Mishkaat Shareef
27. جنازہ کے ساتھ چلنے اور نماز جنازہ کا بیان
مشكاة المصابيح
1625
Mishkaat Shareefجنازہ کے ساتھ پیادہ چلنا اور سوار چلنا دونوں جائز ہیں لیکن پیادہ چلنا افضل ہے۔ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ سواری پر چلے تو اسے چاہئے کہ وہ جنازہ کے پیچھے پیچھے چلے ہاں پیادہ چلنے والے کے لئے جنازہ کے آگے چلنا بھی جائز ہے اور پیچھے بھی لیکن اس کے لئے پیچھے ہی چلنا افضل ہے۔
1626
Mishkaat Shareefجنازہ کی نماز فرض کفایہ ہے یعنی اگر کچھ لوگ نماز جنازہ پڑھ لیں تو سب کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہوجائے گی ورنہ تو بصورت دیگر سب ہی گناہگار ہوں گے۔
1627
Mishkaat Shareefنماز جنازہ کے صحیح ہونے کی تین شرطیں ہیں (١) میت کا مسلمان ہونا (٢) طہارت میت یعنی میت کا نہلایا ہوا ہونا (٣) جنازہ کا نمازیوں کے آگے رکھا ہوا ہونا لہٰذا تیسری شرط کا مطلب یہ ہوا کہ نہ تو جنازہ کی نماز غائبانہ پڑھنا جائز ہے اور نہ اس جنازہ کی نماز جائز ہے جو جانور کی پیٹھ پر یا لوگوں کے کاندھے پر ہو اسی طرح اس جنازہ کی نماز بھی جائز نہیں ہے جو نمازیوں کے پیچھے رکھا ہوا ہو۔ اگر کوئی میت بغیر نہلائے دفن کردی جائے اور اسے قبر کھودے بغیر باہر نکالنا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں طہارت کی شرط ساقط ہوجاتی ہے لہٰذا اس کی نماز جنازہ نہلائے بغیر ہی اس کی قبر پر ادا کی جائے اور اگر میت کو باہر نکالنا ممکن ہو تو پہلے اسے باہر نکال کر نہلایا جائے پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔ اگر نادانستہ طور پر بغیر غسل کے کسی میت کی نماز جنازہ ادا کردی گئی اور پھر قبر کھودے بغیر اسے باہر نکال کر غسل دیا گیا تو اس کی نماز جنازہ دوبارہ پڑھی جائے۔
1628
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابك
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنازہ لے کر جلدی چلو، کیونکہ اگر وہ جنازہ نیک (آدمی کا) ہے تو (اس کے لئے) بھلائی ہے لہٰذا اسے نیکی و بھلائی کی طرف (جلد) پہنچا دو اور اگر وہ ایسا نہیں ہے تو برا ہے لہٰذا اسے (جلد سے جلد) اپنی گردنوں سے اتار کر رکھ دو ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جنازہ لے کر جلدی چلو کا مطلب یہ ہے کہ جب دفن کرنے کے لئے جنازہ کو لے کر چلو تو جلدی جلدی چلو، آہستہ آہستہ قدم نہ اٹھاؤ لیکن جلدی سے دوڑنا مراد نہیں ہے بلکہ متوسط چال مراد ہے کہ قدم جلد جلد اٹھیں اور پاس پاس رکھے جائیں جس کا حاصل یہ ہے کہ جنازہ لے کر چلنے کی چال معمولی چال سے تو بڑھی ہوئی ہو اور دوڑنے سے کم ہو۔ اگر وہ جنازہ نیک آدمی کا ہے الخ یہ جلدی چلنے کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے کہ تم جس شخص کا جنازہ لے کر چل رہے ہو اگر اس کی زندگی اچھے احوال اور اچھے اعمال کے ساتھ گزری ہے تو اسے جلد جلد لے کر چلو تاکہ وہ آخرت کے ثواب اور حق تعالیٰ کی رحمت تک جلد سے جلد پہنچ جائے اور اگر وہ جنازہ کسی ایسے شخص کا ہے جس کی زندگی برے احوال اور برے اعمال کے ساتھ گزری ہے تو بھی جلد جلد چلو تاکہ برے کو جلد اپنے کاندھوں سے اتار پھینکو۔
تشریح
جنازہ لے کر جلدی چلو کا مطلب یہ ہے کہ جب دفن کرنے کے لئے جنازہ کو لے کر چلو تو جلدی جلدی چلو، آہستہ آہستہ قدم نہ اٹھاؤ لیکن جلدی سے دوڑنا مراد نہیں ہے بلکہ متوسط چال مراد ہے کہ قدم جلد جلد اٹھیں اور پاس پاس رکھے جائیں جس کا حاصل یہ ہے کہ جنازہ لے کر چلنے کی چال معمولی چال سے تو بڑھی ہوئی ہو اور دوڑنے سے کم ہو۔ اگر وہ جنازہ نیک آدمی کا ہے الخ یہ جلدی چلنے کا فائدہ بیان کیا جا رہا ہے کہ تم جس شخص کا جنازہ لے کر چل رہے ہو اگر اس کی زندگی اچھے احوال اور اچھے اعمال کے ساتھ گزری ہے تو اسے جلد جلد لے کر چلو تاکہ وہ آخرت کے ثواب اور حق تعالیٰ کی رحمت تک جلد سے جلد پہنچ جائے اور اگر وہ جنازہ کسی ایسے شخص کا ہے جس کی زندگی برے احوال اور برے اعمال کے ساتھ گزری ہے تو بھی جلد جلد چلو تاکہ برے کو جلد اپنے کاندھوں سے اتار پھینکو۔
1629
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على أعناقهم فإن كانت صالحة قالت : قدموني وإن كانت غير صالحة قالت لأهلها : يا ويلها أين يذهبون بها ؟ يسمع صوتها كل شيء إلا الإنسان ولو سمع الإنسان لصعق . رواه البخاري
