hadith book logo

Mishkaat Shareef

140. لباس کا بیان

مشكاة المصابيح

4202
Mishkaat Shareef
صحیح
لباس اصل میں تو مصدر ہے، لیکن استعمال ملبوس کے معنی میں ہوتا ہے، جیسا کہ کتاب کا لفظ مصدر ہونے کے باوجود مکتوب کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لباس کے ماضی اور مضارع کے صیغے باب علم یعلم سے آتے ہیں، ویسے اس کا مصدر لبس (لام کے پیش کے ساتھ) بھی آتا ہے ! اور لبس جو لام کے زبر کے ساتھ آتا ہے اس کے معنی التباس و خلط کے ہیں جس کا باب ضرب یضرب ہے۔
4203
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس قال : كان أحب الثياب إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن يلبسها الحبرة
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو سب کپڑوں میں پہننے کے لئے (نہ کہ کسی دوسری ضرورت جیسے بستر پر پچھانے یا کسی کو دینے وغیرہ کے لئے) حبرہ (چادر) سب سے زیادہ پسند تھی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
حبرہ (با کے زبر کے ساتھ بروزن زغبۃ) ایک خاص قسم کی یمنی چادر کو کہتے ہیں جو اس زمانہ میں بننے والی چادروں میں سب سے عمدہ ہوتی تھی اس چادر میں اکثر سرخ دھاریاں ہوتی تھیں، بعض ایسی بھی ہوتی تھیں جن میں سبز دھاریاں ہوتی تھیں اس کی بناوٹ میں خالص سوت ہوتا تھا۔ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ اس چادر کو اسی وجہ سے پسند فرماتے تھے، جب کہ بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اس پسندیدگی کا سبب اس کا سبز رنگ ہوتا تھا کیونکہ سبز کپڑا اہل جنت کے ملبوسات میں سے ہے اور یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ کو سبز رنگ بہت زیادہ پسند تھا جیسا کہ طبرانی نے اوسط میں اور ابن نسی اور ابونعیم نے محب میں یہ روایت نقل کی ہے کہ۔ انہ کان احب الالوان الیہ الخضرۃ۔ آنحضرت ﷺ کو تمام رنگوں میں سبز رنگ سب سے زیادہ پسند تھا۔ اور بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ اس چادر کو اس لئے پسند فرماتے تھے کہ اس کی دھاریاں سرخ ہوتی تھیں اور سرخ رنگ میل خورا ہوتا ہے۔
4204
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ (ایک دن) صبح کے وقت سیاہ بالوں کی نقشی چادر اوڑھے ہوئے باہر تشریف لے گئے۔ (مسلم)

تشریح
بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ لفظ مرجل کے بجائے مرحل زیادہ صحیح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس چادر پر اونٹ کے پالان جیسے نقش و نگار تھے۔
4205
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن المغيرة بن شعبة : أن النبي صلى الله عليه وسلم لبس جبة رومية ضيقة الكمين
اور حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رومی جبہ پہنا جس کی آستین تنگ تھی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
یہ ایک سفر کے دوران کا واقعہ ہے جب کہ آپ ﷺ نے تنگ آستینوں والا جبہ پہنا، چناچہ ایک اور روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کی آستینیں اتنی تھیں کہ جب آپ ﷺ وضو فرمانے لگے تو وہ آستینیں اوپر چڑھ سکیں۔ اس لئے آپ ﷺ کو اپنے ہاتھوں کو دھونے کے لئے ان آستینون کے نیچے سے نکالنا پڑا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے کرتے و جبہ وغیرہ کی آستینیں تنگ بنوانا سفر کے دوران تو مستحب ہے، سفر کے علاوہ (حضر میں) مستحب نہیں ہے کیونکہ صحابہ کرام فراخ آستینیں بنوایا کرتے تھے جب کہ ابن حجر نے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں آئمہ کا قول یہ ہے کہ آستینوں کو فراخ رکھنا ایک قسم کی مذموم بدعت ہے، انہوں نے صحابہ کی آستینوں کے فراخ ہونے کے دوسرے معنی لکھے ہیں، جس کی تفصیل ان کی شرح میں دیکھی جاسکتی ہے، لیکن یہ کہا جاسکتا ہے ہے کہ آئمہ کا قول مفرط یعنی حد سے زیادہ فراخی پر محمول ہے اور صحابہ کی آستینوں کے فراخ ہونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے غیر مفرط (یعنی حد کے اندر) پر محمول ہے۔ اسی لئے منتقی میں، جو آئمہ کی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے، یہ لکھا ہے کہ آستینوں کو ایک بالشت کے بقدر فراخ رکھنا مستحب ہے۔
4206
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي بردة قال : أخرجت إلينا عائشة كساء ملبدا وإزارا غليظا فقالت : قبض روح رسول الله صلى الله عليه وسلم في هذين
اور حضرت بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت عائشہ (رض) نے ہمیں دکھانے کے لئے ایک پیوند لگی چادر اور ایک موٹا تہبند نکالا اور فرمایا کہ جب رسول کریم ﷺ کی روح مبارک قبض کی گئی تو آپ ﷺ ۔۔۔ ان ہی دو کپڑوں میں تھے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
آنحضرت ﷺ نے اپنے حق میں یہ دعا کی تھی کہ دعا (اللہم احیینی مسکینا وامتنی مسکینا) یعنی یا اللہ مجھے مسکین (غریب) رکھ کر جلا اور مسکین رکھ کر موت دے۔ تو یہ اس کا اثر تھا کہ جب آپ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ کے جسم مبارک پر یہ دو انتہائی معمولی کپڑے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا اور دنیا کے زرق برق سے بےرغبتی و بےاعتنائی ایک پاکیزہ زندگی کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے، لہٰذا امت کو لازم ہے کہ ہر خصلت و عادت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کو اختیار کیا جائے۔
4207
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : كان فراش رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي ينام عليه أدما حشوه ليف
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا بچھونا جس پر آپ ﷺ سوتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں (روئی کی جگہ) کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
شمائل ترمذی میں حضرت حفصہ (رض) سے جو روایت منقول ہے اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا بچھونا ٹاٹ کا تھا، لہٰذا ان دونوں روایتوں میں کوئی تضاد و تناقض نہیں، کیوں کہ آپ ﷺ کے پاس کسی زمانہ میں چمڑے کا بچھونا رہا ہوگا اور کسی زمانے میں ٹاٹ کا یا یہ کہ سونے کا بچھونا تو چمڑے کا ہوگا اور بیٹھنے کا بچھونا ٹاٹ کا ہوگا۔
4208
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنها قالت : كان وساد رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي يتكئ عليه من أدم حشوه ليف . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا تکیہ، کہ جس پر آپ ﷺ تکیہ فرماتے تھے چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (مسلم)

