hadith book logo

Mishkaat Shareef

198. اہل بدر میں سے ان صحابہ کے ناموں کا ذکر جو جامع بخاری میں مذکور ہیں

مشكاة المصابيح

6255
Mishkaat Shareef
صحیح
- النبي محمد بن عبد الله الهاشمي صلى الله عليه و سلم . 2 - عبد الله بن عثمان أبو بكر الصديق القرشي . 3 - عمر بن الخطاب العدوي . 4 - عثمان بن عفان خلفه النبي صلى الله عليه و سلم على ابنته رقية وضرب له بسهمه . 5 - علي بن أبي طالب الهاشمي . 6 - إياس بن البكير . 7 - بلال بن رباح مولى أبي بكر الصديق . 8 - حمزة بن عبد المطلب الهاشمي . 9 - حاطب بن أبي بلتعة حليف لقريش . 10 - أبو حذيفة بن عتبة بن ربيعة القرشي . 11 - حارثة بن الربيع الأنصاري قتل يوم بدر وهو حارثة بن سراقة كان في النظارة . 12 - خبيب بن عدي الأنصاري . 13 - خنيس بن حذافة السهمي . 14 - رفاعة بن رافع الأنصاري . 15 - رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري . 16 - الزبير بن العوام القرشي . 17 - زيد بن سهل أبو طلحة الأنصاري . 18 - أبو زيد الأنصاري . 19 - سعد بن مالك الزهري . 20 - سعد بن خولة القرشي . 21 - سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل القرشي . 22 - سهل بن حنيف الأنصاري . 23 - ظهير بن رافع الأنصاري . 24 - وأخوه . 25 - عبد الله بن مسعود الهذلي . 26 - عبد الرحمن بن عوف الزهري . 27 - عبيدة بن الحارث القرشي . 28 - عبادة بن الصامت الأنصاري . 29 - عمرو بن عوف حليف بني عامر بن لؤي . 30 - عقبة بن عمرو الأنصاري . 31 - عامر بن ربيعة العنزي . 32 - عاصم بن ثابت الأنصاري . 33 - عويم بن ساعدة الأنصاري . 34 - عتبان بن مالك الأنصاري . 35 - قدامة بن مظعون . 36 - قتادة بن النعمان الأنصاري . 37 - معاذ بن عمرو بن الجموح . 38 - معوذ بن عفراء . 39 - وأخوه . 40 - مالك بن ربيعة أبو أسيد الأنصاري . 41 - مسطح بن أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف . 42 - مرارة بن الربيع الأنصاري . 43 - معن بن عدي الأنصاري . 44 - مقداد بن عمرو الكندي حليف بني زهرة . 45 - هلال بن أمية الأنصاري رضي الله عنهم
نبی کریم محمد بن عبداللہ ہاشمی ﷺ ، عبداللہ بن عثمان جو ابوبکر صدیق کی کنیت سے مشہور ہیں اور قریشی ہیں، عمر بن الخطاب عدوی، عثمان بن عفان قریشی جن کو نبی کریم ﷺ نے اپنی بیمار بیٹی رقیہ کی تیمارداری کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا اور پھر جنگ بدر کے مال غنیمت میں ان کا حصہ لگایا تھا، علی ابن ابی طالب ہاشمی، ایاس بن بکیر، بلال بن رباح جو ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، حمزہ بن عبد المطلب ہاشمی، حاطب بن ابی بلتعہ، قریش کے حلیف، ابوحذیفہ ابن عقبہ بن ربیع قریشی، حارثہ بن ربیع انصاری جو جنگ بدر میں شہید ہوئے اور اس کا اصل نام حارثہ بن سراقہ ہے، نیز یہ صاحب جنگ میں شریک نہیں تھے بلکہ دشمنوں پر نظر رکھنے اور ان کو خبر دینے پر مامور تھے، خبیب بن عدی انصاری، خنیس بن خذافہ سہمی، رفاعہ بن رافع انصاری، رفاعہ بن عبد المنذر، ابولبابہ انصاری، زبیر بن عوام قریشی، زید بن سہل، ابوطلحہ انصاری، ابوزید انصاری، سعد بن مالک زہری، سعد بن خولہ قریشی، سعید بن عمر وبن نفیل قریشی، سہل