hadith book logo

Mishkaat Shareef

35. جن لوگوں کو سوال کرنا جائز کرنا جائز ہے اور جن کو جائز نہیں ہے ان کا بیان

مشكاة المصابيح

1831
Mishkaat Shareef
صحیح
علماء لکھتے ہیں کہ جس شخص کے پاس ایک دن کے بقدر بھی غذا اور ستر چھپانے کے بقدر کپڑا ہو تو اسے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بغیر ضرورت و حاجت مانگنا حرام ہے ہاں جس شخص کے پاس ایک دن کی بھی غذا اور ستر چھپانے کے بقدر بھی کپڑا نہ ہو تو اس کے لئے دست سوال دراز کرنا حلال ہے جو محتاج و فقیر ایک دن کی غذا کا مالک ہو اور وہ کمانے کی قدرت رکھتا ہو تو اس کے لئے زکوٰۃ لینا تو حلال ہے مگر لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنا حرام ہے جس مسکین و محتاج کو ایک دن کی غذا بھی میسر نہ ہو اور وہ کمانے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔ نووی (رح) نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر ضرورت و احتیاج لوگوں سے مانگنا ممنوع ہے البتہ جو شخص کمانے کی قدرت رکھتا ہو اس کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ چناچہ زیادۃ صحیح قول تو یہ ہے کہ ایسے شخص کہ جو کما کر اپنا گزارہ کرسکتا ہو لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنا حرام ہے لیکن بعض حضرات مکروہ کہتے ہیں وہ بھی تین شرطوں کے ساتھ۔ اول یہ کہ دست سوال دراز کر کے اپنے آپ کو ذلیل نہ ہونے دے، دوم الحاح یعنی مانگنے میں مبالغہ سے کام نہ لے، سوم یہ کہ جس شخص کے آگے دست سوال دراز کر رہا ہے اسے تکلیف و ایذاء نہ پہنچائے اگر ان تین شرطوں میں سے ایک بھی پوری نہ ہو تو پھر سوال کرنا بالاتفاق حرام ہوگا۔ ابن مبارک (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا جو سائل لوجہ اللہ کہہ کر سوال کرے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کہ اسے کچھ دیا جائے کیونکہ دنیا اور دنیا کی چیزیں کمتر و حقیر ہیں، جب اس نے دنیا کی کسی چیز کے لئے لوجہ اللہ کہہ کر سوال کیا تو گویا اس نے اس چیز (یعنی دنیا) کی تعظیم و توقیر کی جسے اللہ تعالیٰ نے کمتر و حقیر قرار دیا ہے لہٰذا ایسے شخص کو از راہ زجر و تنبیہ کچھ نہ دیا جائے اور اگر کوئی شخص یہ کہہ کر سوال کرے کہ بحق اللہ یا بحق محمد دو ، تو اسے کچھ دینا واجب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اپنی کوئی غلط اور جھوٹی حاجت و ضرورت ظاہر کر کے کسی سے کوئی چیز لے تو وہ اس چیز کا مالک نہیں ہوتا (گویا وہ چیز اس کے حق میں ناجائز و حرام ہوتی ہے) اسی طرح کوئی شخص کسی سے یہ کہے کہ میں سید ہوں اور مجھے فلاں چیز کی یا اتنے روپیہ کی ضرورت ہے اور وہ شخص سائل کو سید سمجھ کر اس کا سوال پورا کر دے مگر حقیقت میں وہ سید نہ ہو تو وہ بھی اس مانگی ہوئی چیز کا مالک نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں وہ چیز اس کے حق میں ناجائز و حرام ہوتی ہے۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص کسی سائل کو نیک بخت صالح سمجھ کر کوئی چیز دے دے حالانکہ وہ سائل باطنی طور پر ایسا گنہگار ہے کہ اگر دینے والے کو اس کے گناہ کا پتہ چل جاتا تو اسے وہ چیز نہ دیتا تو اس صورت میں سائل اس چیز کا مالک نہیں ہوتا وہ چیز اس کے لئے حرام ہے اور اس چیز کو اس کے مالک کو واپس کردینا اس پر واجب ہوگا اگر کوئی شخص کسی کو اس کی بدزبانی یا اس کی چغل خوری کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے کوئی چیز دے تو وہ چیز اس کے حق میں حرام ہوگی۔ اگر کوئی فقیر کسی شخص کے پاس مانگنے کے لئے آئے اور وہ اس کے ہاتھ پیر چومے تاکہ وہ اس کی وجہ سے اس کا سوال پورا کر دے تو یہ مکروہ ہے بلکہ اس شخص کو چاہئے کہ وہ فقیر کو ہاتھ پیر نہ چومنے دے۔ ان سائل اور فقیروں کو کچھ بھی نہ دینا چاہئے جو نقارہ، ڈھول یا ہار مونیم وغیرہ بجاتے ہوئے دروازوں پر مانگتے پھرتے ہیں اور مطرب یعنی ڈوم تو سب سے بدتر ہے۔
1832
Mishkaat Shareef
صحیح
