Mishkaat Shareef
126. جہاد میں لڑنے کا بیان
مشكاة المصابيح
3854
Mishkaat Shareefاس باب میں وہ احادیث نقل ہوں گی جن میں آنحضرت ﷺ نے جہاد کی ترغیب دی ہے اور جہاد کے فضائل وثواب بیان فرمائے ہیں۔
3855
Mishkaat Shareefعن جابر قال : قال رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يوم أحد : أرأيت إن قتلت فأين أنا ؟ قال : في الجنة فألقى ثمرات في يده ثم قاتل حتى قتل
حضرت جابر کہتے ہیں کہ احد کی جنگ کے دن (میدان جنگ میں) ایک شخص نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا کہ آپ بتائیے ! اگر میں مارا جاؤں (یعنی دشمنان اسلام سے لڑتا ہوا شہید ہوجاؤں) تو میں کہاں ہوں گا یعنی جنت میں جاؤں گا یا دوزخ میں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں (یہ سنتے ہی) اس شخص نے (جنت میں پہنچ جانے کی تمنا میں مرتبہ شہادت جلد سے جلد حاصل کرنے کے لئے) وہ کھجوریں پھینک دیں جو (کھانے کے لئے) اس کے ہاتھ میں تھیں اور لڑائی میں مشغول ہوگیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔ (بخاری ومسلم )
3856
Mishkaat Shareefوعن كعب بن مالك قال : لم يكن رسول الله صلى الله عليه و سلم يريد غزوة إلا ورى بغيرها حتى كانت تلك الغزوة يعني غزوة تبوك غزاها رسول الله صلى الله عليه و سلم في حر شديد واستقبل سفرا بعيدا ومفازا وعدوا كثيرا فجلى للمسلمين أمرهم ليتأهبوا أهبة غزوهم فأخبرهم بوجهه الذي يريد . رواه البخاري
اور حضرت کعب ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب کسی غزوہ (یعنی جہاد کرنے) کا ارادہ کرتے تو اس کے بجائے دوسرے کا توریہ فرماتے یہاں تک کہ یہ غزوہ یعنی تبوک واقع ہوا رسول کریم ﷺ نے غزوہ تبوک سخت ترین گرمی کے زمانے میں کیا، آپ ﷺ نے اس کے لئے دور دراز کا سفر فرمایا اور بےآب وگیاہ جنگلات کو طے کیا۔ نیز اس میں دشمنوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی چناچہ آنحضرت ﷺ نے (جب اس غزوے کا ارادہ فرمایا تو) اس کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان صاف صاف اعلان کیا۔ (اور اس غزوے کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور پریشانیوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا) تاکہ وہ لوگ (جنگ کے لئے) اچھی طرح تیار ہوجائیں اور) اپنے سامان جہاد کو درست کرلیں ! نیز آپ ﷺ نے صحابہ کو ان رستوں اور مقامات کے بارے میں بھی بتادیا تھا جن کو آپ ﷺ (تبوک پہنچنے کے لئے) اختیار کرنا چاہتے تھے۔ (بخاری)
تشریح
توریہ کے معنی ہیں خبر کو چھپانا بایں طور پر کہ اصل بات کو چھپایا جائے اور دوسری بات کو ظاہر کیا جائے چناچہ آنحضرت ﷺ ارادہ جہاد کے موقع پر یہ جنگی حکمت عملی اختیار فرماتے تھے کہ آپ ﷺ کو جس مقام پر جہاد کے لئے جانا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتے بلکہ اسی دوسرے مقام کے بارے میں مشہور کرا دیتے کہ وہاں جہاد کے لئے جانا ہے اور حکمت عملی آپ ﷺ اس لئے اختیار فرماتے تھے تاکہ دشمن کو آپ ﷺ کے ارادہ کا پتہ نہ چلے اور وہ غافل رہے ! اس طرح کی حکمت عملیاں دراصل جنگ جیتنے کے لئے انتہائی ضروری ہوتی ہیں اور دنیا کا ہر قانون ان کو رواہ رکھتا ہے اسی لئے اسلام نے بھی الحرب خدعتہ (لڑائی مکر و فریب کا نام ہے) کہہ کر جنگ میں اس طرح کے فریب دینے کو جائز رکھا ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ کا یہ توریہ بھی اگرچہ خدعہ کی قسم سے تھا لیکن آپ ﷺ اس کو صریح قول کے ذریعہ اختیار نہیں فرماتے تھے بلکہ بطریق تعریض وکنایہ اختیار فرماتے تھے جیسے اگر آپ ﷺ کسی مقام پر جہاد کے لئے جانے کا ارادہ فرماتے کہ لوگوں کو آپ ﷺ کے حقیقی ارادے کا علم نہیں ہوتا تھا، آپ ﷺ صریح الفاظ میں کسی دوسرے مقام کا نام لے کر یہ بالکل نہیں کہتے تھے کہ میں فلاں جگہ کے جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، تاکہ جھوٹ بولنا لازم نہ آئے۔ یہاں تک کہ یہ غزوہ الخ حضرت کعب ابن مالک نے اس کے ذریعہ اس غزوہ یعنی عزوہ تبوک کی طرف اشارہ کیا جو ان کی ذات کے تعلق سے مشہور و معروف تھا، حضرت کعب ابن مالک بذات خود اس غزوہ میں شریک نہیں ہوئے تھے چناچہ ان کا واقعہ بہت مشہور ہے جو قرآن کریم میں بھی مذکور ہے۔ دور دراز کا سفر فرمایا جہاد کرنے کے لئے تبوک جانے کو دور دراز کا سفر اس لئے فرمایا گیا ہے کہ تبوک جو دمشق (شام) اور مدینہ کے درمیانی پر خیبر اور البلاد کے خطہ پر واقع ایک جگہ کا نام ہے، مدینہ سے اس زمانہ کی مسافت کے اعتبار سے چودہ منزل اور آج کل کے حساب کے مطابق تقریبا ٤٢٥ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں جن غزوات میں بہ نفس نفیس شرکت فرمائی ان میں یہ غزوہ تبوک واقع ٩ ھ آخری غزوہ تھا۔ اس غزوہ کے موقع پر صحابہ کو بڑی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کیں۔
تشریح
توریہ کے معنی ہیں خبر کو چھپانا بایں طور پر کہ اصل بات کو چھپایا جائے اور دوسری بات کو ظاہر کیا جائے چناچہ آنحضرت ﷺ ارادہ جہاد کے موقع پر یہ جنگی حکمت عملی اختیار فرماتے تھے کہ آپ ﷺ کو جس مقام پر جہاد کے لئے جانا ہوتا اس کا اعلان نہ کرتے بلکہ اسی دوسرے مقام کے بارے میں مشہور کرا دیتے کہ وہاں جہاد کے لئے جانا ہے اور حکمت عملی آپ ﷺ اس لئے اختیار فرماتے تھے تاکہ دشمن کو آپ ﷺ کے ارادہ کا پتہ نہ چلے اور وہ غافل رہے ! اس طرح کی حکمت عملیاں دراصل جنگ جیتنے کے لئے انتہائی ضروری ہوتی ہیں اور دنیا کا ہر قانون ان کو رواہ رکھتا ہے اسی لئے اسلام نے بھی الحرب خدعتہ (لڑائی مکر و فریب کا نام ہے) کہہ کر جنگ میں اس طرح کے فریب دینے کو جائز رکھا ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ کا یہ توریہ بھی اگرچہ خدعہ کی قسم سے تھا لیکن آپ ﷺ اس کو صریح قول کے ذریعہ اختیار نہیں فرماتے تھے بلکہ بطریق تعریض وکنایہ اختیار فرماتے تھے جیسے اگر آپ ﷺ کسی مقام پر جہاد کے لئے جانے کا ارادہ فرماتے کہ لوگوں کو آپ ﷺ کے حقیقی ارادے کا علم نہیں ہوتا تھا، آپ ﷺ صریح الفاظ میں کسی دوسرے مقام کا نام لے کر یہ بالکل نہیں کہتے تھے کہ میں فلاں جگہ کے جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، تاکہ جھوٹ بولنا لازم نہ آئے۔ یہاں تک کہ یہ غزوہ الخ حضرت کعب ابن مالک نے اس کے ذریعہ اس غزوہ یعنی عزوہ تبوک کی طرف اشارہ کیا جو ان کی ذات کے تعلق سے مشہور و معروف تھا، حضرت کعب ابن مالک بذات خود اس غزوہ میں شریک نہیں ہوئے تھے چناچہ ان کا واقعہ بہت مشہور ہے جو قرآن کریم میں بھی مذکور ہے۔ دور دراز کا سفر فرمایا جہاد کرنے کے لئے تبوک جانے کو دور دراز کا سفر اس لئے فرمایا گیا ہے کہ تبوک جو دمشق (شام) اور مدینہ کے درمیانی پر خیبر اور البلاد کے خطہ پر واقع ایک جگہ کا نام ہے، مدینہ سے اس زمانہ کی مسافت کے اعتبار سے چودہ منزل اور آج کل کے حساب کے مطابق تقریبا ٤٢٥ میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں جن غزوات میں بہ نفس نفیس شرکت فرمائی ان میں یہ غزوہ تبوک واقع ٩ ھ آخری غزوہ تھا۔ اس غزوہ کے موقع پر صحابہ کو بڑی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے بڑی بڑی تکلیفیں برداشت کیں۔
3857
