hadith book logo

Mishkaat Shareef

74. خرید و فروخت کے مسائل و احکام

مشكاة المصابيح

2810
Mishkaat Shareef
صحیح
اسلامی نقطہ نظر سے کائنات انسانی کی عملی زندگی کی دو محور ہیں اول حقوق اللہ کہ جسے عبادات کہتے ہیں اور دو حقوق العباد کہ جسے معاملات کہا جاتا ہے یہی دو اصطلاحیں ہیں جو انسانی نظام حیات کے تمام اصول وقواعد اور قوانین کی بنیاد ہیں ان دونوں میں چونکہ حقوق اللہ کی عمومیت حاصل ہے کہ اس کا تعلق کائنات انسانی کے ہر فرد سے ہے اس لئے مصنف کتاب نے پہلے ان کو بیان کیا اب اس کے بعد حقوق العباد یعنی معاملات کا بیان شروع کیا ہے جس کا سب سے اہم جزو بیع ہے۔ بیع کے معنی بیع کے معنی ہیں بیچنا یعنی فروخت کرنا لیکن کبھی اس کے معنی خریدنا بھی مراد ہوتے ہیں اس لئے بیع کا ترجمہ اصطلاحی طور پر خریدوفروخت کیا جاتا ہے۔ فخر الاسلام کا بیان ہے کہ اصطلاح شریعت میں آپس کی رضا مندی سے مال کے ساتھ مال بدلنا بیع کہلاتا ہے بیع کی شرعیت بیع یعنی خریدو فروخت کا شرعی ہونا قرآن کریم کی اس آیت (وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا) 2 ۔ البقرۃ 275) (اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے) اور رسول کریم ﷺ کی احادیث جو ( آگے آئیں گی) سے ثابت ہے بیع کی قسمیں بیع یعنی خریدوفروخت میں بنیادی طور پر تین چیزیں ہوتی ہیں اول تو عقد بیع یعنی نفس معاملہ کہ ایک شخص کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور دوسرا اسے خریدتا ہے دوم مبیع یعنی وہ چیز جس کو فروخت کیا جاتا ہے اور سوم ثمن یعنی قیمت ان تینوں کے اعتبار سے فقہی طور پر بیع کی کچھ قسمیں ہیں۔ چناچہ نفس معاملہ اور اس کے حکم کہ بیع صحیح ہوئی یا نہیں۔ کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں ہیں 1 نافذ 2 موقوف 3 فاسد 4 باطل بیع نافذ اس بیع کو کہتے ہیں کہ طرفین میں مال ہو یعنی بیچنے والے کے پاس بیع ہو خریدار کے پاس ثمن ہو اور عاقدین یعنی بیچنے والا اور خریدار دونوں عاقل ہوں نیز وہ دونوں بیع یا تو اصالۃ کریں یا وکالۃ اور دلالۃ جس بیع میں یہ تینوں چیزیں پائی جائیں گی وہ بیع بالکل صحیح اور نافذ ہوگی بیع موقوف اس بیع کو کہتے ہیں جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کی چیز کو اس کی اجازت یا ولایت کے بغیر فروخت کرے۔ اس بیع کا حکم یہ ہے کہ جب تک کہ اصل مالک کی اجازت و رضا مندی حاصل نہ ہوجائے یہ بیع صحیح نہیں ہوتی۔ اجازت کے بعد صحیح ہوجاتی ہے بیع فاسد وہ بیع ہے جو باصلہ یعنی معاملہ کے اعتبار سے تو درست ہو مگر بوصفہ یعنی کسی خاص وجہ کی بنا پر درست نہ ہو بیع باطل اس بیع کو کہتے ہیں جو نہ باصلہ درست ہو اور نہ بوصفہ بیع فاسد اور بیع باطل کی تفصیل اور ان کی مثالیں انشاء اللہ باب المنہی عنہا من البیوع میں ذکر کی جائیں گی مبیع یعنی فروخت کی جانے والی چیز کے اعتبار سے بھی مبیع کی چار قسمیں ہیں۔ 1 مقائضہ 2 صرف 3 سلم 4 بیع مطلق بیع مقائضہ یہ ہے کہ مبیع بھی مال اور ثمن بھی مال ہو مثلا ایک شخص کپڑا دے اور دوسرا شخص اس کے بدلے میں اس کو غلہ دے۔ گویا بیع کی یہ وہ صورت ہے جسے عرف عام میں تبادلہ مال کہا جاتا ہے۔ بیع صرف یہ ہے کہ نقد کا تبادلہ نقد سے کیا جائے مثلا ایک شخص ایک روپیہ کا نوٹ دے اور دوسرا شخص اس کے بدلے میں ایک روپیہ کے پیسے دے یا ایک شخص اشرفی دے اور دوسرا شخص اس کے بدلے میں اسے روپیہ دے گویا روپیہ بھنانا یا روپیہ کی ریزگاری لینا دینا بیع صرف کی ایک قسم ہے۔ بیع سلم یہ ہے کہ بیچنے والا خریدار سے کسی چیز کی قیمت پیشگی لے لے اور یہ طے ہوجائے کہ خریدار یہ چیز اتنی مدت مثلا ایک دو مہینے کے بعد لے لے گا۔ بیع مطلق یہ ہے کہ کسی چیز کی بیع نقد کے عوض کی جائے مثلا بیچنے والا ایک من گیہوں دے اور خریدار اس کی قیمت کے طور پر تیس روپے ادا کرے۔ ثمن یعنی قیمت کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں یہ ہے۔ 1 مرابحہ 2 تولیت 3 ودیعت 4 مساومت مرابحہ کی یہ صورت ہے کہ بیچنے والا مبیع کو اپنے خریدار سے نفع لے کر فروخت کرے تولیت کی یہ صورت ہے کہ بیچنے والا مبیع کو بلا نفع کے اس قیمت پر فروخت کرے جتنی قیمت میں اس نے خود خریدی ہو اور مساومت کی صورت یہ ہے کہ بیچنے والا اور خریدار آپس کی رضا مندی سے کسی چیز کی خریدوفروخت چاہے جس قیمت پر کریں اور اس میں بیچنے والے کی قیمت خرید کا کوئی لحاظ نہ ہو۔
2811
Mishkaat Shareef
صحیح
کسب اور طلب حلال کا مطلب ہے اپنی معاشی ضروریات مثلا روٹی کپڑے وغیرہ کے حصول کے لئے کمانا اور پاک روزی و حلال پیشہ کو بہرصورت اختیار کرنا چناچہ اس باب میں کسب معاش کی فضیلت ذکر کی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ کون سا کسب اور کون سا پیشہ اچھا ہے اور کون سا برا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ سب سے بہتر کسب وپیشہ جہاد ہے اس کے بعد تجارت٫ پھر زراعت اور پھر دستکاری یعنی کتابت وغیرہ۔ کسب یعنی کمانا فرض بھی ہے اور مستحب بھی اسی طرح مباح بھی ہے اور حرام بھی چناچہ اتنا کمانا فرض ہے جو کمانے والے اور اس کے اہل و عیال کی معاشی ضروریات کے لئے اور اگر اس کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے لئے کافی ہوجائے اس سے زیادہ کمانا مستحب ہے بشرطیکہ اس نیت کے ساتھ زیادہ کمائے کہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات سے جو کچھ بچے گا وہ فقراء و مساکین اور اپنے دوسرے مستحق اقرباء پر خرچ کروں گا اسی طرح ضروریات زندگی سے زیادہ کمانا اس صورت میں مباح ہے جب کہ نیت اپنی شان و شوکت اور اپنے وقار و تمکنت کی حفاظت ہو البتہ محض مال و دولت جمع کر کے فخر وتکبر کے اظہار کے لئے زیادہ حرام ہے اگرچہ حلال ذرائع ہی سے کیوں نہ کمایا جائے۔ کمانے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی کمائی کو اپنی ذات پر اور اپنے اہل و عیال پر اس طرح خرچ کرے کہ نہ تو اسراف میں مبتلا ہو اور نہ بخل وتنگی کرے۔ جو شخص کمانے اور اپنی روزی خود فراہم کرنے پر قادر ہو اس پر لازم ہے کہ وہ کمائے اور جس طرح بھی ہو سکے حلال ذرائع سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ابرومندانہ زندگی کے تحفظ کے لئے معاشی ضروریات خود فراہم کر کے دوسروں پر بار نہ بنے ہاں جو شخص کسی بھی مجبوری اور عذر کی وجہ سے کسب و کمائی پر قادر نہ ہو تو پھر اس کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ دوسروں سے سوال کر کے اپنی زندگی کی حفاظت کرے اگر اس صورت میں کوئی شخص محض اس وجہ سے کہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا اس کی غیرت کو گوارا نہیں اس نے کسی سے سوال نہیں کیا یہاں تک کہ بھولو افلاس نے اس کی زندگی کے چراغ کو گل کردیا تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنی موت کا خود ذمہ دار ہوگا بلکہ ایک گنہگار کی موت مرے گا۔ نیز جو شخص خود کما کر اپنا پیٹ بھرنے سے عاجز ہو تو اس کا حال جاننے والے پر یہ فرض ہے کہ وہ اس کی سفارش کرے جو اس کی مدد کرنے پر قادر ہو حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی نے اس آیت کریمہ (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ) 2 ۔ البقرۃ 172) (اے مؤمنو تم صرف وہی پاک و حلال رزق کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے) کی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ سب سے بہتر کسب جہاد ہے بشرطیکہ جہاد کے ارادے کے وقت مال غنیمت کے حصول کا خیال دل میں قطعًا نہ ہو بلکہ نیت میں اخلاص ہو اس کے بعد تجارت کا درجہ ہے خاص طور پر وہ تجارت جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں یا ایک شہر سے دوسرے شہر میں مسلمانوں کی ضروریات خاص کی چیزوں کو لانے لے جانے کا ذریعہ ہو اس قسم کی تجارت کرنے والا شخص اگر حصول منفعت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خدمت اور ان کی حاجت روائی کی نیت بھی رکھے تو اس کی تجارت عبادت کی بھی ایک صورت بن جائے گی۔ تجارت کے بعد زراعت کا درجہ ہے زراعت کا پیشہ بھی دنیاوی منفعت کے علاوہ اجروثواب کا ایک بڑا ذریعہ بنا جاتا ہے جب کہ اس میں مخلوق اللہ یعنی انسانوں اور جانوروں کی غذائی ضروریات کی فراہمی کی نیت خیر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت یعنی بارش وہوا وغیرہ پر توکل اور اعتماد ہو ان تینوں پیشوں کے علاوہ اور پیشے آپس میں کوئی فضیلت نہیں رکھتے البتہ کتابت کا پیشہ بہتر درجہ ضرور رکھتا ہے کیونکہ اس پیشے میں نہ صرف یہ کہ علم کی خدمت ہوتی ہے بلکہ دینی علوم٫ شرعی احکام انبیاء اور بزرگوں کے احوال بھی یاد ہوجاتے ہیں۔ مذکورہ بالا پیشوں کے بعد ان پیشوں کا درجہ آتا ہے جو بقاء عالم اور معاشرت و تمدن کی اصل ضروریات کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے ہیں مثلا معماری٫ بیلداری٫ خشت سازی٫ چونا بنانا گھی اور تیل نکالنا روئی بیچنا سوت کا تنا کپڑے سینا اور آٹا پیسنا وغیرہ یہ تمام کسب اور پیشے ان پیشوں سے بہتر ہیں جو محض تکلف وتزئین اور اظہار امارت و دولت کے کام آتے ہیں جیسے زردوزی ونقاشی مٹھائی بنانا عطر بنانا بیچنا اور رنگریزی وغیرہ تاہم یہ پیشے بھی اگر حسب موقع ہوں بایں طور کہ ان کی وجہ سے خلاف شرع امور کا ارتکاب نہ ہوتا ہو تو ان میں بھی کچھ کراہیت نہیں ہے۔ بخلاف ان پیشوں کے جن میں آلودگی نجاست مخلوق اللہ کی بد خواہی گناہوں کے ارتکاب میں اعانت دین فروشی کذب وجہل سازی اور فریب ودغا کا دخل رہتا ہو جیسے شاخ کشی جاروب کشی دباغی احتکار غلہ حمالی مردہ شوئی کفن فروشی کٹنائی ناچنا گانا نقالی جرہ بازی (پہلے زمانے میں ایک مستقل پیشہ تھا کہ کچھ چہل باز شارع عام پر ایک شخص کو کھڑا کردیتے جو راہ چلتے آدمی کو کوکھ میں اس طرح ٹھوکا مار دیتا کہ اسے یہ پتہ نہ چلتا کہ یہ کس کی حرکت ہے چناچہ جب وہ اس پر حیران و پریشان ہوتا تو سب چہل باز اس پر قہق ہے لگاتے اس کو جرہ بازی کہتے تھے) نقالی دلالی اور وکالت (جس میں جھوٹ فریب سے کام لیا جاتا ہو) امام اذان اور خدمت مسجد کی اجرت اور قرآن کی تلاوت وتعلیم کا معاوضہ لینا وغیرہ یہ سب پیشے مکروہ ہیں (شاہ عبد العزیز ) مغنی الطالب میں لکھا ہے کہ کسب اور کسب کرنے والے کی فضیلت احادیث میں بہت منقول ہے اسی طرح جو شخص کسب پر قادر ہونے کے باوجود ازراہ کسل وسستی کسب نہ کرے بلکہ اپنی گزر اوقات کے لئے دوسروں سے مانگتا پھرے اس کے حق میں بڑی وعید بیان کی گئی ہے لیکن جو شخص اللہ کی رزاقی پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہوئے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے اور نہ ہی اپنی دینی مصروفیات اور عبادت و اذکار میں خلل پڑنے کی وجہ سے کسب وغیرہ کرے تو اس وعید میں داخل نہیں بشرطیکہ اپنی امداد کے لئے دوسرے لوگوں کی طرف نہ تو اس کا دل متوجہ ہو اور نہ وہ کسی سے اپنی امداد واعانت کی توقع رکھتا ہو کیونکہ اسے سوال دلی کہتے ہیں جو سوال زبانی سے کہیں بدتر چیز ہے۔ جو شخص اتنا مال زر رکھتا ہو جو اس کی معاشی ضروریات کے لئے کافی ہو یا اوقات وغیرہ اسے بقدر ضروریات روپیہ پیسہ مل جاتا ہو (مطلب یہ کہ گھر بیٹھے اسے کسی بھی جائز وسیلے سے بقدر ضروریات آمدنی ہوجاتی ہو) تو اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ عبادت وغیرہ میں مشغول رہے اپنے اوقات کسی کسب وغیرہ میں صرف نہ کرے٫ اسی طرح دینی علوم کی تعلیم دینے والے مفتی٫ قاضی اور اسی زمرہ کے دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہی حکم ہے اگر یہ لوگ بقدر کفایت ضروریات آمدنی رکھتے ہوں تو ان کو اپنے امور ہی میں مصروف رہنا چاہئے کسب وغیرہ میں مصروف نہ ہوں۔ جو شخص کسی کسب مثلا تجارت وغیرہ کا پیشہ اختیار کرے تو اس پر فرض ہے کہ وہ صرف حلال اور جائز مال کمائے حرام سے کلیۃً اجتناب کرے اور اپنے پیشے وہنر میں احکام شرعی کی رعایت بہرصورت ملحوظ رکھے نیز اپنے پیشہ میں تمام تر محنت وجدوجہد کے باوجود اللہ کی ذات پر توکل و اعتماد رکھے کہ رزاق مطلق صرف اللہ تعالیٰ اور کسب محض ایک ظاہری وسیلہ کے درجہ کی چیز ہے اپنے پیشے وکسب کو رزاق ہرگز نہ سمجھے کیونکہ یہ شرک خفی ہے۔ حرام کسب کے ذریعے حاصل ہونے والے مال و زر سے مکمل پرہیز کرے کیونکہ اس کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ کی یہ وعید منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص حرام مال سے صدقہ و خیرات کرتا ہے تو اس کا صدقہ قبول نہیں ہوتا اور مال حرام اپنے پیچھے یعنی مالک کی موت کے بعد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں رہتا کہ وہ اپنے مالک کے لئے ایسا برا زاد راہ بن جاتا ہے جو اسے یعنی مالک کو دوزخ کی آگ میں پہنچا دیتا ہے۔ بعض لوگ حرام مال کی بڑی تعداد سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن قلیل مقدار میں احتیاط نہیں کرتے حالانکہ حرام مال کی قلیل ترین مقدار سے بھی اسی طرح اجتناب کرنا چاہئے جس طرح بڑی سے بڑی مقدار سے اجتناب ضروری ہے اس بارے میں یہ احساس ہونا چاہئے کہ حرام مال کی وہ قلیل ترین مقدار بقیہ تمام حلال مال میں مل کر سارے مال کو مشتبہ بنادیگی اور مشتبہ مال ومشتبہ پیشے کے بارے میں بھی یہ مسئلہ ہے کہ اس سے اجتناب ہی اولی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو بطور ہدیہ وغیرہ کوئی ایسی چیز یا اییسا مال دے جس کی حرمت وحلت کے بارے میں شبہ ہو تو چاہئے کہ اس چیز یا اس مال کو اچھے انداز میں اور نرمی کے ساتھ دینے والے کو واپس کر دے ہاں اگر واپس کرنے دینے والا آزردہ خاطر ہو تو پھر واپس نہ کرنا چاہئے یہی حکم اس مشتبہ مال کی تحقیق کرنے کا بھی ہے کہ اگر وہ مشتبہ مال دینے والا آزردہ خاطر نہ ہو تو تب اس مال کی تحقیق کی جائے اور اگر وہ تحقیق کرنے سے آزردہ خاطر ہو تو پھر تحقیق بھی نہ کی جائے کیونکہ کسی مسلمان کو آزردہ خاطر کرنا حرام ہے جب کہ مشتبہ مال کی تحقیق کرنا ورع (تقوی) ہے اور اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ ورع کے لئے حرام کا ارتکاب نہ کرنا چاہئے ہاں جس مال کے بارے میں بالکل تحقیق ہو کہ یہ حرام محض ہے تو پھر اس کو واپس کردینا بہرصورت ضروری ہے اگرچہ دینے والا آزردہ خاطر ہی کیوں نہ ہو البتہ اگر اس مال کو واپس کرنے میں کسی فتنہ انگیزی کا خوف ہو تو پھر اسے بھی واپس نہ کرے بلکہ اسے لے کر کسی مضطرب کو دیدے اور اگر خود مضطر ہو تو اسے اپنے استعمال میں لے آئے۔ جس بازار میں حرام مال کی تجارت ہوتی ہو اس بازار سے بھی اجتناب کرنا چاہئے کہ اس میں خریدو فروخت نہ کرے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں مال حرام ہے مشتبہ ہے اس کی تحقیق و تفتیش ضروری نہیں کیونکہ حرمت وشبہ کے معلوم نہ ہونے کی صورت میں ہر جگہ اور ہر چیز کی تحقیق وتجسس محض وسوسہ ہے۔ غیر مشروع کسب کی اجرت بھی جرام ہے مثلا مردوں کے لئے ریشمی کپڑے سینا یا مردوں کے لئے سونے کے زیور بنانا اسی طرح غیر مشروع خریدو فروخت سے حاصل ہونے ولا نفع ومال بھی حرام ہے ی سے محتکرہ غلہ بیچنا تمام تجارتوں میں سب سے بہتر تجارت بزازی ہے اسی طرح تمام پیشوں میں سب سے بہتر پیشہ مشک بنانا وسینا ہے۔ خریدوفروخت میں کھوٹے سکوں کو پھیلانا قطعا ناجائز ہے اگر کھوٹے ہاتھ لگیں تو انہیں کنویں وغیرہ میں ڈال کر ضائع کردینا چاہئے۔ اسی طرح ہر تاجر اور دو کاندار کے لئے ضروری ہے کہ وہ معاملات میں مکروفریب سے کام نہ لے بات بات پر قسم نہ کھائے کسی چیز میں اگر کوئی عیب ہو تو اسے خریدار سے پوشیدہ نہ رکھے اپنی اشیاء کی تعریف و توصیف حقیقت سے زیادہ نہ کرے کوئی چیز کسی ایسے شخص کے ہاتھ فروخت نہ کرے جو اسے حرام کام میں استعمال کرے مثلا انگور کسی شراب ساز کو نہ بیچے یا ہتھیار وغیرہ کسی ڈاکو وقزاق وغیرہ کے ہاتھ فروخت نہ کرے دستکاروصنعت گر اپنی بنائی ہوئی چیز میں کھوٹ ملاوٹ اور غلط چیزوں کی آمیزش نہ کرے کیونکہ ایسی چیز سے حاصل ہونے والی اجرت و قیمت حرام ہوتی ہے ناپ تول میں کمی نہ کرے غبن ودھو کہ دہی میں اپنا دامن ملوث نہ کرے ہمہ وقت یہ تصور رکھے کہ ناجائز طریقوں اور حرام ذرائع سے حاصل ہونے والا ایک پیسہ بھی جنت میں داخل ہونے سے روک دے گا تھوڑے منافع پر اکتفاء کرے کہ یہ مستحب ہے اور جس تجارت وحرفت میں مشغول ہو اور اس سے اس کی ضروریات پوری ہوجاتی ہوں تو اسی پر قناعت کرے اس کی موجودگی میں دوسری تجارتوں اور دوسرے کاروبار کے ذریعے زیادہ کمانے کی حرص نہ رکھے بلکہ اپنے بقیہ اوقات کو آخرت کی بھلائیوں کو حاصل کرنے میں صرف کرے کیونکہ صرف اس دنیا کی فانی زندگی کی راحت وتعیش کے حصول میں ہمہ وقت لگے رہنا اور آخرت کی ابدی زندگی کی سعادتوں سے بےپرواہ ہوجانا عقل و دانش سے بعید تر بات ہے۔ اپنے ہاتھ کی محنت کی روزی سب سے بہتر ہے حضرت مقدام بن معدی کرب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کبھی کسی نے اپنے ہاتھ کی محنت کی روزی سے بہتر کوئی کھانا نہیں کھایا یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے (بخاری)

تشریح
حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کے ایک جلیل القدر نبی تھے اور ساتھ ہی اللہ نے انہیں دنیا کی سلطنت حکومت بھی عطا کی تھی۔ ان کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی حکومت میں لوگوں سے اپنے بارے میں تجسس کرتے رہتے تھے چناچہ جو شخص ان کو نہیں پہچانتا تھا اس سے وہ دریافت کرتے کہ بتاؤ داؤد کیسا ہے ؟ لوگوں میں اس کی سیرت و عادت کس درجے کی ہے اور اس کے بارے میں تمہارا تاثر کیا ہے ایک دن ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کو آدمی کی صورت میں ان کے پاس بھیجا انہوں نے اس سے بھی اس قسم کے سوال کئے اس نے کہا داؤد (علیہ السلام) ہیں تو بہت اچھے آدمی مگر اتنی بات ضرور ہے کہ وہ بیت المال سے روزی کھاتے ہیں بس یہ سننا تھا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دل و دماغ میں ایک بجلی سی کوند گئی فورا اپنے پروردگار سے دعا کی کہ رب العالمین مجھے بیت المال سے مستغنی بنا دے اور مجھے کوئی ایسا ہنر عطا کر دے کہ جس سے میں اپنی روزی کما سکوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں زرہ بنانے کا ہنر عطا فرمایا منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں کو ایسی خاصیت عنایت کی کہ لوہا ان کے ہاتھوں میں پہنچتے ہی موم کی طرح نرم ہوجاتا تھا جس سے وہ زرہ بناتے اور جو چار چار ہزار درہم میں فروخت ہوتی بلکہ بعض علماء نے تو یہ لکھا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ہر روز ایک زرہ بناتے اور اس کو چھ ہار درہم میں فروخت کرتے پھر اس چھ ہزار کو اس طرح صرف کرتے کہ دو ہزار تو اپنی ذات اور اہل و عیال پر خرچ کرتے اور چار ہزار درہم بنی اسرائیل کے فقراء و مساکین میں بطور صدقہ و خیرات تقسیم کردیتے۔ بہرکیف آنحضرت ﷺ نے مذکورہ بالا ارشاد گرامی کے ذریعے جہاں یہ ارشاد فرمایا کہ کسب یعنی اپنی روزی خود پیدا کرنا انبیاء کی سنت ہے جیسا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عمل سے معلوم ہوا اس لئے تم بھی ان کے طریقے کو اختیار کرو وہیں گویا آپ نے اپنی روزی خود اپنی صنعت وحرفت کے ذریعے پیدا کرنے پر لوگوں کو ترغیب دلائی ہے کیونکہ اس میں بڑے بڑے فائدے ہیں مثلا جو شخص اپنی صنعت وحرفت سے کماتا ہے نہ صرف یہ کہ خود اسے منافع حاصل ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی صنعت وحرفت سے فائدہ پہنچتا ہے پھر یہ کہ ایسا شخص اپنے پیشے میں مصروف رہنے کی وجہ سے بری باتوں اور لہو ولعب سے محفوظ رہتا ہے نیز چونکہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی وجہ سے کسرنفسی بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے وہ اپنے نفس کی سرکشی سے بچتا ہے اور پھر سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسا شخص کسی کا محتاج نہیں رہتا کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتا کسی کے آگے جھکتا نہیں اور اسے ایک ابرومندانہ زندگی حاصل رہتی ہے۔
2812
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال : ( يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا ) وقال : ( يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم ) ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء : يا رب يا رب ومطعمه حرام ومشربه حرام وملبسه حرام وغذي بالحرام فأنى يستجاب لذلك ؟ . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمام کمی اور عیوب سے پاک ہیں اس پاک ذات کی بارگاہ میں صرف وہی صدقات و اعمال مقبول ہوتے ہیں جو شرعی عیوب اور نیت کے فساد سے پاک ہوں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ نے جس چیز (یعنی حلال مال کھانے اور اچھے اعمال) کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے اسی چیز کا حکم تمام مؤمنوں کو بھی دیا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت (یا ایہا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحا) ( یعنی اے رسولو حلال روزی کھاؤ اور اچھے اعمال کرو) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (یا ایہا الذین امنوا کلوا من طیبات ما رزقنکم) (یعنی اے مؤمنو تم صرف وہی پاک و حلال رزق کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطاء کیا ہے) پھر آپ ﷺ نے بطور مثال ایک شخص کا حال ذکر کیا کہ وہ طول طویل سفر اختیار کرتا ہے پراگندہ بال اور غبار آلودہ ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب اے میرے رب یعنی وہ اپنے مقاصد کے لئے دعا مانگتا ہے حالانکہ کھانا اس کا حرام لباس اس کا حرام شروع سے اب تک پرورش اس کی حرام ہی غذاؤں سے ہوئی پھر کیونکر اس کی دعا قبول کی جائے۔ (مسلم)

تشریح
اس ارشاد گرامی میں پہلے تو حلال مال کمانے کی فضیلت اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کہ خود پاک ہے اور حلال رزق کو اس کی جناب پاک میں اس وجہ سے ایک نسبت حاصل ہے کہ حلال رزق بھی حرمت کی نجاستوں سے پاک ہوتا ہے تو تقاضاء عبودیت یہی ہے کہ بندہ حلال ہی رزق کھائے تاکہ اس پاک و حلال رزق کی وجہ سے اس بندہ کو بارگاہ الٰہی میں تقرب کی دولت حاصل ہو٫ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ بتایا ہے کہ حرام مال سے اجتناب نہ کرنے کا اثر دعا کا قبول نہ ہونا ہے چناچہ اس بات کو آپ ﷺ نے اس مثال کے ذریعے ظاہر فرمایا ہے کہ ایک شخص حج یا اور عبادات کے لئے طول طویل سفر اختیار کرتا ہے وہ ان مقامات مقدسہ تک پہنچنے میں پوری مشقت وجد وجہد کرتا ہے جہاں مانگی جانے والی دعا باب قبولیت تک پہنچتی ہے یہاں تکہ کہ وہ ان مقامات تک پہنچ جاتا ہے وہاں پہنچ کر وہ اس حال میں دست سوال اٹھاتا ہے کہ سفر کی مشقت وطوالت کی وجہ سے اس کے بال پراگندہ ہیں پورا جسم گرد و غبار سے آلودہ ہے اور تضرع والحاح کی پوری کیفت اس پر طاری ہے ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں اس کی دعا بظاہر قبول ہونی چاہئے کیونکہ اول تو ایک عبادت گزار بندہ ہے پھر وہ مسافر بھی ہے اور مسافر کے بارے میں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس کی دعا باب قبولیت تک پہنچ کر رہتی ہے دوسرے یہ کہ اس جگہ دعا مانگ رہا ہے جہاں مانگی جانے والی ہر دعا کی لاج رکھی جاتی ہے غرضیکہ قبولیت دعا کے تمام آثار موجود ہیں مگر اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی کیوں اس لئے کہ جاننے والا جانتا ہے کہ وہ حرام مال سے پرہیز نہیں کرتا گویا اس کی ساری محنت ومشقت اور اس کی ساری عبادت وحالت اس کی دعا کو صرف اس لئے مؤثر نہیں بنا سکی وہ حرام مال کھاتا ہے حرام لباس پہنتا ہے اور کمائی کے حرام ذرائع سے اجتناب نہیں کرتا اس سے معلوم ہوا کہ دعا کی قبولیت حلال رزق پر موقوف ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ دعا کے دو بازو ہیں (جن کے سہارے وہ دعا باب قبولیت تک پہنچتی ہے) ایک تو اکل حلال دوسرا صدق مقال یعنی حلال کھانا اور سچ بولنا۔
2813
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما أخذ منه أمن الحلال أم من الحرام . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ آدمی کو جو مال ملے گا اس کے بارے میں وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام (بخاری)

