hadith book logo

Mishkaat Shareef

189. حضرت عمر کے مناقب وفضائل کا بیان

مشكاة المصابيح

5982
Mishkaat Shareef
صحیح
امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رض) کے مناقب و فضائل بیشمار ہیں ان کی عظیم ترین شخصیت و حیثیت اور ان کے بلند ترین مقام و مرتبہ کی منقبت میں یہی ایک بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاک ﷺ دعا قبول کرکے ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق دی اور ان کے ذریعہ اپنے دین کو زبردست حمایت و شوکت عطا فرمائی۔ ان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ منجانب اللہ راہ صواب ان پر روشن ہوجاتی تھی، الہام والقاء کے ذریعہ غیبی طور پر ان کی راہنمائی ہوتی تھی ان کے دل میں وہی بات ڈالی جاتی تھی جو حق ہوتی تھی اور ان کی رائے وحی الہٰی اور کتاب اللہ کے موافق پڑتی تھی اسی بناء پر علماء کرام نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے حق میں ان کی رائے خلافت صدیق کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ حضرت عمار یاسر کی شہادت کو حضرت علی مرتضی کے حق ہونے کی دلیل مانا جاتا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ (کسی مسئلہ و معاملہ میں) حضرت عمر فاروق جو رائے دیتے تھے اسی کے موافق آیات قرآنی نازل ہوتی تھیں، ابن عساکر نے سیدنا علی مرتضی کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں، قرآن حضرت عمر کی رائے میں سے ایک رائے ہے یعنی قرآنی آیات کا ایک بڑا حصہ حضرت عمر کی رائے کے موافق ہے۔ حضرت ابن عمر سے بطریق مرفوع روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر (کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہو کہ) تمام لوگوں کی رائے کچھ ہو اور عمر کی رائے کچھ اور پھر (اس مسئلہ سے متعلق قرآن کی آیت نازل ہو تو وہ عمر کی رائے کے مطابق ہوگی اس روایت کو سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ موافقات عمر (یعنی عمر کی رائے سے قرآن کریم میں جہاں جہاں اتفاق کیا گیا ہے ایسے مواقع) بیس ہیں۔
5983
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد كان فيما قبلكم من الأمم محدثون فإن يك في أمتي أحد فإنه عمر . متفق عليه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے (سابقہ امتوں کے) لوگوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی شخص محدث ہوا تو وہ بس عمر ہوں گے۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
اگر میری امت میں کوئی محدث ہوا تو کا مقصود اس امت میں محدث کے وجود کو مشکوک ومشتبہ کرنا نہیں ہے، امت محمدی تو پچھلے تمام امتوں سے افضل واعلی ہے۔ اگر پچھلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے تو اس امت میں ان کا وجود یقینی بطریق اولیٰ ہوگا۔ پس ان الفاظ کا مقصد تاکید و تخصیص ہے، یعنی اس امت میں صرف عمر ان خصوصیات و اوصاف کے حامل ہیں جن سے ان کا محدث ہونا ظاہر ہوتا ہے، اس جملہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے مخلص ترین دوست کی خصوصی حیثیت کو اجاگر کرنے کے لئے کہے کہ دنیا میں اگر کوئی شخص میرا دوست ہے تو بس وہی ہے جس طرح اس جملہ کی مراد اس شخص کی دوستی کے درجہ کمال کو نہایت خصوصیت کے ساتھ بیان کرنا ہوتی ہے۔ اسی طرح حدیث کے مذکورہ بالا جملہ کی مراد مذکورہ وصف کے ساتھ حضرت عمر کی نہایت خصوصی نسبت کو بیان کرنا ہے۔
5984
Mishkaat Shareef
صحیح