Mishkaat Shareefوعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحرب خدعة
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنگ مکروفریب (کا نام) ہے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جنگ میں لشکر کی زیادہ تعداد اور بہت لڑنا کار آمد ومفید نہیں جتنا مکروفریب مفید ہوتا ہے، جس کو آج کے مہذب الفاظ میں حکمت عملی بھی کہتے ہیں۔ اسی مکروفریب یا حکمت عملی کا کرشمہ ہوتا ہے کہ پوری جنگ ایک ہی داؤ سے ختم ہوجاتی ہے جو داؤ کھاتا ہے مارا جاتا ہے اور داؤ مارنے والا جنگ پر غالب آجاتا ہے۔ چناچہ بہترین کمانڈر وہی کہلاتا ہے جو میدان جنگ میں اپنی تدبیر اور حکمت عملی سے دشمن کی بڑی سے بڑی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دے۔ اگرچہ علماء اسلام نے متفقہ طور پر کفار کے ساتھ جانے والی جنگ میں مکروفریب کو جائز قرار دیا ہے لیکن اس بارے میں کچھ حدود بھی مقرر کی ہیں تاکہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات پر کوئی حرف نہ آئے چناچہ انہوں نے لکھا ہے کہ مکروفریب کا رستہ اختیار کرنے کی صورت میں پہلی بات تو یہ ملحوظ ہونی چاہئے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ بولا جائے اور یہ کہ کسی بھی ایسی صورت میں مکر و فریب نہ کیا جائے جس میں مسلمانوں کی طرف سے دیا ہوا عہد امان توڑا جائے۔ پھر علماء نے فریب دینے کی کچھ صورتیں بھی متعین کردی ہیں مثلًا اس طرح فریب دیا جائے کہ اسلامی لشکر میدان جنگ سے ہٹ جائے یا جنگ بند کر دے تاکہ دشمن غافل ہوجائے اور یہ سمجھ لے کہ اسلامی لشکر جنگ سے بھاگ گیا ہے اور پھر دشمن کی اس غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس یکبارگی حملہ کردیا جائے، اس طرح کی ایسی کوئی بھی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں مذکورہ بالا دونوں امور کا لحاظ ہو۔ حدیث میں مذکور لفظ خدعتہ اصل میں تو خ کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ یعنی خدعۃ ہے لیکن زیادہ فصیح خ کے زبر کے ساتھ یعنی خدعۃ ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ لڑائی ایک ہی فریب (داؤ) سے ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ لفظ خ کے زیر کے ساتھ (یعنی لفظ فریب کا اہم نوع خدعۃ اور خ کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ یعنی خدعۃ بھی منقول ہے، اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ جنگ بہت دھوکے میں ڈالنے والی ہے یعنی جو لوگ دشمن کے مقابلہ پر جاتے ہیں ان کے دل میں طرح طرح کے خیال پیدا ہوتے ہیں لیکن جب وہ میدان جنگ میں پہنچتے ہیں اور لڑائی ہوتی ہے تو ان کے خیالات کے برعکس نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ کوئی شخص فتح پانے اور دشمن کو مار ڈالنے کا خیال لے کرجاتا ہے مگر میدان جنگ میں شکت کا سامنا کرتا ہے اور خود مارا جاتا ہے اسی طرح کوئی شخص شکست و ناکامی کے مایوس کن خیالات لے کرجاتا ہے مگر وہاں جنگ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے اور وہ کامیاب وکامران ہو کر آتا ہے غرضیکہ جنگ اسی طرح دھوکے اور فریب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جنگ میں لشکر کی زیادہ تعداد اور بہت لڑنا کار آمد ومفید نہیں جتنا مکروفریب مفید ہوتا ہے، جس کو آج کے مہذب الفاظ میں حکمت عملی بھی کہتے ہیں۔ اسی مکروفریب یا حکمت عملی کا کرشمہ ہوتا ہے کہ پوری جنگ ایک ہی داؤ سے ختم ہوجاتی ہے جو داؤ کھاتا ہے مارا جاتا ہے اور داؤ مارنے والا جنگ پر غالب آجاتا ہے۔ چناچہ بہترین کمانڈر وہی کہلاتا ہے جو میدان جنگ میں اپنی تدبیر اور حکمت عملی سے دشمن کی بڑی سے بڑی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دے۔ اگرچہ علماء اسلام نے متفقہ طور پر کفار کے ساتھ جانے والی جنگ میں مکروفریب کو جائز قرار دیا ہے لیکن اس بارے میں کچھ حدود بھی مقرر کی ہیں تاکہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات پر کوئی حرف نہ آئے چناچہ انہوں نے لکھا ہے کہ مکروفریب کا رستہ اختیار کرنے کی صورت میں پہلی بات تو یہ ملحوظ ہونی چاہئے کہ کھلا ہوا جھوٹ نہ بولا جائے اور یہ کہ کسی بھی ایسی صورت میں مکر و فریب نہ کیا جائے جس میں مسلمانوں کی طرف سے دیا ہوا عہد امان توڑا جائے۔ پھر علماء نے فریب دینے کی کچھ صورتیں بھی متعین کردی ہیں مثلًا اس طرح فریب دیا جائے کہ اسلامی لشکر میدان جنگ سے ہٹ جائے یا جنگ بند کر دے تاکہ دشمن غافل ہوجائے اور یہ سمجھ لے کہ اسلامی لشکر جنگ سے بھاگ گیا ہے اور پھر دشمن کی اس غفلت سے فائدہ اٹھا کر اس یکبارگی حملہ کردیا جائے، اس طرح کی ایسی کوئی بھی حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں مذکورہ بالا دونوں امور کا لحاظ ہو۔ حدیث میں مذکور لفظ خدعتہ اصل میں تو خ کے پیش اور دال کے جزم کے ساتھ یعنی خدعۃ ہے لیکن زیادہ فصیح خ کے زبر کے ساتھ یعنی خدعۃ ہے جس کے معنی یہی ہیں کہ لڑائی ایک ہی فریب (داؤ) سے ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن یہ لفظ خ کے زیر کے ساتھ (یعنی لفظ فریب کا اہم نوع خدعۃ اور خ کے پیش اور دال کے زبر کے ساتھ یعنی خدعۃ بھی منقول ہے، اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ جنگ بہت دھوکے میں ڈالنے والی ہے یعنی جو لوگ دشمن کے مقابلہ پر جاتے ہیں ان کے دل میں طرح طرح کے خیال پیدا ہوتے ہیں لیکن جب وہ میدان جنگ میں پہنچتے ہیں اور لڑائی ہوتی ہے تو ان کے خیالات کے برعکس نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔ کوئی شخص فتح پانے اور دشمن کو مار ڈالنے کا خیال لے کرجاتا ہے مگر میدان جنگ میں شکت کا سامنا کرتا ہے اور خود مارا جاتا ہے اسی طرح کوئی شخص شکست و ناکامی کے مایوس کن خیالات لے کرجاتا ہے مگر وہاں جنگ کا پانسہ پلٹ جاتا ہے اور وہ کامیاب وکامران ہو کر آتا ہے غرضیکہ جنگ اسی طرح دھوکے اور فریب میں مبتلا کرنے والی چیز ہے
3858
Mishkaat Shareefوعن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغزو بأم سليم ونسوة من الأنصار معه إذا غزا يسقين الماء ويداوين الجرحى . رواه مسلم (2/395) 3941 - [ 5 ] ( صحيح ) وعن أم عطية قالت : غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم سبع غزوات أخلفهم في رحالهم فأصنع لهم الطعام وأداوي الجرحى وأقوم على المرضى . رواه مسلم
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب ( صحابہ کے ہمراہ جہاد میں تشریف لے جاتے تو اپنے ساتھ ام سلیم اور انصار کی دوسری عورتوں کو بھی لے جاتے وہ عورتیں ( غازیان اسلام کو) پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کرتیں (مسلم )
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کرنے کی غرض سے زیادہ عمر والی عورتوں کو اپنے ساتھ لے جانا جائز ہے اور اگر مباشرت و صحبت کی غرض سے لے جانا ہو تو پھر آزاد عورتوں ( یعنی اپنی بیویوں) کی بد نسبت لونڈیوں کو لے جانا بہتر ہے ( یہ حکم اس وقت تھا جب کہ ایسی لونڈیاں رکھنے کا رواج تھا جن کے ساتھ صحبت و مباشرت جائز تھی اور حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سات غزو وں میں شریک ہوئی ہوں میں ( میدان جنگ میں) ان ( مجاہدین) کے پیچھے ان کے ڈیروں میں رہا کرتی تھی جہاد میں ان کے لئے کھانا پکاتی زخمیوں کی مرہم پٹی اور دوا دارو کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی (مسلم )
