hadith book logo

Mishkaat Shareef

122. قضیوں اور شہادتوں کا بیان

مشكاة المصابيح

3692
Mishkaat Shareef
صحیح
قضیہ اس نزاعی معاملے کو کہتے ہیں جو حاکم وقاضی کے پاس اس غرض سے لے جایا جائے کہ وہ فریقین کے درمیان کوئی حکم و فیصلہ کرے۔ اور شہادت گواہی دینے کو کہتے ہیں اور گواہی کا مطلب ہے دو فریقوں میں سے ایک فریق کے مقابلہ پر دوسرے فریق کے حق کا اقرار و اثبات کرنا۔
3693
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لو يعطى الناس بدعواهم لادعى ناس دماء رجال وأموالهم ولكن اليمين على المدعى عليه . رواه مسلم وفي شرحه للنووي أنه قال : وجاء في رواية البيهقي بإسناد حسن أو صحيح زيادة عن ابن عباس مرفوعا : لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر
حضرت ابن عباس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو محض ان کے دعوی پر (ان کے مدعا) دیا جائے (یعنی اگر مدعی سے نہ تو گواہ طلب کئے جائیں اور نہ مدعا علیہ سے تصدیق کیا جائے بلکہ محض اس کے دعوی پر اس کا از قسم مال وجان مدعا کو دے دیا جائے) تو لوگ اپنے آدمیوں کے خون اور اپنے مال کا (جھوٹا) دعوی کرنے لگیں (لہٰذا صرف مدعی کا بلا گواہی کے بیان معتبر نہیں ہے) لیکن قسم کھانا مدعا علیہ پر ضروری ہے ( مسلم) اور نووی نے اپنی کتاب شرح مسلم میں لکھا ہے کہ بیہقی کی روایت میں جو حسن یا صحیح اسناد سے منقول ہے حضرت ابن عباس (رض) سے (مذکورہ بالا حدیث میں بطریق مرفوع ان الفاظ کا اضافہ بھی منقول ہے کہ گواہ پیش کرنا نہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم کھانا اس شخص کا حق ہے جو انکار کرے یعنی مدعاعلیہ۔

تشریح
لیکن قسم کھانا مدعاعلیہ کا حق ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریق دوم یعنی مدعاعلیہ، فریق اول یعنی مدعی کے دعوی سے انکار کرے اور مدعی اس سے قسم کا مطالبہ کرے تو اس (مدعاعلیہ) پر قسم کھانا ضروری ہے اس (مسلم کی) روایت میں مدعی سے گواہ طلب کرنے کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ یہ مدعی کا گواہ پیش کرنے کا ذمہ دار ہونا شریعت کا ثابت شدہ اور بالکل ظاہری ضابطہ ہے اس اعتبار سے گویا یہ فرمایا گیا ہے کہ گواہ پیش کرنے کی ذمہ داری مدعی پر ہے اگر مدعی گواہ پیش نہ کرے تو پھر مدعا علیہ قسم اور جحد (انکار) کے ذریعہ اپنی صفائی پیش کرنے کا حق رکھتا ہے یہ مفہوم حضرت ابن عباس کی دوسری روایت سے ظاہر ہے۔
3694
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حلف على يمين صبر وهو فيها فاجر يقتطع بها مال امرئ مسلم لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان فأنزل الله تصديق ذلك : ( إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا ) إلى آخر الآية (2/356) 3760 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه فقد أوجب الله له النار وحرم الله عليه الجنة فقال له رجل : وإن كان شيئا يسير يا رسول الله ؟ قال : وإن كان قضيبا من أراك . رواه مسلم
اور حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی چیز پر مقید ہو کر (یعنی حاکم کی مجلس میں) قسم کھائے اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو کہ اس کا مقصد قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا مال حاصل کرنا ہو تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ چناچہ اس ارشاد کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) 3 ۔ آل عمران 77) ۔ (بخاری )

