hadith book logo

Mishkaat Shareef

171. حساب قصاص اور میزان کا بیان

مشكاة المصابيح

5462
Mishkaat Shareef
صحیح
حساب کے معنی ہیں گننا، شمار کرنا ! اور یہاں سے مراد ہے قیامت کے دن بندوں کے اعمال و کردار کو گننا اور ان کا حساب کرنا ! واضح رہے کہ حق تعالیٰ کی علیم وخبیر ذات کو سب کچھ معلوم ہے اور بندہ اس دنیا میں جو بھی عمل کرتا ہے وہ اس پر روشن وعیاں ہے لیکن قیامت کے دن بندوں کے اعمال و کردار کا حساب اس لئے ہوگا تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور تمام مخلوق پر روشن ہوجائے کہ دنیا میں کس نے کیا کیا ہے اور کون کس درجہ کا آدمی ہے ! پس قیامت کے دن کا یہ حساب قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اس کا عقیدہ رکھنا واجب ہے۔ قصاص کے معنی بدلہ ومکافات کے ہیں یعنی جس شخص نے جیسا کیا ہے اس کے ساتھ ویسا ہی کرنا ! مثلا اگر کسی شخص نے کسی شخص کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کو بھی قتل کرنا اور اگر کسی شخص نے کسی شخص کو زخمی کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کو بھی زخمی کرنا قصاص کہلاتا ہے قیامت کے دن، جان کا بدلہ جان، زخم اور تکلیف ہوگا اور دنیا میں جس نے جس کے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہوگا کہ خواہ اس کو آزردہ کیا ہو اور خواہ کوئی بھی جسمانی اور روحانی اذیت پہنچائی ہو اور وہ چیونٹی یا مکھی ہی کیوں نہ ہو، تو قیامت کے دن اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا اگرچہ وہ مکلف نہ ہو چناچہ تمام حیوانات کو بھی قیامت کے دن اسی لئے اٹھایا جائے گا تاکہ ان کو بھی ایک دوسرے کا بدلہ دلوایا جاسکے مثلا اگر کسی سینگ والی بکری نے کسی بےسینگ بکری کو مارا ہوگا تو اس دن اس کو قصاص یعنی بدلہ دینا ہوگا۔ میزان اس چیز سے تعبیر ہے جس کے ذریعہ بندوں کے اعمال کی مقدار و حیثیت جانی جاسکے اور جمہور علماء کا قول ہے کہ وہ چیز میزان یعنی ترازو ہی کی شکل میں ہوگی جس کے دو پلے ہوں گے اور ایک زبان ہوگی اور دونوں پلوں کے درمیان مشرق ومغرب جیسا فاصلہ ہوگا اس میزان کے ذریعہ بندوں کے اعمال تو لے جائیں گے یعنی ایک پلے میں نیکیوں کے اعمال نامے اور دوسرے پلے میں برائیوں کے اعمال نامے رکھے جائیں گے اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ حسنات یعنی نیک اعمال کو اچھی صورتوں میں اور سیأت یعنی برے عمل کو بری صورتوں میں ڈھال دیا جائے گا اور ان دونوں کو تولا جائے گا لیکن بعض روایتوں میں پہلا قول ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں جو نصوص ہیں ان کا ظاہری مفہوم اسی پر دلالت کرتا ہے۔
5463
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ليس أحد يحاسب يوم القيامة إلا هلك . قلت أو ليس يقول الله ( فسوف يحاسب حسابا يسيرا ) فقال إنما ذلك العرض ولكن من نوقش في الحساب يهلك . متفق عليه . ( متفق عليه )
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جس سے حساب لیا جائے گا وہ تباہ ہوجائے گا ( یعنی جو بھی شخص سخت حساب اور دار وگیر سے دوچار ہوگا اس کا بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا نیز یہاں تباہ ہونے سے مراد عذاب میں مبتلا ہونا ہے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ ( جب میں نے یہ آپ ﷺ کا اشاد ایک کلیہ کے طور پر سنا تو میرے ذہن میں اشکال پیدا ہوا اور اسی اشکال کو دور کرنے کے لئے) میں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اہل نجات کے حق میں یہ نہیں فرمایا کہ ( فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا) 84 ۔ الانشقاق 8) یعنی ( جس شخص کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا پس قریب ہوگا کہ اس کا حساب آسان ہو ( اور جب حساب آسان ہوگا او اس کے تباہ ہونے کے کیا معنی ہوں گے ؟ ) آپ ﷺ نے ( میرے اس اشکال کو دور کرنے کے لئے) فرمایا۔ یہ آسان حساب صرف پیش کرنا اور بیان محض ہے لیکن جس سے حساب میں مناقشہ کیا جائے گا ( یعنی جس کو سخت باز پرس اور داروگیر سے گزرنا پڑے گا) اور وہ یقینا تباہ ہوگا۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
آسان حساب صرف پیش کرنا اور بیان محض ہے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ پس قریب ہوگا کہ اس کا حساب آسان ہو۔ تو آسان حساب ہونے سے مراد ہے کہ اس کے اچھے اور برے اعمال اس کو بتلا دیئے جائیں گے مثلا اس سے کہا جائے گا کہ تو نے یہ کیا ہے، وہ کیا ہے اور برے اعمال پر مواخذہ نہیں کرے گا لیکن جس شخص کے حساب میں داروگیر اور باز پرس کا دخل ہوجائے گا، اس سے ایک ایک چیز اور ہر چھوٹے بڑے عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا اور اس پر محاسبہ ومواخذہ کی سخت کاروائی نافذ کی جائے گی تو اس شخص کا عذاب سے بچنا ممکن نہیں ہوگا پس وہ تباہ ہوجائے گا اور حقیقت میں حساب یہی ہے۔ اس بات کو ایک دوسرے نقطہ نظر سے یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ حضور ﷺ نے مذکورہ بالا حدیث میں جو کچھ فرمایا ہے وہ اس کلیہ کو ظاہر کرتا ہے کہ جو بھی شخص حساب کے مرحلہ سے گزرے گا وہ یقینا عذاب میں مبتلا ہوگا لیکن قرآن کی مذکورہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حساب کے مرحلہ سے گزرنے والوں میں سے بعض لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا اس سے گویا قرآن کی آیت اور حضور ﷺ کے مذکورہ بالا ارشاد گرامی میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے ؟ لہذا اس ظاہری تضاد کو رفع کرنے کے لئے خود حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت کریمہ میں حساب سے مراد صرف عرض ہے یعنی ان لوگوں کے سامنے ( کہ جن کو نجات یافتہ قرار دینا مقصود ہوگا ان کے اعمال کی فہرست کھول کر رکھ دی جائے گی، چناچہ انہوں نے جو برے اعمال کئے ہوں گے وہ ان کا اعتراف و اقرار کریں گے اور حق تعالیٰ اپنا فضل و کرم ظاہر کرتے ہوئے ان کے ساتھ درگزر کا معاملہ فرمائے گا اس کے برخلاف حدیث میں حساب سے مراد واقعی محاسبہ ومواخذہ اور داروگیر ہے جس کو حساب میں مناقشہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس محاسبہ وداروگیر کی بنیاد اظہار عدل ہوگا۔ بزار وغیرہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے یہ تین اچھی باتیں ہوں گی اس سے اللہ تعالیٰ آسان حساب لے گا اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ( اور وہ تین اچھی باتیں یہ ہیں کہ تم اس شخص کو ( اخلاقی جسمانی اور مالی مدد پہنچاؤ جو تمہیں اپنی مدد سے محروم رکھے تم اس شخص کے ساتھ درگزر کا معاملہ کرو جو تمہارے اوپر ظلم کرے اور تم اس شخص کے ساتھ حسن سلوک کرو جو تمہارا مقاطعہ کرے۔