عن قبيصة بن مخارق الهلالي قال : تحملت حمالة فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أسأله فيها . فقال : أقم حتى تأتينا الصدقة فنأمر لك بها . قال ثم قال : يا قبيصة إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو قال سدادا من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجى من قومه . لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو قال سدادا من عيش فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحتا يأكلها صاحبها سحتا . رواه مسلم
حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے قرضہ کی ضمانت لی جو دیت کی وجہ سے تھا چناچہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے ادائیگی قرض کے لئے کچھ رقم یا مال کا سول کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ دن ٹھہرے رہو، جب ہمارے پاس زکوٰۃ کا مال آئے گا تو اس میں سے تمہیں دینے کے لئے کہہ دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبیصہ ! صرف تین طرح کے لوگوں کے لئے سوال کرنا جائز ہے ایک تو اس شخص کے لئے جو کسی کے قرض کا ضامن بن گیا ہو بشرطیکہ مانگنے میں مبالغہ نہ کرے بلکہ اتنے ہی مال یا رقم کا سوال کرے کہ اس سے قرضہ کو ادا کر دے اور اس کے بعد پھر نہ مانگے، دوسرے اس شخص کے لئے جو کسی آفت و مصیبت مثلا قحط و سیلاب وغیرہ میں مبتلا ہوجائے اور اس کا تمام مال ہلاک و ضائع ہوجائے، چناچہ اس کو صرف اس قدر مانگنا جائز ہے جس سے اس کی غذا و لباس کی ضرورت پوری ہوجائے یا فرمایا کہ اس قدر مانگے کہ اس کی محتاجگی دور ہوجائے اور اس کی زندگی کے لئے سہارا ہوجائے، تیسرے اس شخص کے لئے جو غنی ہو مگر اس کو کوئی ایسی سخت حاجت پیش آگئی ہے جسے اہل محلہ بھی جانتے ہوں مثلاً گھر کا تمام مال و اسباب چوری ہوجائے یا اور کسی مصیب و حادثے سے دوچار ہونے کے وجہ سے ضرورت مند بن جائے اور قوم محلہ و بستی کے تین صاحب عقل و فراست لوگ اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی اسے سخت حاجت پیش آگئی ہے تو اس کے لئے اس قدر مانگنا جائز ہے جس سے اس کی ضرورت پوری ہوجائے۔ یا فرمایا کہ اس کی وجہ سے اس کی محتاجگی دور ہوجائے اور اس کی زندگی کا سہارا ہوجائے۔ قبیصہ ! ان تین کے علاوہ کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اگر کوئی شخص ان تین مجبوریوں کے علاوہ دس سوال دراز کر کے کسی سے کچھ لے کر کھاتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے۔ (مسلم)

تشریح
حمالہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص پر دیت کے طور پر کچھ لوگوں کو دینا ضروری ہو اور کوئی دوسرا شخص اس مال کی عدم ادائیگی کی بناء پر آپس کے لڑائی جھگڑے کو نمٹانے کے لئے درمیان میں پڑجائے اور وہ مال اپنے ذمہ لے لے اور اس کی وجہ سے قرض دار ہوجائے۔ حدیث کے آخر میں تین صاحب عقل و فراست لوگوں کی شہادت کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ احتیاج و ضرورت کے واقعی اور حقیقی ہونے کے لئے بطور مبالغہ ہے نیز اس بات کا احساس پیدا کرنے کے لئے کہ لوگ دست سوال دراز کرنے کو آسان نہ سمجھیں اور اس برے فعل سے بچتے رہیں۔
1833
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما يسأل جمرا . فليستقل أو ليستكثر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص محض اضافہ مال کی خاطر لوگوں کے مال میں سے کچھ مانگتا ہے تو وہ گویا آگ کا انگارا مانگتا ہے اب وہ چاہے کم مانگے یا زیادہ مانگے۔ (مسلم)

تشریح
اضافہ مال کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی احتیاج و ضرورت کی بناء پر نہیں بلکہ محض اس لئے لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرتا ہے تاکہ اس کا مال زیادہ ہوجائے۔ آگ کے انگارے سے مراد دوزخ کا انگارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جو اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے نہیں بلکہ محض اضافہ مال کی خاطر کسی سے کچھ مانگتا ہے تو وہ اپنی اس ہوسنا کی اور حرص و طمع کی وجہ سے دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ کم یا زیادہ آپ ﷺ نے بطور تنبیہ ارشاد فرمایا اس کی وضاحت یہ ہے کہ بلا ضرورت لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا دنیاوی اور اخروی اعبتار سے بہر صورت نقصان دہ اور باعث ذلت و رسوائی ہے خواہ وہ کسی حقیر و کمتر چیز کے لئے ہاتھ پھیلائے خواہ کسی قیمتی اور اعلیٰ چیز کے لئے دست سوال دراز کرے۔