محدث یہاں ملہم (صاحب الہام) کے معنی میں ہے، یعنی وہ (روشن ضمیر) جس کے دل میں غیب سے کوئی بات پڑے۔ اس کو محدث اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ گویا اس سے غیبی طاقت بات کرتی ہے، اس کو وہ بات بتاتی ہے، جو دوسروں کو معلوم نہیں ہوتی اور پھر وہ شخص اس بات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ مجمع البحار میں لکھا ہے، محدث اس شخص کو کہتے ہیں جس کے دل میں ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کوئی بات ڈالی جاتی ہے اور پھر وہ شخص ایمانی حد و فراست کے ذریعہ اس بات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے اور یہ مرتبہ اسی شخص کو نصیب ہوتا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نوازنا چاہے، بعض حضرات نے کہا ہے محدث وہ شخص ہے جس کا ظن، یعنی گمان (کسی بھی مختلف فیہ بات کے) اسی پہلوکو اختیار کرے جو صواب یعنی صحیح ہو اور آخر میں اس کی رائے اس طرح صائب ثابت ہو جیسے کسی جاننے والے نے اس کو بتا رکھا ہو۔ اور بعض حضرات نے یہ لکھا ہے۔ محدث کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جس کے فرشتے اس سے کلام کرتے ہوں، یہ قول غالباً اس بنیاد پر ہے کہ ایک روایت میں محدثوں کے بجائے متکلمون کا لفظ نقل ہوا ہے۔
5985
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سعد بن أبي وقاص قال : استأذن عمر رضي الله عنه على رسول الله صلى الله عليه و سلم وعنده نسوة من قريش يكلمنه ويستكثرنه عالية أصواتهن فلما استأذن عمر قمن فبادرن الحجاب فدخل عمر ورسول الله صلى الله عليه و سلم يضحك فقال : أضحك الله سنك يا رسول الله . فقال النبي صلى الله عليه و سلم : عجبت من هؤلاء اللاتي كن عندي فلما سمعن صوتك ابتدرن الحجاب قال عمر : يا عدوات أنفسهن أتهبنني ولا تهبن رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قلن : نعم أنت أفظ وأغلظ . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إيه يا ابن الخطاب والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان سالكا فجا قط إلا سلك فجا غير فجك . متفق عليه . وقال الحميدي : زاد البرقاني بعد قوله : يا رسول الله : ما أضحكك
اور حضرت سعد ابن ابی وقاص بیان کرتے ہیں (ایک دن) حضرت عمر ابن خطاب نے حجرہ نبوی کے دروازے پر کھڑے ہو کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند خواتین یعنی ازواج مطہرات بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں، ان کی باتوں کا موضوع (اس) خرچہ میں اضافہ کا مطالبہ تھا (جو آنحضرت ﷺ ان کو پہنچاتے تھے) اور وہ باتیں زور زور سے کررہی تھیں جب حضرت عمر اجازت طلب کرکے اندر داخل ہونے لگے تو وہ خواتین (چھپنے کے لئے) آنحضرت ﷺ کے پاس سے اٹھ کر پردہ کے پیچھے چلی گئیں۔ حضرت عمر اندر داخل ہوئے تو (دیکھا کہ) رسول کریم ﷺ مسکرا رہے ہیں، حضرت عمر نے (آپ ﷺ کی مسکراہٹ دیکھ کر) کہا اللہ آپ کے دانتوں کو ہمیشہ خندان رکھے (یعنی دانتوں کا کھلنا مسکراہٹ خوشی کی غماز ہوتی ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ شاداں وفرحاں رکھے، لیکن آخر وہ کون سی بات ہے جس نے اس وقت آپ ﷺ کو خندان کردیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس بات پر ہنسی آگئی کہ (وہ عورتیں (کہاں تو) میرے پاس بیٹھی ہوئی (شور مچا رہی) تھیں اور (کہاں) تمہاری آواز سنتے ہی (مارے ڈر کے) پردے کے پیچھے بھاگ گئیں، حضرت عمر (یہ سنا تو ان خواتین کو مخاطب کرکے) بولے اری اپنی جان کی دشمن عورتو ! (یہ کسی الٹی بات ہے کہ) مجھ سے تو اس قدر خوف کا اظہار ( کہ میری آواز سنتے ہی ڈر کر مارے پردے کے پیچھے جا چھپی ہو) اور رسول کریم ﷺ سے تم ذرا بھی نہیں ڈرتیں (کہ آپ کے پاس بیٹھ کر شور مچا رہی تھیں ؟ ) ان خواتین نے جواب دیا ہاں (تم سے ڈرنا ہی چاہے) کیونکہ تم نہایت سخت گو ہو (جب کہ رسول کریم ﷺ نہایت خوش مزاج اور خوش خلق ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان کا لعلیٰ خلق عظیم اور ولوکنت فظ غلیظ القلب لانفضومن خولک رسول کریم ﷺ نے فرمایا ابن خطاب ! چھوڑو اور کوئی بات کرو (ان عورتوں نے جو جواب دیا ہے اس کو اہمیت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (تم وہ شخص ہو کہ) شیطان تمہیں دیکھ لیتا ہے تو اس راستہ سے کترا کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ جس پر تم چلتے ہو، (بخاری ومسلم) اور حمیدی نے (اپنی کتاب جامع بین الصحیحین میں) کہا ہم برقانی نے (جوخوازم کے ایک گاؤں برقان کے رہنے والے تھے اور مشہور محدث ہیں) حضرت عمر کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ کس چیز نے آپ کو ہنسایا ہے ؟۔

تشریح
اور باتیں بھی زور زور سے کررہی تھیں یعنی ان کی آواز پر حاوی تھی ! پس اس بارے میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب رسول کریم ﷺ کے سامنے شور مچانے یعنی آپ کی آواز اونچی آواز میں بولنے کی ممانعت قرآن میں نازل نہیں ہوئی تھی اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ ان سب کی آوازیں مل کر پر شور ہوگئی تھیں جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ اگر چند آدمی ایک ساتھ آہستہ آہستہ بھی بولتے ہیں تو سب کی آوازیں مل کر پر شور ہوجاتی ہیں، یہ صورت نہیں تھی کہ ان میں سے ہر ایک کی یا کسی ایک کو تنہا آواز اس حد سے بلند تھی جس کی ممانعت آئی ہے۔ ان دونوں احتمالوں کو ملاعلی قاری نے نقل کیا ہے اور پھر لکھا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ الفاظ حدیث سے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ ان کی آوازاتنی زیادہ بلند تھی کہ آنحضرت ﷺ کی آواز سے اونچی ہوگئی تھی اور جب یہ بات ثابت ہی ہوتی تو پھر ارشاد ربانی یایہا الذین امنو لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی الایۃ کے تحت کوئی اشکال بھی وارد نہیں ہوتا، الفاظ حدیث سے جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ ازواج مطہرات عام طور پر آنحضرت ﷺ کے سامنے جس دھیمے لب و لہجہ میں اور جس دھیمی آواز میں بات کیا کرتی تھیں اس موقع پر ان کی آواز اس عادت ومعمول سے ذرا کچھ بلند ہوگئی تھی جو نہ تو حد ادب سے تجاوز تھی اور نہ آنحضرت ﷺ خوش خلقی اور خوش مزاجی کی ناگواری کا باعث بنی تھی۔ اس راستہ سے کترا کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے مطلب یہ کہ تمہاری ہیبت اتنی ہے کہ شیطان تمہارے تصور سے بھی کانپتا ہے، اس کی اتنی مجال بھی نہیں ہوتی کہ تمہارے سامنے آجائے جس جگہ تم ہوگے وہاں شیطان کا گزر بھی نہیں ہوسکتا۔ چناچہ ایک روایت میں یوں آیا ہے شیطان عمر کے سایہ سے بھی بھاگتا ہے، واضح رہے کہ فج کے معنی کشادہ راستہ کے آتے ہیں اگرچہ احتمال یہ ہے کہ فج سے مطلق راستہ مراد ہے خواہ وہ تنگ ہو یا کشادہ تاہم زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ لفظ یہاں اپنے ظاہری معنی یعنی کشادہ راستہ کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اور اس میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ شیطان عمر کو چوڑے اور کشادہ راستہ پر بھی دیکھ کر کترا جاتا ہے اور دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے حالانکہ اگر وہ چاہے تو اس کشادہ راستہ کے کسی ایک کنارے سے گزر سکتا ہے لیکن اس پر تو عمر کا خوف اور ان کی ہیبت ہی اتنی سوار ہے کہ وہ سرے سے اس راستہ کی طرف آنے ہی سے گھبرا تا ہے، جس پر عمر چل رہے ہوں !