تشریح
قیامت کے قریبی زمانہ میں جہاں عام گمراہی کی وجہ سے افکار و اعمال کی اور بہت سی خرابیاں پیدا ہونگی وہیں ایک بڑی خرابی بھی پیدا ہوگی کہ لوگ حلال و حرام مال کے درمیان تمیز کرنا چھوڑ دینگے جس کو جو بھی مال ملے گا اور جس ذریعہ سے بھی ملے گا اسے یہ دیکھے بغیر کہ یہ حلال ہے یا حرام ہضم کر جائے گا اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہ پیش گوئی آج کے زمانہ پر پوری طرح منطبق ہے آج ایسے کتنے لوگ ہیں جو حلال و حرام مال کے درمیان تمیز کرتے ہیں ہر شخص مال و زر بٹورنے کی ہوس میں مبتلا ہے مال حلال ہے یا حرام ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس ہاتھ لگنا چاہئے کسی نے سچ کہا ہے (ہرچہ آمد بدہان شاں خورند و آنچہ آمد بزبان شان گفتند) یہ اس دور کی عام وبا ہے جس سے کوئی طبقہ اور کوئی جماعت محفوظ نہیں ہے۔
2814
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن النعمان بن بشير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهاب استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه ألا وإن لكل ملك حمى ألا وإن حمى الله محارمه ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله وإذا فسدت فسد الجسد كله ألا وهي القلب
اور حضرت نعمان ابن بشیر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا حلال ظاہر ہے حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے لہذا جس شخص نے مشتبہ چیزوں سے پرہیز کیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو پاک و محفوظ کرلیا ( یعنی مشتبہ چیزوں سے بچنے والے کے نہ تو دین میں کسی خرابی کا خوف رہیگا اور نہ کوئی اس پر طعن وتشنیع کرے گا اور جو شخص مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہوا وہ حرام میں مبتلا ہوگیا اور اس کی مثال اس چرواہے کی سی ہے جو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چراتا ہے اور ہر وقت اس کا امکان رہتا ہے کہ اس کے جانور اس ممنوعہ چراگاہ میں گھس کر چرنے لگیں۔ جان لو ہر بادشاہ کی ممنوعہ چراگاہ ہوتی ہے اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی ممنوعہ چراگاہ حرام چیزوں ہیں اور اس بات کو بھی ملحوظ رکھو کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست حالت میں رہتا ہے یعنی جب وہ ایمان و عرفان اور یقین کے نور سے منور رہتا ہے تو اعمال خیر اور حسن اخلاق و احوال کی وجہ سے پورا جسم درست حالت میں رہتا ہے اور جب اس ٹکڑے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے یاد رکھو گوشت کا وہ ٹکڑا دل ہے (بخاری ومسلم)

تشریح
حلال ظاہر ہے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیزیں تو وہ ہیں جن کا حلال ہونا سب کو معلوم ہے نیک کلام اچھی باتیں وہ مباح چیزیں ہیں جن کو کرنا یا جن کی طرف دیکھنا درست ہے شادی بیاہ کرنا اور چلنا پھرنا وغیرہ وغیرہ اسی طرح حرام ظاہر ہے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا حرام ہونا نص کے ذریعہ بالکل واضح طور پر معلوم ہوگیا ہے جیسے شراب خنزیر مردار جانور٫ جاری خون زنا سود جھوٹ غیبت چغل خوری امرد اور اجنبی عورت کی طرف بہ نظربد دیکھنا وغیرہ وغیرہ ایسے ہی کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کی حرمت یا حلت کے بارے میں دلائل کے تعارض کی بناء پر کوئی واضح حکم معلوم نہیں ہوتا بلکہ یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ یہ حرام ہیں یا حلال ایسی کتنی ہی چیزیں ہیں جن کے حلال ہونے کی دلیلیں بھی ہیں اور حرام ہونے کی بھی اس صورت میں کوئی واضح فیصلہ کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہوتی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی چیزوں کے بارے میں دونوں طرف کی دلیلوں میں سے کسی ایک طرف کی دلیل کو اپنی قوت اجتہاد اور بصیرت فکر ونظر کے ذریعہ راجح قرار دے کر کوئی واضح فیصلہ کرلیتے ہیں۔ بہرکیف مشتبہ چیز کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں۔ -1 ایسی چیز کو نہ حلال سمجھا جائے نہ حرام اور نہ مباح یہی قول سب سے زیادہ صحیح ہے اور اسی پر عمل کرنا چاہئے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی چیز سے اجتناب کرنا ہی بہتر ہے۔ -2 ایسی چیز کو حرام سمجھا جائے -3 ایسی چیز کو مباح سمجھا جائے اب ان تینوں اقول کو ذہن میں رکھ کر مشتبہ کو بطور مثال اس طرح سمجھئے کہ مثلًا ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا ایک دوسری عورت نے آ کر کہا کہ میں نے ان دونوں کو اپنا دودھ پلایا ہے اس صورت میں وہ منکوحہ عورت اس شخص کے حق میں مشتبہ ہوگئی کیونکہ ایک طرف تو عورت کا بیان ہے کہ میں نے چونکہ ان دونوں کو دودھ پلایا ہے اس لئے یہ دونوں رضاعی بہن بھئی ہوئے اور ظاہر ہے کہ رضاعی بھائی بہن کے درمیان نکاح درست نہیں ہوتا لہذا اس دلیل کا تو یہ تقاضا ہے کہ اس نکاح کو قطعًا ناجائز کہا جائے مگر دوسری طرف نکاح کے جائز رہنے کی یہ دلیل ہے کہ صرف یہ ایک عورت کی بات ہے جس پر کوئی شرعی گواہی نہیں ہے اس پر کیسے یقین کرلیا جائے کہ یہ عورت صحیح ہی کہہ رہی ہے ہوسکتا ہے کہ یہ محض بدنیتی کی وجہ سے یہ بات کہ کر ان دونوں کے درمیان افتراق کرانا چاہتی ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ نکاح جائز اور درست ہے دلائل کے اس تعارض کی وجہ سے لا محالہ یہی حکم ہوگا کہ یہ ایک مشتبہ مسئلہ ہوگیا ہے اس لئے اس شخص کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ وہ اس عورت کو اپنے نکاح میں نہ رکھے کیونکہ مشتبہ چیز سے اجتناب ہی اولی ہے مشتبہ چیز کی دوسری مثال یہ ہے کہ مثلا ایک شخص کے پاس کچھ روپے ہیں جن میں سے کچھ تو جائز آمدنی کے ہیں اور کچھ ناجائز آمدنی کے اس صورت میں وہ سب روپے اس شخص کے حق میں مشتبہ ہیں لہذا اس کو ان روپیوں سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہئے۔ ارشاد گرامی میں حرام چیزوں کو ممنوعہ چراگاہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح کوئی حاکم کسی خاص چراگاہ کو دوسروں کے لئے منوع قرار دے دیتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کے لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو اس ممنوعہ چراگاہ سے دور رکھیں اسی طرح جو چیزیں شریعت نے حرام قرار دی ہیں وہ لوگوں کے لئے ممنوع ہیں کہ ان کے ارتکاب سے اجتناب و پرہیز واجب و ضروری ہے اور مشتبہ چیزوں میں مبتلا ہونے کو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ (منڈیر) پر عام جانور چرانے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح چرواہے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جانوروں کو ممنوعہ چراگاہ سے دور رکھ کر چرائے تاکہ اس کے جانور اس ممنوعہ چراگاہ میں نہ گھس جائیں اور اگر وہ اپنے جانوروں کو ممنوعہ چراگاہ کی مینڈ پر چرائے گا تو پھر اس بات کا ہر وقت احتمال رہے گا کہ اس کے جانور ممنوعہ چراگاہ میں گھس جائیں جس کے نتیجہ میں اسے مجرم قرار دے دیا جائے گا اسی طرح انسان کو چاہئے کہ وہ مشتبہ چیزوں سے دور رہے تاکہ محرمات حارم چیزوں میں مبتلا نہ ہوجائے اس کے بعد آپ نے مذکورہ بالا تشبیہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جان لو کہ ہر بادشاہ کا ایک ایسا ممنوعہ علاقہ ہوتا ہے جس میں جانور چرانا جرم سمجھا جاتا ہے (یہ گویا زمانہ جاہلیت کے بادشاہوں اور حکام کے بارے میں خبر دی ہے یا یہ کہ مسلمانوں میں سے ان بادشاہوں اور حکام کے بارے میں خبر دی ہے جو غیر عادل ہیں کیونکہ کسی علاقہ کی گھاس کو جانوروں کے چرنے سے روک کو ممنوعہ چراگاہ قرار دینا درست نہیں ہے) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ممنوعہ علاقہ حرام چیزیں ہیں کہ جن میں مبتلا ہونا لوگوں کے لئے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے لہذا جو کوئی اس ممنوعہ علاقہ میں داخل ہوگا یعنی حرام چیزوں کا ارتکاب کرے گا اسے مستوجب عذاب قرار دیا جائے گا اور پھر ان حرام چیزوں میں بھی بعض چیزیں تو ایسی ہیں جن کے مرتکب کی بخشش ہی نہیں ہوگی جیسے شرک اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر موقوف ہیں کہ چاہے ان کے مرتکب کو بخشے چاہے نہ بخشے البتہ سچے دل کے ساتھ توبہ استغفار سے ہر چیز بخشی جائے گی۔ حضرت شیخ علی متقی نے اس موقع پر یہ ترتیب ضروری مباح مکروہ حرام کفر قائم کر کے لکھا ہے کہ جب بندہ اپنی معاشی تمدنی اور سماجی زندگی کے تمام گوشوں میں اس قدر ضرورت پر اکتفاء کرلیتا ہے جس سے اس کا وجود اور اس کی عزت باقی رہے تو وہ اپنے دین میں ہر خطرہ سے سلامت رہتا ہے مگر جب حد ضرورت سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو حد مکروہات میں داخل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ حرص وہوس حد مکروہات سے نکال کر محرمات کی مد میں داخل کردیتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا اگلا قدم کفر میں پہنچ جاتا ہے نعوذ باللہ من ذلک۔ حدیث کے آخر میں انسانی جسم میں گوشت کے اس ٹکڑے کی اہمیت بیان کی گئی ہے جسے دل کہا جاتا ہے چناچہ فرمایا کہ جب وہ ٹکڑا بگڑ جاتا ہے یعنی انکار شک اور کفر کی وجہ سے اس پر ظلمت طاری ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجہ میں ارتکاب گناہ و مصیبت کی وجہ سے پورا جسم بگڑ جاتا ہے لہذا ہر عاقل وبالغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل کی طرف متوجہ رہے اور اس کو خواہشات نفسانی میں منہمک ہونے سے روکے تاکہ وہ آگے بڑھ کر مشتبہ چیزوں کی حد میں داخل نہ ہوجائے کیونکہ جب دل خواہشات نفسانی کی طرف چل پڑتا ہے تو پھر اللہ کی پناہ وہ تمام حدوں کو پھلانگتا ہوا ظلمت کی آخری حدوں تک پہنچ جاتا ہے۔ آخر میں یہ سمجھ لیجئے کہ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ بدن کی بھلائی و بہتری حلال غذا پر موقوف ہے کیونکہ حلال غذا سے دل کو صفائی حاصل ہوتی ہے اور دل کی صفائی ہی سے تمام بدن اچھی حالت میں رہتا ہے بایں طور کہ اس کے ایک ایک عضو سے اچھے اعمال ہی صادر ہوتے ہیں اور تمام اعضاء کا برائی کی طرف میلان ختم ہوجاتا ہے۔ اور اب ایک بات یہ جان لیجئے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث علم و مسائل کے بڑے وسیع خزانے کی حامل ہے نیز جن حدیثوں پر اسلامی شرائع و احکام کا مدار ہے وہ تین ہیں ایک تو حدیث (انما الاعمال بالنیات) دوسری حدیث (من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ) اور تیسری ہی ہے حدیث (الحلال بین) الخ۔
2815
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن رافع بن خديج قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثمن الكلب خبيث ومهر البغي خبيث وكسب الحجام خبيث . رواه مسلم
اور حضرت رافع ابن خدیج کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کتے کی قیمت ناپاک مال ہے زنا کار عورت کی اجرت حرام مال ہے سینگی کھینچنے والے کی کمائی ناپسندیدہ مال ہے۔

تشریح
پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ لفظ خبیث کے لغوی معنی، ناپاک اور برا، کے ہیں لیکن فقہی طور پر اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ ائمہ مجتہدین اور فقہاء حسب موقع و محل اس کے معنی کبھی حرام کبھی ناپاک اور کبھی مکروہ وغیرہ مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت امام شافعی نے ثمن الکلب خبیث میں خبیث کے معنی حرام مراد لیتے ہوئے کہا ہے کہ حدیث سے چونکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ کتے کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال حرام ہے اس لئے کتے کی خریدوفروخت بھی ناجائز ہے۔ کتا خواہ معلم (یعنی سدھایا ہوا ہو خواہ غیر معلم (یعنی سدھایا ہوا نہ) ہو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام محمد اور بعض دوسرے ائمہ کا قول یہ ہے کہ ان کتوں چیتوں اور درندوں کی خریدو فروخت جائز ہے جن سے فائدے حاصل ہوتے ہیں خواہ وہ معلم ہوں یا غیر معلم ان حضرات نے ثمن الکلب خبیث کے بارے میں یہ کہا ہے کہ لفظ خبیث محض حرمت ہی پر دلالت نہیں کرتا جس کی واضح مثال اس حدیث کے الفاظ وکسب الحجام خبیث ہیں اگر لفظ خبیث سے حرام ہی مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا سینگی کھینچنے والے کو جو اجرت حاصل ہوتی ہے وہ بھی حرام ہے حالانکہ متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک وہ حرام نہیں ہے لہذا ثمن الکلب خبیث میں لفظ خبیث کے معنی ناپاک مراد لیتے ہوئے اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ کتے کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال ناپاک یعنی مکروہ ہے حرام نہیں ہے۔ کسب الحجام خبیث میں لفظ خبیث کے معنی ناپسندیدہ مراد لئے گئے ہیں کیونکہ خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ نے سینگی کھنچوانے کی اجرت ادا کی ہے اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو آپ خود کیوں دیتے لہذا اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ سینگی کھینچنے والے کو اپنی اجرت کے طور پر جو مال ملتا ہے وہ ناپسندیدہ یعنی مکروہ تنزیہی ہے۔
2816
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي مسعود الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن
اور حضرت ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت بدکار عورت کی اجرت اور کاہن کے حلوان یعنی اس کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔

تشریح
کتے کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے سلسلہ میں تفصیلی بحث اس سے پہلی حدیث کی تشریح میں کی جا چکی ہے چناچہ اس حدیث میں کتے کی قیمت کے ممنوع ہونے کا جو حکم بیان کیا گیا اس کے بارے میں حنفی علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم اس وقت تھا جب کہ آنحضرت ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا نیز آپ نے کتوں سے فائدہ حاصل کرنی کی بھی ممانعت کردی تھی مگر پھر بعد میں آپ نے یہ اجازت دے دی تھی کہ کتوں سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یہاں تکہ یہ بھی منقول ہے کہ ایک شخص نے ایک شکاری کتے کو مار ڈالا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ مالک کو اس کتے کے بدلہ میں ایک دنبہ دے۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نہ تو کتے کی خریدوفروخت جائز ہے اور نہ کسی کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے کتا خواہ معلم ہو یا غیر معلم ہو اسی طرح خواہ اس کتے کا پالنا جائز ہو یا ناجائز ہو لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے اس کتے کی خریدو فروخت جائز قرار دی ہے جس سے فائدہ اٹھانا مقصود ہو مثلا گھر بار کی نگرانی یا ریوڑ گلوں کی نگہبانی وغیرہ نیز حضرت امام اعظم نے ایسے کتے کو مار ڈالنے والے کے لئے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ وہ اس کتے کی قیمت اس کے مالک کو ادا کرے۔ بدکار عورت کے اس مال کا حکم جو اس نے اپنی بدکاری کی اجرت کے طور پر حاصل کیا ہو گذشتہ حدیث کی تشریح میں ذکر کیا جا چکا ہے کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو آنیوالے زمانہ کی خبریں بتایا کرتا ہے اسی طرح حلوان کے لغوی معنی اگرچہ شیرینی اور مٹھائی ہے لیکن اصطلاحی طور پر عربی میں حلوان اس اجرت کو کہتے ہیں جو کاہن آئندہ کی خبریں معلوم کرنے والے سے وصول کرتا ہے خواہ وہ مٹھائی اور کھانے وغیرہ کی صورت میں ہو یا کپڑے زیور اور نقدی وغیرہ کی شکل میں کاہن کی اجرت کو حلوان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح شیرینی اور مٹھائی کھانے سے طبیعت کو فرحت محسوس ہوتی ہے اسی طرح کاہن کو اپنی یہ اجرت لے کر بہت ہی فرحت محسوس ہوتی ہے کیونکہ بغیر کسی محنت ومشقت کے وہ اچھا خاصا مال بٹور لیتا ہے۔ یہ بات تو معلوم ہی ہوگی کہ جس طرح کاہن کے پاس جانا اور ان سے آئندہ کی خبریں معلوم کرنا حرام ہے اسی طرح پوشیدہ باتوں کو معلوم کرنے کے لئے نجومی اور پامسٹ وغیرہ کے پاس جانا اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرنا حرام ہے اس بارے میں کسی عالم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اس کی تفصیلی بحث انشاء اللہ باب السحر والکہانۃ میں آئے گی۔
2817
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي حجيفة أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن ثمن الدم وثمن الكلب وكسب البغي ولعن آكل الربا وموكله والواشمة والمستوشمة والمصور . رواه البخاري
اور حضرت ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خون کی قیمت کتے کی قیمت اور بدکار عورت کی اجرت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کے استعمال سے منع فرمایا ہے نیز آپ نے سود لینے والے اور سود دینے والے گودنے والے اور گودوانے والے اور مصور پر لعنت فرمائی ہے۔

تشریح
خون کی قیمت سے منع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے خون کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے کیونکہ خون نجس ہوتا ہے اور اس کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ جس چیز کی خریدوفروخت ناجائز ہوتی ہے اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال بھی ناجائز ہوتا ہے بعض حضرات نے ثمن الدم (خون کی قیمت) کو سینگی کھینچنے والے کی اجرت پر محمول کیا ہے اس صورت میں ممانعت کا تعلق مکروہ تنزیہی سے ہوگا کتے کی قیمت اور بدکار عورت کی اجرت کے بارے میں گزشتہ احادیث میں بیان کی جا چکی ہے۔ گودنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جسم کے کسی حصہ پر یا پورے جسم پر سوئی سے گود کر سرمہ یا تیل بھر دیتے ہیں جس سے سرمئی یا نیلے داغ ہوجاتے ہیں چناچہ آپ نے گودنے والے پر بھی اور گودوانے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔ کیونکہ یہ فاسقوں اور غیر مسلموں کا کام ہے نیز اس طریقہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا شدہ جسم کی اصل خلقت میں تغیر وبدنمائی ہوتی ہے اگر کسی مسلمان کے جسم پر گودنے کے داغ ہوں تو اس کے بارے میں تعلیق القرار میں لکھا ہے کہ اسے کسی بھی تدبیر سے مٹا دیا جائے اور اگر زخم و خراش پیدا کئے بغیر کسی بھی تدبیر سے اس کو مٹانا ممکن نہ ہو تو پھر چھوڑ دیا جائے ان کو مٹانے کے لئے زخم وخراش کی تکلیف برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم بہرصورت اس قبیح فعل پر ندامت کے ساتھ توبہ کی جائے توبہ کے بعد گناہگار نہیں رہے گا۔ آپ نے مصور پر بھی لعنت فرمائی ہے لیکن مصور سے مراد یہ ہے وہ جانور کا فوٹو کھینچنے یا جاندار کی تصویر بنائے یا تصویر گاڑھے غیر جاندار چیزوں مثلا مکانات درخت اور پہاڑ وغیرہ کی تصویریں کھینچنا بنانا اور گاڑنا درست ہے۔ خطابی نے لکھا ہے کہ تصویر کی دو قسمیں ہوتی ہیں ایک تو یہ ہے کہ جس چیز پر تصویر بنائی جاتی ہے وہ چیز تصویر کی ایک ضمنی شئ ہوتی ہے اور تصویر مقصود بالذات ہوتی ہے مثلا جب فوٹو کھینچا جاتا ہے یا کاغذ پر تصویر بنائی جاتی ہے تو اس فوٹو یا تصویر کے کاغذ کی حیثیت محض ضمنی ہوتی ہے اصل مقصد کا تعلق تصویر سے ہوتا ہے دوسری قسم یہ ہے کہ جس چیز پر تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے وہ چیز مقصود بالذات ہوتی ہے اور تصویر اس چیز کا ایک ضمنی وصف ہوتا ہے مثلا برتن دیواروں چھتوں قالینوں اور پردوں وغیرہ پر بنی ہوئی تصویریں۔ لہذا دوسری قسم کی خریدو فروخت جائز ہے جب کہ بنانا دونوں ہی کا ناجائز ہے۔
2818
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول عام الفتح وهو بمكة : إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام . فقيل : يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة ؟ فإنه تطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس ؟ فقال : لا هو حرام . ثم قال عند ذلك : قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها أجملوه ثم باعوه فأكلوا ثمنه
اور حضرت جابر سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے شراب مردار خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیا ہے جب آپ سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ ہمیں مردار کی چربی کا حکم بھی بتائیے جو کشتیوں پر ملی جاتی ہے نیز اس سے چمڑوں کو چکنا کیا جاتا ہے اور لوگ (گھروں میں) اس سے چراغ جلاتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ مردار کی چربی بھی حرام ہے اس لئے اس سے یہ فائدے اٹھانے جائز نہیں پھر آپ نے اسی وقت یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے مردار کی چربی کو حرام قرار دیا تو یہود (نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ) چربی کو پگھلاتے اور بیچ ڈالتے اور پھر اس کی قیمت کھا جاتے ( بخاری ومسلم)

تشریح
عطاء نے لکھا ہے کہ شراب وغیرہ کے مذکورہ بالا حکم میں باجا بھی داخل ہے کہ اس کی خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہے نیز اگر کوئی شخص کسی باجے کو تلف کر دے تو اس پر ضمان یعنی مالک کو اس کی قیمت ادا کرنا واجب نہیں ہوتا۔ حضرت امام شافعی کا مسلم یہ ہے کہ مردار کی چربی کی خریدوفروخت تو جائز نہیں ہے لیکن اس چربی سے فائدہ اٹھانا یعنی اس کو کھانے اور آدمی کے جسم پر ملنے کے علاوہ اور کام میں استعمال کرنا جائز ہے خواہ کشتی پر ملے خواہ چراغ میں جلائے اور خواہ کسی اور کام میں لائے اسی طرح ان کے مسلک کے مطابق جو گھی یا زیت یا اور کوئی تیل نجاست پڑجانے کی وجہ سے نجس ہوگیا ہو تو اس کو چراغ میں جلانے یا اس کا صابون بنانا جائز ہے جب کہ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ جس طرح مردار کی خریدوفروخت ناجائز ہے اسی طرح اس سے کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھانا یعنی اس کی کسی بھی چیز کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے کیونکہ مردار کی حرمت بطریق عموم ثابت ہے البتہ دباغت کیا ہوا چمڑا اس سے مستثنی ہے کیونکہ اس کا جواز خصوصی طور پر ثابت ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے متبعین علماء نے نجس زیت کو بیچنے کی اجازت دی ہے البتہ ان کے نزدیک نجس تیل کو چراغ میں جلانا بالخصوص مسجد میں جلانا مکروہ ہے۔ حدیث کے آخر میں یہودیوں کی ایک خاص عیاری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جب ان کے لئے مردار کی چربی کو حرام قرار دیا تو انہوں نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ وہ چربی کو پگھلا کر اس کو بیچ دیتے تھے اور پھر اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والے مال کو اپنے استعمال میں لے آتے اور یہ کہتے تھے کہ اللہ نے تو چربی کھانے سے منع کیا ہے اور ہم چربی نہیں کھاتے بلکہ اس کی قیمت کے طور پر حاصل ہونے والا مال کھاتے ہیں گویا وہ جاہل چربی کو پگھلا کر یہ سمجھتے تھے کہ ہم نے چربی کی حقیقت کو بدل دیا ہے کہ پگھلنے کے بعد وہ چربی نہیں رہ گئی ہے اس لئے اس صورت میں حکم الٰہی کی خلاف ورزی نہیں ہوتی آنحضرت ﷺ نے ان کی اس عیارانہ چال کی وجہ سے ان کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایسا حیلہ اختیار کرنا کہ جس کے سبب سے حرام کا ارتکاب ہوتا ہو بالکل غلط ہے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کسی چیز کی قیمت حکم کے اعتبار سے اسی چیز کے تابع ہے کہ اگر وہ چیز حرام ہوگی تو اس کی قیمت بھی حرام ہوگی اور جو چیز حلال ہوگی اس کی قیمت بھی حلال ہوگی۔
2819
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قاتل الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے ان پر مردار کی چربیاں حرام کی گیں تو انہوں نے اس کو پگھلایا تاکہ چربی کا نام باقی نہ رہے اور پھر اس کی خریدوفروخت شروع کردی اس کی وضاحت حدیث بالا میں کی جا چکی ہے۔ (بخاری ومسلم)