Mishkaat Shareef
121. حکام کو تنخواہ اور ہدایا تحائف دینے کا بیان
مشكاة المصابيح
3679
Mishkaat Shareefاس باب میں یہ بیان ہوگا کہ حکام وعمال کے لئے بیت المال سے بطور تنخواہ واجرت کچھ مقرر کیا جائے یا نہیں اور یہ کہ اگر کوئی شخص حاکم کے لئے بطور ہدیہ وتحفہ کوئی چیز لائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
3680
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أعطيكم ولا أمنعكم أنا قاسم أضع حيث أمرت . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نہ تو تمہیں عطا کرتا ہوں اور نہ تمہیں محروم رکھتا ہوں، میں تو صرف بانٹنے والا ہوں کہ جس جگہ مجھے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے میں وہاں رکھ دیتا ہوں۔ (بخاری)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے صحابہ کے درمیان مال تقسیم کرتے ہوئے مذکورہ بالا جملے ارشاد فرمائے تاکہ وہ تقسیم و کمی بیشی کی وجہ سے اپنے دل میں کوئی خیال نہ لائیں، چناچہ (ما اعطیکم) الخ کا مطلب یہ ہے کہ نہ عطا کرنا میرے بس میں ہے اور نہ تمہیں محروم رکھنا میرے اختیار میں ہے کہ اگر میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اپنی خواہش اور اپنی مرضی سے اس کو دیا ہے یا اگر کسی کو نہیں دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرا دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اس لئے میں نے اس کو نہیں دیا، بلکہ میں صرف بانٹنے والا ہوں اس لئے جو کچھ بھی دیتا ہوں یا نہیں دیتا ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر ہے، جہاں اور جس کو دینے کا مجھے حکم دیا گیا ہے وہاں اور اس کو دیتا ہوں اور جہاں اور جس کو نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے میں وہاں اور اس کو نہیں دیتا۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے صحابہ کے درمیان مال تقسیم کرتے ہوئے مذکورہ بالا جملے ارشاد فرمائے تاکہ وہ تقسیم و کمی بیشی کی وجہ سے اپنے دل میں کوئی خیال نہ لائیں، چناچہ (ما اعطیکم) الخ کا مطلب یہ ہے کہ نہ عطا کرنا میرے بس میں ہے اور نہ تمہیں محروم رکھنا میرے اختیار میں ہے کہ اگر میں کسی کو کچھ دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں نے اپنی خواہش اور اپنی مرضی سے اس کو دیا ہے یا اگر کسی کو نہیں دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرا دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اس لئے میں نے اس کو نہیں دیا، بلکہ میں صرف بانٹنے والا ہوں اس لئے جو کچھ بھی دیتا ہوں یا نہیں دیتا ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر ہے، جہاں اور جس کو دینے کا مجھے حکم دیا گیا ہے وہاں اور اس کو دیتا ہوں اور جہاں اور جس کو نہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے میں وہاں اور اس کو نہیں دیتا۔
3681
Mishkaat Shareefوعن خولة الأنصارية قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق فلهم النار يوم القيامة . رواه البخاري
اور حضرت خولہ انصاریہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہت سے لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں (یعنی زکوٰۃ غنیمت اور بیت المال کے مال میں امام و حکمران کی اجازت کے بغیر تصرف کرتے ہیں اور اپنے حق اور اپنی محنت سے زیادہ وصول کرتے ہیں وہ قیامت کے دن دوزخ کی آگ کے سزاوار ہوں گے۔ (بخاری)
3682
Mishkaat Shareefوعن عائشة قالت : لما استخلف أبو بكر رضي الله عنه قال : لقد علم قومي أن حرفتي لم تكن تعجز عن مؤونة أهلي وشغلت بأمر المسلمين فسيأكل آل أبي بكر من هذا المال ويحترف للمسلمين فيه . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق جب خلیفہ بنائے گئے تو فرمایا کہ میری قوم کے لوگ (یعنی مسلمان جانتے ہیں کہ میرا کاروبار میرے اہل عیال کے اخرجات کے لئے کافی تھا، اب میں مسلمانوں کے امور میں مشغول ہوگیا ہوں (اور اس کی وجہ سے ابوبکر کے اہل و عیال بیت المال) کے مال سے کھائیں گے اور ابوبکر اس بیت المال کی آمدنی میں اضافہ کرنے اس کی حفاظت کرنے اور اس کو مسلمانوں کی ضروریات و دیگر مصارف میں اس کو خرچ کرنے کے ذریعہ مسلمانوں کی خدمت کرے گا۔ (بخاری)
