Mishkaat Shareef
106. قصاص کا بیان
مشكاة المصابيح
3426
Mishkaat Shareefاصطلاح شریعت میں قصاص کا مفہوم ہے، قاتل کی جان لینا، جس شخص نے کسی کو ناحق قتل کردیا ہو اس کو مقتول کے بدلے میں قتل کردینا ! یہ لفظ قص اور قصص سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں کسی کے پیچھے پیچھے جانا، چونکہ مقتول کا ولی قاتل کا پیچھا پکڑتا ہے تاکہ اسے مقتول کے بدلے میں قتل کرائے اس لئے قاتل کی جان لینے کو قصاص کہا جاتا ہے، ویسے قصاصات کے معنی مساوات ( برابری) کے بھی ہیں۔ قصاص پر اس معنی کا اطلاق اس طرح ہوتا ہے کہ جب قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کردیا جاتا ہے تو مقتول کا ولی اور قاتل یا مقتول اور قاتل برابر ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ قصاص میں قاتل کے ساتھ وہی سلوک کیا جاتا ہے جو قاتل نے مقتول کے ساتھ کیا تھا۔
3427
Mishkaat Shareefعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله إلا بإحدى ثلاث : النفس بالنفس والثيب الزاني والمارق لدينه التارك للجماعة
حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا مسلم انسان کہ جو اس امر کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلاشک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، اس کا خون بہاناجائز نہیں الاّ یہ کہ ان تین باتوں میں کوئی ایک بات پیش آجائے (١) ناحق قتل کرنا کہ خون کے بدلے میں خون (یعنی قصاص) لیا جائے (لیکن یہ مقتول کے ولی کا حق ہے کہ وہ اس بارے میں شریعت کے مقرر کردہ اصول کے مطابق قاتل سے بدلہ لے) ۔ ( ٢) شادی شدہ (مسلمان، مکلف اور آزاد) کا زنا کرنا (اس کو سنگ سار کو کیا جائے (٣) اپنے دین سے نکلنے اور اپنی جماعت کو چھوڑنے والا (یعنی مسلمان مرتد ہوجائے اس کو قتل کرنا جائز ہے) (بخاری ومسلم )
تشریح
یہ جملہ جو اس امر کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلا شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں دراصل لفظ مسلم کی وضاحت وبیان اور اس کے موکد کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے، نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ محض کلمہ شہادت پڑھ لینا خون بہانے کے ناجائز ہونے کے لئے کافی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص (جو پہلے سے مسلمان نہ ہو یا جس کا مسلمان ہونا معلوم نہ ہو) محض زبان سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور آنحضرت کی رسالت کی شہادت دے دے تو اس شخص کا ناحق خون بہانا بھی اسی طرح ناجائز ہوگا جس طرح کسی دوسرے جانے پہنچانے مسلمان کا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان کا خون بہانا قطعا جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز پیش آجائے اول تو یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو ناحق قتل کر دے تو خون کا بدلہ خون کے اصول کے تحت اس کو قتل کیا جاسکتا ہے، دوم یہ کہ اگر کوئی شادی شدہ شخص جو مکلف، مسلمان اور آزاد ہو، زنا کا مرتکب ہو تو اس کو سنگسار کردیا جائے اور سوم یہ کہ جو مسلمان دین سے نکل آئے یعنی مرتد ہوجائے اس کو قتل کردینا بھی جائز ہے۔ اپنی جماعت چھوڑنے والا یہ مارق کی صفت مؤ کدہ ہے یعنی جو شخص قولًا یا فعلًا اور یا اعتقادًا مرتد ہوجائے کہ وہ اسلام کو ترک کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے مسلمانوں کی قوم سے علیحدگی اختیار کرے تو اس شخص کو قتل کردینا واجب ہے بشرطیکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ نہ کرلے۔ حدیث میں ایسے شخص (یعنی مرتد کو) مسلمان کے۔ ذلیل میں ذکر کرنا اس اس کی پہلی حالت کے اعتبار سے مجازًا ہے۔ یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو حنفیہ کے مسلک کے مطابق اس عورت کو قتل نہ کرنا چاہئے۔
