (یعنی کسی چیز کی قیمت ہونے کی صلاحیت) ہے اور باقی چار چیزوں میں ربا کی علت قوت مذخر (یعنی محفوظ رہنے والی غذا) ہونا ہے اس اعتبار سے ان چھ چیزوں کے علاوہ بھی جن چیزوں میں ثمنیت پائی جائے گی یا جو چیزیں قوت مذخر ہوں گی ان سب میں ربا حرام ہوگا لہذا حضرت امام مالک کے مسلک میں ترکاریاں پھل اور کھانے کی ایسی اشیاء جو ( کافی عرصے تک) محفوظ نہ رہ سکتی ہوں وہ چیزیں ہیں جن کے باہمی تبادلہ اور خریدو فروخت حضرت امام شافعی کے نزدیک بھی سونے اور چاندی میں تو ربا کی علت ثمنیت ہے لیکن باقی چار چیزوں میں ربا کی علت محض قوت (یعنی صرف غذائیت) ہے۔ لہذا ان کے مسلک میں ترکاریوں پھلوں اور ادویات کی چیزوں میں ربا کا حکم جاری ہوگا کہ ان چیزوں کے باہمی تبادلہ میں برابر سرابر لینا دینا تو جائز ہوگا مگر کمی بیشی کے ساتھ لین دین کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح حضرت امام شافعی کے ہاں لوہا تانبا پیتل دھات چونا اور اسی قسم کی دوسری اشیاء وہ چیزیں ہیں جن کے باہم تبادلہ میں ربا کا حکم جاری نہیں ہوگا مثلا ایک پیمانہ چونے کے بدلے میں دو پیمانے چونے کا لینا دینا درست ہے اسی طرح ایک سیر لوہے یا ایک سیر تانبے کے بدلے میں دو سیر لوہا یا دو سیر تانبا لینا دینا جائز ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں اصولی طور پر ربا کی علت قدر مع الجنس ہے اس اعتبار سے حنفی مسلک میں سونے اور چاندی میں ربا کی علت چونکہ مکیل ہے اس لئے ہر اس چیز کے باہمی لین دین میں ربا کا حکم جاری ہوگا جو مکیل (یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جانیوالی) ہو جیسے چونا وغیرہ اور یہ بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ شریعت نے جس چیز کے مکیل یا موزون ہونے کا حکم صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اس میں تبدلی روا نہیں ہے مثلا سونے اور چاندی کو شریعت نے ان چیزوں میں شمار کیا ہے جو وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں اس لئے یہ دونوں موزون کے حکم میں ہیں اگرچہ عام رواج اس کے برخلاف ہو اسی طرح گیہوں جو کھجور اور نمک کو شریعت نے ان چیزوں میں شمار کیا ہے جو کیل یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جاتی ہیں اس لئے یہ چیزیں مکیل کے حکم میں ہیں اگرچہ عام رواج اس کے برخلاف ہو لہذا سونے یا چاندی کے باہم لین دین کے جائز ہونے میں وزن اور کیل ہی کا اعتبار ہوگا کہ اگر سونے کو سونے کے بدلے یا چاندی کو چاندی کے بدلے لیا دیا جائے تو وزن کا برابر سرابر ہونا ضروری ہے وزن میں کمی بیشی قطعًا جائز نہیں ہوگی اسی طرح باقی چار چیزوں کے باہم لین دین کے جائز ہونے میں کیل کا اعتبار ہوگا کیونکہ اگرچہ عام رواج کے مطابق ان چیزوں کا لین دین وزن کے ذریعے ہوتا ہے لیکن شرعی طور پر یہ چیزیں مکیل ہی کے حکم میں ہوں گی۔ اس لئے اگر کوئی شخص کسی کو ایک من گیہوں کے بدلے میں ایک ہی من گیہوں دے تو تو یہ لین دین جائز نہ ہوگا تاوقتیکہ دونوں طرف کے گیہوں پیمانے کے اعتبار سے برابر سرابر نہ ہوں (لیکن یہ بات بھی پہلے صاف کی جا چکی ہے کہ حنفیہ میں حضرت امام ابویوسف کے نزدیک مطلقًا ہر چیز کے مکیل یا موزون ہونے میں عام رواج کا اعتبار ہے اور حنفیہ کے ہاں اس پر عمل ہے) جو کھجور اور نمک کا بھی یہی حکم ہے۔ ہاں جس چیز کا موزون یا مکیل ہونا شریعت نے صراحت کے ساتھ بیان نہیں کیا ہے اس کے بارے میں عام رواج ہی کا اعتبار ہوگا کہ اگر وہ چیز عام رواج کے مطابق وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہوگی تو وہ شرعی طور پر بھی موزون ہی کے حکم میں ہوگی کہ اس کے باہم لین دین میں وزن کا برابر سرابر ہونا ضروری ہوگا۔ اس لئے لوہا اور تانبا چونکہ عام رواج کے مطابق وزن کے ذریعے لیا دیا جاتا ہے اس لئے ان کے باہم لین دین میں وزن کا برابر سرابر ہونا ضروری ہے اگر وزن میں کمی بیشی ہوگی تو یہ ربا کے حکم میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے اور گیہوں گیہوں کے بدلے اور جو جو کے بدلے اور کھجور کھجور کے بدلے اور نمک نمک کے بدلے میں اگر دیا جائے تو ان کا لین دین برابر سرابر دست بدست ہونا چاہئے۔ لہذا جس نے ایسا نہیں کیا بلکہ زیادہ دیا یا زیادہ طلب کیا اور لیا تو گویا اس نے سود لیا اور سود دیا اور لینے دینے والا دونوں اس میں برابر ہیں (مسلم)