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجاہدین کو پانی پلانے اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کرنے کی غرض سے زیادہ عمر والی عورتوں کو اپنے ساتھ لے جانا جائز ہے اور اگر مباشرت و صحبت کی غرض سے لے جانا ہو تو پھر آزاد عورتوں ( یعنی اپنی بیویوں) کی بد نسبت لونڈیوں کو لے جانا بہتر ہے ( یہ حکم اس وقت تھا جب کہ ایسی لونڈیاں رکھنے کا رواج تھا جن کے ساتھ صحبت و مباشرت جائز تھی اور حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے ہمراہ سات غزو وں میں شریک ہوئی ہوں میں ( میدان جنگ میں) ان ( مجاہدین) کے پیچھے ان کے ڈیروں میں رہا کرتی تھی جہاد میں ان کے لئے کھانا پکاتی زخمیوں کی مرہم پٹی اور دوا دارو کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی (مسلم )
3859
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن قتل النساء والصبيان (2/395) 3943 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن الصعب بن جثامة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أهل الدار يبيتون من المشركين فيصاب من نسائهم وذراريهم قال : هم منهم . وفي رواية : هم من آبائهم
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عورتوں اور لڑکوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ( بخاری مسلم)
تشریح
ہدایہ میں لکھا ہے کہ عورت لڑکے جاماندہ اندھے اور شیخ فانی ( بڈھے کھوسٹ) کو قتل نہ کیا جائے ہاں اگر کوئی لڑکا یا دیوانہ جنگ میں شریک ہوں اور قتال کر رہے ہوں تو ان کو قتل کیا جاسکتا ہے اسی طرح ملکہ عورت کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے نیز اس لڑکے کو بھی قتل کرنا ہے جو بادشاہ سردار ہو کیونکہ دشمن کے بادشاہ سردار کے قتل ہوجانے سے ان کی شان و شوکت ٹوٹ جاتی ہے اور حضرت صعب ابن جثامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے ان مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا۔ جو گھروں والے ہیں ( یعنی جو آبادیوں میں رہتے ہیں) کہ اگر ان پر شبخون مارا جائے اور اس کے نتیجے میں ان کی عورت اور بچے مارے جائیں ( تو کیا حکم ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جہاد میں عورتوں اور بچوں کو قصدًا قتل نہ کیا جائے ہاں اگر وہ شبخون کی صورت میں مارے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ ان کے جو لڑنے والے بڑے مرد ہیں ان سے ان کا امتیاز نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی قتل کے حکم میں اپنے بڑوں کے مانند ہیں۔
تشریح
ہدایہ میں لکھا ہے کہ عورت لڑکے جاماندہ اندھے اور شیخ فانی ( بڈھے کھوسٹ) کو قتل نہ کیا جائے ہاں اگر کوئی لڑکا یا دیوانہ جنگ میں شریک ہوں اور قتال کر رہے ہوں تو ان کو قتل کیا جاسکتا ہے اسی طرح ملکہ عورت کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے نیز اس لڑکے کو بھی قتل کرنا ہے جو بادشاہ سردار ہو کیونکہ دشمن کے بادشاہ سردار کے قتل ہوجانے سے ان کی شان و شوکت ٹوٹ جاتی ہے اور حضرت صعب ابن جثامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے ان مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا۔ جو گھروں والے ہیں ( یعنی جو آبادیوں میں رہتے ہیں) کہ اگر ان پر شبخون مارا جائے اور اس کے نتیجے میں ان کی عورت اور بچے مارے جائیں ( تو کیا حکم ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے تابع ہیں ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جہاد میں عورتوں اور بچوں کو قصدًا قتل نہ کیا جائے ہاں اگر وہ شبخون کی صورت میں مارے جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ ان کے جو لڑنے والے بڑے مرد ہیں ان سے ان کا امتیاز نہ ہونے کی وجہ سے وہ بھی قتل کے حکم میں اپنے بڑوں کے مانند ہیں۔
