Mishkaat Shareef
145. اللہ کے ساتھ اور اللہ کے لیے محبت کرنے کا بیان
مشكاة المصابيح
4843
Mishkaat Shareefعن جرير بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يرحم الله من لا يرحم الناس . متفق عليه
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم نہیں کرتا (یعنی اس کو اپنی خاص و کامل رحمت کا مستحق نہیں گردانتا) جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری ومسلم)
4844
Mishkaat Shareefوعن عائشة قالت جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أتقبلون الصبيان ؟ فما نقبلهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم أو أملك لك أن نزع الله من قلبك الرحمة . متفق عليه
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں ایک دیہاتی حاضر ہوا اور جب اس نے صحابہ کو دیکھا کہ وہ بچوں کو چومتے اور پیار کرتے ہیں تو کہنے لگا کہ کیا تم لوگ بچوں کو چومتے ہو ؟ ہم تو بچوں کو نہیں چومتے، آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ کیا میں اس بات پر قادر ہوسکتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دل میں سے جس رحم و شفقت کو نکال دیا ہے اس کو روک دوں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
رسول اللہ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ نے تمہارے دل کو رحمت و شفقت اور پیار محبت سے خالی کردیا ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ تمہارے دل میں رحم و شفقت اور محبت کا جذبہ پیدا کروں، یہ معنی اس صورت میں ہیں جب کہ لفظ ان الف کے ساتھ جیسا کہ اکثر راویوں نے نقل کیا ہے کہ اور اگر الف کے زیر کے ساتھ یعنی اِنْ ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ میں کیا کرسکتا ہوں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم کا جذبہ نکال دیا ہے تاہم دونوں صورتوں میں روایت کا مفہوم ایک ہی تفاوت فرق محض اعراب کی بنیاد پر ہے حدیث کا مقصد بےرحمی وبے مروتی اور سخت دلی کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا اور اس قسم کے لوگوں کو سختی کے ساتھ مشتبہ کرنا ہے نیز اس ارشاد گرامی میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ دلوں میں رحم و شفقت کے جذبات کا ہونا اللہ کا ایک بہترین عطیہ ہے اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اگر وہ کسی شخص کے دل سے رحم و شفقت اور محبت و مروت کے جذبات کو نکال دے تو یہ پھر کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اس شخص کے دل کو ان جذبات کی دولت عطا کر دے۔
تشریح
رسول اللہ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ نے تمہارے دل کو رحمت و شفقت اور پیار محبت سے خالی کردیا ہے تو یہ میرے بس کی بات نہیں ہے کہ تمہارے دل میں رحم و شفقت اور محبت کا جذبہ پیدا کروں، یہ معنی اس صورت میں ہیں جب کہ لفظ ان الف کے ساتھ جیسا کہ اکثر راویوں نے نقل کیا ہے کہ اور اگر الف کے زیر کے ساتھ یعنی اِنْ ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ میں کیا کرسکتا ہوں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحم کا جذبہ نکال دیا ہے تاہم دونوں صورتوں میں روایت کا مفہوم ایک ہی تفاوت فرق محض اعراب کی بنیاد پر ہے حدیث کا مقصد بےرحمی وبے مروتی اور سخت دلی کے خلاف نفرت کا اظہار کرنا اور اس قسم کے لوگوں کو سختی کے ساتھ مشتبہ کرنا ہے نیز اس ارشاد گرامی میں اس طرح بھی اشارہ ہے کہ دلوں میں رحم و شفقت کے جذبات کا ہونا اللہ کا ایک بہترین عطیہ ہے اور اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اگر وہ کسی شخص کے دل سے رحم و شفقت اور محبت و مروت کے جذبات کو نکال دے تو یہ پھر کسی کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اس شخص کے دل کو ان جذبات کی دولت عطا کر دے۔
