hadith book logo

Mishkaat Shareef

63. مکہ میں داخل ہونے اور طواف کرنے کا بیان

مشكاة المصابيح

2603
Mishkaat Shareef
صحیح
مکہ کے لغوی معنی ہیں ہلاک کرنا، برباد کرنا اس شہر مقدس کو مکہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور اس شخص کو آخرت یا دنیا ہی میں ہلاک کرا دیتا ہے جو اس شہر میں ظلم و کجروی اختیار کرتا ہے۔ اس باب میں ان چیزوں کو ذکر کیا جائے گا کہ مکہ آنے والا اس مقدس شہر میں کس طرف سے داخل ہو، کس طرف سے نکلے، کس وقت آئے اور یہ کہ داخلہ کے وقت کیا اداب و قواعد ملحوظ ہونے چاہئیں، نیز طواف اور اس کے متعلقات مثلاً حجر اسود کو بوسہ دینے وغیرہ کی کیفیات اور ان کے مسائل کا بیان ہوگا۔
2604
Mishkaat Shareef
صحیح
عن نافع قال : إن ابن عمر كان لا يقدم مكة إلا بات بذي طوى حتى يصبح ويغتسل ويصلي فيدخل مكة نهارا وإذا نفر منها مر بذي طوى وبات بها حتى يصبح ويذكر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يفعل ذلك
حضرت نافع (رض) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) جب بھی مکہ آتے، تو ذی طوی میں رات گزارتے اور جب صبح ہوتی تو غسل کرتے اور نماز پڑھتے پھر دن کو مکہ میں داخل ہوتے اور جب مکہ سے واپس ہوتے تو اس وقت بھی ذی طویٰ سے گزرتے اور صبح تک وہیں رات بسر کرتے، نیز حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ذی طوی ایک جگہ کا نام ہے جو حدود حرم میں مقام تنعیم کی طرف واقع ہے نبی کریم ﷺ جب مکہ تشریف لائے تو استراحت کے لئے رات ذی طوی گزارتے پھر صبح غسل فرماتے اور نماز پڑھ کر اس شہر مقدس میں داخل ہوتے۔ نماز سے بظاہر نماز نفل مراد ہے جو وہاں جانے کے لئے پڑھتے تھے، پھر جب آپ ﷺ مکہ سے واپس ہوتے تو اس وقت بھی ذی طویٰ میں قیام فرماتے تاکہ رفقاء وہاں جمع ہوجائیں اور سب لوگوں کا سامان وغیرہ اکٹھا ہوجائے۔ حضرت ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مکہ میں دن کے وقت داخل ہونا مستحب ہے تاکہ شہر میں داخل ہوتے ہی بیت اللہ شریف نظر آئے اور دعا کی جائے۔
2605
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : إن النبي صلى الله عليه و سلم لما جاء إلى مكة دخلها من أعلاها وخرج من أسفلها
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب مکہ تشریف لائے تو شہر میں اس کے بلند حصہ کی طرف سے داخل ہوئے اور (واپسی کے وقت) نشیبی حصے کی طرف سے نکلے۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
مکہ کے جس طرف ذی طوی ہے وہی شہر کا بلند حصہ ہے، جنت المعلی یعنی مکہ کا مشہور قبرستان بھی اسی جانب ہے۔ شہر کی دوسری جانب نشیبی حصہ ہے۔ پہلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ مکہ کے نیشبی حصہ سے نکل کر جب مدینہ کا راستہ اختیار کرتے تو ذی طویٰ پہنچتے اور وہاں رات گزار کر صبح مدینہ کے لئے روانہ ہوجاتے۔
2606
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عروة بن الزبير قال : قد حج النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرتني عائشة أن أول شيء بدأ به حين قدم مكة أنه توضأ ثم طاف بالبيت ثم لم تكن عمرة ثم حج أبو بكر فكان أول شيء بدأ به الطواف بالبيت ثم لم تكن عمرة ثم عمر ثم عثمان مثل ذلك
حضرت عروہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کیا اور حضرت عائشہ (رض) نے مجھ سے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے مکہ پہنچ کر جو سب سے پہلے کام کیا وہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور پھر بیت اللہ کا طواف کیا (یعنی عمرہ کا طواف کیا کیونکہ آپ ﷺ قارن یا متمتع تھے اور عمرہ نہیں ہوا، پھر آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر (رض) نے حج کیا تو آپ نے بھی بیت اللہ کے طواف سے افعال حج کی ابتداء کی اور عمرہ نہیں ہوا، پھر حضرت عمر (رض) نے اور حضرت عثمان (رض) نے بھی اسی طرح کیا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
آپ ﷺ نے وضو کیا۔ کا مطلب یہ ہے کہ مکہ پہنچ کر طواف بیت اللہ سے پہلے آپ ﷺ نے دوبارہ وضو کیا، کیونکہ یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ذی طویٰ میں غسل کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ غسل میں وضو بھی شامل ہوتا تھا۔ طواف کے صحیح ہونے کے لئے طہارت یعنی پاکی جمہور علماء کے نزدیک تو شرط ہے لیکن حنفیہ کے ہاں شرط نہیں ہے البتہ واجب ہے۔ گزشتہ احادیث میں یہ بات گزر چکی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ نے مکہ پہنچ کر عمرہ کیا، اس کے بعد جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ لائے تھے وہ تو احرام باندھے رہے اور جو لوگ قربانی کا جانور ساتھ نہ لائے تھے انہوں نے احرام کھول دیا۔ لہٰذا اور عمرہ نہ ہوا کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حج کو فسخ یعنی موقوف کر کے عمرہ نہیں کیا اور احرام نہیں کھولا بلکہ آپ ﷺ عمرہ کے بعد احرام ہی کی حالت میں رہے کیونکہ قارن تھے اور پھر آخر میں قربانی کے دن آپ ﷺ نے احرام کھولا۔ لہٰذا راوی نے یہ بات اس لئے کہی تاکہ ان لوگوں کی تردید ہوجائے جو یہ گمان کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے حج کو فسخ کر کے عمرہ کیا۔ یا پھر اس جملہ کی مراد یہ ہے کہ ان سب نے حج کے بعد الگ سے اور عمرہ نہیں کیا بلکہ اسی عمرہ پر اکتفاء کیا جو حج کے ساتھ شامل تھا۔
2607
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا طاف في الحج أو العمرة ما يقدم سعى ثلاثة أطواف ومشى أربعة ثم سجد سجدتين ثم يطوف بين الصفا والمروة
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو پہلے تین شوط میں تیز تیز (اور اکڑ کر) چلتے (یعنی رمل کرتے) اور باقی چار شوط میں اپنی معمولی رفتار سے چلتے پھر طواف کی دو رکعت نماز پڑھتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
خانہ کعبہ کے گرد ایک پھیرے کو شوط کہتے ہیں اور سات شوط کا ایک طواف ہوتا ہے، چناچہ نبی کریم ﷺ طواف کے وقت تین پھیروں میں تو اس طرح تیز چلتے کہ قدم پاس پاس رکھتے اور جلد جلد اٹھاتے اور دوڑتے اور اچھلتے نہ تھے اور باقی چار پھیرے اپنی معمولی رفتار سے چل کر کرتے۔
2608
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : رمل رسول الله صلى الله عليه و سلم من الحجر ثلاثا ومشى أربعا وكان يسعى ببطن المسيل إذا طاف بين الصفا والمروة . رواه مسلم
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے طواف کے وقت حجر اسود سے حجر اسود تک تین پھیروں میں تو رمل کیا اور چار پھیروں میں اپنی معمولی رفتار سے چلے اور جب صفا و مرہ کے درمیان سعی کرتے تو بطن مسیل میں دوڑتے تھے۔ (مسلم)