بن حنیف انصاری، ظہیر بن رافع انصاری، ظہیربن رافع کے بھائی، عبداللہ بن مسعود ہذلی، عبدالرحمن بن عوف زہری، عبیدہ بن حارث قریشی، عبادہ بن صامت انصاری، عمر و بن عوف، بنوعامر لوی کے حلیف، عقبہ بن عمر و انصاری، عامر بن ربیعہ عنزی، عاصم بن ثابت انصاری، عویم بن ساعدہ انصاری، عتبان ابن مالک انصاری، قدامہ بن مظعون، قتادہ بن نعمان انصاری، معاذ بن عمرو بن الجموع، معوذ بن عفراء معوذ بن عفراء کے بھائی مالک بنربیعہ ابواسید انصاری، مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب بن عبد مناف، مرارہ بن ربیع انصاری، معن بن عدی انصاری، مقداد بن عمرو کندی، جو بنو زہرہ کے حلیف، حلال بن امیہ انصاری، رضوان اللہ علہیم اجمعین اللہ ان سب سے راضی اور خوش ہوا۔

تشریح
ان مبارک ناموں کے ذکر کی ابتداء آنحضرت ﷺ کے اسم پاک سے یا تو خیر و برکت حاصل کرنے کے لئے کی گئی ہے یا آپ ﷺ کا نام ذکر کرنا اس لئے بھی ضروری تھا اس مخصوص فہرست میں آپ ﷺ کا اسم مبارک نہ پاکر یہ خیال نہ کر بیٹھے کہ آنحضرت ﷺ جنگ بدر میں بنفس نفیس شریک نہیں تھے آنحضرت ﷺ کے بعد خلفاء اربعہ کے اسماء ہیں اور پھر باقی حضرات کے نام حروف تہجی کی ترتیب سے ذکر کئے گئے ہیں اس باب میں مذکورہ بدری حضرات سے سوانحی خاکہ بطریق اختصار و اجمال پیش کئے جاتے ہیں ،
6256
Mishkaat Shareef
صحیح
آنحضرت ﷺ کی ولادت پاک مکہ میں واقعہ فیل کے سال ہوئی اور عمر مبارک کو جب چالیسواں سال لگا تو بعثت، ہوئی، یعنی اللہ تعالیٰ نے مرتبہ نبوت اور رسالت سے سرفراز کیا، آپ ﷺ کی نبوت کا زمانہ ٢٣ سال اور کل عمر مبارک ٦٣ سال کی ہوئی آپ ﷺ تمام رسولوں کے سردار اور خاتم النبین ﷺ ہیں واعلی آلہ وا صحابہ واتباعہ واجزابہ اجمعین
6257
Mishkaat Shareef
صحیح
اسلامی نام عبداللہ ہے، باپ کا نام عثمان تھا ابوبکر کنیت ہے اور صادق لقب سے قریشی ہیں اور تمیم بن مرہ کے سلسلے سے ہیں مرہ پر حضرت ابوبکر صدیق (رض) آنحضرت ﷺ سے نسب میں مل جاتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ان کا نام عبد رب الکعبہ تھا جن کو بدل کر آنحضرت ﷺ نے عبداللہ نام رکھا تھا اور ایک نام عتیق بھی عطا فرمایا تھا، اسی طرح ان کی کنیت ابوبکر بھی آنحضرت ﷺ ہی نے رکھی تھی، ایک قول یہ ہے کہ عتیق حضرت ابوبکر (رض) کا قدیمی نام ہے اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) چونکہ بہت حسین وخوبرو اور نہایت شریف النسل تھے اس لئے ان کو عتیق کہا جاتا تھا کیونکہ عتیق کے ایک معنی کرم و جمال اور نجابت کے بھی آتے ہیں اور روایتوں میں آتا ہے کہ ان کی ماں کے ہاں بچہ جیتا نہیں تھا اور جب حضرت ابوبکر (رض) پیدا ہوئے تو ان کی ماں ان کو لے کر کعبہ اقدس کے سامنے پہنچیں اور دعا کی کہ خدایا ! اس بچہ کو موت سے آزاد رکھ اور مجھ کو مرحمت فرما تمام امت محمدی کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے کیونکہ انہوں نے بےخوف ہو کر آنحضرت ﷺ کی بلا تامل تصدیق کی فرمائی اور ہر حالت میں صدق کو اپنے لئے لازم رکھا، معراج کی متعلق بھی انہوں نے کفار کے مقابلہ میں ثابت قدمی دکھائی اور آنحضرت ﷺ کے قول کی فورا تصدیق فرمائی، ان کے والد عثمان اپنی کنیت ابوقحافہ کے ساتھ مشہور ہیں، ابوقحافہ نے فتح مکہ کے سال اسلام قبول کیا اور شروع ١٤ ھ میں حضرت ابوبکر کی وفات چھ ماہ اور چند روز کے بعد ٩٧ سال کی عمر میں فوت ہوئے آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد ربیع الاول ١١ ھ میں تمام امت نے بالا اتفاق حضرت ابوبکر کو خلیفہ اول مقرر کیا اور ٢٢ اور ٢٣ جمادی الثانی ١٣ ھ کی درمیانی شب میں انہوں نے بعمر ٦٣ سال داعی اجل کو لبیک کہا، اس طرح دو سال اور تین ماہ سے کچھ اوپر ان کی خلافت رہی۔ حضرت ابوبکر صدیق متوسط القامت، خوش رو، آئینہ جمال، نحیف البدن اور ہلکے رخساروں والے تھے، ان کے رخساروں پر نیل گوں رگیں نمایاں تھیں۔ (رض) ۔
6258
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت عمر بن الخطاب (رض) عدی بن کعب کی اولاد سے ہیں اور قریشی ہیں ابوحفصہ کنیت ہے، پانچویں پشت پر ان کا اور آنحضرت ﷺ کا سلسلہ نسب ایک ہوجاتا ہے زمانہ اسلام سے پہلے بھی حضرت عمر (رض) کا شمار نہایت اہم عمائدین قریش میں ہوتا تھا اور اس زمانہ میں اہل مکہ کی طرف سے سفارت ونمائیدگی کی ذمہ داری انہی کے سپرد تھی، یعنی جب بھی کسی موقع پر اہل مکہ اور قریش دوسرے قبائل کے سرداروں یا دوسری جگہ کے چودھریوں کے پاس اہم پیغام یا مشن بھیجتے تو اس کے لئے حضرت عمر (رض) ہی کا انتخاب کیا جاتا تھا حضرت عمر (رض) بہت گورے چٹے تھے، نہایت سفید وچمکدار آنکھیں سرخ اور قد اتنا بلند اور پر شکوہ تھا کہ جب لوگوں کے درمیان کھڑے ہوتے تو معلوم ہوتا تھا کہ وہ اونٹ پر سوار ہیں اور دوسرے لوگ اپنے پیروں پر کھڑے ہیں، وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ تورایت میں حضرت عمر (رض) کی تعریف ان الفاظ میں ہوئی ہے قرن حدید شدید امین یعنی وہ پہاڑ کی چوٹی بلند پر شکوہ ہے، تیز ہے، سخت ہے اور امانت دار ہے، اسلام میں حضرت عمر (رض) کا لقب فاروق ہے کیونکہ ان کی ذات حق و باطل اور کفر کے درمیان فرق کردینے والی معیار تھی، ان کی ہیبت اتنی زبر دست تھی کہ ان کی بڑی سے بڑی مخالفت طاقت بھی ان سے لرزاں رہتی تھی انہوں نے آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہلے آنحضرت ﷺ کے حکم پر راہ ہجرت اختیار کی تھی۔ منقول ہے کہ جب فاروق اعظم (رض) نے ہجرت کے ارادہ سے مکہ کو چھوڑنا چاہا تو تلوار گلے میں ڈالی، کمان کا چلہ چڑھایا اور تیر ہاتھ میں لئے ہوئے کعبہ میں آئے جہاں قریش کے تمام سردار اور کفار مکہ عمائدین پہلے سے موجود تھے، فاروق اعظم نے ان سب کے سامنے کعبہ اقدس کا طواف کیا دو رکعت نماز پڑھی اور پھر قریش و کفار مکہ کے سرداروں کی ایک ٹولی کے پاس الگ الگ آئے اور ان کو مخاطب کرکے بولے، تمہارے چہروں پر پھٹکار بر سے تم میں سے جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اس کی ماں زندگی بھر اس کو روتی رہے اس کا بیٹا یتیم ہوجائے اور اس کی بیوی اپنا سہاگ گنوا بیٹھے تو وہ میرے تعاقب میں نکلے اور اس وادی یعنی مکہ شہر سے باہر مجھ سے ملے لیکن ان میں سے کسی کو فاروق اعظم (رض) کے تعاقب کی ہمت نہ ہوئی۔ حضرت عمر فاروق (رض) اسلام کے دوسرے خلیفہ ارشد ہیں ان کی خلافت کی مدت ساڑھے دس سال ہے اور مشہور قول کے مطابق ان کی عمر تریسٹھ سال کی ہوئی، (رض) ۔
6259