2859
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل يدا بيد فمن زاد أو استزاد فقد أربى الآخذ والمعطي فيه سواء . رواه مسلموعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا منها غائبا بناجز وفي رواية : لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق إلا وزنا بوزن
حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے میں فروخت نہ کرو الاّ یہ کہ دونوں وزن میں برابر سرابر ہوں لہذا دونوں میں کمی بیشی نہ کرو اسی طرح چاندی کو چاندی کے بدلے میں فروخت نہ کرو الاّ یہ کہ دونوں برابر سرابر ہوں لہذا دونوں میں کمی بیشی نہ کرو نیز ان سونے اور چاندی میں سے کسی کا باہم لین دین اس طرح نہ کرو کہ ایک تو نقد دے اور دوسرا ادھار (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص سونے کے زیور کا سونے کے ساتھ یا چاندی کے زیور کا چاندی کے ساتھ تبادلہ کرے تو اس صورت میں بھی دونوں کا وزن میں برابر سرابر ہونا ضروری ہے زیور کی بنوائی لینی جائز نہیں ہے کیونکہ پھر اسطرح کمی بیشی لازم آئے گی جو سود کے حکم میں ہوجائے گی۔
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی شخص سونے کے زیور کا سونے کے ساتھ یا چاندی کے زیور کا چاندی کے ساتھ تبادلہ کرے تو اس صورت میں بھی دونوں کا وزن میں برابر سرابر ہونا ضروری ہے زیور کی بنوائی لینی جائز نہیں ہے کیونکہ پھر اسطرح کمی بیشی لازم آئے گی جو سود کے حکم میں ہوجائے گی۔
2860
Mishkaat Shareefوعن معمر بن عبد الله قال : كنت أسمع رسول صلى الله عليه و سلم يقول : الطعام بالطعام مثلا بمثل . رواه مسلم
اور حضرت معمر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کرتا تھا کہ غذا کے بدلے میں (یعنی غلہ کو ہم جنس غلہ کے بدلے میں) اگر لیا دیا جائے تو یہ لین دین برابر سرابر ہونا چاہئے ( مسلم)
2861
Mishkaat Shareefوعن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالذهب ربا إلا هاء وهاء والورق بالورق ربا إلا هاء وهاء والبر بالبر إلا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سونے کا سونے کے ساتھ (برابرسرابر بھی) تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو (یعنی اگر دونوں طرف سے برابر سرابر اور دست بدست لین دین ہو تو پھر سود نہیں ہے) اسی طرح چاندی کا چاندی کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو گیہوں کا گیہوں کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو جو کا جو کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو کھجور کا کھجور کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو (بخاری ومسلم)
تشریح
ہم جنس چیزوں میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تبادلے کے معاملے میں تین صورتیں ہوتی ہیں -1 یا تو دونوں طرف موزون ہوں یا مکیل ہوں -2 دونوں طرف اشیاء نقد ہوں یا دونوں طرف ادھار ہوں -3 ایک طرف نقد ہو اور دوسری طرف کچھ دنوں کے لئے یا زیادہ دنوں کے لئے ادھار ہو ان تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت کے مطابق تو لین دین جائز ہوگا بشرطیکہ دونوں طرف مقدار برابر سرابر ہو کہ اگر وہ دونوں چیزیں موزون ہیں تو وزن میں برابر ہوں اور اگر مکیل ہوں تو پیمانہ میں برابر ہوں اور یہ کہ دونوں طرف کی اشیاء نقد ہوں اور بعد کی دونوں صورتوں کے مطابق یعنی دونوں طرف ادھاریا ایک طرف ادھار ہونے کی صورت میں لین دین کا معاملہ جائز نہیں ہوگا اگرچہ مقدار کے اعتبار سے دونوں ہم جنس چیزیں برابر سرابر ہوں
تشریح
ہم جنس چیزوں میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تبادلے کے معاملے میں تین صورتیں ہوتی ہیں -1 یا تو دونوں طرف موزون ہوں یا مکیل ہوں -2 دونوں طرف اشیاء نقد ہوں یا دونوں طرف ادھار ہوں -3 ایک طرف نقد ہو اور دوسری طرف کچھ دنوں کے لئے یا زیادہ دنوں کے لئے ادھار ہو ان تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت کے مطابق تو لین دین جائز ہوگا بشرطیکہ دونوں طرف مقدار برابر سرابر ہو کہ اگر وہ دونوں چیزیں موزون ہیں تو وزن میں برابر ہوں اور اگر مکیل ہوں تو پیمانہ میں برابر ہوں اور یہ کہ دونوں طرف کی اشیاء نقد ہوں اور بعد کی دونوں صورتوں کے مطابق یعنی دونوں طرف ادھاریا ایک طرف ادھار ہونے کی صورت میں لین دین کا معاملہ جائز نہیں ہوگا اگرچہ مقدار کے اعتبار سے دونوں ہم جنس چیزیں برابر سرابر ہوں
