hadith book logo

Mishkaat Shareef

158. رونے اور ڈرنے کا بیان

مشكاة المصابيح

5206
Mishkaat Shareef
صحیح
ریاء رویت سے مشتق ہے اور صراح میں لکھا ہے کہ ریاء کے معنی ہیں اپنے آپ کو لوگوں کی نظر میں اچھا بنا کر پیش کرنا۔ اور عین العلم میں لکھا ہے کہ ریاء کا مطلب یہ ہے اپنی عبادت ونی کی کا سکہ جمانا اور اس کے ذریعہ لوگوں کی نظر میں اپنی قدر و منزلت چاہنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ریاء کا تعلق خاص طور پر ان چیزوں کے ساتھ ہوتا ہے جو عبادت ونی کی کے ظاہری عمل کہلاتے ہیں اور جو چیزیں کہ از قسم عبادت نہ ہوں جیسے کثرت مال ومتاع، علم و ذہانت کی فراوانی، اشعار وغیرہ کا یاد رکھنا اور نشانہ بازی کی مہارت وغیرہ تو ان میں دکھاوے کے لئے کئے جانے والے کام کو ریاء نہیں کہا جاتا بلکہ وہ افتخار وتکبر (ناز و گھمنڈ) کی ایک قسم کہلاتا ہے اسی طرح نیکی و عبادت کے ظاہری اعمال میں بھی اگر کوئی کام اس صورت میں لوگوں کو دکھانے کے لئے کیا جائے جب کہ اس کا مقصد عزت وجاہ کی طلب نہ ہو، جیسا کہ بعض مشائخ اپنے مریدوں کو تلقین وتعلیم، لوگوں کے دلوں کو نیک اعمال کی طرف مائل کرنے اور ان کو اتباع و پیروی کی طرف راغب کرنے کے لئے بعض اعمال اس طرح کرتے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھیں تو یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ریا نہیں کہلائے گا اگرچہ ظاہر میں ان کا وہ عمل ریاء کاری معلوم ہو اسی وجہ سے یہ کہا گیا ہے کہ ریاء الصدیقین خیر من اخلاص المریدین یعنی اونچے درجہ کے مشائخ اور بزرگوں کا ریاء مریدین کے اخلاص یعنی عدم ریاء کاری سے بہتر ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ریاء اصل میں اس چیز کا نام ہے کہ کسی شخص کی ذات میں واقعۃً کوئی صفت و کمال ہو اور وہ اپنے اس واقعی وصف و کمال پر لوگوں کے سامنے نمایاں کرے اور یہ خواہش رکھے کہ لوگ اس کے اس وصف و کمال کو جانیں تاکہ ان کی نظر میں قدر و منزلت اور عزت و وقعت حاصل ہو۔ پس جو شخص کسی ایسے وصف و کمال کو اپنی طرف منسوب کر کے لوگوں پر ظاہر کرے کہ جو واقعۃ اس کی ذات میں نہیں ہے تو اس کو ریاء نہیں بلکہ خالص کذب اور منافقت کہا جائے گا اسی پر قیاس کر کے یہ کہا گیا ہے کہ غیب اس چیز کا نام ہے کہ کسی شخص کی پیٹھ پیچھے اس کا وہ عیب بیان کیا جائے تو واقعتا اس کی ذات میں موجود ہو اور اگر اس کی طرف منسوب کر کے کوئی ایسا عیب بیان کیا جائے جو حقیقت کے اعتبار سے اس کی ذات میں نہیں ہے تو اس کو افتراء اور بہتان کہیں گے۔
5207
Mishkaat Shareef
صحیح
ریاء کی مختلف اقسام اور صورتیں ہیں اور ان اقسام میں سب سے زیادہ بری اور نہایت قابل نفریں وہ قسم ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قصد اور حصول ثواب کا ارادہ قطعا نہ ہو بلکہ واحد مقصد لوگوں کو دکھانا اور ان کی نظر میں قدر و منزلت حاصل کرنا، جیسا کہ خالص ریاء کار بلکہ دھوکا باز لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں تو نماز پڑھتے ہیں اور مختلف