hadith book logo

Mishkaat Shareef

18. قربانى کا بیان

مشكاة المصابيح

1408
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ الْبَرَآءِ ص قَالَ خَطَبَنَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ اِنَّ اَوَّلَ مَا نَبْدَاُ بِہٖ فِیْ ےَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُّصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَالِکَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ نُّصَلِّیَ فَاِنَّمَا ھُوَ شَاۃُ لَحْمٍ عَجَّلَہُ لِاَھْلِہٖ لَےْسَ مِنَ النُّسُکِ فِیْ شَئٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت براء (رض) راوی ہیں سرتاج دو عالم ﷺ نے یوم النحر (یعنی بقر عید کے دن) ہمارے سامنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ اس دن سب سے پہلا کام جو ہمیں کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم (عیدالاضحی کی) نماز پڑھیں پھر گھر واپس جائیں اور قربانی کریں، لہٰذا جس آدمی نے اس طرح عمل کیا (کہ قربانی سے پہلے نماز و خطبے سے فراغت حاصل کرلی) اس نے ہماری سنت کو اختیار کیا اور جس آدمی نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ قربانی نہیں ہے بلکہ وہ گوشت والی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھروالوں کے لئے جلدی ذبح کرلیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ نماز سے پہلے قربانی کرلینے سے قربانی کا ثواب نہیں ملتا بلکہ اس کا شمار اس گوشت میں ہوجاتا ہے جو عام طور پر گھر والے کھاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مشروع یہ ہے کہ پہلے عید قربان کی نماز پڑھی جائے اس کے بعد خطبہ پڑھا جائے اور سنا جائے پھر قربانی کی جائے چونکہ حدیث بالا میں قربانی کا وقت پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس لئے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عید قرباں کے دن طلوع فجر سے پہلے قربانی جائز نہیں۔ البتہ طلوع فجر کے بعد قربانی کا وقت شروع ہونے کے سلسلے میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ جب آفتاب بقدر نیزہ بلند ہوجائے اور اس کے بعد کم از کم دو رکعت نماز اور دو مختصر خطبے کی بقدر وقت گزر جائے تو قربانی کا وقت شروع ہوتا ہے اس کے بعد قربانی کرنا جائز ہے خواہ بقر عید کی نماز ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس وقت سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے خواہ قربانی کرنے والا شہر میں رہتا ہو یا دیہات کا رہنا والا ہو، نیز امام شافعی کے نزدیک قربانی کا وقت تیرہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قربانی کا وقت شہر والوں کے لئے عید قربان کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لئے طلوع فجر کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے ہاں قربانی کا آخری وقت بارہویں تاریخ کے آخر تک رہتا ہے۔ قربانی واجب ہے یا سنت حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں قربانی واجب نہیں بلکہ سنت ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ ہر صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے اگرچہ نصاب نامی نہ ہو۔
1409
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَلْےَذْبَحْ مَکَانَھَا اُخْرٰی وَمَنْ لَّمْ ےَذْبَحْ حَتّٰی صَلَّےْنَا فَلْےَذْبَحْ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت جندب ابن عبداللہ بجلی (رض) راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی ( قربانی کا جانور) عید قربان کی نماز سے پہلے ذبح کردے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے بدلے (قربانی کیلئے) دوسرا جانور ذبح کرے اور جو آدمی نماز پڑھنے تک ذبح نہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کا جانور ذبح کر دے (یہ قربانی درست ہوگی جس کا ثواب اسے ملے گا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
1410
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ الْبَرَآئِص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَاِنَّمَا ےَذْبَحُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکُہُ وَاَصَابَ سُنَّۃَ الْمُسْلِمِےْنَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت براء راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے (قربانی کا جانور) نماز سے پہلے ذبح کیا تو گویا اس نے اپنے (محض کھانے کے) واسطے ذبح کیا (اس لئے اسے قربانی کا ثواب حاصل نہیں ہوا) جس آدمی نے نماز کے بعد ذبح کیا تو بلا شبہ اس کی قربانی ادا ہوگئی اور (اس طرح) اس نے مسلمانوں کے طریقے کو اپنایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
جمہور علماء کا مسلک یہی ہے مگر تعجب ہے کہ اتنی واضح اور صحیح احادیث کے باوجود حضرت امام شافعی (رح) نے نہ معلوم کیوں جمہور علماء کے مسلک کے خلاف یہ کہا کہ قربانی کا وقت شروع ہوجانے کی بعد قربانی کر لینی جائز ہے۔ خواہ نماز ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو جیسا کہ ابھی پیچھے ان کا مسلک نقل کیا گیا ہے۔
1411
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَذْبَحُ وَےَنْحَرُ بِالْمُصَلّٰی۔(صحیح البخاری)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ عید گاہ میں ذبح اور نحر کرتے تھے۔ (صحیح البخاری )

