Mishkaat Shareef
129. مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان
مشكاة المصابيح
3896
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فلم تحل الغنائم لأحد من قبلنا ذلك بأن الله رأى ضعفنا وعجزنا فطيها لنا
حضرت ابوہریرہ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا پس غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی ( امت کے لئے حلال نہیں تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ( مالی طور پر) کمزور عاجز دیکھا تو اس ( مال غنیمت) کو ہمارے لئے حلال قرار دیا۔
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ فلم تحل میں حرف فا ( پس) عاطفہ ہے جس کے ذریعہ ارشاد گرامی کے ان جملوں پر عطف کیا گیا ہے جو اس سے پہلے فرمائے گئے تھے، حاصل یہ کہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے وہ دراصل اس ارشاد گرامی کا تتمہ ہے جو یہاں نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس باب کی تیسری فصل میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں منقول ہے۔
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ فلم تحل میں حرف فا ( پس) عاطفہ ہے جس کے ذریعہ ارشاد گرامی کے ان جملوں پر عطف کیا گیا ہے جو اس سے پہلے فرمائے گئے تھے، حاصل یہ کہ یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے وہ دراصل اس ارشاد گرامی کا تتمہ ہے جو یہاں نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس باب کی تیسری فصل میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت میں منقول ہے۔
3897
Mishkaat Shareefوعن أبي قتادة قال : خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم عام حنين فلما التقينا كانت للمسلمين جولة فرأيت رجلا من المشركين قد علا رجلا من المسلمين فضربته من ورائه على حبل عاتقه بالسيف فقطعت الدرع وأقبل علي فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت ثم أدركه الموت فأرسلني فلحقت عمر بن الخطاب فقلت : ما بال الناس ؟ قال : أمر الله ثم رجعوا وجلس النبي صلى الله عليه و سلم فقال : من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه فقلت : من يشهد لي ؟ ثم جلست ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم مثله فقمت فقال : ما لك يا أبا قتادة ؟ فأخبرته فقال رجل : صدق وسلبه عندي فأرضه مني فقال أبو بكر : لا ها الله إذا لا يعمد أسد من أسد الله يقاتل عن الله ورسوله فيعطيك سلبه . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : صدق فأعطه فأعطانيه فاتبعت به مخرفا في بني سلمة فإنه لأول مال تأثلته في الإسلام
اور حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ ( فتح مکہ کے بعد) غزوہ حنین کے سال ہم ( جہاد کے لئے نبی کریم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے، جب کافروں سے ہمارا مقابلہ ہوا تو ( کچھ دیر کے لئے) مسلمانوں کو شکست کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان پر غالب آگیا ہے، میں نے اس کے پیچھے سے اس کی گردن کی رگ پر تلوار کا ( بھر پور) وار کر کے اس کی زرہ کاٹ ڈالی، مجھ پر جھپٹ پڑا اور اس نے اتنے زور سے مجھے دبوچا کہ اس کی وجہ سے موت کا مزہ آگیا ( یعنی میں مرنے کے قریب ہوگیا، پھر ( میرے ایک اور وار سے) موت نے اسے دبا لیا اور میں اس سے چھوٹ گیا، اس کے بعد میں حضرت عمر ابن خطاب سے ملا اور کہا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا (کہ دشمن کے مقابلہ سے بھاگ رہے ! ؟ ) انہوں نے کہا اللہ کا حکم یہی ہے یعنی یہ جو کچھ ہو رہا ہے قضا وقدر الہیٰ کے مطابق ہو رہا ہے۔ پھر لوگ ( اس عارضی پسپائی کے بعد دوبارہ لڑنے کے لئے میدان جنگ میں) واپس آگئے اور نبی کریم ﷺ ( ایک جگہ) بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جو شخص دشمن کے) کسی آدمی کو قتل کر دے اور اس کے قتل کرنے کا کوئی گواہ ہو ( اور خواہ ایک ہی گواہ ہو تو مقتول کا چھینا ہوا مال اسی ( قتل کرنے والے) شخص کا ہوگا۔ ( یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور ارادہ کیا کہ اس مشرک کو قتل کرنے کا واقعہ بیان کروں، لیکن ( دل میں) میں نے کہا کہ میری گواہی کون شخص دے گا ( کہ میں نے اس مشرک کو قتل کیا ہے۔ ) آخر میں بیٹھ گیا، نبی کریم ﷺ نے اسی طرح پھر فرمایا ( کہ جو شخص دشمن کے کسی آ دمی کو قتل کرنے کا کوئی گواہ ہو تو مقتول کا چھینا ہوا مال اسی کا ہوگا) میں نے پھر ( کھڑے ہو کر اپنے واقعہ بیان کرنا چاہا لیکن میں نے دل میں) کہا کہ میری گواہی کون شخص دے گا ! ؟ اور میں پھر بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے پھر اسی طرح (تیسری مرتبہ) فرمایا میں ( جب اس مرتبہ بھی) کھڑا ہوا ( لیکن زبان سے کچھ نہ کہہ سکا) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ابوقتادہ ! کیا بات ہے (تم کسی غرض مند اور طالب حاجت کی طرح بار بار کھڑے ہوتے ہو اور بیٹھ جاتے ہو مگر زبان سے کچھ نہیں کہتے ؟ ) تب میں نے آنحضرت ﷺ کو بتایا ( کہ میں نے فلاں مشرک کو قتل کیا ہے) ایک شخص نے ( میری بات سن کر) کہا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں اور اس مشرک کا مال میرے پاس موجود ہے، آپ ﷺ ان کو میری طرف سے راضی کر دیجئے ( کہ یہ اپنے حق سے دستبر دار ہوجائیں اور ان کو اس مشرک کے مال کے عوض کوئی اور چیز دے دی جائے یا ان کو اس بات پر رضا مند کر دیجئے کہ یہ میرے ساتھ کسی اور طرح مصالحت کرلیں ) ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے ( یہ سن کر اس شخص سے) کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا، رسول کریم ﷺ اس معاملہ میں ان ( ابوقتادہ) کی مرضی کے خلاف کوئی ارادہ نہیں کریں گے ابوقتادہ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خو شنودی کے لئے ( دشمن سے) لڑتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جس مال پر ان ( ابوقتادہ) کا حق ہے وہ تمہیں دے دیں ! ؟ نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا کہ ابوبکر ٹھیک کہتے ہیں، تم ابوقتادہ کو اس مشرک ( مقتول) کا مال دے دو ۔ چناچہ اس شخص نے اس کا مال مجھ کو دے دیا اور میں نے ( بعد میں) اس مال کے ذریعہ ایک باغ خریدا جو قبیلہ بنو سلمہ میں واقع تھا اور یہ سب سے پہلا مال تھا جو مجھے اسلام لانے کے بعد حاصل ہوا۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
