hadith book logo

Mishkaat Shareef

147. معاملات میں احتراز اور توقف کرنے کا بیان

مشكاة المصابيح

4921
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي أيوب الأنصاري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذاوخيرهما الذي يبدأ بالسلام . متفق عليه
حضرت ابوایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ شخص کسی کے لئے حلال نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے ملنا جلنا چھوڑ دے اور صورت یہ ہو کہ جب وہ کہیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو یہ اپنا منہ ادھر کو پھیر لے اور وہ اپنا منہ ادھر کو پھیر لے یعنی دونوں ہی ایک دوسرے سے سلام و کلام کا اور ملاقات کا احتراز کریں اور ان دونوں میں بہتر شخص وہ ہے جو خفگی کو دور کرنے کے لئے پہل کرے اور سلام میں پہل کرے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
تین دن سے زیادہ کی قید کی بناء پر یہ سمجھا گیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے اظہار خفگی کی خاطر تین دن تک ملنا جلنا چھوڑ دے تو یہ حرام نہیں ہے کیونکہ انسان کی طبعیت میں غیظ و غضب، غیرت و حمیت بےصبری کا جو مادہ ہے وہ بہر حال اپنا اثر ضرور ظاہر کرتا ہے اس لئے اس قدر مدت معاف کردی گئی ہے تاکہ انسان کے ان جذبات کی بھی کچھ تسکین ہوجائے اور اس تین دن کے عرصہ میں خفگی و ناراضگی اور بغض و نفرت کے جذبات بھی ختم ہوجائیں یا کم سے کم ہلکے پڑجائیں اور صلح و صفائی کرلیں۔ بہرحال حدیث کی مراد یہ ہے کہ اجتماعی طور پر ایک جگہ رہنے سہنے اور روزہ مرہ کے باہمی معاملات کی وجہ سے آپس میں نزاع ہوجایا کرتا ہے اور ایک دوسرے سے کوئی شکایت پیدا ہوجانے کی وجہ سے خفگی ناراضگی صورت پیش آجاتی ہے مثلا ایک شخص نے کسی کی غیبت کردی برا بھلا کہہ دیا اور یا تو اس شخص کی خیر خواہی کی امید تھی مگر اس نے خیر خواہی نہیں کی تو اس طرح کی صورتوں میں اگر آپس میں نارضگی ہوجائے اور ترک ملاقات کی نوبت آجائے تو اس خفگی اور ترک ملاقات کو تین دن سے زیادہ نہیں رہنے دینا چاہیے ہاں اگر ترک ملاقات کی دینی معاملہ کی وجہ سے ہو جیسے کوئی شخص خواہشات نفسانی کا غلام بن گیا ہو یا کوئی شخص بدعتی ہو تو اس صورت میں ترک ملاقات جائز ہے اس وقت تک جب تک وہ توبہ نہ کرلے اور راہ راست اختیار نہ کرلے اور حق کی طرف رجوع نہ کرلے۔ سیوطی نے موطا کے حاشیہ میں لکھا ہے اور عبدالبر سے نقل کیا ہے انہوں نے کہا علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی شخص کو یہ خوف ہو کہ اگر میں فلاں آدمی سے سلام کروں اور اس سے ملنا جلنا رکھوں تو اس کی وجہ سے مجھے دینی یا دنیاوی نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور میرا قیمتی وقت ضائع ہوگا وہ شخص اس سے کنارہ کشی کرلے اور اس سے دور رہنے کی کوشش کرے لیکن یہ کنارہ کشی اور دوری اختیار کرنا اچھے انداز میں ہونا چاہیے یہ نہیں کہ اس کی غیبت کی جائے اور اس پر عیب لگائے جائیں اور اس کے تئیں کینہ و عداوت کو ظاہر کیا جائے۔ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے زمانہ میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جن میں مسلمانوں کا دینی مصالح کے پیش نظر ایک دوسرے سے تین دن سے زیادہ بھی ترک ملاقات کئے رہنا ثابت ہے، چناچہ احیاء العلوم میں صحابہ کی ایک جماعت کے بارے میں منقول ہے کہ ان میں سے بعض مرتے دم تک ترک ملاقات پر قائم رہے ان تین صحابہ کا واقعہ بہت مشہور ہے جو غزوہ تبوک میں نہیں گئے تھے اور آنحضرت ﷺ نے ان میں نفاق کی راہ پا جانے کے خدشہ سے ان کو تمام مسلمانوں سے الگ تھلگ کردیا تھا یہاں تک کہ آپ نے تمام صحابہ، ان