تشریح
یہ جملہ جو اس امر کی شہادت دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بلا شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں دراصل لفظ مسلم کی وضاحت وبیان اور اس کے موکد کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے، نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ محض کلمہ شہادت پڑھ لینا خون بہانے کے ناجائز ہونے کے لئے کافی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص (جو پہلے سے مسلمان نہ ہو یا جس کا مسلمان ہونا معلوم نہ ہو) محض زبان سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور آنحضرت کی رسالت کی شہادت دے دے تو اس شخص کا ناحق خون بہانا بھی اسی طرح ناجائز ہوگا جس طرح کسی دوسرے جانے پہنچانے مسلمان کا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان کا خون بہانا قطعا جائز نہیں ہے الاّ یہ کہ ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز پیش آجائے اول تو یہ کہ اگر کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کو ناحق قتل کر دے تو خون کا بدلہ خون کے اصول کے تحت اس کو قتل کیا جاسکتا ہے، دوم یہ کہ اگر کوئی شادی شدہ شخص جو مکلف، مسلمان اور آزاد ہو، زنا کا مرتکب ہو تو اس کو سنگسار کردیا جائے اور سوم یہ کہ جو مسلمان دین سے نکل آئے یعنی مرتد ہوجائے اس کو قتل کردینا بھی جائز ہے۔ اپنی جماعت چھوڑنے والا یہ مارق کی صفت مؤ کدہ ہے یعنی جو شخص قولًا یا فعلًا اور یا اعتقادًا مرتد ہوجائے کہ وہ اسلام کو ترک کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے مسلمانوں کی قوم سے علیحدگی اختیار کرے تو اس شخص کو قتل کردینا واجب ہے بشرطیکہ وہ اپنے ارتداد سے توبہ نہ کرلے۔ حدیث میں ایسے شخص (یعنی مرتد کو) مسلمان کے۔ ذلیل میں ذکر کرنا اس اس کی پہلی حالت کے اعتبار سے مجازًا ہے۔ یہ بات ملحوظ رکھنی چاہئے کہ اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو حنفیہ کے مسلک کے مطابق اس عورت کو قتل نہ کرنا چاہئے۔
3428
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن يزال المؤمن في فسحة من دينه ما لم يصب دما حراما . رواه البخاري
اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا تاوقتیکہ کوئی مسلمان خون حرام (یعنی ناحق) قتل کا مرتکب نہ ہو وہ ہمیشہ اپنے دین کی وسعت و کشادگی میں رہتا ہے۔ (بخاری)
تشریح
یوں تو ہر برائی انسان کی دینی و اخلاقی زندگی کے لئے زوال کا باعث اور غضب الٰہی کا موجب ہوتی ہے لیکن یہاں بطور خاص خون ناحق کے مذموم ترین فعل کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک کوئی شخص کسی کے خون ناحق سے اپنا ہاتھ نہیں رنگتا اس پر رحمت الٰہی کا ہاتھ رہتا ہے اور اس کو حق تعالیٰ کی امید رحمت اور اس کی بخشش و مغفرت کا سہارا اپنے وسیع دامن میں لئے رہتا ہے لیکن جب کوئی شخص خون ناحق سے اپنے ہاتھ سے رنگ لیتا ہے تو اس پر تنگی مسلط ہوجاتی ہے اور وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہوجاتا ہے جو رحمت الٰہی سے ناامید و محروم ہیں۔
تشریح
یوں تو ہر برائی انسان کی دینی و اخلاقی زندگی کے لئے زوال کا باعث اور غضب الٰہی کا موجب ہوتی ہے لیکن یہاں بطور خاص خون ناحق کے مذموم ترین فعل کے بارے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک کوئی شخص کسی کے خون ناحق سے اپنا ہاتھ نہیں رنگتا اس پر رحمت الٰہی کا ہاتھ رہتا ہے اور اس کو حق تعالیٰ کی امید رحمت اور اس کی بخشش و مغفرت کا سہارا اپنے وسیع دامن میں لئے رہتا ہے لیکن جب کوئی شخص خون ناحق سے اپنے ہاتھ سے رنگ لیتا ہے تو اس پر تنگی مسلط ہوجاتی ہے اور وہ ان لوگوں کے زمرہ میں شامل ہوجاتا ہے جو رحمت الٰہی سے ناامید و محروم ہیں۔
3429
