hadith book logo

Mishkaat Shareef

164. قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں اور دجال کا ذکر

مشكاة المصابيح

5369
Mishkaat Shareef
صحیح
اس باب میں بالک آخر زمانہ کی ان نشانیوں اور علامتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو قیامت کے بالکل قریب ظاہر ہوں گی جیسا کہ پچھلے باب میں چھوٹی نشانیوں اور علامتوں کا ذکر کیا تھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے کا ذکر بھی اسی باب میں ہوتا کیونکہ ان کے وجود کا تعلق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دجال کے ساتھ جڑا ہوا ہے لیکن چونکہ حضرت مہدی کا ذکر پچھلے ابواب کی ان احادیث میں ہوچکا ہے جن میں ایسے فتنوں اور لڑائیوں کا ذکر تھا جو حضرت امام مہدی کے ظاہر ہونے سے پہلے وقوع پذیر ہونگی اور ان کے ظاہر ہونے کے بعد ختم ہوجائیں گی اس لئے اس باب میں ان کا ذکر نہیں ہوا۔ قیامت سے پہلے جن دس نشانیوں اور علامتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور جن کو مولف کتاب نے یہاں نقل کیا ہے ان کے ظاہر اور واقع ہونے کی جو ترتیب احادیث و روایات میں منقول ہے اور شارحین نے ان کے درمیان مطابقت اور موافقت پیدا کرنے کے لئے نقل کیا ہے اور کسی حدیث و روایت میں کچھ اور ترتیب منقول ہے اور شارحین نے ان کے درمیان مطابقت اور موافقت پیدا کرنے کے لئے بہت کچھ لکھا ہے جس کا کچھ حصہ احادیث کی

تشریح
کے ضمن میں مذکور ہوگا تاہم یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان دس نشانیوں اور علامتوں میں سے سب سے بڑی نشانی اور علامت اور سخت ترین بلاء دجال کا ظاہر ہونا ہے جس کے سلسلے میں بہت زیامدہ مشہور تر احادیث منقول ہیں۔ دجال اور مسیح کے معنی دجال کا لفظ دجل سے نکلا ہے جس کے معنی خلط، مکر اور تلبیس کے ہیں، چناچہ جب کوئی شخص صحیح بات کو غلط بات کے ساتھ خلط (گڈمڈ) کرتا ہے اور فریب دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ دجل الحق بالباطل (اس نے حق کو باطل کے ساتھ گڈمڈ کردیا) ویسے دجل کے معنی کذب یعنی جھوٹ کے بھی آتے ہیں چناچہ دجال کی ذات میں ان دونوں معنوں کا پایا جانا بالکل ظاہر بات ہے اس کے علاوہ قاموس وغیرہ میں دجال کی اور بھی وجہ تسمیہ مذکور ہیں۔ مسیح ایک ایسا مشترک نام ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دجال دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب یہ لفظ دجال کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس کو فقط دجال کے ساتھ مقید کردیتے ہیں یعنی مسیح دجال کہتے ہیں اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے استعمال ہوتا ہے تو اس لفظ کو مطلق استعمال کرتے ہیں یعنی صرف مسیح کہتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ جس اندھے یا کوڑھی اور یا کسی بھی بیمار پر ہاتھ پھیر دیتے تھے وہ چنگا ہوجاتا تھا یا آپ (علیہ السلام) کا پاؤں چونکہ عام لوگوں کی طرح نہیں تھا بلکہ ہموار اور بےخم تلوے کا تھا اس لئے آپ (علیہ السلام) کو مسیح کہا جاتا ہے یا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ماں کے پیٹ سے بالکل ممسوح پونچھے پانچھے پیدا ہوئے تھے، پیدائش کے وقت بچے جس آلائش کے ساتھ ماں کے پیٹ سے باہر آتے ہیں وہ ان کے ساتھ نہیں تھی، بالکل ساف ستھرے ماں کے پیٹ سے باہر آئے تھے۔ اس اعتبار سے ان کو مسیح کہا جانے لگا بعض حضرات کے نزدیک مسیح کے معنی صدیق کے ہیں اس اعتبار سے آپ (علیہ السلام) کو مسیح کہا جانا بالکل ظاہر بات ہے ! ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ آپ (علیہ السلام) زمین کے فاصلے بہت طے کرتے تھے لہٰذا مساحت کی مناسبت سے آپ کو مسیح کہا جانے لگا، دجال کو بھی مسیح کہنے کی ایک وجہ یہی ہے کہ وہ تقریبا ساری زمین کی سیر کرے گا اور تمام دنیا میں گھومتا پھرے گا، نیز اس ملعون کو مسیح کہنے کی کچھ اور وجوہ بھی ہیں ایک تو یہ کہ اس کی آنکھ غائب ہوگی اور ایک طرف کا چہرہ ممسوح ہوگا، دوسرے یہ کہ وہ ایک ایسی ذات ہوگی جس سے خیروبھلائی کو الگ اور دور کردیا گیا ہوگا جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات سے بدی اور برائی کو الگ اور دور کردیا گیا ہے پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو مسیح اللہ ہیں اور دجال ملعون مسیح الضلالت ہے بعض حضرات نے کہا کہ دجال کے لئے مسیح کا لفظ ہے جس کے معنی بد شکل اور بد صورت کے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے مسیح کا لفظ ہے تاہم بعض لوگوں نے جو یہ کہا ہے کہ دجال کے لئے مسخ کا لفظ ہے تو یہ بات غلط ہے۔
5370
Mishkaat Shareef
صحیح
عن حذيفة بن أسيد الغفاري قال اطلع النبي صلى الله عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر . فقال ما تذكرون ؟ . قالوا نذكر الساعة . قال إنها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى بن مريم ويأجوج ومأجوج وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم . وفي رواية نار تخرج من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر . وفي رواية في العاشرة وريح تلقي الناس في البحر . رواه مسلم .