حضرت ابوسعید (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب جنازہ تیار کیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ جنازہ نیک بخت (آدمی کا) ہوتا ہے تو اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ (مجھے میری منزل کی طرف) جلد لے چلو اور اگر بدبخت (آدمی کا) جنازہ ہوتا ہے تو اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ ہائے افسوس ! مجھے کہاں لئے جاتے ہو ! جنازہ کی اس آواز کو سوائے انسان کے ہر چیز سن سکتی ہے، اگر انسان اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہو کر گرپڑے یا مرجائے۔
تشریح
نیک بخت یعنی مومن جب مرتا ہے اور اس کا جنازہ تیار ہوجاتا ہے تو چونکہ جنت کی نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رحمتیں دیکھتا ہے اس لئے اپنے آپ کو جلدی لے چلنے کے لئے کہتا ہے اس کے برخلاف جب بدبخت انسان موت کی گود میں پہنچ جاتا ہے اور اس کا جنازہ تیار کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ عذاب کو سامنے دیکھتا ہے اس لئے واویلا کرتا ہے اور اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھے عذاب کی طرف کیوں لے جا رہے ہو۔ علماء لکھتے ہیں کہ مردہ اس وقت حقیقتاً کلام کرتا ہے اگرچہ اس کی روح نکل چکی ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انسان اس کی آواز کی سماعت نہیں کرسکتا جب کہ دوسری مخلوقات اس کی آواز سنتی ہیں اور یہ چیز کوئی غیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مردہ اپنی قبر میں سوال و جواب کے لئے زندہ کیا جاتا ہے۔
تشریح
نیک بخت یعنی مومن جب مرتا ہے اور اس کا جنازہ تیار ہوجاتا ہے تو چونکہ جنت کی نعمتیں اور حق تعالیٰ کی رحمتیں دیکھتا ہے اس لئے اپنے آپ کو جلدی لے چلنے کے لئے کہتا ہے اس کے برخلاف جب بدبخت انسان موت کی گود میں پہنچ جاتا ہے اور اس کا جنازہ تیار کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ عذاب کو سامنے دیکھتا ہے اس لئے واویلا کرتا ہے اور اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ مجھے عذاب کی طرف کیوں لے جا رہے ہو۔ علماء لکھتے ہیں کہ مردہ اس وقت حقیقتاً کلام کرتا ہے اگرچہ اس کی روح نکل چکی ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انسان اس کی آواز کی سماعت نہیں کرسکتا جب کہ دوسری مخلوقات اس کی آواز سنتی ہیں اور یہ چیز کوئی غیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ مردہ اپنی قبر میں سوال و جواب کے لئے زندہ کیا جاتا ہے۔
1630
Mishkaat Shareefوعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
حضرت ابوسعید (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ رہے تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ ( لوگوں کے کاندھے سے زمین پر یا قبر میں) رکھ دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب جنازہ گھر میں سے نکلے تو میت کے احترام اور اس کے ایمان کی تعظیم کے پیش نظر کھڑا ہوجانا چاہئے گویا اس ارشاد گرامی میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے موقع پر بےپرواہ نہ ہوجانا چاہئے بلکہ جنازہ دیکھتے ہی بےقرار ہو کر اور ڈر کر اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے زمین پر بیٹھا نہ جائے بلکہ ک اندھا دینے کے لئے جنازہ کے ساتھ ساتھ رہے۔ بعض حنفی علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ جانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اکثر علماء کے نزدیک اس کے لئے جنازہ دیکھ کر اٹھ کر کھڑے رہنا مکروہ ہے۔ جب کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اسے اختیار ہے کہ چاہے تو کھڑا رہے اور چاہے بیٹھا رہے۔ اسی طرح بعض علماء کا یہ بھی قول ہے کہ یہ دونوں ہی (یعنی کھڑے ہوجانا اور بیٹھے رہنا) مستحب ہیں جمہور علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث دونوں ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت کی بنا پر جو آگے آرہی ہے منسوخ ہیں۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب جنازہ گھر میں سے نکلے تو میت کے احترام اور اس کے ایمان کی تعظیم کے پیش نظر کھڑا ہوجانا چاہئے گویا اس ارشاد گرامی میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے موقع پر بےپرواہ نہ ہوجانا چاہئے بلکہ جنازہ دیکھتے ہی بےقرار ہو کر اور ڈر کر اٹھ کھڑا ہونا چاہئے اور جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے زمین پر بیٹھا نہ جائے بلکہ ک اندھا دینے کے لئے جنازہ کے ساتھ ساتھ رہے۔ بعض حنفی علماء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جنازہ کے ساتھ جانے کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو اکثر علماء کے نزدیک اس کے لئے جنازہ دیکھ کر اٹھ کر کھڑے رہنا مکروہ ہے۔ جب کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اسے اختیار ہے کہ چاہے تو کھڑا رہے اور چاہے بیٹھا رہے۔ اسی طرح بعض علماء کا یہ بھی قول ہے کہ یہ دونوں ہی (یعنی کھڑے ہوجانا اور بیٹھے رہنا) مستحب ہیں جمہور علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث دونوں ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت کی بنا پر جو آگے آرہی ہے منسوخ ہیں۔
1631
Mishkaat Shareefوعن جابر قال : مرت جنازة فقام لها رسول الله صلى الله عليه و سلم وقمنا معه فقلنا : يا رسول الله إنها يهودية فقال : إن الموت فزع فإذا رأيتم الجنازة فقوموا
حضرت جابر (رض) سے راوی ہیں کہ ایک جنازہ گزرا تو رسول کریم ﷺ اسے دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، پھر ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ ایک یہودی کا جنازہ تھا ! (کسی مسلمان کا جنازہ تو تھا نہیں کہ جس کی تعظیم و تکریم کے لئے اٹھا جاتا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا موت خوف اور گھبراہٹ کی چیز ہے جب تم جنازہ دیکھو تو (اگرچہ وہ جنازہ کافر ہی کا کیوں نہ ہو اٹھ کھڑے ہو ۔ (بخاری ومسلم)
1632
Mishkaat Shareefوعن علي رضي الله عنه قال : رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فقمنا وقعد فقعدنا يعني في الجنازة . رواه مسلم وفي رواية مالك وأبي داود : قام في الجنازة ثم قعد بعد
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول کریم ﷺ کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے دیکھا چناچہ ہم بھی کھڑے ہوگئے جب آپ بیٹھے ہم بیٹھ گئے۔ (مسلم) اور حضرت مالک اور حضرت ابوداؤد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے اور اس کے بعد بیٹھے۔
تشریح
پہلی روایت کے جو امام مسلم (رح) نے نقل کی ہے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے جب جنازہ گزر گیا اور نظروں سے غائب ہوگیا تو آپ ﷺ بھی بیٹھ گئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ کچھ عرصہ تک تو آپ کا معمول یہ رہا کہ جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں یہ صورت رہی کہ آپ جنازہ دیکھ کر اٹھتے نہیں تھے بلکہ بیٹھے ہی رہا کرتے تھے۔ اسی طرح دوسری روایت کے بھی کہ جسے حضرت امام مالک اور حضرت امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے یہی دونوں مطلب ہیں اور دوسرا مطلب ہی زیادہ صحیح ہے۔
تشریح
پہلی روایت کے جو امام مسلم (رح) نے نقل کی ہے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوگئے ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے جب جنازہ گزر گیا اور نظروں سے غائب ہوگیا تو آپ ﷺ بھی بیٹھ گئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی بیٹھ گئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ کچھ عرصہ تک تو آپ کا معمول یہ رہا کہ جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ لیکن بعد میں یہ صورت رہی کہ آپ جنازہ دیکھ کر اٹھتے نہیں تھے بلکہ بیٹھے ہی رہا کرتے تھے۔ اسی طرح دوسری روایت کے بھی کہ جسے حضرت امام مالک اور حضرت امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے یہی دونوں مطلب ہیں اور دوسرا مطلب ہی زیادہ صحیح ہے۔
1633
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اتبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معه حتى يصلي عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع من الأجر بقيراطين كل قيراط مثل أحد ومن صلى عليها ثم رجع قبل أن تدفن فإنه يرجع بقيراط
