hadith book logo

Mishkaat Shareef

64. وقوف عرفات کا بیان

مشكاة المصابيح

2634
Mishkaat Shareef
صحیح
عرفہ ایک مخصوص جگہ کا نام ہے اور یہ زمان کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے بایں طور کہ نویں ذی الحجہ کو عرفہ کا دن کہتے ہیں۔ لیکن عرفات جمع کے لفظ کے ساتھ صرف اس مخصوص جگہ ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ جمع اطراف و جوانب کے اعتبار سے ہے۔ عرفات مکہ مکرمہ سے تقریبا ساڑھے پندرہ میل (پچیس کلو میٹر) کے فاصلہ پر واقع ہے یہ ایک وسیع وادی یا میدان ہے جو اپنے تین طرف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے، درمیان میں اس کے شمالی جانب جبل الرحمۃ ہے۔ عرفات کی وجہ تسمیہ کے متعلق بہت اقوال ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم اور حضرت حوا جب جنت سے اتر کر اس دنیا میں آئے تو وہ دونوں سب سے پہلے اسی جگہ ملے۔ اس تعارف کی مناسبت سے اس کا نام عرفہ پڑگیا ہے اور یہ جگہ عرفات کہلائی۔ ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب اس جگہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو افعال حج کی تعلیم دے رہے تھے تو وہ اس دوران ان سے پوچھتے کہ عرفت (یعنی جو تعلیم میں نے دی ہے) تم نے اسے جان لیا ؟ حضرت ابراہیم جواب میں کہتے عرفت (ہاں میں جان لیا) اور آخرکار دونوں کے سوال و جواب میں اس کلمہ کا استعمال اس جگہ کی وجہ تسمیہ بن گیا۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔ وقوف عرفات یعنی نویں ذی الحجہ کو ہر حاجی کا میدان عرفات میں پہنچنا اس کی ادائیگی حج کے سلسلہ میں ایک سب سے بڑا رکن ہے جس کے بغیر حج نہیں ہوتا، چناچہ حج کے دو رکنوں یعنی طواف الافاضہ اور وقوف عرفات میں وقوف عرفات چونکہ حج کا سب سے بڑا رکن ہے اس لئے اگر یہ ترک ہوگیا تو حج ہی نہیں ہوگا۔
2635
Mishkaat Shareef
صحیح
عن محمد بن أبي بكر الثقفي أنه سأل أنس بن مالك وهما غاديان من منى إلى عرفة : كيف كنتم تصنعون في هذا اليوم مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فقال : كان يهل منا المهل فلا ينكر عليه ويكبر المكبر منا فلا ينكر عليه
حضرت محمد بن ابوبکر ثقفی (تابعی) کے بارے میں منقول ہے انہوں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا جب کہ وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفات جا رہے تھے، کہ آپ لوگ رسول کریم ﷺ کے ساتھ اس عرفہ کے دن کیا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہم میں سے لبیک کہنے والا لبیک کہا کرتا تھا اور اس کو اس سے منع نہیں کیا جاتا تھا اور تکبیر کہنے والا تکبیر کہا کرتا تھا اور اس کو اس سے منع نہیں کیا جاتا تھا۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
علامہ طیبی کہتے ہیں کہ عرفہ کے دن حاجیوں کو تکبیر کہنی جائز تو ہے جیسا کہ اور اذکار جائز ہیں لیکن سنت نہیں ہے بلکہ اس دن ان کے لئے سنت تلبیہ میں مصروف رہنا ہے جب تک کہ وہ جمرہ عقبہ کی رمی سے فارغ نہ ہوجائیں۔ یہ بات تو معلوم ہی ہے کہ عرفہ کی صبح سے ایام تشریق کے آخر یعنی ذی الحجہ کی تیرھویں تاریخ کی عصر تک ہر فرض نماز پڑھنے والے کے لئے خواہ حج میں ہو یا حج کے علاوہ ہو، تکبیر کہنی واجب ہے۔
2636
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نحرت ههنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم . ووقفت ههنا وعرفة كلها موقف . ووقفت ههنا وجمع كلها موقف . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تو اس جگہ قربانی کی ہے ویسے منیٰ میں ہر جگہ قربان گاہ ہے لہٰذا تم اپنے ڈیروں میں قربانی کرو اور میں نے تو اس جگہ وقوف کیا ہے ویسے عرفات میں ہر جگہ موقف ہے اور میں نے تو اس جگہ وقوف کیا ہے ویسے مزدلفہ کی ہر جگہ موقف ہے۔ (مسلم)

