hadith book logo

Mishkaat Shareef

187. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کا بیان

مشكاة المصابيح

5946
Mishkaat Shareef
صحیح
مناقب اصل میں منقبت کی جمع ہے۔ منقبت کے معنی ہیں فضیلت اور فضیلت اس اچھی خصلت وخصوصیت (تعریف کے کام ) کو کہتے ہیں جس کے سبب اللہ کے نزدیک یا مخلوق کی نظروں میں شرف وعزت اور بلند قدری حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اصل اعتبار اسی شرف وعزت اور بلند قدری جو اللہ کے نزدیک حاصل ہو، مخلوق کی نظر میں حاصل ہونے والی عزت وشرف اور بلندقدری کا کوئی اعتبار نہیں، ہاں اگر یہ عزت وشرف اور بلندقدری اللہ کے نزدیک بلند قدر بنانے کا وسیلہ و ذریعہ بنتی ہو تو اس صورت میں اس کا بھی اعتبار ہوگا پس جب یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص بافضلیت اور بلند قدر ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ شخص اپنے فکر و عقیدہ اعمال و کردار اور اخلاص و اخلاق کی بناء پر اللہ کے نزدیک بلند قدر ہے، نیز یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فضیلت وبلند قدری کی طرف نسبت اسی صورت میں معتبر ہے جب کہ وہ آنحضرت ﷺ سے منقول ہو یعنی کسی بھی شخص کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ وہ ذی منزلت وبلند قدر ہے کوئی معنی نہیں رکھتا، اسی شخص کو افضل اور بلند قدر کہنا معتبر ہوگا جس کی فضیلت وبلند قدری کے بارے میں سرکار دوعالم ﷺ کا ارشاد گرامی سلسلہ در سلسلہ نقل ہوتا ہوا ہم تک پہنچا ہو۔
5947
Mishkaat Shareef
صحیح
صحابی اس مسلمان کو کہتے ہیں جس نے بہ حالت بیداری اپنی آنکھوں سے سرکار دوعالم ﷺ کو دیکھا یا آپ ﷺ کی صحبت میں رہا ہو اور ایمان ہی کی حالت میں یعنی دین واسلام پر اس کا خاتمہ ہوا ہو اگرچہ اس درمیان میں ارتداد بھی خلل انداز ہوا ہو جیسے اشعب یا اشعث ابن قیس کے بارے میں کہا جاتا ہے اور بعض حضرات نے صحابی ہونے کے لئے طول صحبت کو شرط قرار دیا ہے یعنی ان کے نزدیک صحابی اسی مسلمان کو کہا جاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی صحبت میں کافی عرصہ تک رہا ہو، اس نے آنحضرت ﷺ سے اکتساب علم کیا ہو اور آپ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شامل ہوا ہو ان حضرات نے طول صحبت یا کافی عرصہ کی کم سے کم مدت چھ مہینہ بیان کی ہے لیکن اس چھ مہینہ کے تعین کی دلیل ان کے پاس کیا ہے یہ معلوم نہیں، تاہم اس میں کوئی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس نے زیادہ سے زیادہ عرصہ آنحضرت ﷺ کی خدمت و صحبت میں گزارا اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوا اس کا مرتبہ ان لوگوں بہ نسبت یقینا سوا ہے جنہیں زیادہ عرصہ کی خدمت و صحبت کا موقع نہیں ملا، جو آپ ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک نہیں ہوئے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کو محض ایک دور کی نظر سے دیکھا آنحضرت ﷺ سے کلام و گفتگو کی سعادت سے بہت کم سرفراز ہوئے یا جنہوں نے صرف طفولیت کے زمانہ میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا، اگرچہ مجرد شرف صحبت سب کو حاصل ہے۔
5948
Mishkaat Shareef
صحیح
جو بھی صحابی ہے اس کا صحابی ہونا تواتر کے ذریعہ جانا جاتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر فاروق کا صحابی ہونا تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ یا خبر مشہور کے ذریعہ جانا جاتا ہے یا کوئی صحابی اپنے غیر کے بارے میں بیان کرے کہ وہ صحابی ہے یا خود صحابی اپنے بارے میں کہے کہ میں صحابی ہوں بشرطیکہ وہ روایت کے سلسلہ معیار پر پورا اترتا ہو اور عادل ہو ویسے یہ بات ملحوظ رہے کہ کتاب وسنت اور اجماع معتبر سے واضح طور پر ثابت ہے کہ تمام صحابہ عدول ہیں۔
5949
Mishkaat Shareef
صحیح
شرح السنۃ میں ابومنصور بغدادی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہمارے تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین میں سب سے افضل خلفاء اربعہ ہیں اور ان میں بھی ترتیب کا اعتبار ہے یعنی سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ہیں، ان کے بعد حضرت عمر فاروق، ان کے بعد حضرت عثمان غنی اور ان کے بعد حضرت علی۔ خلفاء اربعہ کے بعد سب سے افضل وہ تمام صحابہ ہیں جن کو عشرہ مشبرہ کہا جاتا ہے۔ ان کے بعد سب سے افضل وہ صحابہ ہیں جو جنگ بدر میں شریک تھے، ان کے بعد سب سے افضل وہ صحابہ ہیں جو جنگ احد میں شریک تھے، ان کے بعد بیعت رضوان میں شریک صحابہ، ان کے بعد وہ انصار صحابہ جنہوں نے دونوں مرتبہ بیعۃ العقۃ الاولی اور بیعۃ العقۃ الثانیہ کے موقع پر مکہ میں آکر آنحضرت ﷺ سے بیعت کی تھی۔ اسی طرح وہ صحابہ جن کو سابقون اولون کہا جاتا ہے یعنی جنہوں نے قبول اسلام میں سبقت کی اور ابتداء اسلام ہی میں مسلمان ہوگئے تھے اور جن کو دونوں قبیلوں یعنی بیت المقدس اور کعبہ مکرمہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑہنے کا موقع ملا ان صحابہ سے افضل ہیں جو ان کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت خدیجہ الکبری (رض) کے بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ کون دوسری سے افضل ہے اسی طرح حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کے بارے میں بھی اختلافی اقوال ہیں واضح رہے کہ حضرت معاویہ عدول اہل فضل اور خیار صحابہ میں سے ہیں، ان کے بارے میں کوئی بھی برا خیال رکھنا یا ان کی شان میں کوئی ایسی بات کہنا جو مرتبہ صحابیت کے منافی ہو اسی طرح ممنوع جس طرح دوسرے صحابہ کے بارے میں۔ رہی یہ بات کہ بعض صحابہ کے درمیان جو باہمی نزع ہوا، یا باہمی جنگ وجندل کے نوبت آئی تو اس پر بحث وتمحیص کرنا اور اس کوئی نتیجہ نکال کر کسی کی تنقیص کرنا ہمارا مقام نہیں ہے، وہ سارے معاملات ان کے اپنے اجتہاد سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی صحابی ایسا نہیں تھا جس نے ان معاملات میں نفسانی تقاضوں یا دنیاوی اغراض کے تحت شرکت کی ہو، وہ سب صحابہ اپنے اپنے موقف کے درست اور جائز ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے اور اپنی باہمی لڑائیوں اور تنازعات کی بنا پر ان میں سے کوئی عدول کے زمرہ سے خارج نہیں ہوگا اور نہ اس کی حیثیت اور اس کے مرتبہ میں کوئی نقص آیا، مختصر یہ کہ اہل سنت و جماعت کا مسلک یہ ہے کہ ان کے بارے میں زبان کھولتے وقت محتاط رہا جائے، ان کے حق میں منہ سے وہی بات نکالی جائے جو تعریف اور بھلائی کی ہو، اگر ان میں سے کسی کے متعلق کوئی ایسی چیز منقول ہو جو بظاہر تعریف کے کام کے خلاف نظر آتی ہو تو اس سے نظر کیا جائے۔ دین و ایمان کی سلامتی اسی میں ہے۔