تینوں کی ازواج اور ان کے عزیز و اقا رب کو ان سے ترک ملاقات اور ترک سلام کلام کا حکم دیا تھا یہ حکم اور اس پر عمل پچاس دنوں تک جاری رہا خود آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نے ایک مہینہ تک اپنی ازواج مطہرات سے ملنا جلنا چھوڑے رکھا تھا، حضرت عائشہ (رض) نے ایک مدت تک حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے ترک ملاقات اختیار کی رکھی اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنے بیٹے حضرت بلال سے ایک دینی معاملہ میں اس درجہ ناراض ہوئے کہ ان سے بات چیت کرنا چھوڑ دی تھی غرض ایسے بہت سے واقعات منقول ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کہ دینی معاملات میں خفگی ناراضگی تین دن سے زیادہ بھی جاری رکھی جاسکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ نیت صادق رکھی جائے اور اس میں کسی نفسانی خواہش اور دنیاوی غرض دخل نہ ہو۔ جو سلام کے ذریعہ ابتداء کرے کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو شخص خفگی و ناراضگی کو ختم کرنے کے پہلے سلام کرے گا اس کا درجہ دوسرے کے مقابلہ پر بڑا ہوگا نیز اس میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ سلام میں پہل کرنا ترک ملاقات کے گناہ کو زائل کردیتا ہے اور یہ کم سے کم ترک سلام کو ختم کر ہی دینا چاہیے تاکہ اخوۃ اسلامی کا یہ بنیادی حق ضائع نہ ہونے پائے۔
4922
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إياكم والظن فإن الظن أكذب الحديث ولا تحسسوا ولا تجسسوا ولا تناجشوا ولا تحاسدوا ولا تباغضوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا . وفي رواية ولا تنافسوا . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بدگمانی قائم کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ بدگمانی باتوں کا سب سے بدتر جھوٹ ہے (اپنے سے غیر متعلق امور اور بلا ضرورت دوسروں کے احوال کی) ٹوہ میں نہ رہو کسی کی جاسوسی نہ کرو کسی کے سودے نہ بگاڑو، آپس میں حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو اور سارے مسلمان اللہ کے بندے اور ایک دوسرے کے بھائی بن کر رہو اور ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپس میں حرص نہ کرو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس حدیث میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان کا معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بھاؤ سے براہ راست تعلق ہے ان باتوں سے اگر اجتناب کیا جائے تو معاشرہ میں پھیلنے والی بہت سی خرابیوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ بدگمانی کو باتوں کا سب سے بدتر جھوٹ فرمایا گیا ہے چناچہ جب کوئی شخص کسی کے بارے میں بدگمانی کرتا ہے تو وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ شخص ایسا ایسا ہے اور چونکہ وہ شخص حقیقت میں ایسا نہیں ہے اس لئے اس فیصلہ کو جھوٹ ہی کہا جائے گا واضح رہے کہ باتوں سے مراد وہ باتیں جو نفس پیدا کرتا ہے اور حقیقت میں وہ شیطان کی طرف سے ہیں اسی اعتبار سے بدگمانی کو بدترین جھوٹ کہا گیا ہے یا یہ کہ اس کو بدترین جھوٹ کا نام دینا گویا اس کی برائی کو زیادہ سے زیادہ کر کے بیان کرنا مقصود ہے قرآن کریم میں یوں فرمایا گیا ہے آیت (ان بعض الظن اثم) چناچہ ان الفاظ میں جس ظن کو گناہ قرار دیا گیا ہے اس سے بدگمانی مراد ہے اور جیسا کہ علماء نے وضاحت کی ہے جس سے بدگمانی کے بارے میں ممانعت منقول ہے اس سے وہ بدگمانی منقول ہے جو ذہن میں بیٹھ جائے اور جیسا کہ علماء نے وضاحت کی ہے۔ اس سے وہ بدگمانی مراد نہیں ہے جو محض خیالی طور پر دل سے گزر جائے اور بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ بدگمانی گناہ گار اس وقت کرتی ہے جب کہ اس کا ذکر کیا جائے اور اس کو زبان پر لایا جائے نیز بہر صورت اس بدگمانی کے موجب گناہ ہونے کی شرط یہ بھی ہے کہ اس بدگمانی کو قائم کرنے لئے کوئی معقول وجہ اور دلیل نہ ہو یا اگر بدگمانی کی بھی معقول وجہ اور دلیل ہو تو بدگمانی نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ اور دلیل ہو اور دونوں دلیلیں باہم متعارض ہوں ہاں اگر اس بدگمانی کو درست ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسا واضح قرینہ اور معقول دلیل ہو جس کو تسلیم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہ ہو تو اسی بدگمانی پر مواخذہ نہیں ہوگا اور نہ اس حقیقی معنی میں اس کو بدگمانی کہیں گے۔ تحسس اور تجسس یعنی ٹو اور جاسوسی بظاہر ایک مفہوم کے حامل دو الفاظ ہیں علماء نے کئی وجوہ سے ان دونوں کے درمیان فرق ظاہر کیا ہے اس سلسلے میں مختلف اقوال منقول ہیں چناچہ صاحب قاموس نے جیم کی فصل میں لکھا ہے کہ تجسس کے معنی ہیں کہ خبروں کی تلاش میں رہنا جیسا کہ تجسس کے معنی ہیں جاسوس وجس اسی سے مشتق ہیں جن کے معنی ہیں ایسی پوشیدہ خبریں رکھنے والا جو اچھی نہ ہوں پھر انہوں نے حاء کی فصل میں لکھا ہے کہ حاسوس کے وہی معنی ہیں جو جاسوس کے ہیں یا یہ کہ حاسوس خاص طور پر ایسی پوشیدہ خبریں رکھنے والے کو کہتے ہیں جو اچھی ہوں بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ تجسس کے معنی ہیں اچھی خبروں کو ہوشیاری اور نرمی کے ساتھ دریافت کرنا اور تحسس کے معنی ہیں کسی شخص کی برائیوں اور عیوب کی تفتیش کرنا اور تحسس کا معنی ہے ان خبروں کو قوت حاسہ سے دریافت کرنا جیسے کوئی شخص کسی بات کو چوری چھپے سنتا اور دیکھتا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ تجسس کے معنی ہیں کسی شخص کی برائیوں اور عیوب کی تفتیش کرنا اور تحسس کے معنی ہیں ان برائیوں اور عیوب کو سننا بعض حضرت یہ کہتے ہیں کہ تجسس کے معنی ہیں دوسرے کے لئے خبر کی ٹوہ میں رہنا اور تحسس کے معنی ہیں اپنے لئے کسی کی خبر کی ٹوہ لگانا۔ اور طیبی نے یہ کہا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں تجسس مراد ہے خواہ اپنے طور پر یا کسی کی مدد سے دوسرے لوگوں کے عیوب اور ان کے پوشیدہ ذاتی احوال و معاملات کی ٹوہ لگانا اور تحسس کے معنی ہیں کسی کی مدد کے بغیر اپنے ٹوہ لگانا بہرحال اگر حدیث کی مراد لوگوں کے احوال و معاملات کی لگانے اور ایسی خبروں کی تلاش میں رہنے سے منع کرنا ہے جن کا تعلق عیب و بڑائی اور کردار احوال کی کمزرویوں سے ہو تو اس کی ممانعت بالکل ظاہر ہے اور اگر اچھی خبر کی تلاش میں رہنے اور اچھے احوال معاملات کی ٹوہ میں رہنے سے بھی منع کرنا مراد ہے تو اس صورت میں اس ممانعت کی وجہ یہ بیان کی جائے گی کہ ہوسکتا ہے کہ کسی کے بارے میں کوئی خبر اچھی پانے کے بعد اپنے اندر کے حسد کا جذبہ پیدا ہوجائے یا طمع و حرص جاگ اٹھے جو کوئی اچھی چیز نہیں ہے، لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ کسی کی اچھی خبر کی ٹوہ میں بھی نہ رہا جائے۔ ولاتناجشوا۔ اس میں اصل نجش ہے جس کے اصل معنی شکار کو برانگیختہ کرنا، بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ دوسروں کے مقابلہ میں اپی عظمت و وقعت اور بڑائی کی طلب و خواہش کرنا اور بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ کسی کو دھوکا دینے کے لئے بکنے والی چیز کو چڑھا چڑھا کر تعریف کرنا یا مصنوعی خریدار بن کر بکنے والی چیز کی قیمت بڑھانا کہ تاکہ دوسرا شخص اس کے دیکھا دیکھی اس چیز کو اسی قیمت میں خرید لے یا کسی بکتی ہوئی چیز کی برائی کرنا تاکہ خریدار اس کو چھوڑ کر دوسری طرف ہوجائے عام طور پر علماء نے حدیث میں اسی لفظ کو اسی پر محمول کیا ہے یعنی مذکورہ بالا طریقوں میں سے کسی بھی طریقے سے سودے کو بگاڑنا، بعض حضرات نے اس لفظ کے اصل معنی رعایت سے حدیث میں ولاتناجشوا کے یہ معنی مراد لئے ہیں کہ کسی کو کسی کی برائی اور خصومت پر نہ اکساؤ۔ ولاتحاسدوا۔ کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر ظالم کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر اس کے زوال کی آرزو نہ کرو یا یہ خواہش نہ کرو کہ وہ نعمت اس کے پاس سے ہٹ کر تمہارے پاس آجائے۔ ولاتباغضوا۔ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اسباب کو پیدا کرنے سے احتراز کرنا چاہے جو بغض و نفرت کو لازم کرتے ہیں یہ وضاحت اس بناء پر ہے کہ جس طرح محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو خود بخود پیدا ہوتا ہے اسی طرح بغض و نفرت بھی پیدائشی ہیں کہ اس جذبہ کے پیدا ہونے یا نہ ہونے میں کسی شخص کا کوئی اختیار نہیں ہے البتہ انسان اپنے آپ کو ایسے اسباب سے محفوظ رکھے پر یقینا قادر ہوسکتا ہے جن سے باہمی بغض و نفرت پیدا ہوسکتی ہے بعض حضرات لاتباغضوا کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ شرعی احکام و مسائل میں خواہشات نفسانی کی بناء پر آپس میں اختلاف و انتشار پیدا نہ کرو اور خود ساختہ افکار و نظریات کو دین میں شامل نہ کرو کیونکہ دین میں بدعت اختیار کرنا اور راہ مسقیم سے گمراہ ہونا وہ اسباب ہیں جو مسلمانوں کے درمیان ایک دوسرے سے بغض و نفرت کو پیدا کرتے ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حدیث میں ایک دوسرے سے بغض رکھنے کی ممانعت کا اصل مقصد باہمی محبت و الفت کے حکم کو مؤ کد کرتا ہے اور محبت و الفت کے اسی حکم کو تعلق علی الاطلاق مسلمانوں کی پوری زندگی سے ہے البتہ جس محبت و الفت سے دین میں خلل پڑتا ہو اس صورت میں محبت کو جائز قرار دینا جائز نہیں بلکہ دین کو نقصان پہنچانے والے شخص سے بغض و نفرت ہی رکھنا جائز ہوگا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ تمام مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے محبت و اتحاد کی زنجیر میں منسلک رہیں جو ارشاد الٰہی کا بھی تقاضا ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا۔ آیت (واعتصمو بحبل اللہ) ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محبت و الفت اتحاد کی بنیاد پر ہے اور بغض و نفرت افتراق کا ذریعہ ہے لہذا فرمایا گیا ہے کہ تم ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو۔ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ لاتباغضوا کے معنی یہ ہیں کہ تم مسلمانوں کے درمیان عدوات و دشمنی پیدا نہ کرو۔ اس صورت میں مذکورہ ممانعت کا تعلق گویا چغل خوری سے ہوگا، کیونکہ چغل خوری سے فساد کی بنیاد پڑی ہے اور ایک دوسرے سے عدوات پیدا ہوجاتی ہے۔ ولاتدابرو۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کی پیٹھ کے پیچھے برائی بیان نہ کرو۔ اور طیبی نے کہا ہے کہ تدابر سے مراد تقاطع ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ایک دوسرے سے ملنا جلنا چھوڑ دو اس معنی کو مذکورہ جملہ سے لفظی مناسبت بایں طور ہے کہ ترک ملاقات کرنے والوں میں سے ہر ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر لیتا ہے اور اسلام کے بتائے ہوئے باہمی حقوق کی ادئیگی سے گریز کرتا ہے۔ (وکونوا عباد اللہ اخوانا۔ کا مطلب یہ ہے کہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور عبودیت میں سب برابر ہو نیز تم سب اخوہ کی ایک زنجیر سے منسلک ہو لہذا تمہارا اس حثییت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک دوسرے کے درمیان حسد بغض اور غیبت جیسی برائیوں کو حائل کرنے کے اپنے دلوں میں افتراق اور اپنی صفوں میں انتشار پیدا نہ کرو بلکہ اپنے مرتبہ عبودیت پر اتحاد کے ساتھ قائم رہو اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔ ولاتنافسوا۔ میں لفظ تنافس لغوی طور پر تحاسد کے معنی کے قریب ہے لیکن احتمال یہ رہے کہ تنافس کے معنی دنیا کے طرف میلان رکھنا ہو اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے کہ مجھے خدشہ ہے کہ تم پر دنیا کے دروازے کھول دیئے جائیں اور تنافس کرنے لگو۔ یعنی تم دنیا کی طرف راغب ہوجاؤ اسی اعتبار سے ترجمہ میں تنافس کے معنی آپس میں حرص کرنا نقل کئے گئے ہیں۔
4923
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تفتح أبواب الجنة يوم الإثنين ويوم الخميس فيغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا رجلا كانت بينه وبين أخيه شحناء فيقال انظروا هذين حتى يصطلحا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور پھر ہر اس بندے کی بخشش کی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی شریک نہ کرتا البتہ وہ شخص اس بخشش سے محروم رہتا ہے جو اپنے اور کسی مسلمان بھائی کے درمیان عداوت رکھتا ہو اور فرشتوں سے کہا جاتا ہے ان دونوں کو جو آپس میں عداوت و دشمنی رکھتے ہیں مہلت دو تاآنکہ وہ آپس میں صلح و صفائی کرلیں۔ مسلم۔

تشریح
جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جنت کے طبقات درجات یا اس کے بالا خانے ان دونوں میں کھول دیئے جاتے ہیں کیونکہ ان دونوں میں حق تعالیٰ کی رحمت و کثرت سے نازل ہوتی ہے جو بندوں کی مغفرت کا باعث ہوتی ہے۔ (ملاعلی قاری) اور شیخ عبدالحق نے یہ لکھا ہے کہ دروازوں کا کھلنا دراصل اس بات سے کنایہ ہے کہ ان دونوں میں بندوں کو بہت زیادہ مغفرت سے نوازا جاتا ہے ان کے گناہ و جرائم سے درگزر کیا جاتا ہے اور انہیں ثواب کی کثرت اور بلندی درجات کی سعادت سے سرفراز کیا جاتا ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے کیونکہ نصوص (یعنی قرآن و حدیث میں منقول احکام) کو ان کے ظاہری مفہوم پر عمل کرنا واجب ہے تاوقتیکہ کوئی ایسی واضح دلیل موجود نہ ہو جس سے اس سے ظاہری مفہوم کے بجائے کوئی دوسرا مطلب مراد لیا جاسکتا ہو۔ تاآنکہ وہ آپس میں صلح و صفائی کرلیں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کی مغفرت باہمی صلح و صفائی اور عداوت کے ختم ہوجانے پر موقوف رہتی ہے خواہ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے عداوت رکھتے ہوں یا ان میں سے ایک عداوت رکھتا ہو اور دوسرا اس عداوت سے صاف ہو۔
4924
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تعرض أعمال الناس في كل جمعة مرتين يوم الإثنين ويوم الخميس فيغفر لكل مؤمن إلا عبدا بينه بين أخيه شحناء فيقال اتركوا هذين حتى يفيئا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ہفتہ میں دو بار پیر اور جمعرات کے دن پروردگار کے حضور کے لوگوں کے عمل پیش کئے جاتے ہیں چناچہ ہر مومن بندہ کی مغفرت کی جاتی ہے علاوہ ازیں اس بندہ کے جو اپنے اور کسی مسلمان کے درمیان عداوت رکھتا ہو ان کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو مہلت دو تاکہ وہ رجوع کرلیں اور عداوت سے باز آجائیں۔ (مسلم)
4925
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أم كلثوم بنت عقبة بن أبي معيط قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليس الكذاب الذي يصلح بين الناس ويقول خيرا وينمي خيرا . متفق عليه . وزاد مسلم قالت ولم أسمعه تعني النبي صلى الله عليه وسلم يرخص في شيء مما يقول الناس كذب إلا في ثلاث الحرب والإصلاح بين الناس وحديث الرجل امرأته وحديث المرأة زوجها . وذكر حديث جابر إن الشيطان قد أيس في باب الوسوسة