تشریح
پوری آیت اور اس کا ترجمہ یہ ہے۔ (اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَاَيْمَانِهِمْ ثَ مَنًا قَلِيْلًا اُولٰ ى ِكَ لَا خَلَاقَ لَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُھُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ) ۔ 3 ۔ آل عمران 77) یقینا جو لوگ معاوضہ حقیر لے لیتے ہیں بمقابلہ اس عہد کے جو اللہ تعالیٰ سے (انہوں نے) کیا ہے اور (بمقابلہ اپنی قسموں کے، ان لوگوں کو کچھ حصہ آخرت میں (وہاں کی نعمت کا) نہیں ملے گا اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ نہ ان سے (لطف کا) کلام فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف (نظر محبت سے دیکھیں گے۔ اور نہ (ان کے گناہوں کو معاف کر کے) ان کو پاک کریں گے۔ اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔ حدیث کی عبارت من حلف علی یمین صبر کے لغوی معنی ہیں حبس، روکنا، لزوم اور یمین صبر سے مراد یہ ہے کہ حاکم عدالت میں کسی شخص پر قسم کھانا لازم ہے گویا علی یمین صبر میں علی حرف با کے معنی میں ہے اور اس سے مراد محلوف علیہ ہے ! بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یمین صبر یہ ہے کہ کسی چیز پر قسم کھانے والا اس مقصد سے دیدہ و دانستہ غلط بیانی کرتا ہے کہ ایک مسلمان کا مال تلف کر دے یا اس کو ہڑپ کرلے، چناچہ (وہو فیہا فاجر) اور وہ اپنی قسم میں جھوٹا ہو، کے الفاظ سے اس مفہوم کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اور حضرت امامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعہ کسی مسلمان شخص کا حق غصب کیا بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ کو واجب کیا اور اس پر بہشت کو حرام کردیا۔ ایک شخص نے (یہ سن کر) آپ ﷺ سے عرض کیا اگرچہ وہ حق کوئی معمولی ہی چیز ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا (ہاں) اگرچہ پیلو کے درخت کا ایک ٹکڑا (یعنی مسواک) ہی کیوں نہ ہو۔ (مسلم ) تشریح اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے آگ کو واجب کیا اس جملہ کی دو تاویلیں ہیں ایک تو یہ کہ یہ حکم اس شخص پر محمول ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا حق غصب کرنا حلال جانے اور اسی عقیدہ پر اس کی موت ہوجائے دوسری تاویل یہ ہے کہ ایسا شخص اگرچہ دوزخ کی آگ کا یقینا سزاوار ہوگا لیکن یہ بھی غیربعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کو معاف کر دے ! اسی طرح بہشت کو اس پر حرام کردیا۔ کی تاویل یہ ہے کہ ایسا شخص اول وہلہ میں نجات یافتہ لوگوں کے ساتھ جنت میں داخل ہونے سے محروم قرار دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جس طرح جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کے حق کو ہڑپ کرنے والے کے بارے میں مذکورہ وعید ہے اسی طرح وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعہ کسی ذمی کا حق مارے۔
3695
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إنما أنا بشر وإنكم تختصمون إلي ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي له على نحو ما أسمع منه فمن قضيت له بشيء من حق أخيه فلا يأخذنه فإنما أقطع له قطعة من النار
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایک انسان ہوں اور تم اپنے قضیے (جھگڑے) لے کر میرے پاس آتے ہو، ممکن ہے تم میں سے کوئی شخص اپنے دلائل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ فصیح وبلیغ بیان کا حامل ہو اور میں اس کا (مدلل) بیان سن کر اسی کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا وہ شخص کہ میں جس کے حق میں کسی ایسی چیز کا فیصلہ کروں جو حقیقت میں اس کے بھائی مسلمان کی ہو، اس چیز کو نہ لے کیونکہ (ایسی صورت میں گویا) میں اس کے حق میں آگ کے ایک ٹکڑے کا فیصلہ کروں گا۔ (بخاری، ومسلم)