تشریح
بکری، دنبہ بھیڑ، گائے بھینس اور اونٹ یہ جانور خواہ نر ہوں یا مادہ، ان کے علاوہ دوسرے جانور کی قربانی جائز نہیں، اونٹ کے علاوہ بقیہ جانوروں کے حلال کرنے کو ذبح کہتے ہیں اور اونٹ کے حلال کرنے کو نحر کہتے ہیں نحر کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اونٹ کو کھڑا کر کے اس کے سینہ میں نیزہ مارا جاتا ہے جس سے وہ گرپڑتا ہے۔ اگرچہ اونٹ کو ذبح کرنا بھی جائز ہے لیکن نحر افضل ہے۔
1412
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ وَلَھُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُوْنَ فِیْھِمَا فَقَالَ مَا ھٰذَانِ الْیَوْمَانِ قَالُوْا کُنَّا نَلْعَبُ فِیْھِمَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ اَبْدَ لَکُمُ اﷲُ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْھُمَا یَوْمَ الْاٰضْحٰی وَیَوْمَ الْفِطْرِ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ نے دو دن مقرر کر رکھے تھے جن میں وہ لہو و لعب کرتے (اور خوشیاں مناتے) تھے، آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) پوچھا کہ یہ دو دن کیسے ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ان دونوں دنوں میں ہم زمانہ جاہلیت میں کھیلا کو دا کرتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان دونوں دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن مقرر کر دئیے ہیں اور وہ عید الاضحی اور عید الفطر کے دن ہیں۔ (ابوداؤد)