5464
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عدي بن حاتم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما منكم أحد إلا سيكلمه ربه ليس بينه وبينه ترجمان ولا حجاب يحجبه فينظر أيمن منه فلا يرى إلا ما قدم من عمله وينظر أشأم منه فلا يرى إلا ما قدم وينظر بين يديه فلا يرى إلا النار تلقاء وجهه فاتقوا النار ولو بشق تمرة . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت عدی ابن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن) تم میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہوگا جس سے اس کا پروردگار ( کسی رابطہ کے بغیر) ہم کلام نہ ہوگا، اس وقت اس کے پروردگار کے درمیان نہ کوئی ترجمان ہوگا ( کہ جو ہر ایک کو دوسرے کا مفہوم سمجھائے) اور نہ کوئی حجاب ہوگا ( کہ جو بندے کو اس کے پروردگار کے سے چھپائے) جب بندہ اپنی داہنی طرف نظر ڈالے گا تو اس کو وہ چیز نظر آئے گی جو اس نے آگے بھیجی ہوگی ( یعنی نیک اعمال جو ظاہری صورتوں میں نمایاں ہوں گے یا ان اعمال کی جزاء و انعامات) اور جب بائیں جانب دیکھے گا تو اس کو وہ چیز نظر آئے گی جو اس نے آگے بھیجی ہوگی یعنی برے اعمال اور جب وہ اپنے آگے دیکھے گا تو اس کو اپنے منہ کے سامنے آگ نظر آئے گی، پس ( اے لوگو) تم آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے کیوں نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم )

تشریح
جب بندہ اپنی داہنی طرف نظر ڈالے گا الخ یعنی یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی سخت صورت حال سے دوچار ہوتا ہے اور کسی مشکل میں پڑجاتا ہے تو دائیں بائیں دیکھنے لگتا ہے، پس اس وقت چونکہ ہر بندے کے لئے ایک سخت ترین مرحلہ درپیش ہوگا اس لئے وہ دائیں بائیں دیکھے گا اور دائیں طرف اس کو وہ نیک اعمال نظر آئیں گے جو اس نے دنیا میں کئے ہوں گے اور بائیں طرف اس کے برے اعمال دکھائی دیں گے اور سامنے کی طرف آگ نظر آئے گی، لہذا اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ وہ اس وقت اپنے نیک اعمال کی طرف دیکھ کر اطمینان و سکون حاصل کرے اور سامنے کی طرف نظر آنے والی آگ سے نجات پائے تو اس کو چاہئے کہ اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ نیک کام کرے اور برے اعمال سے اجتناب کرکے اپنے آپ کو اس آگ سے بچانے کی راہ نکالے۔ اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی سے کیوں نہ ہو اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ اپنے آپ کو دوزخ کی آگ میں جانے سے بچاؤ اور کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو اگرچہ وہ ظلم و زیادتی کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کی صورت میں یا اس کے برابر کیوں نہ ہو ! دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر دوزخ کی آگ سے بچنا چاہتے ہو تو ضرورت مندوں اور محتاج لوگوں کی مدد واعانت اور اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرو اگرچہ تم صرف کھجور کا ایک ٹکڑا ہی خرچ کرنے کی استطاعت کیوں نہ رکھتے ہو اس لئے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا یعنی صدقہ و خیرات تمہارے اور آگ کے درمیان پردہ بنے گا۔
5465
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله يدني المؤمن فيضع على كنفه ويستره فيقول أتعرف ذنب كذا ؟ أتعرف ذنب كذا ؟ فيقول نعم يا رب حتى قرره ذنوبه ورأى نفسه أنه قد هلك . قال سترتها عليك في الدنيا وأنا أغفرها لك اليوم فيعطى كتاب حسناته وأما الكفار والمنافقون فينادى بهم على رؤوس الخلائق ( هؤلاء الذين كذبوا على ربهم ألا لعنة الله على الظالمين ) . متفق عليه .
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ مؤمن کو اپنے ( فضل و کرم اور اپنی رحمت کے) قریب کرے گا اور ( پھر) اس کو اپنی حفاظت اور اپنی عنایت کے سائے میں چھپائے گا تاکہ وہ اہل محشر پر اپنے گناہوں اور اپنی بداعمالیوں کے کھل جانے کی وجہ سے شرمندہ اور رسوا نہ ہو) پھر اللہ تعالیٰ اس ( مؤمن) سے پوچھے گا کہ کیا تو اس گناہ کو جانتا ہے، کیا تو اس گناہ کو جانتا ہے، یعنی کیا تجھے یاد اور اعتراف ہے کہ تو نے دنیا میں فلاں فلاں گناہ کئے تھے ؟ وہ ( مؤمن) عرض کرے گا کہ ہاں اے پروردگار ( مجھے اپنا وہ گناہ یاد ہے اور اپنی بدعملی کا اعتراف کرتا ہوں غرضیکہ اللہ تعالیٰ اس ( مؤمن) سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف و اقرار کرائے گا اور وہ ( مؤمن) اپنے دل میں کہتا ہوگا کہ ( ان گناہوں کی پاداش) میں اب ہلاک ہوا، اب تباہ ہوا ! لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں اور ان عیوب کی پردہ پوشی کی اور آج بھی میں تیرے ان گناہوں کو بخش دوں گا پس اس ( مؤمن) کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیدیا جائے گا ( اور برائیوں کا اعمالنامہ کالعدم کردیا جائے گا) اور جہاں تک کافروں اور منافق لوگوں کا تعلق ہے تو ان کو تمام مخلوق کے سامنے طلب کیا جائے گا اور پکار کر کہا جائے کا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ( کفر وشرک کے ذریعہ) اپنے رب پر بہتان باندھا تھا، جان لو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
مؤمن کا لفظ یا تو بطور نکرہ ہے کہ غیر متعین طور پر کسی بھی مؤمن کے بارے میں یہ بشارت دی گئی ہے اور یہ بھی بعید نہیں ہے مؤمن سے جنس مؤمن مراد ہو یعنی تمام مؤمنوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا یہی معاملہ فرمائے گا ! اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یہ بشارت ان مؤمن بندوں کے حق میں ہے جو اس دنیا میں کسی کی غیبت نہیں کرتے، کسی پر عیب نہیں لگاتے کسی کو ذلیل ورسوا نہیں کرتے، کسی مسلمان کی فضحیت سے خوش نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور لوگوں میں کسی کی آبروریزی کا باعث نہیں بنتے ! پس اللہ تعالیٰ ان کے اوصاف کی جزا کے طور پر قیامت کے دن ان کی پردہ پوشی فرمائے گا اور ان کو اپنی حفاظت ورحمت کے سایہ میں چھپائے گا۔
5466
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي موسى قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم القيامة دفع الله إلى كل مسلم يهوديا أو نصرانيا فيقول هذا فكاكك من النار رواه مسلم .
اور حضرت ابوموسی (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب قیامت کا دن آئے گا ( اور لوگوں کی ابدی نجات و عذاب کا فیصلہ سنایا جائے گا) تو اس وقت اللہ تعالیٰ ہر مسلمان ( مرد اور عورت) کو ایک یہودی یا ایک نصرانی کے حوالہ کر دے گا اور فرمائے گا کہ یہ شخص دوزخ سے تیری چھڑائی ہے یعنی دوزخ کی آگ سے تیری نجات کا سبب ہے۔ ( مسلم )

تشریح
فکک کے معنی ہیں گروی رکھی ہوئی چیز کو چھپانا ! اور اسی سے فکاک ( ف کے زبر اور زیر دونوں کے ساتھ کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جس کے ذریعہ گروی رکھی ہوئی چیز کو چھڑایا جائے ! پس یہ شخص تیرا فکاک یعنی تیری چھڑائی ہے کا مطلب یہ ہوا کہ گویا مسلمان دوزخ کی آگ میں گروی ہے اور قیامت کے دن اس یہودی یا نصرانی کو اس ( مسلمان) کے بدلہ میں آگ میں بھیج کر اس کو اس آگ سے چھڑایا جائے گا اب اس بات کی تاویل یوں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مکلف کے لئے، کہ خواہ کافر ہو یا مؤمن جنت اور دوزخ میں ایک ایک جگہ مقرر کر رکھی ہے، لہذا جو شخص ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوا اس کی وہ جگہ کہ جو دوزخ میں تھی اس شخص کی جگہ کے ساتھ کہ جو جنت میں ہے بدل دی جائے گی اور جو شخص ایمان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا اس کا معاملہ اس کے برعکس ہوگا، پس اس اعتبار سے یہ کافر لوگ گویا دوزخ کی آگ سے مؤمنوں کی نجات کا سبب ہوں گے اس سے واضح ہوا کہ مذکورہ بالا جملہ کی یہ مراد قطعا نہیں ہے کہ کافروں کو مؤمنوں کے گناہوں کے بدلہ میں دوزخ کے سپرد کیا جائے گا کیونکہ حق تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ولا تزروازرۃ وزراخری واضح رہے کہ یہودی و نصاری کی تخصیص محض علامتی ہے یعنی یہاں اصلی مراد تو کافر ہیں اور یہود و نصاری کا ذکر صرف اس بنا پر ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کی عداوت و دشمنی زیادہ مشہور ہے۔
5467
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاء بنوح يوم القيامة فيقال له هل بلغت ؟ فيقول نعم يا رب فتسأل أمته هل بلغكم ؟ فيقولون ما جاءنا من نذير . فيقال من شهودك ؟ فيقول محمد وأمته . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيجاء بكم فتشهدون على أنه قد بلغ ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم ( وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا ) . رواه البخاري .
اور حضرت ابوسعید (رض) کہتے ہیں کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت کے دن ( میدان حشر میں) حضرت نوح (علیہ السلام) کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم نے ( اپنی امت تک اللہ تعالیٰ کے احکام وہدایت) پہنچائے تھے ؟ وہ عرض کریں گے کہ بیشک اے میرے پروردگار میں نے تیرے احکام دین و ہدایت اپنی امت کے لوگوں تک پہنچائے تھے) پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت ( کے ان لوگوں سے کہ جن تک حضرت نوح نے اللہ تعالیٰ کے احکام دین و ہدایت پہنچائے تھے) پوچھا جائے گا کہ کیا ( نوح (علیہ السلام) نے) تم تک ہمارے احکام پہنچائے تھے ؟ وہ لوگ انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھی ڈرانے والا ( خواہ وہ نوح ہوں یا اور کوئی نبی) نہیں آیا تھا اور پھر حضرت نوح (علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے گواہ کون ہیں ؟ یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہوگا کہ نوح نے جو کچھ کہا ہے بالکل درست کہا ہے لیکن ان کی منکر امت کو قائل کرنے کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) سے ان کے اس دعوے پر گواہ طلب کرے گا کہ انہوں نے منصب تبلیغ و رسالت کی ذمہ داریوں کو پورا کیا تھا) چناچہ حضرت نوح کہیں گے کہ میرے گواہ حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت کے لوگ ہیں اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے ( صحابہ سے) فرمایا کہ تب تمہیں پیش کیا جائے گا اور تم یہ گواہی دو گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے امت کو احکام الٰہی پہنچائے تھے پھر رسول کریم ﷺ نے ( اس صورت واقعہ کی تصدیق وتثویب کے لئے یہ آیت پڑھی ( جس میں حق تعالیٰ امت محمد ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے) کہ۔ (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَا ءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُ وْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2 ۔ البقرۃ 143) اور اسی لئے ہم نے ( اے مسلمانوں) تمہیں نیک و عادل اور افضل امت بنایا ہے تاکہ تم ان لوگوں گے بارے میں ( کہ جو تم سے پہلے گزرے ہیں اور کفر وشرک پر قائم رہے ہیں) گواہی دو اور تمہارے گواہ پیغمبر ﷺ ہوں گے۔ اس روایت کو بخاری نے نقل کیا ہے۔

تشریح
حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ کہنا کہ بیشک اے پروردگار ! میں نے تیرے احکام اپنی امت کے لوگوں تک پہنچائے تھے، قرآن کریم کی اس آیت کے منافی نہیں ہے جس میں یوں ہے کہ۔ یوم ( يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَا اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ) 5 ۔ المائدہ 109) اس دن ( میدان حشر میں) اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور پھر ان سے پوچھے گا کہ تمہیں ( تمہاری مت کی طرف سے تمہاری دعوت و تبلیغ دین کا) کیا جواب ملا تو وہ کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں، بلا شبہ پوشیدہ باتوں کو آپ ہی بہت زیادہ جاننے والے ہیں۔ کیونکہ اس آیت کی مراد تو یہ کہ اجابت کا سوال ہوگا جس کے بارے میں وہ رسول اپنی لا علمی ظاہر کریں گے، جب کہ یہاں حدیث میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے جس سوال کا ذکر ہے وہ دعوت و تبلیغ کے بارے میں ہوگا اور ظاہر ہے کہ اجابت اور دعوت و تبلیغ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) یہ کہیں گے کہ میرے گواہ حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت کے لوگ ہیں یعنی اصل گواہ تو امت محمدی ﷺ کے لوگ ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے دعوے کی گواہی وہی دیں گے اور حضرت محمد ﷺ ان کے مز کی ہوں گے، اس صورت میں کہا جائے گا کہ اصل گواہ یعنی امت محمد ﷺ کے لوگوں سے پہلے مز کی یعنی آنحضرت ﷺ کا ذکر کرنا آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کے اظہار کے لئے ہوگا اور ویسے یہ بھی بعید نہیں کہ خود آنحضرت ﷺ بھی نوح (علیہ السلام) کی گواہی دیں کیونکہ وہ وقت اور جگہ یہ ایسی ہوگی جہاں زیادہ سے زیادہ مدد ونصر پہنچانے کی ضرورت ہوگی رسول کریم ﷺ نے ( صحابہ سے) فرمایا کہ تب تمہیں پیش کیا جائے گا ان الفاظ کا اسلوب بیان بتاتا ہے کہ اس وقت جب کہ دربار الہٰی میں لوگوں کی سب سے بڑی پیشی ہوگی، آنحضرت ﷺ حاضر وناظر ہوں گے یعنی آپ ﷺ کو پیش کیا جائے گا اور پھر ان کے گواہوں یعنی امت محمدی ﷺ کے لوگوں کو لایا جائے گا۔ اور تم یہ گواہی دو گے کہ الخ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کے کہنے کے مطابق تم ان کی گواہی دوگے اور تمہارے نبی ﷺ تمہارے مز کی ہوں گے یا یہ کہ تم گواہی دو گے اور تمہارے ساتھ نبی بھی گواہی دیں گے۔ اس آیت کریمہ (وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا) 2 ۔ البقرۃ 143) میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ مسلمان قیامت کے دن گزشتہ امتوں کے بارے میں گواہی دیں گے اور ان ( مسلمانوں) کی گواہی ان کے پیغمبر ﷺ دیں گے، تو ان گزشتہ لوگوں کے بارے میں مسلمانوں کی گواہی کی مثال تو یہی ہے کہ وہ ( مسلمان) حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امت کے لوگوں تک اللہ کے احکام پہنچائے تھے اور ان ( مسلمانوں کے بارے میں ان کے پیغمبر کی طرف سے گواہی کی صورت یہ ہوگی کہ ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب قیامت کے دن گزشتہ انبیاء اور رسولوں کی امتیں انکار کرتے ہوئے کہیں گی کہ ہم تک کسی نبی نے کچھ نہیں پہنچایا اور ہمیں اللہ کے احکام نہیں بتائے تو وہ رسول اور انبیاء امت محمدی کے لوگوں کو اپنا گواہ بنائیں گے اور جب مسلمان ان کی گواہی دیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ ( تم لوگ تو ان امتوں کے بعد دنیا میں آئے تھے) تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ ان انبیاء نے اپنی امت کے لوگوں کو اللہ کے احکام پہنچائے تھے اور تم یہ گواہی کس بنا پردے رہے ہو ؟ تو وہ ( مسلمان) جواب دیں گے کہ اس سلسلہ میں ہم نے کتاب اللہ کو ناطق پایا تھا ( یعنی قرآن مجید نے ہمیں اس بارے میں بالک سچی خبر دی تھی چناچہ اسی کی بنا پر ہم یہ گواہی دے رہے ہیں ! اس کے بعد ان رسولوں کی امتوں کے لوگ مسلمانوں کی صداقت و عدالت یعنی ان کے معتبر ہونے کی اور ان کی سچائی کے بارے میں جرح کریں گے تب آنحضرت ﷺ مسلمانوں کا سچا اور معتبر ہونا ثابت کریں گے اور گواہی دینے کے یہی معنی ہیں اور اسی اعتبار سے آپ ﷺ کو اپنی امت کا گواہ کہا گیا ہے کہ جب آپ ﷺ نے اپنی امت کو سچا اور گزشتہ امتوں کے بارے میں ان کی گواہی کو معتبر ثابت کیا تو گویا آپ ﷺ نے بھی گواہی دی ! اور اسی لحاظ سے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ کہیں گے کہ میرے گواہ حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت کے لوگ ہیں۔
5468
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فضحك فقال هل تدرون مما أضحك ؟ . قال قلنا الله ورسوله أعلم . قال من مخاطبة العبد ربه يقول يا رب ألم تجرني من الظلم ؟ قال يقول بلى . قال فيقول فإني لا أجيز على نفسي إلا شاهدا مني . قال فيقول كفى بنفسك اليوم عليك شهيدا وبالكرام الكاتبين شهودا . قال فيختم على فيه فيقال لأركانه انطقي . قال فتنطق بأعماله ثم يخلى بينه وبين الكلام . قال فيقول بعدا لكن وسحقا فعنكن كنت أناضل . رواه مسلم .
