hadith book logo

Mishkaat Shareef

123. جہاد کا بیان

مشكاة المصابيح

3718
Mishkaat Shareef
صحیح
جہاد کے معنی جہد اور جہاد کے لغوی معنی ہیں مشقت اٹھانا اور طاقت سے زیادہ بوجھ لادنا امام راغب نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ (الجہاد استفراغ الوسع فی مدافعۃ العدو ) ۔ جہاد کا مطلب ہے، انتہائی قوت سے حملہ آور دشمن کی مدافعت کرنا۔ اصطلاح شریعت میں جہاد کا مفہوم ہے۔ کفار کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ میں اپنی طاقت خرچ کرنا بایں طور کہ خواہ اپنی جان کو پیش کیا جائے یا اپنے مال کے ذریعہ مدد کی جائے اور خواہ اپنی عقل و تدبیر (یعنی اپنی رائے اور مشوروں کا) تعاون دیا جائے یا محض اسلامی لشکر میں شامل ہو کر اس کی نفری میں اضافہ کیا جائے اور یا ان کے علاوہ کسی بھی طریقے سے دشمنان اسلام کے مقابلے میں اسلامی لشکر کی معاونت و حمایت کی جائے۔ جہاد کا نصب العین جہاد کا نصب العین یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کا بول بالا رہے، اللہ کی اس سر زمین پر اس کا جھنڈا سربلند اور اس کے باغی منکروں کا دعوی سرنگوں رہے۔ جہاد کا حکم جہاد فرض کفایہ ہے۔ اگر نفیر عام (اعلان جنگ) نہ ہو اور اگر نفیر عام ہو بایں طور کہ کفار مسلمانوں کے کسی شہر پر ٹوٹ پڑیں یا اسلامی مملکت کے خلاف جنگ شروع کردیں اور مسلمانوں کی طرف سے جنگ کا عام اعلان کردیا جائے تو اس صورت میں ہر مسلمان پر جہاد فرض عین ہوگا خواہ نفیر کرنے والا (یعنی اعلان جنگ کرنے والا عادل ہو یا فاسق، لہٰذا اس صورت میں دشمنوں کا مقابلہ کرنا جہاد میں شرکت کرنا اس شہر اور اس مملکت کے تمام باشندوں پر واجب ہوگا اور ایسے ہی ان لوگوں پر بھی واجب ہوگا جو اس شہر یا مملکت کے قریب رہتے ہوں بشرطیکہ اس شہر یا مملکت کے رہنے والے اپنے شہر اور اپنے ملک کی حفاظت اور دشمنوں کے مقابلہ کرنے کے لئے کافی نہ ہوں یا وہ اپنی جنگی ودفاعی ذمہ داریوں کو انجام دینے میں کسل وسستی کریں اور گنہگار ہوں چناچہ جس طرح میت کا مسئلہ ہے کہ اس کی تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ پہلے اس کے اہل محلہ پر واجب ہے اگر وہ اس کی انجام دہی سے عاجز ہوں تو پھر یہ چیزیں اس کے شہر والوں پر واجب ہوں گی اسی طرح جہاد کا بھی مسئلہ کہ جس شہر ملک کے مسلمانوں کو کفار اور دشمنان دین کی جارحیت اور جنگی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو اگر وہ اپنے دفاع سے عاجز ہوں اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں کوتاہ یا ناکام رہے ہوں تو اس وقت ان کے پڑوسی شہر و ملک کے مسلمانوں بلکہ ما بین المشرق والمغرب کے تمام مسلمانوں پر واجب ہوگا کہ وہ جہاد میں شریک ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے وقار کا تحفظ اور دشمنان دین کا دعوی سرنگوں کریں۔
3719
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من آمن بالله ورسوله وأقام الصلاة وصام رمضان كان حقا على الله أن يدخله الجنة جاهد في سهل الله أو جلس في أرضه التي ولد فيها . قالوا : أفلا نبشر الناس ؟ قال : إن في الجنة مائة درجة أعدها الله للمجاهدين في سبيل الله ما بين الدرجتين كما بين السماء والأرض فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس فإنه أوسط الجنة وأعلى الجنة وفوقه عرش الرحمن ومنه تفجر أنهار الجنة . رواه البخاري (2/362) 3788 - [ 2 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المجاهد في سبيل الله كمثل الصائم القائم القانت بآيات الله لا يفتر من صيام ولا صلاة حتى يرجع المجاهد في سبيل الله (2/362) 3789 - [ 3 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انتدب الله لمن خرج في سبيله لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلي أن أرجعه بما نال من أجر وغنيمة أو أدخله الجنة