حضرت حذیفہ ابن اسید غفاری (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ آپس میں قیامت کا ذکر کر رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ ہماری طرف آنکلے اور پوچھا کہ تم لوگ کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کر ہے ہیں تب آپ ﷺ نے فرمایا یقینا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیوں کو نہ دیکھ لوگے، پھر آپ ﷺ نے ان دس نشانیوں کو اس ترتیب سے ذکر فرمایا ١ دھواں ٢ دجال ٣ دابہ الارض ٤ سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا ٥ حضرت عیسیٰ ابن مریم کا نازل ہونا ٦ یاجوج ماجوج کا ظاہر ہونا اور (چھٹی، ساتویں اور آٹھویں نشانی کے طور پر، آپ ﷺ نے تین خسوف کا (یعنی تین مقامات پر زمین کے دھنس جانے کا) ذکر فرمایا ایک تو مشرق کے علاقہ میں، دوسرے مغرب کے علاقہ میں اور تیسرے جزیرہ عرب کے علاقہ اور دسویں نشانی، جو سب کے بعد ظاہر ہوگی، وہ آگ ہے جو یمن کی طرف سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو گھیر ہانک کر زمین حشر کی طرف لے جائے گی اور ایک حدیث میں یوں ہے کہ وہ ایک ایسی آگ ہوگی جو ( یمن کے مشہور شہر عدن کے آخری کنارے سے نمودار ہوگی اور لوگوں کو ہانک کر زمین حشر کی طرف لے جائے گی نیز ایک روایت میں دسویں نشانی کے طور پر یمن کی طرف سے یا عدن کے آخری کنارے سے آگ کے نمودار ہونے کے بجائے) ایک ایسی ہوا کا ذکر کیا گیا ہے جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی۔ (مسلم )

تشریح
حدیث میں قیامت کی جن دس بڑی نشانیوں اور علامتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں پہلی نشانی کے طور پر دھویں کا ذکر ہے، چناچہ وہ ایک بڑا دھواں ہوگا جو ظاہر ہو کر مشرق سے مغرب تک تمام زمین پر چھاجائیگا اور مسلسل چالیس روز تک چھایا رہے گا اس کی وجہ سے تمام لوگ سخت پریشان ہوجائیں گے، مسلمان تو صرف دماغ وحو اس کی کدورت اور زکام میں مبتلا ہوں گے مگر منافقین و کفار بیہوش ہوجائیں گے اور ان کے ہوش وحو اس اس طرح مختل ہوجائیں گے کہ بعضوں کو کئی دن تک ہوش نہیں آئے گا واضح رہے کہ قرآن کریم میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ آیت (فَارْتَ قِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَا ءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ ) 44 ۔ الدخان 10) تو حضرت حذیفہ (رض) اور ان کے تابعین کے قول کے مطابق اس آیت میں اسی دھویں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن حضرت ابن مسعود اور ان کے تابعین کے نزدیک اس آیت میں دھویں سے مراد غلہ کا وہ قحط ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں قریش مکہ پر نازل ہوا تھا اور جس کا حقیقی سبب رسول کریم ﷺ کی یہ بدعا تھی کہ اے اللہ ! تو ان لوگوں پر (جو سرکشی اور اسلام دشمنی میں حد سے بڑھ گئے ہیں سات سال کا قحط نازل فرما جیسا کہ تو نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصریوں پر نازل فرمایا تھا، چناچہ اس بددعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو سخت ترین غذائی قحط میں مبتلا کیا یہاں تک کہ وہ چمڑے، ومردے اور دوسری الا بلا چیزیں کھانے لگے تھے اس عرصہ میں انہیں فضا میں دھویں کی مانند ایک چیز نظر آتی تھی جس کو وہ اپنے اوپر منڈلاتے ہوئے دیکھا کرتے تھے جیسا کہ کوئی بھوکا ضعف و کمزوری کی شدت کے سبب اپنی آنکھوں کے آگے تاریکی محسوس کرتا ہے اور فضا میں بھری ہوئی ہوا اس کو دھویں کی شکل میں دکھائی دیتی ہے، ویسے بھی جب کسی علاقہ میں قحط سالی پھیل جاتی ہے تو بارش نہ ہونے کی وجہ سے پورے ماحول میں خشکی اور گردوغبار کی جو کثرت ہوجاتی ہے وہ فضا کو اس طرح مکدر کردیتی ہے کہ چاروں طرف دھویں کی صورت میں اندھیرا معلوم ہونے لگتا ہے۔ دابۃ الارض سے مراد ایک عجیب الخلقت اور نادر شکل کا جانور ہے جو مسجد حرام میں کوہ صفا ومروہ کے درمیان سے برآمد ہوگا اور جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ان الفاظ واخر جنا لہم دابۃ من الارض کے ذریعہ کیا گیا ہے ! علماء نے لکھا ہے کہ وہ جانور چوپایہ کی صورت میں ہوگا جس کی درازی ساٹھ گز کی ہوگی اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس عجیب الخلقت جانور کی شکل یہ ہوگی کہ چہرہ انسانوں کی طرح پاؤں اونٹ کی طرح گردن گھوڑے کی طرح سرین ہرن کی طرح سینگ بارہ سنگے کی طرح اور ہاتھ بندر کی طرح ہوں گے ! نیز اس کے نمودار ہونے کی صورت یہ ہوگی کہ کوہ صفا جو کعبہ کی مشرقی جانب واقع ہے، یکایک زلزلہ سے پھٹ جائے گا اور اس میں سے یہ جانور نکلے گا، اس کے ہاتھ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا ہوگا اور دوسرے ہاتھ میں حضرت سلیمان کی انگشتری ہوگی تمام شہروں اور علاقوں میں اتنی تیزی کے ساتھ دورہ کرے گا کہ کوئی فرد بشر اس کا پیچھا نہ کرسکے گا اور دوڑ میں اس کا مقابلہ کر کے اس سے چھٹکارا نہ پا سکے گا جہاں جہاں جائے گا ہر شخص پر نشان لگاتا جائے گا جو صاحب ایمان ہوگا اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصاء سے چھوئے گا اور اس کی پیشانی پر مومن لکھ دے گا اور جو کافر ہوگا اس پر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی انگشتری سے سیاہ مہر لگا دے گا اور اس کے منہ پر کافر لکھ دے گا ! بعض حضرات نے کہا ہے کہ دابۃ الارض تین مرتبہ نکلے گا ایک دفعہ تو حضرت امام مہدی کے زمانہ میں پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اور پھر آخری دفعہ آفتاب کے مغرب کی جانب سے طلوع ہونے کے بعد۔ آفتاب کے مغرب کی طرف سے نکلنے کے سلسلے میں وضاحت آگے آنے والی ایک حدیث کی تشریح میں بیان ہوگی ! آسمان سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول حضرت امام مہدی کے ظہور کے بعد ہوگا، چناچہ آپ ایک دن شام کے وقت آسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی سفید منارہ پر اتریں گے اور پھر دجال کو تلاش کرکے اس کو دروازہ لد پر قتل کریں گے لد شام میں ایک موضع کا نام ہے اور بعض حضرات نے اس کو فلسطین کے ایک موضع کا نام بتایا ہے واضح رہے کہ یہاں حدیث میں جن دس نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی ترتیب کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ان میں سے سب سے پہلے جس نشانی کا ظہور ہوگا وہ دھواں ہے، اس کے بعد دجال نکلے گا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوں گے، پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے، پھر دابۃ الارض نکلے گا اور پھر آفتاب مغرب کی جانب سے طلوع ہوگا یہ بات اس لئے کہی جاتی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اہل ایمان کے علاوہ کوئی نہیں ہوگا کیونکہ سارے کفار مسلمان ہونگے ان کا ایمان مقبول ہوگا، اس کے برخلاف اگر یہ کہا جائے کہ مغرب کی جانب سے آفتاب کا طلوع ہونا، دجال کے نکلنے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نازل ہونے سے پہلے ہوگا تو ظاہر ہے کہ جو کفار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں مسلمان ہوں گے ان کا ایمان مقبول قرار نہ پائے کیونکہ آفتاب مغرب کی جانب سے طلوع ہونے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا اور اس وقت کسی کافر کا ایمان قبول کرنا معتبر نہیں ہوگا جب کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایمان قبول کرنے والے تمام لوگوں کا ایمان معتبر ہوگا اور وہ مسلمان مانے جائیں گے ! پس حدیث میں مذکورہ نشانیوں کو جس ترتیب کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے وہ ان نشانیوں کے وقوع پذیر ہونے کی اصل ترتیب نہیں ہے اور نہ یہاں اصل ترتیب کا ذکر کرنا مراد ہے بلکہ اصل مقصد ان نشانیوں کو ایک جگہ ذکر کرنا ہے سو بلا لحاظ ترتیب ان کو ایک جگہ ذکر کردیا گیا لہٰذا یہ اشکال وار نہیں ہوسکتا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول آفتاب کے مغرب کی جانب سے طلوع ہونے کے واقعہ سے پہلے ہوگا تو یہاں نزول آفتاب کے بعد کیوں ذکر کیا گیا۔ یاجوج ماجوج دراصل دو قبیلوں کے نام ہیں جو یافث ابن نوح کی اولاد میں سے ہیں، یہ دونوں قبیلے بہت وحشی مگر طاقتور تھے ان کا خاص مشغلہ لوٹ مار اور زمین پر فساد پھیلانا تھا، یہ قبیلے جس گھاٹی میں رہا کرتے تھے اس کو ذو القرنین نے ایک ایسی دیوار سے جس کی بلندی اس گھاٹی کے دونوں طرف کے پہاڑوں کی چوٹی تک پہنچتی ہے اور موٹائی ٦٠ گز کی ہے، بند کرا دیا تھا تاکہ لوگ ان قبیلوں کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رہ سکیں، جب قیامت آنے کو ہوگی اور یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت آئے گا تو دیوار ٹوٹ جائے گی۔ آپ ﷺ نے تین خسوف کا ذکر فرمایا کے بارے میں ابن مالک نے کہا ہے کہ عذاب الہٰی کے طور پر زمین کا دھنس جانا مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں واقع ہوچکا ہے لیکن احتمال ہے کہ یہاں حدیث میں جن تین خسوف کا ذکر فرمایا ہے وہ پہلے واقع ہو چکنے والے خسوف کے علاوہ ہوں گے اور ان سے بھی زیادہ سخت ہوں گے۔ اور لوگوں کو ہانک کر زمین حشر کی طرف لے جائے گی میں زمین حشر سے مراد ملک شام کا وہ علاقہ ہے جہاں وہ آگ لوگوں کو لے جا کر چھوڑے گی بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس آگ کی ابتداء ملک شام سے ہوگی، یا یہ کہ ملک شام کو اس قدر وسیع وفراخ کردیا جائے گا کہ پورے عالم کے لوگ اس میں جمع ہوجائیں گے بہر حال حدیث کے اس جملہ کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اس آگ کا لوگوں کو ہانکنا، حشر کے بعد ہوگا۔ اگر زمین حشر سے مراد میدان حشر لیا جاتا تو یقینا یہ مفہوم پیدا ہوتا اور اس پر اعتراض بھی واقع ہوتا، لیکن جب یہاں میدان حشر مراد ہی نہیں ہے تو پھر کوئی اعتراض بھی پیدا نہیں ہوسکتا ! نیز ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ وہ آگ حجاز کی سر زمین سے نمودار ہوگی، جب کہ یہاں حدیث میں اس کا یمن کی جانب سے نمودار ہونا بیان کیا گیا ہے) لہذا قاضی عیاض نے یہ کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ قیامت کی نشانی کے طور پر جس آگ کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایک نہیں دو ہوں گی اور وہ دونوں، لوگوں کو گھیر کر ہانک کر زمین حشر (یعنی ملک شام) کی طرف لے جائیں گی۔ یا یہ کہ وہ آگ تو ایک ہی ہوگی جو ابتداء میں یمن کی جانب سے نکلے گی لیکن اس کا ظہور حجاز کی سر زمین سے ہوگا۔ اس موقع پر اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں بخاری کی جو روایت ہے اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے سب سے پہلی علامت وہ آگ ہوگی جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے گھیر ہانک کر مغرب کی طرف لے جائے گی جب کہ حقیقت میں وہ آگ سب سے آخری علامت ہوگی جیسا کہ یہاں حدیث میں مذکور ترتیب سے بھی واضح ہوتا ہے، پس اس تضاد کو اس تاویل کے ذریعہ دور کیا جائے گا کہ آگ کی سب سے آخری نشانی مذکورہ آگ ہوگی اور بخاری کی روایت میں آگ کو جو سب سے پہلی نشانی قرار دیا گیا ہے تو وہ اس اعتبار سے کہ آگ، قیامت کی ان نشانیوں میں سے سب سے پہلی نشانی ہوگی جن کے بعد دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی بلکہ ان نشانیوں کے وقوع پذیر ہونے کے ساتھ ہی صور پھونکا جایئگا، ان کے برخلاف یہاں حدیث میں جن نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے ہر ایک نشانی کے بعد بھی دنیا کی چیزیں باقی رہیں گی۔ ایک ایسی ہوا کا ذکر کیا گیا ہے جو لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی یہ روایت بظاہر اس روایت کے خلاف ہے جس میں آگ کا ذکر ہے پس ان دونوں روایتوں کے درمیان مطابقت ویکسانیت پیدا کرنے کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ اس دوسری روایت میں لفظ ناس (لوگوں) سے مراد کفار ہیں اور ان کو ہانکنے والی آگ ہوا کے سخت جھکڑ کے ساتھ ملی ہوئی ہوگی تاکہ ان کفار کو سمندر میں دھکیلنے کا عمل زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پورا ہو، نیز مذکورہ آگ جس کا پانی آگ کی صورت میں تبدیل ہوجائے گا، چناچہ قرآن کریم ان الفاظ و اذا لبحار سجرت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ تبدیل ہوجائے گا چناچہ قرآن کریم کے ان الفاظ میں اسی حقیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے برخلاف مومنین کے لئے جو آگ ہوگی وہ محض ان کو ڈرانے کے لئے ہوگی اور کوڑے کی طرح اس کا کام یہ ہوگا کہ انہیں ہانک کر زمین حشر اور موقف اعظم کی طرف لے جائے۔
5371
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بادروا بالأعمال ستا . الدخان والدجال ودابة الأرض وطلوع الشمس من مغربها وأمر العامة وخويصة أحدكم . رواه مسلم .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا چھ چیزوں کی بناء پر تم اعمال صالحہ کی طرف پیش قدمی کرلو اور وہ چھ چیزیں یہ ہیں دھواں، دجال، دابہ الارض، مغرب سے طلوع آفتاب، امر عامہ، (یعنی وہ فتنہ عام جو تمام لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے) اور فتنہ خاص (کہ جو تم میں سے کسی کے ساتھ مخصوص ہو ) ۔ ( مسلم )

تشریح
چھ چیزوں کی بناء پر الخ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کی ان چھ نشانیوں کے ظاہر ہونے اور ان کے آپہنچنے سے پہلے پہلے جس قدر زیادہ ہو سکے نیک کام کرلو کیونکہ ان چیزوں کے بعد یا تو نیک کام کرنا نہایت دشوار ہوجائے گا یا اگر کوئی نیک کام کیا بھی جائے گا تو اس کا اعتبار ہی نہیں ہوگا امر عامہ سے مراد برائی اور دین سے بیزاری کا وہ ہمہ گیر فتنہ ہے جو اجتماعی طور پر تمام لوگوں کو گھیرے گا اور پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آجائے اور فتنہ خاص سے مراد وہ مخصوص مسائل وآفات ہیں جو انفرادی طور پر کسی بھی شخص کو اس طرح پریشان حال اور پراگندہ خاطر کردیتے ہیں کہ وہ دین وآخرت کے معاملات کی طرف زیادہ توجہ دینے سے باز رہتا ہے جیسے اپنے یا اپنے اہل و عیال اور مال و جائیداد کے بارے میں مختلف قسم کی پریشانیاں اور مشغولیتیں ایک احتمال یہ بھی ہے کہ یہاں امر عامہ سے مراد قیامت اور فتنہ خاص سے مراد موت ہو اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث کا مقصد چونکہ لوگوں کو قیامت کی علامتوں سے ڈرانا اور چوکنا کرنا ہے اس لئے ان علامتوں کے ضمن میں خود قیامت اور قیامت صغری یعنی موت کے آنے سے بھی ڈرایا گیا ہے۔
5372
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمرو قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة على الناس ضحى وأيهما ما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها قريبا رواه مسلم .
اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ظاہر ہونے کے اعتبار سے قیامت کی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت لوگوں پر دابۃ الارض کا نکلنا اور ان سے اس کا بات کرنا ہے ان دونوں مذکورہ نشانیوں میں سے جو نشانی پہلے ظاہر ہوگی اس کے جلد ہی بعد دوسری ظاہر ہوجائے گی۔ (مسلم )

تشریح
طیبی نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا ہے کہ اگر یہاں اشکال پیدا ہو کہ آفتاب کا مغرب کی طرف سے نکلنا قیامت کی سب سے پہلی نشانی نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے تو دھویں اور دجال کا ظہور ہوچکا ہوگا ؟ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ جن چیزوں کو قیامت کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے ان کی دو قسمیں ہیں، ایک تو وہ نشانیاں ہیں جو قیامت کے وقت قریب آجانے کی علامت ہیں اور دوسری وہ نشانیاں ہیں جو قیام قیامت کے وجود اور اس کے آجانے پر دلالت کریں گی پس پہلی قسم کی نشانیوں سے سب سے پہلی نشانی تو آنحضرت ﷺ کی بعثت ہے اور پھر آخری کی باقی نشانیوں میں سے دھواں، دجال کا نکلنا اور اس طرح کی دوسری علامتیں ہیں دوسری قسم کی نشانیوں میں سے آفتاب کا مغرب کی طرف سے نکلنا زلزلہ اور اس آگ کا نمودار ہونا ہے جو لوگوں کو گھیر ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گی، چناچہ مغرب کی طرف سے آفتاب کے طلوع ہونے کو سب سے پہلی نشانی اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ اسی نشانی سے دوسری قسم کی نشانیوں کی ابتداء ہوگی۔ وخروج الدابۃ علی الناس میں لفظ خروج کا عطف طلوع الشمس پر ہے جو لفظ اول کی خبر ہے، اس صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ سب سے پہلی نشانی، ایک سے زائد ہو، حالانکہ یہ صحیح نہیں ہوگا، لہذا ابن مالک نے کہا ہے کہ خروج میں حرف واؤ شاید کہ کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اس صورت میں عبارت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے سب سے پہلی نشانی آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا یا چاشت کے وقت لوگوں پر دابۃ الارض کا نکلنا اور ان سے اس کا بات کرنا ہے یہ وضاحت نہ صرف یہ کہ حدیث کہ آخری الفاظ ایہما ما کانت الخ کے مطابق ہے بلکہ اس کی تائید ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں یوں ہے کہ اوخروج الدابۃ علی الناس۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نشانیوں کے واقع ہونے کے درمیان جو وقفہ ہوگا وہ دوسری نشانیوں کے درمیانی وقفوں کی بہ نسبت بہت کم ہوگا، چناچہ اگر مغرب کی طرف سے آفتاب کا طلوع ہونا پہلے ہوا تو دابۃ الارض کا نکلنا اس کے فورا بعد ہوگا اور اگر پہلے دابۃ الارض نکلے گا تو مغرب کی طرف سے آفتاب کا طلوع ہونا اس کے فورا بعد ہوگا ! واضح رہے کہ ان دونوں علامتوں کی ترتیب اور تقدم وتاخر کے سلسلے میں تعین کے ساتھ وحی نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ اس بات کو مبہم چھوڑ دیا گیا تھا البتہ اتنا بتادیا گیا کہ یہ دونوں علامتیں اپنی نوعیت کی اور دوسری علامتوں سے پہلے ظاہر ہوں گی ! نیز اس موقع پر یہ واضح کردینا بھی ضروری ہے کہ جس حدیث میں یہ منقول ہے کہ۔۔۔ ان اولہا خروج الدجال (یعنی قیامت کی علامتوں میں سے سب سے پہلی علامت دجال کا نکلنا ہے) تو وہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
5373
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث إذا خرجن ( لا ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا ) طلوع الشمس من مغربها والدجال ودابة الأرض . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تین باتیں جب ظہور میں آجائیں گی تو پھر کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اور کفر سے توبہ کرنا کہ جس نے اس سے پہلے ایمان قبول نہیں کیا ہوگا، کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ اس شخص کا ابنے ایمان کی حالت میں نیک عمل کرنا فائدہ مند ہوگا اگر اس نے اس سے پہلے وہ نیک عمل نہ کیا ہوگا (یعنی اس وقت گناہوں سے توبہ کرنا بھی معتبر نہ ہوگا) اور وہ تین باتیں یہ ہیں، آفتاب کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا، دجال اور دابۃ الارض کا نکلنا۔ (مسلم )

تشریح
مطلب یہ ہے کہ ان نشانیوں کو دیکھ کر چونکہ قیامت کا آنا متعین ہوجائے گا اور اس وقت اس دنیا کی پر فریب زندگی کا پردہ اس طرح چاک ہوجائے گا کہ آخرت کی زندگی اور وہاں کے احوال، نظر و مشاہدہ میں آجائیں گے اس لئے اس وقت کفر اور گناہوں سے توبہ کرنا اور ایمان قبول کرنا معتبر نہیں ہوگا کیونکہ ایمان تو وہی معتبر ہے جو غیب پر یقین کے ساتھ ہو۔ یہاں حدیث میں مغرب کی طرف سے آفتاب کے طلوع ہونے کو باقی دونوں سے پہلے ذکر کیا گیا ہے جب کہ وقوع پذیر ہونے کے اعتبار سے اس کا نمبر بعد میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان کے قبول ہونے کا اصل مدار اسی پر ہے یعنی توبہ اور ایمان کا قبول نہ ہونا اسی وقت ہوگا جب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا، لہذا پہلے اس کا ذکر کیا گیا اور اس کے ساتھ دو اور نشانیوں یعنی دجال اور دابۃ الارض کے نکلنے کو بھی ملا دیا گیا۔
5374
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين غربت الشمس أين تذهب ؟ . قلت الله ورسوله أعلم . قال فإنها تذهب حتى تسجد تحت العرش فتستأذن فيؤذن لها ويوشك أن تسجد ولا يقبل منها وتستأذن فلا يؤذن لها ويقال لها ارجعي من حيث جئت فتطلع من مغربها فذلك قوله تعالى ( والشمس تجري لمستقر لها ) قال مستقرها تحت العرش . متفق عليه .
