hadith book logo

Mishkaat Shareef

170. حشر کا بیان

مشكاة المصابيح

5444
Mishkaat Shareef
صحیح
حشر کے اصل معنی ہیں جمع کرنا، اکٹھا کرنا، ہانکنا ! چناچہ قیامت کے دن کو یوم الحشر (حشر کا دن) اسی اعتبار سے کہتے ہیں کہ اس دن تمام مردے اپنی قبروں وغیرہ سے زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اور سب کو اس جگہ پر جمع کیا جائے گا جس کو محشر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ حشر دو ہوں گے، ایک تو مذکورہ بالا معنی میں قیامت آنے کے بعد اور دوسرے حشر کا تعلق قیامت سے پہلے علامات قیامت سے ہے جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے کہ ایک آگ مشرق کی طرف سے نمودار ہوگی جو لوگوں کو گھیر کر زمین شام کی طرف لے جائے گی اور وہاں اکٹھا کر دے گی ! یہاں عنوان باب میں حشر کے پہلے معنی مراد ہیں، اگرچہ اس باب میں بعض ایسی احادیث بھی نقل ہوں گی جو بظاہر دونوں معنی کا احتمال رکھتی ہیں، اسی لئے علماء کے ان کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ بعض حضرات نے ان کو دونوں معنی پر محمول کیا ہے اور بعض نے ان کے خلاف کہا ہے اور زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ ان احادیث کا محمول پہلے ہی معنی ہیں۔
5445
Mishkaat Shareef
صحیح
عن سهل بن سعد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحشر الناس يوم القيامة على أرض بيضاء عفراء كقرصة النقي ليس فيها علم لأحد . متفق عليه . ( متفق عليه )
حضرت سہل ابن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو ایسی سرخی مائل سفید زمین پر جمع کیا جائے گا جو ( رنگ اور گولائی کے اعتبار سے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کے مانند ہوگی اور اس زمین پر کسی ( کے مکان و عمارت وغیرہ) کا کوئی نشان نہیں ہوگا ( بلکہ ہموار چٹیل میدان ہوگا۔ ( بخاری ومسلم )
5446
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تكون الأرض يوم القيامة خبزة واحدة يتكفؤها الجبار بيده كما يتكفأ أحدكم خبزته في السفر نزلا لأهل الجنة . فأتى رجل من اليهود . فقال بارك الرحمن عليك يا أبا القاسم ألا أخبرك بنزل أهل الجنة يوم القيامة ؟ قال بلى . قال تكون الآرض خبزة واحدة كما قال النبي صلى الله عليه وسلم . فنظر النبي صلى الله عليه وسلم إلينا ثم ضحك حتى بدت نواجذه ثم قال ألا أخبرك بإدامهم ؟ بالام والنون . قالوا وما هذا ؟ قال ثور ونون يأكل من زائدة كبدهما سبعون ألفا . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی ہوگی جس کو خداوند جبار اپنے ہاتھوں سے اس طرح الٹے پلٹے گا جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر کے دوران الٹ پلٹ کر کے ( یعنی جلدی) روٹی پکاتا ہے اور یہ روٹی جنتیوں کی مہمانی ہوگی آنحضرت ﷺ کے یہ فرمانے کے بعد ایک یہودی آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوالقاسم ! خدائے پاک مہربان آپ ﷺ پر برکت نازل کرے کیا میں آپ ﷺ کو بتاؤں کہ قیام کے دن جنتیوں کی مہمانی کے طور پر پہلا کھانا کیا ہوگا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں بتاؤ ! اس یہودی نے کہا کہ ساری زمین ایک روٹی ہوگی، جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا ( یہ سن کر) آنحضرت ﷺ نے ( تعجب کے اظہار اور ہمیں یہ بتانے کے لئے کہ یہودی ٹھیک کہہ رہا ہے چاروں طرف دیکھا اور ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ ؟ ﷺ کی کیچلیاں نظر آنے لگیں، اس کے بعد اس یہودی نے کہا کہ کیا میں آپ ﷺ کو بتاؤں کو جنیتوں کا سالن کیا ہوگا ( جس سے وہ روٹی لگا کر کھائیں گے) وہ بالام اور نون ہے صحابہ ( بالام کا مطلب نہیں سمجھ سکے تھے کیونکہ وہ عبرانی لفظ تھا اس لئے انہوں) نے کہا کہ یہ بالام کیا چیز ہوتی ہے کہا کہ ( بالام کا مطلب) بیل ہے اور نون ( کے بارے میں تم لوگ جانتے ہی ہو کہ مچھلی کو کہتے ہیں) اور ان دونوں یعنی بیل اور مچھلی کے گوشت کے اس ٹکڑے سے جو جگر کا زائد ہوتا ہے، ستر ہزار آدمی روٹی کھائیں۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