3860
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قطع نخل بني النضير وحرق ولها يقول حسان : وهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير وفي ذلك نزلت ( ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله )
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درختوں کو کاٹنے اور جلانے کا حکم فرمایا اسی کے بارے میں ( دربار سالت ﷺ کے صحابی شاعر حضرت حسان ابن ثابت انصاری نے یہ شعر کہا۔ وہان علی سراۃ بنی لؤی حریق بالبریرۃ مستطیر یعنی بنی لوئی کے سرداروں کے لئے پھیلے ہوئے بویرہ کو جلا ڈالنا آسان ہوگیا۔ نیز اسی کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَا ى ِمَةً عَلٰ ي اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ ) 59 ۔ الحشر 5) ۔ تم نے کھجور کے درخت پر سے جو کچھ کاٹا یا جو کچھ اس کی جڑ پر کھٹا ہوا چھوڑ دیا (یعنی جو کچھ نہیں کاٹا) یہ سب اللہ کے حکم سے ہے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہاں یہودیوں سے بھی واسطہ پڑا، اس وقت مدینہ میں ان (یہودیوں) کے تین قبائل آباد تھے، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، آنحضرت ﷺ نے ایک باہمی معاہدہ کیا جس کے تحت مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان بہت اہم سماجی اور معاشرتی معاملات سے متعلق اور آپس میں میل ملاپ سے رہنے کے بارے میں کچھ دفعات طے ہوئیں جن میں یہودیوں کو مسلمانوں کے سیاسی اور تمدنی حقوق میں صراحت کے ساتھ مساوات دے کر پورے حقوق شہریت عطا کئے گئے اور ان کو مذبہی آزادی دے کر نہایت فیاضانہ رواداری کا رویہ برتا گیا اور مسلمانوں کی طرف سے ان پر عمل بھی کیا گیا، مگر یہودیوں کی طرف سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یہاں تک کہ بنو نصیر کے یہودیوں کی طرف سے اس حد تک عہد شکنی کا مظاہر ہوا کہ ان کی جانب سے آنحضرت ﷺ کے قتل کی سازش بھی تیار کرلی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کو اس ناپاک سازش پر مطلع کردیا، چناچہ ان یہودیوں کو مدینہ سے جلا وطن کر کے خیبر بھگا دیا گیا، ان کے کھجوروں کے باغات جلا ڈالے گئے اور ان کے مکانات کو تہس نہس کردیا گیا۔ لؤی لام کے پیش اور ہمزہ کے زبر اور یاء کے تشدید کے ساتھ، نضر ابن کنانہ کی اولاد میں سے ایک شخص کا نام تھا جو آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے ہیں۔ اور بنی لؤی سے مراد قریش کے اشراف ہیں، جو آنحضرت ﷺ کے صحابہ تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ بویرہ ایک جگہ کا نام تھا جہاں بنو نضیر کے یہودیوں کے باغات تھے اور جن کو صحابہ نے جلا ڈالا تھا۔ منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کا کاٹنے اور جلا ڈالنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا کہ محمد ! آپ تو زمین پر فساد برپا کرنے سے منع کرتے تھے پھر آپ ﷺ نے ہمارے کھجوروں کے ان درختوں کو کیوں کٹوایا اور جلوا ڈالا ؟ چناچہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ نے حکم کی توثیق کردی اور یہ واضح کردیا کہ ان یہودیوں کو جو سزا دی گئی ہے وہ حکم الہٰی کے مطابق ہے اور اسلام دشمن لوگوں کے درختوں کا کاٹنا اور جلانا جائز ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ جب مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہاں یہودیوں سے بھی واسطہ پڑا، اس وقت مدینہ میں ان (یہودیوں) کے تین قبائل آباد تھے، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، آنحضرت ﷺ نے ایک باہمی معاہدہ کیا جس کے تحت مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان بہت اہم سماجی اور معاشرتی معاملات سے متعلق اور آپس میں میل ملاپ سے رہنے کے بارے میں کچھ دفعات طے ہوئیں جن میں یہودیوں کو مسلمانوں کے سیاسی اور تمدنی حقوق میں صراحت کے ساتھ مساوات دے کر پورے حقوق شہریت عطا کئے گئے اور ان کو مذبہی آزادی دے کر نہایت فیاضانہ رواداری کا رویہ برتا گیا اور مسلمانوں کی طرف سے ان پر عمل بھی کیا گیا، مگر یہودیوں کی طرف سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی یہاں تک کہ بنو نصیر کے یہودیوں کی طرف سے اس حد تک عہد شکنی کا مظاہر ہوا کہ ان کی جانب سے آنحضرت ﷺ کے قتل کی سازش بھی تیار کرلی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کو اس ناپاک سازش پر مطلع کردیا، چناچہ ان یہودیوں کو مدینہ سے جلا وطن کر کے خیبر بھگا دیا گیا، ان کے کھجوروں کے باغات جلا ڈالے گئے اور ان کے مکانات کو تہس نہس کردیا گیا۔ لؤی لام کے پیش اور ہمزہ کے زبر اور یاء کے تشدید کے ساتھ، نضر ابن کنانہ کی اولاد میں سے ایک شخص کا نام تھا جو آنحضرت ﷺ کے اجداد میں سے ہیں۔ اور بنی لؤی سے مراد قریش کے اشراف ہیں، جو آنحضرت ﷺ کے صحابہ تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آگئے تھے۔ بویرہ ایک جگہ کا نام تھا جہاں بنو نضیر کے یہودیوں کے باغات تھے اور جن کو صحابہ نے جلا ڈالا تھا۔ منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کا کاٹنے اور جلا ڈالنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا کہ محمد ! آپ تو زمین پر فساد برپا کرنے سے منع کرتے تھے پھر آپ ﷺ نے ہمارے کھجوروں کے ان درختوں کو کیوں کٹوایا اور جلوا ڈالا ؟ چناچہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی جس نے آنحضرت ﷺ نے حکم کی توثیق کردی اور یہ واضح کردیا کہ ان یہودیوں کو جو سزا دی گئی ہے وہ حکم الہٰی کے مطابق ہے اور اسلام دشمن لوگوں کے درختوں کا کاٹنا اور جلانا جائز ہے۔
3861
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عون : أن نافعا كتب إليه يخبره أن ابن عمر أخبره أن ابن عمر أخبره أن النبي صلى الله عليه و سلم أغار على بني المصطلق غارين في نعمهم بالمريسيع فقتل المقاتلة وسبى الذرية
اور حضرت عبداللہ ابن عون سے روایت ہے کہ (حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ) حضرت نافع نے ان ( عبداللہ ابن عون) کو ایک مکتوب بھیجا جس میں حضرت نافع عمر نے ان (نافع) سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مصطلق پر اس وقت ٹوٹ پڑے تھے جب وہ مریسیع میں اپنے مویشیوں کے درمیان غافل پڑے تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا کرلے آئے ( بخاری ومسلم)
تشریح