4845
Mishkaat Shareefوعنها قالت جاءتني امرأة ومعها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فقسمتها بين ابنتيها ولم تأكل منها ثم قامت فخرجت . فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترا من النار . متفق عليه
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک دن میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں بھی تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا کہ (یعنی مجھ سے کچھ مانگا) لیکن اس کو میرے پاس سے ایک کھجور کے علاوہ اور کچھ بھی نہ مل سکا۔ چناچہ میں نے اس کو وہی ایک کھجور دے دی اس نے اس کھجور کو آدھی آدھی اپنی دونوں بچیوں کو بانٹ دیا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا اور پھر وہ اٹھ کر چلی گئی اتنے میں نبی گھر میں تشریف لائے میں نے آپ سے اس عورت کا یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا جو شخص ان بچیوں میں سے کچھ یعنی ایک یا دو وریا اس سے زیادہ لڑکیوں کی وجہ سے ابتلاء و آزمائش سے کیا جائے وہ ان بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرے تو وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس کے لئے دوزخ کی آگ سے پردہ بنیں گی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یعنی وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس شخص اور دوزخ کی آگ کے درمیان حائل ہوں گی کہ وہ شخص اپنی ان بچیوں کی وجہ سے دوزخ کی آگے محفوظ رہے گا اور بچیوں کے ساتھ حسن سلوک کی یہ فضیلت اس بنا پر ہے کہ لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں یا وہ اپنے ماں باپ کے پیار محبت اور ان کے حسن سلوک کی مستحق ہوتی ہیں۔ اس بارے میں علماء کا اختلافی قول ہے کہ ابتلاء و آزمائش کا محمول محض لڑکوں کا پیدا ہونا ہے یا کسی ایسی حالت میں مبتلا ہونا ہے جو لڑکیوں کی وجہ سے کسی محنت و تکلیف اور پریشانی و عسرت کے سامنے آنے اور اس پر صبر و تحمل کرنے کی صورت میں پیش آئے چناچہ پہلی صورت یعنی ابتلاء آزمائش کا تعلق لڑکیوں کی پیدائش سے ہونا زیادہ صحیح ہے اور اس صورت میں کہا جائے گا کہ جو لوگ اپنے ہاں لڑکیاں پیدا ہونے پر دل گرفتگی اور ناگواری میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اس حقیقت سے بالکل بیخبر ہیں کہ لڑکیاں اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی رحمت ہیں اور ان کی پرورش و دیکھ بھال اور ان کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک کرنا ایک بہت بڑی اخروی سعادت ہے اس بارے میں بھی علماء کے اختلافی قول ہیں کہ احسان و سلوک سے مراد نان نفقہ ہے جو باپ پر واجب ہوتا ہے یا اس واجب نان نفقہ کے علاوہ مزید حسن سلوک کرنا مراد ہے چناچہ راجح قول یہ ہے کہ یہ دوسرے معنی زیادہ صحیح ہیں نیز واضح رہے کہ مذکورہ احسان و سلوک کی شرط یہ ہے کہ وہ شریعت کے موافق ہو۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا مذکورہ اجر اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جبکہ اس احسان و سلوک کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بچیاں اپنی شادی بیاہ کی وجہ سے یا کسی اور صورت میں ماں باپ کی کفالت اور اس کے احسان و سلوک سے بےنیاز ہوجائیں۔
تشریح