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ذریعہ دنیا میں بھیجی (یعنی شریعت پر ایمان لایا اور نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر (ازراہ فضل و کرم بحسب اپنے وعدے کے) واجب ہے کہ وہ اس شخص کو جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے (اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اور خواہ ہجرت کرے) اور خواہ اپنے وطن وگھر میں جہاں پیدا ہوا بیٹھا رہے (یعنی نہ جہاد کرے اور نہ ہجرت کرے) صحابہ نے سن کر ) عرض کیا کہ کیا لوگوں کو ہم یہ خوشخبری نہ سنا دیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (لیکن جہاد کرنے والے کی یہ فضیلت بھی سن لو کہ) جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے تیار کیا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور ان کے دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔ لہٰذا جب تم اللہ سے (جہاد پر درجہ عالی) مانگو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ (فردوس) اوسط جنت ہے (یعنی جنت کے تمام درجات میں سب سے بہتر و افضل ہے) اور سب سے بلند جنت ہے اور اس کے اوپر عرش ہے (گویا وہ عرش الہٰی کے سایہ میں ہے) اور وہیں سے جنت کی نہریں بہتی ہیں (یعنی چار چیزیں جنت کی اصل ہیں جیسے پانی، دودھ، شراب اور شہد وہ جنت الفردوس ہی سے جاری ہوتی ہیں۔ (بخاری)

تشریح
اس حدیث میں نماز اور روزے کا تو ذکر کیا گیا ہے لیکن حج اور زکوٰۃ کا ذکر نہیں ہے اس کی وجہ اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ یہ دو عبادتیں یعنی نماز اور روزہ دیگر عبادتوں کی نسبت اپنی امتیازی اور برتری شان رکھتی ہیں دوسرے یہ کہ ان دونوں عبادات کا تعلق ہر مسلمان سے ہے کہ وہ سب ہی مسلمانوں پر واجب ہیں جب کہ حج اور زکوٰۃ ایسی عبادتیں ہیں جو ہر مسلمان پر واجب نہیں ہیں بلکہ اسی مسلمان پر واجب ہیں جو مالدار صاحب استطاعت ہو۔ خواہ اپنے گھر و وطن میں بیٹھا رہے۔ اس عبارت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث فتح مکہ کے دن ارشاد فرمائی تھی کیونکہ فتح مکہ کے دن سے پہلے ہجرت ہر مؤمن پر فرض تھی۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ روزہ رکھنے والا (نماز اور طاعت و عبادات میں) منہمک رہنے والا اور اللہ کی آیتوں یعنی قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا جو روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے (یعنی عبادات میں منہمک رہنے) سے کبھی نہیں تھکتا، یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا اپنے گھر واپس آجائے۔ (بخاری، ومسلم) تشریح جب مجاہد اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے اور پھر جہاد کر کے گھر واپس آتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس دوران میں وہ ہمہ وقت جہاد میں مصروف نہیں رہتا بلکہ اس کے اوقات کا کچھ حصہ جہاد میں گزرتا ہے کہ جن میں وہ کھاتا پیتا بھی ہے اور سوتا لیٹتا بھی ہے اور ایسے ہی دوسرے کاموں میں بھی وقت گذارتا ہے مگر اس کے باوجود اس کو یہ درجہ عطا کیا گیا ہے کہ گویا وہ کبھی بھی اور کسی وقت بھی عبادت سے خالی نہیں رہتا۔ چناچہ ہر حرکت و سکون پر اور ہر عیش و آرام پر اس کے نامہ اعمال میں ثواب ہی لکھا جاتا ہے۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لئے نکلا اللہ تعالیٰ اس کا ضامن ہوگیا، اس کو (جہاد کے لئے) مجھ پر اس کے ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے علاوہ اور کسی نے نہیں نکالا ( یعنی اس کا جہاد میں جانا دکھاوے سنانے کے لئے یا دنیا میں کسی طلب و خواہش کے پیش نظر نہیں بلکہ وہ محض میری رضا و خوشنودی طلب کرنے کے لئے نکلا ہے) تو میں اس کو (یا تو بغیر غنیمت کے محض) آخرت کے اجر وثواب کے ساتھ یا مال غنیمت کے ساتھ واپس کروں گا اور یا (اگر شہید ہوگیا تو) میں اس کو (بغیر حساب و عذاب کے سب سے پہلے جنت میں جانے والوں کے ساتھ جنت میں داخل کروں گا (یا اس کی موت کے بعد ہی قیامت کے دن سے بھی پہلے جنت میں داخل کروں گا جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں ان کو مردہ خیال نہ کرو بلکہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ ( بخاری ومسلم)