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أول ما يقضى بين الناس يوم القيامة في الدماء
اور حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا وہ خون ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق میں سے جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ انسان کے خون کا مقدمہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہوگی۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ منہیات میں سے جس چیز کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کا مقدمہ ہوگا اور مامورات میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہوگئی۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن بندوں کے حقوق میں سے جس کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ انسان کے خون کا مقدمہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہوگی۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ منہیات میں سے جس چیز کا سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا وہ خون کا مقدمہ ہوگا اور مامورات میں سے جس چیز کے بارے میں سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ نماز ہوگئی۔
3430
Mishkaat Shareefوعن المقداد بن الأسود أنه قال : يا رسول الله أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فاقتتلنا فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعهما ثم لاذ مني بشجرة فقال : أسلمت لله وفي رواية : فلما أهويت لأقتله قال : لا إله إلا الله أأقتله بعد أن قالها ؟ قال : لا تقتله فقال : يا رسول الله إنه قطع إحدى يدي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقتله فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله وإنك بمنزلته قبل أن يقول كلمته التي قال (2/285) 3450 - [ 5 ] ( متفق عليه )
اور حضرت مقداد ابن اسود سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بتائیے کہ اگر (مجھے کوئی کافر مل جائے) اور ہمارے درمیان لڑائی چھڑ جائے اور وہ کافر میرے ہاتھ پر تلوار کا وار کر کے کاٹ دے اور پھر ایک درخت کی آڑ میں مجھ سے پناہ پکڑ کر یہ کہے کہ میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ اور جوں ہی میں اس کو مار ڈالنے کا ارادہ کروں تو وہ کہے کہ لا الہ الا اللہ تو کیا میں اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلنے کے بعد اس کو قتل کرسکتا ہوں ؟ آنحضرت فرمایا نہیں اس کو قتل نہ کرو مقداد نے عرض کیا یا رسول اللہ اس نے جو میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اس کے باوجود) اس کو قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم اس کو قتل کرو گے تو وہ اس جگہ پہنچ جائے گا، جہاں تم اس کو قتل کرنے سے پہلے تھے اور تم اس جگہ پہنچ جاؤ گے جہاں وہ کلمہ پڑھنے سے پہلے تھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس کو کلمہ پڑھنے کے بعد قتل کردیا تو جس طرح تم نے اس کو قتل کرنے سے پہلے معصوم الدم تھے اب وہ اسلام لانے کی وجہ سے معصوم الدم ہوگیا اور جس طرح وہ کلمہ اسلام پڑھنے سے پہلے غیر معصوم الدم تھا اب تم اس کو قتل کردینے کی وجہ سے غیر معصوم الدم ہوگئے۔ اس کو مزید وضاحت کے ساتھ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کلمہ اسلام پڑھنے سے پہلے اس شخص کو اس کے کافر ہونے کی وجہ سے قتل کردینا درست تھا اب اس کے مسلمان ہوجانے کے بعد اس کو قتل کردینے کی وجہ سے تمہیں قتل کردینا درست ہوگا۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس کو کلمہ پڑھنے کے بعد قتل کردیا تو جس طرح تم نے اس کو قتل کرنے سے پہلے معصوم الدم تھے اب وہ اسلام لانے کی وجہ سے معصوم الدم ہوگیا اور جس طرح وہ کلمہ اسلام پڑھنے سے پہلے غیر معصوم الدم تھا اب تم اس کو قتل کردینے کی وجہ سے غیر معصوم الدم ہوگئے۔ اس کو مزید وضاحت کے ساتھ یوں کہا جاسکتا ہے کہ کلمہ اسلام پڑھنے سے پہلے اس شخص کو اس کے کافر ہونے کی وجہ سے قتل کردینا درست تھا اب اس کے مسلمان ہوجانے کے بعد اس کو قتل کردینے کی وجہ سے تمہیں قتل کردینا درست ہوگا۔