تشریح
سعی کرنا یعنی صفا ومروہ کے درمیان سات پھیرے کرنا حنفیہ کے نزدیک واجب ہے جب کہ حضرت اما شافعی کے ہاں رکن ہے۔ بطن مسیل صفا ومروہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے شناخت کے لئے اس کے دونوں سروں پر نشان بنے ہوئے ہیں، جنہیں میلین اخضری کہتے ہیں۔ سعی کے وقت اس جگہ تیز رفتاری سے چلنا تمام علماء کے نزدیک سنت ہے۔
2609
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما قدم مكة أتى الحجر فاستلمه ثم مشى على يمينه فرمل ثلاثا ومشى أربعا . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (جب حج یا عمرہ کے لئے) مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو بوسہ دیا پھر (طواف کے لئے) داہنے ہاتھ کی طرف چلے، چناچہ تین مرتبہ تو بازو ہلاکر اور جلدی جلدی چلے (جس طرح پہلوان چلتے ہیں) اور چار مرتبہ اپنی معمولی رفتار سے چلے۔ (مسلم)
2610
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن الزبير بن عربي قال : سأل رجل ابن عمر عن استلام الحجر فقال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يستلمه ويقبله . رواه البخاري
حضرت زبیر ابن عربی (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر (رض) سے حجر اسود کو بوسہ دینے کے سلسلہ میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اسے ہاتھ لگاتے اور چومتے تھے۔ (بخاری)
2611
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر قال : لم أر النبي صلى الله عليه و سلم يستلم من البيت إلا الركنين اليمانيين
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو خانہ کعبہ کے صرف دو رکن کا استلام کرتے دیکھا ہے جو یمن کی سمت ہیں۔ (بخاری مسلم)

تشریح
کعبہ مقدسہ کے چار رکن یعنی چار کونے ہیں، ایک رکن تو وہ ہے جس میں حجر اسود نصب ہے، دوسرا اس کے سامنے ہے اور حقیقت میں یمانی اسی رکن کا نام ہے، مگر اس طرف کے دونوں ہی رکن کو تغلیبا رکن یمانی ہی کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ دو رکن اور ہیں جن میں سے ایک تو رکن عراقی ہے اور دوسرا رکن شامی مگر ان دونوں کو رکن شامی ہی کہتے ہیں۔ جن میں رکن حجر اسود ہے اس کو دوہری فضیلت حاصل ہے، ایک فضیلت تو اسے اس لئے حاصل ہے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا ہے اور دوسری فضیلت یوں حاصل ہے کہ اس میں حجر اسود ہے، جب کہ رکن یمانی کو صرف یہی ایک فضیلت حاصل ہے کہ اسے حضرت ابراہیم نے بنایا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان دونوں رکن کو رکن شامی و عراقی پر فضیلت و برتری حاصل ہے۔ اسی لئے اسلام انہیں دونوں رکن کے ساتھ مختص ہے۔ استلام کے معنی ہیں لمس کرنا یعنی چھونا یہ چھونا خواہ ہاتھ وغیرہ کے ذریعہ ہو یا بوسہ کے ساتھ اور یا دونوں کے ساتھ لہٰذا جب یہ لفظ رکن اسود کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے حجر اسود کو چومنا مقصود ہے اور جب رکن یمانی کی نسبت استعمال ہوتا ہے تو اس سے رکن یمانی کو صرف چھونا مراد ہوتا ہے۔ چونکہ رکن اسود، رکن یمانی سے افضل ہے اس لئے اس کو بوسہ دیتے ہیں یا ہاتھ وغیرہ لگا کر یا کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کر کے چومتے ہیں اور رکن یمانی کو صرف چوما جاتا ہے اس کو بوسہ نہیں دیا جاتا، بقیہ دونوں رکن یعنی شامی اور عراقی کو نہ بوسہ دیتے ہیں اور نہ ہاتھ لگاتے ہیں، چناچہ مسئلہ یہی ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور پتھر وغیرہ کو نہ چومنا چاہئے اور نہ ہاتھ لگانا چاہئے۔
2612
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : طاف النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع على بعير يستلم الركن بمحجن
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور محجن کے ذریعہ حجر اسود کو بوسہ دیا۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
حنفیہ کے ہاں چونکہ پیادہ پا طواف کرنا واجب ہے اس لئے اس حدیث کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے کسی عذر اور مجبوری کی بناء پر اس طرح طواف کیا ہوگا۔ لہٰذا یہ طواف آنحضرت ﷺ کے ساتھ مختص ہے کسی اور کو سواری پر بیٹھ کر طواف کرنا جائز نہیں ہے۔ علامہ طیبی شافعی فرماتے ہیں کہ اگرچہ پیادہ پا طواف کرنا افضل ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر اس لئے طواف کیا تاکہ سب لوگ آپ ﷺ کو دیکھتے رہیں۔ یہاں ایک اشکال بھی واقع ہوتا ہے وہ یہ کہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر طواف کرتے ہوئے پہلے تین پھیروں میں رمل کیا تھا، جب کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں رمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا پیادہ پا طواف کرنا اور اس کے تین پھیروں میں رمل کرنا طواف قدوم کے موقع پر تھا اور اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرنے کا تعلق طواف افاضہ سے ہے جو فرض ہے اور قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) ہوا تھا اور جسے طواف الرکن بھی کہتے ہیں۔ اور اس موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کرنے کی وجہ یہی تھی کہ لوگ آپ ﷺ کو دیکھتے رہیں۔ تاکہ طواف افعال و مسائل سیکھ لیں۔ محجن اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کا سرا خمدار ہوتا ہے ا، اس کے ذریعہ حج اسود کو بوسہ دینے کی صورت یہ تھی کہ آپ ﷺ اس لکڑی سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے اس کو چومتے تھے۔