قسم کے اوراد و وظائف میں مشغول رہتے ہیں، لیکن جب تنہا ہوتے ہیں تو نہ نماز سے سروکار رکھتے ہیں اور نہ اوراد وظائف سے بلکہ ان بدنصیبوں کی حالت تو یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ نماز میں بغیر پاکی اور وضو کے ہی کھڑے ہوجاتے ہیں ریاء کاری کی یہ قسم ارذل ترین اور اللہ تعالیٰ کے سخت غضب وقہر کے نازل ہونے کا باعث ہے اور اس صورت میں کیا جانے والا کوئی بھی عمل قطعی باطل ہوتا ہے، بلکہ بعض حضرات نے تو یہاں تک کہا ہے اگر وہ عمل فرض ہو تو اس کا کرنا فرض کے ادا ہوجانے کے حکم میں نہیں ہوگا بلکہ اس کی قضا واجب ہوگی دوسری قسم وہ صورت ہے جس میں کسی نیک عمل کرنے میں دونوں چیزیں ہوں یعنی ارادہ ثواب بھی اور ریاء کاری بھی (دکھانے کی نیت) لیکن ریا کا پہلو غالب ہو اور ارادہ ثواب کا پہلو ضعیف ہو، بایں حیثیت کہ اگر اس عمل کو کرنے والا تنہائی میں ہوتا تو اس عمل کو نہ کرتا اور اس کا قصد اس عمل کے صدور کا باعث نہ ہوتا اور اگر بالفرض اس عمل کا ثواب کوئی نہ ہوتا تو بھی محض ریاء کاری کا جذبہ ہی اس عمل کو اختیار کرنے کا باعث بن جاتا، اس قسم کا بھی وہی حکم ہے جو پہلی قسم کا ہے۔ تیسری قسم وہ صورت ہے جس میں کسی نیک عمل کو اختیار کرنے میں دونوں چیزیں یعنی ریاء کاری کا جذبہ اور حصول ثواب کا ارادہ برابر ہوں، بایں حیثیت کہ اگر بالفرض وہ عمل ان دونوں چیزوں میں سے بھی ایک چیز سے خالی ہوتا تو اس کو اختیار کرنے کا کوئی داعیہ پیدا نہ ہوتا بلکہ اس عمل کی طرف رغبت اسی صورت میں ہوتی جب کہ دونوں چیزیں ایک ساتھ پائی جاتی۔ اس قسم کے بارے میں بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نفع، نقصان، دونوں برابر ہوں، لیکن احادیث و آثار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قسم بھی مذموم اور اس صورت میں کیا جانے والا عمل بھی ناقابل قبول ہوتا ہے اور چوتھی قسم وہ صورت ہے کہ جس میں کسی نیک عمل کو اختیار کرنے میں، ثواب کی نیت اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ، راجح اور غالب ہو اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قسم نہ تو محض باطل ہے اور نہ اس میں کوئی نقصان ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے۔ کہ اس صورت میں اختیار کیا جانے والا عمل نیت و ارادہ کے اعتبار سے ثواب اور عتاب دونوں کا یکساں طور پر باعث ہوتا ہے کہ ارادہ و نیت میں جس قدر اخلاص یا عدم اخلاص ہوگا اسی کے مطابق ثواب یا عتاب ہوگا، نیز اس صورت میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ قصد عمل میں ریاء کاری کی جو آمیزش ہے (جو اگرچہ ثواب کے ارادہ ونیت سے کمتر اور ضعیف ہے) وہ کب پیدا ہوئی ہے ؟ اگر ریاء کاری کی آمیزش ابتداء عمل میں ہوئی ہے تو یہ صورت زیادہ بری کہلائے گی اور اگر عمل کے درمیان پیدا ہوئی ہے تو یہ صورت پہلی صورت سے کم برائی کی حامل ہوگی اور اگر یہ عمل کرنے کے بعد آئی ہے تو یہ صورت دوسرے صورت سے بھی کم تر قرار دی جائے گی اور اس کی وجہ سے اختیار کیا جانے والا عمل باطل نہیں کہلائے گا۔ علاوہ ازیں ایک فرق یہ بھی ملحوظ رکھا جائے گا کہ ریاء کاری کا وہ جذبہ اگر پختہ قصد و عزم کی صورت میں نمودار ہوا ہے تو اس میں زیادہ برائی ہوگی اور اگر محض ایک خیال کی صورت میں پیدا ہو اور اس خیال ہی کی حد تک محدود رہا، آگے کچھ نہ ہوا تو یہ صورت حال یقینا زیادہ نقصان دہ نہیں کہلائے گی۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ ریاء ایک ایسا جذبہ ہے جس سے پوری طرح خلاصی نہایت دشوار ہے اور ہر حالت میں حقیقی اخلاص کا پایا جانا بہت مشکل، اسی لئے علماء نے یہاں تک لکھا ہے کہ کسی کے منہ سے اپنی تعریف سن کر خوش ہونا ریاء کے پائے جانے کی علامت ہے، اسی طرح تنہائی میں کوئی عمل کرتے وقت بھی دل میں ریاء کا خیال آجائے تو وہ بھی ریاء ہی کہلائے گا۔ اللہ اس سے اپنی پناہ میں رکھے اور بہر صورت اخلاص عطا فرمائے کہ اس کی مدد و توفیق کے بغیر اس دولت کا ملنا ممکن ہی نہیں ہے۔ علماء نے ایک خاص صورت وحالت اور بیان کی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص کوئی نیک کام کرے اور کسی عبادت وطاعت میں مصروف ہو اور لوگ اس کو وہ نیک کام اور عبادت وطاعت کرتا ہوا دیکھ لیں تو اس کو چاہئے کہ اس وقت اپنے اندر اس وقت اس بات پر خوشی ومسرت کے جذبات پیدا کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم اور لطف و عنایت سے نیک عمل کی توفیق عطا فرمائی اور لوگوں کی نظر باعزت بنانے کا یہ سبب پیدا فرمایا کہ گناہوں اور عیوب کی تو پردہ پوشی فرمائی اور نیک اعمال و اخلاق کو آشکارا فرمایا اور ان جذبات مسرت کے ساتھ یہ نیت وقصد رکھے کہ اگر میرے نیک عمل کے اظہار سے دین و طاعات کا چرچہ ہوتا ہے تو لوگ دین کی طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر بھی نیک اعمال کو اختیار کرنے کا داعیہ پیدا ہوگا۔ یہ چیز نہ صرف یہ کہ ریاء کے حکم میں داخل نہیں ہوگی، بلکہ اس کو محمود ومستحسن بھی کہا جائے گا جیسا کہ اس سلسلے میں وارد احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ مسئلہ بہت دقیق وپیچیدہ ہے اور اپنے اندر بہت تفصیل و مباحث رکھتا ہے، اگر اس کی تحقیق زیادہ وضاحت کے ساتھ جاننی ہو تو اہل اللہ اور عارفین کی کتابوں اور ان کے اقوال وملفوظات سے راہنمائی حاصل کرنی چاہئے، خصوصا مشہور کتاب احیاء العلوم اس سلسلے میں زیادہ بہتر رہبری کرسکتی ہے۔
5208
Mishkaat Shareef
صحیح
سمعۃ (سین کے پیش اور میم کے جزم کے ساتھ) کے معنی ہیں وہ کام جو لوگوں کے سنانے اور شہرت حاصل کرنے کے لئے کیا جائے عام طور پر اس لفظ کا استعمال ریاء کے ساتھ ہوتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے فلاں شخص نے یہ کام ریا وسمعہ یعنی دکھانے سنانے کے لئے کیا۔ گویا ریاء کا تعلق تو حاسہ بصر (دکھانے) کے ساتھ ہوتا ہے اور سمعہ کا تعلق حاسہ سمع (سنانے) کے ساتھ۔
5209
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله لا ينظر إلى صوركم ولا أموالكم ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم . رواه مسلم .