1834
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمیشہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا رہے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں ہوگا کہ اس کے منہ پر گوشت کی بوٹی نہ ہوگی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بلا ضرورت محض پیشے کے طور پر بھیک مانگے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھرتے ہیں وہ قیامت کے روز میدان حشر میں ذلیل و رسوا کر کے لائے جائیں گے یا حقیقۃً ان کا یہ حال ہوگا کہ ان کی اس برائی اور غلط فعل کی سزا کے طور پر ان کے منہ پر گوشت نہیں ہوگا اس طرح وہ لوگ میدان حشر میں مخلوق اللہ کے درمیان یہ کہہ کر بےآبرو و رسوا کئے جائیں کہ یہ دنیا میں بھیک مانگتے پھرا کرتے تھے، آج انہیں اس کی یہ سزا مل رہی ہے۔
1835
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن معاوية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تلحفوا في المسألة فوالله لا يسألني أحدق منكم شيئا فتخرج له مسألته مني شيئا وأنا له كاره فيبارك له فيما أعطيته . رواه مسلم
حضرت معاویہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مانگنے میں مبالغہ نہ کرو، اللہ کی قسم ! تم میں سے جو بھی شخص مجھ سے (مبالغہ کے ساتھ) کچھ مانگتا ہے تو میں اسے اس حال میں کچھ نکال کردیتا ہوں کہ میں اسے دینا برا سمجھتا ہوں اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز میں نے اسے دی ہے اس میں برکت ہو۔ (مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص انتہائی مبالغہ کے ساتھ میرے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے تو اگرچہ مجھ سے اس کا سوال ٹھکرایا نہیں جاتا اور میں اسے دے دیتا ہوں مگر میری طرف سے ناخوشی کے ساتھ دی گئی چیز اور برکت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے لہٰذا میں ناخوشی کے ساتھ جو چیز دیتا ہوں اس میں برکت نہیں ہوتی۔
1836
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن الزبير بن العوام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يأخذ أحدكم حبله فيأتي بحزمة حطب على ظهره فيبيعها فيكف الله بها وجهه خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه . رواه البخاري
حضرت زبیر بن عوام (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص ایک رسی اور لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی عزت و آبرو کو برقرار رکھے جو مانگنے سے جاتی تھی تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔ (بخاری)
1837
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن حكيم بن حزام قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاني ثم سألته فأعطاني ثم قال لي : يا حكيم إن هذا المال خضر حلو فمن أخذه بسخاوة نفس بورك له فيه ومن أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه . وكان كالذي يأكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى . قال حكيم : فقلت : يا رسول الله والذي بعثك بالحق لا أرزأ أحدا بعدك شيئا حتى أفارق الدنيا
حضرت حکیم بن حزام (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ سے کچھ مانگا تو آپ ﷺ نے عنایت فرما دیا میں نے پھر دوبارہ مانگا تو آپ ﷺ نے اس وقت بھی عطا کیا اور پھر مجھ سے فرمایا کہ حکیم ! یہ مال سبز و شیریں ہے (یعنی نظر میں خوشنما اور دل کو لذت دینے والا ہے) لہٰذا جو شخص اس مال کو بےپروائی سے یعنی بغیر ہاتھ پھیلائے اور بغیر طمع و حرص کے حاصل کرتا ہے تو اس میں برکت عطا فرمائی جاتی ہے اور جو شخص اسے نفس کے طمع و حرص کے ساتھ حاصل کرتا ہے تو اس میں برکت نہیں ہوتی اور اس کی حالت اس شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانا تو کھاتا ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا گویا بےبرکتی اور کثرت حرص کی وجہ سے یہ حال ہوتا ہے اور یاد رکھو کہ اوپر کا ہاتھ یعنی دوسروں کو دینے والا نیچے کے ہاتھ یعنی دوسروں سے مانگنے والے سے بہتر ہوتا ہے حکیم کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اب کسی کے مال میں سے کچھ کم نہیں کروں گا یعنی آج کے بعد آئندہ کبھی بھی کسی سے سوال نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں اس دنیا سے جدا ہوں یعنی موت کی آغوش میں پہنچ جاؤں۔