اپنے ہاتھوں سے اس طرح الٹے پلٹے گا کے ذریعہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح روٹی پکانے والا شخص روٹی گھڑنے والا اس کو گول ( برابر اور باریک کرنے کے لئے اس کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر پھیرتا ہے پھر توے یا گرم بھوبل پر اس کو الٹ پلٹ کر سینکتا ہے اسی طرح یہ زمین بھی الٹی پلٹی جائے گی اور اس کو روٹی بنادیا جائے گا ! واضح رہے کہ حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن یہ روٹی ہوجائے گی اور جنت میں جانے والوں کا کھانا بنے گی کہ وہ جنت میں جانے کے وقت پہلے اس کو کھائیں گے پس حضرات نے حدیث کے الفاظ کو ان کے ظاہر معنی ہی پر محمول کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ بات حق تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں ہے وہ اس پر قادر ہے کہ اس زمین کو روٹی بنا دے اور اہل جنت کو کھانے کے لئے دے ! لہٰذا زیادہ صحیح یہی ہے کہ حدیث کا یہی ظاہری مفہوم مراد لیا جائے اور اس بارے میں کسی شک وشبہ کو اندر آنے کا موقع نہ دیا جائے۔ ویسے کچھ حضرات نے حدیث کے ان مذکورہ الفاظ کو اس کے ظاہری معنی پر حمل نہ کرکے تاویل و توجیہ کا راستہ اختیار کیا ہے، لیکن ان کی ان تاویلات وتوجیہات کو طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کیا جار ہا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور ہنس دیئے اس یہودی عالم نے جو کچھ بیان کیا وہ تورات میں پڑھ کر بیان کیا تھا اور اس کی وہ باتیں گویا آنحضرت ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں علاوہ ازین وہ باتیں صحابہ کرام کے یقین اور قوت ایمان میں اضافہ کا سبب بنی تھیں اس لئے آنحضرت ﷺ ان پر اظہار اطمینان کے لئے ہنسے اور اس طرح ہنسے کہ آپ ﷺ کی کیچلیاں ظاہر ہوگئیں۔ ستر ہزار آدمی سے مراد وہ بندگان خاص ہیں جو حساب ومواخذہ کے مراحل سے گزرے بغیر جنت میں جائیں گے اور جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح روشن وتابناک ہوں گے اور ہوسکتا ہے کہ ستر ہزار سے مخصوص عدد مراد نہ ہو بلکہ محض کثرت مبالغہ مراد ہو۔ زائدہ کبد ( یعنی جگر کا زائد حصہ) اصل میں جگر ہی کے اس چھوٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں جو اسی کے ساتھ ایک جانب ہوتا ہے اس حصہ کو بہت لذیذ اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ صحابہ کرام کے پوچھنے پر بالام کے جو معنی بیان کئے گئے وہ اس یہودی عالم نے نہیں بلکہ خود آنحضرت ﷺ نے بیان کئے ہوں اور یہ ہو کہ جب صحابہ اس لفظ کے معنی نہ سمجھے اور انہوں نے اس بارے میں سوال کیا تو اس سے پہلے کہ یہودی عالم جواب دیتا آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی اس عبرانی لفظ کے معنی بتا دیئے گئے اور آپ ﷺ نے صحابہ کے سامنے بیان فرما دئیے۔
5447
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين واثنان على بعير وثلاثة على بعير وأربعة على بعير وعشرة على بعير وتحشر بقيتهم النار . تقيل معهم حيث قالوا وتبيت معهم حيث باتو وتصبح معهم حيث أصبحوا وتمسي معهم حيث يمسوا . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ حشر میں لوگوں کو تین قسموں میں جمع کیا جائے گا ایک قسم کے لوگ تو وہ ہوں گے جو بہشت کے خواشمند ہیں، دوسری قسم کے لوگ وہ ہوں گے جو دوزخ سے ڈرنے والے ہیں اور ان دونوں قسموں میں سے جو لوگ سواری پر ہوں گے ان کی صورت یہ ہوگی کہ) دو ایک اونٹ پر سوار ہوں گے ٠ یعنی جس شخص کا مرتبہ جتنا زیادہ بلند ہوگا وہ اتنے ہی کم آدمیوں کے ساتھ سواری پر ہوگا اور نہایت آرام و کشادگی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوگا اور جس کا مرتبہ جتنا ادنیٰ ہوگا وہ اتنے ہی زیادہ آدمیوں کے ساتھ سواری پر ہوگا اور تنگی کے ساتھ بیٹھا ہوگا) اور تیسری قسم باقی تمام لوگوں پر مشتمل ہوگی جن کو آگ جمع کرے گی اور وہ آگ ہر وقت ان لوگوں کے ساتھ رہے گی اور کسی وقت بھی ان سے الگ نہیں ہوگی یہاں تک کہ، جہاں وہ لوگ قیلولہ کریں گے ( یعنی استراحت کے لئے رکیں گے، آگ بھی وہیں قیلولہ کرے گی، جہاں وہ لوگ رات گزرایں گے وہیں ان کے ساتھ ہی رات گزارے گی، جہاں وہ لوگ صبح کریں گے وہیں آگ بھی ان کے ساتھ صبح کرے گی اور جہاں وہ لوگ شام کریں کے وہیں آگ بھی ان کے ساتھ شام کرے گی۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
