hadith book logo

Mishkaat Shareef

101. لعان کا بیان

مشكاة المصابيح

3281
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قيل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : أي النساء خير ؟ قال : التي تسره إذا نظر وتطيعه إذا أمر ولا تخالفه في نفسها ولا مالها بما يكره . رواه النسائي والبيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی بیوی بہتر ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عورت جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب شوہر اس کو کوئی حکم دے تو اس کو بجا لائے (بشرطیکہ وہ حکم خلاف شرع نہ ہو) اور اپنی ذات اور اپنے مال میں اس کے خلاف کوئی ایسی بات نہ کرے جس کو وہ پسند نہ کرتا ہو۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔

تشریح
اس روایت میں ایک اچھی بیوی کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ جب اس کا شوہر اس کی طرف دیکھے یعنی اس کی خوش اخلاقی وخوش اطواری کو دیکھے تو وہ خوش ہوجائے اور اگر کہیں وہ بیوی صورت و سیرت دونوں میں اچھی ہو تو پھر کیا کہنا نور علی نور اور سرور علی سرور ہے اسی طرح ایک پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مال میں ایسی کوئی بات نہ کرے جو اس کے شوہر کی نظر میں پسندیدہ نہ ہو۔ یہاں اپنے مال سے خود اس بیوی کا مال بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی جس مال کی حقیقت میں وہ خود مالک ہو اس مال کو بھی وہ اپنے شوہر کی مرضی کے خلاف خرچ نہ کرے اور اس سے وہ مال بھی ہوسکتا ہے جو خود اس کی ملکیت نہ ہو بلکہ حقیقت میں مالک تو اس کا خاوند ہو البتہ اس عورت کے قبضہ و تصرف میں ہو اس صورت میں بھی یہ مطلب ہوگا کہ اس کا خاوند اس کو جو کچھ مال و اسباب اور روپیہ پیسہ دے وہ اس کو ایک امانت کے طور پر اپنے پاس رکھے اس میں نہ تو خیانت کرے اور نہ اپنے خاوند کی مرضی کے خلاف اس کو خرچ کرے۔
3282
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن ابن عباس رضي الله عنهما : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربع من أعطيهن فقد أعطي خير الدنيا والآخرة : قلب شاكر ولسان ذاكر وبدن على البلاء صابر وزوجة لا تبغيه خونا في نفسها ولا ماله . رواه البيهقي في شعب الإيمان
اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ چار چیزیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص کو مل جائیں اس کو دنیا وآخرت کی بھلائی نصیب ہوجائے اول حق تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے والا دل، دوم خوشی اور رنج ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنیوالی زبان، سوم بلاؤں پر صبر کرنیوالا جسم اور چہارم وہ عورت جو اپنی ذات اور اپنے خاوند کے مال میں خیانت نہ کرے۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔
3283
Mishkaat Shareef
صحیح
خلع کا مطلب خلع خ کے پیش کے ساتھ خلع خ کے زبر کے ساتھ) اسم ہے خلع کے لغوی معنی ہیں کسی چیز کو نکالنا اور عام طور پر یہ لفظ بدن سے کسی پہنی ہوئی چیز مثلا کپڑے اور موزے وغیرہ اتارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس لفظ کے معنی ہیں ملکیت نکاح کو مال کے عوض میں لفظ خلع کے ساتھ زائل کرنا یا ملکیت نکاح ختم کرنے کے لئے لفظ خلع کے ساتھ اپنی عورت سے مال لینا اس شرعی اصطلاح کی توضیح یہ ہے کہ اگر میاں بیوی میں اختلاف ہوجائے اور دونوں میں کسی طرح نباہ نہ ہو سکے اور مرد طلاق بھی نہ دیتا ہو تو عورت کو جائز ہے کہ کچھ مال دے کر اپنا مہر دے کر نجات حاصل کرلے مثلا اپنے مرد سے کہے کہ اتنا روپیہ لے کر خلع کردو یعنی میری جان چھوڑ دو یا یوں کہے کہ جو مہر تمہارے ذمہ ہے اس کے عوض میری جان چھوڑ دو اس کے جواب میں مرد کہے کہ میں نے چھوڑ دی تو اس سے عورت پر ایک طلاق بائن پڑھ جائے گی اور دونوں میں جدائی ہوجائے گی۔ مظہر نے لکھا ہے کہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ اگر مرد عورت سے کہے کہ میں نے اتنے مال کے عوض تم سے خلع کیا اور بیوی کہے کہ میں نے قبول کیا اور پھر میاں بیوی کے درمیان جدائی واقع ہوجائے تو آیا یہ طلاق ہے یا فسخ ہے، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ یہ طلاق بائن ہے حضرت امام شافعی کا زیادہ صحیح قول بھی یہی ہے لیکن حضرت امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ یہ فسخ ہے اور حضرت امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے اگر میاں بیوی کے باہمی اختلاف کی بنیاد شوہر کی زیادتی و سرکشی ہو اور شوہر کی اس زیادتی و سرکشی کی وجہ سے بیوی خلع چاہتی ہو تو اس صورت میں شوہر کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ خلع کے معاوضہ کے طور پر کوئی چیز مثلا روپیہ وغیرہ لے اور اگر میاں بیوی کے باہمی اختلاف کی بنیاد بیوی کی نافرمانی و سرکشی ہو یعنی بیوی کی نافرمانی وبداطواری کی وجہ سے خلع کی نوبت آئی ہو تو اس صورت میں شوہر کے لئے یہ مکروہ ہے کہ وہ اس خلع کے عوض میں اس قدر رقم لے کہ اس نے عورت کے مہر میں جو رقم دی ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔
3284
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عباس : أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ثابت بن قيس ما أعتب عليه في خلق ولا دين ولكني أكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتردين عليه حديقته ؟ قالت : نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقبل الحديقة وطلقها تطليقة . رواه البخاري
حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ثابت ابن قیس کی بیوی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ثابت ابن قیس پر مجھے غصہ نہیں آتا اور نہ میں ان کی عادات اور ان کے دین میں کوئی عیب لگاتی ہوں لیکن میں اسلام میں کفر یعنی کفران نعمت یا گناہ کو پسند نہیں کرسکتی، رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم ثابت ابن قیس کا باغ جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا ہے) ان کو واپس کرسکتی ہو ؟ ثابت کی بیوی نے کہا کہ ہاں رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر ثابت سے فرمایا کہ تم اپنا باغ لے لو اور اس کو ایک طلاق دیدو ( بخاری)

تشریح
ثابت ابن قیس کی بیوی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں اپنے شوہر سے اس لئے جدائی اختیار کرنا نہیں چاہتی کہ وہ بد اخلاق ہیں یا ان کی عادات مجھے پسند نہیں ہیں یا یہ کہ ان کے دین میں کچھ نقصان ہے بلکہ صورت حال یہ ہے کہ مجھے ان سے محبت نہیں ہے اور وہ طبعی طور پر مجھے ناپسند ہیں لیکن بہرحال وہ میرے شوہر ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کے تئیں میری طرف سے کوئی ایسی حرکت نہ ہوجائے جو اسلامی حکم کے خلاف ہو مثلا مجھ سے کوئی نافرمانی ہوجائے یا ان کی مرضی کے خلاف کوئی فعل سرزد ہوجائے تو ایسی صورت میں گویا کفران نعمت یا گناہ ہوگا جو مجھے گوارہ نہیں ہے اس لئے میں کیوں نہ ان سے جدائی اختیار کرلوں۔ کہا جاتا ہے کہ ثابت ابن قیس بہت بد صورت تھے اور ٹھگنے (پست) قد تھے اور ان کی بیوی کا نام حبیبہ یا جمیلہ تھا جو بہت خوبصورت اور حسین تھیں اسی لئے ان دونوں کا جوڑا بہت ناموزوں تھا اور ان کی بیوی ان کو پسند نہیں کرتی تھیں چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کی عرض کے مطابق حضرت ثابت کو مصلحۃ یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدیں اس سے معلوم ہوا کہ طلاق دینے والے کے حق میں یہ اولی افضل ہے کہ وہ ایک طلاق دے تاکہ اگر رجوع کرنا منظور ہو تو رجوع کرلے نیز اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ خلع طلاق ہے فسخ نہیں ہے چناچہ صاحب ہدایہ نے اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے کہ الخلع تطلیقۃ بائنۃ یعنی خلع طلاق بائن ہے۔