3720
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفسي بيده لولا أن رجالا من المسلمين لا تطيب أنفسهم أن يتخلفوا عني ولا أجد ما أحملهم عليه ما تخلفت عن سرية تغزو في سبيل الله والذي نفسي بيده لوددت أن أقتل في سبيل الله ثم أحيى ثم أقتل ثم أحيى ثم أقتل ثم أحيى ثم أقتل
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر مجھے یہ خوف ولحاظ نہ ہوتا کہ بہت سے (وہ) مسلمان (جو مفلس ونادار ہیں) اپنے بارے میں اس بات سے خوش نہیں ہونگے کہ وہ مجھ سے پیچھے اور مجھ سے جدا رہیں اور مجھے ایسی سواری میسر نہیں ہے جس پر ان سب کو سوار کر دوں تو میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر لشکر سے پیچھے نہ رہتا ! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میری خواہش و تمنا تو یہی ہے کہ میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر مارا جاؤں (یعنی باربار زندہ کیا جاؤں اور بار بار مارا جاؤں تاکہ ہر بار نیا ثواب پاؤں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس ارشاد گرامی سے جہاں آنحضرت ﷺ کی بےپناہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت کا اظہار ہوتا ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ میں کفار سے جتنی بھی جنگیں ہوئیں آپ چند کے علاوہ اور سب میں بنفس نفیس شریک کیوں نہ ہوئے۔ چناچہ آپ نے اس کی علت بیان فرمائی کہ میں کفار سے جنگ کرنے کے لئے جانے والے ہر لشکر اور ہر فوج میں اس لئے شریک نہیں ہوتا کہ اگر میں جنگ میں شریک ہونے کے لئے ہر لشکر کے ہمراہ جاؤں تو یقینًا وہ بہت سے مسلمان جو نادار اور بےسروسامان ہونے کی وجہ سے اپنی سواری نہیں رکھتے جنگ میں شریک ہونے سے محروم بھی رہ جائیں گے اور میری جدائی کا غم بھی اٹھائیں گے۔ اور خود میں اتنی سواریوں کا انتظام کرنے پر قادر نہیں ہوں کہ ان پر سب مسلمانوں کو سوار کر کے اپنے ہمراہ لے جاؤں، اس لئے اگر مجھے یہ لحاظ نہ ہو کہ بہت سے مسلمان جنگ میں شریک ہونے سے محروم رہ جانے اور پھر مجھ سے جدا ہوجانے کی وجہ سے افسردہ دل اور شکستہ خاطر ہوں گے اور وہ اس کا بہت زیادہ غم محسوس کریں گے تو میرے اندر جہاد کا جذبہ اور اللہ کی راہ میں شہید ہوجانے کا شوق اتنا زیادہ ہے کہ میں کسی بھی لشکر کے ہمراہ جانے سے باز نہیں رہنا چاہتا اور اس بات کو بہت زیادہ پسند کرتا ہوں کہ میں بار بار زندہ کیا جاؤں اور ہر بار اللہ کی راہ میں مارا جاؤں۔
3721
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها (2/363) 3792 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لغدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها
اور حضرت سہل ابن سعد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
یا تو یہ مطلب ہے کہ جہاد میں ایک دن کی لئے بھی چوکیداری جیسی معمولی خدمت کو انجام دینا اس مال سے بہتر ہے جو اللہ کے نام پر خرچ کیا جائے، یا یہ مطلب ہے کہ جہاد میں محض ایک دن کی چوکیداری کے عوض جو اجر ملے گا وہ دنیا کی چیزوں سے کہیں زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک صبح کے لئے ایک شام کے لئے اللہ کی راہ میں شرکت جہاد کی غرض سے) دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محض ایک صبح کے لئے ایک شام کے لئے بھی جہاد میں شریک ہوا تو اس پر اس کو جو اجر ملے گا اور اس کی جو فضیلت حاصل ہوگی وہ دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی تمام نعمتیں فنا ہوجانے والی ہیں اور آخرت کی نعمت باقی رہنے والی ہے۔