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ( ایک دن) ہم رسول کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ یکایک ہنسنے لگے اور پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو میں کیوں، ہنس رہا ہوں ؟ حضرت انس کہتے ہیں کہ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میں ( قیامت کے دن) بندہ اور اللہ کے درمیان منہ در منہ گفتگو ہونے کا خیال کرکے) ہنس رہا ہوں ! ( اس دن) بندہ کہے گا کہ اے پروردگار کیا تو نے مجھ کو ظلم سے پناہ نہیں دی ہے ؟ ( یعنی کیا تو نے نہیں فرمایا کہ میں اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ( یہ سن کر) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہاں تجھ کو ( میں نے پناہ دی ہے اور میں یقینا بندوں پر ظلم نہیں کرتا) تب بندہ کہے گا کہ اگر تو نے مجھ کو ظلم سے پناہ دی ہے تو) میں اپنے متعلق اس کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہتا کہ میرے بارے میں گواہی دینے والا مجھ ہی میں سے ہو آنحضرت ﷺ نے فرمایا ( بندے کی یہ بات سن کر) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ( مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے) آج کے دن تیرے بارے میں خود تیری ذات کی گواہی دیں گے آنحضرت ﷺ نے فرمایا پھر بندے کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی ( یعنی اس کی قوت گویائی کو معطل کردیا جائے گا) اور اس کے بعد اس کے تمام اعضاء وجسم کو حکم دیا جائے گا کہ بولو، چناچہ اس کے جسم کے اعضاء اس کے (ان) اعمال کو بیان کریں گے جو اس نے ان اعظاء کے ذریعہ کئے تھے پھر اس بندے اور اس کی گویائی کے درمیان سے ( پردہ) اٹھا دیا جائے گا ( یعنی اس کے منہ کو جو مہر لگائی گئی تھی اس کو توڑ دیا جائے گا اور اس کی قوت گویائی بحال ہوجائے گی جس سے وہ پہلے کی طرح باتیں کرنے لگے گا) آنحضرت ﷺ نے فرمایا بندہ ( یہ صورت حال دیکھ کر اپنے اعضاء جسم سے) کہے گا کہ دور ہو بدبختو اور ہلاک ہو، میں تو تمہاری ہی طرف سے اور تمہاری ہی نجات کے لئے لڑ جھگڑ رہا تھا۔ ( مسلم )

تشریح
میرے بارے میں گواہی دینے والا مجھ ہی میں سے ہو یعنی مجھے یہ گوارہ نہیں ہے کہ میرے اعمال و کردار اور میری دنیاوی زندگی کے بارے میں گواہی دینے والا کوئی دوسرا ہو، میں تو صرف اس گواہ کو تسلیم کروں گا جو میری ذات کے اندر سے پیدا ہوگو یا بندہ تو یہ خیال کرے گا کہ میری ذات کے اندر سے گواہی دینے والا کون ہوسکتا ہے کیونکہ کوئی ذات خود اپنے کو ضرر و نقصان پہنچانے کے لئے گواہی نہیں دیا کرتی، لیکن اس کو یہ خیال نہیں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بھی پوری طرح سے قادر ہے کہ وہ اس بندے کی ذات میں سے ایسا گواہ پیدا کردے جو اس کے خلاف گواہی دے اور اس کو اللہ کے حکم کے خلاف انکار کی مجال اور دم مارنے کی گنجائش نہ ہو ! پس آنحضرت ﷺ کے ہنسنے کا سبب یہی تھا کہ حق تعالیٰ کے سامنے بندہ کا اس طرح کلام کرنا کہ خود اپنے جال میں پھنس جائے اس کی کس درجہ کی مضحکہ خیز حرکت ہوگی۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندہ کے منہ کو مہر لگانا ان اعضاء جسم کا اعمال کے بارے میں گواہی دینا جن کے ذریعہ بندے نے وہ عمل کئے ہوں گے اور پھر اس بندے کا اپنی نادانی پر جھنجھلاہٹ کی وجہ سے اپنے ان اعضاء جسم کو برا بھلا کہنا اور ان کو بددعا دینا جیسے عجیب و غریب امور کا خیال کرکے آپ ﷺ ہنسے۔ خود بندے کی درخواست اور خواہش کے مطابق خود اسی کے اعضاء جسم کو اس کے بارے میں گواہ بنانے کے بعد پھر نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو بھی گواہ بنانا مقصود سے زائد بات۔۔۔۔ اور اس کا سبب یہ ہوگا کہ اعضاء جسم جو گواہی دیں گے اس کی تصدیق و توثیق ہوجائے اور بندے کو یہ کہنے کی گنجائش نہ رہے کہ یہ اعضاء جسم درست گواہی نہیں دے رہے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ صرف فرشتوں کو گواہ بنائے گا تو یہ بات اس قرارداد کے خلاف ہوگی جو اس کے اور بندے کے درمیان طے پائی گی حاصل یہ کہ اصل گواہ تو بندے کے اعضاء جسم ہی ہوں گے جن کو خود بندے کی غرض و خواہش کے مطابق گواہ بنایا جائے گا اور ان اعضاء جسم کی گواہی ثابت کرنے کے لئے نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو بطور زائد گواہ پیش کیا جائے گا، لہذا یہ اعتراض پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ بندے کی غرض و خواہش کو مان کر اس کی ذات کے اندر سے، یعنی اسی کے اعضاء جسم کو گواہ بنائے گا تو فرشتوں کو گواہ بنانے کی کیا ضررت ہوگی۔ دور ہٹو بدبختو اور ہلاک ہو الخ یعنی جب وہ بندہ دیکھے گا کہ یہ میرے اعضاء جسم تو میرے ہی خلاف گواہی دے رہے ہیں، ادھر ان اعضاء جسم کا اس کے خلاف گواہ بننا خود اس کی درخواست و خواہش کے مطابق ہوگا، تو وہ اس صورت حال سے جھنجلا جائے گا اور اپنے اعضاء جسم کو برا بھلا کہنے لگے گا کہ کمبختو، میں تمہاری ہی طرف سے لڑجھگڑ رہا تھا تاکہ تمہیں اعمال بد کی سزا نہ بھگتنی پڑے، لیکن اپنے خلاف خود تم ہی گواہی دے رہے ہو اور اپنے آپ کو عذاب و ہلاکت میں ڈال رہے ہو یا یہ کہ میں دنیا میں تمہاری ہی وجہ سے بندوں سے لڑتا جھگڑتا تھا، تمہیں نقصان وضرر سے بچانے کے لئے دوسروں کو نقصان پہنچایا کرتا تھا، تمہاری راحت اور تمہارے کام کی وجہ سے فلاں فلاں پر عمل کیا کرتا تھا، ہر وقت تمہاری ہی حفاظت اور تمہاری ہی مدد میں لگا رہتا تھا اور تمہیں ہی اپنا دوست وغم خوار مانتا تھا مگر آخر کو تم ہی میرے دشمن اور میرے بدخواہ نکلے اور مجھے عذاب خداوندی کے حوالہ کئے جانے کا سبب بنے ! حدیث میں ان اعضاء جسم کا وہ جواب ذکر نہیں کیا گیا ہے جو وہ آخر میں بندے کی یہ بات سن کردیں گے، لیکن قرآن کی ایک آیت میں ان کے اس جواب کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے۔ (وَقَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا قَالُوْ ا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْ اَنْ طَقَ كُلَّ شَيْءٍ وَّهُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 41 ۔ فصلت 21) اور وہ اپنی جلدوں سے ( یعنی اپنے اعضاء جسم سے) کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ تو وہ جلدیں کہیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے بلایا ہے جس نے ہر ایک کو بلایا ہے اور اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