یعنی وہ بچیاں اور ان کے ساتھ کی گئی نیکی اس شخص اور دوزخ کی آگ کے درمیان حائل ہوں گی کہ وہ شخص اپنی ان بچیوں کی وجہ سے دوزخ کی آگے محفوظ رہے گا اور بچیوں کے ساتھ حسن سلوک کی یہ فضیلت اس بنا پر ہے کہ لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیاں یا وہ اپنے ماں باپ کے پیار محبت اور ان کے حسن سلوک کی مستحق ہوتی ہیں۔ اس بارے میں علماء کا اختلافی قول ہے کہ ابتلاء و آزمائش کا محمول محض لڑکوں کا پیدا ہونا ہے یا کسی ایسی حالت میں مبتلا ہونا ہے جو لڑکیوں کی وجہ سے کسی محنت و تکلیف اور پریشانی و عسرت کے سامنے آنے اور اس پر صبر و تحمل کرنے کی صورت میں پیش آئے چناچہ پہلی صورت یعنی ابتلاء آزمائش کا تعلق لڑکیوں کی پیدائش سے ہونا زیادہ صحیح ہے اور اس صورت میں کہا جائے گا کہ جو لوگ اپنے ہاں لڑکیاں پیدا ہونے پر دل گرفتگی اور ناگواری میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اس حقیقت سے بالکل بیخبر ہیں کہ لڑکیاں اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی رحمت ہیں اور ان کی پرورش و دیکھ بھال اور ان کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک کرنا ایک بہت بڑی اخروی سعادت ہے اس بارے میں بھی علماء کے اختلافی قول ہیں کہ احسان و سلوک سے مراد نان نفقہ ہے جو باپ پر واجب ہوتا ہے یا اس واجب نان نفقہ کے علاوہ مزید حسن سلوک کرنا مراد ہے چناچہ راجح قول یہ ہے کہ یہ دوسرے معنی زیادہ صحیح ہیں نیز واضح رہے کہ مذکورہ احسان و سلوک کی شرط یہ ہے کہ وہ شریعت کے موافق ہو۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ بچیوں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کا مذکورہ اجر اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جبکہ اس احسان و سلوک کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ بچیاں اپنی شادی بیاہ کی وجہ سے یا کسی اور صورت میں ماں باپ کی کفالت اور اس کے احسان و سلوک سے بےنیاز ہوجائیں۔
4846
Mishkaat Shareefوعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو هكذا وضم أصابعه . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو بیٹیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کرے یہاں تک کہ وہ بلوغ کی حد تک پہنچ جائیں یا شادی بیاہ کے بعد اپنے خاوند کے پاس چلی جائے تو وہ شخص قیامت کے روز اس طرح آئے گا کہ میں اور وہ اس طرح ایک دوسرے کے قریب ہوں گے یہ کہہ کر آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔ (مسلم)
تشریح
آپ نے اپنے اور اس شخص کے درمیان کمال قرب اور اتصال کو ظاہر کرنے کے لئے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھایا جس طرح تم ان دونوں انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملی ہوئی دیکھ رہے ہو اسی طرح قیامت کے دن میں اور وہ شخص ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اور محشر میں ہم دونوں ایک جگہ اور ایک جگہ اور ایک ساتھ ہوں گے یا وہ میرے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔
تشریح
آپ نے اپنے اور اس شخص کے درمیان کمال قرب اور اتصال کو ظاہر کرنے کے لئے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر دکھایا جس طرح تم ان دونوں انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملی ہوئی دیکھ رہے ہو اسی طرح قیامت کے دن میں اور وہ شخص ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اور محشر میں ہم دونوں ایک جگہ اور ایک جگہ اور ایک ساتھ ہوں گے یا وہ میرے ساتھ جنت میں داخل ہوگا۔
4847
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الساعي على الأرملة والمسكين كالساعي في سبيل الله وأحسبه قال كالقائم لا يفتر وكالصائم لا يفطر . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گیری کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اللہ کی راہ میں سعی کرے یعنی وہ شخص بیوہ عورت اور مسکین کی دیکھ بھال اور خبر گیری کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کر کے ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہے تو اس ثواب کے برابر ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد اور حج کرنے والے کو ملتا ہے اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ بیوہ عورت اور مسکین کی خبر گری کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو نماز و عبادت کے شب بیداری کرتا ہے اور اپنی شب بیداری میں نہ کوئی سستی کرتا ہے اور نہ کسی فتور اور نقصان کو گوارا کرتا ہے اور اس شخص کے مانند ہے جو دن کو کبھی افطار نہیں کرتا کہ جس کو صائم الدھر کہا جاتا ہے۔ (بخاری مسلم)