5950
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي سعيد الخدري قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه . متفق عليه
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میرے صحابہ کو برا نہ کہو، حقیقت یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد کے پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس کا ثواب میرے صحابہ کے ایک مد یا آ دھے مد کے ثو کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
تم کے مخاطب خود صحابہ میں کے بعض حضرات تھے، جیسا کہ ایک روایت میں اس ارشاد گرامی کا پس منظر یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت خالد ابن ولید اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے درمیان کوئی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور حضرت خالد ابن ولید نے حضرت عبدالرحمن ابن عوف کو برا کہا، اس وقت آپ ﷺ نے حضرت خالد ابن ولید وغیرہ کو خطاب کرکے فرمایا میرے صحابہ کو برا نہ کہو پس میرے صحابہ سے وہ مخصوص صحابہ مراد ہیں جو ان مخاطب صحابہ یعنی حضرت خالد ابن ولید وغیرہ سے پہلے اسلام لائے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں تم کے ذریعہ پوری امت کو مخاطب کیا گیا ہو اور چونکہ نور نبوت نے پہلے ہی یہ دیکھ لیا تھا کہ آگے چل کر میری امت میں لوگ بھی پیدا ہوں گے، جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہیں گے، ان کی شان میں گستاخیاں کرے گے (جیسا کہ روافض وخوارج کی صورت میں مختلف گروہ ایک دوسرے کے ممدوح صحابہ کے حق میں سب وشتم کرتے ہیں) اس لے آپ ﷺ نے مسلمانوں کی آئندہ نسلوں میں احترام صحابہ کے جذبات کو بیدار کرنے کے لئے حکم دیا کہ شخص میرے کسی صحابی کو برا نہ کہے۔ مد اس زمانہ کے ایک پیمانہ کا نام تھا جس میں سیر بھر کے قریب جو وغیرہ آتا تھا، حدیث کے اس جزء کی مراد ان صحابہ کے بلند وبالا مقام و مرتبہ کا تعین کرنا ہے کہ ان لوگوں کے کمال اخلاص وللٰہیت کی بناء پر ان کا چھوٹا سانیک عمل اپنے بعد والوں کے اسی طرح کے بڑے سے بڑے نیک عمل پر بھاری ہے مثلا اگر ان صحابہ میں سے کوئی شخص سیر بھر یا آدھ سیر جو وغیرہ اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو اس عمل پر ان کو جنتا ثواب ملتا ہے اتنا ثواب ان کے بعد والوں کو اس صورت میں بھی نہیں مل سکتا کہ اگر وہ اللہ کے راہ میں احد پہاڑ کے برابر سوناخرچ کردیں اور یہ اس وجہ ہے کہ اخلاص وصدق نیت اور جذبہ ایثار وللٰہیت کا جو کمال ان کے اندر تھا وہ بعد والوں کو نصیب نہیں ہوسکتا دوسرے یہ کہ ان کا مال خالص طیب و پاکیزہ ہوتا تھا اور ان کی اپنی حاجتیں وضرورتیں اس بات کا تقاضا کرتی تھیں کہ ان کے پاس جو کچھ ہے اپنے ذاتی مصارف میں خرچ کریں لیکن اس کے باوجود اپنی استطاعت کے مطابق وہ اللہ کی راہ میں خوش دلی کے ساتھ خرچ کرتے اور اپنی تمام ضرورتوں کو پس پشت ڈال دیتے، یہ تو ان کے اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کے اجر وثواب کا ذکر ہے۔ اسی پر قیاس کرکے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے انتہائی سخت حالات میں اللہ کے دین کا جھنڈا بلند کرنے اور اللہ کے رسول کا پیغام پہنچانے کے لئے ریاضت وجاہدہ کے جن سخت ترین مراحل کو طے کیا۔ یہاں تک کہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اس کی بناء پر ان کو کیا اجروثواب ملا ہوگا اور ان کے درجات و مراتب کس قدر بلند ہوئے ہوں گے۔ حدیث کے پہلے جزء سے اگرچہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد گرامی میرے صحابہ کو برا نہ کہو مخصوص اصحاب کے حق میں ہے لیکن اس سے یہ بات بہرحال ثابت ہوتی ہے کہ کسی غیر صحابی کا صحابی کو برا کہنا بطریق اولی ممنوع ہے۔ کیونکہ حدیث اصل مقصد ان لوگوں کے حق میں بد گوئی اور بد زبانی سے اجتناب کی تلقین و ہدایت کرنا ہے۔ جن کو قبول اسلام میں سبقت کی فضیلت و برتری حاصل ہے اور جو اپنی اس فضیلت و برتری کو بناء پر بعد والوں کے لئے یقینا واجب التعظیم ہیں۔ علی ابن حرب طائی اور خثیمہ ابن سلیمان نے حضرت ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ لاتسبوا اصحاب محمد فلمقام احدہم ساعۃ خیر من عمل احدکم عمرہ۔ اصحاب محمد ﷺ کو برا نہ کہو، درحقیقت ان کو (اپنی عبادتوں کا) یہ مقام حاصل ہے کہ ان کا ساعت بھر کا نیک عمل تمہارے پوری عمر کے نیک عمل سے بہتر ہے۔ اور عقیلی نے ضعفا میں نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان اللہ اختارلی اصحابا وانصارا واصحارا وسیاتی قوم یسبونہم ولیستنقصونہم فلاتجالیسوہم ولاتشاربوہم ولا تواکلوہم ولاتناکحوہم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب کیا اور میرے لئے میرے اصحاب میرے انصار اور میرے قرابتدار تجویز ومقرر کئے گئے۔ اور (یاد رکھو، عنقریب کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو میرے صحابہ کو برا کہیں گے اور ان میں نقص نکالیں گے، پس تم نہ ان لوگوں کے ساتھ میل ملاپ اختیار کرنا نہ ان کے ساتھ کھانا پینا اور نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرنا۔
5951
Mishkaat Shareef
صحیح
