Mishkaat Shareef
37. صدقہ کی فضیلت کا بیان
مشكاة المصابيح
1884
Mishkaat Shareefصدقہ مال کا وہ حصہ کہلاتا ہے جسے کوئی شخص اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے نکالے خواہ واجب ہو یا نفل۔
1885
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب ولا يقبل الله إلا الطيب فإن الله يتقبلها بيمينه ثم يربيها لصاحبها كما يربي أحدكم فلوه حتى تكون مثل الجبل
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کھجور برابر (خواہ صورت میں خواہ قیمت میں) حلال کمائی میں خرچ کرے (اور یہ جان لو کہ) اللہ تعالیٰ صرف مال حلال قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور پھر اس صدقہ کو صدقہ دینے والے کے لئے اسی طرح پالتا ہے۔ جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا بچھڑا پالتا ہے یہاں تک کہ وہ (صدقہ یا اس کا ثواب) پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کسب کے معنی ہیں جمع کرنا یہاں کسب طیب سے مراد وہ مال ہے جسے حلال ذریعوں سے جمع کیا جائے یعنی شرعی اصولوں کے تحت ہونے والی تجارت و صنعت زراعت و ملازمت اور وراثت یا حصہ میں حاصل ہونے والا مال۔ ولا یقبل اللہ الا الطیب (اللہ تعالیٰ صرف حلال مال قبول کرتا ہے) میں اسی طرف اشارہ ہے کہ بارگاہ الوہیت میں صرف وہی صدقہ قبول ہوتا ہے جو حلال مال کا ہو، غیر حلال مال قبول نہیں ہوتا نیز اس سے یہ نکتہ بھی پیدا ہوا کہ حلال مال اچھی اور نیک جگہ ہی خرچ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا حلال مال بارگاہ الوہیت میں کمال قبول کو پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ حلال مال خرچ کرنے والے سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اسی مفہوم کو یہاں داہنے سے لینے سے اس لئے محاورۃ اور عرفا تعبیر کیا گیا ہے کہ پسندیدہ اور محبوب چیز داہنے ہاتھ ہی سے لی جاتی ہے۔ پالتا ہے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صدقے کے ثواب کو بڑھاتا جاتا ہے تاکہ وہ قیامت کے روز میزان عمل میں گراں ثابت ہو۔
تشریح
کسب کے معنی ہیں جمع کرنا یہاں کسب طیب سے مراد وہ مال ہے جسے حلال ذریعوں سے جمع کیا جائے یعنی شرعی اصولوں کے تحت ہونے والی تجارت و صنعت زراعت و ملازمت اور وراثت یا حصہ میں حاصل ہونے والا مال۔ ولا یقبل اللہ الا الطیب (اللہ تعالیٰ صرف حلال مال قبول کرتا ہے) میں اسی طرف اشارہ ہے کہ بارگاہ الوہیت میں صرف وہی صدقہ قبول ہوتا ہے جو حلال مال کا ہو، غیر حلال مال قبول نہیں ہوتا نیز اس سے یہ نکتہ بھی پیدا ہوا کہ حلال مال اچھی اور نیک جگہ ہی خرچ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا حلال مال بارگاہ الوہیت میں کمال قبول کو پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ حلال مال خرچ کرنے والے سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اسی مفہوم کو یہاں داہنے سے لینے سے اس لئے محاورۃ اور عرفا تعبیر کیا گیا ہے کہ پسندیدہ اور محبوب چیز داہنے ہاتھ ہی سے لی جاتی ہے۔ پالتا ہے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صدقے کے ثواب کو بڑھاتا جاتا ہے تاکہ وہ قیامت کے روز میزان عمل میں گراں ثابت ہو۔
1886
Mishkaat Shareefایک سبق اموز حکایت حدیث بالا کی روشنی میں جو یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ حلال مال اچھی جگہ ہی خرچ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک سبق آموز حکایت سنیے شیخ علی متقی عارف باللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایک متقی و صالح شخص کسب معاش کرتے تھے اور ان کا معمول تھا کہ جو کچھ کماتے پہلے تو اس میں ایک تہائی اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے پھر ایک تہائی اپنی ضروریات پر صرف کرتے اور ایک تہائی اپنی کسب معاش کے ذریعے میں لگا دیتے ایک دن ان کے پاس ایک دنیا دار شخص آیا اور کہنے لگا کہ شیخ ! میں چاہتا ہوں کہ کچھ مال اللہ کی راہ میں خرچ کروں، لہٰذا آپ مجھے کسی مستحق کا پتہ دیجیے انہوں نے کہا پہلے تو حلال مال حاصل کرو اور پھر اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، وہ مستحق شخص ہی کے پاس پہنچے گا۔ دنیا دار شخص نے اسے مبالغہ پر محمول کیا، شیخ نے کہا اچھا تم جاؤ تمہیں جو شخص بھی ایسا ملے جس کے تمہارے دل میں جذبہ ترحم پیدا ہو اسے صدقہ کا مال دے دینا، چناچہ وہ شخص جب شیخ کے پاس سے اٹھ کر آیا تو اس نے ایک بوڑھے اندھے کو دیکھا جس کے لئے اس کے دل میں جذبہ ترحم پیدا ہوا اور یہ سمجھ کر کہ صدقہ کے مال کا اس بےچارے سے زیادہ کون مستحق ہوسکتا ہے ؟ اپنے کمائے ہوئے مال میں سے اسے کچھ حصہ خیرات کردیا۔ جب دوسرے دن وہ ضعیف و نابینا شخص کے پاس سے گزرا تو اس نے سنا کہ وہ اپنے پاس کھڑے ہوئے ایک دوسرے شخص سے کل کا واقعہ بیان کر رہا تھا کہ کل میرے پاس سے ایک مالدار شخص گزرا اس نے مجھ پر ترس کھا کر اتنا مال مجھے دیا جسے میں نے فلاں بدکار شخص کے ساتھ شراب نوشی میں لٹا دیا۔ وہ دنیا دار یہ سنتے ہی شیخ کے پاس آیا اور ان سے پورا ماجرا بیان کیا، شیخ نے یہ واقعہ سن کر اپنی کمائی میں سے ایک درہم اسے دیا اور کہا کہ اسے رکھو اور یہاں سے نکلتے ہی سب سے پہلے تمہاری نظر جس پر پڑے اسے یہ درہم بطور خیرات دے دینا چناچہ وہ شیخ کا دیا ہوا درہم لے کر گھر سے باہر نکلا تو اس کی نظر سب سے پہلے ایک اچھے شخص پر پڑی جو بظاہر کھاتا پیتا معلوم ہو رہا تھا پہلے تو وہ دیتے ہوئے جھجکا مگر چونکہ شیخ کا حکم تھا اس لئے مجبورا وہ درہم اس شخص کو دے دیا۔ اس شخص نے وہ درہم لے لیا اور اپنے پیچھے مڑ کر چل دیا، اس کے ساتھ ساتھ وہ مالدار بھی چلا اس نے دیکھا وہ شخص ایک کھنڈر میں داخل ہوا ور وہاں سے دوسری طرف نکل کر شہر راہ پکڑی، مالدار بھی اس کے پیچھے کھنڈر میں داخل ہوا وہاں اسے کوئی چیز نظر نہ آئی البتہ اس نے ایک مرا ہوا کبوتر دیکھا وہ پھر اس شخص کے پیچھے پیچھے ہو لیا، پھر اسے قسم دے کر پوچھا کہ بتاؤ تم کون ہو ؟ اور کس حال میں ہو ؟ اس نے کہا کہ میں ایک غریب انسان ہوں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ بہت بھوکے تھے جب مجھ سے ان کی بھوک کی شدت نہ دیکھی گئی اور انتہائی اضطراب و پریشانی کے عالم میں میں ان کے لئے کچھ انتظام کرنے کی خاطر گھر سے نکل کھڑا ہوا تو میں سرگرداں پھر رہا تھا کہ مجھے یہ مرا ہوا کبوتر نظر آیا مرتا کیا نہ کرتا ؟ میں نے یہ کبوتر اٹھا لیا اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چلا تاکہ اس کے ذریعے بھوک سے بلکتے بچوں کو کچھ تسکین دلاؤں مگر جب اللہ نے تمہارے ذریعے یہ درہم مجھے عنایت فرما دیا تو یہ کبوتر جہاں سے اٹھایا تھا وہیں پھینک دیا۔ اب اس مالدار کی آنکھ کھلی اور اسے معلوم ہوا کہ شیخ کا وہ قول مبالغہ پر محمول نہیں تھا بلکہ حقیقت یہی ہے کہ حلال مال اچھی جگہ اور حرام مال بری جگہ خرچ ہوتا ہے۔
1887
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما نقصت صدقة من مال شيئا وما زاد الله عبدا بعفو إلا عزا وما تواضع أحد لله إلا رفعه الله . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور جو شخص کسی کی خطا معاف کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے نیز جو شخص اللہ کے لئے تواضع و عاجزی اختیار کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
