Mishkaat Shareef
55. رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان
مشكاة المصابيح
2394
Mishkaat Shareefمشکوۃ اکثر نسخوں میں اس موقع پر صرف باب لکھا ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس باب میں ان احادیث کو ذکر کیا گیا ہے جن کا تعلق گزشتہ ابواب سے ہے اور بعض نسخوں میں یہاں یہ عنوان قائم کیا گیا ہے باب فی سعۃ رحمۃ یعنی رحمت باری تعالیٰ کی وسعت کا بیان۔
2395
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لما قضى الله الخلق كتب كتابا فهو عنده فوق عرشه : إن رحمتي سبقت غضبي . وفي رواية غلبت غضبي
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب میثاق کے دن مخلوقات کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا (یا یہ کہ جب مخلوقات کو پیدا کرنا شروع کیا) تو ایک کتاب لکھی (یعنی فرشتوں کو وہ کتاب لکھنے کا حکم دیا یا قلم کو لکھنے کا حکم فرمایا) وہ کتاب حق تعالیٰ کے پاس عرش کے اوپر ہے اس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ بلاشبہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جس کتاب میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت عظمی لکھی ہوئی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس کتاب کی عظمت و بزرگ قدری کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کتاب کی اس عظیم و بزرگ قدری کے پیش نظر حق تعالیٰ نے اس کو اپنے پاس عرش کے اوپر رکھا ہے۔ رحمت الٰہی کی سبقت اور اس کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی بخشش و کرم اور اس کی نعمتوں کی نشانیاں اور اس کے مظاہرے غالب ہیں کہ وہ تمام مخلوقات کو گہیرے ہوئے ہیں اور بےانتہا ہیں اس کے مقابلہ میں اس کے غضب کی نشانیاں اور اس کے مظاہر کم ہیں جیسا کہ خود حق تعالیٰ کا ارشد ہے۔ آیت (وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے۔ نیز فرمایا۔ آیت (عذابی اصیب بہ من اشاء ورحمتی وسعت کل شیئ) ۔ عذاب تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ کائنات کا کوئی فرد اس سے باہر نہیں ہے اور اس دنیاوی زندگی کا ایک ایک لمحہ کسی نہ کسی شکل میں رحمت الٰہی ہی کا مرہون منت ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں بندوں کی طرف سے خدائے رحیم وکریم کی نعمتوں اور رحمتوں کے شکر کی ادائیگی میں جتنی کوتاہی اور قصور ہوتا ہے اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (ولو یؤ اخذ اللہ الناس بظلمہم ماترک علی ظہرہا من دابۃ) ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کے سبب ان سے مواخذہ کرنے لگے تو اس کے نتیجہ میں ایک بھی جاندار روئے زمین پر نہ چھوڑے۔ چناچہ یہ بھی حق تعالیٰ کی رحمت کا ہی ظہور ہے کہ بندوں کی تمام کو تاہیوں اور خطاؤں کے باوجود اس دنیا میں ان کو باقی رکھتا ہے اور ان کو روزی دیتا ہے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کرتا ہے اور اس دنیا میں ان کو عذاب ومواخذہ میں مبتلا نہیں کرتا یہ تو اس دنیا کا معاملہ ہے کہ یہاں حق تعالیٰ کی رحمت کا ظہور کس کس طرح اور کن کن صورتوں میں سامنے آتا ہے لیکن آخرت میں رحمت کا ظہور تو اس دنیا کے ظہور سے کہیں زیادہ ہوگا جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا۔
تشریح