تشریح
فقیر و محتاج بھی مسکین کے حکم میں داخل ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک اس کو مسکین پر ترجیح حاصل ہے۔ اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان ان الفاظ کی نسبت حضرت عبداللہ ابن سلمہ کی طرف کی جاتی ہے جو بخاری ومسلم کے شیخ اور اس حدیث کے راوی ہیں جس کو انہوں نے حضرت امام مالک سے روایت کیا ہے اس بات کی صراحت امام بخاری نے کی ہے بہرحال ان الفاظ کے ذریعہ عبداللہ بن سلمہ (رض) کا مطلب یہ ہے کہ میرا گمان ہے کہ اس حدیث کے روای حضرت امام مالک نے یہ الفاظ کالقائم لایفتر۔ نقل کئے ہیں لیکن اگر بخاری کی مذکورہ صراحت کے سامنے نہ ہو تو مصابیح اور مشکوہ کے ظاہری الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ اور میرا گمان ہے کہ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کا ہے اور ابوہریرہ (رض) اس جملہ کے ذریعہ یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق پر آنحضرت ﷺ نے کالقائم لا۔۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ بھی ارشاد فرمائے تھے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس شک کو ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو کا الساعی فی سبیل اللہ کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا کالقائم کے الفاظ چناچہ اس کی تائید جامع صغیر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس کو احمد، شیخین، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اور جس کے الفاظ یوں ہیں کہ الساعی علی الارملۃ والمساکین کالمجاھدین فی سبیل اللہ والقائم اللیل الصائم النھار۔
تشریح
فقیر و محتاج بھی مسکین کے حکم میں داخل ہے بلکہ بعض حضرات کے نزدیک اس کو مسکین پر ترجیح حاصل ہے۔ اور میرا گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی بیان ان الفاظ کی نسبت حضرت عبداللہ ابن سلمہ کی طرف کی جاتی ہے جو بخاری ومسلم کے شیخ اور اس حدیث کے راوی ہیں جس کو انہوں نے حضرت امام مالک سے روایت کیا ہے اس بات کی صراحت امام بخاری نے کی ہے بہرحال ان الفاظ کے ذریعہ عبداللہ بن سلمہ (رض) کا مطلب یہ ہے کہ میرا گمان ہے کہ اس حدیث کے روای حضرت امام مالک نے یہ الفاظ کالقائم لایفتر۔ نقل کئے ہیں لیکن اگر بخاری کی مذکورہ صراحت کے سامنے نہ ہو تو مصابیح اور مشکوہ کے ظاہری الفاظ سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ اور میرا گمان ہے کہ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کا ہے اور ابوہریرہ (رض) اس جملہ کے ذریعہ یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق پر آنحضرت ﷺ نے کالقائم لا۔۔۔۔۔۔۔ کے الفاظ بھی ارشاد فرمائے تھے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس شک کو ظاہر کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یا تو کا الساعی فی سبیل اللہ کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا کالقائم کے الفاظ چناچہ اس کی تائید جامع صغیر کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس کو احمد، شیخین، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اور جس کے الفاظ یوں ہیں کہ الساعی علی الارملۃ والمساکین کالمجاھدین فی سبیل اللہ والقائم اللیل الصائم النھار۔
4848
Mishkaat Shareefوعن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أنا وكافل اليتيم له ولغيره في الجنة هكذا وأشار بالسبابة والوسطى وفرج بينهما شيئا . رواه البخاري