تشریح
زمانہ جاہلیت میں اہل مدینہ کے لئے دو دن مقرر تھے جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے تھے اور خوشیاں منایا کرتے تھے ان میں سے ایک دن نوروز تھا اور دوسرا دن مہر جان ۔ نوروز کے دن آفتاب برج حمل میں جاتا ہے اور مہر جان کے دن برج میزان میں داخل ہوتا ہے۔ چونکہ ان دونوں دنوں میں آب و ہوا معتدل ہوتی ہے۔ اور رات دن برابر ہوتے ہیں اس لئے ان دنوں کو حکام نے خوشی منانے کی لئے مقرر کرلیا تھا چناچہ وہی رسم لوگوں میں چلی آتی تھی۔ یہاں تک کہ جب اہل مدینہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو شروع میں پرانی عادت کے مطابق ان دونوں میں پہلے زمانے کی طرح خوشی منایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان دنوں کی حقیقت دریافت فرمائی تو وہ اس کی کوئی حقیقت بیان نہ کرسکے صرف اتنا بتاسکے کہ پرانے زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے اور ان دنوں سے ہم اسی طرح خوشی مناتے چلے آتے ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں سے تمہیں اب کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں سے بہتر تمہیں عیدین کے دو دن عنایت فرما دئیے ہیں تم ان بابرکت دنوں میں خوشی منا سکتے ہو۔ گویا اس طرح آپ ﷺ نے ایک طرف تو یہ اشارہ فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ حقیقی عید اور خوشی عبادت کے دن منائے۔ لہٰذا اس حدیث میں عیدین کے دن لہو و لعب میں مشغول ہونے کی ممانعت ہے۔ دوسری طرف یہ اشارہ خفی ہے کہ عیدین میں بہت معمولی طریقے پر کھیل کود اور اس انداز اور اس طریقے سے خوشی منانا کہ جس میں حدود شریعت سے تجاوز اور فحاشی نہ ہو جائز ہے۔ یہ حدیث نہایت طبع انداز میں یہ بتارہی ہے کہ غیر مسلموں کے تہوار کی تعظیم کرنا اور ان میں خوشی منانا، نیز ان کی رسموں کو اپنانا ممنوع ہے نیز یہ حدیث غیر مسلموں کی عید و تہوار میں شرکت و حاضری کی ممانعت کو بھی ظاہر کر رہی ہے۔ بعض علماء نے تو اسے سخت جانا ہے کہ اس عمل پر کفر کا حکم لگایا ہے چناچہ ابوحفص کبیر حنفی فرماتے ہیں کہ جو آدمی نوروز کی عظمت و توقیر کے پیش نظر اس دن مشرکوں کو تحفہ میں انڈا بھیجے ( جیسا کہ اس روز مشرکین کا طریقہ ہے) تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور اس کے تمام اعمال نابود ہوجاتے ہیں۔ حضرت قاضی ابوالمحاسن ابن منصور حنفی کا قول ہے کہ اگر کوئی اس دن وہ چیزیں خریدے جو دوسرے دنوں میں نہیں خریدتا ہے (جیسا کہ ہمارے یہاں دیوالی کے روز کھلیں اور مٹھائی بنے ہوئے کھلونے وغیرہ خریدے جاتے ہیں یا اس دن کسی کو تحفہ بھیجتا ہے اور اس سے اس کا مقصد اس دن کی تعظیم ہو جیسا کہ مشرک اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو وہ آدمی کافر ہوجاتا ہے اور اگر کوئی آدمی محض اپنے استعمال اور فائدہ اٹھانے یا حسب عادت کسی کو ہدیہ بھیجنے کی نیت سے خریدتا ہے۔ تو کافر نہیں ہوتا لیکن یہ بھی مکروہ ہے لیکن اس طرح کافروں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اس لئے اس سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔ اس طرح اگر کوئی آدمی عاشورہ کے دن خوشی مناتا ہے تو خوارج کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر اس دن غم والم ظاہر کرنے والی چیزیں اختیار کرتا ہے تو روافض کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے لہٰذا ان دونوں باتوں سے بچنا چاہیے۔ یہ بات بھی جانے لیجئے کہ نوروز کی عظمت و توقیر کے سلسلہ میں روافض مجوسیوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ بیان کرتے ہیں کہ اسی دن حضرت عثمان شہید کئے گئے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلاف منعقد ہوئی تھی۔ فتاوی ذخیرہ میں لکھا ہے کہ جو آدمی ہولی اور دیوالی دیکھنے کے لئے بطور خاص نکلتا ہے وہ حدود کفر سے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ اسی میں اعلان کفر ہوتا ہے لہٰذا ایسا آدمی گویا اپنے عمل سے فکر کی مدد کرتا ہے اسی پر نوروز دیکھنے کے لئے نکلنے کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بعض مسلمان ایسا کرتے ہیں۔ یہ بھی موجب کفر ہے۔ تجنیس میں مذکور ہے کہ ہمارے مشائخ اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس آدمی نے اہل کفار کے معتقدات و معاملات میں سے کسی چیز کے اچھا ہونے کا اعتقاد رکھا تو وہ حدود کفر میں داخل ہوجائے گا۔ اسی پر اس مسئلہ کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسے ہال ہوا و ہوس انسان مثلاً شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے نام نہاد صوفیا کے کسی کلام یا کسی قول کے بارے میں اچھا خیال رکھے اور یہ کہے کہ یہ کلام معنوی ہے یا یہ کہے کہ فلاں قول ایسا ہے جس کے معنی صحیح ہیں تو اگر حقیقت میں وہ کلام و قول کفر آمیز ہو تو اس کے بارے میں اچھا عقیدہ رکھنے والا اور اسے صحیح کہنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح نوادر الفتاوی میں منقول ہے کہ جو آدمی غیر مسلموں کی رسومات کو اچھا جانے وہ کافر ہوجاتا ہے۔ عمدۃ الاسلام میں لکھا ہے کہ جو آدمی کافروں کی رسومات ادا کرے مثلاً نئے مکان میں بیل اور گائے اور گھوڑے کو زردو سرخ رنگ کرے یا بندھن دار باندھے تو کافر ہوجاتا ہے۔ حاصل یہ کہ ان معتقدات و رسومات سے قطعاً احتراز کرنا چاہے جن سے اسلام اور شریعت کا دور کا بھی واسطہ نہ ہو بلکہ ان کی بنیاد خالص غیر اسلامی و غیر شرعی چیزوں پر ہے۔
1413
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ بَرِیْدَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَخْرُجُ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَمَ وَلَا یُطْعَمُ یَوْمَ الْاَضْحٰی حَتّٰی یُصَلِّی ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ الدارمی)
حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید کے دن بغیر کچھ کھائے پئے عید گاہ تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ اور بقر عید کے دن بغیر نماز پڑھے کچھ نہیں کھاتے پیتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، دارمی)