5469
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال قالوا يا رسول الله هل نرى ربنا يوم القيامة ؟ قال فهل تضارون في رؤية الشمس في الظهيرة ليست في سحابة ؟ قالوا لا قال فهل تضارون في رؤيةالقمر ليلة البدر ليس في سحابة ؟ قالوا لا قال فوالذي نفسي بيده لا تضارون في رؤية ربكم إلا كما تضارون في رؤية أحدهما . قال فيلقى العبد فيقول أي فل ألم أكرمك وأسودك وأزوجك وأسخر لك الخيل والإبل وأذرك ترأس وتربع ؟ فيقول بلى قال أفظننت أنك ملاقي ؟ فيقول لا فيقول فإني قد أنساك كما نسيتني ثم يلقى الثاني فذكر مثله ثم يلقى الثالث فيقول له مثل ذلك فيقول يارب آمنت بك وبكتابك وبرسلك وصليت وصمت وتصدقت ويثني بخير مااستطاع فيقول ههنا إذا . ثم يقال الآن تبعث شاهدا عليك ويتفكر في نفسه من ذا الذي يشهد علي ؟ فيختم على فيه ويقال لفخذه انطقي فتنطق فخذه ولحمه وعظامه بعمله وذلك ليعذر من نفسه وذلك المنافق وذلك يسخط الله عليه . رواه مسلم . وذكر حديث أبي يدخل من أمتي الجنة في باب التوكل برواية ابن عباس
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کے ( ایک دن) صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا قیامت کے دن ( اپنی آنکھوں سے) اپنے اللہ کا دیدار کریں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا دوپہر کے وقت جب کہ ابر نہ ہو، تو سورج کو دیکھنے میں کوئی شک رکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہرگز نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جس طرح تم سورج اور چاند کو دیکھنے میں کوئی شک وشبہ نہیں رکھتے اسی طرح ( قیامت کے دن) اپنے پروردگار کو دیکھیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک بندے کو خطاب کرکے فرمائے گا کہ اے بندے ! کیا میں نے تجھے (جنس حیوان اور دیگر مخلوقات پر) فضیلت وشرف نہیں بخشا تھا، کیا میں نے تجھے تیری بیوی عطا نہیں کی تھی ( جو میں نے تیری ہی جنس اور تیری ہی نوع سے پیدا کی تھی اور پھر تیرے اور اس کے درمیان انس و محبت اور پیار کا رشتہ قائم کیا تھا) کیا میں نے تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ ( اور دیگر کار آمد جانوروں اور چیزوں) کو تیرا مطیع نہیں بنایا تھا۔ اور کیا میں نے تجھے یہ موقع نسیب نہیں کیا تھا کہ تو اپنی قوم کا سربراہ اور سردار ہو اور چوتھائی مال غنیمت حاصل کرے ؟ ( واضح رہے کہ یہ زمانہ جاہلیت میں بھی رواج تھا کہ کسی بھی قوم و قبیلہ کا سربراہ حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے اپنے لئے چوتھائی حصہ لیتا تھا اور باقی مال پوری قوم کے لئے چھوڑ دیتا تھا) وہ بندہ ( یہ سن کر) عرض کرے گا کہ میرے پروردگار ! بیشک ایسا ہی ہوا تھا ( یعنی تو نے اپنے جن انعامات کا ذکر فرمایا ہے وہ سب مجھے دنیا میں حاصل ہوئی تھیں) آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس کے بعد پروردگار فرمائے گا کہ کیا تجھے یہ بھی خیال تھا کہ ( ایک دن) تو مجھ سے ملے گا ؟ بندہ عرض کرے گا نہیں ! ( مجھے یہ خیال نہیں رہا تھا اور میں ایسی غفلت میں پڑگیا تھا کہ اس بات کو بھول ہی گیا) پس پروردگار فرمائے گا کہ تو میں بھی تجھے فراموش کروں گا ( یعنی آج میں بھی تجھے اپنی رحمت سے دور کر دوں گا) جیسا کہ تو نے دنیا میں میری اطاعت اور میری یاد کو فراموش کردیا تھا پھر پروردگار دوسرے بندے سے ملاقات اور خطاب فرمائے گا اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ اور اس بندے کے درمیان اسی سوال و جواب کا ذکر کیا جو پہلے بندے کے سلسلے میں منقول ہوا پھر پروردگار تیسرے بندے سے ملاقات وخطاب فرمائے گا اور اس سے وہی فرمائے گا جو اس نے پہلے بندہ سے فرمایا تھا اور وہ ( تیسرا بندہ) یہ جواب دے گا میرے پروردگار ! میں تجھ پر تیری کتاب پر اور تیرے پیغمبروں پر ایمان لایا تھا میں نے نماز پڑھی روزے رکھے اور صدقہ دیا ( یعنی زکوٰۃ ادا کی ) اور اس طرح جس قدر ہو سکے گا وہ اپنی نیکیوں کے بارے میں تعریف و توصیف بیان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ( اس کی یہ تمام باتیں سن کر) فرمائے گا کہ تم یہیں ٹھہرو ہم ابھی تمہارے بارے میں گواہ پیدا کئے دیتے ہیں ( یعنی تو نے اپنی نیکیوں کے بارے میں جو دعوی کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کوشش کی ہے کہ تو نے ہماری نعمتوں کی شکر گزاری میں اپنی دنیاوی زندگی کو اعمال خیر سے معمور کر رکھا تھا تو ذرا ٹھہر جا ہم گواہوں کے ذریعہ ابھی بتائے دیتے ہیں کہ تو اپنے دعوے میں کہاں تک سچا ہے) بندہ ( یہ سن کر) اپنے دل میں سوچے گا کہ بھلا اس وقت میرے خلاف کون گواہی دے گا لیکن جبھی اس کے منہ کو مہر لگادی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ بول چناچہ اس کی ران اس کا گوشت اور ہڈی (یعنی ران کے سب حصے اس کے ( ان) اعمال کے بارے میں جو اس نے دنیا میں واقعۃ کئے ہونگے) بیان دیں گے اور یہ سب کچھ ( یعنی مذکورہ سوال و جواب بندہ کے منہ کو مہر لگانا اور اس کے اعضاء کے ذریعہ گواہی دلوانا) اس لئے ہوگا تاکہ بندہ کی بداعمالیاں ثابت ہوجائیں اور وہ کوئی عذر نہ کرسکے ( یا یہ معنی ہیں کہ یہ سب کچھ اس لئے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ خود صاحب عذر ہو یعنی اس بندے کو عذاب میں مبتلا کرنے کی ذمہ داری اسی پر ڈال سکے) اور یہ تیسرا بندہ ( جو اپنی نیکیوں کے بارے میں دعوی کرے گا لیکن خود اس کے اعضاء جسم اس کے دعوے کی تردید کریں گے) درحقیقت منافق ہوگا اور یہ وہ بندہ ہے جس سے حق تعالیٰ غصہ و ناراض ہوگا۔ ( مسلم ) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت یدخل من امتی الجنۃ حضرت ابن عباس کی روایت سے توکل کے باب میں ذکر کی جا چکی ہے۔

تشریح