5986
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : دخلت الجنة فإذا أنا بالرميضاء امرأة أبي طلحة وسمعت خشفة فقلت : من هذا ؟ فقال : هذا بلال ورأيت قصرا بفنائه جارية فقلت : لمن هذا ؟ فقالوا : لعمر بن الخطاب فأردت أن أدخله فأنظر إليه فذكرت غيرتك فقال عمر : بأبي أنت وأمي يا رسول الله أعليك أغار ؟ . متفق عليه
اور حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (معراج کی رات میں) جب میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک دیکھا کہ میرے سامنے رمیصا زوجہ ابوطلحہ موجود ہیں۔ پھر میں نے قدموں کی چاپ سنی اور پوچھا کہ یہ کون شخص ہے (جس کے چلنے پھرنے کی آواز آرہی ہے) مجھے (جبرائیل یا کسی اور فرشتہ نے یا دورغہ جنت نے) بتایا کہ یہ بلال ہیں اس کے بعد (ایک جگہ پہنچ کر) میں نے ایک عالیشان محل دیکھا، جس کے ایک گوشہ میں (یاصحن میں) ایک نوجوان عورت (یعنی حور جنت) بیٹھی ہوئی تھی، میں نے پوچھا ! یہ کس کا ہے ؟ (اور ہمہ انواع کی یہ نعمتیں جو اس محل میں اور اس محل کے اردگرد ہیں کس کے لئے ہیں) مجھ کو جنتیوں نے (یا اس محل پر متعین فرشتوں نے) بتایا کہ یہ (محل اپنے تمام سازوسامان اور نعمتوں سمیت) عمر ابن خطاب کا ہے (یہ سن کر) میں نے چاہا کہ محل میں جاؤں اور اس کو اندر سے بھی دیکھوں لیکن پھر ( اے عمر) مجھے غیرت کا خیال آگیا (کہ تمہارے محل کے اندر داخل ہونا تمہاری غیرت وحمیت کے منافی ہوگا اس لئے میں اندر جانے سے اجتناب کیا) حضرت عمر نے (یہ سنا تو) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا میں نے آپ ﷺ (کے داخل ہونے) سے غیرت کروں گا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
رمیصا حضرت ابوطلحہ انصاری کی بیوی اور حضرت انس بن مالک کی والدہ ماجدہ ہیں، پہلے یہ مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں جن سے حضرت انس پیدا ہوئے مالک کے بعد ابوطلحہ نے ان سے عقد کرلیا تھا، ان کے اصل نام کے بارے میں اختلاف ہے ام سلیم بھی کہی جاتی تھیں اور رمیصاء بھی ایک مشہور نام غمیصاء بھی ہے، رمیصاء دراصل رمص سے ہے، جس کے معنی اس سفید چیپڑ (میل کچیل) کے ہیں جو آنکھ کے کونے میں جمع ہوجاتا ہے۔ اور غمیصاء غمص سے ہے اس کے معنی ہیں آنکھ سے چیپڑبہنا۔ کیا میں آپ ﷺ سے غیرت کروں گا یہ اعلیک اغارکا ترجمہ ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس جملہ میں قلب الفاظ ہے یعنی اصل جملہ یوں ہے اغار منکنیز بعض روایات میں یہ ہے کہ حضرت عمر نے (آنحضرت ﷺ ارشاد سن کر) یہ بھی کہا وہل رفعنی اللہ الابک وہل ہک انی اللہ الا بک یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ جو بلند مرتبہ عطا فرمایا ہے وہ محض آپ کے طفیل سے ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت وراستی اور سرفرازی تک آپ ﷺ ہی کے ذریعہ پہنچایا ہے۔
5987
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابی سعید قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : بينا أنا نائم رأيت الناس يعرضون علي وعليهم قمص منها ما يبلغ الثدي ومنها ما دون ذلك وعرض علي عمر بن الخطاب وعليه قميص يجره قالوا : فما أولت ذلك يا رسول الله ؟ قال : الدين . متفق عليه
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (ایک دن) جب کہ میں سو رہا تھا تو (خواب میں) کیا دیکھتاہوں کہ (میری امت کے) کچھ لوگوں کو میرے سامنے پیش کیا جارہا ہے، وہ سب کرتا پہنے ہوئے تھے ہوئے تھے جن میں بعض کے کرتے تو ان کے سینے تک تھے اور بعض کے کرتے ان سے بھی چھوٹے تھے۔ پھر جب عمر بن خطاب میرے سامنے پیش ہوئے تو ان کا کرتا اتنا لمبا تھا کہ زمین سے گھسٹ رہا تھا بعض صحابہ نے (یہ سن کر) پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! (عمر کے اس لمبے کرتے کی) تعبیر آپ ﷺ کیا بیان فرماتے ہیں ؟ فرمایا دین و مذہب ! (بخاری ومسلم )