یہاں تین باتیں بتائی جا رہی ہیں ایک تو یہ کہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اگرچہ ظاہری طور پر مال میں کمی و نقصان کا سبب ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں صدقہ و خیرات مال میں زیادتی کا سبب ہوتا ہے بایں طور کہ صدقہ و خیرات کرنے والے کے مال میں برکت عطا فرمائی جاتی ہے وہ اور اس کا مال آفت و بلاء سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں ثواب کی زیادتی ہوتی ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اس طرح نعم البدل عطا فرمایا جاتا ہے کہ اس کا مال بڑھتا رہتا ہے۔ دوسری بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کا قصور لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کردیتا ہے اور اس کی خطا سے درگزر کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھاتا ہے چناچہ ایک عارف کا قول منقول ہے کہ کوئی بھی انتقال عفو و درگزر کے برابر نہیں ہے۔ تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ جو شخص کسی غرض و منفعت کی خاطر نہیں بلکہ صرف اللہ جل شانہ کی رضاء و خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے جذبے سے تواضع و عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔
تشریح
یہاں تین باتیں بتائی جا رہی ہیں ایک تو یہ کہ اپنے مال میں سے کچھ حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اگرچہ ظاہری طور پر مال میں کمی و نقصان کا سبب ہوتا ہے۔ مگر حقیقت میں صدقہ و خیرات مال میں زیادتی کا سبب ہوتا ہے بایں طور کہ صدقہ و خیرات کرنے والے کے مال میں برکت عطا فرمائی جاتی ہے وہ اور اس کا مال آفت و بلاء سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں ثواب کی زیادتی ہوتی ہے بلکہ دنیا میں بھی اسے اس طرح نعم البدل عطا فرمایا جاتا ہے کہ اس کا مال بڑھتا رہتا ہے۔ دوسری بات یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کا قصور لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کردیتا ہے اور اس کی خطا سے درگزر کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی عزت بڑھاتا ہے چناچہ ایک عارف کا قول منقول ہے کہ کوئی بھی انتقال عفو و درگزر کے برابر نہیں ہے۔ تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ جو شخص کسی غرض و منفعت کی خاطر نہیں بلکہ صرف اللہ جل شانہ کی رضاء و خوشنودی اور اس کا قرب حاصل کرنے کے جذبے سے تواضع و عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔
1888
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أنفق زوجين من شيء من الأشياء في سبيل الله دعي من أبواب الجنة واللجنة أبواب فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد ومن كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة ومن كان من أهل الصيام دعي من باب الريان . فقال أبو بكر : ما علي من دعي من تلك الأبواب من ضرورة فهل يدعى أحد من تلك الأبواب كلها ؟ قال : نعم وأرجو أن تكون منهم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی چیزوں میں دوہری چیز اللہ کی راہ میں (یعنی اس کی رضاء و خوشنودی کی خاطر) خرچ کرے گا تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا اور جنت کے کئی یعنی آٹھ دروازے ہیں چناچہ جو شخص اہل نماز (یعنی بہت زیادہ نماز پڑھنے والا) ہوگا اسے جنت کے باب الصلوۃ سے بلایا جائے گا جو اہل نماز ہی کے لئے مخصوص ہوگا اور اس سے کہا جائے گا کہ اے بندے اس دروازے کے ذریعے جنت میں داخل ہوجاؤ اور جو شخص جہاد کرنے والا یعنی اللہ کی راہ میں بہت زیادہ لڑنے والا ہوگا اسے باب الجہاد سے بلایا جائے گا۔ جو شخص صدقہ دینے والا ہوگا اسے باب الصدقہ سے بلایا جائے۔ اور جو شخص بہت زیادہ روزے رکھنے والا ہوگا اسے باب الریان (یعنی باب الصیام سے کہ جنت میں روزہ کے دروازے کا یہی نام ہے) بلایا جائے یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا اگرچہ جو شخص ان دروازوں میں سے کسی ایک دروازے سے بھی بلایا جائے گا اس کو تمام دروازوں سے بلائے جانے کی حاجت نہیں ہے کیونکہ ایک دروازے سے بلایا جانا بھی کافی ہوگا بایں طور کہ مقصد تو جنت میں داخل ہونا ہوگا اور یہ ایک ہی دروازے سے بھی حاصل ہوجائے گا۔ پھر بھی میں صرف علم کی خاطر جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی ایسا خوش نصیب و باسعادت شخص بھی ہوگا، جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں ! اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہوگے۔ (جنہیں تمام دروازوں سے بلایا جائے گا) (بخاری ومسلم)