3285
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمر : أنه طلق امرأة له وهي حائض فذكر عمر لرسول الله صلى الله عليه و سلم فتغيظ فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ليراجعها ثم يمسكها حتى تطهر ثم تحيض فتطهر فإن بدا له أن يطلقها فليطلقها طاهرا قبل أن يمسها فتلك العدة التي أمر الله أن تطلق لها النساء . وفي رواية : مره فليراجعها ثم ليطلقها طاهرا أو حاملا
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو حضرت عمر نے اس کا ذکر رسول کریم ﷺ سے کیا، آنحضرت ﷺ اس واقعہ سے بہت غصہ ہوئے اور فرمایا کہ اس گناہ کا تدارک کرنے کے لئے) عبداللہ کو چاہئے کہ وہ اس عورت سے رجوع کرے یعنی مثلا یوں کہے کہ میں نے اس کو اپنے نکاح میں واپس لے لیا) اور پھر اس کو اپنے پاس رکھے یہاں تکہ کہ وہ پاک ہوجائے اور پھر جب وہ حائضہ ہو اور اس کے بعد پاک ہوجائے اور پھر جب وہ حائضہ ہو اور اس کے بعد پاک ہوجائے اور طلاق دینا ضروری ہو تو پاکی کی حالت میں اسے طلاق دے قبل اس کے کہ اس سے جماع کرے، پس یہی وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا کہ عبداللہ کو حکم دو کہ وہ اس عورت سے رجوع کرے اور پھر اس کو پاکی کی حالت میں بشرطیکہ وہ حاملہ نہ ہو اور حیض آتا ہو یا حمل کی حالت میں طلاق دے (بخاری ومسلم)

تشریح
فتغیظ فیہ (آنحضرت ﷺ اس واقعہ سے بہت غصہ ہوئے) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حالت حیض میں طلاق دینا حرام ہے کیونکہ اگر یہ حرام نہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ اس واقعہ پر غصہ نہ ہوتے۔ اور حالت حیض میں طلاق دینا حرام اس لئے ہے کہ ہوسکتا ہے کہ طلاق دینے والے نے حالت حیض میں محض کراہت طبع کے سبب طلاق دی ہو اور وہ مصلحت اس کے طلاق دینے کیوجہ سے نہ ہو جس کی بناء پر طلاق دینا حرام ہو۔ مگر کوئی شخص اگر حالت حیض میں طلاق دیدے تو طلاق پڑھ جائے گی یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے عبداللہ کو رجوع کرنے کا حکم دیا اور یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ رجوع کرنا طلاق کے بعد ہی ہوتا ہے۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں دوسرے طہر (یعنی دوسرے حیض کے بعد پاکی کی حالت) تک طلاق کو مؤخر کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ سیدھی بات تو یہ ہے کہ حکم یہ ہوتا کہ جس حیض میں طلاق دی گئی ہے اور پھر رجوع کیا گیا ہے اسی حیض کے گزرنے کے بعد پاکی کی حالت میں طلاق دی جائے لیکن اس کے برعکس اس کو دوسرے طہر تک مؤخر کیا گیا ہے، چناچہ اس کے بارے میں علماء کہتے ہیں کہ اس کی کئی وجہیں ہیں اول تو یہ کہ رجوع کرنا صرف طلاق کی غرض سے نہ ہو لہذا طلاق دینے کو ایک ایسی مدت تک کے لئے مؤخر کردینا چاہئے جس میں ایک طرف تو طلاق دینا حلال اور دوسری طرف طلاق کے فیصلہ پر نظرثانی کا موقع بھی مل جائے اور شاید کوئی ایسی راہ نکل آئے کہ طلاق دینے کی نوبت ہی نہ آئے اور ظاہر ہے کہ ان دونوں مصلحتوں کی رعایت دوسرے طہر ہی میں ہوسکتی ہے۔ دوم یہ کہ اتنی مدت تک کے لئے طلاق دینے کو مؤخر کرنا دراصل طلاق دینے والے کے اس فعل بد یعنی حالت حیض میں طلاق دینے کی سزا ہے سوم یہ کہ جس حیض کی حالت میں طلاق دی گئی ہے وہ اور اس کے بعد کا طہر یعنی پاکی کی حالت دونوں گویا ایک ہی چیز کے حکم میں ہیں لہذا اگر پہلے طہر میں دی گئی تو گویا حیض ہی کی حالت میں دی لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ ان تینوں وجہوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دوسرے طہر تک طلاق سے باز رہنا واجب نہیں ہے بلکہ اولی ہے۔ طلاق کی قسمیں یہ بات جاننی چاہئے کہ وقت و محل کے اعتبار سے نفس طلاق کی تین قسمیں ہیں ١) احسن ٢) حسن۔ حسن کو سنی بھی کہتے ہیں ٣) بدعی طلاق احسن کی صورت یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی ایسے طہر پاکی کی حالت میں دی جائے جس میں جماع نہ کیا ہو اور پھر اس کو اسی حالت میں چھوڑے یعنی پھر نہ تو اس کو اور طلاق دے اور نہ اس سے جماع کرے) یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے طلاق کی یہ پہلی قسم سب سے بہتر ہے۔ طلاق حسن کی صورت یہ ہے کہ ایک طلاق حسن رجعی ایسے طہر پاکی کی حالت میں دی جائے جس میں جماع نہ کیا ہو بشرطیکہ عورت مدخول بہا ہو اور اگر عورت غیر مدخول بہا ہو تو اس کے لئے ایک طلاق حسن ہے نیز اس کو حیض کی حالت میں بھی طلاق دی جاسکتی ہے اور آئسہ صغیرہ اور حاملہ عورتوں کے لئے طلاق حسن یہ ہے کہ ان کو تین مہینہ تک ہر مہینہ میں ایک طلاق دی جائے نیز ان عورتوں کو جماع کے بعد بھی طلاق دینا جائز ہے طلاق کی یہ دوسری قسم بھی بہتر ہے۔ طلاق بدعی کی صورت یہ ہے کہ مدخول بہا کو ایک ہی طہر میں یا ایک ہی دفعہ میں تین طلاقیں دیدے یا ایسی دو طلاقیں دے جس میں رجعت کی گنجائش نہ ہو یا اس کو اس طہر میں طلاق دے جس میں جماع کرچکا ہو اس طرح اگر کسی شخص نے حیض کی حالت میں طلاق دی تو یہ بھی طلاق بدعی کے حکم میں ہے اور اگر وہ عورت کہ جس کو حیض کی حالت میں طلاق دی ہے مدخول بہا ہو تو صحیح تر روایت کے مطابق اس سے رجوع کرنا واجب ہے جب کہ بعض علماء نے رجوع کرنے کو مستحب کہا ہے، پھر جب وہ پاک ہوجائے اور اس کے بعد دوسرا حیض آئے اور پھر اس سے بھی پاک ہوجائے تب اگر طلاق دینا ضروری ہو تو اس دوسرے طہر میں طلاق دی جائے طلاق کی یہ تیسری قسم شریعت کی نظر میں ناپسندیدہ ہے گو طلاق واقع ہوجاتی ہے مگر طلاق دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ وقوع کے اعتبار سے طلاق کی دو قسمیں ہیں رجعی۔ بائن طلاق رجعی کی صورت یہ ہے کہ طلاق دینے والا ایک بار یا دو صریح الفاظ میں یوں کہے کہ انت طالق یا طلقتک یا اردو میں یہ کہے تجھ پر طلاق ہے یا میں نے تجھے طلاق دی اس طرح طلاق دینے سے طلاق دینے والا ایام عدت میں بغیر نکاح کے رجوع کرسکتا ہے یعنی اگر وہ یوں کہے کہ میں نے تجھ سے رجوع کیا یا اس کو ہاتھ لگائے یا مساس کرے اور یا اس سے جماع کرے تو اس سے رجوع ہوجاتا ہے جدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ طلاق بائن کی صورت یہ ہے کہ طلاق کے صریح الفاظ کی بجائے ایسے الفاظ کے ذریعہ طلاق دی جائے جو اگرچہ صراحۃ طلاق کے لئے استعمال نہ ہوتے ہوں مگر کنایۃ وہ طلاق کا مفہوم بھی ادا کرتے ہوں علاوہ ان تین الفاظ کنایات کے جن کو فقہاء نے صریح طلاقوں کے لئے تسلیم کیا ہے طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ عورت نکاح سے نکل جاتی ہے تجدید نکاح کے بغیر اس عورت کو بیوی بنا کر رکھنا حرام ہے۔ حکم اور نتیجہ کے اعتبار سے بھی طلاق کی دو قسمیں ہیں مغلظہ مخففہ طلاق مغلظہ کی صورت یہ ہے کہ یکبارگی تین طلاقیں دی جائیں مثلا یوں کہے کہ میں نے طلاق دی یا الگ الگ تین طلاقیں دی جائیں مثلا یوں کہے کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی) اس طلاق کے بعد طلاق دینے والا اس عورت کو دوبارہ اپنے نکاح میں بغیر حلالہ نہیں لاسکتا حلالہ کی صورت یہ ہے کہ وہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور دوسرا مرد اس سے جماع کر کے اس کو طلاق دے دے اور پھر جب اس کی عدت پوری ہوجائے تو پہلا شوہر اس سے نکاح کرلے۔ طلاق مخففہ کی صورت یہ ہے کہ یکبارگی یا الگ الگ دو طلاقیں دے یا ایک طلاق دے پھر اگر یہ دو طلاقیں یا ایک طلاق الفاظ صریح کے ساتھ ہو تو عدت کے اندر رجوع کرسکتا ہے تجدید نکاح کی ضرورت نہیں اور اگر الفاظ کنایہ کے ساتھ ہو تو تجدید نکاح کے بعد اس کو اپنی بیوی بنا سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں۔ کن لوگوں کی طلاق واقع ہوتی ہے اور کن لوگوں کی واقع نہیں ہوتی ہر عاقل وبالغ کی دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے خواہ وہ آزاد ہو یا غلام اور خواہ وہ اپنی خوشی سے طلاق دے یا کسی کے جبر واکراہ سے دے یا نشہ کی حالت میں دے۔ اسی طرح اگر عاقل وبالغ شوہر گونگاہ و اور وہ اشارہ معہودہ کے ذریہ طلاق دے تو اس کی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے اور لڑکے اور دیوانے کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوگی اسی طرح اگر سویا ہوا شخص طلاق دے اور بیدار ہونے کے بعد کہے کہ میں نے تجھے سوتے میں طلاق دی ہے تو اس کی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی اگر کسی مالک نے اپنے غلام کی بیوی کو طلاق دی تو اس کی طلاق دی تو اس کی طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ طلاق میں اصلی اعتبار عورت کا ہے چناچہ آزاد عورت کے لئے تین طلاقیں ہیں اگرچہ وہ کسی غلام کے نکاح میں ہو اسی طرح لونڈی کے لئے دو طلاقیں ہیں اگرچہ وہ کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو۔
3286
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : خيرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فاخترنا الله ورسوله فلم يعد ذلك علينا شيئا
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں اختیار دیدیا تھا کہ اگر تم دنیا اور دنیا کی زینت و آسائش کی طلبگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دے کر چھوڑ دوں اور اگر تم اللہ، اللہ کے رسول اور دارآخرت کی طلبگار ہو تو پھر جان لو کہ تمہارے لئے اللہ کے ہاں بیشمار اجر عظیم ثواب ہے) چناچہ ہم نے دنیا اور دنیا کی زینت و آسائش کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اختیار کرلیا اور آنحضرت ﷺ نے اس اختیار کو ہمارے لئے طلاق کی اقسام میں کوئی قسم جیسے ایک ایک طلاق یا دو طلاقی یا رجعی یا بائن) کچھ بھی اختیار نہیں کیا (بخاری ومسلم)

تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی سے یوں کہے کہ اپنے نفس کو اختیار کرلو یا مجھے اختیار کرلو اور پھر بیوی خاوند کو اختیار کرلے تو اس سے کسی طرح کی طلاق واقع نہیں ہوتی چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور امام شافعی کا یہی مسلک ہے۔ لیکن اگر بیوی اپنے نفس کو اختیار کرلے تو اس صورت میں حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کے نزدیک طلاق رجعی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک طلائق بائن اور حضرت امام مالک کے نزدیک تین طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ منقول ہے کہ صحابہ میں سے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس بات کے قائل تھے کہ بیوی کو شوہر کے محض اختیار دے دینے ہی سے طلاق رجعی واقع ہوجاتی ہے خواہ وہ اپنے شوہر ہی کو کیوں نہ اختیار کرلے۔ اور حضرت زید ابن ثابت اس بات کے قائل تھے کہ طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے چناچہ حضرت عائشہ نے ان دونوں ہی کے اقوال کی تردید میں یہ حدیث بیان کر کے گویا یہ واضح کردیا کہ شوہر کے محض اختیار دینے سے کوئی بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