تشریح
اس جگہ سے آنحضرت ﷺ نے منیٰ کی اس خاص جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں آپ ﷺ نے قربانی کی، چناچہ یہ جگہ منحر النبی (نبی کریم ﷺ کے قربانی کرنے کی جگہ) کہی جاتی ہے چناچہ آپ ﷺ نے اس جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ میں نے تو یہاں قربانی کی ہے ویسے منیٰ میں کسی بھی جگہ قربانی کی جاسکتی ہے کیونکہ وہاں ہر جگہ قربانی کرنا سنت ہے، اسی طرح آپ ﷺ نے عرفات میں اپنے وقوف کی جگہ اشارہ کر کے فرمایا کہ میں تو عرفات میں اس جگہ سوائے وادی عرفہ کے وقوف کیا جاسکتا ہے۔ مزدلفہ کو جمع بھی کہتے ہیں چناچہ آپ ﷺ نے یہاں کے بارے میں اپنے وقوف کے جگہ کی طرف کہ جو مشعر حرام کے قریب ہے اشارہ کر کے فرمایا کہ میں نے تو یہاں وقوف کیا ہے ویسے مزدلفہ میں کسی بھی جگہ علاوہ وادی محسر کے وقوف کیا جاسکتا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ منیٰ میں کسی بھی جگہ قربانی کی جاسکتی ہے، عرفات اور مزدلفہ میں کسی بھی جگہ علاوہ وادی عرفہ اور وادی محسر کے وقوف کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس جگہ قربانی کی ہے، جس جگہ وقوف کیا ہے، اسی جگہ قربانی کرنا یا وقوف کرنا بہرحال افضل ہے۔
2637
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة وإنه ليدنو ثم يباهي بهم الملائكة فيقول : ما أراد هؤلاء . رواه مسلم
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ بندہ کو عرفہ کے دن سے زیادہ آگ سے آزاد کرتا ہو (یعنی اس عرفہ کے دن عرفات میں اللہ تعالیٰ سب دنوں سے زیادہ بندوں کو آگ سے نجات اور رستگاری کا پروانہ عطا فرماتا ہے) اور بلاشبہ (اس دن) اللہ تعالیٰ (اپنی رحمت و مغفرت کے ساتھ) بندوں کے قریب ہوتا ہے پھر فرشتوں کے سامنے حج کرنے والوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ (یہ جو کچھ بھی چاہتے ہیں) میں انہیں وہ دوں گا۔ (مسلم)
2638
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عمرو بن عبد الله بن صفوان عن خال له يقال له يزيد بن شيبان قال : كنا في موقف لنا بعرفة يباعده عمرو من موقف الإمام جدا فأتانا ابن مربع الأنصاري فقال : إني رسول رسول الله صلى الله عليه و سلم إليكم يقول لكم : قفوا على مشاعركم فإنكم على إرث من إرث أبيكم إبراهيم عليه السلام . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه
حضرت عمرو بن عبداللہ بن صفوان (تابعی) اپنے ماموں سے کہ جن کا نام یزید بن شیبان تھا، نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا۔ ہم میدان عرفات میں اس جگہ پر ٹھہرے ہوئے تھے جو ہمارے لئے متعین تھی۔ اور عمرو اس جگہ کو امام کے موقف (ٹھہرنے کی جگہ) سے بہت دور بیان کرتے تھے، چناچہ ابن مربع الانصاری ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رسول کریم ﷺ کا ایلچی بن کر تمہارے پاس آیا ہوں اور آنحضرت ﷺ کا تمہارے لئے یہ پیغام ہے کہ تم لوگ اپنے مشار (یعنی اپنی عبادت کی جگہ) ٹھہرے رہو کیونکہ تم اپنے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی میراث (کی پیروی) پر قائم ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)