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت عثمان غنی بن عفان قریشی ہیں، ان کی ولادت واقعہ فیل کے چھٹے سال ہوئی اور انہوں نے اس وقت اسلام قبول کرلیا تھا جب آنحضرت ﷺ دار ارقم میں قیام پذیر نہیں ہوئے تھے، ان سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) حضرت علی اور حضرت زید ابن حارثہ (رض) مشرف بہ اسلام ہوچکے تھے، انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی دعوت و ترغیب پر اسلام قبول کیا تھا اور منقول ہے کہ جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور ان کے چچا حکم بن العاص بن امیہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے ان کو باندھ کر قید میں ڈال دیا اور بولا کہ تو نے باپ دادا کے دین کو چھوڑ کرنیا دین اختیار کرلیا ہے اللہ کی قسم تجھے اس وقت تک اس قید سے رہا نہیں کروں گا جب تک کہ تو اس نئے دین کو چھوڑ نہیں دیتا، حضرت عثمان نے جواب دیا تو پھر چچاجان آپ بھی سن لیجئے کہ میں ہرگز نہیں چھوڑوں گا جو آپ کے جی میں آئے کیجئے، حکم بن ابوالعاص نے جب حضرت عثمان کی اس سختی اور مضبوطی کو دیکھا تو ان کو رہا کردیا۔ آنحضرت ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ حضرت عثمان کے نکاح میں تھیں، جنگ بدر کے دنوں میں وہ سخت بیمار تھیں، جب آنحضرت ﷺ بدر کو روانہ ہونے لگے تو حضرت عثمان (رض) کو حکم دیا کہ تم ہمارے ساتھ چلو، مدینہ میں رہ کر رقیہ کی تیمار داری کرو اور اس کی دیکھ بھال رکھو، چناچہ حضرت عثمان جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے، لیکن چونکہ آنحضرت ﷺ کے حکم پر ان کو مدینہ میں رہ جانا پڑا تھا، اس لئے آنحضرت ﷺ نے جنگ بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی لگایا اور اس اعتبار سے ان کو اصحاب بدر میں شمار کیا۔ اسی بیماری میں حضرت رقیہ کا انتقال ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا اگر میرے پاس تیسری بیٹی ہوتی تو میں اس کو بھی حضرت عثمان کے نکاح میں دے دیتا، حضرت عثمان (رض) کے علاوہ اور کوئی ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میں کسی پیغمبر کی دو بیٹیاں آئی ہوں اور اس اعتبار سے ذوالنورین حضرت عثمان (رض) کا لقب قرار پایا۔ حضرت عثمان (رض) میانہ قد، خوش رو، بزرگ ریش اور سرخ سفید رنگت کے تھے ان کے منہ پر چیچک کے نشان تھے ان کا سراپا نہایت دلکش، جاذب نظر اور پر جمال تھا، منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا میں نے اس شخص کے ساتھ تمہارا نکاح کیا جو تمہارے دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور تمہارے باپ محمد ﷺ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔ حضرت عثمان (رض) شرم وحیا کے مثالی پیکر تھے روایتوں میں آتا ہے کہ گھر کے اندر دروازہ بند کر کے غسل کرتے تھے کیا مجال جو کوئی پیٹ اور پیٹھ بھی عریاں دیکھ لے یہ بھی منقول ہے کہ حضرت عثمان (رض) حیاء کے مارے اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرسکتے تھے۔ عثمان غنی (رض) اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد ہیں، ٣٥ ھ میں ایام تشریق کے دوران شہید ہوئے اور ان کی خلافت تیرہ سال رہی، عمر مبارک ٨٢ سال کی ہوئی، بعض حضرات نے ٨٣ سال اور بعض نے ٨٦ سال کی عمر لکھی ہے۔ (رض)
