hadith book logo

Mishkaat Shareef

68. سر منڈانے کا بیان

مشكاة المصابيح

2690
Mishkaat Shareef
صحیح
دسویں ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کے بعد منیٰ ہی میں ہدی ذبح کی جاتی ہے اس کے بعد سر منڈا کر یا بال کتروا کر احرام کھول دیا جاتا ہے اس طرح رفث (عورت سے جماع وغیرہ) کے علاوہ ہر وہ چیز جو احرام کی حالت میں ممنوع تھی، جائز ہوجاتی ہے، چناچہ اس باب میں سر منڈوانے اور بال کتروانے دونوں چیزوں کا ذکر ہے، اگرچہ مؤلف مشکوۃ نے عنوان میں صرف سر منڈوانے کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے کیونکہ احرام سے نکلنے کے لئے بال کتروانے کی بہ نسبت سر منڈانا افضل ہے، اس بارے میں تفصیل انشاء اللہ حسب موقع بیان ہوگی۔ یہ بات جان لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہ کہیں ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے حج وعمرہ کے علاوہ اور کبھی سر منڈایا ہو۔
2691
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حلق رأسه في حجة الوداع وأناس من أصحابه وقصر بعضهم
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈایا اور صحابہ میں سے کچھ نے تو اپنے سر منڈائے اور کچھ نے اپنے بال کتروائے۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
جن صحابہ (رض) نے اپنے سر منڈائے انہوں نے تو آنحضرت ﷺ کی اتباع کے جذبے اور حصول فضیلت کو پیش نظر رکھا اور جن صحابہ (رض) نے بال کتروانے پر اکتفاء کیا (انہوں نے گویا جواز پر عمل کیا کہ بال کتروانا بھی جائز ہے) ۔ صحیحین وغیر ہما میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عمرۃ القضاء میں سر منڈانے کی بجائے بال کتروائے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں لیکن افضل سر منڈانا ہی ہے۔
2692
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : قال لي معاوية : إني قصرت من رأس النبي صلى الله عليه و سلم عند المروة بمشقص
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ (رض) نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے سر کے بال مروہ کے قریب تیر کی پیکان سے کترے۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
مشقص کے معنی ہیں تیر کی پیکان لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ مشقص بڑی قینچی کو کہتے ہیں اور یہ معنی زیادہ مناسب اور زیادہ صحیح ہیں۔ احادیث سے چونکہ یہ بات ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے حج میں سر کے بال کتروائے نہیں بلکہ منڈوائے تھے اس لئے حضرت معاویہ (رض) کے اس بیان کا تعلق حج سے نہیں بلکہ عمرے سے ہے، چناچہ حضرت معاویہ (رض) کے الفاظ عند المروۃ (مروہ کے قریب) بھی اس بات پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ حضرت معاویہ (رض) اگر آپ ﷺ کے بال حج میں کترتے تو مروہ کے قریب نہ کہتے بلکہ یہ کہتے کہ میں نے آپ ﷺ کے سر کے بال منیٰ میں کترے۔
2693
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال في حجة الوداع : اللهم ارحم المحلقين . قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : اللهم ارحم المحلقين . قالوا : والمقصرين يا رسول الله ؟ قال : والمقصرين
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا۔ اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ! صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! بال کتروانے والوں کے لئے دعاء رحمت کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔ صحابہ نے جب پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! بال کتروانے والوں کے لئے بھی دعاء رحمت کیجئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا (اے اللہ) اور بال کتروانے والوں پر بھی رحم فرما۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس بات سے سر منڈانے کی فضیلت ثابت ہوئی کہ آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو کئی بار دعاء رحمت کی اور بال کتروانے والوں کے لئے کئی بار کے بعد ایک ہی مرتبہ دعاء رحمت کی۔
2694
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن يحيى بن الحصين عن جدته أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع دعا للمحلقين ثلاثا وللمقصرين مرة واحدة . رواه مسلم
حضرت یحییٰ بن حصین (تابعی) اپنی دادی محترمہ سے (کہ جن کی کنیت ام الحصین ہے) نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ کو سر منڈانے والوں کے لئے تین مرتبہ اور بال کتروانے والوں کے لئے آخر میں ایک مرتبہ دعا کرتے سنا۔ (مسلم)