اور حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن جب کہ آفتاب غروب ہو رہا تھا رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے، جانتے ہو یہ آفتاب کہاں جار ہا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا یہ آفتاب جاتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے پہنچ کر سجدہ کرتا ہے، پھر حضور رب العزت میں حاضری کی اجازت مانگتا ہے، اس کو اجازت عطا ہوتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ مشرق کی طرف لے جائے اور وہاں سے طلوع کرے اور یاد رکھو وہ وقت جلد ہی آنے والا ہے جب آفتاب (اپنے معمول کے مطابق سجدہ کرے گا لیکن اس کا سجدہ قبول نہیں ہوگا اور اجازت چاہے گا لیکن اس کو اجازت عطا نہیں ہوگی اور یہ حکم دیا جائے گا کہ جس طرف سے آیا ہے اسی طرف لوٹ جا چناچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع کرے گا اور یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے کہ والشمس تجری لمستقرلھا (یعنی آفتاب اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے نیز آنحضرت ﷺ نے (آفتاب کے مستقر کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ آفتاب کا مستقر یعنی اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے نیچے ہے۔ (بخاری )

تشریح
بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث میں فانہا تذہب حتی تسجد تحت العرش کے الفاظ قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں ہیں جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ حتی بلغ مغرب الشمس وجدھا تغرب فی عین حمیۃ کیونکہ اس آیت کی مراد اصل حد نظر کو بیان کرنا ہے، جب کہ یہاں حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ سورج ڈوبنے کی جو بات فرمائی گئی ہے اس کی مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آفتاب عرش کے نیچے پہنچ کر مستقر ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کے مستقر ہونے کی کیفیت و حقیقت کیا ہوتی ہے تو اس کا ادراک اظہار انسانی علم کے احاطہ سے باہر ہے۔ لفظ تستاذن میں استیذان سے مراد حضور حق میں حاضری کی اجازت چاہنا۔ لیا گیا ہے، لیکن اس لفظ کا زیادہ واضح مفہوم یہ ہوسکتا ہے کہ آفتاب عرش کے نیچے سجدہ ریز ہونے کے بعد اپنے معمول کے مطابق طلوع کرنے کی اجازت چاہتا ہو اور اس کو وہ اجازت ہوتی ہے۔ آفتاب کا مستقر عرش کے نیچے ہے کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد عرش کے نیچے جاتا ہے اور وہاں سجدہ کرتا ہے پھر وہ اجازت طلب کرتا ہے جس پر اس کو اجازت دی جاتی ہے واضح رہے کہ مذکورہ آیت (وَالشَّمْسُ تَجْرِيْ لِمُسْتَ قَرٍّ لَّهَا) 36 ۔ یس 38) کی تفسیر میں بیضاوی نے مستقر کے کئی معنی بیان کئے ہیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے مستقر کی اس وضاحت کو قطعًا ذکر نہیں کیا ہے جو بخاری ومسلم کی مذکورہ بالا حدیث میں بیان ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ قابل اعتماد ہے اور جس سے یہ متعین ہوجاتا ہے کہ مستقر سے کیا مراد ہے۔
5375
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمران بن حصين قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما بين خلق آدم إلى قيام الساعة أمر أكبر من الدجال . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت عمران ابن حصین کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آدم کی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن تک (یعنی کائنات انسانی کے پورے زمانہ میں ابتلاء واختلال اور استدراج کے اعتبار سے دجال کے فتنہ سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔ (مسلم )
5376
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله لا يخفى عليكم إن الله تعالى ليس بأعور وإن المسيح الدجال أعور عين اليمنى كأن عينه عنبة طافية . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقینًا اللہ تعالیٰ تم پر مخفی نہیں ہے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے جب کہ مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہوگا۔ اور اس کی وہ آنکھ ایسی ہوگی جیسے وہ انگور کا ایک پھولا ہوا دانا ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اللہ تعالیٰ تم پر مخفی نہیں ہے یہ جملہ دراصل آگے کی عبارت اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے الخ کی تمہید کے طور پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کی بتائی ہوئی باتوں کی روشنی میں تم اللہ تعالیٰ کی حقیقت سے آگاہ ہو اور اس کی ذات کو تم نے اس کی صفات کاملہ کے ساتھ پہچان رکھا ہے، لہٰذا جب دجال کا ظہور ہو اور وہ اپنی شعبدہ بازیوں اور فریب کاریوں کے ذریعہ تمہیں تمہارے رب کے بارے میں گمراہ کرنا چاہے تو تم گمراہ نہ ہونا۔ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی نقصان وعیب کی نفی کرنا مراد ہے نہ کہ اس کی ذات کے لئے کوئی جسمانی عضو کو صحیح وسالم ثابت کرنا مراد ہے گویا اصل مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی جنس سے نہیں ہے اور نہ اس کی آدمیوں جیسی آنکھ ہے چہ جائیکہ وہ کانا ہو۔ لفظ طافیۃ یہاں توی کے ساتھ منقول ہے ویسے بعض روایتوں میں یہ لفظ ہمزہ کے ساتھ بھی نقل کیا گیا ہے، اس کے لغوی معنی بلند کے ہیں لہٰذا عنبۃ طافیۃ کا مفہوم ہے انگور کا پھولا ہوا دانا واضح رہے کہ دجال کی آنکھ کے سلسلہ میں یہ روایت اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ انہا لیت بناتئۃ ولا حجراء یعنی اس کی وہ آنکھ نہ ابھری ہوئی ہوگی اور نہ دھنسی ہوئی اور دونوں روایتوں کے درمیان منافات اس اعتبار سے نہیں ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں باتیں اس کی آنکھوں میں پائی جائیں، یعنی اس کی ایک آنکھ تو اس طرح کی کافی ہوگی جیسے انگور کا پھولا دنا اور دوسری آنکھ اس طرح کی ہوگی کہ نہ تو وہ ابھری ہوئی ہوگی اور نہ دھنسی ہوئی تورپشتی نے کہا ہے کہ وہ دجال کی جسمانی حالت خصوصا آنکھ کے بارے میں جو احادیث منقول ہیں ان سب میں بہت زیادہ باہمی تضاد وتعارض ہے اور بسا اوقات ان کے درمیان مطابقت پیدا کرنا مشکل ہوجاتا ہے مثلًا یہاں جو حدیث نقل ہوئی ہے اس میں تو یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس کی آنکھ طافیہ (بلند) ہوگی جیسا کہ انگور کا کوئی پھولا ہوا دانا ہوتا ہے، ایک حدیث میں یہ ہے کہ وہ جاحظ العین یعنی ابھری ہوئی آنکھ والا ہوگا اور ابھری ہوئی آنکھ نہ تو ابھری ہوئی ہوگی اور نہ دھنسی ہوئی ہوگی پس ان تمام روایات میں مطابقت کے لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس کی آنکھ کی جو مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں ان کا تعلق دونوں آنکھوں کے ایک دوسرے سے مختلف ہونا ہے یعنی ایک آنکھ اس طرح کی ہوگی اور ایک اس طرح کی اس کی تائید عبداللہ کی مذکورہ بالا روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں دجال کا دائیں آنکھ سے کانا ہونا نقل کیا گیا ہے اس سلسلہ میں جو روایت حضرت حذیفہ (رض) سے منقول ہے اس میں یہ ہے کہ وہ ممسوح العین (یعنی مٹی ہوائی آنکھ والا ہوگا) اور اس کی آنکھ پر موٹا ناخنہ ہوگا، نیز ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا ان روایتوں کے درمیان مطابقت کرنے کے لئے بھی یہی کہا جائے گا کہ اس کی آنکھ کے عیب دار ہونے کی جو مختلف نوعیتیں بیان کی گئیں ہیں وہ الگ الگ دونوں آنکھوں کے اعتبار سے ہیں یعنی اس کی ایک آنکھ تو بالکل غائب ہوگی اور دوسری بھی عیب دار ہوگی۔ اس طرح اس کی دونوں آنکھوں پر عور کا اطلاق ہوسکتا ہے کیونکہ عور کے اصل معنی عیب کے ہیں لہٰذا اس کی دائیں آنکھ بھی عیب دار ہوگی اور بائیں آنکھ بھی۔
5377
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور مكتوب بين عينيه ك ف ر . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی نبی ﷺ نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو جھوٹے کانے (دجال سے نہ ڈرایا ہو آگاہ رہو، دجال کانا ہوگا اور تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے، نیز اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک ف ر (یعنی کفر کا لفظ) لکھا ہوگا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ایسا کوئی نبی نہیں گزرا الخ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دجال کے ظاہر ہونے کا متعینہ وقت کسی پر بھی ظاہر نہیں فرمایا بس اس قدر معلوم ہے کہ وہ قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا اور چونکہ قیامت آنے کا متعین وقت کسی کو نہیں معلوم ہے اس لئے دجال کے ظاہر ہونے کا متعین وقت بھی کسی کو نہیں معلوم۔ ک ف ر سے کفر کا لفظ مراد ہے، چناچہ مصابیح اور مشکوۃ کے نسخوں میں یہ تینوں حرف اسی طرح علیحدہ علیحدہ لکھے ہوئے ہیں اور اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ گویا دجال کے چہرے پر کفر کا لفظ اسی طرح لکھا ہوگا نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دجال دراصل تباہی و ہلاکت یعنی کفر کی طرف بلانے والا اور کفر کے پھیلنے کا باعث ہوگا نہ کہ فلاح ونجات کی طرف بلانے والا ہوگا، اس سے بچنا اور اس کی اطاعت نہ کرنا واجب ہوگا درحقیت یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے حق میں ایک بڑی نعمت ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کفر کا لفظ نمایاں ہوگا جس سے ہر صاحب ایمان کو اس کے مکر و فریب سے بچنے میں آسانی ہوگی۔