3431
Mishkaat Shareefوعن أسامة بن زيد قال : بعثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى أناس من جهينة فأتيت على رجل منهم فذهبت أطعنه فقال : لا إله إلا الله فطعنته فقتلته فجئت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : أقتلته وقد شهد أن لا إله إلا الله ؟ قلت : يا رسول الله إنما فعل ذلك تعوذا قال : فهلا شققت عن قلبه ؟ (2/285) 3451 - [ 6 ] ( صحيح ) وفي رواية جندب بن عبد الله البجلي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت يوم القيامة ؟ . قاله مرارا . رواه مسلم
اور حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمیں قبیلہ جہینہ کے لوگوں کے مقابلہ پر بھیجا چناچہ ( ان کے مقابلہ کے دوران) میں ایک شخص پر جھپٹا اور اس پر نیزہ کا حملہ کرنا چاہا کہ اس نے (لاالہ الا اللہ) کہہ دیا لیکن میں نے اس میں اپنا نیزہ پیوست کر کے اس کو قتل کردیا۔ پھر جب میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں واپس آیا اور آپ سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا (صد افسوس) کہ تم نے اس صورت میں قتل کردیا جب کہ اس نے (لاالہ الا اللہ) پڑھ تھا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اس نے محض قتل سے بچنے کے لئے کلمہ پڑھا تھا ! آپ ﷺ نے فرمایا تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا لیا تھا ؟۔ اور جندب ابن عبداللہ بجلی نے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب قیامت کے دن کلمہ (لا الہ الا اللہ) اپنے پڑھنے والے یعنی (مقتول) کی طرف سے جھگڑتا ہوا تمہارے پاس آئے گا تو اس وقت تم اس کو کیا جواب دو گے۔ آنحضرت ﷺ نے (خوف دلانے کے لئے) یہ الفاظ کئی بار ارشاد فرمائے۔ (مسلم)
تشریح
تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ؟ آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس شخص کے باطن کے مطابق فرمایا کہ اگر تم اس شخص کے باطن پر مطلع ہوسکتے تھے تو تم اس کا دل چیر کر دیکھ لیتے اور یہ معلوم کرتے کہ آیا اس شخص نے محض اپنے آپ کو ہلاکت سے بچانے کے کلمہ (لا الہ الا اللہ) پڑھا تھا یا واقعۃ یہ کلمہ اس کے قلب کے صدق اخلاص کے ساتھ اس کی زبان سے نکلا تھا ! لیکن ظاہر ہے کہ تم نہ اس کے دل کو چیر کر اس کے باطن کو دیکھ سکتے تھے اور نہ فوری طور پر اس کے باطن کا حال کسی اور ذریعہ سے تمہیں معلوم ہوسکتا تھا اس لئے معقول بات تو یہ تھی کہ تم اس کے ظاہر پر حکم لگاتے یعنی اس کے کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے اس کو مؤمن سمجھ لیتے اور اس کو قتل کرنے سے باز رہتے۔ ادھر حضرت اسامہ نے یہ گمان کیا کہ ایسی حالت میں جب میرا نیزہ موت بن کر اس کے سر پر پہنچ چکا ہے اب اس کا ایمان قبول کرنا فائدہ مند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس شخص کا کام تمام کردیا، یہ گویا ان کا اجتہاد تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان پر یہ تو ظاہر فرما دیا کہ تم سے اجتہادی خطاء ہوگئی ہے لیکن ان پر دیت لازم نہیں کی کیوں کہ مجتہد اپنی خطاء اجتہاد میں معذور ہوتا ہے ہاں اس بات کے لئے آپ ﷺ نے بہر حال اپنی خفگی کا بھی اظہار فرمایا کہ اس کی اصل حیثیت و حقیقت ظاہر ہونے تک تم پر توقف لازم تھا لیکن تم نے توقف نہ کر کے اپنے اجتہاد پر عمل کیا۔
تشریح