ملا علی قاری کے مطابق تیں قسموں میں سے ایک یعنی پہلی قسم کے لوگ تو سوار ہوں گے اور باقی دونوں قسموں کے لوگ پیدل اور منہ کے بل چلنے والے ہوں گے جیسا کہ آگے دوسری فصل میں آنے والی حدیث سے واضح ہوگا ! لیکن بعض شارحین نے کہا ہے کہ پہلی دونوں قسموں کے لوگ سواریوں پر ہوں گے اور باقی تمام لوگ پیدل چلتے ہوئے آئیں گے، نیز انہوں نے کہا ہے کہ اونٹ سواریوں کی مذکورہ تعدادوں کا ذکر دراصل ان دونوں قسموں کے لوگ کے فرنی مراتب کی تفصیل کو بطور کنایہ و تمثیل بیان کرنے کے لئے ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ عالی مرتبہ ہوگا وہ اتنی ہی زیادہ راحت و سہولت اور سرعت وسبقت کے ساتھ میدان حشر میں پہنچے گا۔ پہلی دونوں قسموں کا تعلق اہل ایمان سے ہے جن میں سے ایک تو وہ لوگ ہوں گے جو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے امیدوار رہتے ہیں اور اس نے اپنے نیک بندوں کے لئے جنت اور وہاں کی نعمتوں کا جو وعدہ کیا ہے اس کا اشتیاق ان پر غالب رہتا ہے اور یہ وہ بندگان خاص ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا ہے لا خوف علیہم ولا ہم یحزنون اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو اس کے اشتیاق میں کی جانے والی طاعت و عبادت اس طاعت و عبادت سے افضل ہے جو اللہ تعالیٰ کے ڈر اور خوف سے کی جائے۔ چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر ہوں گے۔ چار اور دس کے درمیان کے دوسرے اعداد کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا ہے کہ ان کو ذکر کردہ اعداد پر قیاس کر کے مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے ! اسی طرح ایک اونٹ پر ایک آدمی کا سوار ہونا ذکر نہیں کیا گیا ہے جب کہ یقینی طور پر محشر میں آنے والوں میں ایسے افراد بھی ہوں گے جو اپنے اپنے اونٹ پر تنہا ہوں گے اور ان کی سواری میں ان کا کوئی شریک نہیں ہوگا ! تو اصل بات یہ ہے کہ وہ انبیاء اور رسولوں کا مرتبہ ہے اور یہاں انبیاء اور رسولوں کے حشرکا نہیں بلکہ لوگوں کے حشر کا ذکر کرنا مقصود ہے ! ایک بات یہ بھی بتادینا ضروری ہے کہ ایک ایک اونٹ پر دو اور دو سے زائد لوگوں کے سوار ہونے کی دونوں صورتیں محتمل ہوسکتی ہیں یا تو یہ ہوگا کہ ایک اونٹ جتنے لوگوں کی سواری کے لئے متعین ہوگا وہ سب لوگ اس پر ایک ساتھ بیٹھیں گے اور یا یہ ہوگا کہ تنادب ( باری متعین کرنے) کے طور پر بیٹھیں گے، کہ ہر شخص باری باری سے سوار ہوتا رہے گا۔ اب آخر میں یہ بات جان لیجئے کہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ یہاں حدیث میں لوگوں کو محشر میں جمع کئے جانے کا جو ذکر ہے اس کا تعلق کس وقت سے ہے ؟ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ اس حشر کا ذکر ہے جو قیامت کے دن آخرت میں بڑا ہوگا اور ہر شخص کو دوبارہ زندہ کرکے محشر میں لایا جائے گا، جب کہ بعض دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ یہ آخرت کے حشر کا ذکر نہیں ہے بلکہ وہ حشر مراد ہے جو قیامت کے قریب واقع ہوگا کہ لوگوں کو تمام علاقوں سے اکٹھا کر کے ملک شام کے علاقہ میں ایک جگہ کہ جس کو محشر ہی سے تعبیر کیا گیا ہے جمع کیا جائے گا اور جس کو قیامت کی علامت میں سے کہا گیا ہے، ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ آخرت میں جو حشر ہوگا اس میں تمام لوگ پاپیادہ ہوں گے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ آخرت میں کئی حشر ہوں گے ایک تو قبر سے نکلتے وقت اور تمام لوگوں کے دوبارہ زندہ کئے جانے کے فورا بعد اور دوسرا حشر اس کے بعد ہوگا ! اس میں بعضوں کو سواریاں ملیں گی اور بعض پیدل اور بعض منہ کے بل چل کر آئیں گے ! بہر حال زیادہ صحیح قول یہی معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کا حشر مراد ہے۔
5448