اسی طرح تم اپنے پروردگار کو دیکھنے میں کوئی شک وشبہ نہیں کروگے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہیں سورج اور چاند کو دیکھنے میں کوئی تکلف نہیں ہوتا، کوئی دقت نہیں اٹھانا پڑتی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اسی طرح تم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو بھی بلا تکلف دیکھو گے ! واضح رہے کہ لفظ تضارون ( جس کا آزاد ترجمہ شک وشبہ کرنا کیا گیا ہے) ت کے پیش اور ر کی تشدید کے ساتھ منقول ہے اور ر کی تشدید کے بغیر بھی نقل کیا گیا ہے اور یہ لفظ ر کی تشدید کے ساتھ ہو تو اس کی اصل مضارت ہوگی جس کے معنی ضرر و نقصان کے ہیں اور اگر یہ لفظ ر کی تشدید کے بغیر ہو تو پھر اس کی اصل ضیر ہوگی اور اس کے معنی بھی ضرر و نقصان کے ہیں پس لفظی ترجمہ کے اعتبار سے لا تضارون کے معنی یہ ہوں گے کہ پروردگار کے دیدار کے وقت تم آپس میں لڑائی جھگڑے، دھکم پیل، مخالفت وموافقت اور تصدیق و تکذیب کے ذریعہ ایک دوسرے کو نقصان و تکلیف نہیں پہنچاؤ گے کیونکہ اس کا دیدار اس طرح واضح وعام اور ہر ایک کے لئے عیاں ہوگا کہ ہر شخص بڑی آسانی اور اطمینان کے ساتھ اس کو دیکھے گا بعض حضرات نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ اس کے دیدار کے وقت تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے لئے پردہ اور رکاوٹ نہیں بنے گا اور مجمع البحار میں یہ لکھا ہے کہ تضارون کا لفظ مضارت سے ہے) اور مضارت کے معنی کسی کے دیدار کے وقت اجتماع واژدہام کا ہونا ( اور اس کی وجہ سے ایک دوسرے کو تکلیف و پریشانی اٹھانا) مراد ہیں اسی طرح قاضی عیاض مالکی نے یہ کہا ہے کہ مضارت کے معنی مضایقت یعنی ایک دوسرے کو تنگ گیری میں مبتلا کرنا مراد ہیں اور یہ معنی اجتماع واژدہام کے قریب ہیں نیز انہوں نے کہا ہے کہ مضایقت یعنی آپس میں ایک دوسرے کو تنگ گیر ہونے کا اطلاق کسی ایسی چیز کو دیکھنے کے موقع پر ہوتا ہے جو بالکل مخصوص نوعیت اور خاص انداز سے کسی ایک محدود جگہ پر ہو اور مجمع وہجوم کی وجہ سے ہر شخص آسانی کے ساتھ اس کے ساتھ اس کو نہ دیکھ سکتا ہو پس اس صورت میں لا تضارون کا مطلب یہ ہوگا کہ تم پروردگار کے دیدار کے وقت ایک دوسرے سے ملے اور جڑے ہوئے اور تنگ گیری میں مبتلا نہیں ہوں گے جیسا کہ محدود جگہ پر مجمع وہجوم کے وقت کسی چیز کو دیکھنے کی صورت میں ہوتا ہے بلکہ جس طرح تم سب اپنی اپنی جگہ پر رہتے ہوئے اطمینان و فراغت کے ساتھ سورج اور چاند کو دیکھتے ہو اسی طرح قیامت کے دن تم سب اپنی اپنی جگہ پر بہ فراغت اپنے پروردگار کا دیدار کروگے۔ ایک روایت میں یہ لفظ تضارون کے بجائے تضامون ہے یعنی ر کی جگہ م ہے، پھر تضامون کا لفظ بھی دونوں طرح منقول ہے یعنی ت کے پیش اور م کی تشدید کے ساتھ بھی آیا ہے اور م کی تشدید کے بغیر بھی، تشدید کی صورت میں یہ لفظ ضم سے مشتق ہوگا اور بغیر تشدید کی صورت میں ضیم سے ! ضم اجتماع واژدہام کے معنی میں ہے اور ضیم ظلم و زیادتی کرنے کے معنی میں ہے ! لیکن دونوں صورتوں میں مفہوم وہی ہوگا تضارون) کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ تو میں بھی تجھے فراموش کر دوں گا الخ کا حاصل یہ ہے کہ جب میں نے تجھ کو دنیا میں اپنے ان انعامات سے نوازا اور تجھ پر اتنے بڑے بڑے احسانات کئے تو تیرا فرض تھا کہ تو میری اطاعت و عبادت اور میرے احکام کی اتباع و پیروی کے ذریعہ میرا شکر ادا کرتا اور میرے دیدار کا امیداوار رہتا تاکہ میں تجھے اور زیادہ انعام وجزا دیتا اور دنیا کی طرح آج کے دن بھی تجھے سر بلند وسرخ رو کرتا پس جب کہ تو نے دنیا میں میری ان نعمتوں اور میرے ان احسانات کے باوجود مجھے فراموش کردیا تھا اور میری طرف سے غافل ہوگیا تھا تو اب میں بھی احسان اور اچھا سلوک نہ کرکے تیرے ساتھ وہی معاملہ کروں گا جو کسی غافل اور احسان فراموش شخص کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس طرح میں تجھے اپنی رحمت سے دور کر دوں گا واضح رہے کہ یہی مضمون اس آیت کریمہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى) 20 ۔ طہ 126) ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ایسا ہی ( چاہیے تھا) تیرے پاس ( دنیا میں) ہماری آیتیں آئیں تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ( یہاں قیامت کے دن ہم تجھ کو بھلا دیں گے۔ چناچہ اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈی الخ کے بارے میں یہ بتادینا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں ہاتھ، پاؤں، زبان اور کھال کا بولنا اور بندے کے اعمال کے سلسلے میں گواہی دینا مذکور ہے، جب کہ یہاں ران، گوشت اور ہڈی کے بولنے اور گواہی دینے کا ذکر ہے، تو زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حدیث کے اس جملہ کا اصل مقصد بھی یہی بیان کرنا ہے کہ بندے کے تمام اعضاء جسم بولیں گے اور اس کے اعمال کے بارے میں گواہی دیں گے جن میں ہاتھ اور پاؤں وغیرہ بھی شامل ہیں جیسا کہ پیچھے حضرت انس (رض) کی روایت میں گزرا۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ صاحب مصابیح نے یدخل من امتی الخ کی حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے یہاں اس باب میں نقل کیا تھا لیکن صاحب مشکوۃ نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے اور اس باب کی بجائے باب التوکل میں ذکر کیا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ حدیث حضرت ابن عباس (رض) سے ان الفاظ میں منقول ہے یدخل الجنۃ من امتی سبعون الفا بغیر حساب ہو الذین لا یسترقون ولا یتطیرون وعلی ربہم یتوکلون۔ پس صحیح بات تو یہ تھی کہ یہاں یدخل من امتی الجنۃ الخ کے بجائے) یوں کہا جاتا کہ یدخل الجنۃ امتی الخ !
5470
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي أمامة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وعدني ربي أن يدخل الجنة من أمتي سبعين ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل ألف سبعون ألفا وثلاث حثيات من حثيات ربي . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه .
حضرت ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور ( ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار اور میرے پروردگار کے چلوں میں سے تین چلو بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے۔ ( احمد، ترمذی، ابن ماجہ )

تشریح
حساب و عذاب کے بغیر سے مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس سخت حساب کے مرحلہ سے گزرنا نہیں پڑے گا جس میں بندہ پرسش ومواخذہ، داروگیر اور سخت پوچھ گچھ سے دوچار ہونے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار الخ کا مطلب یہ ہے کہ ستر ہزار لوگ تو حساب و عذاب کے مرحلہ سے گزرے بغیر جنت میں جائیں ہی گے لیکن ان میں سے بھی ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے تین چلو بھر کر اور لوگ ان کے ساتھ کر دے گا ! اب رہی یہ بات کہ ستر ہزار سے کیا مراد ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ خاص عدد ہی مراد ہو اور یا یہ کہ اس عدد سے کثرت مراد ہے نیز تین چلووں کے الفاظ بھی کثرت و مبالغہ سے کنایہ ہیں پس حاصل یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کے اتنے زیادہ لوگوں کو کہ جو شمار بھی نہیں کئے جاسکتے حساب عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا۔
5471
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن الحسن عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرض الناس يوم القيامة ثلاث عرضات فأما عرضتان فجدال ومعاذير وأما العرضة الثالثة فعند ذلك تطير الصحف في الأيدي فآخذ بيمينه وآخذ بشماله . رواه أحمد والترمذي وقال لا يصح هذا الحديث من قبل أن الحسن لم يسمع من أبي هريرة . وقد رواه بعضهم عن الحسن عن أبي موسى
اور حضرت حسن بصری، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو ( اللہ تعالیٰ کے سامنے) تین مرتبہ پیش کیا جائے گا اور دو مرتبہ تو بحث وجرح اور عذر آرائی ہوگی اور جب تیسری مرتبہ پیش ہوں گے تو اس وقت ( چونکہ حساب، کتاب اور پوچھ گچھ کا مرحلہ نمٹ چکا ہوگا اس لئے) اعمال نامے اڑ اڑاکر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے پس ان میں سے کچھ لوگ ( کہ جو اہل سعادت اور خوش نصیب ہوں گے اپنے دائیں ہاتھوں میں اعمال نامے لیں گے اور کچھ لوگ ( کہ جو اہل شقاوت اور بدبخت ہوں گے) اپنے بائیں ہاتھوں میں اعمال نامے لیں گے اس روایت کو امام احمد اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ روایت اس اعتبار سے صحیح نہیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے حضرت حسن بصری کا سماع ثابت نہیں ہے بعض محدثین نے اس روایت کو حضرت حسن بصری سے اور انہوں نے ابوموسی اشعری سے نقل کیا ہے۔

تشریح
دو مرتبہ تو بحث وجرح اور عذر آرائی ہوگی۔ کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ پہلی مرتبہ پیش ہوں گے تو اس وقت وہ اپنے گناہ و معصیت اور اپنی بد عملیوں کا اقرار و اعتراف نہیں کرینگے اور اپنے آپ کو مستوجب عذاب ہونے سے بچانے کی کوشش کریں گے یعنی حق تعالیٰ کے سامنے بحث و مباحثہ کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تک کسی بھی نبی نے آپ کے احکام نہیں پہنچائے اور نہ کسی نے ہمیں یہ بتایا کہ ہمارا کون سا عمل درست ہے اور کون سا عمل نا درست ! اور جب ہم تک ہدایت پہنچی ہی نہیں اور ہمارے سامنے برائی اور بھلائی کے راستوں کو واضح ہی نہیں کیا گیا تو ہمارے خلاف بدعملیوں اور گناہوں کی فرد جرم کیوں عائد ہو ؟ لیکن جب اللہ تعالیٰ مختلف دلائل اور گواہوں کے ذریعہ یہ ثابت فرمادے گا کہ ان تک ہدایت کا پیغام پہنچایا تھا اور مختلف زمانوں میں اس کے پیغمبر اور رسول ان کے پاس اللہ کے احکام پہنچاتے رہے تھے جن کو انہوں نے یا تو قبول نہیں کیا یا ان پر صحیح طرح سے عمل نہیں کیا تو دوسری مرتبہ کی پیشی کے وقت وہ اپنے گناہوں اور اپنی بدعملیوں کا اقرار و اعتراف کریں گے اور پھر عذر آرائی کرنے لگیں کے مثلا کوئی تو یوں کہے گا کہ میں نے ازراہ سہو خطاکاروں کا راستہ اختیار کرلیا تھا، کوئی یوں کہے گا کہ میں جہالت و غفلت کے اندھیروں میں کھو گیا تھا اور اس کی وجہ سے ہدایت کے راستہ پر نہیں چل سکا اور کوئی یوں کہے گا کہ میں تیری رحمت کی امید پر کوتاہ عمل اور غفلت کا شکار ہوگیا تھا، غرض کہ ہر ایک اسی طرح کے عذر بیان کرے گا ! اور پھر تیسری مرتبہ جب لوگوں کے تمام معاملات منقح ہو کر سامنے آجائیں گے اور ہر ایک کے عقیدہ وعمل کی چھان بین پوری ہوجائے گی تو پھر آخری فیصلہ ظاہر ہوجائے گا اور سب کے سامنے اہل ہدایت اور ضلالت کے درمیان فرق و امتیاز بالکل واضح ہوجائے گا جس کی صورت یہ ہوگی کہ جو لوگ جنت کی سعادت سے نوازے جانے والے ہوں گے ان کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں پہنچ جائیں گے اور جن کو دوزخ میں ڈالا جانا ہوگا ان کے نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں پہنچادئیے جائیں گے۔ اس حدیث کے بارے میں ترمذی نے جو کچھ کہا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے حضرت حسن بصری کا حدیث سننا ثابت نہیں ہے اس لئے حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کی اس روایت کی سند منقطع اور غیر متصل ہوئی جس کی بناء پر اس حدیث کو مذکورہ سند و روایت کے ساتھ صحیح نہیں کہا جاسکتا لیکن جزری نے تصحیح المصابیح میں کہا ہے کہ بخاری نے اپنی صحیح ( یعنی بخاری شریف) میں حضرت حسن بصری (رح) کی ایسی تین حدیثیں نقل کی ہیں جن کو انہوں نے ( یعنی حسن بصری نے) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے البتہ صحیح مسلم میں حضرت حسن بصری (رح) کی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے جس کو انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہو بہر حال جزری کی بات سے قطع نظر بھی کرلیا جائے تو بھی اصل حدیث کی صحت پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ بعض محدثین نے اس روایت کو حضرت حسن بصری (رح) سے اور انہوں نے حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے نقل کیا ہے اور اس طریق سے اس روایت کی سند متصل ہوگی جس سے اصل حدیث کا صحیح ہونا ثابت ہوجاتا ہے ! بعض حضرات نے کہا ہے کہ حضرت حسن بصری (رح) نے اس حدیث کو متعدد صحابہ کرام جیسے حضرت ابوموسی اشعری، حضرت انس ابن مالک اور حضرت ابن عباس (رض) وغیرہ سے روایت کیا ہے۔