اور حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا کہ وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا جنت میں اس طرح ہوں گے یہ کہہ کر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کیا اور دونوں کے درمیان تھوڑی سی کشادگی رکھی۔ (بخاری)
تشریح
وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ مطلق یتیم کی کفالت و پرورش کرنے کی فضیلت ہے وہ یتیم خواہ اس کا اپنا قربتی ہو جیسے پوتا اور بھتیجا وغیرہ یا کوئی غیر قرابتی ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کر کے واضح کیا کہ جنت میں میرے اور یتیم کی پرورش کرنے والے کے درمیان اتنا قریبی علاقہ ہوگا کہ جتنا کہ ان دونوں انگلیوں کے درمیان ہے نیز آپ نے ان دونوں انگلیوں کے ذریعہ اس طرح بھی اشارہ کیا کہ مرتبہ نبوت جو سب سے اعلی درجہ ہے اس کے اور سخاوت و مروت کے مرتبہ کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔
تشریح
وہ یتیم خواہ اس کا ہو یا کسی اور کا کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ مطلق یتیم کی کفالت و پرورش کرنے کی فضیلت ہے وہ یتیم خواہ اس کا اپنا قربتی ہو جیسے پوتا اور بھتیجا وغیرہ یا کوئی غیر قرابتی ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ذریعہ اشارہ کر کے واضح کیا کہ جنت میں میرے اور یتیم کی پرورش کرنے والے کے درمیان اتنا قریبی علاقہ ہوگا کہ جتنا کہ ان دونوں انگلیوں کے درمیان ہے نیز آپ نے ان دونوں انگلیوں کے ذریعہ اس طرح بھی اشارہ کیا کہ مرتبہ نبوت جو سب سے اعلی درجہ ہے اس کے اور سخاوت و مروت کے مرتبہ کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔
4849
Mishkaat Shareefوعن النعمان بن بشير قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ترى المؤمنين في تراحمهم وتوادهم وتعاطفهم كمثل الجسد إذا اشتكى عضوا تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى . متفق عليه
اور حضرت نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے مخاطب تو مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے سے رحم کا معاملہ کرنے ایک دوسرے سے محبت وتعلق رکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی و معاونت کا سلوک کرنے میں ایسا پائے گا جیسا کہ بدن کا حال ہے کہ جب بدن کا کوئی عضو دکھتا ہے تو بدن کے باقی اعضاء اس ایک عضو کی وجہ سے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں اور بیداری و بخار کے تعب و درد میں سارا جسم شریک رہتا ہے۔ (بخاری مسلم)
تشریح
اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے مومن کی صفت اتحاد و یگانگت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جذبہ تعلق ایسا ہوسکتا ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو رنگ و نسل کے بھید بھاؤ زبان و کلچر کے اختلاف و تفاوت اور ذات قبائل علاقہ کی تفرقہ بازی سے نجات دلا کر ایک انسانی برداری اور اتحاد و یگانگت ایک لڑی میں پرو سکتا ہے تو وہ صرف ایمان و اسلام کا تعلق ہے چناچہ اہل ایمان جہاں بھی ہوں جس رنگ و نسل سے بھی تعلق رکھتے ہوں ان کے درمیان کوئی انسانی اونچ نیچ نہیں ہے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے اور کسی برتری و کمتری کی نفرت و حقارت نہیں ہے وہ جس عقیدے کے حامل اور جس نظریہ حیات کو ماننے والے ہیں اس کی روشنی میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تمام انسان ایک باپ کی اولاد ہیں تمام مسلمان ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں اگر وہ کڑیاں الگ الگ ہوجائیں تو زنجیر ٹوٹ کر رہ جائے گی اسی طرح اگر مسلمان تفرقہ بازی کا شکار ہوجائیں اور رنگ و نسل زبان و کلچر اور ذات پات کے دائروں میں سمٹ جائیں تو ان کے