3287
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : في الحرام يكفر لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنةوعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يمكث عند زينب بنت جحش وشرب عندها عسلا فتواصيت أنا وحفصة أن أيتنا دخل عليها النبي صلى الله عليه و سلم فلتقل : إني أجد منك ريح مغافير أكلت مغافير ؟ فدخل على إحداهما فقالت له ذلك فقال : لا بأس شربت عسلا عند زينب بنت جحش فلن أعود له وقد حلفت لا تخبري بذلك أحدا يبتغي مرضاة أزواجه فنزلت : ( يا أيها النبي لم تحرم ما أحل الله لك تبتغي مرضاة أزواجك ) الآية
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ کسی چیز کو حرام کرلینے پر کفارہ دے اور اس سلسلہ میں تمہارے لئے رسول کریم ﷺ کی پیروی ہی بہتر ہے (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کسی چیز خواہ وہ اپنی ہو یا کسی دوسری چیز کو حرام کرلے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم آتا ہے اور وہ چیز حرام نہیں ہوتی حضرت ابن عباس اسی کے قائل تھے اور حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے اگرچہ وہ چیز بذات خود حرام کیوں نہ ہو یا کسی دوسرے کی ملکیت کیوں نہ ہو مثلا یوں کہے کہ مجھ پر شراب حرام ہے یا فلاں کا مال مجھ پر حرام ہے تو یہ بمنزلہ قسم ہے بشرطیکہ اگر اس نے کسی حرام چیز کے بارے میں یہ کہا کہ یہ چیز مجھ پر حرام ہے اور اس سے اس کا مقصد اس چیز کے حرام ہونے کی خبر دینا نہ ہو لہذا جب وہ اس چیز کو کہ جسے اس نے اپنے اوپر حرام کیا ہے کھائے یا استعمال کرے گا تو وہ گویا حانث یعنی قسم توڑنے والا ہوگا اور اس پر وہی کفارہ لازم ہوگا جو قسم توڑنے پر لازم ہوتا ہے ہاں اگر اس نے اس چیز کو صدقہ کردیا یا کسی کو ہبہ کردیا تو پھر حانث نہیں ہوگا اور اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس نے اپنی اس بات کی تائید میں یہ آیت (وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ ) 33 ۔ الاحزاب 21) پڑھی اور اس طرف اشارہ کیا کہ جب آنحضرت ﷺ نے شہد کو اپنے اوپر حرام کیا تو اس آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ) 66 ۔ التحریم 1) کے ذریعہ آپ ﷺ کو کفارہ دینے کا حکم دیا گیا (جس کا تفصیلی ذکر اگلی روایت میں آئے گا) لہذا تم پر آنحضرت ﷺ کی پیروی لازم ہے کہ اگر تم نے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیا اور پھر اس چیز کو استعمال کر کے حانث ہوگئے تو کفارہ ادا کرو۔ اگر کوئی شخص یوں کہے کہ تمام حلال مال مجھ پر حرام ہے یا اللہ کی حلال کی ہوئی تمام چیزیں مجھ پر حرام ہیں تو ایسے قول کے بارے میں فتوی یہی ہے کہ اس طرح کہنے سے اس کی بیوی پر طلاق پڑھ جائے گی اگرچہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی ہو اور اگر اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تم مجھ پر حرام ہو تو یہ ایلاء ہوجائے گا بشرطیکہ اس نے واقع حرام کرنے کی نیت کی ہو یا کچھ بھی نیت کی ہو اور اگر اس نے یہ کہتے وقت ظہار کی نیت کی ہوگی تو ظہار ہوجائے گا۔ ہاں اگر اس نے یہ کہتے وقت کہ تم مجھ پر حرام ہو جھوٹ کی نیت کی ہو تو بھی یہ کہنا ہدر (لغو) ہوگا یعنی اس کہنے سے عند اللہ تو کچھ نہیں ہوگا لیکن یہ معاملہ اگر حاکم کے ہاں پہنچا تو حاکم ایلاء کا حکم نافذ کر دے گا اور اگر یہ کہتے وقت اس نے طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن پڑھ جائے گی اور اگر تین طلاق کی نیت کی تو تین طلاقیں پڑجائیں گی۔ اور فتوی اسی پر ہے کہ اگر طلاق کی نیت نہ بھی کرے تو تو بھی طلاق بائن پڑھ جائے گی۔ اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنی ایک بیوی حضرت زینب بنت جحش کے پاس ٹہر جایا کرتے تھے اور وہاں شہد پیا کرتے تھے چناچہ ایک دین میں نے اور حفصہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ نبی کریم ﷺ ہم میں سے جس کے پاس تشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ آپ ﷺ کے منہ مبارک سے مغافیر کی بو آتی ہے کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے ؟ چناچہ جب ان دونوں میں سے ایک یعنی حضرت عائشہ یا حضرت حفصہ کے پاس تشریف لائے تو اس نے یہی کہا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بات نہیں میں نے زینب بنت جحش کے ہاں شہد پیا ہے اب میں کبھی شہد نہیں پیوں گا۔ میں نے قسم کھالی ہے لیکن تم کسی کو یہ نہ بتانا تاکہ اس بات سے زینب کی دل شکنی نہ ہو کہ اب میں ان کے ہاں شہد نہیں پیوں گا اور اس سے یعنی شہد کو اپنے اوپر حرام کرلینے سے آنحضرت ﷺ کا مقصد اپنی بیویوں کو خوش کرنا تھا چناچہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ) 66 ۔ التحریم 1) (یعنی اے نبی ﷺ ! آپ محض اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لئے حلال کردیا ہے۔ تشریح حضرت زینب بنت جحش کے پاس ٹھہر جایا کرتے تھے، یہ ان کی نوبت باری کے دن کا ذکر نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب اپنی ازواج مطہرات کے ہاں گشت کے لئے نکلتے اور حضرت زینب کے گھر تشریف لاتے تو اس وقت ان کے پاس ٹھہر جایا کرتے تھے۔ مغافیر ایک درخت کے پھل کا نام ہے جو گوند کے مشابہ ہوتا ہے اس کی بو خراب ہوتی ہے اور ایک گونہ شہد کی بو کی مشابہت رکھتی ہے۔ اس روایت کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا جب آپ ﷺ گشت کے وقت حضرت زینب کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آنحضرت ﷺ کو شہد پلایا کرتی تھیں اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ حضرت زینب کے ہاں کچھ زیادہ دیر ٹھہر جایا کرتے تھے یہ بات حضرت عائشہ کو ناگوار گزری اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی ایک اور بیوی حضرت حفصہ سے کہ جو حضرت عائشہ کے بہت قریب تھیں اور اکثر معاملات میں ان سے اتفاق کرتی تھیں مذکورہ بالا بات کہنے کا مشورہ کیا تاکہ آنحضرت ﷺ حضرت زینب کے ہاں ٹھہرنا اور ان کے گھر میں شہد پینا چھوڑ دیں چناچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ ذکر کیا گیا لیکن حق تعالیٰ کے ہاں اس بات کو پسند نہیں کیا گیا کہ آنحضرت ﷺ ایک حلال چیز کو محض اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے اپنے اوپر حرام کرلیں چناچہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔
3288
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي
حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے اس پر جنت کی بو حرام ہوگی یعنی جب میدان حشر میں اللہ کے نیک اور پیارے بندوں کو جنت کی خوشبو پہنچے گی تو یہ عورت اس خوشبو سے محروم رہے گی ( احمد ترمذی ابوداؤد)
3289
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أبغض الحلال إلى الله الطلاق . رواه أبو داود
