Mishkaat Shareef
160. ڈرانے اور نصیحت کرنے کا بیان
مشكاة المصابيح
5255
Mishkaat Shareefتغیر کا معنی ہیں بدل جانا۔ یعنی ایک حالت کو چھوڑ کر دوسری حالت اختیار کرلینا۔ یہاں لوگوں میں تغیر وتبدل ہوجانے سے مراد مسلمانوں کی اس حالت کا بدل جانا ہے جو حضور ﷺ کے زمانے میں تھی، چناچہ حضور ﷺ کے زمانے میں اہل ایمان کی حالت یہ تھی کہ وہ دین کے راستہ پر سختی سے قائم تھے، احکام سنت کا احترام تھا حق کے پیرو تھے دنیا سے بےرغبت تھے، دنیا کی چمک دمک یعنی مال و دولت، حشم وخدم اور جاہ ومنصب نے ان کے اندر حرص و لالچ اور غرور وتکبر کے جراثیم پیدا نہیں کئے تھے شریعت کے پسندیدہ اعمال، اچھے خصائل واطوار، بلند کرداری اور حسن اخلاق ان کی عادت ثانیہ تھی حق کی راہ میں سینہ سپر رہتے تھے، دل کی نورانیت اور باطن کی صفائی و پاکیزگی کے جوہر سے متصف تھے۔ لیکن حضور ﷺ کے بعد جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا لوگوں کے ان حالات میں تبدیلی آتی گئی یہاں تک کہ آخر زمانے میں ان کے حالات، معاملات بالکل برعکس ہوجائیں گے۔
5256
Mishkaat Shareefعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما الناس كالإبل المائة لا تكاد تجد فيها راحلة . متفق عليه . ( متفق عليه )
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ آدمی اختلاف حالات اور تغیر صفات کے اعتبار سے ان سو اونٹوں کے مانند ہے جن میں سے تم ایک ہی کو سواری کے قابل پاسکتے ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
راحلۃ اس اونٹ کو کہتے ہیں جو تندرست و توانا ہوتا ہے اور سواری وباربرداری کے کام کے لئے بہت اچھا اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لفظ میں حرف ۃ اظہار مبالغہ کے لئے ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی تو بہت ہیں جیسے اونٹ بہت ہوتے ہیں، لیکن جس طرح اونٹوں میں سے سواری اور باربرداری کے قابل چند ہی اونٹ نکلتے ہیں اسی طرح کام کے آدمی کہ جو نبی ﷺ کی صحبت و دریافت کے قابل ہوں اور صحبت دریافت کا حق ادا کرسکیں اور ان کے نیک مقصد میں ان کے معین و مددگار ثابت ہو سکیں، بہت کم ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کا زمانہ اس اعتبار سے سب سے بہتر زمانہ تھا کہ اس میں کام کے لوگ زیادہ تھے پھر بعد کے زمانہ میں اگرچہ پہلے زمانہ کی بہ نسبت ایسے لوگوں کی تعداد کم تھی لیکن آنے والے زمانہ کے اعتبار سے وہ تعداد یقینا زیادہ تھی اور پھر اس کے بعد کے زمانہ میں ایسے لوگوں کی تعداد اگرچہ دوسرے زمانے کی تعداد سے بھی کم تھی لیکن آنے والے زمانوں کے اعتبار سے یقینا بہت زیادہ تھی۔ حدیث سو کا جو عدد ذکر فرمایا گیا ہے وہ تحدید وتعین کے لئے نہیں ہے بلکہ اظہار کثرت کے لئے ہے حاصل یہ کہ لوگوں کے جنگل میں ایسی ہستی کا وجود کہ جس پر مخلص عالم باعمل کا اطلاق کیا جاسکے کیمیا کی طرح نایاب ہوتا ہے، اسی لئے ہر زمانہ کے ارباب حال یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ زمانہ قحط الرجال کا ہے۔ حضرت سہل تستری کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک دن جب مسجد میں لوگوں کو اس کثرت کے ساتھ دیکھا کہ مسجد اندر اور باہر سے بھری ہوئی تھی تو فرمایا کہ کلمہ گو یقینا بہت ہیں لیکن ان میں مخلص لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس مفہوم کو اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں کئی موقعوں پر بیان فرمایا ہے۔
تشریح
راحلۃ اس اونٹ کو کہتے ہیں جو تندرست و توانا ہوتا ہے اور سواری وباربرداری کے کام کے لئے بہت اچھا اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لفظ میں حرف ۃ اظہار مبالغہ کے لئے ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی تو بہت ہیں جیسے اونٹ بہت ہوتے ہیں، لیکن جس طرح اونٹوں میں سے سواری اور باربرداری کے قابل چند ہی اونٹ نکلتے ہیں اسی طرح کام کے آدمی کہ جو نبی ﷺ کی صحبت و دریافت کے قابل ہوں اور صحبت دریافت کا حق ادا کرسکیں اور ان کے نیک مقصد میں ان کے معین و مددگار ثابت ہو سکیں، بہت کم ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کا زمانہ اس اعتبار سے سب سے بہتر زمانہ تھا کہ اس میں کام کے لوگ زیادہ تھے پھر بعد کے زمانہ میں اگرچہ پہلے زمانہ کی بہ نسبت ایسے لوگوں کی تعداد کم تھی لیکن آنے والے زمانہ کے اعتبار سے وہ تعداد یقینا زیادہ تھی اور پھر اس کے بعد کے زمانہ میں ایسے لوگوں کی تعداد اگرچہ دوسرے زمانے کی تعداد سے بھی کم تھی لیکن آنے والے زمانوں کے اعتبار سے یقینا بہت زیادہ تھی۔ حدیث سو کا جو عدد ذکر فرمایا گیا ہے وہ تحدید وتعین کے لئے نہیں ہے بلکہ اظہار کثرت کے لئے ہے حاصل یہ کہ لوگوں کے جنگل میں ایسی ہستی کا وجود کہ جس پر مخلص عالم باعمل کا اطلاق کیا جاسکے کیمیا کی طرح نایاب ہوتا ہے، اسی لئے ہر زمانہ کے ارباب حال یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ زمانہ قحط الرجال کا ہے۔ حضرت سہل تستری کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک دن جب مسجد میں لوگوں کو اس کثرت کے ساتھ دیکھا کہ مسجد اندر اور باہر سے بھری ہوئی تھی تو فرمایا کہ کلمہ گو یقینا بہت ہیں لیکن ان میں مخلص لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس مفہوم کو اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں کئی موقعوں پر بیان فرمایا ہے۔
5257
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لتتبعن سنن من قبلكم شبرا بشبر وذراعا بذراع حتى لو دخلوا جحر ضب تبعتموهم . قيل يا رسول الله اليهود والنصارى ؟ قال فمن . متفق عليه .
حضرت ابوسعید (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقینا آنے والے زمانوں میں تم بالشت، بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ان لوگوں کے طور و طریق کو اختیار کرو گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ یعنی سوسمار کے بل میں بیٹھیں گے (جو بہت تنگ اور برا ہوتا ہے) تو تم اس میں بھی ان کی پیروی کرو گے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ لوگ کہ جو پہلے گزر چکے ہیں اور جن کے طور طریقوں کو ہم اختیار کریں گے کیا وہ یہود و نصاری ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اگر وہ یہود و نصاری نہیں ہیں تو اور کون ہیں ؟ یعنی تم سے پہلے گزرے ہوئے جن لوگوں کی طرف میں اشارہ کیا ہے ان سے مراد یہود و نصاری ہی ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سنن سنت کی جمع ہے جس کے معنی طور اور طریقے کے ہیں، خواہ نیک طریقہ ہو یا برا طریقہ، یہاں اس لفظ سے ان خواہش پرست اور دین کو مسخ کردینے والے لوگوں کا طور طریقہ ہے جنہوں نے اپنے نبی اور پیغمبر کے گزر جانے کے بعد اپنی نفسانی خواہشات اور جھوٹی اغراض کے تحت اپنے دین تک کو بدل ڈالا اور ان کا نبی و پیغمبران کے پاس اللہ کی جو کتاب چھوڑ کر گیا تھا اس میں انہوں نے تحریف کر ڈالی اور ان کے احکام مسائل میں کانٹ چھانٹ کردی۔ بعض نسخوں میں یہ لفظ سین کے زبر کے ساتھ ہے۔ بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر کا مطلب ہے وبجمیع وجوہ ہر کام و معاملہ میں ان کی اتباع و پیروی کرنا اور ان کے تمام طور طریقوں کو اختیار کرلینا۔
تشریح
سنن سنت کی جمع ہے جس کے معنی طور اور طریقے کے ہیں، خواہ نیک طریقہ ہو یا برا طریقہ، یہاں اس لفظ سے ان خواہش پرست اور دین کو مسخ کردینے والے لوگوں کا طور طریقہ ہے جنہوں نے اپنے نبی اور پیغمبر کے گزر جانے کے بعد اپنی نفسانی خواہشات اور جھوٹی اغراض کے تحت اپنے دین تک کو بدل ڈالا اور ان کا نبی و پیغمبران کے پاس اللہ کی جو کتاب چھوڑ کر گیا تھا اس میں انہوں نے تحریف کر ڈالی اور ان کے احکام مسائل میں کانٹ چھانٹ کردی۔ بعض نسخوں میں یہ لفظ سین کے زبر کے ساتھ ہے۔ بالشت بالشت کے برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر کا مطلب ہے وبجمیع وجوہ ہر کام و معاملہ میں ان کی اتباع و پیروی کرنا اور ان کے تمام طور طریقوں کو اختیار کرلینا۔
5258
Mishkaat Shareefوعن مرداس الأسلمي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يذهب الصالحون الأول فالأول وتبقى حفالة كحفالة الشعير أو التمر لا يباليهم الله بالة . رواه البخاري .
حضرت مرد اس اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ نیک بخت و صالح لوگ یکے بعد دیگرے اس دنیا سے گزرتے رہیں گے اور بدکار و ناکارہ لوگ جو یا کھجور کی بھوسی کی طرح باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی (یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے لوگوں کی کوئی قدر و منزلت نہیں اور ان کے وجود کا کوئی اعتبار نہیں) ۔ (بخاری)
5259
Mishkaat Shareefعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا مشت أمتي المطيطاء وخدمتهم أبناء الملوك أبناء فارس والروم سلط الله شرارها على خيارها . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب .
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب میری امت کے لوگ تکبر کی چال چلنے لگیں گے اور بادشاہوں کے بیٹے کہ جو فارس و روم کے شہزاداے ہوں گے، ان کی خدمت کریں گے (بایں طور کہ اللہ تعالیٰ اہل فارس و روم کے علاقوں اور شہروں کو مسلمانوں کے زیر نگیں کر دے گا اور وہ فتوحات حاصل کریں گے تو اس کے نتیجے میں ان علاقوں اور شہروں کے نہ صرف عام آدمی بلکہ بادشاہ وشہزادے بھی قیدی بنائے جائیں گے اور مسلمان ان سب کو بطور غلام اپنی خدمت پر مامور کریں گے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ امت کے برے لوگوں کو بھلے لوگوں پر یعنی ظالموں کو مظلوموں پر مسلط کر دے گا۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے اس حدیث کے ذریعے ایک ایسی بات کی خبر دی جو آئندہ زمانہ میں وقوع پذیر ہونے والی تھی اور آپ ﷺ نے بطور پیشگوئی جو بات فرمائی وہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی، چناچہ یہ بات اسلامی تاریخ کی ایک عین حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے فارس و روم کے علاقے فتح کر لئے وہاں کی بیشمار دولت مال غنیمت کے طور پر حاصل کی، ان علاقوں اور شہروں کے لوگوں کو قیدی بنایا اور بادشاہوں کی اولادوں تک کو غلام بنا کر ان سے خدمت وچاکری کرائی اور اس طرح سے ان کے اندر جب بڑائی کا احساس پیدا ہوگیا اور اخلاص کی جگہ جاہ ومنصب اور مال و دولت کی محبت نے لے لی تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ان لوگوں کا عذاب مسلط کردیا۔ جنہوں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو قتل کیا تھا، یہاں تک کہ بنی ہاشم جو کل تک مسلمانوں کی قیادت وسیادت کے امین سمجھے جاتے تھے اور جن کی خلافت وحکمرانی تمام عالم اسلام پر قائم تھی ان پر بنو امیہ کو مسلط کردیا اور بنو امیہ نے جو کچھ کیا وہ اسلامی تاریخ کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو یہاں بیان نہ کرنا ہی مناسب ہے۔ مطیطاء کے معنی ہیں دونوں ہاتھ پھیلا کر اتراتے ہوئے (یعنی مغرورانہ چال چلنا۔ اسی سے مط ہے جس کے معنی از راہ نخوت وتکبر ناک بھوں سکیڑنے اور ابرو چڑھانے کے ہیں۔ لغت کی مشہور کتابوں قاموس صحاح اور صراح نیز مشکوۃ کے صحیح نسخوں میں لفظ اسی طرح ہے لیکن مجمع البحار اور اس کتاب کے بعض حواشی میں لکھا ہے کہ یہ لفظ دوسری ط کے بعد بھی ی کے ساتھ منقول ہے جو محذوف ہے یعنی مطیطا کے جائے مطیطی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ میں دوسرے ط کے بعد بھی حرف ی ہے بلکہ ایک معنی میں ہی رائج ہے۔
تشریح
یہ حدیث آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے اس حدیث کے ذریعے ایک ایسی بات کی خبر دی جو آئندہ زمانہ میں وقوع پذیر ہونے والی تھی اور آپ ﷺ نے بطور پیشگوئی جو بات فرمائی وہ حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی، چناچہ یہ بات اسلامی تاریخ کی ایک عین حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے فارس و روم کے علاقے فتح کر لئے وہاں کی بیشمار دولت مال غنیمت کے طور پر حاصل کی، ان علاقوں اور شہروں کے لوگوں کو قیدی بنایا اور بادشاہوں کی اولادوں تک کو غلام بنا کر ان سے خدمت وچاکری کرائی اور اس طرح سے ان کے اندر جب بڑائی کا احساس پیدا ہوگیا اور اخلاص کی جگہ جاہ ومنصب اور مال و دولت کی محبت نے لے لی تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ان لوگوں کا عذاب مسلط کردیا۔ جنہوں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو قتل کیا تھا، یہاں تک کہ بنی ہاشم جو کل تک مسلمانوں کی قیادت وسیادت کے امین سمجھے جاتے تھے اور جن کی خلافت وحکمرانی تمام عالم اسلام پر قائم تھی ان پر بنو امیہ کو مسلط کردیا اور بنو امیہ نے جو کچھ کیا وہ اسلامی تاریخ کی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو یہاں بیان نہ کرنا ہی مناسب ہے۔ مطیطاء کے معنی ہیں دونوں ہاتھ پھیلا کر اتراتے ہوئے (یعنی مغرورانہ چال چلنا۔ اسی سے مط ہے جس کے معنی از راہ نخوت وتکبر ناک بھوں سکیڑنے اور ابرو چڑھانے کے ہیں۔ لغت کی مشہور کتابوں قاموس صحاح اور صراح نیز مشکوۃ کے صحیح نسخوں میں لفظ اسی طرح ہے لیکن مجمع البحار اور اس کتاب کے بعض حواشی میں لکھا ہے کہ یہ لفظ دوسری ط کے بعد بھی ی کے ساتھ منقول ہے جو محذوف ہے یعنی مطیطا کے جائے مطیطی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس لفظ میں دوسرے ط کے بعد بھی حرف ی ہے بلکہ ایک معنی میں ہی رائج ہے۔
5260
Mishkaat Shareefوعن حذيفة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تقوم الساعة حتى تقتلوا إمامكم وتجتلدوا بأسيافكم ويرث دنياكم شراركم . رواه الترمذي .
حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تم مسلمان اپنے خلیفہ یا سلطان وحکمران کو قتل کردو گے تمہاری تلواریں آپس ہی میں ایک دوسرے کی گردن اڑائیں گی اور یہاں تک کہ تمہاری دنیا کے وارثو والی، مکار لوگ ہوجائیں گے (یعنی سلطنت وحکمران ظالموں کے پاس پہنچ جائے گی اور مخلوق اللہ کی زمام کار اور اقتدار کی باگ دوڑ بدکاروں اور فاسقوں کے ہاتھ میں آجائے گی تو اس وقت قیامت قائم ہوجائے گی۔ (ترمذی)
5261
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تقوم الساعة حتى يكون أسعد الناس بالدنيا لكع بن لكع . رواه الترمذي والبيهقي في دلائل النبوة .
حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک کہ دنیا میں کثرت مال و زر اور اقتدار وحکمرانی کے اعتبار سے سب سے زیادہ نصیبہ ور وہ شخص نہ بن جائے گا جو احمق ہے اور احمق کا بیٹا ہے (یعنی جب دنیا میں بداصل اور بدسیرت اور بدکار لوگ سب سے زیادہ حکومت و اقتدار اور مال دولت کے مالک بن جائیں گے تو سمجھو کہ قیامت بس آنے ہی والی ہے) اس روایت کو ترمذی نے اور کتاب دلائل النبوۃ میں بیہقی نے نقل کیا ہے۔
5262
Mishkaat Shareefوعن محمد بن كعب القرظي قال حدثني من سمع علي بن أبي طالب قال إنا لجلوس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فاطلع علينا مصعب بن عمير ما عليه إلا بردة له مرقوعة بفرو فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم بكى للذي كان فيه من النعمة والذي هو فيه اليوم ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف بكم إذا غدا أحدكم في حلة وراح في حلة ؟ ووضعت بين يديه صحفة ورفعت أخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة ؟ . فقالوا يا رسول الله نحن يومئذ خير منا اليوم نتفرغ للعبادة ونكفى المؤنة . قال لا أنتم اليوم خير منكم يومئذ . رواه الترمذي .
حضرت محمد بن کعب قرظی (رح) کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی جس نے حضرت علی (رض) سے اس کو سنا تھا (چنانچہ اس شخص نے بیان کیا کہ) حضرت علی (رض) نے فرمایا۔ ایک دن ہم لوگ رسول کریم ﷺ کے ساتھ مسجد میں (یعنی مسجد نبوی یا مسجد قبا میں) بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب ابن عمیر (رض) بھی وہاں آگئے اس وقت ان کے بدن پر صرف ایک چادر تھی اور اس چادر میں بھی چمڑے کے پیوند لگے ہوئے تھے رسول کریم ﷺ نے ان کو دیکھا تو رو پڑے کہ ایک زمانہ وہ تھا جب مصعب اس قدر خوشحال اور آرام و راحت کی زندگی گزارتے تھے اور آج ان کی کیا ٹوٹی پھوٹی حالت ہے۔ پھر رسول کریم ﷺ نے اظہار تعجب و حسرت کے طور پر فرمایا۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم میں کوئی شخص صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے گا اور پھر شام کو دوسرا جوڑا پہن کر نکلے گا، تمہارے سامنے کھانے کا ایک بڑا پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردہ ڈالو گے جس طرح کعبہ پر پردہ ڈالا جاتا ہے (یعنی حضور نے اس ارشاد کے ذریعے آنے والے زمانہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جب تم پر خوشحالی وترفہ کا دور آئے گا، اللہ تعالیٰ دنیا کے خزانوں کی کنجیاں تمہارے قدموں میں ڈال دے گا، تمہارے گھروں میں مال و اسباب کی فراوانی ہوگی تو تم دن میں کئی کئی مرتبہ جوڑے بدلو گے، صبح کا لباس الگ ہوگا، شام کا الگ، تمہارے دستر خوان انواع و اقسام کے کھانوں اور لذیذ و مرغوب اشیاء سے بھرے ہوں گے، تمہارے مکان راحت و آسائش اور آراستگی و زیبائش کی چیزوں سے پر رونق ہوں گے اور گویا تمہاری زندگی عیش و عشرت کا گہوارہ اور اسراف و تنعم کی آئینہ دار ہوجائے گی۔ تو بتاؤ اس وقت تمہارے دل کی کیا حالت ہوگی اور تم کیا محسوس کرو گے ؟ بعض صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم اس دن جب کہ خوشحالی وترفہ کی نعمت سے بہرہ مند ہوں گے آج کے دن سے (جب کہ ہم فقر و افلاس کی گرفت میں ہیں) بہتر حال میں ہوں گے۔ کیونکہ اس وقت ہم عبادت کے لئے اپنی معاشی جدوجہد کی الجھنوں اور حصول رزق کے فکر سے آزاد و فارغ ہوں گے اور ہمیں محنت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی (یعنی جب اس وقت ہمیں معاشی واقتصادی طور پر خوشحالی حاصل ہوگی اور نوکر چاکر ہمارے سارے کام کاج کریں گے تو ہم ذہنی و جسمانی طور پر پوری طرح بےفکر وآزاد ہوں گے اور اس صورت میں طاعت و عبادت اور دینی خدمت میں پوری دل جمعی اور سکون کے ساتھ منہمک رہ سکیں گے۔ حضور ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ ایسا نہیں ہے کہ اس وقت تم بہتر ہوگے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اس دن کی نسبت آج کے دن زیادہ بہتر ہو۔ (ترمذی)