ملی وجود اور ان کی اجتماعی طاقت کو انتشار و اضملال کا گھن لگ جائے گا اور جب ان کی اجتماعی حثییت مجروح ہو کر غیر موثر ہوگی تو ان کا شخصی و انفرادی وجود بھی نہ صرف بےمعنی ہوجائے گا بلکہ ہر شخص مختلف آفات کا شکار ہوگا اور چونکہ ملی وجود اور اجتماعی طاقت کا سرچشمہ افراد کا آپس میں محبت و موانست اور اشخاص کا باہمی ربط وتعلق ہے اس لئے ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے اس طرح ربط وتعلق رکھتا ہے کہ جس طرح دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں کہ آپس میں سلام و دعا کرتے ہیں باہمی میل جول اور ملاقات کرتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں باہمی معاملات و تعلقات کو محبت و موانست اور رحم دلی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں ہدایا و تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں ایک دوسرے کی مدد و اعانت کرتے ہیں اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے حالات رعایت اور اس کے طور طریقوں کی پاس داری کرتا ہے چناچہ جب شخصی اور انفرادی سطح پر یہ ربط وتعلق ایک دوسرے کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے تو سارے مسلمان ایک مضبوط اجتماعی حثییت اور عظیم طاقت بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو اس ارشاد گرامی میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اور تمام مسلمانوں کو ایک بدن کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس طرح جب بدن کا کوئی ایک عضو دکھتا ہے تو سارا بدن دکھتا ہے اور محض ایک عضو میں تکلیف ہونے سے پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایک تن بن جائیں اور پوری ملت اسلامیہ ایک جسم کی مانند ہوجائے کہ اگر کسی ایک بھی مسلمان کو کوئی گزند پہنچے یا وہ کسی آفت میں گرفتار ہو تو سارے مسلمان اس کے دکھ و رنج میں شریک ہوں اور سب مل کر اس کی تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کی تدبیر کریں اسی مفہوم کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے ! بنی آدم اعضائے یکد یگرند کہ درآفرینش زیک گوہر اند چوعضوے بدرد آور دروزگا دگرعضو ہا رانماند قرار
تشریح
اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے مومن کی صفت اتحاد و یگانگت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جذبہ تعلق ایسا ہوسکتا ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو رنگ و نسل کے بھید بھاؤ زبان و کلچر کے اختلاف و تفاوت اور ذات قبائل علاقہ کی تفرقہ بازی سے نجات دلا کر ایک انسانی برداری اور اتحاد و یگانگت ایک لڑی میں پرو سکتا ہے تو وہ صرف ایمان و اسلام کا تعلق ہے چناچہ اہل ایمان جہاں بھی ہوں جس رنگ و نسل سے بھی تعلق رکھتے ہوں ان کے درمیان کوئی انسانی اونچ نیچ نہیں ہے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے اور کسی برتری و کمتری کی نفرت و حقارت نہیں ہے وہ جس عقیدے کے حامل اور جس نظریہ حیات کو ماننے والے ہیں اس کی روشنی میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تمام انسان ایک باپ کی اولاد ہیں تمام مسلمان ایک زنجیر کی کڑیاں ہیں اگر وہ کڑیاں الگ الگ ہوجائیں تو زنجیر ٹوٹ کر رہ جائے گی اسی طرح اگر مسلمان تفرقہ بازی کا شکار ہوجائیں اور رنگ و نسل زبان و کلچر اور ذات پات کے دائروں میں سمٹ جائیں تو ان کے ملی وجود اور ان کی اجتماعی طاقت کو انتشار و اضملال کا گھن لگ جائے گا اور جب ان کی اجتماعی حثییت مجروح ہو کر غیر موثر ہوگی تو ان کا شخصی و انفرادی وجود بھی نہ صرف بےمعنی ہوجائے گا بلکہ ہر شخص مختلف آفات کا شکار ہوگا اور چونکہ ملی وجود اور اجتماعی طاقت کا سرچشمہ افراد کا آپس میں محبت و موانست اور اشخاص کا باہمی ربط وتعلق ہے اس لئے ہر مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی سے اس طرح ربط وتعلق رکھتا ہے کہ جس طرح دو حقیقی بھائی ہوتے ہیں کہ آپس میں سلام و دعا کرتے ہیں باہمی میل جول اور ملاقات کرتے ہیں ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں باہمی معاملات و تعلقات کو محبت و موانست اور رحم دلی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں ہدایا و تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں ایک دوسرے کی مدد و اعانت کرتے ہیں اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے حالات رعایت اور اس کے طور طریقوں کی پاس داری کرتا ہے چناچہ جب شخصی اور انفرادی سطح پر یہ ربط وتعلق ایک دوسرے کو جوڑنے کا ذریعہ بن جاتا ہے تو سارے مسلمان ایک مضبوط اجتماعی حثییت اور عظیم طاقت بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کو اس ارشاد گرامی میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اور تمام مسلمانوں کو ایک بدن کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس طرح جب بدن کا کوئی ایک عضو دکھتا ہے تو سارا بدن دکھتا ہے اور محض ایک عضو میں تکلیف ہونے سے پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ایک تن بن جائیں اور پوری ملت اسلامیہ ایک جسم کی مانند ہوجائے کہ اگر کسی ایک بھی مسلمان کو کوئی گزند پہنچے یا وہ کسی آفت میں گرفتار ہو تو سارے مسلمان اس کے دکھ و رنج میں شریک ہوں اور سب مل کر اس کی تکلیف و مصیبت کو دور کرنے کی تدبیر کریں اسی مفہوم کو شیخ سعدی نے ان الفاظ میں نظم کیا ہے ! بنی آدم اعضائے یکد یگرند کہ درآفرینش زیک گوہر اند چوعضوے بدرد آور دروزگا دگرعضو ہا رانماند قرار
4850
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤمنون كرجل واحد إن اشتكى عينه اشتكى كله وإن اشتكى رأسه اشتكى كله . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک اللہ ایک رسول اور ایک دین کو ماننے کی وجہ سے سارے مسلمان ایک شخص کی مانند ہیں کہ اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم بےچین و مضطرب ہوجاتا ہے اور اس کا سر دکھتا ہے تو پورا بدن تکلیف محسوس کرتا ہے اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف کو سارے مسلمانوں کو محسوس کرنا چاہیے۔ (مسلم)
4851
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضا ثم شبك بين أصابعه . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوموسی (رض) آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مسلمان، مسلمان کے لئے ایک مکان کے مانند ہے یعنی سارے مسلمان مضبوطی و طاقت حاصل کرنے کے اعتبار سے اس مکان کی طرح ہیں کہ جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط رکھتا ہے یہ کہہ کر آپ نے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
پہلے تو آپ نے مسلمانوں کو اس مکان کے ساتھ تشبیہ دی جس کے سارے اجزاء اور تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر پورے مکان کو مضبوط و پختہ بناتے ہیں اور پھر اس حقیقت کو آپ نے مثالی صورت میں اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر دکھلایا کہ اگر سارے مسلمان اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط و متحد رہیں اور باہمی محبت و موانست اور امداد و تعاون کی زنجیر میں منسلک رہیں تو پوری ملت اسلامیہ مضبوط و توانا اور ایک ناقابل تسخیر طاقت بن جائے گی لیکن واضح رہے کہ مسلمانوں کا وہی اتحاد اور وہی یک جہتی مطلب و مستحسن ہے جس کی بنیاد حق و حلال کے معاملات پر ہو حرام و مکروہ اور گناہ کے موجب معاملات میں اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کے ساتھ مدد تعاون غیر مطلوب ہے۔
تشریح