اس غزوہ ( جنگ) میں مسلمانوں کو کچھ دیر کے لئے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ اسلامی لشکر کے کچھ لوگوں نے ایک موقع پر پسپائی اختیار کی جس سے دشمن کے لشکر کو بظاہر حاوی ہونے کا موقع مل گیا لیکن آنحضرت ﷺ میدان جنگ میں اپنی جگہ پر قائم رہے، آپ ﷺ ایک خچر پر سوار تھے جس کی باگ حضرت عباس ابن عبد المطلب اور حضرت ابوسفیان بن الحارث نے تھام رکھی تھی۔ اس عارضی پسپائی کے موقع پر جب کہ اسلامی لشکر میں تقریبا افراتفری کا عالم تھا آپ ﷺ نہ صرف بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کے مقابلے پر ڈٹے رہے بلکہ آگے بڑھ بڑھ کر دشمن کے لشکر پر تن تنہا حملہ کرنے کا ارادہ کرتے تھے اور یہ فرمائے جاتے تھے۔ انا النبی لا کذب، انا ابن عبد المطلب۔ یعنی میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور جھوٹ نہیں کہتا سچا نبی ہوں۔ لیکن یہ دونوں حضرات جنہوں نے آپ ﷺ کے خچر کی باگ تھام رکھی تھی آپ ﷺ کو روک دیتے تھے، آخر کار حق تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو ثابت قدمی بخشی اور اس نے دوبارہ دشمن پر حملہ کر کے اس کے لشکر کو تہس نہس کردیا اور آخر فتح حاصل کی۔
تشریح
اس غزوہ ( جنگ) میں مسلمانوں کو کچھ دیر کے لئے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ اسلامی لشکر کے کچھ لوگوں نے ایک موقع پر پسپائی اختیار کی جس سے دشمن کے لشکر کو بظاہر حاوی ہونے کا موقع مل گیا لیکن آنحضرت ﷺ میدان جنگ میں اپنی جگہ پر قائم رہے، آپ ﷺ ایک خچر پر سوار تھے جس کی باگ حضرت عباس ابن عبد المطلب اور حضرت ابوسفیان بن الحارث نے تھام رکھی تھی۔ اس عارضی پسپائی کے موقع پر جب کہ اسلامی لشکر میں تقریبا افراتفری کا عالم تھا آپ ﷺ نہ صرف بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کے مقابلے پر ڈٹے رہے بلکہ آگے بڑھ بڑھ کر دشمن کے لشکر پر تن تنہا حملہ کرنے کا ارادہ کرتے تھے اور یہ فرمائے جاتے تھے۔ انا النبی لا کذب، انا ابن عبد المطلب۔ یعنی میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور جھوٹ نہیں کہتا سچا نبی ہوں۔ لیکن یہ دونوں حضرات جنہوں نے آپ ﷺ کے خچر کی باگ تھام رکھی تھی آپ ﷺ کو روک دیتے تھے، آخر کار حق تعالیٰ نے اسلامی لشکر کو ثابت قدمی بخشی اور اس نے دوبارہ دشمن پر حملہ کر کے اس کے لشکر کو تہس نہس کردیا اور آخر فتح حاصل کی۔
3898
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أسهم للرجل ولفرسه ثلاثة أسهم : سهما له وسهمين لفرسه
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( مال غنیمت میں سے) ایک شخص اور اس کے گھوڑے کے لئے تین حصے دئیے یعنی ایک حصہ تو خود اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
اکثر علماء کا مسلک اسی حدیث کے مطابق ہے، جب کہ بعض علماء کے نزدیک مال غنیمت میں سوار مجاہد کے دو حصے ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے سوار مجاہد کو دو حصے دئیے جیسا کہ اسی باب کی دوسری فصل میں منقول روایت سے واضح ہوگا، نیز حضرت علی اور حضرت ابوموسی ٰ اشعری سے بھی یہی منقول ہے بلکہ ھدایہ نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر سے بھی یہی نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب اس بارے میں خود حضرت ابن عمر کی دو روایتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اس روایت کو ترجیح دی جائے گی جو ان کے علاوہ دوسرے نے نقل کی ہے
تشریح
اکثر علماء کا مسلک اسی حدیث کے مطابق ہے، جب کہ بعض علماء کے نزدیک مال غنیمت میں سوار مجاہد کے دو حصے ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے سوار مجاہد کو دو حصے دئیے جیسا کہ اسی باب کی دوسری فصل میں منقول روایت سے واضح ہوگا، نیز حضرت علی اور حضرت ابوموسی ٰ اشعری سے بھی یہی منقول ہے بلکہ ھدایہ نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر سے بھی یہی نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ جب اس بارے میں خود حضرت ابن عمر کی دو روایتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ اس روایت کو ترجیح دی جائے گی جو ان کے علاوہ دوسرے نے نقل کی ہے
3899
Mishkaat Shareefوعن يزيد بن هرمز قال : كتب نجدة الحروري إلى ابن عباس يسأله عن العبد والمرأة يحضران لمغنم هل يقسم لهما ؟ فقال ليزيد : اكتب إليه أنه ليس لهما سهم إلا أن يحذيا . وفي رواية : كتب إليه ابن عباس : إنك كتبت إلي تسألني : هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يغزو بالنساء ؟ وهل كان يضرب لهن بسهم ؟ فقد كان يغزو بهن يداوين المرضى ويحذين من الغنيمة وأما السهم فلم يضرب لهن بسهم . رواه مسلم
اور حضرت یزید ابن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے حضرت ابن عباس کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے غلام اور عورت کے بارے میں یہ دریافت کیا تھا کہ جب وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہو تو ان کو بھی اس مال غنیمت سے حصہ دیا جائے یا نہیں ؟ حضرت ابن عباس نے یزید ( یعنی مجھ سے) فرمایا کہ تم ( میری طرف سے) نجدہ کو یہ جواب لکھ دو کہ ان دونوں کا حصہ مقرر نہیں ہے البتہ ( تقسیم کے وقت) ان کو یوں ہی کچھ دے دیا جائے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت ابن عباس نے اس ( نجدہ) کو یہ جواب لکھا کہ تم نے خط لکھ کر مجھ سے یہ دریافت کیا تھا کہ کیا رسول کریم ﷺ جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جایا کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان ( عورتوں) کو مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے ؟ تو ( اس کا جواب یہ ہے کہ) آنحضرت جہاد میں عورتوں کو ساتھ لے جاتے تھے جو بیماروں کی دوا دارو کرتی تھیں ( اور زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں) اور ان کو مال غنیمت میں سے یوں ہی کچھ دے دیا جاتا تھا لیکن ان کے لئے حصہ مقرر نہیں کیا گیا تھا۔ ( مسلم)
تشریح
نجدہ اس شخص کا نام ہے جو خوارج یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کے مخالفین کا سردار تھا اور حروری دراصل حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک آبادی کا نام تھا، کہا جاتا ہے کہ خوارج کا سب سے پہلا اجتماع اسی آبادی میں ہوا تھا اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ غلام بچوں اور عورتوں کو مال غنیمت میں سے یوں ہی کچھ دے دیا جائے۔ یعنی حصہ سے کم دیا جائے پورا حصہ نہ دیا جائے، حنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ اور ھدایہ میں لکھا ہے کہ غلام کو مال غنیمت میں سے کچھ اس صورت میں دیا جائے جب کہ وہ جنگ میں شریک رہ کر دشمن سے لڑا ہو، اسی طرح عورت کو بھی اس صورت میں دیا جائے جب کہ وہ بیمار اور زخمی مجاہدین کی تیمار داری اور ان کی دوا دارو کرے۔