تو تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ؟ آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس شخص کے باطن کے مطابق فرمایا کہ اگر تم اس شخص کے باطن پر مطلع ہوسکتے تھے تو تم اس کا دل چیر کر دیکھ لیتے اور یہ معلوم کرتے کہ آیا اس شخص نے محض اپنے آپ کو ہلاکت سے بچانے کے کلمہ (لا الہ الا اللہ) پڑھا تھا یا واقعۃ یہ کلمہ اس کے قلب کے صدق اخلاص کے ساتھ اس کی زبان سے نکلا تھا ! لیکن ظاہر ہے کہ تم نہ اس کے دل کو چیر کر اس کے باطن کو دیکھ سکتے تھے اور نہ فوری طور پر اس کے باطن کا حال کسی اور ذریعہ سے تمہیں معلوم ہوسکتا تھا اس لئے معقول بات تو یہ تھی کہ تم اس کے ظاہر پر حکم لگاتے یعنی اس کے کلمہ پڑھ لینے کی وجہ سے اس کو مؤمن سمجھ لیتے اور اس کو قتل کرنے سے باز رہتے۔ ادھر حضرت اسامہ نے یہ گمان کیا کہ ایسی حالت میں جب میرا نیزہ موت بن کر اس کے سر پر پہنچ چکا ہے اب اس کا ایمان قبول کرنا فائدہ مند نہیں ہے اس لئے انہوں نے اس شخص کا کام تمام کردیا، یہ گویا ان کا اجتہاد تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان پر یہ تو ظاہر فرما دیا کہ تم سے اجتہادی خطاء ہوگئی ہے لیکن ان پر دیت لازم نہیں کی کیوں کہ مجتہد اپنی خطاء اجتہاد میں معذور ہوتا ہے ہاں اس بات کے لئے آپ ﷺ نے بہر حال اپنی خفگی کا بھی اظہار فرمایا کہ اس کی اصل حیثیت و حقیقت ظاہر ہونے تک تم پر توقف لازم تھا لیکن تم نے توقف نہ کر کے اپنے اجتہاد پر عمل کیا۔
3432
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قتل معاهدا لم يرح رائحة الجنة وإن ريحها توجد من مسيرة أربعين خريفا . رواه البخاري
اور حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص عہد والے کو قتل کرے گا وہ جنت کی بو نہیں پائے گا اور جنت کی بو چالیس برس کی راہ سے آتی ہے۔ (بخاری)
تشریح
معاہد یعنی عہد والا اس کافر کو کہتے ہیں جس نے امام وقت (سربراہ مملکت اسلامی) سے جنگ وجدل نہ کرنے کا عہد کرلیا ہو خواہ وہ ذمی ہو یا غیر ذمی۔ اس روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جنت کی بو چالیس برس کی راہ سے آتی ہے۔ جب کہ ایک روایت میں ستر برس ایک روایت میں سو برس مؤطا میں پانچ سو برس اور فردوس میں ہزار برس کے الفاظ ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان روایتوں میں یہ فرق واختلاف دراصل اشخاص و اعمال کے مختلف ہونے اور درجات کے تفاوت کی بناء ہے چناچہ (میدان حشر میں) بعض لوگوں کو جنت کی بو ہزار برس کی راہ سے بعض لوگوں کو پانچ سو برس کی راہ سے آئے گی، اسی طرح بعض لوگ جنت کی اس بو کو ایک سو برس اور بعض لوگ ستر برس اور چالیس برس کی مسافت آتی ہوئی محسوس کریں گے بہرکیف ان تمام مذکورہ اعداد سے تحدید مراد نہیں ہے بلکہ طول مسافت مراد ہے۔ نیز جنت کی بو نہ پانے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ شخص ہمیشہ کے لئے جنت کی بو سے محروم رہے گا۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں جب مقربین اور علماء جنت کی بو پائیں گے۔ وہ شخص اس وقت جنت کی بو سے محروم رہے گا۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس ارشاد سے مراد معاہد کو قتل کرنے کی سخت مذمت بیان کرنا اور قتل کرنے والے کے خلافت سخت الفاظ میں تنبیہ وتہدید کا اظہار کرنا ہے۔
تشریح
معاہد یعنی عہد والا اس کافر کو کہتے ہیں جس نے امام وقت (سربراہ مملکت اسلامی) سے جنگ وجدل نہ کرنے کا عہد کرلیا ہو خواہ وہ ذمی ہو یا غیر ذمی۔ اس روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جنت کی بو چالیس برس کی راہ سے آتی ہے۔ جب کہ ایک روایت میں ستر برس ایک روایت میں سو برس مؤطا میں پانچ سو برس اور فردوس میں ہزار برس کے الفاظ ہیں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان روایتوں میں یہ فرق واختلاف دراصل اشخاص و اعمال کے مختلف ہونے اور درجات کے تفاوت کی بناء ہے چناچہ (میدان حشر میں) بعض لوگوں کو جنت کی بو ہزار برس کی راہ سے بعض لوگوں کو پانچ سو برس کی راہ سے آئے گی، اسی طرح بعض لوگ جنت کی اس بو کو ایک سو برس اور بعض لوگ ستر برس اور چالیس برس کی مسافت آتی ہوئی محسوس کریں گے بہرکیف ان تمام مذکورہ اعداد سے تحدید مراد نہیں ہے بلکہ طول مسافت مراد ہے۔ نیز جنت کی بو نہ پانے سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ شخص ہمیشہ کے لئے جنت کی بو سے محروم رہے گا۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں جب مقربین اور علماء جنت کی بو پائیں گے۔ وہ شخص اس وقت جنت کی بو سے محروم رہے گا۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس ارشاد سے مراد معاہد کو قتل کرنے کی سخت مذمت بیان کرنا اور قتل کرنے والے کے خلافت سخت الفاظ میں تنبیہ وتہدید کا اظہار کرنا ہے۔
3433
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى فيها خالدا مخلدا فيها أبدا ومن تحسى سما فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا ومن قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا (2/286) 3454 - [ 9 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذي يخنق نفسه يخنقها في النار والذي يطعنها يطعنها في النار . رواه البخاري (2/286) 3455 - [ 10 ] ( متفق عليه ) وعن جندب بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كان فيمن كان قبلكم رجل به جرح فجزع فأخذ سكينا فحز بها يده فما رقأ الدم حتى مات قال الله تعالى : بادرني عبدي بنفسه فحرمت عليه الجنة
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کرلی وہ شخص ہمیشہ دوزخ میں گرایا جائے گا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور کبھی اس سے نہیں نکلے گا۔ جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا اس کا زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں پئے گا وہ دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اس سے کبھی نہیں نکلے گا۔ اور جس شخص نے لوہے کے (کسی) ہتھیار (جیسے چھری وغیرہ) سے اپنے آپ کو مار ڈالا اس کا وہ ہتھیار دوزخ کی آگ میں اس کے ہاتھ میں ہوگا جس کو وہ اپنے پیٹ میں گھونپے گا اور دوزخ میں ہمیشہ رہے گا اس سے کبھی نہیں نکلے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
لفظ مخلدا اور ابدًا خالدًا کی تاکید ہیں۔ حاصل حدیث کا یہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص جس چیز کے ذریعہ خود کشی کرے گا آخرت میں اس کو ہمیشہ کے لئے اسی چیز کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ لیکن یہاں ہمیشہ سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خود کشی کو حلال جان کر ارتکاب کریں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے، یا پھر ہمیشہ ہمیشہ سے مراد یہ ہے کہ خود کشی کرنے والے مدت دراز تک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے گلا گھونٹ کر اپنے آپ کو مار ڈالا وہ دوزخ میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا اور جس شخص نے اپنے آپ کو نیزہ مار کر خود کشی کرلی وہ دوزخ میں (بھی) اپنے آپ کو نیزے مارے گا۔ اور حضرت جندب ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک دن فرمایا تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص تھا (جو کسی طرح) زخمی ہوگیا تھا چناچہ (جب زخم کی تکلیف شدید ہونے کی وجہ سے) اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو چھرئی اٹھائی اور اپنے (اس) ہاتھ کو کاٹ ڈالا (جس میں زخم تھا) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زخم نہ رکا اور وہ مرگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میرے بندے نے اپنی جان کے بارے میں میرے فیصلہ کا انتظار نہیں کیا (بلکہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا) لہٰذا میں نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح میں نے جنت کو حرام کردیا اس بات پر محمول ہے کہ اس نے خود کشی کو حلال جانا تھا اور چونکہ ایک حرام چیز کے بارے میں حلال کا عقیدہ رکھنا صریحا کفر ہے اس لئے اس پر دخول جنت کو حرام کردیا گیا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک وہ دوزخ میں جا کر اپنے کئے کی سزا نہ چکھ لے، اس کو اول مرحلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں جانے سے محروم کردیا گیا۔