6260
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت علی بن ابی طالب (رض) آنحضرت ﷺ کے چچا زاد ہیں اور نہ صرف اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کے بھائی ہیں، بلکہ آنحضرت ﷺ کا ان کے ساتھ بھائی چارہ بھی ہوا تھا۔ آنحضرت ﷺ کی لاڈلی فاطمہ زہرا (رض) کے خاوند ہیں، حسن اور حسین کے باپ ہیں اور پہلے شخص ہیں جو باپ کی طرف سے بھی ہاشمی ہیں اور ماں کی طرف سے بھی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو قدیم الاسلام ہونے کا بھی شرف حاصل ہے اور ایک بڑی جماعت کے بقول صحابہ میں سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں علماء نے لکھا ہے کہ پیر (دوشنبہ) کے دن آنحضرت ﷺ منصب نبوت سے سرفراز ہوئے اور اگلے ہی دن یعنی منگل کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اسلام قبول کرلیا اس وقت ان کی عمر تین سال تھی اور بعض روایتوں کے مطابق سات سال کی تھی۔ اسلام میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جو بہت سارے لقب ہیں ان میں سے ہیں، امین شریف، ہادی، مہدی یعسوب المسلمین، ابوالریجانین اور ابوتراب۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ میانہ قد تھے، رنگ گندم گوں مائل بسرخی تھا، کشادہ دہن چہرہ ایسا روشن وتاباں جیسے چودھویں کا چاند آنکھیں بڑی بڑی اور نہایت سیاہ داڑھی بہت زیادہ گھنی، پیٹ نکلا ہوا جسم بھاری بھرکم، یہ ہے سراپا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سیدنا علی کرم اللہ وجہہ علم و معرفت اور عقل و دانائی میں اپنی صف کے یکتا، زہد وتقوی کے پیکر، سخی النفس، قوی دل اور نہایت بہادر وشجاع تھے، منصور بھی تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی مدد ان کو حاصل ہوتی تھی اور ہر مہم میں فتح یاب ہوتے تھے ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ بدر کے دن علی کرم اللہ وجہہ نے رسول اللہ ﷺ کا نیزہ لیا تھا اور ایک روایت میں آیا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ نے غزوہ بدر میں اور دوسرے غزوات میں بھی آنحضرت ﷺ کا نیزہ لیا تھا۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ اسلام کے چوتھے خلیفہ ارشد ہیں، ان کی خلافت کا زمانہ پانچ سال رہا اور ٤١ ھ میں سترہویں رمضان کو شب جمعہ میں بوقت سحر شہید ہوئے، صحیح و مختار قول کے مطابق ان کی عمر ٦٣ سال کی ہوئی۔ (رض) ۔
6261
Mishkaat Shareef
صحیح
ایاس بن بکیر (رض) ان کا نام ایا س ہے اور بکیر کے بیٹے ہیں، بعض نسخوں میں (بکر کی تصغیر) کا لفظ لام کے ساتھ، البکیر بھی مذکور ہوا ہے اور بعض حضرات نے بخاری کی روایت کے حوالہ سے اس لفظ کو بکیر بھی نقل کیا ہے، بہر حال ایاس کا شمار مہاجرین اولین میں ہوتا ہے، غزوہ بدر میں بھی شریک تھے اور پھر بعد کے دوسرے جہادوں میں شریک ہوئے، انہوں نے اور ان کے بھائی عامر بن بکیر نے مکہ میں اس زمانہ میں اسلام قبول کیا تھا جب آنحضرت ﷺ دارارقم میں قیام پذیر تھے۔ ان کی وفات ٣٤ ھ میں ہوئی۔ (رض) ۔
6262
Mishkaat Shareef
صحیح