تشریح
نجدہ اس شخص کا نام ہے جو خوارج یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کے مخالفین کا سردار تھا اور حروری دراصل حروراء کی طرف منسوب ہے جو کوفہ کے نواح میں ایک آبادی کا نام تھا، کہا جاتا ہے کہ خوارج کا سب سے پہلا اجتماع اسی آبادی میں ہوا تھا اکثر علماء کا یہی مسلک ہے کہ غلام بچوں اور عورتوں کو مال غنیمت میں سے یوں ہی کچھ دے دیا جائے۔ یعنی حصہ سے کم دیا جائے پورا حصہ نہ دیا جائے، حنیفہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ اور ھدایہ میں لکھا ہے کہ غلام کو مال غنیمت میں سے کچھ اس صورت میں دیا جائے جب کہ وہ جنگ میں شریک رہ کر دشمن سے لڑا ہو، اسی طرح عورت کو بھی اس صورت میں دیا جائے جب کہ وہ بیمار اور زخمی مجاہدین کی تیمار داری اور ان کی دوا دارو کرے۔
3900
Mishkaat Shareefوعن سلمة بن الأكوع قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بظهره مع رباح غلام رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا معه فلما أصبحنا إذا عبد الرحمن الفزاري قد أغار على ظهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقمت على أكمة فاستقبلت المدينة فناديت ثلاثا يا صباحاه ثم خرجت في آثار القوم أرميهم بالنبل وأرتجز وأقول : أنا ابن الأكوع واليوم يوم الرضع فما زلت أرميهم وأعقر بهم حتى ما خلق الله من بعير من ظهر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا خلفته وراء ظهري ثم اتبعتهم أرميهم حتى ألقوا أكثر من ثلاثين بردة وثلاثين رمحا يستخفون ولا يطرحون شيئا إلا جعلت عليه آراما من الحجارة يعرفها رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه حتى رأيت فوارس رسول الله صلى الله عليه و سلم ولحق أبو قتادة فارس رسول الله صلى الله عليه و سلم بعبد الرحمن فقتله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خير فرساننا اليوم أبو قتادة وخير رجالتنا سلمة . قال : ثم أعطاني رسول الله صلى الله عليه و سلم سهمين : سهم الفارس وسهم الراجل فجمعهما إلي جميعا ثم أردفني رسول الله صلى الله عليه و سلم وراءه على العضباء راجعين إلى المدينة . رواه مسلم (2/407) 3990 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن ابن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ينفل بعض من يبعث من السرايا لأنفسهم خاصة سوى قسمة عامة الجيش (2/407) 3991 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعنه قال : نفلنا رسول الله صلى الله عليه و سلم نفلا سوى نصيبنا من الخمس فأصابني شارف والشارف : المسن الكبير
اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ ( مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان معاہدہ ہوجانے کے بعد حدیبیہ سے واپسی کے دوران راستہ میں) رسول کریم ﷺ نے اپنی، سواری کے اونٹ رباح کے ساتھ، جو رسول کریم ﷺ کے غلام تھے، آگے روانہ کر دئیے میں بھی رباح کے ساتھ ہو لیا، ( ہم دونوں نے رات میں ایک جگہ قیام کیا اور) جب صبح ہوئی تو ہمیں معلوم ہوا کہ عبدالرحمن فزاری نے ( جو مسلمانوں کا ایک مشہور دشمن اور کافر تھا) رسول کریم ﷺ کے اونٹوں پر چھاپہ مارا اور ان کو ہنکا کرلے گیا، میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اور مدین کی طرف منہ کر کے تین مرتبہ یا صباحاہ ( یعنی خبردار ! دشمن آپہنچا) کا نعرہ بلند کیا اور تیر پر تیر پھینکتا ہوا اس قوم یعنی عبدالرحمن اور اس کے ساتھیوں کے نشانات قدم پر ( یعنی ان کے پیچھے) چل پڑا اس وقت میری زبان پر ( بلند آواز میں) رجز یعنی رزمیہ شعر تھے، میں نے کہا تھا (انا ابن الاکوع والیوم یوم الرضع) یعنی ( اے دین کے دشمنو ! کان کھول کر سن لو) میں اکوع کا بیٹا ہوں، آج کا دن برے لوگوں ( یعنی تم دشمنان دین) کے ہلاک ہونے کا دن ہے ! میں اسی طرح برابر تیر مارتا اور ان کی سواریوں کی کونچیں کاٹتا ( آ گے بڑھتا) رہا یہاں تک کہ رسول کریم ﷺ کے اونٹوں میں سے اللہ کا پیدا کیا ہوا ایسا کوئی اونٹ باقی نہیں بچا جس کو میں نے اپنے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو، میں تیر برساتا ہوا ان کا تعاقب جاری رکھے ہوئے تھا یہاں تک کہ انہوں نے ہلکا ہوجانے کے خیال سے اپنی تیس سے زیادہ چادریں اور تیس کپڑے پھینک دئیے ( یعنی وہ بھاگتے ہوئے اپنی چادریں اور کپڑے بھی پھینکتے جا رہے تھے تاکہ جسم ہلکا ہوجانے کی وجہ سے بھاگنے میں آسانی ہو) اور وہ جس چیز کو بھی پھینکتے تھے میں اس پر نشان کے طور پر پتھر رکھ دیتا تھا تاکہ رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے رفقاء ( اگر پیچھے سے آئیں تو) اس کو پہچان لیں یہاں تک میں نے رسول کریم ﷺ کے سواروں کو ( آتے دیکھا اور پھر ( یہ دیکھا کہ) حضرت ابوقتادہ نے جنہیں رسول کریم ﷺ کا سوار کہا جاتا تھا، عبدالرحمن کو جا لیا ( جس نے آنحضرت ﷺ کے اونٹوں کو ہنکا لے جانا چاہا تھا) اور اس کو قتل کردیا۔ پھر ( اس ہنگامہ کے ختم ہونے کے بعد) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ آج ہمارے سواروں میں سب سے بہتر سوار ابوقتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر پیادہ سلمہ ابن اکوع ہیں۔ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ( جب ان کافروں سے ہاتھ لگے ہوئے مال کو ہمارے درمیان تقسیم فرمایا تو) مجھ کو دو حصے دئیے ( ایک حصہ سوار کا ( کہ وہ بحسب اختلاف مسلک دو حصے ہیں یا تین حصے) اور ایک حصہ پیادہ کا، دونوں حصے اکٹھا کر کے مجھے عطا فرمائے اور پھر رسول کریم ﷺ نے اپنی اونٹنی عضباء پر مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ( مسلم )
تشریح