تشریح
عید کے روز نماز سے پہلے کھانے پینے کا سبب گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے۔ بقر عید کے روز آپ غرباء و مساکین کا ساتھ دینے اور ان کی دلجوئی کی خاطر بقر عید کی نماز کے بعد ہی کچھ تناول فرماتے تھے۔ کیونکہ غرباء و مساکین کو تو کچھ کھانا پینا اسی وقت نصیب ہوتا تھا جب قربانی ہوجاتی اور اس کا گوشت ان لوگوں میں تقسیم ہوجاتا اس لئے آپ ان کی وجہ سے خود بھی کھانے پینے میں تاخیر فرماتے تھے۔
1414
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ کَثِیْرِ بْنِ عَبْدِاﷲِ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَبَّرَ فِی الْعِیْدَیْنِ فِی الْاُوْلٰی سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَ ۃِ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ و الدارمی)
اور حضرت کیثر ابن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ کیثر کے دادا سے یعنی اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ (جامع ترمذی، ابن ماجۃ، دارمی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تحریمہ اور رکوع کی تکبیروں کے علاوہ ساتھ تکبیریں کہیں۔ اسی طرح دوسری رکعت میں قیام اور رکوع کی تکبیروں کے علاوہ پانچ تکبیریں کہیں۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا اسی پر عمل ہے اس سلسلہ میں مفصل بحث آگے آرہی ہے۔
1415
Mishkaat Shareef
ضعیف
وَعَنْ جَعْفِرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ کَبَّرُوا فِی الْعِیْدَیْنِ وَالْاِسْتِسْقَآءِ سَبْعًا وَخَمْسًا وَصَلَّوْا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ وَجَھَرُوْابِلْقِرَاءَ ۃِ۔ (رواہ الشافعی)
اور حضرت جعفر ابن محمد مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) عیدین اور استسقاء کی نماز میں سات اور پانچ تکبیریں کہا کر تھے اور (عیدین و استسقاء کی) نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے، نیز قرأت بآواز بلند پڑھتے تھے۔ (شامی)

تشریح
جعفر سے مراد امام جعفر صادق ابن محمد باقر ابن علی یعنی امام زین العابدین ابن حضرت امام حسین ابن علی ابن حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ سات اور پانچ کی وضاحت حدیث بالا تاکید کی ہے کہ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسرک رکعت میں قرار سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے، یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے۔
1416
Mishkaat Shareef
ضعیف
وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَأَلْتُ اَبَا مُوْسٰی وَحُذَیْفَۃَ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُکَبِّرُ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ ؟ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسٰی کَانَ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا تَکْبِیْرَہ، عَلَی الْجَنَائِزِ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ صَدَقَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت سعید ابن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوموسی و حضرت حذیفہ (رض) سے سوال کیا کہ رسول کریم ﷺ عید و بقر عید کی نماز میں کتنی تکبیریں کہتے تھے ؟ تو حضرت ابوموسی (رض) نے جواب دیا کہ جس طرح آپ ﷺ جنازہ میں چار تکبیریں کہتے تھے اسی طرح عیدین کی نماز میں بھی چار تکبیریں کہا کرتے تھے حضرت حذیفہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ابوموسی نے سچ کہا (ابوداؤد)

تشریح
حضرت ابوموسی کے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح آپ ﷺ نماز جناز میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اسی طرح آپ ﷺ عیدین کی نماز میں بھی ہر رکعت میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اس طرح کہ پہلی رکعت میں تو قرأت سے پہلے تکبیر تحریمہ سمیت چار تکبیریں کہتے تھے اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد رکوع کی تکبیر سمیت چار تکبیریں کہتے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ تکبیرات عید کے سلسلہ میں متضاد احادیث منقول ہیں اسی وجہ سے ائمہ کے مسلک میں بھی اختلاف ظاہر ہوا ہے چناچہ تینوں اماموں کے نزدیک عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کے ہاں تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں مع تکبیر تحریمہ کے ہیں اور اسی طرح دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں تکبیر قیام سمیت ہیں جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ کے علاوہ اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں تکبیر قیام کے علاوہ ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں پہلی رکعت میں اور تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیریں دوسری رکعت میں ہیں جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ نیز اسی کو حضرت عبداللہ ابن مسعود نے بھی اختیار کیا ہے جبکہ حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق حضرت عبداللہ ابن عباس کا مسلک ہے یہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن سے حضرت امام شافعی استدلال کرتے ہیں تو ان کی صحت و ضعف اور ان کی اسناد و طرق کے بارے میں بہت زیادہ اعتراضات ہیں جس کو یہاں نقل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ علماء حنیفہ اپنے مسلک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تکبیرات عیدین کے سلسلہ میں جب متضاد اور مختلف احادیث سامنے آئیں تو ہم نے ان میں سے ان احادیث کو اپنا معمول بہ قرار دیا جن میں تکبیرات کی تعداد کم منقول تھی کیونکہ عیدین کی زائد تکبیریں اور رفع یدین بہر حال خلاف معمول ہیں اس لئے کم تعداد کا اختیار کرنا ہی اولیٰ ہوگا۔
1417
Mishkaat Shareef
ضعیف
وَعَنِ الْبَرَاءِ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم نُوْوِلَ یَوْمَ الْعِیْدِقَوْسًا فَخَطَبَ عَلَیْہِ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت براء (رض) راوی ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کمان پیش کی گئی چناچہ آپ ﷺ نے سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ (ابوداؤد)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس طرح عصاء وغیرہ ٹیک کر خطبہ پڑھا جاتا ہے اسی طرح آپ ﷺ نے عصاء کے بجائے کمان ٹیک کر اس کے سہارے خطبہ ارشاد فرمایا۔