پہلے تو آپ نے مسلمانوں کو اس مکان کے ساتھ تشبیہ دی جس کے سارے اجزاء اور تمام حصے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر پورے مکان کو مضبوط و پختہ بناتے ہیں اور پھر اس حقیقت کو آپ نے مثالی صورت میں اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا کر دکھلایا کہ اگر سارے مسلمان اسی طرح ایک دوسرے کے ساتھ مربوط و متحد رہیں اور باہمی محبت و موانست اور امداد و تعاون کی زنجیر میں منسلک رہیں تو پوری ملت اسلامیہ مضبوط و توانا اور ایک ناقابل تسخیر طاقت بن جائے گی لیکن واضح رہے کہ مسلمانوں کا وہی اتحاد اور وہی یک جہتی مطلب و مستحسن ہے جس کی بنیاد حق و حلال کے معاملات پر ہو حرام و مکروہ اور گناہ کے موجب معاملات میں اتحاد و اتفاق اور ایک دوسرے کے ساتھ مدد تعاون غیر مطلوب ہے۔
4852
Mishkaat Shareefوعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا أتاه السائل أو صاحب الحاجة قال اشفعوا فلتؤجروا ويقضي الله على لسان رسوله ما شاء . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوموسی (رض) آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ کے پاس کوئی سائل یا حاجت مند آتا صحابہ سے فرماتے کہ مجھ سے اس شخص کی سفارش کرو تاکہ تمہیں سفارش کا ثواب مل جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی زبان سے جو حکم چاہتا ہے جاری فرماتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کسی کی سفارش کرنا گویا اس کے ساتھ ہمدردی کرنا اور اس کی مدد کرنا ہے اس لئے حضور نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ تم لوگوں کی سفارش کرتے رہا کرو خواہ تمہاری سفارش قبول کی جائے یا نہ کی جائے کیونکہ کسی کا کام ہونا یا نہ ہونا تقدیر الٰہی اور حکم الٰہی کے مطابق ہے لہذا تم اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ شاید میری سفارش قبول نہ ہو، سفارش کرنے سے اجتناب نہ کرو اور اس کا ثواب ہاتھ سے نہ جانے دو ۔ واضح رہے کہ سفارش کا حکم ان امور و معاملات سے متعلق ہے کہ جو کسی ناجائز حرام مقصد پر مبنی نہ ہو نیز اگر کوئی شخص کسی ایسے معاملے میں ماخوذ ہو جو حد یعنی شریعت کی طرف سے متعین شدہ سزا کو لازم کرتا ہے تو اس صورت میں اس وقت سفارش کرنا جائز نہیں ہوگا جب کہ وہ معاملہ امام وقت تک پہنچ چکا ہو، اگر وہ معاملہ امام تک نہ پہنچا ہو تو پھر سفارش کی جاسکتی ہے ہاں تعزیری معاملات میں بہر صورت سفارش کرنا جائز ہے نیز یہ ساری تفصیل اس صورت سے متعلق ہے جبکہ وہ شخص موذی و شریر نہ ہو، جس کی سفارش کرنا مقصود ہے موذی اور شریر کی سفارش کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔
تشریح
کسی کی سفارش کرنا گویا اس کے ساتھ ہمدردی کرنا اور اس کی مدد کرنا ہے اس لئے حضور نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ تم لوگوں کی سفارش کرتے رہا کرو خواہ تمہاری سفارش قبول کی جائے یا نہ کی جائے کیونکہ کسی کا کام ہونا یا نہ ہونا تقدیر الٰہی اور حکم الٰہی کے مطابق ہے لہذا تم اس امر کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ شاید میری سفارش قبول نہ ہو، سفارش کرنے سے اجتناب نہ کرو اور اس کا ثواب ہاتھ سے نہ جانے دو ۔ واضح رہے کہ سفارش کا حکم ان امور و معاملات سے متعلق ہے کہ جو کسی ناجائز حرام مقصد پر مبنی نہ ہو نیز اگر کوئی شخص کسی ایسے معاملے میں ماخوذ ہو جو حد یعنی شریعت کی طرف سے متعین شدہ سزا کو لازم کرتا ہے تو اس صورت میں اس وقت سفارش کرنا جائز نہیں ہوگا جب کہ وہ معاملہ امام وقت تک پہنچ چکا ہو، اگر وہ معاملہ امام تک نہ پہنچا ہو تو پھر سفارش کی جاسکتی ہے ہاں تعزیری معاملات میں بہر صورت سفارش کرنا جائز ہے نیز یہ ساری تفصیل اس صورت سے متعلق ہے جبکہ وہ شخص موذی و شریر نہ ہو، جس کی سفارش کرنا مقصود ہے موذی اور شریر کی سفارش کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