تشریح
میں ایک انسان ہوں کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ سہو اور نسیان کسی انسان سے بعید نہیں ہے اور انسان کی فطرت اور وضع بشری کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی معاملہ کے صرف اسی پہلو کو دیکھے جو ظاہری طور پر عیاں ہو اور اس کے متعلق اسی بات کو قبول کرے جو ایک کھلی ہوئی دلیل کی صورت میں اس کے سامنے آئے اور چونکہ میں بھی ایک انسان اور اس حیثیت سے وہ تمام احکام و عوارض مجھ پر بھی پیش آتے ہیں جو بشریت کا خاصہ ہیں اور جن کا تعلق انسانی جبلت سے ہے، لہٰذا جن معاملات میں مجھے وحی کے ذریعہ براہ راست بار گاہ الوہیت سے حقیت رسی کی قوت عطا کی جاتی ہے اور حق سبحانہ تعالیٰ کی جانب سے مجھے تعلیم و ہدایت دی جاتی ہے ان کے علاوہ دوسرے امور میں مجھے انہی ضابطوں اور قاعدوں کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے جن کی بنیاد انسانی عقل اور بشری تقاضوں پر ہے۔ چناچہ جب میرے سامنے کوئی قضیہ آتا ہے تو میں اس کے ظاہری پہلوؤں کے مطابق ہی فیصلہ کرتا ہوں۔ اگر مدعی اپنے دلائل اپنے گواہ اور اپنے زور بیان سے میرے سامنے یہ ثابت کردیتا ہے کہ اس کا دعوی صحیح ہے اور اس نے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو میں اس کے حق میں فیصلہ کردیتا ہوں کہ ظاہری حکم کا تقاضہ یہی ہے اب اس کے بعد مدعی جانے کہ اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح ہے اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا ہے وہ اسی کا حق ہے تو وہ اپنی مراد پالے۔ لیکن اگر حقیقت میں اس کا دعوی صحیح نہ تھا اور جس چیز کا اس نے مطالبہ کیا تھا وہ اس کا حق نہیں تھا بلکہ کسی دوسرے کا حق تھا اور میں نے اس کے ظاہری دلائل و ثبوت اور اس کی چرب زبانی اور قوت لسانی سے یہ سمجھا کہ اس کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا مدعا اس کو دلوا دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ اس چیز کو اپنے حق میں حلال نہ جانے بلکہ یہ سمجھ کر کہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو ملا ہے۔ اس سے اجتناب کرے۔
3696
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں بدترین اور مبغوض ترین وہ شخص ہے جو بہت زیادہ ناحق جھگڑے والا ہے۔ (بخاری ومسلم )
3697
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بيمين وشاهد . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (ایک قضیہ میں) ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ صادر فرمایا۔ (مسلم)