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال ومتاع کو نہیں دیکھتا (یعنی اس کی نظر رحمت و عنایت میں تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ اس کے نزدیک نہ تو اچھی یا بری صورت کی کوئی حیثیت ہے اور نہ مال ومتاع کی کمی یا بیشی کی کوئی اہمیت ہے) بلکہ وہ تمہارے دلوں کو اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے (یعنی اس کے ہاں تو بس اس چیز کو دیکھا جاتا ہے کہ تمہارے دل میں یقین وصدق اور اخلاص وغیرہ، یا نفاق اور ریاء وسمعہ وغیرہ، اسی طرح اس کے نزدیک اچھے اور برے اعمال کا اعتبار جس کے مطابق وہ تمہیں جزا و سزا دیتا ہے۔ (مسلم)
5210
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الله تعالى أنا أغنى الشركاء عن الشرك من عمل عملا أشرك فيه معي غيري تركته وشركه وفي رواية فأنا منه بريء هو للذي عمله . رواه مسلم . ( متفق عليه )
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں شرک کے تئیں تمام شرکاء سے نہایت زیادہ بےنیاز ہوں، یعنی دنیا کا دستور ہے کہ لوگ اپنے معاملات اور کاروبار میں ایک دوسرے کے اشتراک و تعاون کے محتاج ہوتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے شریک بنتے ہیں، نیز وہ اس شرکت و تعاون پر راضی و مطمئن بھی ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے درمیان اس درجہ کی مفاہمت ہوتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک شریک متعلقہ معاملات و کاروبار میں اپنا پورا عمل دخل رکھتا ہے، لیکن میرا معاملہ بالکل جداگانہ ہے کہ میں علی الاطلاق خالق وحاکم ہوں اپنے احکام و فیصلے اور اپنے نظام قدرت میں نہ تو مجھے کسی کے تعاون و اشتراک کی حاجت و ضرورت ہے اور نہ مجھے یہ گوارا ہے کہ میرے بندے کسی کو میرا شریک قرار دیں اور میرے لئے کئے جانے والے کسی بھی عمل میں میرے علاوہ کسی اور کو مدنظر رکھیں۔ یہاں تک کہ میرے نزدیک ان کے صرف اسی عمل کا اعتبار ہے جو وہ خالص طور پر میرے لئے کریں۔ واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا ذکر شرکاء کے ضمن میں کرنا یعنی اللہ اپنے کو ایک شریک کے ذریعہ تعبیر کرنا محض ان بندوں کے اعتبار سے ہے جو اپنے جہل اور اپنی نادانی کی وجہ سے اس کی ذات وصفات اور اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتے اور اس طرح وہ اللہ کو بھی ایک شریک کا درجہ دیتے ہیں نعوذ باللہ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات سے اپنی بےنیازی اور ناخوشی کا اعلان فرمایا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے، چناچہ ارشاد ہوا کہ جو شخص میری طاعت و عبادت کے طور پر کوئی ایسا عمل کرے کہ جس میں وہ میرے ساتھ کسی دوسرے کو بھی شریک کرے تو میں اس شخص کو شرک کے ساتھ ٹھکرا دیتا ہوں۔ اور ایک روایت میں ترکتہ وشرکہ کے بجائے یہ الفاظ ہیں فانا منہ بری ہو للذی عملہ یعنی جو شخص میری عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے تو میں اس سے اپنی بےنیازی و بیزاری ظاہر کرتا ہوں، وہ شخص یا اس کا وہ عمل اسی کے لئے ہے جس کے لئے اس نے وہ عمل کیا ہے۔ (مسلم)

تشریح
اس حدیث کا ظاہری مفہوم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ خالص ریاء کاری کے جذبہ سے کیا جانے والا عمل تو باطل ہو ہی جاتا ہے لیکن اس عمل کا بھی کوئی فوت ہوجاتا ہے جس میں ریاء کی آمیزش اور اس کا دخل ہوجائے۔ لیکن علماء نے کہا ہے کہ یہ حکم اس عمل کے بارے میں ہوگا جو ریاء کی ان دو قسموں سے تعلق رکھے کہ یا تو اس عمل کو اختیار کرنے میں سرے سے ثواب کی نیت ہی نہ ہو یا ثواب کی نیت تو ہو مگر ریاء کا قصد اس نیت پر غالب ہو اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث کا اصل مقصد اللہ کے لئے کئے جانے والے کسی بھی عمل کو ریا کی آمیزش اور اس کے دخل سے پاک رکھنے کو بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کرنا اور اس کے امر سے لاپرواہی اختیار کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ تنبیہ وسرزنش کرنا ہے۔
5211
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جندب قال قال النبي صلى الله عليه وسلم من سمع سمع الله به ومن يرائي يرائي الله به . متفق عليه .