رضع دراصل راضع کی جمع ہے جیسے ارکع کی جمع رکع ہے ! راضع پاجی اور کمینہ شخص کو کہتے ہیں آرام ( پہلے الف کے مد کے ساتھ) ارم کی جمع ہے جیسے عنب کی جمع اعناب ہے ! ارم اس پھتر کو کہتے ہیں جو منگل و میدان میں راستہ یا کسی دفینہ کے نشان و علامت کے طور پر نصب کیا گیا ہو۔ اہل عرب کی یہ عادت تھی جب وہ راستہ میں کوئی چیز پاتے اور اس کو اپنے ساتھ نہ لے جاسکتے تو اس پر بطور نشان کو یا پتھر رکھ دینے یا پتھروں کا ڈھیر کر کے اس کے نیچے اس کو چھپا دیتے اور پھر آ کر اسی نشان سے وہ چیز نکال کرلے جاتے۔ حضرت سلمہ اگرچہ پیادہ تھے لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کو پیادہ کا حصہ دینے کے ساتھ سوار کا حصہ بھی دیا کیونکہ یہ سارا معرکہ ایک طرح سے انہی کی جدوجہد سے سر ہوا گویا وہ اس غزوے کے ایک بڑے منتظم بھی تھے، اس سے معلوم ہوا کہ امام وقت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مال غنیمت میں سے کسی ایسے مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دے دے۔ جس نے جہاد میں بہت زیادہ محنت و جدوجہد کی ہو تاکہ لوگ جہاد میں زیادہ سے زیادہ محنت و جدوجہد کرنے کی طرف راغب ہوں اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جن لوگوں کو جہاد کے لئے بھیجتے تھے ان میں سے بعض لوگوں کے لئے عام لشکر والوں کی بہ نسبت مخصوص طور پر کچھ زیادہ حصہ لگا دیا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت بعض مجاہدوں کو ان کے مقررہ حصوں سے کچھ زیادہ دے دیا کرتے تھے تاکہ انہیں دشمنوں کے مقابلہ پر لڑنے کی ترغیب ہو۔ اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے ہم لوگوں کو خمس مال میں سے ہمارے مقررہ حصوں کے علاوہ بھی کچھ زیادہ مرحمت فرمایا چناچہ میرے حصے میں ایک شارف آئی اور شارف اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو بوڑھی اور بڑی ہو۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
رضع دراصل راضع کی جمع ہے جیسے ارکع کی جمع رکع ہے ! راضع پاجی اور کمینہ شخص کو کہتے ہیں آرام ( پہلے الف کے مد کے ساتھ) ارم کی جمع ہے جیسے عنب کی جمع اعناب ہے ! ارم اس پھتر کو کہتے ہیں جو منگل و میدان میں راستہ یا کسی دفینہ کے نشان و علامت کے طور پر نصب کیا گیا ہو۔ اہل عرب کی یہ عادت تھی جب وہ راستہ میں کوئی چیز پاتے اور اس کو اپنے ساتھ نہ لے جاسکتے تو اس پر بطور نشان کو یا پتھر رکھ دینے یا پتھروں کا ڈھیر کر کے اس کے نیچے اس کو چھپا دیتے اور پھر آ کر اسی نشان سے وہ چیز نکال کرلے جاتے۔ حضرت سلمہ اگرچہ پیادہ تھے لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کو پیادہ کا حصہ دینے کے ساتھ سوار کا حصہ بھی دیا کیونکہ یہ سارا معرکہ ایک طرح سے انہی کی جدوجہد سے سر ہوا گویا وہ اس غزوے کے ایک بڑے منتظم بھی تھے، اس سے معلوم ہوا کہ امام وقت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مال غنیمت میں سے کسی ایسے مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دے دے۔ جس نے جہاد میں بہت زیادہ محنت و جدوجہد کی ہو تاکہ لوگ جہاد میں زیادہ سے زیادہ محنت و جدوجہد کرنے کی طرف راغب ہوں اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جن لوگوں کو جہاد کے لئے بھیجتے تھے ان میں سے بعض لوگوں کے لئے عام لشکر والوں کی بہ نسبت مخصوص طور پر کچھ زیادہ حصہ لگا دیا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت بعض مجاہدوں کو ان کے مقررہ حصوں سے کچھ زیادہ دے دیا کرتے تھے تاکہ انہیں دشمنوں کے مقابلہ پر لڑنے کی ترغیب ہو۔ اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے ہم لوگوں کو خمس مال میں سے ہمارے مقررہ حصوں کے علاوہ بھی کچھ زیادہ مرحمت فرمایا چناچہ میرے حصے میں ایک شارف آئی اور شارف اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو بوڑھی اور بڑی ہو۔ (بخاری ومسلم )
3901
Mishkaat Shareefوعنه قال : ذهبت فرس له فأخذها العدو فظهر عليهم المسلمون فرد عليه في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم . وفي رواية : أبق عبد له فلحق بالروم فظهر عليهم المسلمون فرد عليه خالد بن الوليد بعد النبي صلى الله عليه و سلم . رواه البخاري
اور حضرت ابن عمر کے بارے میں منقول ہے کہ ( ایک مرتبہ) ان کا گھوڑا بھاگ گیا جس کو دشمنوں ( یعنی کافروں) نے پکڑ لیا، پھر جب مسلمانوں کو ان دشمنوں پر فتح حاصل ہوئی اور ان کے مال غنیمت میں وہ گھوڑا بھی آیا) تو ابن عمر کو ان کا گھوڑا واپس کردیا گیا ( اور اس کو مال غنیمت میں شمار نہیں کیا گیا) یہ واقعہ رسول کریم ﷺ کے زمانے کا ہے۔ اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ابن عمر کا غلام بھاگ کر روم پہنچ گیا، پھر جب مسلمانوں رومیوں پر فتح حاصل ہوئی تو خالد بن ولید نے ابن عمر کو ( ان کا غلام) واپس کردیا۔ یہ نبی کریم ﷺ کے زمانے کے بعد کا واقعہ ہے۔ ( بخاری)
تشریح
ابن ملک کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا اگر کافر مسلمانوں کے بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ لیں تو وہ اس کے مالک نہیں ہوتے، چناچہ ان کافروں پر مسلمانوں کے غلبہ حاصل کرلینے کی صورت میں اگر وہ غلام مال غنیمت کے ساتھ مسلمانوں کے قبضے میں آجائے تو یہ واجب ہے کہ وہ غلام اس کے مالک کو واپس کردیا جائے خواہ یہ واپسی مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے عمل میں آجائے یا تقسیم کے بعد واپس کرنا پڑے۔ اور ابن ہمام کہتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان یا ذمی کا مسلمان غلام بھاگ کر دارالحرب پہنچ جائے اور وہاں کے کافر اس کو پکڑ لیں تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک وہ کافر اس کے مالک نہیں قرار پائیں گے جب کہ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک وہ کافر اس کے مالک ہوجائیں گے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا بھی یہی قول ہے لیکن اگر وہ غلام مرتد ہو کر بھاگا ہو اور کافروں نے اس کو پکڑ لیا ہو تو اس صورت میں تمام آئمہ کے نزدیک وہ اس کے مالک قرار پائیں گے۔ اسی طرح اگر کسی مسلمان یا ذمی کا کوئی اونٹ بھاگ کر چلا گیا اور کافروں نے اس کو پکڑ لیا تو وہ اس کے مالک ہوجائیں گے۔
تشریح