تشریح
تکیہ کرتے تھے یعنی اس پر ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے یا سوتے وقت اس کو سر کے نیچے رکھتے تھے، ان روایتوں سے معلوم ہوا کہ سونے کے لئے اور آرام کی خاطر، بچھونا اور تکیہ بنانا مستحب ہے، بشرطیکہ عیش و عشرت اور آسودگئی نفس میں انہماک اور اسراف کے طور پر نہ ہو، چناچہ آنحضرت ﷺ تکیہ کو پسند کرتے تھے اور سوتے وقت اس کو سر کے نیچے رکھتے تھے اور اس پر ٹیک لگا کر بیٹھتے بھی تھے، نیز آپ ﷺ فرماتے کہ اگر کوئی شخص تکیہ اور خوشبو دے تو اس کو قبول کرنے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔ یہ اور ان جیسی دوسری روایتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ ﷺ دنیا کی زندگی میں زہد و استغناء اختیار کئے ہوئے تھے اور دنیا کی متاع اور لذتوں سے اعراض کرتے تھے اس لئے آپ ﷺ کا لباس بھی موٹے جھوٹے اور پھٹے پرانے کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا، منقول ہے آپ ﷺ کو جیسا بھی لباس میسر آجاتا اس کو پہن لیتے اس میں کسی تکلف و اہتمام کے روادار نہیں ہوتے تھے، البتہ کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ ﷺ کے پاس کوئی نفیس و عمدہ کپڑا آگیا، تو بیان جواز کے لئے اس کو بھی زیب تن فرما لیا لیکن پھر فوراً ہی وہ کپڑا کسی دوسرے شخص کو غنایت فرما دیا، لہٰذا عمدہ و نفیس ہی کپڑے پہننے کی قید اپنے اوپر عائد کرلینا، یا عمدہ و نفیس کپڑا پہننے کی عادت اختیار کرلینا اور اس سلسلے میں بیجا تکلف و اہتمام کرنا سنت کے خلاف ہے اگرچہ اصل کے اعتبار سے مباح ہے، لیکن یہ بھی واضح رہے کہ اگر کوئی اچھے کپڑے پہننے کی استطاعت و حیثیت کے باوجود محض بخل اور خست کی بنا پر موٹے جھوٹے اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے، یا لوگوں پر اپنے زہد وتقویٰ کا سکہ جمانے کے لئے اور یا حرص و طمع کے تحت لوگوں سے مانگنے کے لئے ریاکاری کے طور پر معمولی قسم کے خستہ و بوسیدہ کپڑے پہنے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی بلکہ بعض ارباب خیر و مشیخت کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے اپنی پرہیز گاری اور اپنے بلند مقام روحانیت کو چشم اغیار سے چھپانے کے لئے، یا تحدیث نعمت کے طور پر اپنی خوشحالی کو ظاہر کرنے کے لئے عمدہ اور نفیس کپڑے پہنے۔ حاصل یہ کہ اگر اللہ نے کسی کو خوشحالی کی نعمت عطا کی ہے اور وہ مالی طور پر اچھی حیثیت و استطاعت رکھتا ہے تو اس کو اعلی و نفیس کپڑے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ وہ اسراف وتکبر کی حد کو نہ پہنچے کیونکہ میانہ روی ہر جگہ اور ہر عمل میں محمود و مطلوب ہے۔
4209
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنها قالت : بينا نحن جلوس في بيتنا في حر الظهيرة قال قائل لأبي بكر : هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا متقنعا . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ (ہجرت) سے قبل ایک دن جب کہ ہم دوپہر کی گرمی میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کسی کہنے والے نے (حضرت ابوبکر (رض) سے) کہا کہ (دیکھو) وہ رسول کریم ﷺ چادر کے کونے سے اپنا سر مبارک چھپائے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ (بخاری)