حضرت جندب (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص لوگوں کو سنانے اور شہرت حاصل کرنے کے لئے کوئی عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا حال لوگوں کو سنائے گا ذلیل و رسوا کرے گا نیز جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لئے کوئی عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ریاء کاری کی سزا دے گا یعنی قیامت کے دن اس سے کہے گا کہ اپنا اجر وثواب اسی سے مانگو جس کے لئے تم نے وہ عمل کیا تھا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
بعض حضرات نے کہا ہے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کوئی نیک کام محض شہرت وناموری اور حصول عزت وجاہ کے لئے کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اس کے ان عیوب اور برے کاموں کو اپنی مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا جن کو وہ چھپاتا ہے اور لوگوں کی نظر میں اس کو ذلیل و رسوا کر دے گا، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی فاسد نیت اور بری غرض کو دنیا والوں پر آشکار کردیتا ہے اور قیامت کے دن بھی اپنی مخلوق پر کھول دے گا کہ یہ شخص مخلص نہیں تھا، ریاء کار تھا۔ اور بعض علماء نے یہ مراد بیان کی ہے کہ جو شخص اپنا کوئی عمل لوگوں کو سنائے گا یا وہ عمل لوگوں کو دیکھائے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اس نیک عمل کا ثواب صرف اس کو سان اور دکھا دے گا، دے گا نہیں تاکہ وہ حسرت و افسوس زدہ رہے، یا یہ مراد ہے کہ جو شخص اپنا کوئی نیک عمل لوگوں کو سنائے گا، یا وہ عمل لوگوں کو دکھائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی نیت کے مطابق اس کا وہ عمل لوگوں کو سنا اور دکھا دے گا اور گویا اس کے اس عمل کا یہی اجر وثواب ہوگا جو اس کو اسی دنیا میں مل جائے اور آخرت کے اجر وثواب سے قطعا محروم رہے گا۔
5212
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي ذر قال قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم أرأيت الرجل يعمل الخير ويحمده الناس عليه . وفي رواية يحبه الناس عليه قال تلك عاجل بشرى المؤمن . رواه مسلم .
حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ مجھے اس شخص کے بارے میں بتائیے جو کوئی نیک کام کرتا ہے اور اس کی وجہ سے لوگ اس کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ اور ایک روایت میں لوگ اس کی تعریف و توصیف کرتے ہیں کے بعد یہ بھی ہے، کہ اور وہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں (ایسے شخص کا کیا حکم ہے اس کا اجر وثواب کالعدم ہوجاتا ہے یا نہیں ؟ ) حضور ﷺ نے یہ سوال سن کر فرمایا کہ لوگوں کا اس شخص کی تعریف و توصیف کرنا اور اس کو محبوب رکھنا درحقیقت اس کے حق میں مومن کے ذریعہ جلد ملنے والی بشارت ہے۔ (مسلم)

تشریح
جلد ملنے والی بشارت کا مطلب یہ ہے کہ ایک سعادت و بشارت تو وہ ہے جو باقی ہے اور آخرت میں ملے گی اور ایک سعادت و بشارت یہ ہے کہ جو جلد ہی یعنی اسی دنیا میں مل گئی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے اس عمل خیر کا اصل ثواب آخرت میں پانے سے پہلے ایک اور اجر وثواب اسی دنیا میں یہ پا لیا کہ لوگوں نے اس کی تعریف و توصیف کی اور اس کو اپنا محبوب قلب ونظر بنا لیا اور اس کے حق میں لوگوں کو یہ معاملہ گویا اس بات کی بشارت ہے کہ اس کا وہ عمل خیر مقبول ہوگیا اور وہ آخرت میں اجر وثواب پائے گا۔ بہرحال حضور ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ یہ واضح فرمایا کہ اس شخص کا وہ عمل خیر کہ جس کی وجہ سے وہ دنیا والوں کی نظر میں قابل احترام اور محبوب بنا ہے ریاء نہیں کہلائے گا کیونکہ اس کو اس عزت و احترام اور محبت کے حاصل ہونے میں اس کے اپنے قصد و ارادہ کو کوئی دخل نہیں ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس عمل خیر کو اختیار کرنے میں اس کی نیت اور اس کا قصد و ارادہ، اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور ثواب آخرت کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا، یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے اس شخص کو اس دنیا میں بھی مذکورہ سعادت کی صورت میں اجر وثواب عطا فرما دیا۔
5213
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي سعد بن أبي فضالة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إذا جمع الله الناس يوم القيامة ليوم لا ريب فيه نادى مناد من كان أشرك في عمل عمله لله أحدا فليطلب ثوابه من عند غير الله فإن الله أغنى الشركاء عن الشرك . رواه أحمد .
