hadith book logo

Mishkaat Shareef

71. محرم کے لئے شکار کی ممانعت کا بیان

مشكاة المصابيح

2742
Mishkaat Shareef
صحیح
عن الصعب بن جثامة أنه أهدى رسول الله صلى الله عليه و سلم حمارا وحشيا وهو بالأبواء او بودان فرد عليه فلما رأى ما في وجهه قال : إنا لم نرده عليك إلا أنا حرم
حضرت صعب (رض) بن جثامہ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حمار وحشی (گورخر) بطور ہدی کے بھیجا جب کہ آپ ﷺ مقام ابواء یا ودان میں کہ جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں تشریف فرما تھے آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا اور جب آپ ﷺ نے اس کی وجہ سے ان کے چہرہ پر غم و افسوس کے آثار محسوس کئے تو فرمایا کہ ہم نے تمہارا ہدیہ اس لئے واپس کردیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
بظاہر یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جو مطلق شکار کا گوشت کھانے کو محرم کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور چونکہ حنفیہ کا مسلک جو باب کی ابتداء میں ذکر کیا گیا ہے حضرت عمر (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) حضرت طلحہ بن عبیدا للہ (رض) اور حضرت عائشہ (رض) کے قول کے مطابق ہے اس لئے حنفیہ کے نزدیک اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ زندہ گورخر بطور شکار آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا تھا اور چونکہ شکار قبول کرنا محرم کے لئے درست نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا۔ لیکن پھر ایک اشکال اور پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ایک روایت میں وضاحت کے ساتھ یہ منقول ہے کہ گورخر کا گوشت بھیجا گیا تھا، ایک روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ گورخر کی ران بھیجی گئی تھی، اسی طرح ایک روایت یہ بتاتی ہے کہ اس کا ایک ٹکڑا بھیجا گیا تھا۔ لہٰذا ان روایتوں کے پیش نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ زندہ گورخر نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ یہاں حدیث میں بھی گورخر سے اس کا گوشت ہی مراد ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے تو آپ ﷺ کی خدمت میں زندہ گورخر ہی بھیجا گیا ہوگا جسے آپ ﷺ نے قبول نہیں کیا، پھر بعد میں دوسرے گورخر کی ران بھیجی گئی اسی کو کسی نے تو گوشت سے تعبیر کیا اور کسی نے اسے اس کا ٹکڑا کہا۔ اس بارے میں حنفیہ کی بڑی دلیل یہ روایت ہے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں گورخر پیش کیا گیا جب کہ آپ ﷺ مقام عرف میں تشریف فرما تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے، چناچہ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ اسے رفقاء میں تقسیم کردو۔ مذکورہ بالا حدیث کے بارے میں شافعیہ یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس گورخر کو اس گمان کی بناء پر واپس کردیا کہ بطور خاص میرے لئے شکار کیا گیا ہے۔
2743
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي قتادة أنه خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فتخلف مع بعض أصحابه وهم محرمون وهو غير محرم فرأوا حمارا وحشيا قبل أن يراه فلما رأوه تركوه حتى رآه أبو قتادة فركب فرسا له فسألهم أن يناولوه سوطه فأبوا فتناوله فحمل عليه فعقره ثم أكل فأكلوا فندموا فلما أدركوا رسول الله صلى الله عليه و سلم سألوه . قال : هل معكم منه شيء ؟ قالوا : معنا رجله فأخذها النبي صلى الله عليه و سلم فأكلها وفي رواية لهما : فلما أتوا رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أمنكم أحد أمره أن يحمل عليها ؟ أو أشار إليها ؟ قالوا : لا قال : فكلوا ما بقي من لحمها
حضرت ابوقتادہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ واقعہ حدیبیہ کے موقع پر مکہ کے لئے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے تو وہ اپنے چند ساتھیوں سمیت پیچھے رہ گئے جو عمرہ کے لئے احرام باندھے ہوئے تھے لیکن خود ابوقتادہ حالت احرام میں نہیں تھے ! چناچہ راستہ میں ایک جگہ ان کے ساتھیوں نے گورخر دیکھا مگر ابوقتادہ کی نظر اس پر نہیں پڑی، ان کے ساتھیوں نے اس گورخر کو دیکھ کر صرف نظر کرلیا، آخر کار ابوقتادہ نے بھی اس گور خر کر دیکھ لیا اور اس کو شکار کرنے کی غرض سے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا چابک مانگا مگر انہوں نے اس وجہ سے کہ اس شکار میں ہماری اعانت کسی درجہ میں بھی شامل نہ ہو چابک دینے سے انکار کردیا ابوقتادہ نے گھوڑے سے اتر کر خود چابک اٹھایا اور گورخر پر حملہ آور ہوئے یہاں تک کہ اسے مار لیا، پھر اس کے گوشت کو تیار کر کے خود انہوں نے بھی کھایا اور ان کے ساتھیوں نے بھی کھایا، مگر ان کے ساتھی اس کا گوشت کھا کر پشیمان ہوئے کیونکہ انہوں نے گمان کیا کہ محرم کے لئے مطلق شکار کا گوشت کھانا درست نہیں ہے۔ چناچہ جب وہ لوگ آنحضرت ﷺ سے ملے تو آپ ﷺ سے اس کا حکم پوچھا کہ آیا اس گورخر کا گوشت کھانا ہمارے لئے درست تھا یا نہیں ؟ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس کا پاؤں باقی رہ گیا ہے۔ آپ ﷺ نے وہ پاؤں لیا اور اس کو تیار کرا کر کھایا اس طرح آپ ﷺ نے ظاہر فرمایا کہ اس کا گوشست کھانا تمہارے لئے درست تھا (بخاری و مسلم) بخاری و مسلم ہی کی ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب وہ لوگ رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور انہوں نے آپ ﷺ سے اس کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ گورخر پر حملہ آور ہوں یا تم میں سے کسی نے گورخر کی طرف اشارہ کر کے اس کے شکار پر متوجہ کیا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس کے گوشت میں سے جو کچھ باقی رہ گیا ہے اسے کھالو۔