جس کتاب میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت عظمی لکھی ہوئی ہے کہ اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس کتاب کی عظمت و بزرگ قدری کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کتاب کی اس عظیم و بزرگ قدری کے پیش نظر حق تعالیٰ نے اس کو اپنے پاس عرش کے اوپر رکھا ہے۔ رحمت الٰہی کی سبقت اور اس کے غالب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کی بخشش و کرم اور اس کی نعمتوں کی نشانیاں اور اس کے مظاہرے غالب ہیں کہ وہ تمام مخلوقات کو گہیرے ہوئے ہیں اور بےانتہا ہیں اس کے مقابلہ میں اس کے غضب کی نشانیاں اور اس کے مظاہر کم ہیں جیسا کہ خود حق تعالیٰ کا ارشد ہے۔ آیت (وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے۔ نیز فرمایا۔ آیت (عذابی اصیب بہ من اشاء ورحمتی وسعت کل شیئ) ۔ عذاب تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں مگر میری رحمت ہر چیز پر پھیلی ہوئی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہے کہ کائنات کا کوئی فرد اس سے باہر نہیں ہے اور اس دنیاوی زندگی کا ایک ایک لمحہ کسی نہ کسی شکل میں رحمت الٰہی ہی کا مرہون منت ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں بندوں کی طرف سے خدائے رحیم وکریم کی نعمتوں اور رحمتوں کے شکر کی ادائیگی میں جتنی کوتاہی اور قصور ہوتا ہے اس کی بھی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت (ولو یؤ اخذ اللہ الناس بظلمہم ماترک علی ظہرہا من دابۃ) ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے ظلم کے سبب ان سے مواخذہ کرنے لگے تو اس کے نتیجہ میں ایک بھی جاندار روئے زمین پر نہ چھوڑے۔ چناچہ یہ بھی حق تعالیٰ کی رحمت کا ہی ظہور ہے کہ بندوں کی تمام کو تاہیوں اور خطاؤں کے باوجود اس دنیا میں ان کو باقی رکھتا ہے اور ان کو روزی دیتا ہے ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کرتا ہے اور اس دنیا میں ان کو عذاب ومواخذہ میں مبتلا نہیں کرتا یہ تو اس دنیا کا معاملہ ہے کہ یہاں حق تعالیٰ کی رحمت کا ظہور کس کس طرح اور کن کن صورتوں میں سامنے آتا ہے لیکن آخرت میں رحمت کا ظہور تو اس دنیا کے ظہور سے کہیں زیادہ ہوگا جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا۔
2396
Mishkaat Shareefوعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لله مائة رحمة أنزل منها رحمة واحدة بين الجن والإنس والبهائم والهوام فبها يتعاطفون وبها يتراحمون وبها تعطف الوحش على ولدها وأخر الله تسعا وتسعين رحمة يرحم بها عباده يوم القيامة
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک رحمت تو جنات، انسان چوپایوں اور زہریلے جانوروں میں اتاری ہے چناچہ اسی ایک رحمت کے سبب وہ آپس میں میل ملاپ رکھتے ہیں اور اسی کے سبب وہ آپس میں رحم کرتے ہیں اور اسی کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں سے الفت رکھتا ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ نے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے مومن بندوں پر رحم کرے گا۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم نے ایک روایت حضرت سلمان (رض) سے اس کے مانند نقل کی ہے اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان ننانوے رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ جو دنیا میں اتاری گئی ہے پورا فرما دے گا۔
تشریح
مسلم کی اس دوسری روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی بندوں کے شامل حال رہے گی جو دنیا میں اتاری گئی ہے اس طرح ایک رحمت تو یہ دنیا والی اور ننانوے رحمتیں وہ جو قیامت کے دن کے لئے حق تعالیٰ نے مخصوص کر رکھی ہیں یہ سب مل کر پوری سو ہوجائیں گی۔
تشریح
مسلم کی اس دوسری روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قیامت کے دن وہ ایک رحمت بھی بندوں کے شامل حال رہے گی جو دنیا میں اتاری گئی ہے اس طرح ایک رحمت تو یہ دنیا والی اور ننانوے رحمتیں وہ جو قیامت کے دن کے لئے حق تعالیٰ نے مخصوص کر رکھی ہیں یہ سب مل کر پوری سو ہوجائیں گی۔
2397
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو يعلم المؤمن ما عند الله من العقوبة ما طمع بجنته أحد ولو يعلم الكافر ما عند الله من الرحمة ما قنط من جنته أحد