5378
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أحدثكم حديثا عن الدجال ماحدث به نبي قومه ؟ إنه أعور وإنه يجيء معه بمثل الجنة والنار فالتي يقول إنها الجنة هي النار وإني أنذركم كما أنذر به نوح قومه . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ آگاہ رہو کہ دجال کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی اور نبی ﷺ نے اپنی قوم کو نہیں بتائی ہے اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہوگا اور وہ اپنے ساتھ جنت و دوزخ کی مانند دو چیزیں لائے گا پس وہ جس چیز کو جنت کہے گا حقیقت میں وہ آگ ہوگی لہٰذا میں تمہیں اس دجال سے ڈراتا ہوں جیسا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس سے ڈریا تھا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ دجال کے پاس چونکہ بڑی زبر دست طلسماتی طاقت ہوگی اس لئے وہ اپنے ساتھ ایک بہت بڑا باغ اور آگ کا پھندا لئے پھرے گا جس کو وہ اپنی جنت اور دوزخ سے تعبیر کرے گا ! یا جنت سے مراد آسائش و راحت کے سامان یا اس کے الطاف و عنایات ہیں اور دوزخ سے مراد رنج و کلف کی چیزیں اور اس کی ایذا رسانیاں ہیں۔ حقیت میں وہ آگ ہوگی۔ کی وضاحت ایک شارح نے یہ کی ہے کہ کسی شخص کا دجال کی اس جنت میں داخل ہونا اور اس کو قبول کرنا درحقیت عذاب الٰہی میں گرفتار ہونا اور دوزخ میں جانے کا راستہ اختیار کرنا ہے اسی پر قیاس کر کے دوسرا جز یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ دجال جس چیز کو دوزخ کہے گا حقیقت میں وہ بہشت ہوگی، یعنی جو شخص اس کی اطاعت نہیں کرے گا اور اس کی وجہ سے وہ اس کو اپنی دوزخ میں ڈالے گا وہ شخص درحقیقت دجال کی تکذیب کرنے اور اس کے آگے جھکنے سے انکار کردینے کے سبب بہشت میں داخل ہوگا ! ایک وضاحت تو یہ ہے، لیکن زیادہ قریبی مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال جس چیز کو اپنی جنت اور جس چیز کو اپنی دوزخ بتائے گا اور ان میں جن لوگوں کو داخل کرے گا وہ دونوں کے لئے بالکل برعکس ثابت ہوں گی اور ان کا فعل الٹا ہوجائیگا یعنی جن لوگوں کو تکلیف واذیت میں مبتلا کرنے کے لئے اپنی دوزخ میں ڈالے گا وہ ان کے لئے رنج و تکلیف کے بجائے اطمینان و راحت کی جگہ بن جائے گی اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے ہے القبر روضۃ من ریاض الجنۃ او حفرۃ من حفر النار (قبر یا تو جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے) یعنی قبر کا ماحول اور اس کا فعل بندوں کے اعتبار سے مختلف ہوجاتا ہے، جس بندے سے اللہ خوش ہوتا ہے اس کے لئے اس کی قبر رنج وکلفت کی آلام گاہ ہوجاتی ہے اور اس کے قبیل سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یا نار کونی بردا وسلاما علی ابراہیم ( اے آگ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈگ اور سلامتی کا سبب بن جا) نیز یہی حال اس مکدر دنیا کا ہے جس کو قید خانہ کہا گیا ہے لیکن یہی قید خانہ اپنی تمام تر سختیوں اور تنگیوں کے باوجود ان عارفین اور اہل اللہ کے لئے جنت کا روپ اختیار کرلیتا ہے جو مقام رضا پر فائز ہوتے ہیں اور اللہ کی خوشنودی کی خاطر یہاں کی ہر تنگی و سختی کو صبر و عزیمت اور خوش دلی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولمن خاف مقام ربہ جنتن۔ کہ ان مردان حق آگاہ کے لئے دو جنتیں ہیں، ایک تو یہی دنیا ان کے لئے جنت بن جاتی ہے اور ایک جنت انہیں عقبی میں ملے گی اسی لئے عارفین کی نظر میں دنیا بالکل برعکس معلوم ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک دنیا کی نعمت و راحت درحقیقت نقمت یعنی عذاب ہوتی ہے اور یہاں کی نقمت حقیقت میں نعمت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ حدیث کا اصل مقصد چونکہ لوگوں کو دجال کی فریب کاریوں سے ڈرانا ہے اس لئے اس موقع پر صرف پہلے جز، یعنی دجال کی جنت کی حقیقت کے ذکر پر اکتفا فرمایا گیا، اگرچہ بعض دوسری حدیثوں میں دوسرے جزء یعنی اس کی دوزخ کی حقیقت کو بھی صریح بیان فرمایا گیا ہے پس مفہوم کے اعتبار سے اس موقع پر پوری عبارت گویا یوں ہوگی کہ پس وہ جس چیز کو جنت کہے گا حقیقت میں وہ آگ ہوگی اور جس چیز کو دوزخ کہے گا حقیقت میں وہ جنت ہوگی۔ دجال کے سلسلے میں عمومی طور پر ہر نبی ﷺ کا ذکر کرنے کے بعد پھر آخر میں خاص طور پر حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر کرنا اس حقیقت کی بناء پر ہے کہ مشاہیر انبیاء میں انہیں کی ذات مقدم ہے۔