تشریح
آنحضرت ﷺ کا اپنے سر مبارک کو چادر کے کونے سے ڈھانکنا یا تو تمازت و تپش سے بچنے کے لئے تھا، یا آپ ﷺ نے اپنا سر اس لئے ڈھانک رکھا تھا کہ چہرہ چھپا رہے اور لوگ (دشمنان دین) پہچان نہ سکیں۔ یہ حدیث اصل میں اس حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جس میں ہجرت نبوی ﷺ کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے کہ (مکہ میں) بیعت العقبہ کے بعد آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کے حکم کے منتظر تھے ادھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) اس بات کے درخواست گزار تھے کہ اس سفر میں ان کو رفاقت کا شرف حاصل ہو، چناچہ آنحضرت ﷺ ان سے فرماتے تھے کہ اگر ہجرت کا حکم نازل ہوا تو ایسا ہی ہوگا (کہ اس سفر میں تم ہی رفیق بنو گے) چناچہ ایک دن اچانک ہجرت کا حکم نازل ہوا تو آپ ﷺ دوپہر میں حضرت ابوبکر (رض) کے گھر تشریف لائے اور ان کو بتایا کہ ہجرت کا حکم نازل ہوگیا ہے اور یہ ہدایت ملی ہے کہ میں ہجرت کے لئے مکہ سے نکل جاؤں اور تم میرے رفیق بنو، پھر آنحضرت ﷺ رات میں حضرت ابوبکر (رض) کو لے کر ان کے مکان کی اس کھڑکی سے نکلے جو مکہ کے نشیبی علاقہ میں واقع ثور پہاڑ کی سمت میں تھی اور غار ثور میں جا کر چھپ گئے۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔
4210
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له : فراش للرجل وفراش لامرأته والثالث للضيف والرابع للشيطان . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا ایک بچھونا مرد کے لئے، دوسرا بچھونا اس کی بیوی کے لئے تیسرا بچھونا مہمان کے لئے اور چوتھا بچھونا شیطان کے لئے ہوتا ہے۔ (مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں میاں بیوی ہوں اور وہ استطاعت رکھتے ہوں تو ان کو اپنے یہاں تین بستر رکھنے چاہئیں، ایک تو میاں کے لئے، دوسرا بیوی کے لئے کہ شاید کسی وقت بیماری وغیرہ کی وجہ سے وہ تنہا سونا چاہے ورنہ میاں بیوی کو ایک بستر پر سونا اولی ہے اور سنت کے مطابق ہے کیوں کہ آنحضرت ﷺ ازواج مطہرات کے ساتھ سویا کرتے تھے اور تیسرا بستر اس مقصد کے لئے ہو کہ اگر کوئی مہمان آجائے تو وہ رات میں اس پر سوئے، بس یہ تین بستر کافی ہیں ان سے زیادہ جو بھی بستر ہوگا وہ اسراف کی حد میں آئے گا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چوتھا بستر ہوگا تو وہ شیطان کے لئے ہوگا، شیطان کی طرف نسبت اسی لئے گئی ہے کہ وہ (چوتھا بستر) یقینا ضرورت و حاجت سے زائد ہوگا اور ضرورت سے زائد چیز کا ہونا فخر و مباحات کے دائرے میں آنے کی وجہ سے مذموم ہے اور ہر مذموم چیز کی نسبت شیطان ہی کی طرف ہوتی ہے، یا اس نسبت کا سبب یہ ہے کہ وہ چوتھا بستر چونکہ ضرورت سے زائد ہوتا ہے اس لئے شیطان اس پر رات گزارتا ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ جو شخص سخی اور فراخدل ہو اور کرم نواز طبیعت کا مالک ہو اور اس وجہ سے اس کے یہاں مہمانوں کی آمد کثرت سے ہوتی ہو تو اس کے یہاں بستر اور دوسرے اسباب کی زیادتی بظاہر مذموم نہیں ہوگی، مذموم تو وہ زیادتی و کثرت ہوگی جو محض اپنی بڑائی کے اظہار اور مفاخرت کے تحت ہو۔
4211
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا
اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، جو غرور وتکبر سے اپنی ازار (یعنی پائجامہ و تہبند) کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکائے گا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
غرور وتکبر کی قید سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص غرور وتکبر کے بغیر اپنے پائجامے یا تہبند کو ٹخنوں سے لٹکائے تو یہ حرام نہیں، تاہم مکروہ تنزیہی یہ بھی ہے۔ اور کسی عذر کے سبب جیسے سردی یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے پائجامہ و تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے۔