تشریح
حدیث کا ظاہری مفہوم یہ بتاتا ہے کہ اگر مدعی اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف ایک گواہ پیش کرسکے تو اس (مدعی) سے دوسرے گواہ کے بدلے ایک قسم لے لی جائے اور اس قسم کو ایک گواہ کا قائم مقام قرار دے کر اس کا دعوی تسلیم کرلیا جائے چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد تینوں کا یہی مسلک ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے بلک دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے اور چونکہ قرآن کے حکم کو خبر واحد کے ذریعہ منسوخ کرنا جائز نہیں ہے اس لئے اس روایت کی بناء پر ایسے مسلک کی بنیاد صحیح نہیں ہوسکتی جو قرآن کے حکم کے منافی ہو درآنحالیکہ اس رویت کے بارے میں یہ احتمال بھی ہے جب مدعی اپنا دعوی لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا ہو اور وہ اپنے دعوی کے ثبوت میں صرف ایک گواہ پیش کرسکا ہو تو چونکہ وہ اپنے ثبوت شہادت کی تکمیل نہ کرسکا اور آنحضرت ﷺ نے صرف ایک گواہ کے وجود کے وجود کا اعتبار نہیں کیا اس لئے مدعا علیہ کو قسم کھانے کا حکم دیا مدعاعلیہ کے قسم کھانے کے بعد آپ ﷺ نے اس قضیہ کا فیصلہ دیا۔ اسی کو راوی نے ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ دینے سے تعبیر کیا۔ طیبی کہتے ہیں کہ آئمہ کا یہ اختلاف بھی اس صورت میں ہے جب کہ قضیہ کا تعلق کسی مالی دعوی سے ہو اگر دعوی کا تعلق مال کے علاوہ کسی اور معاملہ سے ہو تو اس صورت میں متفقہ طور پر تمام آئمہ کا مسلک یہی ہے کہ گواہ اور قسم (یعنی مدعی) کی طرف سے مثلًا ایک گواہ پیش کرنے اور ایک قسم کھانے کا اعتبار نہ کیا جائے۔
3698
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علقمة بن وائل عن أبيه قال : جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال الحضرمي : يا رسول الله إن هذا غلبني على أرض لي فقال الكندي : هي أرضي وفي يدي ليس له فيها حق فقال النبي صلى الله عليه و سلم للحضرمي : ألك بينة ؟ قال : لا قال : فلك يمينه قال : يا رسول الله إن الرجل فاجر لا يبالي على ما حلف عليه وليس يتورع من شيء قال : ليس لك منه إلا ذلك . فانطلق ليحلف فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لما أدبر : لئن حلف على ماله ليأكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض . رواه مسلم
اور حضرت علقمہ ابن وائل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حضرموت کا رہنے والا اور ایک شخص کندہ کا۔ دونوں حاضر ہوئے حضرمی (یعنی حضرموت کے رہنے والے) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس شخص نے میری زمین (کو غصب کر کے اس) پر قضبہ کرلیا ہے کندی نے کہا کہ وہ میری زمین ہے اور ہاتھ (یعنی میرے قبضے) میں ہے، اس شخص کا اس زمین پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول کریم ﷺ نے دونوں فریق کا بیان سن کر حضرمی سے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ اس نے کہا کہ نہیں ! آنحضرت ﷺ نے فرمایا تو اب تمہارے دعوی کا دارومدار اس (مدعا علیہ کی قسم پر ہے (کہ اگر یہ قسم کھانے کا انکار کر دے گا تو تمہارا دعوی تسلیم کرلیا جائے گا اور اس نے قسم کھالی تو تمہارا دعوی باطل کردیا گا) اس (حضرمی) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! یہ شخص تو فاجر (جھوٹا ہے) اس کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ اس نے جس چیز کی قسم کھائی ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ اور اس کو کسی چیز سے پرہیز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (بہرحال) تمہارے لئے اس شخص کی طرف سے سوائے اس (قسم) کے اور کچھ نہیں ہے۔ (یہ سن کر) وہ (کندی) شخص قسم کھانے کے لئے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر یہ شخص اس حضرمی) کے مال قسم کھائے گا تاکہ اس کا مال زبردستی ہضم کر جائے تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کریں گے کہ وہ (اللہ) اس سے بیزار ہوگا۔ (مسلم)