حضرت ابوسعید بن فضالہ (رض) رسول کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کہ جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، لوگوں کو حساب اور جزا و سزا کے لئے جمع فرمائے گا، تو ایک اعلان کرنے والا فرشتہ یہ اعلان کرے گا کہ جس شخص نے اپنے اس عمل میں کہ جس کو اس نے اللہ کے لئے کیا تھا، اللہ کے سوا کسی اور کو شریک کیا ہو یعنی جس شخص نے دنیا میں ریاء کے طور پر کوئی نیک عمل کیا ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنے اس عمل کا ثواب اسی غیر اللہ سے طلب کرے جس کو اس نے شریک کیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک کے تئیں، تمام شریکوں سے نہایت زیادہ بےنیاز ہے۔ (احمد)

تشریح
طیبی کہتے ہیں لیوم میں حرف لام جمع سے متعلق ہے جس کے معنی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اس دن کے لئے جمع کرے گا کہ جس کا پیش آنا یقینی امر ہے اور اس دن کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے اور یہ جمع کرنا اس کے لئے ہوگا کہ ہر ایک کو چیز کے مطابق جزا و سزا دے جس کو اس نے دنیاوی زندگی میں اختیار کیا۔ اس اعتبار سے یوم القیامۃ مابعد کے الفاظ کی تمہید کے طور پر ہے تاہم اس کو جمع کا ظرف بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور اس کی تائید اس روایت کے مطابق الفاظ سے ہوتی ہے جو استیعاب میں نقل کی گئی ہے کہ اذا کان یوم القیامۃ یجمع اللہ الاولین والاخرین لیوم لاریب فیہ الخ۔ اس صورت میں لیوم کے لفظ کو ایسا مظہر کیا جائے گا جو مضمر کی جگہ واقع ہوا ہو اور جو اس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے کہ جمع اللہ الخلق یوم القیامۃ لیجزیہم فیہ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا تاکہ اس دن سب کو جزا و سزا دے۔
5214
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمرو أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من سمع الناس بعمله سمع الله به أسامع خلقه وحقره وصغره . رواه البيهقي في شعب الإيمان .
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ جو شخص اپنے عمل کو لوگوں کے درمیان شہرت دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے اس ریا کارانہ عمل کو اپنی مخلوق کے کانوں تک پہنچا دے گا۔ (یعنی جو شخص کوئی نیک کام کر کے لوگوں کو یہ سنائے گا کہ اس نے یہ کام کیا ہے اور اس کے ذریعہ اس کا مقصد شہرت وعزت حاصل کرنا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی اس ریا کاری کو ظاہر کر دے گا اور لوگوں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دے گا کہ یہ شخص ریا کار اور غیر مخلص ہے نیز (قیامت کے دن) اس کو رسوا کرے گا اور (دنیا وآخرت میں) ذلت و خواری سے دو چار کرے گا۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
5215
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من كانت نيته طلب الآخرة جعل الله غناه في قلبه وجمع له شمله وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت نيته طلب الدنيا جعل الله الفقر بين عينيه وشتت عليه أمره ولا يأتيه منها إلا ما كتب له . رواه الترمذي ورواه أحمد . والدارمي عن أبان عن زيد بن ثابت .
حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص کی نیت محض آخرت کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو غنی اور اس کی پریشانیوں کو جمع کر کے اطمینان خاطر بخشتا ہے نیز اس کے پاس دنیا آتی ہے لیکن اس کی نظر میں اس دنیا کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ یعنی کسی بھی علمی یا عملی کار خیر کو اختیار کرنے کے سلسلے میں جس شخص کی نیت اور اصل مقصد، محض رضائے مولیٰ اور ثواب آخرت کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو قدر کفایت پر قانع و صابر بتا کر اور زیادہ طلبی کی محنت ومشقت کے کشت ورنج سے بچا کر قلبی غنا عطا کردیتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس بات سے بےنیاز اور مستغنی ہوجاتا ہے کہ ریاء کاری کے ذریعہ لوگوں سے مال وجاہ اور عزت و منفعت حاصل کر کے آخرت کا نقصان و خسران مول لے۔ نیز اللہ تعالیٰ حصول معاش اور ضروریات زندگی کی تکمیل کے سلسلے میں ان کی پریشانیوں، الجھنوں اور ذہنی انتشار وتفکرات کو سمیٹ کر خاطر جمعی میں تبدیل کردیتا ہے، بایں طور کہ اس کو ایسی جگہوں اور ایسے ذرائع سے اسباب معیشت مہیا فرما دیتا ہے جن کے بارے میں اس کو معلوم بھی نہیں ہوتا اور اس کے معاملات کو اس طرح استوار فرما دیتا ہے کہ اس کا وہم و گمان بھی اس کو نہیں ہوتا اور پھر ان تمام چیزوں کا مجموعی اثر یہ ہے ہوتا ہے کہ اس شخص کی نظر میں دنیا اور دنیا بھر کی نعمتیں اور لذتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، وہ دنیا سے دامن بچاتا ہے اور دنیا اس کے قدموں میں کھنچی چلی آتی ہے، اس کی ضروریات زندگی اور معیشت کے وہ اسباب جو اس کے لئے مقدر ہیں، بغیر کسی محنت ومشقت کے بغیر کسی سعی و کوشش کے اور بغیر کسی ذلت و خواری کے اس کو حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ اور جس شخص کی نیت اور اصل مقصد، دنیا کی طلب ہو یعنی جس شخص پر دنیا اس حد تک سوار ہوجائے کہ وہ اعمال خیر کو بھی محض دنیا کے حصول کا واسطہ بنانا شروع کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کا فقر و احتیاج، اس کی آنکھوں کے سامنے پیش کردیتا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت و خواری میں مبتلا کردیتا ہے اور وہ اپنے فقر و افلاس اور محتاجگی کو نظر آنے والی چیز کی طرح اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتا ہے۔ اور اس کو ہر معاملہ میں پراگندہ خاطر اور ذہنی انتشار و تفکرات کا شکار بنا دیتا ہے نیز دنیا بھی اس کو صرف اسی قدر ملتی ہے جتنا کہ اللہ نے اس کے لئے مقدر کردیا ہے (ترمذی) نیز احمد اور دارمی نے اس روایت کو ابان سے اور انہوں نے زید بن ثابت سے نقل کیا ہے۔

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اعمال کے نتائج و آثار ہونے کا مدار نیت پر ہے، جس شخص کے پیش نظر صرف آخرت کا مفاد ہوتا ہے اور جو اپنے اعمال کے تئیں مخلص وصادق ہوتا ہے، وہ آخرت کی سعادتوں اور نعمتوں کا مستحق تو ہو ہی جاتا ہے، اس دنیا میں بھی اس کو اپنے تمام معاملات زندگی میں اطمینان و عافیت اور خاطر جمعی کی دولت حاصل رہتی ہے، نیز اس کو اس کا رزق نہایت آسانی اور آسودگی کے ساتھ پہنچتا ہے۔ اس کے برخلاف جو شخص محض دنیا کی طلب وچاہ رکھتا ہے اور اپنے اعمال کو وسیلہ آخرت بنانے کے بجائے دنیاوی مال وزر اور دنیاوی نعمتوں کا وسیلہ و ذریعہ بناتا ہے اس کو آخرت میں تو اس کی سزا بھگتنی ہوگی، اس دنیا میں بھی اس پر اس برائی کا یہ وبال پڑتا ہے کہ وہ خاطر جمع اور اطمینان و سکون کی دولت سے محروم ہوجاتا ہے، ہر وقت طرح طرح کی پریشانیوں اور مختلف تفکرات کی وجہ سے حیران وسرگردان رہتا ہے، نیز اس کو وہ رزق تو ضرور ملتا ہے جو اس کے مقدر میں ہے مگر اس کے حصول کے لئے بھی اس کو نہایت محنت ومشقت اور پریشانی وکشت برداشت کرنا پڑتی ہے۔