تشریح
اس حدیث کے بارے میں ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں تو بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس گورخر میں سے بچا ہوا پاؤں تیار کرا کر کھایا جب کہ ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اسے کھایا نہیں ؟ لہٰذا اس اشکال کو دور کرنے کے لئے علماء ان دونوں روایتوں میں یہ مطابقت پیدا کرتے ہیں کہ آپ ﷺ چونکہ خود حالت احرام میں تھے اس لئے ابتداء میں آپ ﷺ نے یہ گمان کیا ہوگا کہ اس گورخر کے شکار میں کسی محرم کے حکم یا اس کی اعانت کو دخل رہا ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار کردیا ہوگا مگر جب صحیح صورت حال سامنے آگئی اور آپ ﷺ کو معلوم ہوگیا کہ اس کے شکار میں کسی محرم کے حکم یا اس کی اعانت کا کوئی دخل نہیں تھا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔ محرم کے لئے جس طرح یہ ممنوع ہے کہ وہ شکار کے لئے کسی کو حکم دے اسی طرح دلالت اور اشارت بھی ممنوع ہے دلالت اور اشارت میں فرق یہ ہے کہ دلالت کا تعلق زبان سے ہوتا ہے مثلاً محرم کو کسی ہاتھ کے اشارہ سے شکار کی طرف متوجہ کرے ! بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ دلالت کا تعلق اس شکار سے ہوتا ہے جو نظر کے سامنے نہ ہو اور اشارت کا تعلق اس شکار سے ہوتا ہے جو نظر کے سامنے ہو۔ اس موقع پر یہ بات جان لیجئے کہ محرم کے لئے تو دلالت حدود حرم میں بھی حرام اور حدود حرم سے باہر بھی لیکن غیر محرم کے لئے حدود حرم میں تو حرام ہے اور حدود حرم سے باہر نہیں۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ محرم کو شکار کا گوشت کھانا حلال ہے بشرطیکہ وہ شکار نہ تو خود اس نے کیا ہو اور نہ اس شکار میں اس کی دلالت اشارت اور اعانت کا قطعا دخل ہو، چناچہ یہ حدیث حنفیہ کے اس مسلک کی دلیل ہے اور ان حضرات کے مسلک کی تردید کرتی ہے جو محرم کو مطلق شکار کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔
2744
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خمس لا جناح على من قتلهن في الحل والإحرام : الفأرة والغراب والحدأة والعقرب والكلب العقور
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ پانچ جانور ہیں جن کو حرم میں اور حالت احرام میں مارنا گناہ نہیں ہے (١) چوہا۔ (٢) کوا (٣) چیل (٤) بچھو (٥) کٹ کھنا کتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
الغراب (کوا) سے مراد الغراب الابقع (ابلق کوا) یعنی وہ سیاہ سفید کوا ہے جو اکثر مردار اور نجاسات کھاتا ہے۔ چناچہ اگلی روایت میں اس کی وضاحت بھی ہے۔ اس لئے وہ کوا مارنا جائز نہیں ہے جو کھیت کھلیاں کھاتا ہے اور جس کے پورے جسم کا رنگ تو سیاہ اور چونچ و پاؤں کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ کٹ کھنے کتے کے حکم کے میں وہ تمام درندے جانور شامل ہیں جو حملہ آور ہوتے ہیں، ایسے تمام جانوروں کو حرم میں اور احرام کی حالت میں مارنا جائز ہے۔
2745
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خمس فواسق يقتلن في الحل والحرم : الحية والغراب الأبقع والفأرة والكلب العقور والحديا
حضرت عائشہ (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ایذاء پہنچانے والے پانچ جانور ہیں جن کو حدود حرم سے باہر بھی اور حدود حرم میں بھی مارا جاسکتا ہے (مارنے والا خواہ احرام کی حالت میں ہو خواہ احرام سے باہر ہو) سانپ، ابلق کوا، چوہا، کٹ کھنا کتا، چیل۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس کتے کو مارنا حرام ہے جس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے، اسی طرح اس کتے کو بھی مارانا حرام ہے جس سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہوتا ہو تو اس سے کوئی ضرر و نقصان بھی نہ پہنچتا ہو۔ مذکورہ بالا دونوں حدیث میں جن جانوروں کا ذکر کیا گیا ہے مارنے کی اجازت صرف انہیں پر منحصر نہیں بلکہ یہی حکم ان تمام جانروں کا بھی ہے جن سے ایذاء پہنچتی ہو جیسے چیونٹی، پسو، چچری اور کھٹمل وغیرہ۔ ہاں اگر جوئیں ماری جائیں گی تو پھر حسب استطاعت و توفیق صدقہ دینا واجب ہوگا۔
2746
Mishkaat Shareef
ضعیف
عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لحم الصيد لكم في الإحرام حلال ما لم تصيدوه أو يصاد لكم . رواه أبو داود والترمذي والنسائي
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے احرام کی حالت میں شکار کا گوشت حلال ہے بشرطیکہ وہ شکار نہ تو تم نے خود کیا اور نہ تمہارے لئے کیا گیا ہے۔ (ابوداؤد، ترمذی، نسائی، )

تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ اگر حالت احرام میں تم خود شکار کرو گے یا کوئی دوسرا تمہارے لئے شکار کرے گا، اگرچہ وہ شکاری حالت احرام میں نہ ہو تو اس شکار کا گوشت کھانا تمہارے لئے درست نہیں ہوگا۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی اس حدیث کو اپنے اس مسلک کی دلیل قرار دیتے ہیں کہ محرم کے لئے اس شکار کا گوشت کھانا حرام ہے جسے کسی غیر محرم نے اس کے لئے شکار کیا ہو۔ لیکن حنفیہ اس حدیث کے یہ معنی مراد لیتے ہیں کہ اگر حالت احرام میں زندہ شکار تمہارے لئے بطور تحفہ بھیجا جائے تو اس کا گوشت کھانا تمہارے لئے حرام ہوگا۔ ہاں اگر اس شکار کا گوشت تحفہ کے طور پر تمہارے پاس بھیجا جائے اس کا کھانا حرام نہیں ہوگا۔ گویا اس صورت میں حدیث کا حاصل یہ ہوگا کہ اگر تمہارے حکم کی بناء پر کوئی شکار کیا جائے گا تو اس کا کھانا تمہارے لئے درست نہیں ہوگا لہٰذا اس شکار کا گوشت محرم کے لئے حرام نہیں ہے جسے کوئی غیر محرم اس کے لئے ذبح کرے بشرطیکہ اس شکار میں محرم کے حکم یا اس کی اعانت اور اشارت و دلالت کا کوئی دخل نہ ہو۔
2747
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الجراد من صيد البحر . رواه أبو داود والترمذي
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ٹڈی دریا کے شکار کی مانند ہے (ابوداؤد، ترمذی)