اور حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابومعیط (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو اپنی جھوٹی باتوں کے ذریعہ لوگوں کے درمیان اصلاح کرے یعنی باہمی عداوت رکھنے والوں کے درمیان صلح و صفائی کرائے (آپس میں دشمنی رکھنے والوں میں سے ہر ایک سے) بھلی بات کہے اور ہر ایک کی طرف سے دوسرے کو بھلی بات پہنچائے۔ (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ حضرت ام کلثوم (رض) نے کہا ہے کہ میں نے اس ذات گرامی یعنی آنحضرت ﷺ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی بات کی اجازت دی ہو جس کو لوگ جھوٹ کہتے ہیں یعنی آپ نے کسی معاملہ میں جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی، علاوہ تین باتوں کے ایک تو جنگ کی حالت میں دوسرے لوگوں کے درمیان صلح و صفائی کرانے میں اور تیسرے جبکہ شوہر اپنی بیوی سے باتیں کر رہا ہو اور بیوی اپنے شوہر سے باتیں کر رہی ہو۔ اور حضرت جابر (رض) کی روایت ان الشیطان قد ایس، الخ۔ باب الوسوسہ میں نقل کی جا چکی ہے۔

تشریح
بھلی بات پہنچائے۔ یعنی صلح کرانے والا شخص دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کی طرف سے دوسرے فریق کو وہ بات پہنچائے جو حقیقت میں اس فریق نے نہ کہی ہو اور وہ بات اس طرح کی ہو جس سے دونوں کے درمیان صلح دوستی کے جذبات پیدا کرنے میں مدد ملتی ہو مثلا وہ دونوں فریق میں سے کسی کے پاس جائے اور اس سے یوں کہے کہ تم اس دوسرے فریق سے خواہ مخواہ کی عداوت رکھتے ہو حالانکہ وہ تمہارا بڑا خیر خواہ ہے اور تمہارے حق میں اچھی بات کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کرتا اس نے تمہیں سلام کہا ہے اور تمہارے تئیں دوستی و خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ جنگ کی حالت میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے اس کا تعلق ایسی باتیں کہنے سے ہے جن سے مسلمانوں کی طاقت و قوت کا اظہار ہوتا ہو اپنے لشکر کے لوگوں کا حوصلہ بڑھتا ہو اور ان کے دل قوی ہوتے ہوں اور دشمن کے لشکر کا فریب کھا جانا ممکن ہو اگرچہ وہ باتیں حقیقت کے بالکل خلاف ہوں، مثلا یوں کہا جائے کہ ہمارے لشکر کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ دشمن کا لشکر کچھ بھی حثییت نہیں رکھتا اور ہمارے لشکر کی مدد کے لئے مزید کافی کمک آرہی ہے یا اپنے سامنے کھڑے ہوئے دشمن سے یوں کہا جائے کہ دیکھ سنبھل جا فلاں شخص تجھے ختم کردینے کے لئے تیرے پیچھے آپہنچا ہے اور پھر جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے لگے اور اس کا دھیان سامنے سے ہٹ جائے تو موقع سے فائدہ اٹھا کر اس پر وار کردیا جائے۔ میاں بیوی کی باتوں میں جھوٹ کا مطلب یہ ہے کہ مثلا میاں بیوی سے یا بیوی میاں سے اپنے اتنے زیادہ پیار و محبت کا اظہار کرے جو حقیقت کے خلاف ہو اور اس سے مقصد یہ ہو کہ آپس میں محبت و الفت زیادہ بڑھے۔
4926
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أسماء بنت يزيد قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل الكذب إلا في ثلاث كذب الرجل امرأته ليرضيها والكذب في الحرب والكذب ليصلح بين الناس . رواه أحمد والترمذي
اور حضرت اسماء بنت یزید (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے علاوہ تین موقعوں پر ایک تو شوہر کا اپنی بیوی سے جھوٹ بولنا جس سے وہ خاموش ہوجائے دوسرے کفار سے جنگ کی حالت میں اور تیسرے اس مقصد کے جھوٹ بولنا تاکہ لوگوں کے درمیان صلح و صفائی ہوجائے۔ (احمد، ترمذی)