تشریح
دوہری چیز مثلا دو درہم، دو روپے، دو غلام، دو گھوڑے اور یا دو کپڑے وغیرہ۔ دعی من ابواب الجنہ (تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا) کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جس نے دیان میں دوہری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کی تھیں جب جنت میں داخل ہونے جائے گا تو جنت کے تمام دروازوں کے داروغہ اسے بلائیں گے اور ہر ایک کی یہ خواہش ہوگی کہ یہ خوش نصیب شخص اس کے دروازے سے جنت میں داخل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک عمل ان اعمال کے برابر ہے جن کے سبب جنت کے تمام دروازوں میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ ریان کے معنی ہیں سیراب۔ چناچہ منقول ہے کہ باب الریان کہ جس کے ذریعے زیادہ روزے رکھنے والے جنت میں داخل ہوں گے وہ دروازہ ہے جہاں روزہ دار کو جنت میں اپنے مستقر پر پہنچنے سے پہلے شراب طہور پلائی جاتی ہے گویا جو شخص یہاں دنیا میں اللہ کی خوشنودی کی خاطر روزے رکھ کر پیاسا رہا وہ اس عظیم فعل کے بدلے میں مذکورہ دروازے سے سیراب ہونے کے بعد جنت میں داخل ہو گے۔ ایک روایت میں منقول ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جسے باب الضحی کہا جاتا ہے، چناچہ قیامت کے دن پکارنے والا فرشتہ پکارے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو نماز ضحی یعنی چاشت یا اشراق کی نماز پر مداومت کرتے تھے ؟ سن لو یہ دروازہ تمہارے ہی لئے ہے لہٰذا تم لوگ اللہ کی رحمت کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ جنت کے ایک دروازے کا نام باب التوبۃ ہے کہ توبہ کرنے والے اس دروازے کے ذریعے جنت میں داخل ہوں گے ایک دروازہ ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو غصہ کو ضبط اور دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہوں گے ایسے لوگ اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے اسی طرح ایک دروازہ ایسا ہوگا جس کے ذریعے اللہ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا داخلہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر (رض) کے ارشاد میں فہل یدعی سے ما قبل جملہ ما علی من دعی ان کے سوال فہل یدعی الخ کی تمہید کے طور پر ہے۔ آخر میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی امتیازی شان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ چونکہ ان میں یہ تمام اوصاف اور خوبیان پائی جاتی تھیں اس لئے انہیں جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔
تشریح
دوہری چیز مثلا دو درہم، دو روپے، دو غلام، دو گھوڑے اور یا دو کپڑے وغیرہ۔ دعی من ابواب الجنہ (تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا) کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص جس نے دیان میں دوہری چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کی تھیں جب جنت میں داخل ہونے جائے گا تو جنت کے تمام دروازوں کے داروغہ اسے بلائیں گے اور ہر ایک کی یہ خواہش ہوگی کہ یہ خوش نصیب شخص اس کے دروازے سے جنت میں داخل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک عمل ان اعمال کے برابر ہے جن کے سبب جنت کے تمام دروازوں میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ ریان کے معنی ہیں سیراب۔ چناچہ منقول ہے کہ باب الریان کہ جس کے ذریعے زیادہ روزے رکھنے والے جنت میں داخل ہوں گے وہ دروازہ ہے جہاں روزہ دار کو جنت میں اپنے مستقر پر پہنچنے سے پہلے شراب طہور پلائی جاتی ہے گویا جو شخص یہاں دنیا میں اللہ کی خوشنودی کی خاطر روزے رکھ کر پیاسا رہا وہ اس عظیم فعل کے بدلے میں مذکورہ دروازے سے سیراب ہونے کے بعد جنت میں داخل ہو گے۔ ایک روایت میں منقول ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جسے باب الضحی کہا جاتا ہے، چناچہ قیامت کے دن پکارنے والا فرشتہ پکارے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو نماز ضحی یعنی چاشت یا اشراق کی نماز پر مداومت کرتے تھے ؟ سن لو یہ دروازہ تمہارے ہی لئے ہے لہٰذا تم لوگ اللہ کی رحمت کے ساتھ اس میں داخل ہوجاؤ۔ ایک حدیث میں منقول ہے کہ جنت کے ایک دروازے کا نام باب التوبۃ ہے کہ توبہ کرنے والے اس دروازے کے ذریعے جنت میں داخل ہوں گے ایک دروازہ ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو غصہ کو ضبط اور دوسروں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہوں گے ایسے لوگ اس دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے اسی طرح ایک دروازہ ایسا ہوگا جس کے ذریعے اللہ کی رضا پر راضی رہنے والوں کا داخلہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر (رض) کے ارشاد میں فہل یدعی سے ما قبل جملہ ما علی من دعی ان کے سوال فہل یدعی الخ کی تمہید کے طور پر ہے۔ آخر میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی امتیازی شان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ چونکہ ان میں یہ تمام اوصاف اور خوبیان پائی جاتی تھیں اس لئے انہیں جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔
1889
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصبح منكم اليوم صائما ؟ قال أبو بكر : أنا قال : فن تبع منكم اليوم جنازة ؟ قال أبو بكر : أنا . قال : فمن أطعم منكم اليوم مسكينا ؟ قال أبو بكر : أنا . قال : فمن عاد منكم اليوم مريضا ؟ . قال أبو بكر : أنا . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما اجتمعن في امرئ إلا دخل الجنة . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ ایک دن صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج تم میں کون شخص روزہ سے ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ میں روزے سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کون شخص جنازہ کے ساتھ نماز جنازہ کے لئے گیا ہے ؟ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کس شخص نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ میں نے۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آج تم میں سے کس شخص نے بیمار کی عیادت کی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا کہ میں نے۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سن لو ! جس شخص میں یہ ساری باتیں جمع ہوتی ہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی دن روزہ بھی رکھے نماز جنازہ میں بھی شریک ہوا اور جنازہ کے ساتھ قبرستان جا کے کسی مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کسی بیمار کی عیادت کرنے بھی جائے تو ایسا شخص جنت میں داخل ہوگا اس طرح جنت میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بغیر حساب کے جنت میں جائے گا۔ کیونکہ ویسے تو مطلقاً دخول جنت کے لئے صرف ایمان ہی کافی ہے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس دروازے سے چاہے گا جنت میں جائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے مواقع پر انا (میں) کہنا اور حصول ثواب کی غرض نیز اپنے احوال کی خبر دینے کے طور پر اپنی فضیلت بیان کرنا منع نہیں ہے چناچہ بعض صوفیہ اور مشائخ نے جو سالکین کو منع کیا ہے کہ اپنی زبان پر انا جاری نہ کیا جائے تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ بقصد تکبر اور دعویٰ ہستی و انانیت کے طور پر انا کہا جائے جیسا کہ ابلیس ملعون نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کے حکم کے وقت از راہ غرور وتکبر اور بطور انانیت کہا تھا کہ انا خیر منہ