1838
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال وهو على المنبر وهو يذكر الصدقة والتعفف عن المسألة : اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا هي المنفقة واليد السفلى هي السائلة
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس موقع پر جب آپ ﷺ منبر پر تھے اور صدقہ کا ذکر بیان کر رہے تھے اور سوال سے بچنے کے بارے میں خطبہ دے رہے تھے۔ یہ ارشاد فرمایا کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والا اور لوگوں کو دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والا یعنی سائل کا ہاتھ ہے۔ (بخاری ومسلم)
1839
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد الخدري قال : إن أناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاهم ثم سألوه فأعطاهم حتى نفد ما عنده . فقال : ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم ومن يستعف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يتصبر يصبره الله وما أعطي أحد عطاء هو خير وأوسع من الصبر
حضرت ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن انصار میں سے چند لوگوں نے رسول کریم ﷺ سے کچھ مانگا، آپ ﷺ نے انہیں عطا فرما دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے جب بھی دے دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جو کچھ بھی مال ہوگا میں تم سے بچا کر اس کا ذخیر نہیں کروں گا اور یاد رکھو کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بری باتوں سے بچاتا ہے اور اسے لوگوں کا محتاج نہیں کرتا اس طرح اس کی خود داری کو باقی رکھتا ہے، نیز جو شخص انتہائی معمولی چیز پر بھی قناعت کرتا ہے اور کسی سے سوال نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے قناعت آسان کردیتا ہے اور جو شخص بےپروائی ظاہر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بےپرواہ بنا دیتا ہے یعنی جو شخص دوسروں کے مال و زر سے بےپرواہ ہوتا ہے اور ہاتھ پھیلانے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو غنی کردیتا ہے اور جو شخص صبر کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا فرماتا ہے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے صبر آسان کردیتا ہے اور یاد رکھو کہ صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی دوسری چیز عطا نہیں کی گئی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام عطا و بخشش میں صبر سب سے بہتر عطاء ہے۔ (بخاری ومسلم)
1840
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمر بن الخطاب قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعطيني العطاء فأقول : أعطه أفقر إليه مني . فقال : خذه فتموله وتصدق به فما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه . ومالا فلا تتبعه نفسك
حضرت عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کی اجرت عطا فرماتے تو میں عرض کرتا کہ یہ اس شخص کو دے دیجئے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے کہ اگر تمہیں حاجت و ضرورت ہو تو اسے لے کر اپنے مال میں شامل کرلو اور اگر حاجت و ضرورت سے زیادہ ہو تو خود اللہ کی راہ میں خیرات کردو نیز یہ بھی فرماتے کہ جو چیز تمہیں بغیر طمع و حرص کے اور بغیر مانگے حاصل ہو اسے قبول کرلو اور جو چیز اس طرح یعنی بغیر طمع و حرص اور بغیر سوال کے ہاتھ نہ لگے تو اس کے پیچھے مت پڑو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کہ جو چیز بغیر طمع و حرص اور بغیر مانگے حاصل نہ ہو اس کو حاصل کرنے کے لئے طمع نہ کرو اور نہ اس کے لئے منتظر رہو جیسا کہ کہہ دیا جاتا ہے کہ لارد ولا کد۔ ایک دوسری حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز بغیر طمع و حرص کے حاصل ہو اور وہ اسے واپس کر دے تو گویا اس نے اس چیز کو اللہ کو واپس کردیا یعنی اللہ کی ایک نعمت کو ٹھکرا دیا۔