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إنكم محشورون حفاة عراة غرلا ثم قرأ ( كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين ) وأول من يكسى يوم القيامة إبراهيم وإن ناسا من أصحابي يؤخذ بهم ذات الشمال فأقول أصيحابي أصيحابي فيقول إنهم لن يزالوا مرتدين على أعقابهم مذ فارقتهم . فأقول كما قال العبد الصالح ( وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم ) إلى قوله ( العزيز الحكيم ) . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابن عباس (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں ( قیامت کے دن) اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ تم ننگے پاؤں ننگے بدن اور بےختنہ ہوگے اس کے بعد آپ ﷺ نے (بطور دلیل واستشہاد) یہ آیت پڑھی ( كَمَا بَدَاْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُه وَعْدًا عَلَيْنَا اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ ) 21 ۔ الانبیاء 104) یعنی جس طرح ہم نے ان کو ابتداء پیدائش میں (ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بےختنہ ماں کے پیٹ سے) پیدا کیا تھا اسی طرح ان کو دوبارہ (قیامت کے دن پیدا کریں گے یعنی قبروں سے اٹھائیں گے یہ وعدہ ( کہ ہم ان کو دبارہ پیدا کریں گے) ہم پر لازم ہے اور یقینا ہم ( نے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا) کرنے والے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ان لوگوں میں سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں (پھر فرمایا) اور (اس وقت جب کہ لوگوں کو میدان حشر سے جنت اور دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا، میں دیکھوں گا کہ) میرے کچھ صحابہ کو پکڑ کر بائیں ہاتھ کی طرف ( یعنی دوزخ کی طرف) لے جایا جارہا ہے، میں یہ دیکھ کر بطریق حیرت واستعجاب اور ان کو نجات دلانے کے لئے کہونگا کہ یہ میرے صحابی ہیں یہ میرے صحابی ہیں (ان کو کہاں لے جاتے ہو ؟ ) خداوند تعالیٰ فرمائے گا۔ (بیشک یہ تمہارے صحابی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ) جب سے تم ان سے جدا ہوئے، یہ برابر دین سے برگشتہ اور پھرے رہے (اس لئے ان کو دوزخ میں بھیجا جا رہا ہے) میں ( یہ سن کر) وہی کہوں گا جو بندہ صالح یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ وکنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم۔ العزیز الحکیم تک یعنی جب تک میں ان کے درمیان رہا، میں ان کے احوال سے واقف رہا الخ۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
اور بےختنہ ہوں گے میں اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن جب مردے اپنی اپنی قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے جسم وبدن کے تمام اجزاء یک جا ہو کر مل جائیں گے اور پورا جسم اسی طرح کا ہوجائے گا جیسا کہ اس دنیا میں تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ ختنہ کی وہ کھال جو کاٹ کر پھینک دی جاتی ہے اور جو اس دنیا میں ضائع کردیئے جانے کے قابل ہے جب وہ قیامت کے دن اپنی جگہ (یعنی ختنہ کے مقام پر) واپس آکر جسم کا حصہ بن جائے گی تو دوسرے اجزاء جیسے بال اور ناخن وغیرہ بطریق روئی پیدا ہوں گے اور اپنی اپنی جگہ لگ جائیں گے ! پس یہ حقیقت نہ صرف یہ کہ حق تعالیٰ کے کمال علم اور کائنات کے ایک ایک جزوکل پر اس کے محیط ہونے کی دلیل ہے بلکہ اشیاء ممکنات کے تعلق سے اس کی قدرت کاملہ کی لامتناہی وسعتوں کی بھی علامت ہے۔ سب سے پہلے جس شخص کو لباس پہنایا جائے گا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ فضیلت محض اس لئے حاصل ہوگی وہ ان لوگوں میں سب سے پہلے شخص ہیں جو فقراء اور ضروت مندوں کو کپڑے پہناتے ہیں اور ان کی ستر پوشی کرتے ہیں یا یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وہ سب سے پہلے شخص ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بےلباس کیا گیا تھا جب کہ انہیں نمرود کی آگ میں ڈالا گیا تھا بس ان کی یہ مخصوص نوعیت کی فضیلت ہمارے پیغمبر ﷺ پر ان کی آ فضیلت کو ثابت نہیں کرتی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے لباس پہنایا جانا ان کے اعزازو اکرام کے طور پر ہوگا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے روحانی اور دینی باپ ہیں علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو اولیت حاصل ہوگی وہ حقیقی ہے یا اضافی ؟ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ اولیت حقیقی نہیں ہے بلکہ اضافی ہے یعنی ان کو آنحضرت ﷺ کے علاوہ اور تمام لوگوں میں سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا ! اس کی تائید اسی روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جن کپڑوں میں دفن کیا گیا ہے آپ ﷺ قیامت کے دن انہیں کپڑوں میں اٹھ کر ( میدان حشر میں) آئیں گے نیزجامع صغیر میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے ترمذی کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ انا اول من تنشق عنہ الارض فا کسی حلۃ من حلل الجنۃ ثم اقوم عن یمین العرش لیس احد من الخلائق یقوم ذلک المقام غیری۔ ( قیامت کے دن) سب سے پہلے میں زمین سے پھٹ کر اٹھونگا اور جنت کا لباس پہنوں گا اور پھر عرش کے دائیں طرف کھڑا ہوں گا اور اس جگہ مخلوقات میں سے میرے علاوہ کسی اور کو کھڑا ہونا نصیب نہیں ہوگا۔ میں وہی کہوں گا جو بندہ صالح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا الخ یعنی جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنی قوم کی گمراہی اور بدعقیدگی وبد عملی سے اپنی برأت کا اظہار کریں گے اور اپنی گمراہ قوم کے معاملہ کو حق تعالیٰ کے عدل و انصاف پر چھوڑ دیں گے اسی طرح میں بھی یہی کہوں گا کہ پروردگار ! میری امت کے یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں میری موجودگی کے درمیان ایمان وعمل کی سیدہی راہ پر گامزن تھے اور میں ان کا نگہبان وذمہ دار تھا۔ لیکن جب میں بھی دنیا سے اٹھ گیا تو انہوں نے اپنے نفس اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہو کر گمراہی کو اختیار کرلیا، اب ان کا معاملہ تیرا اوپر موقوف ہے تیری عادل ومنصف بار گاہ ان کے بارے میں جو چاہے فیصلہ کرے وہ سراسر عادلانہ اور منصفانہ ہوگا ! آنحضرت ﷺ نے اپنی اس بات کو واضح کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تعلق سے قرآن کریم کی جو آیت پڑھی وہ پوری یوں ہے ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ واَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ ١١٧ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ١١٨) 5 ۔ المائدہ 108-117) یعنی (قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ نصاری کو سنانے اور ان کو شرمندہ کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائے گا کہ کیا تم نے اپنی قوم کو عقیدہ تثلیث یعنی تین اللہ ماننے کی تلقین و تبلیغ کی تھی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برأت کا اظہار کریں گے اور کہیں گے کہ میں نے تو ان کو صرف تیری بندگی کرنے کی تلقین و تبلیغ کی تھی اور) جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا ان پر مطلع رہا ( اور ان کی نگہبانی کرتا رہا کہ یہ لوگ صحیح عقیدہ عمل کی روشنی سے دور نہ جا پڑیں) لیکن جب آپ نے مجھے ( اس دنیا) سے اٹھا لیا ( اور ان کے اوپر سے میری نگہبانی ختم ہوگی تو) پھر صرف آپ ان کے احوال پر مطلع رہے اور آپ ہر چیز کی پوری واقفیت رکھتے ہیں اب اگر ( ان کی بدعقیدگی وبد عملی کے لئے) آپ ان کو سزا دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور اگر ان کو معاف فرما دیں تو بیشک زبردست حکمت والے ہیں۔ واضح رہے کہ یہاں حدیث میں صحابہ سے مراد وہ صحابہ نہیں ہیں جن کو آپ ﷺ کی زندگی میں بھی اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ سے نسبت حاصل رہی اور دن کو حقیقت میں صحابہ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے بارے میں یہ یقینی طور پر معلوم ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ان میں سے کوئی بھی صحابی مرتد نہیں ہوا اور نہ کسی نے عقیدہ وعمل کی کوئی ایسی گمراہی اختیار کی جس کی بنا پر انہیں دوزخی کہا جاسکے لہٰذا صحابہ کرام سے مراد وہ اجڈ دیہاتی ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مشرف باسلام ہوگئے تھے لیکن آپ ﷺ کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب اور اسود وغیر کے اتباع کرنے کے سبب مرتد ہوگئے تھے۔
5449