تشریح
لفظ مخلدا اور ابدًا خالدًا کی تاکید ہیں۔ حاصل حدیث کا یہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص جس چیز کے ذریعہ خود کشی کرے گا آخرت میں اس کو ہمیشہ کے لئے اسی چیز کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ لیکن یہاں ہمیشہ سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خود کشی کو حلال جان کر ارتکاب کریں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے، یا پھر ہمیشہ ہمیشہ سے مراد یہ ہے کہ خود کشی کرنے والے مدت دراز تک عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے گلا گھونٹ کر اپنے آپ کو مار ڈالا وہ دوزخ میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا اور جس شخص نے اپنے آپ کو نیزہ مار کر خود کشی کرلی وہ دوزخ میں (بھی) اپنے آپ کو نیزے مارے گا۔ اور حضرت جندب ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( ایک دن فرمایا تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک شخص تھا (جو کسی طرح) زخمی ہوگیا تھا چناچہ (جب زخم کی تکلیف شدید ہونے کی وجہ سے) اس نے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو چھرئی اٹھائی اور اپنے (اس) ہاتھ کو کاٹ ڈالا (جس میں زخم تھا) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زخم نہ رکا اور وہ مرگیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میرے بندے نے اپنی جان کے بارے میں میرے فیصلہ کا انتظار نہیں کیا (بلکہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالا) لہٰذا میں نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔ ( بخاری ومسلم) تشریح میں نے جنت کو حرام کردیا اس بات پر محمول ہے کہ اس نے خود کشی کو حلال جانا تھا اور چونکہ ایک حرام چیز کے بارے میں حلال کا عقیدہ رکھنا صریحا کفر ہے اس لئے اس پر دخول جنت کو حرام کردیا گیا۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک وہ دوزخ میں جا کر اپنے کئے کی سزا نہ چکھ لے، اس کو اول مرحلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں جانے سے محروم کردیا گیا۔
3434
Mishkaat Shareefخودکشی حرام یعنی اپنے آپ کو ہلاک کرلینا دنیا کے کسی مہذب قانون اور سماج میں جائز نہیں ہے۔ اس کا تعلق دراصل اس بات سے ہے کہ انسان جو کچھ ہے یعنی اس کا ظاہر بھی اور اس کا باطن بھی کیا وہ خود اس کا مالک ہے ؟ یا اس کا ظاہر و باطن سب کچھ کسی اور کی ملکیت ہے ؟ یہ بالکل بدیہی بات ہے کہ انسان بذات خود اپنے وجود کا مالک نہیں ہے بلکہ اس کا وجود اس دنیا میں صرف ایک امانت کے طور پر ہے خود اس کے لئے بھی اور دنیا والوں کے لئے بھی اور اس کا مالک حقیقی وہ ذات پاک ہے جس نے اس کو تخلیق سے نوازا ہے اور اس دنیا میں پیدا کیا ہے، پھر کیا امانت میں خیانت نہیں ہے یہ کہ انسان اپنے وجود کو نقصان پہنچائے کیا یہ جرم نہیں ہے کہ بندہ اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے جس کا ظاہر و باطن سب کچھ پروردگار کی ملکیت ہے ؟ یقینایہ ایک بڑا جرم ہے اور بہت بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ اپنے آپ کو ہلاک کرنا درحقیقت غیر کی ملکیت میں تصرف کرنا ہے اور کسی بندہ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ پروردگار کی ملکیت میں تصرف کرے اسی لئے شریعت نے خودکشی کو حرام قرار دیا ہے اور اسے گناہ کبیرہ کہا ہے اور اس کے مرتکب کو بڑے درد ناک عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔
3435
Mishkaat Shareefوعن جابر : أن الطفيل بن عمرو الدوسي لما هاجر النبي صلى الله عليه و سلم إلى المدينة هاجر إليه وهاجر معه رجل من قومه فمرض فجزع فأخذ مشاقص له فقطع بها براجمه فشخبت يداه حتى مات فرآه الطفيل بن عمرو في منامه وهيئته حسنة ورآه مغطيا يديه فقال له : ما صنع بكل ربك ؟ فقال : غفر لي بهجرتي إلى نبيه صلى الله عليه و سلم فقال : ما لي أراك مغطيا يديك ؟ قال : قيل لي : لن تصلح منك ما أفسدت فقصها الطفيل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم وليديه فاغفر . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو طفیل ابن عمرو دوسی بھی ہجرت کر کے آنحضرت ﷺ کے پاس آگئے ان کے ساتھ ان کے قبیلے کے ایک شخص نے بھی ہجرت کی (اتفاق سے) وہ شخص مدینہ میں بیمار ہوگیا اور (جب مرض نے شدت اختیار کی) اس سے صبر نہ ہوسکا، چناچہ اس نے تیر کی پیکان لے کر اس نے اپنی انگلیوں کے جوڑ کاٹ ڈالے، اس کی وجہ سے اس کے دونوں ہاتھوں سے اتنا خون جاری ہوا کہ وہ مرگیا (اس کے انتقال کے بعد ایک دن) طفیل بن عمرو نے اس شخص نے اس سے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس شخص نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وجہ سے بخش دیا ہے کہ میں نے اس کے نبی ﷺ کی طرف ہجرت کی تھی پھر طفیل نے کہا کہ میں تمہیں اپنے دونوں ہاتھ چھپائے ہوئے دیکھ رہا ہوں اس شخص نے (بڑی حسرت کے ساتھ) کہا کہ (پروردگار کی طرف سے) مجھ سے کہا گیا ہے کہ جس چیز کو تم نے خود خراب کیا ہے ہم اس کو درست نہیں کریں گے جب طفیل نے یہ خواب رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اس کو اور اس کے دونوں ہاتھوں کو بخش دے۔ (مسلم )
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے وطن سے ہجرت کر کے نبی کریم ﷺ کے پاس چلے جانے کی یہ برکت تھی کہ مہاجر کو حق تعالیٰ کی مغفرت ورحمت ہوتی ہے اور اگر مہاجر کسی گناہ میں مبتلا ہوجاتا تھا تو آنحضرت ﷺ کے استغفار کی وجہ سے اس کی بخشش ہوجاتی تھی۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے روضہ اطہر کی زیارت، آپ ﷺ کی حیات مبارک میں آپ کی جسمانی زیارت کے مانند ہے لہٰذا آپ کی حیات مبارک میں آپ کی زیارت کرنے والوں کو حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی جو برکت ہوتی تھی آپ ﷺ کے روضہ اطہر کے زیارت کرنے والے کو بھی اسی نعمت عظمی کی امید رکھنی چاہئے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ تو کفر کا باعث ہے اور نہ دوزخ کے دائمی عذاب کا موجب ہے، چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب اپنے کئے کی سزا پالینے کے بعد جنت میں داخل کردیا جائے گا۔
تشریح
اس سے معلوم ہوا کہ اپنے وطن سے ہجرت کر کے نبی کریم ﷺ کے پاس چلے جانے کی یہ برکت تھی کہ مہاجر کو حق تعالیٰ کی مغفرت ورحمت ہوتی ہے اور اگر مہاجر کسی گناہ میں مبتلا ہوجاتا تھا تو آنحضرت ﷺ کے استغفار کی وجہ سے اس کی بخشش ہوجاتی تھی۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے روضہ اطہر کی زیارت، آپ ﷺ کی حیات مبارک میں آپ کی جسمانی زیارت کے مانند ہے لہٰذا آپ کی حیات مبارک میں آپ کی زیارت کرنے والوں کو حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کی جو برکت ہوتی تھی آپ ﷺ کے روضہ اطہر کے زیارت کرنے والے کو بھی اسی نعمت عظمی کی امید رکھنی چاہئے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ تو کفر کا باعث ہے اور نہ دوزخ کے دائمی عذاب کا موجب ہے، چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب اپنے کئے کی سزا پالینے کے بعد جنت میں داخل کردیا جائے گا۔