تشریح
وہ شخص قسم کھانے کے لئے چلا ممکن ہے کہ اس کا چلنا اس اعتبار سے ہے کہ جیسے شافعیہ کے یہاں یہ مسئلہ ہے کہ یہ قسم کھانے والا پہلے وضو کرتا ہے اور پھر ایک خاص وقت میں یعنی جمعہ کے روز عصر کے بعد قسم کھاتا ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ وہ مدعی کی طرف سے پیٹھ پھیر کر آنحضرت ﷺ کی طرف چلا تاکہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ کر قسم کھائے۔ نووی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے کئی مسئلے نکلتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ اس طرح کے قضیے میں اس (اجنبی سے قبضے والا اولی ہے۔ جو اس کے زیر چیز پر دعوی کرے۔ دوسرا یہ کہ مدعا علیہ پر قسم کھانا لازم ہے جب کہ وہ مدعی کے دعوی کو تسلیم نہ کرے۔ اور تیسرا یہ کہ فاجر مدعا علیہ کی قسم کو بھی اس طرح تسلیم و قبول کیا جائے جس طرح عادل مدعا علیہ کی قسم تسلیم و قبول کی جاتی ہے نیز اس قسم کھا لینے کی وجہ سے اس پر سے مدعی کا مطالبہ ساقط ہوجاتا ہے (لیکن یہ واضح رہے کہ اگر عدالت میں سچی گواہی سے مدعا علیہ کی قسم کا جھوٹ معلوم ہوجائے تو پھر اس کی قسم کالعدم قرار پائے گی ) ۔
3699
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي ذر رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من ادعى ما ليس له فليس منا وليتبوأ مقعده من النار . رواه مسلم
اور حضرت ابوذر (رض) روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو شخص کسی ایسی چیز کا دعوی کرے جو اس کی نہیں ہے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈھ لے۔ (مسلم )
3700
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن زيد بن خالد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بخير الشهداء ؟ الذي يأتي بشهادته قبل أن يسألها . رواه مسلم
اور زید ابن خالد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تہیں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتادوں ؟ (سنو کہ) گواہوں میں بہترین گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کئے جانے سے پہلے گواہی دے دے۔ (مسلم )

تشریح
مطلب یہ ہے کہ گواہی دراصل بیان حقیقت کا دوسرا نام ہے اور حقیقت بیان کرنے کو طلب و درخواست پر موقوف رکھنا غیرموزوں بات ہے۔ لہٰذا بہترین گواہ وہ ہے جو گواہی طلب کئے جانے سے پہلے اور قبل اس کے اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم وہ ہو اور یہ کہ کیا تم گواہی دینا چاہتے ہو، وہ از خود گواہی دیدے اور اس طرح حق کو ظاہر کرنے کی ذمہ داری پوری کرے۔
3701
Mishkaat Shareef
صحیح
لیکن اس کے برعکس ایک دوسری حدیث میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو بغیر طلب کے گواہی دیں۔ چناچہ حنفی مسلک کی ہدایت یہی ہے کہ جب تک گواہی طلب نہ کی جائے اس وقت تک گواہی نہ دی جائے، گواہی طلب کئے جانے کے بعد گواہی دینا واجب ہے اور حدود میں گواہی کا چھپانا افضل ہے۔ جہاں تک مذکورہ بالا روایت کا تعلق ہے کہ جس سے بغیر طلب کے گواہی دینے والے کا بہترین گواہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو اس کے بارے میں حنیفہ کی طرف سے دو تاویلیں کی جاتی ہیں ایک تو یہ کہ یہ ارشاد گرامی دراصل اس شخص پر محمول ہے جو کسی کے حق کا گواہ ہے لیکن مدعی کو اس کے گواہ ہونے کا علم نہیں ہے۔ لہٰذا اس کو چاہئے کہ وہ مدعی کو بتادے کہ میں اس قضیہ میں تمہارا گواہ ہوں۔ دوسری تاویل یہ ہے کہ اس حدیث کا تعلق حق تعالیٰ کے حقوق میں گواہی دینے سے ہے۔ جیسے زکوٰۃ کفارہ رویت ہلال اور وصیت اور اسی طرح کی دوسری چیزیں، لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی چیز کا شاہد ہو۔ مثلاً اس نے چاند دیکھا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ حاکم وقاضی کے ہاں حاضر ہو اور گواہی دے۔ ان دونوں تاویلوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ ارشاد گرامی اس حکم کو بطور مبالغہ بیان کرنے پر محمول ہے کہ جو شخص کسی قضیہ میں گواہ کی حیثیت رکھتا ہو اور اس سے گواہی طلب کی گئی ہو تو اس طلب کے بعد اس کو چاہئے کہ وہ گواہی دینے کی اپنی ذمہ داری کو جلد سے جلد پورا کرے اور بغیر طلب کے گواہی دینے کی جو مذمت منقول ہے وہ اس کے عکس پر محمول ہے۔