تشریح
سیوطی (رح) نے جمع الجوامع میں حضرت عمر (رض) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک دن مصعب بن عمیر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت انہوں نے بکری کے چمڑے کا ایک تسمہ اپنی کمر کے گرد باندھ رکھا تھا، حضور ﷺ نے ان کو دیکھا تو (حاضرین مجلس سے) فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے منور کردیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ میں نے اس کے بدن پر ایک ایسا لباس دیکھا ہے جو دو سو درہم کے عوض خریدا گیا تھا، (یعنی یہ وہ شخص ہے جو اپنی پچھلی زندگی میں نہایت عیش و عشرت اور راحت وتنعم کی زندگی گزارتا تھا۔ لیکن اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت نے اس کو ایسی حالت پر پہنچا دیا ہے، جس میں تم اس کو اب دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی بےانتہا رحمتیں ہوں اس جلیل القدر ہستی پر جس کا نام مصعب بن عمیر ہے، قریش الاصل ہیں بڑے اونچے درجے کے صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے، مکہ سے ہجرت کی، گھر بار چھوڑا، دنیا کی ساری نعمتوں اور راحتوں کو ٹھکرا دیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں مدینہ آگئے جیسا کہ خود حضور ﷺ نے شہادت دی ہے یہ اپنے اسلام سے پہلے کے زمانے میں مکہ کے بڑے مالداروں میں شمار ہوتے تھے، نہایت خوش لباس وخوش طعام تھے، اچھے سے اچھا پہنتے اور اچھے سے اچھا کھاتے تھے، لیکن جب مسلمان ہوگئے تو سارے عیش وتنعم پر لات ماردی، اللہ اور اس کے رسول کے عشق میں ایسے رنگ گئے کہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے نفرت کرنے لگے، زہد اختیار کرلیا، یہاں تک کہ غزوہ احد کے موقع پر جام شہادت نوش کر کے واصل بحق ہوگئے، شہادت کے وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی۔ حدیث سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت مصعب (رض) کو دیکھ کر حضور ﷺ کا رو پڑنا، ان کی خستہ حالی کے تئیں رحم و شفقت کے جذبات کے تحت تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو کبھی اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا تھا، عیش و راحت کی زندگی گزارتا تھا اور اب اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ بدن پر صرف ایک پیوند لگی چادر لپیٹے اپنا وقت گزار رہا ہے۔ لیکن یہ بات اس واقعہ کے منافی معلوم ہوتی ہے جس کا ذکر پیچھے بھی ایک روایت میں گزر چکا ہے کہ ایک دن حضرت عمر (رض) جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو کھردری چارپائی پر لیٹے ہوئے دیکھا جس کے بان کے نشانات آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پڑگئے تھے تو اس وقت رو پڑے انہوں نے آنحضرت ﷺ کی مشقت بھری زندگی کے ساتھ فارس و روم کے بادشاہوں کی زندگی کا مواز نہ کیا۔ جو اللہ کے سرکش و نافرمان اور باغی بندے ہونے کے باوجود عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا تھا کہ تم ابھی تک سوچنے سمجھنے کے اس مقام سے نہیں بڑے ہو، بندہ اللہ ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان بادشاہان دنیا کو بس دنیا کی نعمتیں ملیں اور ہمیں آخرت کی نعمتوں اور سعادتوں سے نوازا جائے ؟ اولیٰ یہ ہے کہ حضرت مصعب (رض) کو دیکھ کر حضور ﷺ کے رونے کو فرط مسرت سے رونے پر محمول کیا جائے کہ اپنی امت کے لوگوں کو دنیا سے زہد اختیار کر کے عقبی کی طرف متوجہ دیکھ کر مارے خوشی کے آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اگر اس رونے کو غم و حسرت ہی پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں یہ کہا جائے گا کہ آپ کا غم دراصل اس بات پر تھا کہ میری امت کے جیسے لوگوں کو ضروریات زندگی کی ایسی چیزیں بھی میسر نہیں ہیں جو دنیا ہی کے لئے ضروری نہیں ہیں بلکہ طاعت و عبادت میں معاون و مددگار بھی ہوتی ہیں جیسے بقدر ضرورت لباس وغیرہ۔ اس تاویل کی تائید حضور ﷺ کے ان الفاظ کیف بکم اذا غدا الخ اور انتم الیوم خیر منکم الخ سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ غریب ومفلس شخص کہ جو ضروریات زندگی کی بقدر کفایت چیزوں کا مالک ہو، غنی و مالدار شخص سے بہتر ہے، چناچہ غنی و مالدار شخص حصول مال و زر کی جدوجہد میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے طاعت و عبادت کے لئے اتنا زیادہ قلبی و جسمانی فراغ و سکون نہیں رکھتا جس قدر کہ وہ غریب ومفلس شخص رکھتا ہے اس اعتبار سے یہ حدیث درحقیقت صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صبر و استقامت اختیار کرنے والا غریب ومفلس شخص شکر گزار مالدار سے زیادہ افضل ہوتا ہے۔ پس صحابہ جیسی ہستیوں کے تعلق سے کہ جو امت کے سب سے زیادہ مضبوط ایمان و عقیدہ اور کردار کے حامل تھے، مالداری کا یہ حال ہے تو غیر صحابہ کے تعلق سے اس کا کیا حال ہوگا، جو ان کی بہ نسبت ایمان و عقیدہ اور کردار وعمل میں کہیں زیادہ ضعیف ہیں۔ اس کی مؤید وہ حدیث بھی ہے جس کو دیلمی نے فردوس میں حضرت ابن عمر (رض) سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ مارویت الدنیا عن احد الاکانت خیرۃ لہ بلکہ ملا علی قاری نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ایک خاص بات یہ کہی ہے کہ عن احد (اسی شخص) کا لفظ عام ہے کہ اس کے مفہوم میں مومن و غیر مومن سب شامل ہیں، لہٰذا دوزخ میں مالدار کافر کی بہ نسبت فقیر ومفلس کافر کا عذاب ہلکا ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جب اس دار فانی میں فقر و افلاس نے کافر کو یہ فائدہ پہنچایا تو اس مومن کو دارالتمرار (آخرت میں) کیسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو دنیا میں اپنے فقر و افلاس پر صابر رہا ہے۔
تشریح
سیوطی (رح) نے جمع الجوامع میں حضرت عمر (رض) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک دن مصعب بن عمیر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت انہوں نے بکری کے چمڑے کا ایک تسمہ اپنی کمر کے گرد باندھ رکھا تھا، حضور ﷺ نے ان کو دیکھا تو (حاضرین مجلس سے) فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے منور کردیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ میں نے اس کے بدن پر ایک ایسا لباس دیکھا ہے جو دو سو درہم کے عوض خریدا گیا تھا، (یعنی یہ وہ شخص ہے جو اپنی پچھلی زندگی میں نہایت عیش و عشرت اور راحت وتنعم کی زندگی گزارتا تھا۔ لیکن اللہ اور اللہ کے رسول کی محبت نے اس کو ایسی حالت پر پہنچا دیا ہے، جس میں تم اس کو اب دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی بےانتہا رحمتیں ہوں اس جلیل القدر ہستی پر جس کا نام مصعب بن عمیر ہے، قریش الاصل ہیں بڑے اونچے درجے کے صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے، مکہ سے ہجرت کی، گھر بار چھوڑا، دنیا کی ساری نعمتوں اور راحتوں کو ٹھکرا دیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں مدینہ آگئے جیسا کہ خود حضور ﷺ نے شہادت دی ہے یہ اپنے اسلام سے پہلے کے زمانے میں مکہ کے بڑے مالداروں میں شمار ہوتے تھے، نہایت خوش لباس وخوش طعام تھے، اچھے سے اچھا پہنتے اور اچھے سے اچھا کھاتے تھے، لیکن جب مسلمان ہوگئے تو سارے عیش وتنعم پر لات ماردی، اللہ اور اس کے رسول کے عشق میں ایسے رنگ گئے کہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے نفرت کرنے لگے، زہد اختیار کرلیا، یہاں تک کہ غزوہ احد کے موقع پر جام شہادت نوش کر کے واصل بحق ہوگئے، شہادت کے وقت ان کی عمر چالیس سال یا اس سے کچھ زیادہ تھی۔ حدیث سے بظاہر یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حضرت مصعب (رض) کو دیکھ کر حضور ﷺ کا رو پڑنا، ان کی خستہ حالی کے تئیں رحم و شفقت کے جذبات کے تحت تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو کبھی اپنی قوم کی آنکھوں کا تارا تھا، عیش و راحت کی زندگی گزارتا تھا اور اب اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ بدن پر صرف ایک پیوند لگی چادر لپیٹے اپنا وقت گزار رہا ہے۔ لیکن یہ بات اس واقعہ کے منافی معلوم ہوتی ہے جس کا ذکر پیچھے بھی ایک روایت میں گزر چکا ہے کہ ایک دن حضرت عمر (رض) جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو کھردری چارپائی پر لیٹے ہوئے دیکھا جس کے بان کے نشانات آپ ﷺ کے جسم مبارک پر پڑگئے تھے تو اس وقت رو پڑے انہوں نے آنحضرت ﷺ کی مشقت بھری زندگی کے ساتھ فارس و روم کے بادشاہوں کی زندگی کا مواز نہ کیا۔ جو اللہ کے سرکش و نافرمان اور باغی بندے ہونے کے باوجود عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا تھا کہ تم ابھی تک سوچنے سمجھنے کے اس مقام سے نہیں بڑے ہو، بندہ اللہ ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ان بادشاہان دنیا کو بس دنیا کی نعمتیں ملیں اور ہمیں آخرت کی نعمتوں اور سعادتوں سے نوازا جائے ؟ اولیٰ یہ ہے کہ حضرت مصعب (رض) کو دیکھ کر حضور ﷺ کے رونے کو فرط مسرت سے رونے پر محمول کیا جائے کہ اپنی امت کے لوگوں کو دنیا سے زہد اختیار کر کے عقبی کی طرف متوجہ دیکھ کر مارے خوشی کے آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اگر اس رونے کو غم و حسرت ہی پر محمول کیا جائے تو اس صورت میں یہ کہا جائے گا کہ آپ کا غم دراصل اس بات پر تھا کہ میری امت کے جیسے لوگوں کو ضروریات زندگی کی ایسی چیزیں بھی میسر نہیں ہیں جو دنیا ہی کے لئے ضروری نہیں ہیں بلکہ طاعت و عبادت میں معاون و مددگار بھی ہوتی ہیں جیسے بقدر ضرورت لباس وغیرہ۔ اس تاویل کی تائید حضور ﷺ کے ان الفاظ کیف بکم اذا غدا الخ اور انتم الیوم خیر منکم الخ سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ غریب ومفلس شخص کہ جو ضروریات زندگی کی بقدر کفایت چیزوں کا مالک ہو، غنی و مالدار شخص سے بہتر ہے، چناچہ غنی و مالدار شخص حصول مال و زر کی جدوجہد میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے طاعت و عبادت کے لئے اتنا زیادہ قلبی و جسمانی فراغ و سکون نہیں رکھتا جس قدر کہ وہ غریب ومفلس شخص رکھتا ہے اس اعتبار سے یہ حدیث درحقیقت صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صبر و استقامت اختیار کرنے والا غریب ومفلس شخص شکر گزار مالدار سے زیادہ افضل ہوتا ہے۔ پس صحابہ جیسی ہستیوں کے تعلق سے کہ جو امت کے سب سے زیادہ مضبوط ایمان و عقیدہ اور کردار کے حامل تھے، مالداری کا یہ حال ہے تو غیر صحابہ کے تعلق سے اس کا کیا حال ہوگا، جو ان کی بہ نسبت ایمان و عقیدہ اور کردار وعمل میں کہیں زیادہ ضعیف ہیں۔ اس کی مؤید وہ حدیث بھی ہے جس کو دیلمی نے فردوس میں حضرت ابن عمر (رض) سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ مارویت الدنیا عن احد الاکانت خیرۃ لہ بلکہ ملا علی قاری نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ایک خاص بات یہ کہی ہے کہ عن احد (اسی شخص) کا لفظ عام ہے کہ اس کے مفہوم میں مومن و غیر مومن سب شامل ہیں، لہٰذا دوزخ میں مالدار کافر کی بہ نسبت فقیر ومفلس کافر کا عذاب ہلکا ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ جب اس دار فانی میں فقر و افلاس نے کافر کو یہ فائدہ پہنچایا تو اس مومن کو دارالتمرار (آخرت میں) کیسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو دنیا میں اپنے فقر و افلاس پر صابر رہا ہے۔
5263
Mishkaat Shareefوعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يأتي على الناس زمان الصابر فيهم على دينه كالقابض على الجمر رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب إسنادا .
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس وقت لوگوں کے درمیان اپنے دین پر صبر کرنے والا (یعنی دنیا سے اپنا دامن بچا کر دینی احکام کی حفاظت و پیروی کرنے والا) اس شخص کی مانند ہوگا جس نے اپنی مٹھی میں انگارہ لے لیا ہو۔ امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آخر زمانے میں جب برائی عام ہوجائے گی، فسق فجور پھیل جائے گا اور پورے معاشرہ میں بدکار لوگوں کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ دین کی بات کرنے والے اور دینداروں کے مددگار معاون ڈھونڈھے نہیں ملیں گے، تو اس وقت دین کو اختیار کرنا اور ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہنا اتنا ہی دشوار اور سخت صبر آزما ہوگا جس قدر کہ کوئی شخص اپنی مٹھی میں انگارہ بند کرلے اور اس کی اذیت و تکلیف پر صبر تحمل کرے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آخر زمانے میں جب برائی عام ہوجائے گی، فسق فجور پھیل جائے گا اور پورے معاشرہ میں بدکار لوگوں کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ دین کی بات کرنے والے اور دینداروں کے مددگار معاون ڈھونڈھے نہیں ملیں گے، تو اس وقت دین کو اختیار کرنا اور ثابت قدمی کے ساتھ گامزن رہنا اتنا ہی دشوار اور سخت صبر آزما ہوگا جس قدر کہ کوئی شخص اپنی مٹھی میں انگارہ بند کرلے اور اس کی اذیت و تکلیف پر صبر تحمل کرے۔
5264
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان أمراؤكم خياركم وأغنياؤكم سمحاءكم وأموركم شورى بينكم فظهر الأرض خير لكم من بطنها . وإذا كان أمراؤكم شراركم وأغنياؤكم بخلاؤكم وأموركم إلى نسائكم فبطن الأرض خير لكم من ظهرها . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب .
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب تمہارے قائد و سردار وہ لوگ ہوں کہ جو تم میں کے بہترین لوگ ہیں، تمہارے دولت مند لوگ سخی ہوں اور تمہارے معاملات باہمی مشوروں سے انجام پاتے ہوں (یعنی مسلمان ایک مرکز پر متحد ومتفق ہوں اور اپنے تمام معاملات و امور ایک رائے ہو کر طے کرتے ہوں) تو اس وقت زمین کی پشت تمہارے لئے زمین کے پیٹ سے بہتر ہوگی (یعنی ایسے مبارک زمانہ میں زندگی سے موت سے بہتر ہوگی کیونکہ اس صورت میں تمہیں کتاب وسنت کے مطابق عمل کرنے اور دین کی راہ پر چلنے کی توفیق نصیب ہوگی اور ظاہر ہے وہ لوگ نہایت خوش بخت ہیں جنہیں حسن عمل کے ساتھ طویل زندگی ملے اور جب تمہارے قائد و سردار وہ لوگ ہوں جو تم میں کے بدترین یعنی فاسق وفاجر اور ظالم لوگ ہیں تمہارے دولت مند لوگ بخیل ہوں اور تمہارے معاملات کی باگ دوڑ عورتوں کے ہاتھ میں ہو، تو اس وقت زمین کا پیٹ تمہارے لئے زمین کی پشت سے بہتر ہوگا (یعنی ایسے زمانہ میں مرنا، جینے سے بہتر ہوگا۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ وہ معاشرہ بہت بدنصیب ہوتا ہے جس میں لوگ اپنے معاملات عورتوں کے سپرد کردیتے ہیں، درآنحالیکہ عورتیں مردوں کی بہ نسبت عقل اور دین دونوں میں کمزور اور ناقص ہونے کی وجہ سے اس طرح کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیں، اسی لئے فرمایا ش اور وہن وخالفوھن یعنی عورتوں سے مشورہ ضرور لو لیکن کرو ان کی رائے کے خلاف، اسی طرح وہ مرد بھی عورتوں ہی کے حکم میں ہیں جو انہی جیسے احوال رکھتے ہیں یعنی جن مردوں پر جاہ ومال کی محبت کا غلبہ ہوتا ہے، جو یہ نہیں جانتے کہ کیا چیز دین کو نقصان پہنچاتی ہے، کونسا کام دین و شریعت کے خلاف ہے کسی بھی چیز اور کسی بھی معاملہ کا کیا انجام ہوسکتا ہے تو وہ بھی یقینا عورتوں کی طرح عقل ودین دونوں کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں لہٰذا ایسے مردوں کو بھی اپنا مقتدا و رہنما بنانا اور اپنی زمام کار ان کو سونپ دینا پورے معاشرہ کو تباہی و خرابی سے دوچار کرنا ہے۔ حدیث کا ظاہری اسلوب یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب پہلے جزء میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تمہارے معاملات باہمی مشوروں سے طے پاتے ہوں تو دوسرے جز میں یوں فرمانا چاہئے تھا کہ تمہارے معاملات باہمی اختلاف رائے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس طرح فرمانے کی بجائے یہ فرمانا کہ تمہارے معاملات کی باگ دوڑ عورتوں کے ہاتھ میں ہو۔ گویا اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ آپس میں پیدا ہونے والے اختلاف اور تنازعات عام طور پر عورتوں کی اتباع کرنے اور ان کے کہے پر چلنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ وہ معاشرہ بہت بدنصیب ہوتا ہے جس میں لوگ اپنے معاملات عورتوں کے سپرد کردیتے ہیں، درآنحالیکہ عورتیں مردوں کی بہ نسبت عقل اور دین دونوں میں کمزور اور ناقص ہونے کی وجہ سے اس طرح کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتیں، اسی لئے فرمایا ش اور وہن وخالفوھن یعنی عورتوں سے مشورہ ضرور لو لیکن کرو ان کی رائے کے خلاف، اسی طرح وہ مرد بھی عورتوں ہی کے حکم میں ہیں جو انہی جیسے احوال رکھتے ہیں یعنی جن مردوں پر جاہ ومال کی محبت کا غلبہ ہوتا ہے، جو یہ نہیں جانتے کہ کیا چیز دین کو نقصان پہنچاتی ہے، کونسا کام دین و شریعت کے خلاف ہے کسی بھی چیز اور کسی بھی معاملہ کا کیا انجام ہوسکتا ہے تو وہ بھی یقینا عورتوں کی طرح عقل ودین دونوں کے اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں لہٰذا ایسے مردوں کو بھی اپنا مقتدا و رہنما بنانا اور اپنی زمام کار ان کو سونپ دینا پورے معاشرہ کو تباہی و خرابی سے دوچار کرنا ہے۔ حدیث کا ظاہری اسلوب یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب پہلے جزء میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تمہارے معاملات باہمی مشوروں سے طے پاتے ہوں تو دوسرے جز میں یوں فرمانا چاہئے تھا کہ تمہارے معاملات باہمی اختلاف رائے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس طرح فرمانے کی بجائے یہ فرمانا کہ تمہارے معاملات کی باگ دوڑ عورتوں کے ہاتھ میں ہو۔ گویا اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ آپس میں پیدا ہونے والے اختلاف اور تنازعات عام طور پر عورتوں کی اتباع کرنے اور ان کے کہے پر چلنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