تشریح
اور بعض کے کرتے ان سے بھی چھوٹے تھے یعنی بعض لوگوں کے جسم کے کرتے تو اتنے تھے جو سینے تک پہنچتے تھے۔ اور بعض لوگوں کے کرتے اتنے چھوٹے تھے کہ ان کے سینے تک بھی نہیں پہنچتے تھے بلکہ سینے سے اوپر تھے۔ ومنہا مادون ذلک کا مطلب عام طور پر یہی بیان کیا گیا ہے مگر ملا علی قاری نے اس جملہ کی وضاحت کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے یہ معنی بھی ہیں اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے کرتے ان کے کرتوں سے لمبے تھے۔ حضرت عمر کے کرتے کی درازی کی تعبیر میں دین و مذہب کے ذکر سے یہ مراد ہے کہ عمر کی ذات سے دین کو تقویت حاصل ہوگی اور کیونکہ ان کی خلافت کا زمانہ طویل ہوگا لہٰذا ان کے زمانہ میں دین کی شان و شوکت نہایت درجہ دوبالا ہوگی، بیشمار شہر وملک فتح ہوں گے اور ان فتوحات کے نتیجہ میں بیت المال کی آمدنی وسیع تر ہوجائے گی، یا یہ کہ دین کو کرتے کے ساتھ تشبیہ دینا گویا اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ جس طرح انسان کا لباس نہ صرف یہ کہ اس کے وجود کی زیبائش و آرائش اور مختلف پر مضر اثرات سے حفاظت و آرام کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ حقیقت میں اس کے جسم کا لازمی تقاضہ بھی ہوتا ہے اسی طرح دین نہ صرف یہ کہ انسان کی تہذیب وشائستگی اور اس کے روحانی اطمینان و سکون کا ذریعہ اور دونوں جہاں میں اس کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہے بلکہ حقیقت میں انسانیت کا لازمی جزء اور انسانی فطرت سلیم کا عین تقاضا بھی ہے۔
5988
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : بينا أنا نائم أتيت بقدح لبن فشربت حتى إني لأرى الري يخرج في أظفاري ثم أعطيت فضلي عمر بن الخطاب قالوا : فما أولته يا رسول الله ؟ قال : العلم . متفق عليه
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں سو رہا تھا کہ (خواب میں) دودھ سے بھرا ہوا پیالہ لا کر مجھے دیا گیا، میں نے اس دودھ کو پیا، پھر میں نے دیکھا کہ (زیادہ ہونے کے سبب اس دودھ کی) تری اور تازگی میرے ناخنوں سے پھوٹ رہی ہے اور پھر میں نے بچایا ہوا دودھ عمر بن الخطاب کو (پینے کے لئے) دے دیا، بعض صحابہ نے (یہ سن کر) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اس دودھ کی تعبیر میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں فرمایا علم !۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ علم کی صورت مثالیہ عالم بالا میں دودھ ہے، اسی لئے اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ دودھ پی رہا ہے تو اس کی تعبیر یہ قرار پاتی ہے۔ کہ اس شخص کو خالص ونافع علم نصیب ہوگا علم اور دودھ کے درمیان وجہ مشابہت یہ ہے کہ جس طرح دودھ انسانی جسم کی پہلی غذا اور بدن کی اصلاح وتقویت کا بنیادی ذریعہ اسی طرح انسانی روح کی پہلی غذا اور اس کی اصلاح وتقویت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بعض عارفین نے یہ لکھا ہے کہ عالم مثال سے تجلی علم کا انعکاس صرف چار چیزوں یعنی پانی، دودھ شراب اور شہد کی صورت میں ہوتا ہے اور یہی وہ چار چیزیں ہیں جن کی نہرین بہہ رہی ہیں۔ قرآن کریم نے ان چارنہروں کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے آیت (مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ فِيْهَا اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّا ءٍ غَيْرِ اٰسِنٍ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُه وَاَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ڬ وَاَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى) 47 ۔ محمد 15) جنت جس کا پرہیز گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہیں اور شہد مصفا کی نہریں۔ پس جس شخص نے (خواب میں) پانی پیا اس کو علم لدنی عطا ہوگا، جس شخص نے دودھ پیا اس کو اسرار شریعت کا علم عطا ہوگا، جس شخص نے شراب پی اس کو علم کمال عطا ہوگا اور جس نے شہد پیا اس کو بطریق وحی علم عطا ہوگا۔ اور عارفین ہی میں سے بعض نے اس ضمن میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جنت کی یہ چاروں نہریں درحقیقت چاروں خلفاء سے عبارت ہیں اور اس عتبار سے حدیث بالا میں دودھ کی نسبت سے صرف حضرت عمر کا ذکر ہونا نہایت موزوں ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر حضرت عمر کا علم ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسرے میں عرب کے تمام قبائل (کے اہل علم) کو جمع کرکے رکھا جائے اور پھر وزن کیا جائے تو حضرت عمر کے علم کے علم کا پلڑا ان سب کے علم سے وزن میں بھاری رہے گا اور اسی وجہ سے تمام صحابہ کا اعتقاد تھا کہ دس حصوں میں سے نوحصے علم تنہا حضرت عمر پاگئے ہیں۔
5989
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : بينا أنا نائم رأيتني على قليب عليها دلو ؟ فنزعت منها ما شاء الله ثم أخذها ابن أبي قحافة فنزع منها ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ضعفه ثم استحالت غربا فأخذها ابن الخطاب فلم أر عبقريا من الناس ينزع نزع عمر حتى ضرب الناس بعطن وفي رواية ابن عمر قال : ثم أخذها ابن الخطاب من يد أبي بكر فاستحالت في يده غربا فلم أر عبقريا يفري فريه حتى روي الناس وضربوا بعطن . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا میں سو رہا تھا کہ (خواب میں) میں دیکھا میں ایک بغیر من کے کنویں پر ہوں جہاں ایک ڈول بھی رکھا ہوا ہے میں نے (ڈول کے ذریعہ) اس کنویں سے پانی کھینچا جس قدر کہ اللہ نے چاہا، میرے بعد ابن ابوقحافہ یعنی ابوبکر نے ڈول سنبھالا اور کنویں سے پانی کھینچنے لگے لیکن وہ ایک یا دو ڈول سے زائد پانی نہیں کھینچ سکے، دراصل پانی کھینچنے میں وہ سست اور کمزور پڑ رہے تھے اور ان کی سستی و کمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف کرے پھر وہ ڈول ایک چرس (یعنی بڑے ڈول) میں تبدیل ہوگیا اور عمر ابن خطاب نے اس کو لے لیا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے کسی جوان اور قوی تر شخص کو ایسا نہیں پایا جو عمر کی طرح اس چرس کے ذریعہ پانی کھینچتا ہو، چناچہ (انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ نہ صرف تمام لوگ سیر اب ہوئے اور انہوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کیا بلکہ) لوگوں نے (پانی کی فراوانی کے سبب) اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا لیا۔ ابن عمر کی روایت میں یوں ہے کہ پھر ابوبکر کے ہاتھ سے اس ڈول کو عمر ابن خطاب نے لے لیا۔ جو ان کے ہاتھ میں پہنچ کر چرس بن گیا حقیقت یہ ہے کہ میں نے کسی جوان اور قوی تر شخص کو ایسا نہیں پایا جو پانی کھینچنے کے اس کام میں عمر کی طرح چاق وچوبند اور کار گزار ہو، چناچہ انہوں نے (اتنا پانی کھینچا کہ) لوگوں کو سیراب کرڈالا اور (پانی کی فراوانی کے سبب) لوگوں نے اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا لیا۔ (بخاری ومسلم )

تشریح