تشریح
حضرت ابوبکر صدیق بازار میں کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور اس کے ذریعہ اپنے اہل و عیال کے مصارف پورے کرتے تھے لیکن جب مسلمانوں نے ان کو منصب خلافت پر فائز کیا تو انہوں نے صحابہ کو اطلاع دے دی کہ اب میں امور خلافت کی انجام دہی اور مسلمانوں کی خدمت میں مشغول ہوگیا ہوں اس لئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا لہٰذا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات کے بقدر بیت المال سے تنخواہ لیا کروں گا۔
تشریح
حضرت ابوبکر صدیق بازار میں کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور اس کے ذریعہ اپنے اہل و عیال کے مصارف پورے کرتے تھے لیکن جب مسلمانوں نے ان کو منصب خلافت پر فائز کیا تو انہوں نے صحابہ کو اطلاع دے دی کہ اب میں امور خلافت کی انجام دہی اور مسلمانوں کی خدمت میں مشغول ہوگیا ہوں اس لئے اپنا کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا لہٰذا اپنے اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات کے بقدر بیت المال سے تنخواہ لیا کروں گا۔
3683
Mishkaat Shareefحضرت ابوبکر کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے، اسی طرح حضرت عمر فاروق غلہ کی تجارت کرتے تھے، حضرت عثمان کے ہاں کھجوروں اور کپڑے کا کاروبار ہوتا تھا اور حضرت عباس عطاری کرتے تھے۔ علماء نے لکھا ہے کہ تجارت کی انواع میں سب سے بہتر تجارت کپڑے کی اور پھر عطر کی ہے نیز حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر جنتی تجارت کرتے تو کپڑے کی تجارت کرتے اور دوزخی تجارت کرتے تو صرف یعنی سونے چاندی کی تجارت کرتے۔
3684
Mishkaat Shareefعن بريدة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من استعملناه على عمل فرزقناه رزقا فما أخذ بعد ذلك فهو غلول . رواه أبو داود
حضرت بریدہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو ہم نے کسی کام پر مامور کیا اور اس کو رزق دیا (یعنی اس کے اس کام کی اجرت وتنخواہ مقرر کردی اس کے بعد اگر وہ (اپنی تنخواہ سے زائد) کچھ وصول کرے گا تو یہ مال غنیمت میں خیانت ہے۔ (ابو داؤد)
3685
Mishkaat Shareefوعن عمر رضي الله عنه قال : عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فعملني . رواه أبو داود
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں مجھے عامل بنایا گیا اور اس کی اجرت (تنخواہ) مجھ کو دی گئی۔ (ابوداؤد)
3686
Mishkaat Shareefوعن معاذ قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن فلما سرت أرسل في أثري فرددت فقال : أتدري لم بعثت إليك ؟ لا تصيبن شيئا بغير إذني فإنه غلول ومن يغلل يأت بما غل يوم القيامة لهذا دعوتك فامض لعملك . رواه الترمذي
اور حضرت معاذ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے (عامل ) بنا کر بھیجا (جب میں یمن جانے کے لئے روانہ ہوا اور کچھ دور چلا گیا) تو آپ ﷺ نے (مجھے بلانے کے لئے ایک شخص کو) میرے پیچھے بھیجا میں لوٹ کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو، میں نے تمہیں بلانے کے لئے (آدمی) کیوں بھیجا تھا ؟ (میں یہ آگاہی دینے کے لئے تمہیں بلایا ہے کہ) تم (اپنی مدت ملازمت کے دوران) میری اجازت کے بغیر کچھ نہ لینا کیونکہ یہ خیانت ہے اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جس میں اس نے خیانت کی ہے یہی کہنے کے لئے میں نے تمہیں بلایا تھا اب تم اپنے کام پر جاؤ۔ (ترمذی) ۔
3687
Mishkaat Shareefوعن المستورد بن شداد قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : من كان لنا عاملا فليكتسب زوجة فإن لم يكن له خادم فليكتسب خادما فإن لم يكن له مسكن فليكتسب مسكنا . وفي رواية : من اتخذ غير ذلك فهو غال . رواه أبو داود
اور حضرت مستورد ابن شداد کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو ہم نے عامل (کسی جگہ کا حاکم وکار پرداز) بنایا (اگر اس کے بیوی نہ ہو تو) اس کو چاہے کہ وہ ایک بیوی بیاہ لے اگر اس کے پاس کوئی خادم (غلام و لونڈی) نہ تو اس کو چاہئے کہ وہ ایک خادم خرید لے اور اگر اس کا کوئی گھر نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ ایک گھر بنا لے یا خرید لے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اگر وہ اس کے علاوہ کچھ لے گا تو وہ خیانت کرنے والا ہوگا۔ (ابو داؤد ) ۔