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہی دن روزہ بھی رکھے نماز جنازہ میں بھی شریک ہوا اور جنازہ کے ساتھ قبرستان جا کے کسی مسکین کو کھانا بھی کھلائے اور کسی بیمار کی عیادت کرنے بھی جائے تو ایسا شخص جنت میں داخل ہوگا اس طرح جنت میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بغیر حساب کے جنت میں جائے گا۔ کیونکہ ویسے تو مطلقاً دخول جنت کے لئے صرف ایمان ہی کافی ہے یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جس دروازے سے چاہے گا جنت میں جائے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایسے مواقع پر انا (میں) کہنا اور حصول ثواب کی غرض نیز اپنے احوال کی خبر دینے کے طور پر اپنی فضیلت بیان کرنا منع نہیں ہے چناچہ بعض صوفیہ اور مشائخ نے جو سالکین کو منع کیا ہے کہ اپنی زبان پر انا جاری نہ کیا جائے تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ بقصد تکبر اور دعویٰ ہستی و انانیت کے طور پر انا کہا جائے جیسا کہ ابلیس ملعون نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کے حکم کے وقت از راہ غرور وتکبر اور بطور انانیت کہا تھا کہ انا خیر منہ
1890
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے مسلمان عورتو ! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو (تحفہ بھیجنے یا صدقہ دینے کو) حقیر نہ جانے اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اپنی پڑوسن کے پاس وہ چیز جو تمہارے پاس موجود ہے بطور تحفہ و صدقہ بھیجنے کو حقیر نہ جانو، گویا تمہارے پاس جو بھی چیز موجود ہو اور جو کچھ بھی ہو سکے خواہ وہ کتنی کم تر کیوں نہ ہو اپنی پڑوسن کو بھیجتی رہا کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی میں ان عورتوں کو خطاب کیا گیا ہے جن کے پاس تحفہ بھیجا جائے لہٰذا اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کے تحفے کو حقیر نہ جانے بلکہ اسے برضاء رغبت قبول کرے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی کم تر کیوں نہ ہو۔ بکری کا کھر ظاہر ہے کہ نہ تو تحفہ میں لینے دینے کے قابل ہوتا ہے اور نہ اس کو بطور صدقہ کسی کو دیا جاسکتا ہے لہٰذا کہا جائے گا یہ یہاں اسے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ تحفے میں بھیجی جانے والی یا آنے والی چیز کتنی ہی حقیر اور کمتر کیوں نہ ہو۔ یہاں بطور خاص عورتوں کو اس لئے خطاب کیا گیا ہے کہ ان کے مزاج میں غصہ اور کم تر و حقیر چیزوں کو واپس کردینے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اپنی پڑوسن کے پاس وہ چیز جو تمہارے پاس موجود ہے بطور تحفہ و صدقہ بھیجنے کو حقیر نہ جانو، گویا تمہارے پاس جو بھی چیز موجود ہو اور جو کچھ بھی ہو سکے خواہ وہ کتنی کم تر کیوں نہ ہو اپنی پڑوسن کو بھیجتی رہا کرو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی میں ان عورتوں کو خطاب کیا گیا ہے جن کے پاس تحفہ بھیجا جائے لہٰذا اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کے تحفے کو حقیر نہ جانے بلکہ اسے برضاء رغبت قبول کرے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی کم تر کیوں نہ ہو۔ بکری کا کھر ظاہر ہے کہ نہ تو تحفہ میں لینے دینے کے قابل ہوتا ہے اور نہ اس کو بطور صدقہ کسی کو دیا جاسکتا ہے لہٰذا کہا جائے گا یہ یہاں اسے مبالغہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ تحفے میں بھیجی جانے والی یا آنے والی چیز کتنی ہی حقیر اور کمتر کیوں نہ ہو۔ یہاں بطور خاص عورتوں کو اس لئے خطاب کیا گیا ہے کہ ان کے مزاج میں غصہ اور کم تر و حقیر چیزوں کو واپس کردینے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔
1891
Mishkaat Shareefوعن جابر وحذيفة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كل معروف صدقة