اور حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مباح چیزوں میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض ترین چیز یعنی سب سے بری) چیز طلاق ہے (ابوداؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگرچہ طلاق حلال ومباح ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض و مکروہ ہے چناچہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو اگرچہ مباح ہیں مگر مکروہ ناپسندیہ سمجھی جاتی ہیں مثلا فرض نماز بلا عذر گھر میں پڑھنا اسی طرح غصب کی ہوئی زمین پر نماز پڑھنا اگرچہ مباح ہے کہ فرض ادا ہوتا ہے لیکن مکروہ ہے۔
3290
Mishkaat Shareef
ضعیف
اور حضرت علی نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہوتی مالک ہونے سے پہلے غلام کو آزاد نہیں کیا جاسکتا اور پے درپے کے روزے یعنی رات کو افطارکئے بغیر مسلسل وپہیم روزے رکھے چلے جانا) جائز نہیں ہے (یہ صرف آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے تھا اور صرف آپ ﷺ ہی کے لئے جائز تھا) بالغ ہونے کے بعد کوئی یتیم نہیں رہتا یعنی جس کے ماں باپ نہ ہوں اور وہ بالغ ہوجائے تو اسے یتیم نہیں کہیں گے) دودھ پینے کی مدت کے بعد دودھ پینا رضاعت میں شامل نہیں ( یعنی دودھ پینے کی مدت دو سال یا ڈھائی سال ہے اور دودھ پینے کے سبب جو حرمت نکاح ہوتی ہے وہ اس مدت کے بعد دودھ پینے سے ثابت نہیں ہوتی) اور دن بھرچپ رہنا جائز نہیں ہے (یا یہ کہ اس کا کوئی ثواب نہیں ہے) شرح السنۃ۔

تشریح
اس روایت میں چند اصولی باتوں کو ذکر کیا گیا ہے چناچہ فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے ہی طلاق دے تو وہ طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ طلاق دراصل نکاح کا جزء ہے کہ اگر نکاح کا وجود پایا جائے گا تو اس پر طلاق کا اثر بھی مرتب ہوگا اور جب سرے سے نکاح ہی نہیں ہوگا تو طلاق کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔ اسی طرح فرمایا گیا کہ غلام جب تک اپنی ملکیت میں نہ آجائے اس کو آزاد کرنے کے کوئی معنی نہیں ہوں گے، اگر کوئی شخص کسی ایسے غلام کو آزاد کردے جس کا وہ ابھی تک مالک نہیں بنا ہے تو وہ غلام آزاد نہیں ہوگا اس اعتبار سے یہ حدیث حضرت امام شافعی اور امام احمد کے مسلک کی دلیل ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نکاح سے پہلے طلاق کی اضافت سبب ملک کی طرف کرے تو درست ہے مثلا زید کسی اجنبی عورت سے یوں کہے کہ اگر میں تم سے نکاح کروں تو تم پر طلاق ہے یا یہ کہے کہ میں جس عورت سے بھ ] نکاح کروں اس پر طلاق ہے تو اس صورت میں اگر زید اس عورت سے نکاح کرے گا تو نکاح کے وقت اس پر طلاق پڑجائیگی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص آزادی کی اضافت ملک کی طرف کرے مثلا یوں کہے کہ اگر میں اس غلام کا مالک بنوں تو یہ آزاد ہے یا یہ کہے کہ میں جس غلام کا مالک بنوں وہ آزاد ہے تو اس صورت میں وہ غلام اس شخص کی ملکیت میں آتے ہی آزاد ہوجائگا۔ لہذا یہ حدیث حنفیہ کے نزدیک نفی تنجیز پر محمول ہے یعنی اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طلاق کا کبھی بھی کوئی اثرمرتب نہیں ہوتا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جس لمحہ اس نے طلاق دی ہے اس لمحہ طلاق نہیں پقینا اس طرح اس حدیث سے طلاق کی تعلیق کی نفی نہیں ہوتی۔ ایک بات یہ فرمائی گئی ہے کہ دن بھر چپ رہنا ناجائز یا لاحاصل ہے اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں چپ رہنا عبادت کے زمرہ میں آتا تھا۔ اور دن بھرچپ رہنا تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ ہماری امت میں یہ درست نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے کچھ ثواب حاصل نہیں ہوتا ہاں اپنی زبان کو لایعنی کلام اور بری باتوں میں مشغولیت کے بجائے یقینا یہ زیادہ بہتر ہے کہ اپنی زبان کو ہر وقت خاموش رکھاجائے۔