تشریح
اس حدیث میں صرف شوہر کے جھوٹ بولنے کی اجازت ذکر ہے بیوی کے جھوٹ بولنے کا ذکر نہیں ہے جب کہ پچھلی حدیث میں دونوں کا ذکر ہے اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ راوی نے یہاں اختصار کی خاطر صرف شوہر کے بارے میں نقل کیا ہے اور بیوی کے ذکر کو حذف کردیا یہ کہ خود آنحضرت ﷺ نے اکثر و اغلب کا اعتبار کرتے ہوئے صرف شوہر ہی کا ذکر فرمایا کیونکہ عام طور پر عورتیں اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے زیادہ شکی اور بدگمان ہوتی ہیں اس لئے ان کی تسلی اور ان کو خوش رکھنے کی شوہر کو زیادہ ضرورت پیش آتی ہے۔
4927
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث مرات كل ذلك لا يرد عليه فقد باء بإثمه . رواه أبو داود
اور حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان بھائی سے ملنا جلنا چھوڑ دے جب وہ اس مسلمان سے کہیں ملے جو اس سے خفا ہے اور اسے تین مرتبہ سلام کرے اور وہ ایک مرتبہ بھی جواب نہ دے تو وہ جواب نہ دینے والا اس کے گناہ کا وبال لے کر وہاں سے لوٹے گا۔ (ابوداؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر وہ سلام کرنے والے کے سلام کا جواب نہیں دے گا تو ترک ملاقات کا گناہ اس کے سر پڑجائے گا یا تو وہ صرف اپنے گناہ میں مبتلا ہوگا یا سلام کرنے والے کا گناہ بھی اس پر ہوگا حاصل یہ ہے کہ سلام کرنے والا تو ترک ملاقات کے گناہ سے نکل آئے گا لیکن سلام کا جواب نہ دینے والے کی گردن پر بدستور رہے گا بلکہ سلام کا جواب نہ دینے کی وجہ سے سلام کرنے والے کا گناہ بھی اس پر ہوگا۔
4928
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار . رواه أحمد وأبو داود
اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک ملاقات کرے لہذا جو شخص تین دن سے زیادہ خواہ ایک ساعت ہی کیوں نہ ملنا جلنا چھوڑ دے اور پھر وہ اسی حالت میں توبہ کئے بغیر مرجائے تو آگ میں جائے گا۔ (احمد، ابوداؤد)
4929
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي خراش السلمي أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من هجر أخاه سنة فهو كسفك دمه . رواه أبو داود
اور حضرت ابوخراش اسلمی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے ناراضگی کے ساتھ اپنے مسلمان بھائی سے ایک سال تک ملنا جلنا چھوڑے رکھا اس نے گویا اس کا خون کیا یعنی طویل ترک ملاقات کا گناہ اور ناحق قتل کرنے کا گناہ قریب قریب ہیں۔ (ابوداؤد)
4930
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحل لمؤمن أن يهجر مؤمنا فوق ثلاث فإن مرت به ثلاث فليلقه فليسلم عليه فإن رد عليه السلام فقد اشتركا في الأجر وإن لم يرد عليه فقد باء بالإثم وخرج المسلم من الهجرة . رواه أبو داود
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن کے لئے حلال نہیں کہ وہ کسی مومن سے تین دن سے زیادہ ملناجلنا چھوڑے رکھے لہذاجب ناراضگی کو تین دن گزرجائیں تو چاہیے کہ جس سے ملنا جلنا چھوڑے رکھا تھا اس سے ملے اور اس کو سلام کرے اگر اس نے سلام کا جواب دیدیا تو پھر وہ دونوں ثواب میں شریک ہوں گے کیونکہ پہلے کو تو سلام میں پہل اور ترک خفگی کی ابتداء کرنے کی وجہ سے ثواب ملے گا اور دوسراسلام کا جواب دینے اور بحالی تعلق کی پیشکش کو قبول کرنے کی وجہ سے اس ثواب کا حق دار ہوگا اور اگر اس نے سلام کا جواب نہ دیا تو اس صورت میں وہ گناہ کے ساتھ لوٹے گا یعنی اس پر ترک ملاقات اور سلام کا جواب نہ دینے کا گناہ ہوگا اور سلام کرنے والاترک ملاقات کے گناہ سے بری ہوجائے گا۔ (ابوداؤد۔