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا . قلت يا رسول الله الرجال والنساء جميعا ينظر بعضهم إلى بعض ؟ فقال يا عائشة الأمر أشد من أن ينظر بعضهم إلى بعض . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ( میدان حشر میں) لوگوں کو ننگے پاؤں اور ننگے بدن جمع کیا جائے گا ( حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ) میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا مردو عورت سب کا یہی حال ہوگا اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو عریاں دیکھیں گے ؟ یعنی اس طرح تو عورتیں مردوں کو اور مرد عورتوں کو ننگا دیکھیں گے تو پھر سب کو عریاں حالت میں جمع کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عائشہ اس دن کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہولناک ہوگا کہ کوئی کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھے۔ ( بخاری ومسلم )

تشریح
مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں گو تمام لوگ ننگے آئیں گے لیکن ہر شخص کی عریانیت ایک دوسرے کی نگاہ سے اوجھل ہوگی اور کوئی کسی کو ننگا نہیں دیکھے گا کیونکہ اس دن کا معاملہ ہی ایسا ہوگا کہ ہر شخص اپنی اپنی فکر میں مستغرق ہوگا ہر طرف نامہ اعمال پھیلے ہونگے اور لوگ حساب ومواخذہ کے مراحل اور قیامت کی ہولنا کیوں میں اس طرح گرفتار ہونگے کہ کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوگی کہ کون کس حال میں ہے اور کسی کو کسی کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے۔
5450
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس أن رجلا قال يا نبي الله كيف يحشر الكافر على وجهه يوم القيامة ؟ قال أليس الذي أمشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على أن يمشيه على وجهه يوم القيامة ؟ . متفق عليه .
اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا نبی اللہ ﷺ قیامت کے دن کافر منہ کے بل چل کر کس طرح میدان حشر میں آئیں گے یعنی کسی کے لئے منہ کے بل چلنا کیسے ممکن ہوگا ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ جس ذات ( یعنی اللہ تعالیٰ نے اس (کافر) کو دنیا میں پاؤں کے بل چلایا وہی ذات اس کو قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ (بخاری ومسلم )
5451
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يلقى إبراهيم أباه آزر يوم القيامة وعلى وجه آزر قترة وغبرة فيقول له إبراهيم ألم أقل لك لا تعصني ؟ فيقول له أبوه فاليوم لا أعصيك . فيقول إبراهيم يا رب إنك وعدتني ألا تخزني يوم يبعثون فأي خزي أخزى من أبي الأبعد فيقول الله تعالى إني حرمت الجنة على الكافرين ثم يقال لإبراهيم ما تحت رجليك ؟ فينظر فإذا هو بذيخ متلطخ فيؤخذ بقوائمه فيلقى في النار . رواه البخاري . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آذر سے اس حال میں ملیں گے کہ آذر کا چہرہ ( غم وفکر کے سبب) سیاہ ہوگا اور غبار آلود ہوگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ( یہ دیکھ کر حسرت و افسوس کے ساتھ) کہیں گے کہ کیا (دنیا میں) تم سے یہ نہیں کہا کرتا تھا کہ ( میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ بتاتا اور تعلیم دیتا ہوں اس میں میری نافرمانی نہ کیا کر ؟ ان کا باپ آذر ان سے کہے گا کہ میں آج کے دن تمہاری نافرمانی نہیں کروں گا ( خدارا میری شفاعت کرو اور مجھے نجات دلاؤ) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ( باپ کی یہ بات سن کر) عرض رسا ہوں گے کہ میرے پروردگار ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اس دن جب لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا ( میدان حشر میں) تو مجھ کو ذلیل ورسوا نہ کرے گا پس میرے باپ کی رسوائی وذلت سے بڑی ذلت و رسوائی میرے لئے اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ تیری رحمت سے اسقدر دور رہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ابراہیم آج کے دن تمہارے باپ کے حق میں مغفرت ونجات کی تمہاری درخواست منظور نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ کافر ہے اور ( حقیقت یہ ہے کہ میں نے جنت کو کافروں کے اوپر حرام کردیا ہے پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا جائے گا کہ نیچے دیکھو تمہارے پیروں میں کیا چیز ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ( یہ سن کر) اپنے پیروں کی طرف نگاہ کریں گے تو دیکھیں گے کہ ( ان کا باپ) آذر کفتار یعنی بجو کی شکل میں مٹی اور گوبر میں لتھڑا ہوا پڑا ہے پھر اس ( آذر) کے پاؤں پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (بخاری)