شرح مسلم میں لکھا ہے جاننا چاہئے کہ صحابہ کرام کو برا کہنا جرم ہے اور اکبر فواحش (سخت بڑے گنا ہوں) میں سے ہے ہمارا اور جمہور علماء کا یہ مذہب ہے کہ جو کوئی صحابہ کو برا کہے اس کو سزا دی جائے اور بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ اس کو قتل کیا جائے، اسی طرح کی بات طیبی نے بھی لکھی ہے اور قاضی عیاض نے کہا ہے کہ صحابہ میں سے کسی کو بھی برا کہنا گناہ کبیرہ ہے اور ہمارے بعض علماء نے صراحت کی ہے کہ جو شخص شیخین (یعنی ابوبکر وعمر) کو برا کہے وہ مستوجب قتل ہے۔ مشہور کتاب الاشباہ والنظائر کی کتاب السیر میں لکھا ہے جو بھی کافر اپنے کفر سے توبہ کرلے اس کے لئے دنیا وآخرت کے لئے معافی ہے۔ لیکن جو لوگ اس بناء پر کافر قرار پائے ہوں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو برا کہا تھا، یا شیخین کو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو برا کہا تھا یا سحر کاری کے مرتکب ہوئے تھے اور یا زندقہ میں مبتلا تھے اور پھر توبہ کرنے سے پہلے ان کو گرفتار کرلیا گیا ہو تو اب اگر وہ توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور ان کو معافی نہیں ملے گی اسی طرح صاحب اشباہ علامہ زین ابن نجیم نے یہ بھی کہا ہے کہ، شیخین کو برا کہنا یا ان کو لعنت کرنا کفر ہے اور جو شخص حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دے وہ مبتدع ہے۔ اور مناقب کر دری میں لکھا ہے اگر وہ شخص (جو شیخین پر حضرت علی کی فضیلت کا قائل ہے) اور دونوں یعنی شیخین کی خلافت کا منکر بھی ہو تو اس کو کافر کہا جائے گا اسی طرح اگر وہ ان دونوں سے دلی بغض وعناد رکھے تو بھی اس کو کافر کہا جائے گا۔ بایں سبب کہ اس نے ان ہستیوں سے قلبی بغض وعناد رکھا جن سے آنحضرت ﷺ کو قلبی محبت تھی، ہاں اگر (یہ صورت ہو کہ) کوئی شخص (نہ تو شیخین پر حضرت علی کی فضیلت کا قائل ہے نہ شیخین کی خلافت کا منکر ہے نہ ان دونوں بغض وعناد رکھتا ہے اور نہ ان کو برا کہتا ہے مگر (شیخین کی بہ نسبت حضرت علی کے تئیں زیادہ پسندیدگی وگرویدگی اور محبت رکھتا ہے۔ تو وہ محض اس بناء پر ماخوذ نہیں ہوگا۔ اس سلسلہ میں ان دونوں یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی تخصیص کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان دونوں کی فضیلت میں آنحضرت ﷺ کی احادیث جس مخصوص طور سے منقول ہیں اس طرح سے کسی اور صحابی کے بارے میں منقول نہیں ہیں جیسا کہ آگے آنے ایک علیحدہ باب میں منقول احادیث سے واضح ہوگا یا وجہ تخصیص یہ ہے کہ ان دونوں حضرات کی خلافت پر مسلمانوں کا مکمل اجماع تھا ان کی قیادت وسربراہی کو کسی طرف بھی چیلنج نہیں کیا گیا ان کے برخلاف حضرت عثمان ہوں یا حضرت علی اور یا حضرت معاویہ وغیرہ دوسرے خلفاء ان کی خلافت پر اس درجہ کا اجماع نہیں تھا بلکہ ان میں سے ہر ایک کے زمانے میں بغاوت وخروج کا عمل ظاہر ہوا۔
5952
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت شاہ عبد العزیز (رح) نے لکھا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ فرقہ امامیہ کے لوگ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خلافت کے منکر ہیں اور فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جو شخص خلافت صدیق کا انکار کرے وہ اجماع قطعی کا منکر قرار پاتا ہے اور اجماع قطعی کا منکر کافر ہوجاتا ہے چناچہ فتاوی عالمگیری میں ہے۔ الرافضی اذاکان یسب الشیخین ویلعنہا العیاذباللہ فہو کافر وان کان یفضل علیا کرم اللہ تعالیٰ وجہہ علی ابی بکرلایکون کافر الکنہ مبتدع ولو قذف عائشۃ کفر باللہ اور رافضی اگر شیخین کو برا کہے اور العیاذ باللہ ان کو لعنت کرے تو وہ کافر ہے۔ اور اگر حضرت ابوبکر صدیق پر حضرت علی کو فضیلت دے تو کافر نہیں ہوتا البتہ مبتدع قرار پاتا ہے، نیز اگر وہ حضرت عائشہ صدیقہ کی پاکدامنی کو تہمت لگائے تو اللہ (نے حضرت عائشہ صدیقہ کی پاکدامنی کی جو تصدیق قرآن میں کی ہے اس) کا منکر ہوگا۔ اور فتاوی عالمگیری ہی میں یوں ہے من انکرامامہ ابی بکر الصدیق فہو کافر علی قول بعضہم وقال بعضہم ہو مبتدع ولیس بکافر والصحیح انہ کافر کذلک من انکر خلافۃ عمر فی اصح الاقوال ویجب اکفار الروافض فی قولہم برجہۃ الاموات الی الدنیا وتناسخ الارواح شخص نے ابوبکر کی امامت کبریٰ کا انکار کیا وہ بعض حضرات کے قول کے مطابق کافر ہے جب کہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ مبتدع قرار پائے گا اس کو کافر نہیں کہیں گے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ وہ کافر ہے اسی طرح قول صحیح کے مطابق وہ شخص بھی کافر ہوجائے جو حضرت عمر کی خلافت کا انکار کرے گا نیز رافضیوں کو اس بناء پر کافر قرار دینا واجب ہے کہ وہ مردوں کے دنیا میں لوٹنے اور تناسخ ارواح کے قائل ہیں۔
5953
Mishkaat Shareef
صحیح
سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرقہ امامیہ کے لوگ (یا روافض واہل تشیع) اگر صحابہ بالخصوص شیخین کو برا کہتے ہیں یا ان کی خلافت کے منکر ہیں تو اس کی وجہ سے ان کو کس دلیل سے کافر قرار دیا جاتا ہے ؟ تو جاننا چاہیے کہ ان کے کفر کی ایک نہیں متعدد مضبوط دلائل وبراہین ہیں، پہلی بات یہ کہ صحابہ کرام اور اصل حاملان وحی، راویان قرآن اور ناقلان دین و شریعت ہیں جو شخص ان صحابہ کی حقانیت و صداقت کا منکر ہوگا کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ قرآن وغیرہ ایمانیات متواترات کے ساتھ اس کا ایمانی تعلق قائم ہو اور جب قرآن وغیرہ سے اس کا ایمانی تعلق قائم نہیں ہوگا تو اس کو مؤمن کون نادان کہے گا دوسرے یہ کہ ان صحابہ کی حقانیت، صداقت اور فضیلت کا شاہد خود قرآن کریم ہے، نص قرآن کا منکر مؤمن ہرگز نہیں ہوتا دوسرے یہ کہ وہ احادیث جن میں حضرت علی کے علاوہ تینوں خلفاء راشد کے فضائل ومناقب بھی منقول ہیں، ان کی تعداد ان گنت ہے نیز وہ حدیثیں تعدد طرق اور کثرت روات کے سبب متواتر بالمعنی قرار پائی ہیں پس ان احادیث و روایات کے مفہوم و معنی اور مدلول و مضمون کا انکار کفر کے زمرہ میں آتا ہے اور یہ ذہن میں رہنی چاہئے کہ اس درجہ کی احادیث کے استنادواعتبار ائمہ مجتہدین میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا ہے بلکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ جو ائمہ مجتہدین میں نہایت اعلی مقام رکھتے ہیں خبر واحد کو بھی قیاس پر ترجیح دیتے ہیں یہاں تک کہ اقوال صحابہ کو بھی چہ جائیکہ متواتر بالمعنی کی حیثیت رکھنے والی احادیث۔ آئیے سب سے پہلے قرآن کریم کو دیکھے کہ اللہ کے کلام سے ہمیں صحابہ کے بارے میں اور صحابہ یا کسی صحابی رسول کو برا کہنے اور لعنت کرنے والوں کے بارے میں کیا رہنمائی ملتی ہے (١) اللہ تعالیٰ نے صحابہ سے اپنا راضی ہونا اور خوش ہونا بیان فرمایا ہے، جیساہ اس آیت کریمہ ہے ( لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ) 48 ۔ الفتح 18) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے راضی وخوش ہوا جب کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے درخت (سمرہ) نیچے بیعت کررہے تھے۔ ایک اور موقع پر یوں فرمایا گیا والسابقون الاولون من المہٰجرین والانصار والانصار والذین اتبعوہم باحسان (رض) عنھم ورضوا عنہ۔ اور جو مہاجرین و انصار (ایمان لانے میں سب سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی وخوش ہوا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں جن لوگوں کی تعریف کرے، جن سے رضا مندی و خوشنودی ظاہر کرے اور جن کے بلند وبالا مقام و مرتبہ کو واضح فرمائے ان پر یہ لوگ (روافض وشیعہ) لعنت کریں بلکہ ان کو غاصب اور کافر جانیں تو ان دونوں باتوں میں بالکل تضاد ہے لہذا یہ لوگ ان صحابہ کو برا کہہ کر اور ان کو لعنت کرکے چونکہ قرآن کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن کی مخالفت کرنے والا کافر ہوتا ہے اس لئے ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ (٢) خلفاء راشدین کی خلافت قرآن کریم سے ثابت ہے، بایں طور کہ ارشاد فرمایا گیا (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ ) 24 ۔ النور 55) (اے اہل ایمان تم میں جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو روئے زمین پر اقتدار و حکومت عطا فرمائے گا۔ مستند و معتبر مفسرین نے وضاحت فرمائی ہے۔ کہ آیت خلفاء راشدین کی خلافت کے مبنی پر صداقت و صحت ہونے کی واضح دلیل ہے کہ آیت میں مذکورہ وعدہ کے مطابق جن لوگوں کو روئے زمین پر حکومت و اقتدار نصیب ہوا اور جو اس آیت کے مطابق ایمان وعمل صالح کے حامل تھے وہ یہی خلفائے راشدین ہیں۔ پس جو لوگ ان کی خلافت کو صحیح اور برحق نہ مانیں وہ قرآن کریم کی تردید وتغلیظ کرنے کے سبب دائرہ ایمان سے خارج قرار پائیں گے۔ کیونکہ اسی آیت میں آگے چل کر یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ (وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰ ى ِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) 24 ۔ النور 55) ، یعنی جنہوں نے کفر کیا (کہ اللہ کے اس وعدہ کو یا وعدہ کے ظہور کو برحق نہ جانا) تو فاسق ہیں اور چونکہ قرآن کی اصطلاح میں فاسق سے مراد فاسق کامل ہوتا ہے اور فاسق کامل کافر کو کہتے ہیں اس لئے وہ فاسق ہیں کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہیں اس بات کی دلیل کہ قرآن کی اصطلاح میں فاسق سے مراد فاسق کامل ہوتا ہے، یہ آیت ہے (وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰ ى ِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ 47) (٣) قرآن کریم نے صحابہ کو صادق یعنی سچا کہا ہے جیسا کہ آیت میں مذکور ہے (لِلْفُقَرَا ءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه اُولٰ ى ِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ ) 59 ۔ الحشر 8) اور ان حاجت مند مہاجرین کا (بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (جبراً وظلماً ) جدا کردئے گئے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل (یعنی جنت) اور رضامندی کے طالب ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول (کے دین) کی مدد کرتے ہیں اور یہی لوگ سچے ہیں۔ تمام صحابہ حضرت صدیق اکبر کو یا خلیفۃ اللہ کہہ کر مخاطب کرتے تھے لیکن شیعہ ان کا کا ذب یعنی جھوٹا کہتے ہیں ظاہر ہے کہ صادق اور کا ذب کے درمیان صریح فرق ہے پس جو شخص ان کو کا ذب کہتا ہے وہ دراصل قرآن کریم کی تردید اور مخالفت کرتا ہے اور یہ کفر نہیں تو اور کیا ہے۔ (٤) صحابہ کرام فلاح یاب ہیں اور ان کا فلاح یاب ہونا نص قرآن سے ثابت ہے کہ ان کے حق میں اولئک ہم المفلحون ( اور یہی لوگ فلاح یاب ہیں) فرمایا گیا ہے پس جو لوگ اس نص قرآن کے خلاف ان کو یہ کہیں کہ اولیک ہم الخاسرون (یہی لوگ بےفلاح و ناکام ہیں تو ان مخالفین قرآن کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کہا جائے گا تو اور کیا کہا جائے گا۔ (٥) اللہ تعالیٰ نے کثرت سے اپنے کلام شریف میں ان صحابہ کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں اور جابجا تعریف و توصیف کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے مثلاً ایک موقع پر ارشاد ہوا محمد رسول اللہ ﷺ (وَالَّذِيْنَ مَعَه اَشِدَّا ءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَا ءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ ٻوَمَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْ َه فَاٰزَرَه فَاسْتَغْلَ ظَ فَاسْتَوٰى عَلٰي سُوْقِه يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا) 48 ۔ الفتح 29) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ ﷺ کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے کبھی سجدہ کررہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کی جستجو میں لگے ہیں ان کے آثار بوجہ تاثیر سجدہ کے ان کے چہرون پر نمایاں ہیں یہ ان کے اصاف توریت میں ہیں اور انجیل میں ان کا یہ وصف ہے کہ جیسے کھیتی اس نے اپنی سوئی نکالی پھر اس نے اس کو قوی کیا پھر وہ اور موٹی ہوئی پھر اپنے سے پر سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی۔ تاکہ ان سے کافروں کو غصہ دلائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ سے کہ جو ایمان لائے ہیں اور نیک کام کررہے ہیں مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔ پس ان لوگوں کے بارے میں کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے جو قرآن کریم کی اتنی زبردست شہادت کے باوجود صحابہ رسول کو برا کہیں اور ان کو ملعون قرار دیں۔ نیز اس آیت میں صحابہ کا جو وصف بیان کیا گیا ہے کہ وہ کفار کے مقابلہ میں تو تیز وسخت ہیں لیکن آپس میں نرم و مہربان ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص صحابہ کو آپس میں بےالفت وبے مہر اور ایک دوسرے سے دشمنی رکھنے والا جانے (جیسا کہ شیعوں کا کہنا ہے) تو قرآن کا منکر ہے اسی طرح جو صحابہ سے بغض وحسد رکھے اور ان کے تئیں غیظ وغضب میں مبتلا ہو تو خود اس پر کفر کا اطلاق مذکور ہے کیونکہ لیغیظ بہم الکفار (تاکہ ان سے کافروں کو غصہ دلائے) کا واضح مطلب یہی ہے۔ کہ صحابہ کے تئیں غیظ وغضب کا اظہار اور ان سے غصہ کرنا کافروں کا کام ہے اس آیت سے ان لوگوں کی بھی تردید وت غلط ہوجاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ صحابہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں گو اچھے عقائد و اعمال کے حامل تھے لیکن آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد بددین ہوگئے تھے ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ انہی کے لئے ہوتا ہے جو مرتے دم تک ایمان اور عمل صالح پر قائم رہیں، ان صحابہ کے حق میں اس وعدے کا نازل ہونا خود اس بات کی علامت تھا کہ (ان کو دم آخر تک ایمان اور عمل صالح کی توفیق حاصل رہے گی اب اگر کوئی شخص ان کے بارے میں ایسی بےتکی بات کہتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ نص قرآن کے خلاف بات کہتا ہے بلکہ العیاذ باللہ، حق تعالیٰ کی طرف جہل اور لاعلمی کی نسبت بھی کرتا ہے۔ (٦) جس ہستی نے مخلفین اعراب (پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں) کو جہاد کے لئے بلایا وہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ہیں اس بات پر نہ صرف یہ کہ تمام اہل سنت کا اتفاق ہے بلکہ خود شیعوں کو بھی انکار واختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ مخلفین اعراب کے سلسلہ میں قرآن کریم نے جو یہ فرمایا تھا (قُلْ لِّ لْمُخَلَّفِيْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ سَ تُدْعَوْنَ اِلٰى قَوْمٍ اُولِيْ بَاْسٍ شَدِيْدٍ تُقَاتِلُوْنَهُمْ اَوْ يُسْلِمُوْنَ فَاِنْ تُطِيْعُوْا يُؤْتِكُمُ اللّٰهُ اَجْرًا حَسَ نًا وَاِنْ تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُمْ مِّنْ قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا اَلِ يْمًا) 48 ۔ الفتح 16) آپ ﷺ ان پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے کہہ دیجئے کہ عنقریب تم لوگ ایسے لوگوں (سے لڑنے) کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت لڑنے والے ہوں گے کہ یا تو ان سے لڑتے رہویا وہ مسلمان ہوجائیں سو اگر تم اطاعت کروگے تو تم کو اللہ تعالیٰ نیک عوض (یعنی جنت) دے گا اور اگر تم روگردانی کروگے جیسا کہ اس سے قبل روگردانی کرچکے ہو تودرد ناک عذاب کی سزا دے گا۔ تو اس آیت میں مذکورپیشین گوئی کے مطابق ان مخلفین اعراب کو دشمنان اسلام کے مقابلہ پر لڑنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے زمانہ خلافت میں بلایا بایں اعتبار اس آیت سے نہ صرف یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت ثابت ہوتی ہے جیسا کہ ابن ابی حاتم، ابن قتیبہ، شیخ ابوالحسن اور امام ابوالعباس وغیرہم نے وضاحت کی ہے بلکہ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے جیسا کہ جہاد کے لئے ان کے بلاوے سے روگردانی کرنے والا عذاب الیم کا مستوجب ہوگا پس جس ہستی کے بارے میں قرآن کریم سے اتنی بڑی بات ثابت ہوتی ہو اس پر لعنت کرنے والوں اور اس کو کافر کہنے والوں کو اپنے حشر سے ڈرنا چاہیے۔ (٧) ان صحابہ کا جنتی ہونا نصوص قطعیہ سے ثابت ہے جیسا کہ ایک موقع پر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے ( لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ اُولٰ ى ِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقٰتَلُوْا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى) 57 ۔ الحدید 10) تم میں سے جو لوگ فتح مکہ سے پہلے (فی سبیل اللہ) خرچ کرچکے اور لڑچکے برابر نہیں، وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد میں خرچ کیا اور لڑے اور (ویسے تو) اللہ تعالیٰ نے بھلائی (یعنی جنت) کا وعدہ سب سے کر رکھا ہے۔ پس ان صحابہ کے جنتی ہونے کا انکار نصوص کے انکار کو مستلزم ہے اور یہ کفر ہے (٨) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں قرآن کریم میں یوں فرمایا ہے (ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِه لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا) 9 ۔ التوبہ 40) (مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے موقع پر) دو آدمیوں میں سے ایک آپ ﷺ تھے جس وقت کہ دونوں (ثور) غار میں تھے جب کہ آپ ﷺ اپنے ساتھیوں سے فرما رہے تھے تم غم نہ کرو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں جس ہستی کا ذکر اپنے رسول ﷺ کے ساتھی اور جاں نثار کی حیثیت سے کرے، اس کو برا کہنے والوں کا انجام کیا ہوگا اس کا اندازہ خود لگا لینا چاہئے۔ (٩) قرآن کریم کی اس آیت (وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ ) 24 ۔ النور 22) اور جو لوگ تم میں (دینی) بزرگی والے اور (دنیاوی) وسعت والے ہیں۔ میں جس ہستی کی طرف اشارہ مقصود ہے وہ حضرت ابوبکر کی ذات ہے جیسا کہ محقق مفسرین اور علماء اسلام نے وضاحت کی ہے پس ان کے فضل کا انکار کرنا قرآن کریم کا صریح رد کرنا ہے۔ (١٠) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (وَسَيُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى 17 الَّذِيْ يُؤْتِيْ مَالَه يَتَزَكّٰى 18 وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَه مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰ ى 19 اِلَّا ابْتِغَا ءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰى 20 وَلَسَوْفَ يَرْضٰى 21) 92 ۔ الیل 17 تا 21) اور اس (دوزخ سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہے، جو اپنا مال (محض) اس غرض سے دیتا ہے کہ (گناہوں سے) پاک ہوجائے اور بخیر اپنے علیشان پروردگار کی رضا جوئی کے اس کے ذمہ کسی نہ تھا اس کا بدلہ اتارنا مقصود ہوتا اور یہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا (یعنی آخرت میں ایسی ایسی نعمتیں ملیں گی) ۔ یہ آیتیں بھی حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں ہیں حضرت علی کی شان میں نہیں ہوسکتیں، چناچہ ماہرین تفسرین نے اسی حقیقت کے پیش نظر ان آیتوں کا محمول ومدلول حضرت ابوبکر قرار دیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ آیتوں کا شان نزول حضرت ابوبکر صدیق کا واقعہ ہے کہ انہوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے بڑی مقدار میں اپنا مال خرچ کرکے حضرت بلال وغیرہ کو کافروں سے خریدا اور آزاد کردیا پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ بڑا پرہیزگار بتائے وہ رحمت ورضوان کا مستحق ہوگا یا لعنت وخذلان کا مستوجب ؟ اب صحیح احادیث کو دیکھنا چاہیے کہ ان سے کیا ثابت ہوتا ہے، روافض کا کفر یا ایمان ؟ واضح رہے کہ یہاں چند ہی احادیث پر اکتفا کیا جائے گا جب کہ اس سلسلہ میں بیشمار حدیثیں منقول ہیں عن عوبمر ابن ساعدۃ انہ ﷺ قال ان اللہ اختارلی واختارلی اصحابا فجعل لی منہم وزراء وانصارا واصہارا فمن سبہم فعلیہم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین ولایقبل اللہ منہ صرفا ولا عدلا۔ (محاملی، طبرانی، حاکم ) عویمر ابن ساعدہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب فرمایا اور میرے لئے رفقاء اور ساتھی بھی منتخب فرمائے اور پھر ان رفقاء میں سے کچھ کو میرا وزیر، کچھ کو میرا مددگار اور کچھ کو میرا رشتہ دار بنایا پس جس شخص نے ان کو برا کہا اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں، کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت، اللہ تعالیٰ نہ تو اس کی توبہ قبول کرے گا اور نہ اس کا فدیہ یا یہ کہ نہ نفل اس کا مقبول ہوگا نہ فرض۔ عن علی عن النبی ﷺ قال سیاتی من بعدی قوم یقال لہم الرفضۃ فان ادرکتہم فاقتلہم فانہم مشر کون قال قلت یا رسول اللہ ﷺ ما العلامۃ فیہم قال یفرطونک بما لیس فیک ویطعنون علی السلف (دارقطنی ) ۔ حضرت علی نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد ایک گروہ پیدا ہوگا جن کو رافضی کہا جائے گا پس اگر تم ان کو پاؤ تو ان کو قتل کرنا کیونکہ وہ مشرک ہونگے حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ان کی پہچان کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ تمہیں ان چیزوں کے ذریعہ نہایت اونچا دکھائیں گے جو تم میں نہیں ہوں گی اور صحابہ پر لعن طعن کریں گے اور دارقطنی ہی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ۔ وذلک یسبون ابابکر وعمر ومن سب اصحابی فعلیہ لعنت اللہ والملئکۃ والناس۔ اور ان لوگوں کو مشرک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ابوبکر صدیق کو برا کہیں گے اور جس شخص نے میرے صحابہ کو برا کہا اس پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور لوگوں کی لعنت۔ اسی طرح کی روایت حضرت انس، حضرت عیاض انصاری، حضرت جابر، حضرت حسن ابن علی، حضرت ابن عباس، حضرت فاطمہ زہرا اور حضرت ام سلمہ (رض) سے بھی منقول ہے اور یہ بھی آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من ابغضہم فقد ابغضنی ومن اذا ہم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ۔ جس شخص نے صحابہ کو دشمن رکھا اس نے درحقیقت مجھ دشمن رکھا اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے درحقیقت مجھ کو ایذاء پہنچائی اور جس اس نے درحقیقت اللہ ایذاء پہنچائی۔ ابن عساکر نے یہ حدیث نقل کی ہے کی ۔ ان رسول اللہ ﷺ قال حب ابی بکر وعمر ایمان وبغضہما کفر۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابوبکرو عمر کو دوست و محبوب رکھنا ایمان ہے اور ان دونوں سے بغض وعناد رکھنا کفر ہے۔ عبداللہ ابن احمد نے حضرت انس (رض) سے بطریق مرفوع نقل کیا ہے کہ انی لارجولامتی فی حبہم لابی بکر وعمر ماارجولہم فی قول لاالہ الا اللہ۔ بلاشبہ میں اپنی امت کے لئے، ان کی اس محبت کے عوض کہ جو وہ ابوبکرو عمر کے تئیں رکھیں گے، اس چیز کی امید رکھتا ہوں جو ان کے لئے کلمہ لاالہ الا اللہ کے عوض مقرر ہے۔ نیز محبت اور بغض کے درمیان چونکہ تناقض ہے اس لئے جب ابوبکر وعمر سے محبت رکھنے کا یہ حال معلوم ہوا کہ اس کا اجر سلامتی ایمان اور دنیا وآخرت میں فلاح و کامرانی کی صورت میں ہے تو منطقی طور پر یہ نتیجہ نکلا کہ ان سے بغض ونفرت رکھنا کفر اور اس کا انجام دنیا وآخرت میں ذلت و تباہی کی صورت میں ہے۔ ان حادیث کے بعد اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس بارے میں ائمہ دین اور رہنمایان شریعت کے ارشادات و اقوال کیا ہیں پہلے اس اصول کو ذہن میں رکھ لینا چاہئے کہ تکفیر مؤمنین یعنی کسی مؤمن و مسلمان کو کافر کہنا بجائے خودکفر ہے کیونکہ صحیح حدیث میں منقول ہے کہ جو شخص کسی کو کافر کہے یا عدو اللہ (اللہ کا دشمن) کہے اور حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو تو کفر لوٹ کر خود کہنے والے پر آجاتا ہے پس صحابہ کا مومن و مسلمان ہونا چونکہ قطعی ہے اس لئے جو شخص ان کو کافر کہے گا وہ کفر خود اسی پر لوٹ جائے گا یہاں یہ بات ذکر کردینا موزوں ہے کہ روافض نہ صرف یہ کہ تکفیر صحابہ اور غذف عائشہ صدیقہ کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ ان دونوں چیزوں کو، کہ جو اعظم موجبات کفر میں سے ہیں، ترقی درجات کا سبب بھی مانتے ہیں حالانکہ یہ سب کے نزدیک مسلمہ ہے کہ محض استحلال معصیت ہی کفر ہے چہ جائیکہ کفر کو ترقی درجات کا موجب مانا جائے۔ امام ابوزرعہ نے جو امام مسلم کے جلیل القدر شیوخ میں سے ہیں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیض و توہین کرے تو بلاشبہ وہ زندیق ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن حق ہے اور رسول جو کچھ (دین و شریعت) لے کر آئے وہ حق ہے نیز ان سب (قرآن اور دین و شریعت) کو نقل اور ہدایت کے ذریعہ ہم تک پہنچانے والے ان صحابہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے پس جس شخص نے ان صحابہ میں عیب ونقص نکالا اس نے دراصل کتاب وسنت کو باطل اور لغو قرار دینے کا ارادہ کیا۔ اس اعتبار سے سب سے بڑا عیب دار اور ناقص خود وہی شخص قرار پائے گا اور اس پر زندقہ و ضلالت کا حکم راست و درست آئے گا۔ حضرت سہل ابن عبداللہ تستری کا قول ہے، اس شخص کو آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والا ہرگز نہیں کہا جاسکتا جس نے آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی تو قیر نہ کی۔ محیط میں حضرت امام محمد (رح) سے منقول ہے کہ رافضیوں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ وہ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت کے منکر ہیں۔ خلاصہ میں لکھا ہے من انکرخلافۃ الصدیق فہو کافر یعنی جس شخص نے ابوبکر صدیق کی خلافت کا انکار کیا وہ کافر ہیں مرغینانی میں مذکور ہے اہل ہواء اور مبتدعین کے پیچھے نماز مکروہ ہے جب کہ رافضیوں کے پیچھے ناجائز ہے۔ قاضی نے شفاء میں لکھا ہے کہ حضرت ابن انس وغیرہ کا قول ہے من ابغض الصحابۃ وسبہم فلیس لہ فی المسلمین حق۔ جس شخص نے صحابہ سے بغض رکھا اور ان کو برا کہا اس کا مسلمانوں کے مال فے میں کوئی حق نہیں۔ انہی کا یہ قول بھی ہے کہ من غاظہ اصحاب محمد ﷺ فہو کافر قال اللہ تعالیٰ (لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ) 48 ۔ الفتح 29) جس شخص نے اصحاب محمد کے تئیں بغض وغصہ رکھا، وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد تاکہ ان سے کافروں کو غصہ دلائے کے بموجب کافر ہے۔ قاضی ابوبکر باقلانی نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے اور بیہقی نے امام اعظم ابوحنیفہ سے بھی ایسا ہی قول نقل کیا ہے بلکہ فقہائے حنفیہ نے شیعوں کو جو کافر کہا ہے اس کی بنیاد حضرت امام اعظم ہی کا قول ہے یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ شیعوں اور رافضیوں کے معتقدات کو سب سے زیادہ جاننے والے حضرت امام اعظم ہی ہیں کیونکہ وہ کوفی ہے اور رفض و تشیع کا اصل منبع و مرکز کوفہ ہی رہا ہے۔ پس اگر امام اعظم نے خلافت صدیق کے منکر کی تکفیر کی ہے تو حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر فاروق یا کسی بھی صحابی کو لعنت کرنے والا ان کے نزدیک بدرجہ اولی کافر ہوگا۔ حضرت امام مالک نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی کو بھی مثلا حضرت ابوبکر کو یا حضرت عمر کو اور یا حضرت عثمان کو برا کہنے والے کے بارے میں حکم بیان کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ فان قال کانوا علی ضلال اوکفر قتل۔ اگر وہ شخص یہ کہے کہ وہ (صحابہ) گمراہ تھے یا کافر تھے تو اس شخص کو قتل کیا جائے۔ حضرت امام احمد ابن حنبل (رح) کے قول و ارشادات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی روافض کے ارتداد کے قائل تھے، بہرحال روافض کے کفر کی یہ چند دلیلیں ہیں، اگرچہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں درازگی کے خوف سے انہی چند دلائل کے ذکر پر اکتفا کیا گیا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ عام مسلمان بھائی شک وشبہ کا شکار نہ رہیں ان کو صحابہ کی عظمت اور ان کو برا کہنے والوں کی برائی معلوم ہوجائے۔ رافضیوں کے فریب سے ہوشیار رہیں، اپنا عقیدہ خراب نہ کریں، ان کے میل جول سے اجتناب کریں اور ان کے ساتھ رشتہ ناطہ جوڑنے سے بھی باز رہیں اور اگر صحابہ کے فضائل ومناقب سے متعلق ان آیات و احادیث کو دیکھ کر شاید کسی شیعہ کو توفیق الہٰی نصیب ہوجائے تو وہ توبہ کرکے اپنی عاقبت درست کرلے۔
5954
Mishkaat Shareef
صحیح
ہوسکتا ہے کوئی رافضی یہ اعتراض کرے کہ مشہور کتاب شرح عقائد نسفی میں اس بات کو آسان نہیں بتایا گیا ہے کہ شیخین کو برا کہنے والے کو کافر قرار دے دیا جائے، نیز صاحب جامع الاصول اور صاحب مواقف نے شیعوں کو اسلامی فرقوں میں شمار کیا ہے، اسی طرح ابوالحسن اشعری اور امام غزالی نے بھی اس کو مناسب نہیں سمجھا کہ اہل قبلہ کو کافر کہا جائے، لہذا جو لوگ شیعوں کو کافر کہتے ہیں ان کا قول سلف اہل سنت کے موافق نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشبہ ان بزرگان امت اور اساطین علم نے شیعوں کی تکفیر میں احتیاط کا دامن تھاما ہے اور اس فرقہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے میں تامل کیا ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان حضرات نے شیعوں کے تمام عقائد ونظریات اور ان کے احوال و معاملات پوری طرح جاننے کے باوجود ان کی تکفیر سے اعراض کیا ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ان بزرگوں کے ذہن میں شیعیت کا مسئلہ پوری طرح واضح نہیں تھا اور شیعوں کے بارے میں اسی خیال و نظریہ کا اظہار کیا جو ان کے اس وقت کے علم اور معلومات کے مطابق اور اس طرح کی بہت نظیریں ملتی ہیں کہ جلیل القدر صحابہ تک کو بعض مسائل میں اشتباہ ہوا اور ان کا قول یا عمل ان کے مسائل کے حقیقی پہلو سے مختلف ظاہر ہوا مثال کے طور پر حضرت عبداللہ ابن مسعود کو نماز میں اطباق یدین کے مسئلہ میں اشتباہ کا ہونا یا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بیع امہات اولاد کے اور زندیقون کو آگ میں جلادینے کے مسئلہ میں اشتباہ ہونا اور یا حضرت عمر فاروق کو جنبی کے تیمم کے مسئلہ میں اشتباہ ہونا پس مذکورہ بالا بزرگوں کی نظر، محض اس بات پر گئی کہ شیعہ اہل قبلہ اور کلمہ گو ہیں اور اسی بناء پر انہوں نے ان کی تکفیر سے احتیاط برتی، اگر ان کے علم میں شیعوں کے وہ تمام عقائد اور حالات تفصیل کے ساتھ آجاتے جوان کے اہل قبلہ اور کلمہ گو ہونے کے صریح منافی ہیں اور جو کسی بھی شخص کی تکفیر کے لئے واضح ثبوت اور دلیل کی حیثیت رکھتے ہیں تو یقینا وہ بزرگ بھی ان کی تکفیر کے قائل ہوتے جب خلیفۃ المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق نے زکوٰۃ کی فرضیت اور ادائیگی سے انکار کرنے والے کے خلاف تلوار اٹھانے کا فیصلہ کیا تو حضرت عمر اور حضرت علی نے ان لوگوں کے کلمہ گو ہونے ہی کی بنیاد پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے سامنے ان کی سفارش کی اور کہا کہ ہم ان لوگوں کے خلاف جنگ و قتال کیسے کرسکتے ہیں جب کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لاالہ الا اللہ۔ مجھے (پروردگار کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لاالہ الا اللہ کہیں۔ حضرت ابوبکر نے پورے عزم کے ساتھ جواب دیا کہ میں ہر اس شخص کے خلاف جنگ و قتال کروں گا جو نماز اور روزہ کے درمیان فرق کرے گا ( اور اس کی کلمہ گوئی میرے ارادہ میں حائل نہیں ہوگی) حضرت عمر بولے میں نے دیکھ لیا کہ اس مسئلہ میں اللہ تعالیٰ نے ابوبکر صدیق (رض) کو شرح صدر عطا فرمادیا ہے اور اب میں کہہ سکتا ہوں کہ حق وہی ہے جو ابوبکر کہہ رہے ہیں یہ بھی احتمال ہے کہ محولہ بالا بزرگوں نے اپنے اقوال ونظریات کا اظہار ان شیعوں کے بارے میں فرمایا ہو جو اس زمانہ میں ایسے برے اور فاسد عقائد واحو ال نہیں رکھتے تھے جیسے بعد میں شیعوں اور رافضیوں نے اختیار کرلئے۔ اس کی تائید مرقاۃ میں ملا علی قاری کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے کہ قلت وہذا فی حق الرافضۃ والخارجۃ فی ز ماننا کانہم یعتقدون کفر اکثر اکابر الصحابۃ فضلا من سائر اہل السنۃ والجماعۃ فہم کفر بالاجماع بلانزاع۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بات ہمارے زمانہ کے رافضیوں اور خارجیوں کے حق میں صادق آتی ہے کیونکہ ان فرقوں کے لوگ اکابر صحابہ میں سے اکثر کے کفر کا عقیدہ رکھتے ہیں اور تمام اہل سنت والجماعت کو بھی کافر سمجھتے ہیں ان فرقوں کے کافر ہونے پر اجماع ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
5955
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي بردة عن أبيه قال : رفع - يعني النبي صلى الله عليه و سلم - رأسه إلى السماء وكان كثيرا ما يرفع رأسه إلى السماء . فقال : النجوم أمنة للسماء فإذا ذهبت النجوم أتى السماء ما توعد وأنا أمنة لأصحابي فإذا ذهبت أنا أتى أصحابي ما يوعدون وأصحابي أمنة لأمتي فإذا ذهب أصحابي أتى أمتي ما يوعدون . رواه مسلم
اور حضرت ابوبردہ (رض) اپنے والد (حضرت ابوموسیٰ اشعری) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے یعنی حضرت ابوموسی نے بیان کیا کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے آسمان کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ ﷺ اکثر (وحی کے انتظار میں) آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے اور پھر فرمایا ستارے آسمان کے لئے امن و سلامتی کا باعث ہیں جس وقت یہ ستارے جاتے رہیں گے تو آسمان کے لئے وہ چیز آجائے گی جو موعود ومقدر ہے، میں اپنے صحابہ کے لئے امن و سلامتی کا باعث ہوں، جب میں (اس دنیا سے) چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ میری امت کے لئے امن و سلامتی کا باعث ہیں جب میرے صحابہ (اس دنیا سے) رخصت ہوجائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آپڑے گی جو موعود ومقدر ہے۔ (مسلم)

تشریح
ستارے کا لفظ سورج اور چاند کو بھی شامل ہے۔ اور ستاروں کے جاتے رہنے سے مراد سورج، چاند اور تمام ستاروں کا بےنور ہوجانا ٹوٹ پھوٹ کر گرپڑنا اور معدوم ہوجانا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے۔ اذا الشمس کورت واذا النجوم انکدرت۔ جب (قیامت کے دن) آفتاب بےنور ہوجائے گا اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرپڑیں گے۔ آسمان کے لئے جو چیز موعود ومقدر ہے سے مراد قیامت کے دن آسمانوں کا پھٹ جانا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر روئی کے گا لوں کی طرح اڑنا ہے، اس کی خبر قرآن کریم نے اذا السماء انطفرت (جب آسمان پھٹ جائے گا) اور اذا السماء انشقت (جب آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا) الفاظ میں دی ہے۔ صحابہ کے لئے موعود ومقدر چیز سے مراد فتنہ و فساد، اختلاف ونزاعات باہمی جنگ وجدل اور بعض اعرابی قبائل کا مرتد ہوجانا اسی طرح امت کے لئے موعود ومقدر چیز سے مراد بداعتقادی و بدعملی کے فتنوں کا امنڈ پڑنا، بدعات کا زور ہوجانا، مسلمانوں پر دینی وملی سانحات وحادثات کا واقع ہونا، اہل خیر و برکت کا اس دنیا سے اٹھ جانا، اہل شر کا باقی رہنا اور ان (اہل شر) پر قیامت قائم ہونا، پس اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اہل خیر کا وجود شر کے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جب اہل خیر اٹھ جاتے ہیں تو شر کو در آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کا وجود آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لئے شر سے حفاظت کا مکمل ضامن تھا، کسی بھی معاشرے میں فتنہ کی ابتداء مختلف الذہن اور مختلف الخیال لوگوں کی باہمی آویزش اور ایک دوسرے کے خلاف رائے ہوتا تو آنحضرت ﷺ وہ پہلو بیان فرما دیتے جو حقیقت کے مطابق ہوتا اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین اسی پر جم جاتے تھے۔ اسی صورت میں کسی فتنہ کے پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا تھا، جب آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو صورت حال مختلف ہوگئی۔ صحبت رسول ﷺ سے محروم مسلمانوں کی کثرت ہوتی گئی خود رائی کا رجحان پیدا ہونے لگا اور چونکہ اس خود رائی کی بنیاد ذاتی اغراض اور نفسیاتی خواہشات ہوتی تھی اس لئے فتنہ و فساد جنم لینے لگے، وہ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بڑی تعداد موجود تھی جو کسی بھی معاملہ میں اپنی ذاتی خواہش اور رجحان کو اہمیت نہیں دیتے تھے بلکہ ہر معاملہ اور ہر مسئلہ میں آنحضرت ﷺ کے قول یا فعل اور یا دلالت حال سے استناد کرتے تھے اور ذات رسالت پناہ کی صحبت ورفاقت کے انوار سے بھر پور تھے، اس لئے ان کا وجود بہرحال اتنا باعث خیروبرکت تھا کہ فتنوں اور برائیوں کے اندھیرے زیادہ پھیلنے نہیں پائے لیکن جب ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وجود بھی اس دنیا سے رخصت ہوگیا تو انواروبرکات میں بہت ہی کمی آگئی اور تاریکیوں کو بڑھنے پھیلنے کا موقع مل گیا۔ اسی حقیقت کو آنحضرت ﷺ نے ستاروں اور آسمان کی مثال کے ذریعہ پہلے سے بیان فرما دیا تھا کہ یہ ایسا ہی ہے جسے کہ آسمان کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک چاند سورج اور ستارے اپنی ضیا پاشیوں کے ساتھ موجود ہیں جب یہ ستارے ختم ہوجائیں گے تو آسمان کے وجود کے خاتمہ کا وقت آجائے اور جب آسمان کا وجود ختم ہوجائے گا تو پوری کائنات اپنے عدم کی تاریکی میں گم ہوجائے گی۔ پس صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین ان ستاروں کی مانند ہیں جن کے وجود سے کائنات کو روشنی ملتی ہے اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اصحابی کالنجوم بایہم اقتدیتم اہتدیتم۔ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں جس کی بھی اقتدا کرو گے راہ یاب ہوگے۔