ابن ملک کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا اگر کافر مسلمانوں کے بھاگے ہوئے غلام کو پکڑ لیں تو وہ اس کے مالک نہیں ہوتے، چناچہ ان کافروں پر مسلمانوں کے غلبہ حاصل کرلینے کی صورت میں اگر وہ غلام مال غنیمت کے ساتھ مسلمانوں کے قبضے میں آجائے تو یہ واجب ہے کہ وہ غلام اس کے مالک کو واپس کردیا جائے خواہ یہ واپسی مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے عمل میں آجائے یا تقسیم کے بعد واپس کرنا پڑے۔ اور ابن ہمام کہتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان یا ذمی کا مسلمان غلام بھاگ کر دارالحرب پہنچ جائے اور وہاں کے کافر اس کو پکڑ لیں تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک وہ کافر اس کے مالک نہیں قرار پائیں گے جب کہ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے نزدیک وہ کافر اس کے مالک ہوجائیں گے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا بھی یہی قول ہے لیکن اگر وہ غلام مرتد ہو کر بھاگا ہو اور کافروں نے اس کو پکڑ لیا ہو تو اس صورت میں تمام آئمہ کے نزدیک وہ اس کے مالک قرار پائیں گے۔ اسی طرح اگر کسی مسلمان یا ذمی کا کوئی اونٹ بھاگ کر چلا گیا اور کافروں نے اس کو پکڑ لیا تو وہ اس کے مالک ہوجائیں گے۔
3902
Mishkaat Shareefوعن جبير بن مطعم قال : مشيت أنا وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقلنا : أعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا ونحن بمنزلة واحدة منك ؟ فقال : إنما بنو هاشم وبنو المطلب واحد . قال جبير : ولم يقسم النبي صلى الله عليه و سلم لبني عبد شمس وبني نوفل شيئا . رواه البخاري
اور حضرت جبیر ابن مطعم کہتے ہیں کہ میں اور حضرت عثمان ابن عفان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے خیبر کے خمس میں سے بنو مطلب کو حصہ دیا اور ہم کو نہیں دیا حالانکہ آپ ﷺ کے اعتبار سے ہم سب ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ( میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ( جانتا) کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں۔ حضرت جبیر کہتے ہیں کہ اور نبی کریم ﷺ نے بنو عبد شمس ( یعنی حضرت عثمان وغیرہ) اور بنو نوفل ( یعنی حضرت جبیر وغیرہ) کو کوئی حصہ نہیں دیا۔ ( بخاری )
تشریح
ہم سب ایک ہی مرتبہ کے ہیں کا مطلب یہ تھا کہ میں، حضرت عثمان بنو ہاشم اور بنو مطلب، آپ ﷺ کے اعتبار سے ایک ہی درجہ کے ہیں بایں طور کہ ہم سب ایک ہی جد اعلی یعنی عبد مناف کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں اور وہ یوں کہ ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، یہ چاروں عبد مناف کے بیٹے تھے جو ہمارے اور آپ ﷺ کے چوتھے جد ہیں، چناچہ میں، جبیر ابن مطعم ابن عدی ابن نوفل ابن عبد مناف ہوں، حضرت عثمان ابن عفان ابن ابوالعاص ابن امیر ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہیں اور آپ ﷺ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ابن عبد مناف ہیں۔ اس طرح ہم سب ایک ہی سلسلہ نسب کی کڑی ہیں تو پھر ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آپ ﷺ نے خیبر سے آئے ہوئے مال کے خمس میں سے اس سلسلہ نسب کی ایک شاخ بنو مطلب کو تو حصہ دیا لیکن ہمیں یعنی عبد شمس اور بنو نوفل کو کیوں محروم رکھا ؟ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں تو اس کا حاصل یہ تھا کہ اگرچہ یہ چاروں ایک ہی سلسلہ نسب کی کڑی اور ایک ہی جد اعلی عبد مناف کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے فرد ہیں لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تعلقات و معاملات کے اعتبار سے اصل میں صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب ہی ایک مرتبہ کے اور چیز واحد کے مانند ہیں کیونکہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے ممد ومعاون رفیق و غمگسار اور ایک دوسرے کے دست وبازو ہیں۔ ان دونوں کے درمیان نہ زمانہ جاہلیت میں مخالفت و منافرت تھی اور نہ اب زمانہ اسلام میں کوئی اختلاف و انتشار ہے جب کہ تم دونوں یعنی بنو عبد شمس اور بنو نوفل زمانہ جاہلیت میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کے حریف و مخالف رہے ہو چناچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مرتبہ نبوت پر فائز ہونے کے بعد مکہ میں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور کفار قریش کو اللہ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی طرف بلایا تو بنو عبد شمس اور بنو نوفل ( کے لوگوں) نے آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی سخت مخالفت ہی نہیں کی بلکہ آپ ﷺ کے درپے آ زار بھی ہوئے، یہاں تک کہ ان دونوں یعنی بنو عبد شمس اور بنو نوفل نے اسی مخالفت و عداوت کی بناء پر آپس میں ایک دوسرے سے عہد کیا کہ جب تک بنو ہاشم کے لوگ، محمد ﷺ کو ہم میں سے کسی ایک کے حوالے نہ کردیں اس وقت تک ہم بنو ہاشم کے ساتھ بیاہ شادی، لین دین اور خریدو فروخت کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے۔ اس وقت بنو مطلب نے بنو ہاشم کے ساتھ پورا تعاون کیا اور ان کے ساتھ متفق و متحد رہے ! لہذا آنحضرت ﷺ نے بنو عبد شمس ( یعنی حضرت عثمان وغیرہ) بنو نوفل ( یعنی حضرت جبیر وغیرہ) کو خیبر کے خمس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا باوجودیکہ وہ آنحضرت ﷺ کے ذوی القربی میں سے تھے کیونکہ ان کے اور بنو ہاشم کے درمیان کوئی اتفاق و اتحاد نہیں تھا جب کہ بظاہر دونوں کے درمیان مخالفت و منافرت تھی۔
تشریح
ہم سب ایک ہی مرتبہ کے ہیں کا مطلب یہ تھا کہ میں، حضرت عثمان بنو ہاشم اور بنو مطلب، آپ ﷺ کے اعتبار سے ایک ہی درجہ کے ہیں بایں طور کہ ہم سب ایک ہی جد اعلی یعنی عبد مناف کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک ہی سلسلہ کی کڑی ہیں اور وہ یوں کہ ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، یہ چاروں عبد مناف کے بیٹے تھے جو ہمارے اور آپ ﷺ کے چوتھے جد ہیں، چناچہ میں، جبیر ابن مطعم ابن عدی ابن نوفل ابن عبد مناف ہوں، حضرت عثمان ابن عفان ابن ابوالعاص ابن امیر ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہیں اور آپ ﷺ محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ابن ہاشم ابن عبد مناف ہیں۔ اس طرح ہم سب ایک ہی سلسلہ نسب کی کڑی ہیں تو پھر ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ آپ ﷺ نے خیبر سے آئے ہوئے مال کے خمس میں سے اس سلسلہ نسب کی ایک شاخ بنو مطلب کو تو حصہ دیا لیکن ہمیں یعنی عبد شمس اور بنو نوفل کو کیوں محروم رکھا ؟ اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہیں تو اس کا حاصل یہ تھا کہ اگرچہ یہ چاروں ایک ہی سلسلہ نسب کی کڑی اور ایک ہی جد اعلی عبد مناف کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے فرد ہیں لیکن اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تعلقات و معاملات کے اعتبار سے اصل میں صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب ہی ایک مرتبہ کے اور چیز واحد کے مانند ہیں کیونکہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے ممد ومعاون رفیق و غمگسار اور ایک دوسرے کے دست وبازو ہیں۔ ان دونوں کے درمیان نہ زمانہ جاہلیت میں مخالفت و منافرت تھی اور نہ اب زمانہ اسلام میں کوئی اختلاف و انتشار ہے جب کہ تم دونوں یعنی بنو عبد شمس اور بنو نوفل زمانہ جاہلیت میں بنو ہاشم اور بنو مطلب کے حریف و مخالف رہے ہو چناچہ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مرتبہ نبوت پر فائز ہونے کے بعد مکہ میں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور کفار قریش کو اللہ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی طرف بلایا تو بنو عبد شمس اور بنو نوفل ( کے لوگوں) نے آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی سخت مخالفت ہی نہیں کی بلکہ آپ ﷺ کے درپے آ زار بھی ہوئے، یہاں تک کہ ان دونوں یعنی بنو عبد شمس اور بنو نوفل نے اسی مخالفت و عداوت کی بناء پر آپس میں ایک دوسرے سے عہد کیا کہ جب تک بنو ہاشم کے لوگ، محمد ﷺ کو ہم میں سے کسی ایک کے حوالے نہ کردیں اس وقت تک ہم بنو ہاشم کے ساتھ بیاہ شادی، لین دین اور خریدو فروخت کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے۔ اس وقت بنو مطلب نے بنو ہاشم کے ساتھ پورا تعاون کیا اور ان کے ساتھ متفق و متحد رہے ! لہذا آنحضرت ﷺ نے بنو عبد شمس ( یعنی حضرت عثمان وغیرہ) بنو نوفل ( یعنی حضرت جبیر وغیرہ) کو خیبر کے خمس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا باوجودیکہ وہ آنحضرت ﷺ کے ذوی القربی میں سے تھے کیونکہ ان کے اور بنو ہاشم کے درمیان کوئی اتفاق و اتحاد نہیں تھا جب کہ بظاہر دونوں کے درمیان مخالفت و منافرت تھی۔
3903
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما قرية أتيتموها وأقمتم فيها فسهمكم فيها وأيما قرية عصت الله ورسوله فإن خمسها لله ولرسوله ثم هي لكم . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس بستی میں تم جاؤ اور اس میں قیام کرو تو اس ( کے مال) میں تمہارا حصہ ہے اور جو بستی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے تو اس ( کے مال) میں پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور بقیہ تمہارا ہے۔ ( مسلم)
تشریح
اور اس میں قیام کرو کا مطلب یہ ہے کہ تم جہاد کے لئے کسی بستی میں گئے اور بستی میں گئے اور بستی والے لڑے بھڑے بغیر اس بستی کو چھوڑ کر بھاگ گئے یا انہوں نے تمہارے ساتھ مصالحت کر کے اس بستی اور اپنے آپ کو تمہارے حوالے کردیا اور تم اس میں قیام پذیر ہوگئے۔ تو اس میں تمہارا حصہ ہے کے ذریعہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ بستی سے جو مال و اسباب تمہارے ہاتھ لگے گا وہ صرف تمہارا حق نہیں ہوگا بلکہ تمہارے اور ان مجاھدین کے درمیان مشترک رہے گا جو تمہارے ساتھ جہاد کے لئے نہیں جاسکے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں رہ گئے ہیں کیونکہ اس طرح کا مال ( جو مسلمانوں کو کفار سے جنگ و جدل کے بغیر حاصل ہو) فئی کہلاتا ہے اور مال فئی کا حکم یہ ہے کہ وہ صرف انہی مجاھدین کے لئے مخصوص نہیں ہوتا جو جنگ میں شریک ہونے کے لئے اپنے گھروں سے نکلے ہوں۔ جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے الخ کا مطلب یہ ہے کہ جس بستی کے لوگوں نے نہ تو دعوت اسلام قبول کی اور نہ مصالحت کے ذریعہ اپنے آپ کو تمہارے حوالے کیا بلکہ تمردو سرکشی کی راہ اختیار کر کے تمہارے ساتھ جنگ کی اور تم نے لڑائی اور طاقت کے ذریعہ ان پر غلبہ حاصل کرلیا تو اس صورت میں اس بستی سے جو مال اسباب ہاتھ لگے گا وہ مال غنیمت کہلائے گا، اس مال میں سے پہلے خمس یعنی پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے علیحدہ کردیا جائے گا اور پھر جو باقی بچے گا وہ اس جنگ میں شریک ہونے والے مجاہدین کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خمس صرف مال غنیمت میں سے نکالا جائے گا مال فئی میں سے بھی نکالا جائے اس اعتبار سے یہ حدیث حضرت امام شافعی کے خلاف مسلک کی دلیل ہے۔ بعض حنفی علماء نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے پہلے جزو سے مراد وہ صورت ہے جس میں مسلمانوں نے کسی آبادی و بستی کو اس حال میں فتح کیا ہو کہ ان کے ساتھ رسول کریم ﷺ نہ رہے ہوں اور دوسرے جزو سے مراد وہ صورت ہے جس میں مسلمانوں نے کسی آبادی وبستی کو اس حال میں فتح کیا ہو کہ آنحضرت ﷺ بذات خود اس جہاد میں شریک رہے ہوں، لہذا اس دوسری صورت میں آنحضرت ﷺ خمس وصول فرماتے تھے اور باقی لشکر والوں کے درمیان تقسیم ہوتا تھا۔
تشریح
اور اس میں قیام کرو کا مطلب یہ ہے کہ تم جہاد کے لئے کسی بستی میں گئے اور بستی میں گئے اور بستی والے لڑے بھڑے بغیر اس بستی کو چھوڑ کر بھاگ گئے یا انہوں نے تمہارے ساتھ مصالحت کر کے اس بستی اور اپنے آپ کو تمہارے حوالے کردیا اور تم اس میں قیام پذیر ہوگئے۔ تو اس میں تمہارا حصہ ہے کے ذریعہ یہ واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ بستی سے جو مال و اسباب تمہارے ہاتھ لگے گا وہ صرف تمہارا حق نہیں ہوگا بلکہ تمہارے اور ان مجاھدین کے درمیان مشترک رہے گا جو تمہارے ساتھ جہاد کے لئے نہیں جاسکے ہیں بلکہ اپنے گھروں میں رہ گئے ہیں کیونکہ اس طرح کا مال ( جو مسلمانوں کو کفار سے جنگ و جدل کے بغیر حاصل ہو) فئی کہلاتا ہے اور مال فئی کا حکم یہ ہے کہ وہ صرف انہی مجاھدین کے لئے مخصوص نہیں ہوتا جو جنگ میں شریک ہونے کے لئے اپنے گھروں سے نکلے ہوں۔ جو بستی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے الخ کا مطلب یہ ہے کہ جس بستی کے لوگوں نے نہ تو دعوت اسلام قبول کی اور نہ مصالحت کے ذریعہ اپنے آپ کو تمہارے حوالے کیا بلکہ تمردو سرکشی کی راہ اختیار کر کے تمہارے ساتھ جنگ کی اور تم نے لڑائی اور طاقت کے ذریعہ ان پر غلبہ حاصل کرلیا تو اس صورت میں اس بستی سے جو مال اسباب ہاتھ لگے گا وہ مال غنیمت کہلائے گا، اس مال میں سے پہلے خمس یعنی پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے علیحدہ کردیا جائے گا اور پھر جو باقی بچے گا وہ اس جنگ میں شریک ہونے والے مجاہدین کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خمس صرف مال غنیمت میں سے نکالا جائے گا مال فئی میں سے بھی نکالا جائے اس اعتبار سے یہ حدیث حضرت امام شافعی کے خلاف مسلک کی دلیل ہے۔ بعض حنفی علماء نے اس حدیث کی تشریح یوں کی ہے پہلے جزو سے مراد وہ صورت ہے جس میں مسلمانوں نے کسی آبادی و بستی کو اس حال میں فتح کیا ہو کہ ان کے ساتھ رسول کریم ﷺ نہ رہے ہوں اور دوسرے جزو سے مراد وہ صورت ہے جس میں مسلمانوں نے کسی آبادی وبستی کو اس حال میں فتح کیا ہو کہ آنحضرت ﷺ بذات خود اس جہاد میں شریک رہے ہوں، لہذا اس دوسری صورت میں آنحضرت ﷺ خمس وصول فرماتے تھے اور باقی لشکر والوں کے درمیان تقسیم ہوتا تھا۔