حضرت جابر (رض) و حضرت حذیفہ (رض) نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ نیکی کے جو بھی عمل ہیں خواہ ان کا تعلق زبان سے ہو یا فعل سے اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوں تو ان کا ثواب ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ثواب ہوتا ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ نیکی کے جو بھی عمل ہیں خواہ ان کا تعلق زبان سے ہو یا فعل سے اور یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہوں تو ان کا ثواب ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا ثواب ہوتا ہے۔
1892
Mishkaat Shareefوعن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحقرن من المعروف شيئا ولو أن تلقى أخاك بوجه طليق . رواه مسلم
حضرت ابوذر غفاری (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم کسی بھی نیک کام کو حقیر (کم تر) نہ جانو اگرچہ تم اپنے بھائی سے خوش روئی کے ساتھ ملو۔ (مسلم)
تشریح
اگر کوئی شخص کسی سے خوش خلقی اور خوش روئی کے ساتھ ملتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے لہٰذا کسی مسلمان کا دل خوش کرنا چونکہ اچھا اور پسندیدہ ہے اس لئے یہ بھی نیک کام ہے اور اگرچہ خوش روئی کے ساتھ کسی سے ملنا کوئی عظیم الشان کام نہیں ہے مگر اسے بھی کم تر درجے کی نیکی نہ سمجھنا چاہئے۔
تشریح
اگر کوئی شخص کسی سے خوش خلقی اور خوش روئی کے ساتھ ملتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے لہٰذا کسی مسلمان کا دل خوش کرنا چونکہ اچھا اور پسندیدہ ہے اس لئے یہ بھی نیک کام ہے اور اگرچہ خوش روئی کے ساتھ کسی سے ملنا کوئی عظیم الشان کام نہیں ہے مگر اسے بھی کم تر درجے کی نیکی نہ سمجھنا چاہئے۔
1893
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : على كل مسلم صدقة . قالوا : فإن لم يجد ؟ قال : فليعمل بيديه فينفع نفسه ويتصدق . قالوا : فإن لم يستطع ؟ أو لم يفعل ؟ قال : فيعين ذا الحاجة الملهوف . قالوا : فإن لم يفعله ؟ قال : فيأمر بالخير . قالوا : فإن لمي فعل ؟ قال : فيمسك عن الشر فإنه له صدقة
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نعمت الٰہی کے پیش نظر ہر مسلمان پر صدقہ لازم ہے۔ صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ اگر کسی کے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ ہو ہی نہ ؟ تو وہ کیا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کے ذریعے مال و زر کمائے اور اس طرح اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ و خیرات بھی کرے۔ صحابہ (رض) نے کہا اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو کہ محنت مزدوری کر کے کما ہی سکے یا کہا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکتا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ جس طرح بھی ہو سکے غمگین و حاجت مند داد خواہ کی مدد کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ دوسروں کو نیکی و بھلائی کی ہدایت کرے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اگر وہ یہ بھی نہ کرسکے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر اسے چاہئے کہ وہ خود اپنے تئیں یا دوسروں کو برائی تکلیف پہنچانے سے روکے اس کے لئے یہی صدقہ ہے یعنی اسے صدقہ کا ثواب ملے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
برائی پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ نہ تو خود کسی کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں سے تکلیف اور ایذاء پہنچائے اور اگر اس کے امکان میں ہو تو ان لوگوں کو بھی روکے جو دوسروں کو ایذاء اور تکلیف پہنچاتے ہیں اسی مضمون کو کسی شاعر نے یوں ادا کیا ہے۔ ع مرا بخیر تو امید نیست بد مرساں
تشریح
برائی پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ نہ تو خود کسی کو اپنی زبان اور اپنے ہاتھوں سے تکلیف اور ایذاء پہنچائے اور اگر اس کے امکان میں ہو تو ان لوگوں کو بھی روکے جو دوسروں کو ایذاء اور تکلیف پہنچاتے ہیں اسی مضمون کو کسی شاعر نے یوں ادا کیا ہے۔ ع مرا بخیر تو امید نیست بد مرساں