3722
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سلمان الفارسي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : رباط يوم وليلة في سبيل الله خير من صيام شهر وقيامه وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يعمله وأجري عليه رزقه وأمن الفتان . رواه مسلم
اور حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جہاد میں ایک دن اور ایک رات کی چوکیداری کی خدمت انجام دینا ایک مہینے کے روزے اور شب بیداری سے بہتر ہے اور اگر وہ چوکیدار (اس خدمت کی انجام دہی کے دوران) مرجائے تو اس کے اس عمل کا ثواب کہ جس پر وہ (اپنی زندگی میں) عامل تھا جاری رہتا ہے (یعنی اپنی زندگی میں وہ جس نیک عمل پر عامل تھا اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہے گا) اور اس کے لئے (جنت کے طعام و شراب سے اس کا رزق کردیا جاتا ہے اور وہ شیطان یا دجال کے مکروفریب اور قبر میں عذاب کے فرشتے کے) فتنے سے محفوظ رہتا ہے۔ ( مسلم)
3723
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي عبس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما اغبرت قدما عبد في سبيل الله فتمسه النار . رواه البخاري
اور حضرت ابوعبس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس بندے کے پاؤں اللہ کی راہ (یعنی جہاد میں) گرد آلود ہوجاتے ہیں تو پھر اس کو (دوزخ کی آگ نہیں چھوتی۔ (بخاری)

تشریح
یہ ارشاد گرامی دراصل راہ جہاد میں سعی ومشقت کے اظہار کا کنایۃ پیرایہ بیان ہے اس بات کو زیادہ سے زیادہ بیان کرتا ہے کہ جب جہاد کے راستے میں محض قدموں کا گرد آلود ہوجانا دوزخ کی آگ سے حفاظت کا ضامن ہے تو نفس جہاد کے ثواب اور اس شخص کی فضیلت کا کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو راہ جہاد کی مشقتیں برداشت کرتا ہوا میدان جنگ میں پہنچے اور جہاد میں شریک ہو۔
3724
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يجتمع كافر وقاتله في النار أبدا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کافر اور اس کو مارنے والا (مسلمان) کبھی بھی دوزخ میں ایک جا نہیں ہوسکتا۔ (مسلم)

تشریح
اس حدیث میں بطور خاص اس مسلمان کے لئے بشارت ہے جو جہاد میں کسی کافر کو مارے کہ وہ (مسلمان) ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا۔ اور حقیقت میں یہ ارشاد گرامی جہاد کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے جو مسلمان جہاد میں شریک ہوگا وہ غالبًا کسی کافر کو مارے گا اور جب کافر کو مارے گا تو وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا اگرچہ اس کی جزاء بھی جنت ہے جو جہاد میں شریک ہوا اور اس میں پوری جدوجہد کرے لیکن کسی کافر کو قتل نہ کرسکے۔
3725
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعة طار عليه يبتغي القتل والموت مظانه أو رجل في غنيمة في رأس شعفة من هذه الشعف أو بطن واد من هذه الأودية يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعبد الله حتى يأتيه اليقين ليس من الناس إلا في خير . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسانی زندگی میں بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لے اور جب کسی کی خوفزدہ آواز یا کسی کے فریاد کرنے کی آواز سنے تو عجلت کے ساتھ گھوڑے کی پشت پر سوار ہوجائے اور (اس خوفزدہ یا فریاد رس کی آواز کی طرف دوڑتا ہوا چلا جائے اور اپنی موت کو یا اس جگہ کو تلاش کرتا پھرے جہاں موت کا گمان ہو (یعنی جب وہ کسی کی خوفزدہ چیخ و پکار یا فریاد و مدد چاہنے والے کی آواز سنے تو عجلت کے ساتھ چل پڑے اور اس آواز کو تلاش کرتا پھرے تاکہ موقع پر پہنچ کر فریاد کرنے والے کی مدد کرے اور اس بات سے نہ ڈرے کہ کہیں میری جان پر نہ بن جائے اور مجھے اپنی سی زندگی سے ہاتھ نہ دھونا پڑے یا بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو کچھ بکریوں کے ساتھ ان پہاڑوں میں سے کسی ایک پہاڑ کی چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی ایک وادی میں اقامت گزین ہے اور نماز پڑہتا ہے اور اگر وہ بکریاں حدنصاب کو پہنچتی ہیں تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور پروردگار کی عبادت و بندگی میں مشغول رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت آجائے اور یہ شخص انسانوں کا شریک نہیں ہے بلکہ صرف بھلائی کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے۔ (مسلم)

تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص دنیا والوں سے الگ تھلگ رہ کر ان کی برائیوں اور ان کے فتنہ و شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتا ہے اور اپنے فتنہ وشر سے دنیا والوں کو بچاتا ہے۔ اس حدیث کا حاصل دراصل دشمنان دین کے مقابلہ پر جہاد اپنے نفس و شیطان سے مجاہدہ اور دنیا کی فانی لذتوں اور نفس کی باطل خواہشات وشہوات سے اجتناب کی طرف راغب کرتا ہے نیز اس بات کی آگاہی دیتا ہے کہ اگر دین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لئے لوگوں کے درمیان رہن سہن اختیار کرے تو بہتر ہے ورنہ (اگر دنیا والوں کے درمیان رہنے سہنے سے دین و شریعت کو نقصان پہنچنے اور ایمان کے کمزور ہوجانے کا خوف ہو) تو گوشہ عافیت اختیار کرے۔
3726
Mishkaat Shareef
صحیح
امام نووی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کے مسلک کی دلیل ہے جو مخالطت (یعنی دنیا والوں کے درمیان رہن سہن پر گوشہ گزینی کو فضیلت دیتے ہیں۔ چناچہ اس سلسلہ میں مشہور اختلافی اقوال یہ ہیں کہ حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کے نزدیک اختلاط (یعنی دنیا والوں کے درمیان رہنا سہنا) افضل ہے بشرطیکہ (دین میں) فتنہ فساد سے محفوظ ومامون رہنے کی امید ہو جب کہ زاہد ان طریقت کی ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ دنیا والوں سے کنارہ کشی کر کے گوشہ گزینی اختیار کرنا افضل ہے۔ انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث یا تو فتنوں سے بھرپور زمانہ پر محمول ہے۔ یا اس کے علاوہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو لوگوں کی ایذاء پر صبر نہ کرسکتا ہو یا لوگ خود اس کی وجہ سے سلامت نہ رہتے ہوں پھر ان کی سب سے بڑی دلیل یہ کہ انبیاء صلوات اللہ علیہم اکثر صحابہ کرام، تابعین عظام، علماء ومشائخ اور زاہد ان کی طریقت کا معمول یہی رہا ہے کہ انہوں نے دنیا سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی سے احتراز کر کے اسی دنیا میں اور اسی دنیا والوں کے درمیان رہن سہن کو اختیار کیا اور اس کے ذریعہ وہ بہت سارے دینی فوائد حاصل کرتے رہے جو گوشہ گزینی کی صورت میں ناممکن الحصول تھے جیسے نماز جمعہ و جماعت نماز جنازہ اور عیادت مریض وغیرہ وغیرہ۔
3727
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن زيد بن خالد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في أهله فقد غزا
اور حضرت زید ابن خالد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان درست کیا اس نے (گویا) جہاد (ہی) کیا (یعنی وہ بھی جہاد کرنے والوں کے حکم میں داخل ہے اور جہاد کے ثواب میں شریک ہے) اور جو شخص کسی غازی و مجاہد کا اس کے اہل و عیال کے لئے نائب و خلیفہ بنا (یعنی جو شخص کسی غازی و مجاہد کے جہاد میں چلے جانے کے بعد اس کے اہل و عیال کا خدمت گزار ہوا اور نگہبان بنا اس نے بھی گویا جہاد ہی کیا۔ ( بخاری ومسلم )