تشریح
حنفی علماء کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ٹڈی کو دریا کے شکار کی مانند صرف اس اعتبار سے فرمایا ہے، کہ ٹڈی دریائی شکار یعنی مچھلی کے مشابہ ہے کہ جس طرح مچھلی بغیر ذبح کئے ہوئے کھائی جاتی ہے اسی طرح ٹڈی کو بھی بغیر ذبح کئے کھانا درست ہے، چناچہ محرم کے لئے ٹڈی مارنا جائز نہیں ہے اگر کوئی محرم ٹڈی مارے گا تو اس پر صدقہ جتنا بھی وہ دے سکے گا لازم ہوگا۔ نیز ہدایہ میں بھی یہ لکھا ہے کہ ٹڈی جنگل کے شکار کے حکم میں ہے اور ابن ہمام کے قول کے مطابق اکثر علماء کا یہی مسلک ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محرم کے لئے ٹڈی کا شکار یعنی ٹڈی پکڑنا جائز ہے کیونکہ یہ دریائی شکار کی مانند ہے اور اس آیت کریمہ۔ (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ ) 5 ۔ المائدہ 96) ۔ اور احرام کی حالت میں تمہارے لئے دریائی شکار حلال رکھا گیا ہے کے پیش نظر محرم کے لئے دریا کا شکار جائز ہے۔
2748
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يقتل المحرم السبع العادي . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابوسعید خدری (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ محرم حملہ کرنے والے درندے کو مار ڈالے۔

تشریح
حملہ کرنے والے، کا مطلب یہ ہے کہ وہ جان لینے یا زخمی کرنے کے لئے چڑھ دوڑے جیسے شیر، بھیڑیا اور چیتا وغیرہ کہ یہ درندے انسان کو دیکھتے ہی اس پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
2749
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الرحمن بن أبي عمار قال : سألت جابر بن عبد الله عن الضبع أصيد هي ؟ فقال : نعم فقلت : أيؤكل ؟ فقال : نعم فقلت : سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم . رواه الترمذي والنسائي والشافعي وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
حضرت عبدالرحمن بن ابوعمار (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے چرغ کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ شکار ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے پھر پوچھا کہ کیا اس کا گوشت کھایا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے کہا کہ کیا آپ نے یہ رسول کریم ﷺ سے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! (ترمذی، نسائی، شافعی) نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تشریح
سائل کا مطلب یہ تھا کہ چرغ شکار ہے کہ محرم کے لئے اس کا کھانا حرام ہو یا یہ کہ شکار نہیں ہے، بہرکیف اس موقع پر محرم سے قطع نظر چرغ کے بارے میں بنیادی اختلاف تو یہ ہے کہ چرغ کا گوشت ویسے بھی حلال ہے یا نہیں ؟ چناچہ حضرت امام شاسفعی تو اس حدیث کے پیش نظر یہ فرماتے ہیں کہ چرغ حلال جانور ہے اس کا گوشت کھانا درست ہے جب کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک حلال جانور نہیں ہے اس لئے اس کا گوشت کسی کو بھی کھانا درست نہیں ہے۔ ان کی دلیل حضرت خزیمہ ابن جزی (رض) کی روایت ہے جو آگے آرہی ہے۔
2750
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الضبع ؟ قال : هو صيد ويجعل فيه كبشا إذا أصابه المحرم . رواه أبو داود وابن ماجه والدارمي
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے چرغ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شکار ہے اگر کوئی محرم اس کا مرتکب ہوجائے تو اس کے بدلہ میں دنبہ دے یا مینڈھا دے۔

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے احرام کی حالت میں چرغ کا شکار کیا اسے خریدا تو اس کی جزاء کے طور پر ایک دنبہ یا ایک مینڈھا واجب ہوگا۔
2751
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن خزيمة بن جزي قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أكل الضبع . قال : أو يأكل الضبع أحد ؟ . وسألته عن أكل الذئب . قال : أو يأكل الذئب أحد فيه خير ؟ . رواه الترمذي وقال : ليس إسناده بالقوي
حضرت خزیمہ بن جزی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے چرغ کا گوشت کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کہیں کوئی اس کا گوشت بھی کھاتا ہے ؟ یعنی اس کا گوشت نہ کھانا چاہئے پھر میں نے بھیڑئیے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی ایسا شخص جس میں بھلائی یعنی ایمان یا تقویٰ ہو بھیڑئیے کا گوشت بھی کھاتا ہے ؟ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی اسناد قوی نہیں ہے۔

تشریح
جیسا کہ امام ترمذی نے فرمایا ہے یہ روایت اگرچہ باعتبار سند کے ضعیف ہے لیکن بذات خود یہ حدیث بالکل صحیح ہے جس کی دلیل ابن ماجہ کی روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ومن یا کل الضبع نیز اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہر ذی ناب کو نچلی والا درندہ کھانے سے منع کیا (ذی ناب درندہ اس درندہ کو کہتے ہیں جو دانت سے شکار کرتا ہے) اور چرغ ذی ناب درندہ ہے، بہرکیف چونکہ چرغ کے مباح اور حرام ہونے کی دلیلوں میں تعارض ہے اس لئے حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے کہ اس کا گوشت نہ کھانا چاہئے۔