تشریح
اس حدیث سے پہلے بخاری و مسلم کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو دو مرتبہ دعا کی اور تیسری مرتبہ میں بال کتروانے والوں کو بھی شامل فرمایا نیز بخاری و مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے چوتھی مرتبہ میں بال کتروانے والوں کو شامل فرمایا جب کہ مسلم کی یہ روایت بتار ہی ہے کہ آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے تو تین مرتبہ دعا کی اور بال کتروانے والوں کے لئے ایک مرتبہ، اب چاہے تو ان کو تو تیسری ہی مرتبہ میں شامل کیا ہو، چاہے چوتھی مرتبہ ان کے لئے علیحدہ سے دعا کی۔ بہرکیف ان تمام روایتوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء لکھتے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ دعا کئی مجلسوں میں کی ہوگی، چناچہ کسی مجلس میں آپ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لئے دو مرتبہ اور تیسری مرتبہ میں بال کتروانے والوں کے لئے دعا کی اور کسی مجلس میں تین مرتبہ سر منڈانے والوں کے لئے اور چوتھی مرتبہ بال کتروانے والوں کے لئے دعا کی ہوگی، یا پھر یہ کہ جس راوی نے جو سنا اور اس پر جو حقیقت ظاہر ہوئی اس نے اسی کو ذکر کیا۔
2695
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أتى منى فأتى الجمرة فرماها ثم أتى منزله بمنى ونحر نسكه ثم دعا بالحلاق وناول الحالق شقه الأيمن ثم دعا أبا طلحة الأنصاري فأعطاه إياه ثم ناول الشق الأيسر فقال احلق فحلقه فأعطاه طلحة فقال : اقسمه بين الناس
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ منیٰ میں آنے کے بعد جمرہ عقبہ کے پاس تشریف لائے اور وہاں کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور اپنی ہدی کے جانوروں کو ذبح کیا، اس کے بعد سر مونڈنے والے کو (جس کا نام معمر بن عبداللہ تھا) بلایا اور اپنے سر کا دایاں حصہ اس کے سامنے کیا، چناچہ اس نے آپ ﷺ نے سر (کے اس داہنے حصہ) کو مونڈا، پھر آپ ﷺ نے حضرت طلحہ انصاری (رض) کو بلایا اور ان کو اپنے وہ مونڈے ہوئے بال دئیے، اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے سر کا بایاں حصہ مونڈنے والے کی طرف کر کے فرمایا کہ اب اسے مونڈو، چناچہ اس نے مونڈ دیا، یہ بال بھی آپ ﷺ نے حضرت ابوطلحہ انصاری (رض) کو دے دئیے اور فرمایا کہ یہ بال لوگوں میں تقسیم کردو۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سر منڈانے میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا سنت ہے، نیز اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دائیں طرف میں منڈوانے والے کا اعتبار ہے کہ وہ اپنے سر کو دائیں طرف سے منڈوانا شروع کرے، جب کہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مونڈنے والے کی دائیں طرف کا اعتبار ہے یعنی مونڈنے والا اپنی دائیں طرف سے سر مونڈنا شروع کرے۔
2696
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كنت أطيب رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن يحرم ويوم النحر قبل أن يطوف بالبيت بطيب فيه مسك
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگاتی تھی (احرام خواہ حج کا ہوتا خواہ عمرہ کا اور خواہ دونوں کا) اور میں نحر (قربانی) کے دن بھی خانہ کعبہ کے طواف سے پہلے (سر منڈانے اور کپڑے پہننے کے بعد) آپ ﷺ کے خوشبو لگاتی تھی اور خوشبو بھی وہ جس میں مشک ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ جن مواقع پر حضرت عائشہ (رض) نے خوشبو لگانے کا ذکر کیا ہے یعنی احرام باندھنے سے پہلے اور نحر کے دن طواف خانہ کعبہ سے قبل، اگر ان اوقات میں خوشبو لگائی جائے تو مشک اور گلاب کی خوشبو لگانا سب سے بہتر اور اولیٰ ہے کیونکہ ان دونوں میں صرف خوشبو ہوتی ہے رنگ نہیں ہوتا۔ نحر (قربانی کے دن) یعنی دسویں ذی الحجہ کو سر منڈانے کے بعد حاجی احرام سے باہر ہوجاتے ہیں یعنی وہ چیزیں جو احرام کی وجہ سے ان پر حرام تھیں اس دن سب حلال ہوجاتی ہیں علاوہ رفث کے اور جب طواف زیارت سے فراغت ہوجاتی ہے تو رفث بھی حلال ہوجاتا ہے۔
2697
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفاض يوم النحر ثم رجع فصلى الظهر بمنى . رواه مسلم
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے نحر کے دن (رمی اور قربانی سے فارغ ہو کر) مکہ تشریف لائے اور چاشت کے وقت طواف فرض کیا پھر (اس روز) وہاں سے واپس ہوئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی۔ (مسلم)

تشریح
اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی جب کہ باب حجۃ الوداع میں حضرت جابر (رض) کی روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس دن ظہر کی نماز مکہ میں ادا فرمائی ؟ چناچہ دونوں روایتوں کے اس ظاہری تضاد کو حضرت جابر (رض) کی روایت کی تشریح میں رفع کیا جا چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز تو مکہ ہی میں ادا کی تھی البتہ آپ ﷺ نے منیٰ میں نفل نماز پڑھی جس کو حضرت ابن عمر (رض) نے ظہر کی نماز گمان کیا۔
2698
Mishkaat Shareef
صحیح
عن علي وعائشة رضي الله عنهما قالا : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن تحلق المرأة رأسها . رواه الترمذي
حضرت علی (رض) اور حضرت عائشہ (رض) دونوں راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو اپنا سر منڈاوانے سے منع فریایا ہے۔ (ترمذی)

تشریح
اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب احرام سے باہر آئیں تو سر منڈانا ان پر واجب نہیں ہے بلکہ ان کے لئے حرام ہے ہاں بال کتروانا ان پر واجب ہے، بخلاف مردوں کے کہ ان پر دونوں چیزوں میں سے کوئی ایک واجب ہے کہ چاہے تو سر منڈائیں چاہے صرف بال کتروالیں البتہ سر منڈانا افضل ہے۔
2699
Mishkaat Shareef
صحیح
سر منڈانے یا بال کتروانے کی مقدار حنفیہ کے ہاں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ سر منڈانے کے سلسلہ میں صرف چوتھائی سر کا منڈنا واجب ہے اور پورے سر کا منڈانا افضل ہے، ہاں بال کتروانے کے سلسلہ میں واجب صرف چوتھائی سر کے بال کو ایک انگلی پور کے برابر کتروانا ہے اور پورے سر کے بال کتروانے مستحب ہیں، لیکن علامہ ابن ہمام نے اس قول کو اختیار کیا ہے جو حضرت امام مالک کا مسلک ہے کہ پورے سر کو منڈوانا یا پورے سر کے بال کتروانا ہی واجب ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ یہی صواب ہے۔