تشریح
عرب میں زمانہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ میدان عرفات میں ہر قبیلہ اور ہر قوم کے لئے الگ الگ ایک جگہ موقف کے لئے متعین ہوتی تھی، ہر شخص اسی جگہ وقوف کرتا جو اس کی قوم کے لئے متعین ہوتی، چناچہ حضرت یزید بن شیبان کے قبیلہ کا موقف جس جگہ تھا وہ جگہ اس مقام سے بہت دور تھی جہاں آنحضرت ﷺ نے وقوف فرمایا تھا، لہٰذا حدیث امام کے موقف سے مراد آنحضرت ﷺ کا موقف ہے۔ بہرکیف میدان عرفات میں آنحضرت ﷺ سے اس دوری اور بعد کی بنا پر یزید بن شیبان نے چاہا کہ آنحضرت ﷺ سے یہ عرض کریں کہ آپ ﷺ ہمیں بھی اپنے قریب ہی وقوف کرنے کی اجازت عطا فرمائیں۔ آنحضرت ﷺ نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ اس بات کی درخواست کرنے والے ہیں تو آپ ﷺ نے ایک صحابی کے ذریعے کہ جن کا نام ابن مربع تھا یہ پیغام بھیجا کہ تم لوگ اپنے قدیمی موقف پر ہی وقوف کرو چناچہ حدیث مشاعر سے مراد ان کا قدیمی موقف ہے اور تم لوگ اپنے اس موقف سے جو تمہارے دادا سے تمہارے لئے متعین چلا آ رہا ہے منتقل ہونے کی خواہش نہ کرو، کیونکہ اول تو پورا میدان عرفات موقف ہے۔ دوسرے یہ کہ میدان عرفات میں امام کے موقف کی دوری یا نزدیکی سے کوئی فرق نہیں پڑتا پھر یہ کہ اگر ہر شخص یہی خواہش کرنے لگے کہ میں اپنے امام اور اپنے امیر کے قریب ہی وقوف کروں تو یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے چناچہ آپ ﷺ نے یہ بات ان کی تسلی کے لئے کہلائی تاکہ آپس میں نزاع و اختلاف کی صورت پیدا نہ ہوجائے۔
2639
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل عرفة موقف وكل منى منحر وكل المزدلفة موقف وكل فجاج مكة طريق ومنحر . رواه أبو داود والدارمي
حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا پورا میدان عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے، سارا منیٰ قربان گاہ ہے، سارا مزدلفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور مکہ کا ہر راستہ (اور اس کی ہر گلی) راستہ اور قربانی کی جگہ ہے۔ (ابوداؤد، دارمی)

تشریح
حدیث کے آخری کلمات کا مطلب یہ ہے کہ جس راستہ سے بھی مکہ میں جائیں درست ہے اور مکہ میں جس جگہ چاہیں قربانی کا جانور ذبح کریں جائز ہے کیونکہ قربانی کا جانور حرم میں ذبح کرنا چاہئے اور مکہ حرم میں واقع ہے، یہ اور بات ہے کہ قربانی کا جانور منیٰ ہی میں ذبح کرنے کا دستور بن گیا ہے کیونکہ قربانی کے دن کہ وہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے حاجی منیٰ میں ہوتے ہیں اس لئے اپنی قربانی بھی وہیں کرتے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بات بیان جواز کی خاطر ارشاد فرمائی ورنہ تو وہی جگہ افضل ہے جہاں آپ ﷺ نے وقوف فرمایا جہاں آپ ﷺ نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور وہی راستہ افضل ہے جس سے آپ ﷺ مکہ آئے۔
2640
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن خالد بن هوذة قال : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يخطب الناس يوم عرفة على بعير قائما في الركابين . رواه أبو داود
حضرت خالد بن ہوذہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ عرفہ کے دن (میدان عرفات میں) اونٹ کے اوپر دونوں رکابوں پر کھڑے ہوئے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ (ابوداؤد)