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر مومن یہ جان لے کہ اللہ کے ہاں کس قدر عذاب ہے تو پھر کوئی شخص اس کی جنت کی امید بھی نہ رکھے (یعنی عذاب کی فراوانی اسے جنت سے مایوس کر دے) اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر ہے تو پھر کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث کا منشاء درحقیقت اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب کی کثرت کو ظاہر کرنا ہے تاکہ مومن تو اس کی رحمت پہ اعتماد کر کے نہ بیٹھ جائے اور اس کے عذاب سے بالکل بےخوف و نڈر نہ ہوجائے اور کافر اس کی رحمت سے نا امیدی نہ اختیار کرلے اور توبہ کرنا نہ چھوڑے۔ اور حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ بندہ کو چاہئے کہ وہ بین الخوف والرجاء (خوف اور امید کے درمیان) رہے یعنی اللہ کی رحمت پر امید بھی رکھے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے، چناچہ حضرت عمر (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ ایک شخص جنت میں داخل ہوگا تو میں امید رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہوں اور اسی طرح اگر یہ اعلان کیا جائے کہ ایک شخص دوزخ میں داخل کیا جائے تو میں گمان رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں۔
تشریح
اس حدیث کا منشاء درحقیقت اللہ کی رحمت اور اس کے عذاب کی کثرت کو ظاہر کرنا ہے تاکہ مومن تو اس کی رحمت پہ اعتماد کر کے نہ بیٹھ جائے اور اس کے عذاب سے بالکل بےخوف و نڈر نہ ہوجائے اور کافر اس کی رحمت سے نا امیدی نہ اختیار کرلے اور توبہ کرنا نہ چھوڑے۔ اور حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ بندہ کو چاہئے کہ وہ بین الخوف والرجاء (خوف اور امید کے درمیان) رہے یعنی اللہ کی رحمت پر امید بھی رکھے اور اس کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے، چناچہ حضرت عمر (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ ایک شخص جنت میں داخل ہوگا تو میں امید رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہوں اور اسی طرح اگر یہ اعلان کیا جائے کہ ایک شخص دوزخ میں داخل کیا جائے تو میں گمان رکھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں۔
2398
Mishkaat Shareefوعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجنة أقرب إلى أحدكم من شراك نعله والنار مثل ذلك . رواه البخاري
حضرت ابن مسعود (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت تم میں سے ہر شخص کے جوتے کے تسمے کے برابر اس کے قریب ہے اور دوزخ بھی اسی طرح ہے۔ (بخاری)
تشریح
حاصل یہ کہ انسان اور جنت و دوزخ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو اچھے کام اور نیک اعمال سے آراستہ کرے وہ جنت کا امیدوار رہے نیز برے کاموں سے اجتناب کرے اور دوزخ سے ڈرتا رہے۔
تشریح
حاصل یہ کہ انسان اور جنت و دوزخ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کو اچھے کام اور نیک اعمال سے آراستہ کرے وہ جنت کا امیدوار رہے نیز برے کاموں سے اجتناب کرے اور دوزخ سے ڈرتا رہے۔
2399
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال رجل لم يعمل خيرا قط لأهله وفي رواية أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه إذا مات فحرقوه ثم اذروا نصفه في البر ونصفه في البحر فو الله لئن قدر الله عليه ليعذبنه عذابا لا يعذبه أحدا من العالمين فلما مات فعلوا ما أمرهم فأمر الله البحر فجمع ما فيه وأمر البر فجمع ما فيه ثم قال له : لم فعلت هذا ؟ قال : من خشيتك يا رب وأنت أعلم فغفر له