تشریح
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ آذر کی صورت کو بجو جیسے حقیر جانور کی شکل و صورت میں اس لئے بدل دیا جائے گا تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل سے محبت پدری جاتی رہے اور وہ اس سے علیحدہ ہوجائیں یا اس لئے کہ ان کی سبکی نہ ہو کہ ان کا باپ دوزخ میں ڈالا گیا۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دنیا ہی میں اپنے باپ سے بیزار ہوگئے تھے اور اس سے اپنی برأت کا اظہار کرچکے تھے لیکن جب قیامت کے دن میدان حشر میں اس کو دیکھیں گے تو بےاختیار محبت پدری ان کے دامن گیر ہوجائے گی اور وہ اس کے لئے مغفرت ونجات کی خواہش کریں گے کہ شاید ان کی درخواست و شفاعت قبول ہوجائے مگر جب ان کی دراخوست و شفاعت قبول نہیں ہوگی اور وہ اپنے باپ کو ایک حقیر شکل و صورت میں بدلا ہوا دیکھیں گے تو ناامید ہوجائیں گے اور اس سے ہمیشہ کے لئے اپنی برأت و بیزاری ظاہر کریں گے اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یقین نہیں تھا کہ ان کا باپ آذر کفر کی حالت میں مرا ہے ان کا گمان تھا کہ ممکن ہے وہ پوشیدہ طور پر ایمان لے آیا ہو اور مجھے اس کی اطلاع نہ کی ہو اور شاید وہ قیامت کے دن اپنے اسی گمان کی بناء پر اس کے حق میں شفاعت کریں گے البتہ چونکہ ظاہری طور پر وہ کفر ہی کی حالت میں تھا اس لئے انہوں نے دنیا میں ظاہری احوال کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے اپنی برأت و بیزاری کا اظہار کیا اور پھر جب قیامت میں اس کا کفر کی حالت میں مرنا یقین کے ساتھ معلوم ہوجائے گا تو اپنے باپ سے ان کی وہ بیزاری وبرات ( جو انہوں نے ظاہر کی تھی) ہمیشہ کے لئے ہوجائے گی۔
5452
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرق الناس يوم القيامة حتى يذهب عرقهم في الأرض سبعين ذراعا ويلجمهم حتى يبلغ آذانهم . متفق عليه .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ( میدان حشر میں جب حساب کتاب کی ابتداء ہوگی اور نامہ اعمال کھلنے شروع ہوں گے تو) لوگوں کو پسینہ آئے گا اور وہ پسینہ اس قدر بہے گا کہ زمین کے اندر ستر گز تک چلا جائے گا اور ان کے لئے لگام بن جائے گا یہاں تک کہ ان کے کانوں تک پہنچ جائے گا یعنی وہ پسینہ ان کے دہنوں تک پہنچ کر لگام کی طرح ان کے منہ کو جکڑے گا کہ وہ بات چیت کرنے پر بھی قادر نہیں ہوسکیں گے۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
لوگوں سے سارے لوگ مراد ہیں ان میں جنات بھی شامل ہیں کہ ان کو بطریق ادنیٰ پسینہ آئے گا اور بہے گا پس جنات کا ذکر نہ کرنا اکتفا کی قبیل سے ہے، نیز ظاہر یہ ہے کہ انبیاء اور اولیاء ان لوگوں سے مستثنی ہوں گے واضح رہے کہ پسینہ کا اتنی شدت کے ساتھ آنا اور بہنا اس سبب سے ہوگا کہ وہ وقت سخت قسم کی ہولناکی کا ہوگا، نامہ، اعمال کھلنے پر حیاوخجالت اور ندامت و ملامت کا غلبہ ہوگا سوج کی تپش اور آگ کی لپک بہت زیادہ ہوگی۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ لوگوں کو اتنی کثرت سے پسنہ آئے گا کہ وہ ان کے لئے لگام بن جائے گا تو اس سلسلے میں زیادہ وضاحت آنے والی حدیث سے ہوگی جس سے معلوم ہوگا کہ پسینہ کی کثرت وشدت کے مختلف احوال ہوں گے جن سے لوگ اپنے اپنے مرتبہ اعمال کے اعتبار سے دو چار ہوں گے۔
5453
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن المقداد قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول تدنى الشمس يوم القيامة من الخلق حتى تكون منهم كمقدار ميل فيكون الناس على قدر أعمالهم في العرق فمنهم من يكون إلى كعبيه ومنهم من يكون إلى ركبتيه ومنهم من يكون إلى حقويه ومنهم من يلجمهم العرق إلجاما وأشار رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده إلى فيه . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت مقداد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن ( میدان حشر میں) سورج کو مخلوق کے نزدیک کردیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ان سے ایک میل کے فاصلہ پر رہ جائے گا پس تمام لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینہ میں شرابور ہوں گے چناچہ ان میں سے بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک پسینہ ہوگا بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا بعض لوگ وہ ہوں گے جو کمر تک پسینہ میں ڈوبے ہوں گے اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے لئے ان کا پسینہ لگام بن جائے گا یعنی ان کے داہنے تک پسینہ ہوگا بلکہ دہانے کے اندر تک پہنچ جائے گا یہ فرما کر رسول کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اپنے دہانہ، مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔ ( مسلم )

تشریح
میل عرب میں کوس ( یعنی ١٧٦٠ گز کے فاصلہ) کو بھی کہتے ہیں اور سرمہ لگانے کی سلائی کو بھی کہا جاتا ہے، پس بعض حضرات نے تو ان سے ایک میل کے فاصلہ پر رہ جانے سے ایک کوس کے بقدر فاصلہ مراد لیا ہے اور بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اس دن سورج سرمہ لگانے کی سلائی بقدر فاصلہ پر ہوگا ! بہر حال اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ میدان حشر میں سورج لوگوں کے بہت نزدیک آجائے گا۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اس دن لوگوں کو جو پسینہ آئے گا وہ ان کے اعمال کے مراتب کے بقدر ہوگا، چناچہ سب سے کم پسینہ جن لوگوں کو ہوگا وہ لوگ ہوں گے جن کے اعمال بہت زیادہ اور اچھے ہوں گے اور وہ لوگ صرف ٹخنوں تک پسینہ میں شرابور ہوں گے، اسی پر دوسروں کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جس شخص کے نیک اعمال جتنے کم اور برے اعمال جتنے زیادہ ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ پسینہ میں غرق ہوگا۔ دو اشکال اور ان کا جواب اس حدیث کے سلسلے میں دو اشکال پیدا ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ ہے کہ اس وقت سورج ہم سے کروڑوں میل کے فاصلہ پر ہونے کے باوجود اتنی زیادہ حرارت رکھتا ہے کہ اس کی براہ رست تمازت کسی انسان کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے، تو جب میدان حشر میں سورج صرف ایک میل کے فاصلہ پر رہ جائے گا تو اس کی حرارت و تمازت نہ صرف یہ کہ قابل برداشت کیسے ہوگی بلکہ اس کی زد میں آنے والے لوگ زندہ کیسے رہیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آخرت کے اجسام دنیا کے اجسام کی طرح نہیں ہوں گے اس لئے وہاں کے اجسام پر گزرنے والے احوال پر قیاس نہیں کیا جاسکتا، علاوہ ازیں آخرت میں چونکہ موت نہیں ہوگی اس لئے وہاں لوگ سخت سے سخت مشقت و تکلیف اٹھالیں گے دوسرا اشکال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ پسینہ دریا کی موج کی طرح بعض لوگوں کے دہانوں تک پہنچ جائے گا تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ دوسرے لوگوں کے سحل تک پہنچ کر رک جائے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ ہر شخص کے پسینہ کو اس کے اعمال کے تناسب سے روکے رکھے گی کہ کسی کا پسینہ تو اس کے دہانوں تک پہنچ جائے گا اور کوئی اپنے پسینہ میں صرف ٹخنوں تک غرق رہے گا جیسا کہ اس کا مشاہدہ اس دنیا میں بھی ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریائے نیل کی وہ موجیں جنہوں نے دوسروں کو غرقاب کردیا تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے لئے ساکن وجامد ہوگئی تھیں ! علاوہ ازیں وہی بات یہاں بھی کہی جاسکتی ہے کہ آخرت کے معاملات بالکل جداگانہ نوعیت کے ہوں گے ان کو یہاں دنیا کے حالات و معاملات پر قیاس نہیں کرنا چائے، وہاں کے تمام امور عادت اور دنیاوی نظام قدرت کے بالکل خلاف انوکھے طور پر ظاہر ہوں گے، کیا ایسا نہیں ہوتا کہ ایک قبر میں دو مردے ہوتے ہیں اور دونوں پر الگ الگ حالات طاری ہوتے ہیں کہ ان میں سے ایک تو عذاب میں مبتلا رہتا ہے اور دوسرا راحت وچین کے ساتھ ہوتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے احوال سے بیخبر رہتے ہیں اور اس دنیا میں اس کی نظیر یہ ہے کہ دو شخص ایک طرح کی نیند سوتے ہیں اور وہ دونوں الگ الگ نوعیت کے خواب دیکھتے ہیں، ایک تو خواب دیکھ کر رنج وغم محسوس کرتا ہے اور دوسرا خواب دیکھ کر خوش ہوتا ہے اس کو بھی چھوڑئیے، کیا ایسا نہیں ہوتا کہ ایک ہی مکان میں دو آدمی رہتے ہیں، ان میں سے ایک تو صحت و شادمانی کی حالت میں ہوتا ہے اور دوسرا مرض و مصیبت میں مبتلا ہو کر رنج و تکلیف اٹھاتا ہے ؟