یہ مشہور صحابی حضرت بلال (رض) ہیں جو آنحضرت ﷺ کے مؤذن تھے، ان کے باپ کا نام رباح اور ماں کا نام طمامہ تھا، حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے بعض حضرات نے ابوعبداللہ بعض نے ابوعبد الکریم اور بعض نے ابوعامر بھی کنیت لکھی ہے۔ حضرت بلال قدیم الاسلام ہیں سب سے پہلے انہوں نے ہی مکہ میں اسلام کا اظہار کیا تھا جس کے سبب اللہ کے دین کی راہ میں ان کو نہایت سخت عذاب جھیلنا پڑے، اس زمانہ میں حضرت بلال (رض) ایک دشمن دین امیہ بن خلف عجمی کے غلام تھے۔ امیہ ان کو نہایت ہولناک اذیتیں پہنچایا کرتا تھا، وہ ان کو لوہے کی زرہ میں کس کر جلتی دھوپ میں ڈال دیتا تھا، لکڑی کے موصل سے ان کی پٹائی کرتا تھا، آخر کار حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ان کو اس کو ظالم مالک سے بھاری قیمت کے عوض خرید کر آزاد کیا اور پھر جنگ بدر میں وہی امیہ انہی حضرت بلال (رض) کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا۔ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا تھا کہ خانہ کعبہ میں اذان دیں، حضرت بلال (رض) کے فضائل ومناقب بیشمار ہیں ان کی فضیلت و بزرگی کے اظہار کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا سابقین چار ہیں، میں سابق عرب ہوں، بلال سابق حبشہ ہیں، صہیب سابق روم ہیں اور سلمان سابق فارس ہیں، حضرت بلال (رض) کا رنگ گندم گوں تھا دراز قد تھے، جسم پر بال بہت زیادہ تھے، انہوں نے دمشق میں ٢٠ ھ میں وفات پائی اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی وفات ١٨ ھ میں ہوئی۔ وفات کے وقت کچھ اوپر ساٹھ سال کے تھے، بعض حضرات نے ان کی عمر ٧٠ سال لکھی ہے (رض) ۔
6263
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت حمزہ بن عبد المطلب (رض) ہاشمی آنحضرت ﷺ کے چچا ہیں ان کو سید الشہداء کا لقب عطا ہوا تھا بعض حضرات نے اسد اللہ کا لقب بھی لکھا ہے، ان کی ماں کا نام ہالہ بنت وہب ہے جو آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کی بہن ہیں اور اس اعتبار سے حضرت حمزہ (رض) آنحضرت ﷺ کے خالہ زاد بھائی ہیں۔ سید الشہداء حضرت حمزہ (رض) شجاع قومی اور دل اور انسان تھے، ان کی شجاعت وبہادری کے واقعات سے اسلامی تاریخ وسیر کی کتابیں بھری ہیں، ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ فرشتے حمزہ بن عبد المطلب اور حنظلہ بن راہب کو غسل دے رہے ہیں اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ حمزہ اللہ کے نزدیک ساتویں آسمان پر یوں لکھے ہوئے ہیں۔ حمزۃ بن عبد المطلب اسد اللہ واسد رسولہ (حمزہ بن عبد المطلب، جو اللہ کا اور اللہ کے رسول کا شیر ہے ) ۔ (رض)
6264
Mishkaat Shareef
صحیح
ان کی کنیت ابو عبیداللہ ہے۔ عزوہ بدر میں بھی شریک تھے اور غزوہ خندق میں بھی اور اس کے بعد کے چاروں میں بھی شریک ہوئے۔ ان سے جو ایک لغزش ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مدینہ منورہ سے ایک خفیہ خط اہل مکہ کے نام روانہ کیا تھا جس میں آنحضرت ﷺ کے ایک جنگی منصوبہ کا انکشاف تھا اور پھر وہ راستہ ہی میں پکڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس واپس لایا گیا تھا، اس کا تفصیلی ذکر پیچھے آچکا ہے، انہوں نے ٣٠ ھ میں مدینہ میں بعمر ٦٥ سال وفات پائی۔