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص تھا جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اس نے اپنے نفس پر زیادتی کی تھی یعنی بہت ہی زیادہ گناہ کئے تھے جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ یعنی خود مرجائے تو اس کو یعنی مجھے جلا کر آدھی راکھ تو جنگل میں اڑا دینا اور آدھی راکھ دریا میں بہا دینا کیونکہ قسم اللہ کی اگر اللہ نے اس سے مواخذہ کرلیا اور حساب میں سختی کی تو وہ اس کو ایسا عذاب دے گا کہ آج تک عالم کے لوگوں میں سے کسی کو نہ دیا ہوگا، چناچہ جب وہ شخص مرگیا تو اس کے بیٹوں نے اس کی وصیت کے مطابق عمل کیا کہ اس کو جلا کر آدھی راکھ تو جنگل میں اڑا دی اور آدھی کو دریا میں بہا دیا اللہ تعالیٰ نے دریا کو اس کی راکھ جمع کرنے کا حکم دیا اور اس نے وہ راکھ جو اس کے اندر تھی جمع کی اور جنگل کو حکم دیا اور اس نے بھی جو راکھ اس کے اندر تھی جمع کی جب دریا اور جنگل نے اس کے اجزاء جمع کر لئے تو اس شخص کو ان اجزاء سے استوار کر کے حق تعالیٰ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حق تعالیٰ نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس نے جواب دیا کہ پروردگار ! تیرے خوف سے ! تو حقیقت و حال کو خوب جانتا ہے اللہ نے یہ سن کر اسے بخش دیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
وہ شخص یہ سمجھا تھا کہ عذاب صرف اسی کو ہوتا ہے جو دفن کیا جاتا ہے چناچہ اپنی بد عمل زندگی اور گناہوں کی زیادتی کو دیکھتے ہوئے اس نے انتہائی خوف و ڈر کی وجہ سے یہ وصیت کردی کہ مجھے جلا کر میری راکھ کو بکھیر کر اڑا دینا، اللہ تعالیٰ بڑا ہی نکتہ نواز ہے۔ اس کو بس یہی بات پسند آگئی اس لئے اس نے بخش دیا۔ لئن قدر اللہ کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمہ میں بیان کئے گئے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اس سے مواخذہ کرلیا اور حساب میں سختی کی۔ اس صورت میں کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس شخص کی مراد اس کے لفظی معنی ہی تھے یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوگیا۔ تو پھر یہ اشکال پیدا ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک وشبہ کا اظہار کیا جو ظاہر ہے کہ بالکل کفر ہے۔ اس اشکال کے علماء نے کئی جواب دئیے ہیں ان ہی میں سے ایک جواب یہ ہے کہ زمانہ فترت کی بات ہے اس وقت چونکہ کوئی نبی نہیں تھا اور ایسے میں صرف توحید پر ایمان و اعتقاد ہی نجات کے لئے کافی تھا۔ اس لئے اس قسم کے شک وشبہ کے اظہار سے نہ کفر لازم آتا ہے اور نہ اس سے ابدی نجات پر کوئی اثر پڑتا تھا۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس شخص نے یہ بات دہشت وخوف کے غلبہ کی بنا پر کہہ دی اور ایسی صورت میں انسان مجنون اور مغلوب العقل کے حکم میں ہوتا ہے اور وہ ماخوذ قرار نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ گزشتہ باب ہی کی ایک حدیث میں اس شخص کے بارے میں نقل کیا گیا ہے جسے اپنی گمشدہ سواری مل گئی اور خوشی ومسرت کے غلبہ اور زیادتی کی وجہ سے اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے تھے۔ انت عبدی وانا ربک۔ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔
تشریح
وہ شخص یہ سمجھا تھا کہ عذاب صرف اسی کو ہوتا ہے جو دفن کیا جاتا ہے چناچہ اپنی بد عمل زندگی اور گناہوں کی زیادتی کو دیکھتے ہوئے اس نے انتہائی خوف و ڈر کی وجہ سے یہ وصیت کردی کہ مجھے جلا کر میری راکھ کو بکھیر کر اڑا دینا، اللہ تعالیٰ بڑا ہی نکتہ نواز ہے۔ اس کو بس یہی بات پسند آگئی اس لئے اس نے بخش دیا۔ لئن قدر اللہ کے ایک معنی تو وہی ہیں جو ترجمہ میں بیان کئے گئے یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے اس سے مواخذہ کرلیا اور حساب میں سختی کی۔ اس صورت میں کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس شخص کی مراد اس کے لفظی معنی ہی تھے یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہوگیا۔ تو پھر یہ اشکال پیدا ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک وشبہ کا اظہار کیا جو ظاہر ہے کہ بالکل کفر ہے۔ اس اشکال کے علماء نے کئی جواب دئیے ہیں ان ہی میں سے ایک جواب یہ ہے کہ زمانہ فترت کی بات ہے اس وقت چونکہ کوئی نبی نہیں تھا اور ایسے میں صرف توحید پر ایمان و اعتقاد ہی نجات کے لئے کافی تھا۔ اس لئے اس قسم کے شک وشبہ کے اظہار سے نہ کفر لازم آتا ہے اور نہ اس سے ابدی نجات پر کوئی اثر پڑتا تھا۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اس شخص نے یہ بات دہشت وخوف کے غلبہ کی بنا پر کہہ دی اور ایسی صورت میں انسان مجنون اور مغلوب العقل کے حکم میں ہوتا ہے اور وہ ماخوذ قرار نہیں دیا جاسکتا جیسا کہ گزشتہ باب ہی کی ایک حدیث میں اس شخص کے بارے میں نقل کیا گیا ہے جسے اپنی گمشدہ سواری مل گئی اور خوشی ومسرت کے غلبہ اور زیادتی کی وجہ سے اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل گئے تھے۔ انت عبدی وانا ربک۔ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔
2400
Mishkaat Shareefوعن عمر بن الخطاب قال : قدم على النبي صلى الله عليه و سلم سبي فإذا امرأة من السبي قد تحلب ثديها تسعى إذا وجدت صبيا في السبي أخذته فألصقته ببطنها وأرضعته فقال لنا النبي صلى الله عليه و سلم : أترون هذه طارحة ولدها في النار ؟ فقلنا : لا وهي تقدر على أن لا تطرحه فقال : لله أرحم بعباده من هذه بولدها
حضرت عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے جن میں ایک عورت بھی تھی اور دودھ کی کثرت کی وجہ سے اس کی چھاتیاں بہہ رہی تھیں کیونکہ اس کا بچہ نہیں تھا جو اس کا دودھ پیتا وہ اپنا دودھ پلانے کی خاطر اسی بچہ کی تلاش میں ادھ ادھ دوڑتی تھی چناچہ جب وہ قیدیوں میں سے کسی کے بچہ کو پا لیتی تو اپنے بچہ کی محبت میں اسے لے کر اپنے پیٹ سے لگاتی اسے دودھ پلانے لگتی یہ دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ کیا تمہارے خیال میں یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈالے گی ؟ (یعنی جب یہ غیر کے بچے کے ساتھ اتنی محبت کرتی ہے تو کیا اس بات کا خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی ؟ تو ہم نے کہا ہرگز نہیں ڈالے گی۔ بشرطیکہ وہ ڈالنے پر قدرت رکھتی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ عورت اپنے بچے پر جنتا رحم و پیار کرتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اس سے کہیں زیادہ تم سے پیار کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
2401
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن ينجي أحدا منكم عمله قالوا : ولا أنت يا رسول الله ؟ قال : ولا أنا إلا أن يتغمدني الله منه برحمته فسددوا وقاربوا واغدوا وروحوا وشيء من الدلجة والقصد القصد تبلغوا
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کا عمل اسے آگ سے نجات نہیں دے گا یعنی صرف عمل ہی نافع نہیں ہوگا بلکہ جب حق تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت بھی شامل حال ہوگی تب ہی عمل بھی فائدہ دے گا صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ کو بھی ! (آپ کا عمل باوجود کامل ہونے کے نجات نہیں دلائے گا) آپ ﷺ نے فرمایا نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ لہٰذا تم لوگ اپنے اعمال کو تیر کی طرح راست و درست کرو، عمل میں میانہ روی اختیار کرو (یعنی کسی عمل کو کمی و زیادتی کے ساتھ نہ کرو۔ دن کے ابتدائی حصہ میں عبادت کرو دن کے آخری حصہ میں عبادت کرو اور رات میں بھی کچھ عبادت کرو یعنی نماز تہجد پڑھو اور عبادت میں میانہ روی اختیار کرو میانہ روی اختیار کرو، اپنی منزل کو پالو گے۔ (بخاری ومسلم)
2402