قلیب اس کنویں کو کہا جاتا ہے جس پر من یعنی منڈیر نہ بنی ہو، اس کے برخلاف جس کنویں پر پتھر اور اینٹ کی من بنی ہوتی ہے اس کے لئے طوی کا لفظ آتا ہے۔ علماء نے یہ نکتہ لکھا ہے کہ خواب میں طوی کے بجائے قلیب کا نظر آنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اہل دین کا عزم و حوصلہ حقیقی مطلوب و مراد پر موقوف ہوتا ہے، نہ کہ اوپر بنے ہوئے قوالب پر۔ ایک یا دو ڈول سے زائد یہاں راوی کو شک ہوا کہ آپ نے ذنوبا (ایک ڈول) کا لفظ فرمایا تھا یا ذنوبین (دوڈول) کا، تاہم صحیح یہ ہے کہ یہاں اصل لفظ ذنوبین (ایک دو ڈول) ہے۔ اس لفظ میں حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ خلافت کا اشارہ پوشیدہ ہے جو کچھ اوپر دو سال سے زائد نہیں ہوا۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ذنوبا اور ذنوبین میں حرف او دراصل بل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس صورت میں یہ کہنے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ یہاں راوی اصل لفظ یاد رکھنے سے چوک گیا جس کی بناء پر اس نے اپنے شک کو ظاہر کرتے ہوئے دونوں لفظ نقل کردئے۔ وہ سست اور کمزور پڑ رہے تھے ان الفاظ میں حضرت ابوبکر کے مرتبہ ومقام کی تنقیص نہیں ہے اور نہ الفاظ کا مقصد حضرت ابوبکر صدیق پر حضرت عمر کی فضیلت و برتری کو ثابت کرنا ہے بلکہ اصل مقصد اس طرف اشارہ کرنا تھا کہ ابوبکر کا زمانہ امارت و خلافت بہت مختصر ہوگا جب کہ عمر کا زمانہ امارت و خلافت بہت طویل ہوگا اور اس زمانہ میں مخلوق اللہ کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا بعض شارحین نے ضعف کا ترجمہ سستی اور کمزوری کے بجائے نرمی ومروت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف کرے اس دعائیہ جملہ کا بھی مقصد حضرت ابوبکر کی طرف گناہ اور تقصیر کی نسبت ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو محاورۃ زبان زد خاص وعام ہے جیسا کہ کسی شخص کا کوئی کام یا قول بیان کرتے ہوئے یوں کہہ دیا جائے ! اس نے یہ کام کیا یا یہ بات کہی اللہ اس کی مغفرت کرے۔ اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنالیا عطن اصل میں اس جگہ کو کہا جاتا تھا جہاں پانی جمع ہوتا تھا اور اس کے ارد گرد اونٹ بیٹھا کرتے تھے، واضح رہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس خواب میں مختلف چیزوں کی طرف اشارہ تھا یعنی کنواں دین کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جس طرح کنواں اس پانی کا منبع ہے جو دنیاوی زندگی کی حیات وبقاء کا بنیادی وسیلہ اور ہر جاندار کے کے معاش ومعیشت کی اساس ہے، اسی طرح دین بھی ان حقائق کا سرچشمہ ہے جن پر انسانیت کی حیات وبقاء کا انحصار ہے اور جو انسان کی تہذیبی فکری اور روحانی اقدار کی بنیاد ہیں۔ کنویں سے پانی کھینچنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ دین کی زمام کا رسول کریم ﷺ سے حضرت ابوبکر کو اور ان سے حضرت عمر کو منتقل ہوگی، حضرت ابوبکر کا کنویں سے ایک یا دو ڈول کھینچنا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کا زمانہ خلافت بہت قلیل ہوگا، یعنی دین اور اس کے توسط سے ملت کی قیادت وزمام کار ان کے ہاتھوں میں ایک سال یا دو سال رہے گی اور پھر حضرت عمر کو منتقل ہوجائے گی جن کی مدت خلافت حضرت ابوبکر کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہوگی چناچہ حضرت عمر دس سال تین ماہ خلیفہ رہے۔ پانی کھینچنے میں حضرت ابوبکر کا سست و کمزور پڑنا یا تو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے زمانہ خلافت میں دین کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی جیسا کہ بعض عرب قبائل کے ارتداد کی صورت میں اضطراب واختلاف کی سی کیفیت پیدا ہوئی۔ یا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابوبکر چونکہ فطرتا نرم مزاج، بردبار اور بامروت واقع ہوئے ہیں اس لئے ملکی حکومتی معاملات میں رعب ودبدبہ سے زیادہ کام نہیں لینگے، اس کی تائید آپ ﷺ کے ارشاد ان اللہ یغفرلہ ضعفہ (ان کی سستی و کمزوری کو اللہ تعالیٰ معاف کرے) سے ہوتی ہے تاہم یہ جملہ دعائیہ معترضہ ہے جس کا مقصد یہ واضح کردینا ہے کہ ان کی یہ سستی و کمزوری یا نرمی ومروت ایسی چیز ہے جو اللہ کے نزدیک قابل عفودرگزر ہے۔ اور جس سے ان کے مرتبہ و مقام پر ذرا بھی فرق نہیں پڑتا اور ڈول کا حضرت عمر کے ہاتھ تک پہنچ کر چرس بن جانا، اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ دین کو چار دانگ عالم میں پھیلانے، بڑھانے اور مضبوط کرنے میں ایسی سعی و کوشش کریں گے جس کا اتفاق نہ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد کسی اور کو حاصل ہوگا، امام نووی نے لکھا ہے آنحضرت ﷺ کے ارشاد میں نے اس کنویں سے پانی کھینچا جس قدر اللہ نے چاہا اور میرے بعد میرے بعد ابن ابوقحافہ یعنی ابوبکر نے ڈول سنبھالا اس میں آنحضرت ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت ونیابت اور اس دنیا سے رخصت ہوجانے کی صورت میں آنحضرت ﷺ کے دنیا کے رنج وآلام اور شدائد و تکالیف سے راحت پانے کی طرف اشارہ ہے نیز آنحضرت ﷺ کے ارشاد پھر اس ڈول کو ابوبکر کے ہاتھ سے عمر بن خطاب نے لے لیا اور لوگوں نے اس جگہ کو اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بنا لیا میں اس طرف اشارہ ہے کہ مرتدوں کی سرکوبی اور اہل اسلام کو مجتمع رکھنے کی صورت میں دین کو مضبوط رکھنے اور فتوحات اسلام کی جو ابتداء حضرت ابوبکر نے کی وہ حضرت عمر کے زمانہ میں اپنے ثمرات کے ساتھ عروج پر پہنچ گئی اور ایک شارح نے لکھا ہے حضرت عمر اتنا زیادہ پانی کھینچنا اس طرف اشارہ کرتا تھا کہ ان کا زمانہ خلافت، ہر خاص وعام اور ہر چھوٹے بڑے کے لئے دینی و دنیاوی فوائد ومصالح سے بھر پور ہوگا۔
5990
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه . رواه الترمذي وفي رواية أبي داود عن أبي ذر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله وضع الحق على لسان عمر يقول به
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر اور ان کے قلب میں حق و صداقت جاری فرمادیا ہے۔ (ترمذی )

تشریح
اور ابوداؤد کی روایت میں جو حضرت ابوذر (رض) مروی ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے اسی لئے وہ حق بات کہتے ہیں (حق کے علاوہ اور کوئی بات ان کے منہ سے نہیں نکلتی۔
5991
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علي رضي الله عنه قال : ما كنا نبعد أن السكينة تنطق على لسان عمر . رواه البيهقي في دلائل النبوة
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ (اہل بیت یا جماعت صحابہ) اس بات کو بعید نہیں جانتے تھے کہ حضرت عمر کی زبان پر سکینت و طمانیت جاری ہوتی ہے۔ (اس روایت کو بیہقی نے دالنبوۃ میں نقل کیا ہے ) ۔

تشریح
حضرت علی کا مطلب یہ تھا کہ حضرت عمر فاروق اعظم کو یہ خصوصیت حاصل کہ وہ جب بھی کوئی مسئلہ و معاملہ میں اظہار خیال کرتے ہیں تو ایسی بات کہتے ہیں جس سے سننے والوں کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔ اور مضطرب سے مضطرب دل کو بھی قرار آجاتا ہے۔ یا سکینہ سے مراد فرشتہ بھی ہوسکتا ہے جو حق اور موزوں بات دل میں ڈالتا ہے اور پھر وہی بات زبان سے ادا ہوتی ہے۔ اس کی تائید حضرت علی کی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس کو طبرانی نے اوسط میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا لوگو ! جب صالحین کا تذکرہ کرو تو عمر کے تذکرہ کو مقدم رکھو۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ ان کا قول الہام ہو اور وہ فرشتہ کی زبانی بیان کررہے ہوں۔ اس سلسلے میں اس روایت کو بھی سامنے رکھنا چاہئے جس میں منقول ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا میں نے جب بھی عمر کو دیکھا تو (ایسا محسوس ہوا کہ) ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان فرشتہ موجود ہے جوان کو صحیح راستہ بتارہا ہے۔