تشریح
بلندی پر ہونے کے لئے آپ ﷺ رکابوں پر کھڑے ہوئے اور پھر آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا تاکہ دور و نزدیک کے سبھی لوگ آپ ﷺ کا خطبہ سن سکیں۔
2641
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الدعاء دعاء يوم عرفة وخير ما قلت أنا والنبيون من قبلي : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير . رواه الترمذيوروى مالك عن طلحة بن عبيد الله إلى قوله : لا شريك له
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد (حضرت شعیب) سے اور وہ اپنے دادا (حضرت عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ سب سے بہتر دعا عرفہ کے دن کی ہے (خواہ وہ میدان عرفات میں مانگی جائے یا کسی بھی جگہ) اور ان کلمات میں کہ جو میں نے یا مجھ سے پہلے کے نبیوں نے بطور دعا پڑھے ہیں سب سے بہتر یہ کلمات ہیں لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل چیز قدیر۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا و تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے، نیز مالک نے اس روایت کو طلحہ بن عبیداللہ سے الفاظ لا شریک لہ تک نقل کیا ہے۔
2642
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن طلحة بن عبيد الله بن كريز أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما رئي الشيطان يوما هو فيه أصغر ولا أدحر ولا أحقر ولا أغيظ منه في يوم عرفة وما ذاك إلا لما يرى من تنزل الرحمة وتجاوز الله عن الذنوب العظام إلا ما رئي يوم بدر . فقيل : ما رئي يوم بدر ؟ قال : فإنه قد رأى جبريل يزع الملائكة . رواه مالك مرسلا وفي شرح السنة بلفظ المصابيح
حضرت طلحہ بن عبیداللہ بن کریز کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں شیطان کو اتنا زیادہ ذلیل و راندہ اور اتنا زیادہ حقیر پر غیظ دیکھا گیا ہو جتنا کہ وہ عرفہ کے دن ہوتا ہے (یعنی یوں تو شیطان ہمیشہ ہی آدمیوں کو نیکیاں کرتا ہوا دیکھ کر پر غیظ و حقیر ہوتا ہے مگر عرفہ کے دن سب دنوں سے زیادہ پر غیظ ہوتا ہے اور ذلیل و خوار بھی) اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ (اس دن ہر خاص و عام پر) اللہ کی نازل ہوتی ہوئی رحمت اور اس کی طرف سے بڑے بڑے گناہوں کی معافی دیکھتا ہے۔ ہاں بدر کے دن بھی شیطان کو ایسا ہی دیکھا گیا تھا (یعنی غزوہ بدر کے دن جب مسلمانوں کو عزت اور اسلام کو شوکت حاصل ہوئی تو اس دن بھی شیطان عرفہ ہی کے دن کی طرح یا اس سے بھی زیادہ ذلیل و خوار اور پر غیظ تھا) چناچہ (بدر کے دن) شیطان نے دیکھا تھا کہ حضرت جبرائیل (مشرکین سے لڑنے کے لئے) فرشتوں کی صفوں کو ترتیب دے رہے تھے۔ اس روایت کو امام مالک نے بطریق ارسال نقل کیا ہے، نیز ششرح السنہ میں یہ روایت مصابیح کے الفاظ کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔
2643
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كان يوم عرفة إن الله ينزل إلى السماء الدنيا فيباهي بهم الملائكة فيقول : انظروا إلى عبادي أتوني شعثا غبرا ضاجين من كل فج عميق أشهدكم أني قد غفرت لهم فيقول الملائكة : يا رب فلان كان يرهق وفلان وفلانة قال : يقول الله عز و جل : قد غفرت لهم . قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فما من يوم أكثر عتيقا من النار من يوم عرفة . رواه في شرح السنة
حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے (یعنی رحمت اور احسان و کریم کے ساتھ قریب ہوتا ہے) اور پھر فرشتوں کے سامنے حاجیوں پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ذرا میرے بندوں کی طرف تو دیکھو، یہ میرے پاس پراگندہ بال، گرد آلود اور لبیک و ذکر کے ساتھ آوزایں بلند کرتے ہوئے دور، دور سے آئے ہیں، میں تمہیں اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا، (یہ سن کر) فرشتے کہتے ہیں کہ پروردگار ان میں فلاں شخص وہ بھی ہے جس کی طرف گناہ کی نسبت کی جاتی ہے اور فلاں شخص اور فلاں عورت بھی ہے جو گنہ گار ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انہیں بھی بخش دیا۔ پھر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ایسا کوئی دن نہیں ہے جس میں یوم عرفہ کی برابر لوگوں کو آگ سے نجات و رستگاری کا پروانہ عطا کیا جاتا ہو۔ (شرح السنہ)