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عامل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے زیر تصرف بیت المال سے اپنی بیوی کے مہر، اس کے نان نفقے اور اس کے لباس کے بقدر حاجت (بلا اسراف) روپیہ ومال لے سکتا ہے اسی طرح وہ اپنی رہائشی ضروریات کے مطابق ایک مکان اور خدمت کے لئے خادم (کی قیمت واجرت کے بقدر بھی اس بیت المال سے لے سکتا ہے البتہ اگر وہ ان ضرورت و حاجت سے زیادہ لے گا تو وہ اس کے حق میں حرام ہوگا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ اس عامل کے لئے کوئی تنخواہ واجرت مقرر نہ کی گئی ہو اور بیت المال اس کی (تنخواہ واجرت کا اور اس کے مذکورہ مصارف) کا کفیل ہوسکتا ہو۔
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ عامل کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے زیر تصرف بیت المال سے اپنی بیوی کے مہر، اس کے نان نفقے اور اس کے لباس کے بقدر حاجت (بلا اسراف) روپیہ ومال لے سکتا ہے اسی طرح وہ اپنی رہائشی ضروریات کے مطابق ایک مکان اور خدمت کے لئے خادم (کی قیمت واجرت کے بقدر بھی اس بیت المال سے لے سکتا ہے البتہ اگر وہ ان ضرورت و حاجت سے زیادہ لے گا تو وہ اس کے حق میں حرام ہوگا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ اس عامل کے لئے کوئی تنخواہ واجرت مقرر نہ کی گئی ہو اور بیت المال اس کی (تنخواہ واجرت کا اور اس کے مذکورہ مصارف) کا کفیل ہوسکتا ہو۔
3688
Mishkaat Shareefوعن عدي بن عميرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا أيها الناس من عمل منكم لنا على عمل فكتمنا منه مخيطا فما فوقه فهو غال يأتي به يوم القيامة . فقام رجل من الأنصار فقال : يا رسول الله اقبل عني عملك . قال : وما ذاك ؟ قال : سمعتك تقول : كذا وكذا قال : وأنا أقول ذلك من استعملناه على عمل فليأت بقليله وكثيره فما أوتي منه أخذه وما نهي عنه انتهى . رواه مسلم وأبو داود واللفظ له
اور حضرت عدی ابن عمیرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک دن مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے) فرمایا لوگو ! تم میں سے جو شخص ہماری طرف سے کسی کام کا عامل بنایا جائے (یعنی جس کو ہم کسی خدمت مثلًا زکوٰۃ وغیرہ وصول کرنے پر مامور کریں) اور وہ اپنے اس کام کے حاصل (آمدنی) میں سے سوئی برابر یا اس سے زائد ہم سے چھپائے (یعنی وہ جو کچھ وصول تحصیل کرے اس میں سے ہماری اجازت اور ہمارے علم کے بغیر تھوڑا یا بہت لے لے ) تو وہ خیانت کرنے والا ہے اور وہ قیامت کے دن اس (خیانت کی ہوئی چیز) کو لے کر آئے گا۔ (یہ سن کر) ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے (وصول تحصیل کا) جو کام میرے سپرد کیا ہے وہ مجھ سے واپس لے لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیوں ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے جو آپ کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے (یعنی آپ ﷺ نے اس کام کے سلسلے میں جو وعید بیان فرمائی ہے اس کی وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہوگیا ہوں، کیونکہ یہ کام لغزش سے خالی نہیں ہے، اگر میں کسی لغزش میں مبتلا ہوگیا تو قیامت کے دن کیا جواب دوں گا ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، میں پھر یہی کہتا ہوں کہ ہم جس شخص کو عامل مقرر کریں اس کو چاہئے کہ وہ جو کچھ وصول کریں، وہ تھوڑا ہو یا زیادہ سب ہمارے پاس لے کر آئے اور اس میں سے اس کو (اس کی اجرت تنخواہ کے طور پر) جس قدر دیا جائے وہ اس کو لے لے اور جو نہ دیا جائے اس سے باز رہے (اب اس واضح ہدایت و تنبیہ کے بعد جو شخص اس کام کو انجام دے سکے وہ اس کی ذمہ داری قبول کرے اور جو شخص ان شرائط کے ساتھ اس کی انجام دہی میں اپنے معذور سمجھے وہ اس کی ذمہ داری کو قبول نہ کرے۔ مسلم وابو داؤد۔ الفاظ ابوداؤد، کے ہیں۔