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ مومن ہونے کی حیثیت سے (یعنی فرمان شریعت پر عمل کرنے کی غرض سے) اور طلب ثواب کی خاطر جائے اور جنازہ کے ساتھ ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کی نماز جنازہ پڑھے اور اس کی تدفین سے فراغت پائے تو وہ شخص دو قیراط ثواب لے کر واپس ہوتا ہے جس میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے اور جو شخص صرف جنازہ کی نماز پڑھ کر آجائے اور تدفین میں شریک نہ ہو تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر واپس ہوتا ہے ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
قیراط دینار کے بارھویں حصہ کو کہتے ہیں جس کا وزن تقریبا چار جو کے برابر ہوتا ہے یہاں قیراط سے مراد حصہ عظیم یعنی بہت بڑا انبار ہے جس کو احد پہاڑ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
تشریح
قیراط دینار کے بارھویں حصہ کو کہتے ہیں جس کا وزن تقریبا چار جو کے برابر ہوتا ہے یہاں قیراط سے مراد حصہ عظیم یعنی بہت بڑا انبار ہے جس کو احد پہاڑ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
1634
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم نعى للناس النجاشي اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر أربع تكبيرات
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نجاشی کے انتقال کی خبر لوگوں کو اسی روز پہنچائی جس دن کہ اس کا انتقال ہوا تھا پھر صحابہ (رض) کے ہمراہ عید گاہ پر تشریف لے گئے وہاں سب کے ہمراہ نماز جنازہ کے لئے صف بندی فرمائی اور چار تکبیریں کہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا اس نجاشی بادشاہ کا نام کہ جس کے جنازہ کی آنحضرت ﷺ نے نماز جنازہ غائبانہ ادا فرمائی اصحمہ تھا۔ یہ پہلے تو دین نصاریٰ کے پیرو تھے مگر بعد میں آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے۔ جب کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ پر اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور مکہ میں ان کی زندگی اجیرن بنادی تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ سے ہجرت کر جائیں چناچہ صحابہ (رض) کی ایک بہت بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ کو ہجرت کرگئی مسلمانوں کی یہی سب سے پہلی ہجرت تھی حبشہ میں اس وقت یہی اصحمہ نامی نجاشی بادشاہ تخت سلطنت پر تھے۔ انہوں نے صحابہ (رض) کی بہت اعلیٰ پیمانہ پر پذیرائی کی اور ان کی خدمت کو اپنے لئے باعث سعادت جان کر حق میزبانی ادا کیا۔ چناچہ جب ان کا انتقال ہوا تو آنحضرت ﷺ کو بہت زیادہ صدمہ ہوا اور آپ ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور سب کو لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور وہاں ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔
تشریح
نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا اس نجاشی بادشاہ کا نام کہ جس کے جنازہ کی آنحضرت ﷺ نے نماز جنازہ غائبانہ ادا فرمائی اصحمہ تھا۔ یہ پہلے تو دین نصاریٰ کے پیرو تھے مگر بعد میں آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان لائے۔ جب کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ پر اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے اور مکہ میں ان کی زندگی اجیرن بنادی تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ سے ہجرت کر جائیں چناچہ صحابہ (رض) کی ایک بہت بڑی تعداد اپنا گھر بار چھوڑ کر حبشہ کو ہجرت کرگئی مسلمانوں کی یہی سب سے پہلی ہجرت تھی حبشہ میں اس وقت یہی اصحمہ نامی نجاشی بادشاہ تخت سلطنت پر تھے۔ انہوں نے صحابہ (رض) کی بہت اعلیٰ پیمانہ پر پذیرائی کی اور ان کی خدمت کو اپنے لئے باعث سعادت جان کر حق میزبانی ادا کیا۔ چناچہ جب ان کا انتقال ہوا تو آنحضرت ﷺ کو بہت زیادہ صدمہ ہوا اور آپ ﷺ نے صحابہ کو ان کے انتقال کی خبر دی اور سب کو لے کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور وہاں ان کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