3904
Mishkaat Shareefوعن خولة الأنصارية قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق فلهم النار يوم القيامة . رواه البخاريوعن أبي هريرة قال : قام رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم فذكر الغلول فعظمه وعظم أمره ثم قال : لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بعير له رغاء يقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك شيئا قد أبلغتك . لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته فرس له حمحمة فيقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك شيئا قد أبلغتك لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته شاة لها ثغاء يقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك شيئا قد أبلغتك لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته نفس لها صياح فيقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك شيئا قد أبلغتك لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته رقاع تخفق فيقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك شيئا قد أبلغتك لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته صامت فيقول : يا رسول الله أغثني فأقول : لا أملك لك شيئا قد أبلغتك . وهذا لفظ مسلم وهو أتم
اور حضرت خولہ انصاریہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بعض لوگ اللہ کا مال یعنی غنیمت فئی اور زکوٰۃ کے مال میں ناحق یعنی بغیر کسی استحقاق کے تصرف کرتے ہیں، لہذا ایسے لوگ قیامت کے دن آگ کے سزاوار ہو گے۔ ( بخاری)
تشریح
یعنی اگر انہوں نے حلال جان کر ناحق تصرف کیا ہوگا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ میں جلیں گے اور اگر انہوں نے اس گناہ کا ارتکاب اس کو حلال جان کر نہیں کیا ہوگا پھر حق تعالیٰ جتنی مدت کے لئے چاہے گا ان کو دوزخ کے عذاب میں مبتلا رکھے گا اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دن ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور ( اس خطبہ کے دوران) مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا چناچہ آپ ﷺ نے اس کو بہت بڑا گناہ بتایا اور بڑی اہمیت کے ساتھ اس کو بیان کیا اور پھر فرمایا کہ خبردار ) میں تم سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر بلبلاتے ہوئے اونٹ کو لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئے ( یعنی جو شخص مال غنیمت میں سے مثلا اونٹ کی خیانت کرے گا وہ شخص میدان حشر میں اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن پر وہی اونٹ سوار ہوگا اور بلبلا رہا ہوگا) اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریاد رسی ( شفاعت) کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں (اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے ( یعنی تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ مال غنیمت میں خیانت یا کسی چیز میں ناحق تصرف بہت بڑا گناہ ہے ) ۔ ( اور خبردار) میں تم سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر ممیاتی ہوئی بکری لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریا درسی کی جائے اور میں اس کے جو اب میں یہ کہہ دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ ( اور خبردار ! ) میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر کسی چلاتے ہوئے آدمی کو ( یعنی اس غلام یا باندی کو جو اس نے غنیمت کے قیدیوں میں سے خیانت کر کے لئے ہو) لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئیے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ ( اور خبردار ! میں تم سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر لہراتے ہوئے کپڑے رکھے ہو ( میدان حشر میں) آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہے دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ (خبر دار ! ) میں تم میں کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر سونا چاندی لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریا درسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے۔ اس روایت کو ( معنی و مضمون کے اعتبار سے) بخاری و مسلم دونوں نے نقل کیا ہے، الفاظ مسلم کے ہیں جو بخاری کے الفاظ کی بہ نسبت) پورے و مکمل ہیں۔
تشریح
یعنی اگر انہوں نے حلال جان کر ناحق تصرف کیا ہوگا تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ میں جلیں گے اور اگر انہوں نے اس گناہ کا ارتکاب اس کو حلال جان کر نہیں کیا ہوگا پھر حق تعالیٰ جتنی مدت کے لئے چاہے گا ان کو دوزخ کے عذاب میں مبتلا رکھے گا اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دن ہمارے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور ( اس خطبہ کے دوران) مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا چناچہ آپ ﷺ نے اس کو بہت بڑا گناہ بتایا اور بڑی اہمیت کے ساتھ اس کو بیان کیا اور پھر فرمایا کہ خبردار ) میں تم سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر بلبلاتے ہوئے اونٹ کو لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئے ( یعنی جو شخص مال غنیمت میں سے مثلا اونٹ کی خیانت کرے گا وہ شخص میدان حشر میں اس حالت میں آئے گا کہ اس کی گردن پر وہی اونٹ سوار ہوگا اور بلبلا رہا ہوگا) اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریاد رسی ( شفاعت) کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں (اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے ( یعنی تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ مال غنیمت میں خیانت یا کسی چیز میں ناحق تصرف بہت بڑا گناہ ہے ) ۔ ( اور خبردار) میں تم سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر ممیاتی ہوئی بکری لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریا درسی کی جائے اور میں اس کے جو اب میں یہ کہہ دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ ( اور خبردار ! ) میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر کسی چلاتے ہوئے آدمی کو ( یعنی اس غلام یا باندی کو جو اس نے غنیمت کے قیدیوں میں سے خیانت کر کے لئے ہو) لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئیے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ ( اور خبردار ! میں تم سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر لہراتے ہوئے کپڑے رکھے ہو ( میدان حشر میں) آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریاد رسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہے دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے تھے۔ (خبر دار ! ) میں تم میں کسی کو قیامت کے دن اس حال میں نہ دیکھوں کہ وہ اپنی گردن پر سونا چاندی لادے ہوئے ( میدان حشر میں) آئے اور پھر مجھ سے یہ کہے کہ یا رسول اللہ ! میری فریا درسی کیجئے اور میں اس کے جواب میں یہ کہہ دوں کہ میں ( اب) تمہاری کسی چیز کا ذمہ دار نہیں ہوں کیونکہ میں نے تمہیں شریعت کے احکام پہنچا دئیے۔ اس روایت کو ( معنی و مضمون کے اعتبار سے) بخاری و مسلم دونوں نے نقل کیا ہے، الفاظ مسلم کے ہیں جو بخاری کے الفاظ کی بہ نسبت) پورے و مکمل ہیں۔
3905
Mishkaat Shareefوعنه قال : أهدى رجل لرسول الله صلى الله عليه و سلم غلاما يقال له : مدعم فبينما مدعم يحط رحلا لرسول الله صلى الله عليه و سلم إذ أصابه سهم عاثر فقتله فقال الناس : هنيئا له الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كلا والذي نفسي بيده إن الثملة التي أخذها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا . فلما سمع ذلك الناس جاء رجل بشرك أو شراكين إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : شراك من نار أو شراكان من نار (2/408) 3998 - [ 14 ] ( صحيح ) وعن عبد الله بن عمرو قال : كان على ثقل النبي صلى الله عليه و سلم رجل يقال له كركرة فمات فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هو في النار فذهبوا ينظرون فوجدوا عباءة قد غلها . رواه البخاري
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک غلام ھدیہ کے طور پر پیش کیا جس کا نام مدعم تھا ( ایک دن کسی میدان جنگ میں) وہ رسول کریم ﷺ کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ اچانک کسی نامعلوم شخص کا تیر آ کر اس کو لگا جس سے جان بحق ہوگیا، لوگوں کہا مدعم کو جنت مبارک ہو یعنی مدعم خوش قسمت رہا کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہوا اور جنت میں پہنچ گیا ( یہ سن کر) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ! ایسا نہیں ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں جان ہے، وہ چادر جس کو مدعم نے خیبر کے دن مال غنیمت میں سے اس کی تقسیم سے قبل لے لیا تھا، آگ بن کر مدعم پر شعلے برسا رہی ہے۔ جب ان لوگوں نے ( اس شدید وعید و تنبیہ کو سنا) ( جنہوں نے مال غنیمت میں خیانت کرنے کو سہل سمجھ لیا تھا اور یہ گمان کرلیا تھا کہ چھوٹی موٹی اور حقیر چیزوں کو لے لینے پر کوئی مؤ اخذہ نہیں ہوگا تو وہ کانپ گئے اور انہوں نے مال غنیمت میں سے جو چھوٹی موٹی چیزیں لے لی تھیں ان کو لا لا کر واپس کرنے لگے یہاں تک کہ) ایک شخص ایک تسمہ یا دو تسمے ( واپس کرنے کے لئے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا۔ آپ ﷺ نے ( اس کو دیکھ کر) فرمایا کہ یہ آگ کا ایک تسمہ ہے یا آگ کے دو تسمے ہیں یعنی خیانت کی چیز ہر حالت میں دوزخ کی آگ کا سزا وار کرے گی خواہ وہ کتنی ہی معمولی اور حقیر کیوں نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث میں اس شخص کے لئے سخت تنبیہ اور شدید وعید ہے جو کسی ایسے مال میں سے کھائے جس کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق متعلق ہوں۔ جیسے اوقاف اور بیت المال وغیرہ کیونکہ کسی ایک شخص کا حق تو واپس کیا جاسکتا ہے لیکن بہت سوں کے حقوق کی واپسی اور ان کی حق تلفیوں کی تلافی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمرو کہتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام کر کرہ تھا ( کسی غزوے میں) رسول کریم ﷺ ( کی طرف سے سامان و اسباب) کا نگران مقرر ہوا، جب اس کا انتقال ہو تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ( کر کرہ) دوزخ میں ڈالا گیا ہے۔ چناچہ لوگوں نے ( اس کے سامان کو) دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کملی پائی گئی جس کو اس نے مال غنیمت میں سے خیانت کر کے لیا تھا۔ ( بخاری ) تشریح یحییٰ کہتے ہیں کہ لفظ فذھبوا میں حرف فا عاطفہ ہے، گویا اس لفظ سے پہلے یہ مفہوم مخدوف ہے کہ صحابہ نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سنا تو انہیں معلوم ہوا کہ کرہ کے حق میں یہ وعید اس سبب سے ہے کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی چناچہ انہوں نے اس کے سامان کو دیکھنا شروع کیا الخ
تشریح
اس حدیث میں اس شخص کے لئے سخت تنبیہ اور شدید وعید ہے جو کسی ایسے مال میں سے کھائے جس کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق متعلق ہوں۔ جیسے اوقاف اور بیت المال وغیرہ کیونکہ کسی ایک شخص کا حق تو واپس کیا جاسکتا ہے لیکن بہت سوں کے حقوق کی واپسی اور ان کی حق تلفیوں کی تلافی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمرو کہتے ہیں کہ ایک شخص جس کا نام کر کرہ تھا ( کسی غزوے میں) رسول کریم ﷺ ( کی طرف سے سامان و اسباب) کا نگران مقرر ہوا، جب اس کا انتقال ہو تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ( کر کرہ) دوزخ میں ڈالا گیا ہے۔ چناچہ لوگوں نے ( اس کے سامان کو) دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کملی پائی گئی جس کو اس نے مال غنیمت میں سے خیانت کر کے لیا تھا۔ ( بخاری ) تشریح یحییٰ کہتے ہیں کہ لفظ فذھبوا میں حرف فا عاطفہ ہے، گویا اس لفظ سے پہلے یہ مفہوم مخدوف ہے کہ صحابہ نے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سنا تو انہیں معلوم ہوا کہ کرہ کے حق میں یہ وعید اس سبب سے ہے کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی چناچہ انہوں نے اس کے سامان کو دیکھنا شروع کیا الخ