Mishkaat Shareefوعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل أحدا منكم عمله الجنة ولا يجيره من النار ولا أنا إلا برحمة الله . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کا عمل نہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور نہ اسے دوزخ سے بچائے گا اور نہ مجھے میرا عمل جنت میں داخل کرے گا ہاں وہ جو اللہ کی رحمت کے ساتھ ہو۔ (مسلم)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ ہیں ہاں جو اللہ کی رحمت کے ساتھ ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے اور دوزخ سے نجات کی سعادت کا باعث وعمل ہوگا جس کے ساتھ باری تعالیٰ کی رحمت بھی شامل ہو لہٰذا جنت میں داخل ہونا تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور اس کی رحمت ہی کی بنا پر ہوگا البتہ جنت میں جو درجات ملیں گے وہ اعمال کے مطابق ملیں گے یعنی جس کا عمل جس درجہ کا ہوگا اسے وہی درجہ ملے گا۔
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ ہیں ہاں جو اللہ کی رحمت کے ساتھ ہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخل ہونے اور دوزخ سے نجات کی سعادت کا باعث وعمل ہوگا جس کے ساتھ باری تعالیٰ کی رحمت بھی شامل ہو لہٰذا جنت میں داخل ہونا تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اور اس کی رحمت ہی کی بنا پر ہوگا البتہ جنت میں جو درجات ملیں گے وہ اعمال کے مطابق ملیں گے یعنی جس کا عمل جس درجہ کا ہوگا اسے وہی درجہ ملے گا۔
2403
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أسلم العبد فحسن إسلامه يكفر الله عنه كل سيئة كان زلفها وكان بعد القصاص : الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف إلى أضعاف كثيرة والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها . رواه البخاري
حضرت ابوسعید خدری (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ اسلام قبول کرتا ہے اور اس کا اسلام اچھا ہوتا ہے (یعنی نفاق سے پاک صاف ہوتا ہے) کہ اس کا ظاہر و باطن یکساں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے وہ تمام گناہ دور کردیتا ہے جو اس نے قبول اسلام سے پہلے کئے تھے اور اس کے بعد اسے بدلہ ملتا ہے جس کا حساب یہ ہے کہ ایک نیکی کے بدلہ میں دس سے لے کر سات سو تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں یعنی اسلام لانے کے بعد وہ بھی جو عمل کرتا ہے بلکہ سات سو سے بھی زیادہ اور برائی کا بدلہ اسی کے مانند ملتا ہے یعنی جتنی برائی کرتا ہے وہ اتنی ہی لکھی جاتی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے بھی درگزر کرتا ہے۔ (بخاری)
تشریح
یہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہے اور اس کے فضل و کرم کا اثر ہے کہ وہ ایک نیکی پر دس گنا سے سات سو گنا تک جزاء سے نوازا جاتا ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے اس کی مشقت ریاضت اور صدق و اخلاص کے موافق اس سے بھی زیادہ جزاء سے بہرہ مند فرماتا ہے۔ مگر بدی کی سزا اس بدی کے بقدر دیتا ہے چناچہ جو جتنی برائی کرتا ہے اسے صرف اتنی ہی سزا ملتی ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے اس کی اس برائی کو معاف کردیتا ہے۔ اور اسے اتنی سزا سے بھی بچا لیتا ہے۔
تشریح
یہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہے اور اس کے فضل و کرم کا اثر ہے کہ وہ ایک نیکی پر دس گنا سے سات سو گنا تک جزاء سے نوازا جاتا ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے اس کی مشقت ریاضت اور صدق و اخلاص کے موافق اس سے بھی زیادہ جزاء سے بہرہ مند فرماتا ہے۔ مگر بدی کی سزا اس بدی کے بقدر دیتا ہے چناچہ جو جتنی برائی کرتا ہے اسے صرف اتنی ہی سزا ملتی ہے بلکہ جس کو چاہتا ہے اس کی اس برائی کو معاف کردیتا ہے۔ اور اسے اتنی سزا سے بھی بچا لیتا ہے۔