نبی مطلق قبیلہ خزاع کی ایک شاخ تھی اور مریسع ایک جگہ کا نام تھا جو مکہ و مدینہ کے درمیان مدینہ منورہ سے تقریبا ستر ٧٠، اسی ٨٠ میل کے فاصلہ پر واقع تھا، یہاں کافی مقدار میں پانی موجود تھا جس پر بنی مصطلق کا تسلط تھا۔ لڑنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو لڑنے کی صلاحیت واہلیت رکھتے تھے یعنی عاقل وبالغ مرد اور ذریت سے ان کی عورتیں اور بچے مراد ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام دشمن اگر کہیں غافل پڑے ہوں تو ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور ان کی حالت غفلت میں ان کو قتل کردینا، نیز ان کے مال و اسباب پر قبضہ کرلینا جائز ہے۔
تشریح
نبی مطلق قبیلہ خزاع کی ایک شاخ تھی اور مریسع ایک جگہ کا نام تھا جو مکہ و مدینہ کے درمیان مدینہ منورہ سے تقریبا ستر ٧٠، اسی ٨٠ میل کے فاصلہ پر واقع تھا، یہاں کافی مقدار میں پانی موجود تھا جس پر بنی مصطلق کا تسلط تھا۔ لڑنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو لڑنے کی صلاحیت واہلیت رکھتے تھے یعنی عاقل وبالغ مرد اور ذریت سے ان کی عورتیں اور بچے مراد ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام دشمن اگر کہیں غافل پڑے ہوں تو ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان پر اچانک ٹوٹ پڑنا اور ان کی حالت غفلت میں ان کو قتل کردینا، نیز ان کے مال و اسباب پر قبضہ کرلینا جائز ہے۔
3862
Mishkaat Shareefوعن أبي أسيد : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لنا يوم بدر حين صففنا لقريش وصفوا لنا : إذا اكثبوكم فعليكم بالنبل . وفي رواية : إذا أكثبوكم فارموهم واستبقوا نبلكم . رواه البخاري وحديث سعد : هو تنصرون سنذكره في باب فضل الفقراء . وحديث البراء : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم رهطا في باب المعجزات إن شاء الله تعالى
اور حضرت ابواسید کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے دن (میدان جنگ میں) جب کہ ہم قریش کے خلاف اور قریش مکہ ہمارے خلاف صف آراء ہوگئے تو ہمیں یہ حکم دیا کہ جب وہ (دشمن یعنی قریش مکہ) تمہارے (اتنے) قریب آجائیں (کہ تمہارے تیر ان تک پہنچ سکیں) تو ان پر تیر چلاؤ جب وہ تمہارے قریب آجائیں اور اپنے تیروں کو باقی رکھو یعنی اپنے سب تیر ختم نہ کر ڈالو بلکہ ان کو احتیاط کے ساتھ استعمال کر کے کچھ باقی بھی رکھو تاکہ دشمن تمہارے نہتے ہونے کا فائدہ اٹھا کر تم پر غالب نہ آجائے۔ (بخاری) (وحدیث سعد ہل تنصرون سنذکر فی باب فضل الفقراء وحدیث البراء بعث رسول اللہ ﷺ رہطا فی باب المعجزات ان شآء اللہ تعالیٰ ) ۔ اور حضرت سعد کی روایت (ہل تنصرورن باب فضل الفقراء) میں اور حضرت براء کی روایت بعث رسول اللہ ﷺ رہطا باب المعجزات میں ہم انشاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے۔
3863
Mishkaat Shareefعن عبد الرحمن بن عوف قال : عبأنا النبي صلى الله عليه و سلم ببدر ليلا . رواه الترمذي
حضرت عبدالرحمن ابن عوف کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بدر میں ہمیں رات کو تعبیہ کیا۔ (ترمذی)
تشریح
تعبیۃ کے لغوی معنی ہیں تیار ومرتب کیا کہ مجاہدین اسلام کے بدن پر ہتھیار لگائے ان کی صفیں قائم کیں اور ہر ایک مجاہد کو اپنے اپنے مقام پر جمایا یعنی جس کو جس جگہ مناسب سمجھا وہاں کھڑا کر کے بتایا کہ دن میں جب جنگ شروع ہو تو ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر اسی طرح قائم رہے
تشریح
تعبیۃ کے لغوی معنی ہیں تیار ومرتب کیا کہ مجاہدین اسلام کے بدن پر ہتھیار لگائے ان کی صفیں قائم کیں اور ہر ایک مجاہد کو اپنے اپنے مقام پر جمایا یعنی جس کو جس جگہ مناسب سمجھا وہاں کھڑا کر کے بتایا کہ دن میں جب جنگ شروع ہو تو ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر اسی طرح قائم رہے