2862
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد وأبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم استعمل رجلا على خيبر فجاءه بتمر جنيب فقال : أكل تمر خيبر هكذا ؟ قال : لا والله يا رسول الله إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين والصاعين بالثلاث فقال : لا تفعل بع الجمع بالدراهم ثم ابتع بالدراهم جنيبا . وقال : في الميزان مثل ذلك
حضرت ابوسعید اور ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا چناچہ جب وہ شخص وہاں سے واپس آیا تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بہت عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر حاصر ہوا آپ ﷺ نے وہ کھجوریں دیکھ کر اس سے پوچھا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی اچھی ہوتی ہیں اس نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم سب کھجوریں ایسی نہیں ہوتیں بلکہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ دو صاع (خراب) کھجوروں کے بدلے میں ایک صاع اچھی کھجوریں اور تین صاع (خراب) کھجوروں کے بدلے دو صاع اچھی کھجوریں لے لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ پہلے تمام کھجوروں کو ملا کر درہموں کے عوض فروخت کرو اور پھر ان درہموں کے عوض اچھی کھجوریں خریدو اور پھر فرمایا جو چیزیں ترازو یعنی وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کھجور اور ان چیزوں کے بارے میں کہ جو کیل یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جاتی ہیں یہ حکم بیان کیا گیا ہے اسی طرح ان چیزوں کے بارے میں بھی کہ جو وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں جیسے سونا اور چاندی وغیرہ یہی حکم ہے کہ اگر ان میں سے ایسی دو ہم جنس چیزوں کا باہمی تبادلہ کیا جائے جن میں سے ایک اچھی ہو اور دوسری خراب تو اس صورت میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ پہلے تو خراب چیز کو درہم یا روپیہ کے عوض فروخت کردیا جائے اور پعر اس درہم یا روپیہ سے اچھی چیز خرید لی جائے حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت بلال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اچھی قسم کی کھجور لے کر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ خراب کھجوریں تھیں اس میں سے میں نے دو صاع کھجوریں دے کر اس کے بدلے میں ایک صاع یہ اچھی کھجوریں لے لی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اوہ یہ تو باکل سود ہے ایسا نہ کرو البتہ جب تم اچھی کھجوریں بدلنا چاہو تو یہ طریقہ اختیار کرو کہ پہلے اپنی خراب کھجوریں درہم یا روپے کے عوض فروخت کردو پھر ان درہموں یا روپیوں کے ذریعے اچھی کھجوریں خرید لو ( بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کھجور اور ان چیزوں کے بارے میں کہ جو کیل یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جاتی ہیں یہ حکم بیان کیا گیا ہے اسی طرح ان چیزوں کے بارے میں بھی کہ جو وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں جیسے سونا اور چاندی وغیرہ یہی حکم ہے کہ اگر ان میں سے ایسی دو ہم جنس چیزوں کا باہمی تبادلہ کیا جائے جن میں سے ایک اچھی ہو اور دوسری خراب تو اس صورت میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ پہلے تو خراب چیز کو درہم یا روپیہ کے عوض فروخت کردیا جائے اور پعر اس درہم یا روپیہ سے اچھی چیز خرید لی جائے حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت بلال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اچھی قسم کی کھجور لے کر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ خراب کھجوریں تھیں اس میں سے میں نے دو صاع کھجوریں دے کر اس کے بدلے میں ایک صاع یہ اچھی کھجوریں لے لی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اوہ یہ تو باکل سود ہے ایسا نہ کرو البتہ جب تم اچھی کھجوریں بدلنا چاہو تو یہ طریقہ اختیار کرو کہ پہلے اپنی خراب کھجوریں درہم یا روپے کے عوض فروخت کردو پھر ان درہموں یا روپیوں کے ذریعے اچھی کھجوریں خرید لو ( بخاری ومسلم)